Explained with ayahs 19–21
اللہ خالق کل
چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ جیسے کہ خلیل الرحمن حضرت ابرا ہیم ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ آیت (قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ 95ۙ) 37۔ الصافات :95) تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بےروح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة النَّحْل 18
یعنی کوئی احمق یہ نہ سمجھے کہ انکار خدا اور شرک اور معصیت کے باوجود نعمتوں کا سلسلہ کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کو لوگوں کے کرتوتوں کی خبر نہیں ہے۔ یہ کوئی اندھی بانٹ اور غلط بخشی نہیں ہے کہ جو بیخبر ی کی وجہ سے ہو رہی ہو۔ یہ تو وہ علم اور درگزر ہے جو مجرموں کے پوشیدہ اسرار بلکہ دل کی چھپی ہی نیتوں سے واقف ہونے کے باوجود کیا جا رہا ہے، اور یہ وہ فیاضی و عالی ظرفی ہے جو صرف رب العالمین ہی کو زیب دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
خلاصہ تفسیر
سو (جب اللہ تعالیٰ کا خالق اشیاء مذکورہ ہونا اور اس میں اس کا منفرد ہونا ثابت ہوچکا تو) کیا جو شخص پیدا کرتا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ) وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا (کہ تو دونوں کو معبود سمجھنے لگے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی اہانت ہے اس کو بتوں کے برابر کردیا) پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے اور (اللہ تعالیٰ نے جو اوپر دلائل توحید میں اپنی نعمتیں بتلائی ہیں ان پر کیا حصر ہے وہ تو اس کثرت سے ہیں کہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو (مگر مشرکین شکر اور قدر نہیں کرتے اور یہ جرم اتنا عظیم تھا کہ نہ معاف کرانے سے معاف ہوتا اور نہ اصرار پر آگے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
تفسیر آیات 20 تا 21:۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَاَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ۙ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۔
ان دونوں آیتوں میں سے پہلی آیت تو تمام معبودانِ باطل سے متعلق عام ہے اور دوسری آیت خاص ان کے ان آباء و اجداد سے متعلق ہے جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسوں کو حاجت روائی کے لیے پکارنا محض نادانی ہے۔ پھر ان کے ان آباء و اجداد کی طرف جن کو انہوں نے معبود بنا رکھا تھا، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تو مردہ…
Read the full tafseer →20۔ 1 اس میں ایک چیز کا اضافہ ہے یعنی صفت (خالقیت) کی نفی کے ساتھ نقصان یعنی کمی (عدم خالقیت) کا اثبات (فتح القدیر) ُ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
11: یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں جب اتنی زیادہ ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتیں تو ان کا حق تو یہ تھا کہ انسان ہر آن اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کرتا رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ انسان کے بس میں نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنی مغفرت اور رحمت کا معاملہ فرما کر شکر کی اس کوتاہی کو معاف فرماتا رہتا ہے۔ البتہ یہ مطالبہ ضرور ہے کہ وہ اس کے احکام کے مطابق زندگی گذارے اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار رہے۔ اس کے لیے اسے یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام کو جانتا ہے۔ چاہے وہ چھپ کر کرے یا علانیہ۔ چنانچہ اگلی آیت میں یہی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
آیت نمبر 17 تا 21
اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔
یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔
افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی…
Read the full tafseer →2 خدا تو وہ ہے جس کے عظیم الشان اور غیر محصور انعامات کا اوپر تذکرہ ہوا۔ اب مشرکین کی حماقت ملاحظہ ہو کہ ایسے عالم الکل اور خالق الکل خدا کا شریک ان چیزوں کو ٹھہرا دیا جو ایک گھاس کا تنکا پیدا نہیں کرسکتیں، بلکہ خود ان کا وجود بھی خدا کا پیدا کیا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 20 وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ
انبیاء و رسل ہوں ملائکہ ہوں یا اولیاء اللہ سب مخلوق ہیں خالق صرف اللہ کی ذات ہے۔
Read the full tafseer →21 ان کے بنائے ہوئے شریکوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی چیز کو پیدا تو کیا خاک کریں گے۔ وہ تو خود مخلوق ہیں اور جو مخلوق ہو وہ اپنے بنانے والے کا محتاج بھی ہوگا۔ نیز جو چیز مخلوق ہو وہ ضرور فنا بھی ہوگی۔ لہذا ایسے شریک نہ خود الٰہ ہوسکتے ہیں اور نہ صفات الوہیت میں اللہ کے شریک بن سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →29۔ یعنی ان مشرکین کی کیسی حماقت ہے کی دیوی دیوتا انہیں بنائے ہوئے ہیں، جو ایک گھاس کے تنکے تک کی تخلیق پر قادر نہیں، بلکہ خود اپنے وجود تک کے لئے بھی خالق کائنات کے محتاج ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…
Read the full tafseer →والذین یدعون من دون اللہ لا یخلقون شیئا وھم یخلقون اور اللہ کے سوا مشرک جن کو پکارتے (یعنی عبادت) کرتے ہیں ‘ وہ کوئی چیز نہیں پیدا کرتے بلکہ خود (دوسروں کے ہاتھوں سے) پیدا کئے جاتے ہیں۔ یعنی آسمان و زمین تو بڑی چیزیں ہیں ‘ ان کے معبود تو ادنیٰ اور حقیر ترین چیز کے بھی خالق نہیں۔ کوئی چیز پیدا کرنے کی انہیں قدرت ہی نہیں ‘ بلکہ خود اپنی ہستی بھی ان کی اپنی نہیں۔ نہ ذات اپنی ہے نہ وجود اپنا ‘ بلکہ ان کی ہستی دوسرے کی ممنون کرم اور عطا کردہ ہے۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ وہ شریک خدا ہو سکیں اور کیسے جائز ہے کہ ان کو الٰہ قرار دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(20۔ 21) اور جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں، وہ کسی بھی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے جیسا کہ ہم پیدا کرسکتے ہیں بلکہ وہ خود ذلیل مخلوق ہیں اور وہ بہت مردہ ہیں، ان کے ان معبودوں کو اتنی بھی خبر نہیں کہ وہ قبروں سے کب اٹھائے جائیں گے اور پھر حساب ہوگا یا یہ کہ کفار کو یہ بھی خبر نہیں کہ کب حساب ہوگا یا یہ کہ فرشتوں کو معلوم نہیں کہ حساب و کتاب کب ہوگا۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کی بےبسی اور عجز کے بیان کے لیے تین اوصاف بیان فرمائے، پہلا یہ کہ وہ کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، خالق صرف ایک ہی ہے، کیونکہ اگر ان کے معبود نیک یا بد فوت شدہ لوگ ہیں تو ان کا خالق اللہ ہے اور وہ نہ زندگی میں کچھ پیدا کرسکتے تھے نہ اب کرسکتے ہیں۔ اس کی تفصیل اسی سورت کی آیت (17) ، سورة رعد (16) اور سورة حج (73) میں دیکھیں اور اگر ان کے مجسمے یا ان کی قبریں ہیں تو وہ بھی کچھ پیدا نہیں کرسکتے، بلکہ انھیں تم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو، جیسا کہ ابراہیم ؑ نے فرمایا : (اَ تَعْبُدُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت نمبر 20 تا 21
قولہ تعالیٰ : والذین یدعون من دون اللہ قرأۃ عام تدعون، تا کے ساتھ ہے کیونکہ اس کا ماقبل خطاب ہے۔ ابوبکر نے عاصم
سے اور ہبیرہ نے حفص سے یدعون یا کے ساتھ روایت کیا ہے، اور یہی یعقوب کی قرأت ہے اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ما تسرون وما تعلنون تو سب خطاب کی بنا پر تا کے ساتھ ہیں، سوائے اس کے جو ہبیرہ نے حفص سے اور انہوں نے حضرت عاصم سے روایت کیا ہے کیونکہ انہوں نے یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ لا یخلقون شیئا یعنی وہ کسی شے کو پیدا کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ہیں وھم یخلقون (بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں) ۔ اموات غیر احیاء ای ھم اموات یعنی وہ مردہ ہیں، مراد بت ہیں، نہ ان میں روحیں ہیں، نہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
1:۔ عبد ابن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ کے طریق سے حسن بصری (رح) سے انہوں نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی فرشتے کہنے لگی یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن یونہی صبح ہوئی زمین کے اندر پہاڑ گاڑ دیئے گئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے کہنے لگے اے ہمارے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا لوہے سے بھی سخت کوئی چیز اور مخلوق ہے فرمایا ہاں آگ ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آگ سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز…
Read the full tafseer →وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ جن کو ] [ يَدْعُوْنَ : یہ لوگ پکارتے ہیں ] [ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ لَا يَخْلُقُوْنَ : وہ پید انہیں کرتے ] [ شَيْـــًٔـا : کوئی چیز ] [ وَّهُمْ : اور وہ (تو خود)] [ يُخْلَقُوْنَ : پیدا کئے گئے ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 20) ۔ یَدْعُوْنَ کا فاعل اس میں شامل ھُمْ کی ضمیر ہے اور وَالَّذِیْنَ اس کا مفعول مقدم ہے۔ (آیت۔ 21) ۔ اَمْوَاتٌ خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھُمْ محذوف ہے۔ اسی طرح غَیْرُ اَحْیَائٍ بھی خبر ہے اور اس کا بھی مبتدا ھُمْ محذوف ہے۔
نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 20 ۔ 21 کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہاں جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جا رہی ہے وہ فرشتے یا جن یا شیاطین یا…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا وَّ ھُمْ یُخْلَقُوْنَ ) (اور یہ لوگ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں یعنی ان کی عبادت کرتے ہیں اور ان سے مدد طلب کرتے ہیں وہ کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ تو خود ہی مخلوق ہیں) جو چیز مخلوق ہے اس کا یہ مقام نہیں کہ معبود بن جائے یا اسے معبود مان لیا جائے۔ عبادت کے لائق صرف خالق ہی ہے جل مجدہ وثناء
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
18:۔ دونوں دعو وں پر تین دلائل ذکر کرنے کے بعد ان کا ثمرہ ذکر کیا گیا ” لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ ھُمْ یُخْلَقُوْنَ “ یہ پہلی دو دلیلوں پر متفرع ہے۔ ان دلیلوں سے معلوم ہوا کہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مشرکین جن بندگانِ خدا کو بزعم خود متصرف و مختار سمجھ کر پکارتے ہیں پیدائش کائنات میں ان کا کوئی دخل نہیں بلکہ وہ خود ایک عاجز مخلوق ہیں۔” اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَاءٍ “ یہ تیسری دلیل پر متفرع ہے یعنی سب کچھ جاننے والا تو اللہ تعالیٰ ہے اور مشرکین کے مزعومہ معبود تو فوت ہوچکے ہیں، وہ ان کی دعاء اور پکار سے بیخبر ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ قبروں سے کب اٹھائے جائیں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
(ربط آیات)
سورة ہذا کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی نازل فرما کر انہیں انذار کا حکم دیا ، اور فرمایا (آیت) ” انذروا انہ لا الہ الا انا “۔ لوگوں کو ڈرا دو اور خبردار کر دو میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت بیان فرمائے اور مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کیا جن میں ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، دلائل قدرت میں سے ارض وسما کی پیدائش ، انسان کی قطرہ آب سے تخلیق ، جانوروں کی پیدائش اور ان کے فوائد بارش کا نزول ، باغات اور نباتات کی تخلیق ، لیل ونہار اور شمس وقمر کی تسخیر ، ستاروں کی تسخیر ،…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ 20ۭ
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ترکیب : لایخلقون خبر ہے والذین کی اموات خبرثانی غیراحیاء تاکید ہے۔ ایان منصوب ہے یبعثون سے فالذین مبتدا قلوبہم جملہ خبر، ان اللہ الخ جملہ لاجرم بمعنی حق و ثبت کا فاعل جملہ ان اللہ الخ ما استفہامیہ وذاموصلہ والعائد محذوف اساطیر الاولین خبر ہے مبتداء محذوف کی لیحملوا ای قالوا ذالک۔ لیحملو الام العاقبۃ۔ و من اخفش کے نزدیک زائدہ ہے۔ والاساطیر جمع اسطورہ کی جیسے احادیث جمع اوحدوثہ واضا حیک جمع اضحوکۃ واعاجیب جمع اعجوبۃ بغیر علم حال من الفاعل ای یضلون الناس جاہلین۔
تفسیر : واللہ یعلم الخ اس میں ایک اور فرق الہ حق اور فرضی معبودوں میں بتلایا ہے کہ اللہ کو ہر ایک ظاہر و باطن بات معلوم ہے تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لاَیَخْلُقُوْنَ شَـْیًٔاوَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ ۔ اَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَآئٍ ج وَمَا یَشْعُرُوْنَ لا اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 20۔ 21)
(اور جن کو یہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے، وہ تو خود مخلوق ہیں۔ وہ مردہ ہیں، وہ زندہ نہیں اور نہیں سمجھتے کہ کب انھیں اٹھایا جائے گا۔ )
یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں خاص طور پر جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جارہی ہے وہ فرشتے یا جن یا شیاطین یا لکڑی پتھر کی مورتیاں نہیں ہیں بلکہ اصحابِ قبور ہیں اس لیے کہ فرشتے اور شیاطین تو زندہ ہیں، ان پراَمْوَاتٌ غَیْرُاَحْیَآئٍ کے الفاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
فہم القرآن
ربط کلام : بڑی بڑی نعمتوں کے ذکر کے بعد انسان کو احساس دلایا ہے کہ تو اگر اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو تمہارے لیے ان کا گننا اور شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔
آفاقی، زمینی اور بحری نعمتوں کے تذکرے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ چند نعمتوں کا بیان ہوا ہے اگر تم اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تم سب مل کر اپنے بنائے کمپیوٹرز اور دیگر ذرائع سے بھی ان کا شمار نہیں کرسکتے۔ اس کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقیدۂ توحید ہے۔ جس کی نشاندہی اللہ کی نعمتیں کر رہی ہیں۔ تم اس کی نعمتوں کی ناشکری اور اس کی ذات اور صفات میں اس کی مخلوق کو شریک کرتے ہو لیکن پھر بھی وہ درگزر کرتا اور تم پر رحم…
Read the full tafseer →جن کو لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے وہ مخلوق ہیں اپنی زندگی کے بھی مالک نہیں :
20: وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور وہ جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا وہ پکارتے ہیں) وہ معبود جن کو کفار پکارتے ہیں۔
قراءت : عاصم کے علاوہ دوسروں نے تاء سے پڑھا ہے۔ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ (وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے۔ بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں)
Read the full tafseer →(20) والذین یدعون من دون اللہ “ جو پکارتے ہیں بتوں کو، عاصم اور یعقوب نے ” یدعون “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” لا یخلقون شیاء وھم یخلقون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 21۔ مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کی یہ دوسری مذمت ہے کیونکہ پہلے اس سے یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان اور دریا اور ان کے اندر جو جو چیزیں ہیں سب خدائے وحدہ لا شریک نے پیدا کیں ان مشرکوں کا اگر یہ اعتقاد ہے کہ جن بتوں کی یہ پوجا کرتے ہیں ان میں ان چیزوں کے پیدا کرنے کی قدرت ہے یا کوئی شئے انہوں نے پیدا کی ہے تو اس شئے کی نشان دہی کی جاوے ورنہ پھر ان کو اس خالق کے برابر کیوں سمجھتے ہیں اب دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ پاک ہر شخص کے ظاہر اور باطن کو یکساں جانتا ہے جو کام چھپ کر کیا جاتا ہے اس سے بھی وہ واقف ہے اور جو کھلم کھلا کیا جاتا ہے اسے بھی وہ دیکھتا ہے تو کیا ان بتوں کو بھی ایسا علم ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمہیں لا محدود نعمتیں عطا کیں۔۔۔ فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ نہ اس کی برابری کرسکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چناچہ فرمایا (افمن یخلق) ” پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے “ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ (کمن لایخلق) ” اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ “ (افلا تذکرون) ” کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے “ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلق و تدبیر میں یکتا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →38۔ معبودان باطلہ کی بےحقیقتی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اور وہ خود مخلوق ہیں۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کے کوئی بےجان بت ہوں یا زندہ و مردہ انسانوں میں کوئی ہستی، جس کی بھی پوجا کی گئی یا کی جاتی ہے اس کا حال بہرکیف یہ ہے کہ وہ عاجز مخلوق ہے۔ اس میں خالقیت کی کوئی صفت نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ تو پھر تم لوگ ان کو خدوند قدوس کی خدائی میں آخر کس طرح شریک ٹھہراتے ہو ؟ اے مشرکو (الذین) کے کلمہ کریمہ کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ سو اس ارشاد ربانی سے یہی عمومی ضابطہ مستفاد ہوا کہ جو مخلوق ہو وہ معبود اور حاجت رواومشکل کشان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
غیر اللہ کی حقیقت اور ان کو پوجنے والوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ نے اپنی نعمتوں، برکتوں اور بہترین تخلیق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس قدر واضح ثبوت اور نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی کفار کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ جوں کے توں کفر و شرک پر ہی قائم رہتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کا سبق دیتے ہیں اور یہ ان کے لیے دہرے عذاب کا باعث بنے گا۔ کیونکہ ان کا گمراہی کا دیا ہوا سبق جہاں تک دوسرے لوگوں تک پہنچے گا اور پھر اس سے آگے جتنا یہ سبق پھیلتا چلا جائے گا تو ان تمام لوگوں کی گمراہی کا عذاب ان شروع میں سبق دینے والوں کے لیے ہی ہوگا کیونکہ گمراہی کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی۔
یہاں یہ بات واضح ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی ان کے وجود کو تو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے۔ گویہ تراشے خراشے ان کے ہیں۔ یا خلق بمعنی تخت “ (تراشنا) ہی ہو۔ جیسا کہ سورة صافات (آیت 95) میں ہے۔ العبدون ماتحبون کہ تم ان بتوں کی پوجا کرتے ہو، جن کو تم خود اپنے ہاتھ سے تراشتے ہو۔ (کذافی الروح)
Read the full tafseer →(16:20) والذین یدعون من دون اللہ لا یخلقون شیئا میں یدعون من دون اللہ صفت ہے الذین کی۔ یعنی وہ (معبودانِ باطل ) جن کو (مشرکین) اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 21
ذرا اس نے پھیلا دیا، پیدا کیا۔ الوان (لون) رنگ۔ یذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ لحم گوشت۔ طری تازہ۔ تستخرجو تم نکالتے ہو۔ حلیۃ زیور۔ تلبسون تم پہنتے ہو۔ مواخر پھاڑنے والا، پھاڑنے والیاں۔ لتبتغو تاکہ تم تلاش کرو۔ القی اس نے ڈالا، رکھا۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، پہاڑ۔ تمید جھک جانا۔ سبل (سبیل) راستے۔ علمت علامتیں، نشانیاں۔ نجم ستارہ۔ یخلق پیدا کرتا ہے۔ تعدوا تم گنو گے ، شمار کرو گے۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ تبسرون تم چھپاتے ہو۔ تعلنون تم ظاہر کرتے ہو۔ یدعون پکارتے ہیں۔ یخلوقن وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ اموات مردے ہیں۔ ایان کب ؟ یبعثون وہ دوبارہ اٹھائیں جائیں گے۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اس آیت میں ارشاد ہے کہ اللہ پاک ہر شخص کے ظاہر اور باطن کو یکساں جانتا ہے، تو کیا ان بتوں کو بھی ایسا علم ہے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو ان بتوں کی پوجا کرنا بےفائدہ ہے کیونکہ ان میں بلکل کسی شے کے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ تو بلکل بےجان ہیں۔ ان میں حس و حرکت تک نہیں، زندہ ہونا تو درکنار نرے پتھر ہی پتھر ہیں۔ ان کے بتوں کو کیا خبر ہے کہ ان کے پجاری اور یہ خود مرنے کے بعد کب زندہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
[12] یعنی راستوں کی شناخت کے لئے ٹیلے، پہاڑیاں، درخت، چشمے وغیرہ سب علامات راہ (Land Marks) کا کام انجام دیتے ہیں۔
[13] یہاں تک بہت سی نشانیاں جو پے درپے بیان کی گئی ہیں ان سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ جو پروردگار ہستی انسان کی تمام جسمانی ضرورتوں اور آسائشوں کا انتظام کررہی ہے تو کیا ضروری نہ تھا کہ انسان کی روحانی سعادت و زندگی کا بھی سروسامان کردیتی ؟ جس اللہ نے تمہاری مادی زندگی میں تمہاری رہنمائی کے لئے جو کچھ انتظامات کئے ہیں کیا وہ تمہاری اخلاقی زندگی سے اتنا بےپروا ہوسکتا ہے کہ تمہاری ہدایت کا کچھ بھی انتظام نہ کرے ؟ یہی سروسامان و انتظام ہے جو ہدایت وحی اور بعثت رسل کی صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
بتوں نے کیا پیدا کیا ہے جو اسن کی پوجا کرتے ہو ۔
(ف 1) مکہ والے بت پرست تھے لات ومنات کی پوجا کرتے ، پتھروں کی پرستش کرتے اور ان اصنام کو خدا جانتے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کیا ان بتوں کا کائنات میں کچھ ہے ؟ کیا زمین وآسمان میں کسی چیز کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ یا یہ کہ خود مخلوق ہیں ۔
اللہ کی نعمتیں بیشمار ہیں ، ایک ایک سانس جو ہم لیتے ہیں ، اس کے لئے اللہ کے ہزاروں قانون سرگرم عمل ہیں ، عمر بھر اگر اس کی توصیف میں صرف کردیں ، جب بھی اس کی حمد سے عہد برآء نہ ہو سکیں ، وہی تو ہے جس نے ہمیں خلعت وجود بخشا ہے ۔ اور زندگی عنایت کی ہے ہمیں ضمیر اور عقل سے نوازتا ہے نعمتیں دی ہیں ، اور ہمیں اس…
Read the full tafseer →20 ۔ اور یہ منکر اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں اور جن کو پکارا کرتے ہیں وہ کوئی چیز نہیں پیدا کرسکتے اور وہ کسی کو پیدا تو کیا کریں گے وہ تو خود مخلوق اور پیدا شدہ ہیں۔
یعنی وہ تو خود اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں کسی اور کو وجود کیا خاک بخشیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 2۔ کوئی شرک سے توبہ کرلے تو مغفرت ہوجاتی ہے اور نہ کرے جب بھی تمام نعمتیں حیات تک منقطع نہیں ہوتیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ تو خود پیدا کئے گئے ہیں وہ کسی کو کیا پیدا کریں گے ؟ :
25۔ غور کرو کہ کتنے جامع اور مختصر الفاظ بیان فرمائے گئے ہیں جو ہر قسم کے جعلی معبودوں پر حاوی ہیں ۔ وہ بھی جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انسان ان کو معبود مان بیٹھا مثلا فرشتے ‘ جن ‘ انبیاء کرام ‘ اولیاء عظام ‘ سورج ‘ چاند ‘ ستارے ‘ درخت دریا اور جانور وغیرہ اور وہ بھی جن کو انسان خود بناتا ہے یعنی گھڑتا ہے اور خود ہی معبود بنا لیتا ہے جیسے پتھر اور لکڑی کے بت وغیرہ اور قبریں اور مقبرے اگرچہ ان قبروں اور مقبروں کی کوئی شخص پرستش نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی بتوں کو پوجتا ہے پوجا دراصل ان قبروں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
Commentary
Verses appearing immediately earlier described the many blessings of Allah Ta` ala in details, proved that He alone is their Creator and established that He is unique in this matter. Now, in the present verses, there comes an admonition against the failure of people to recognize that there is a fact behind the statement describing all these blessings - and that is Tauhid, the Oneness of Allah Ta’ ala, except whom there is none worthy of worship. Therefore, it was said: When it stands proved that Allah alone made the heavens and the earth, made the mountains and rivers, vegetation…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
18. A grave misunderstanding might arise as to why Allah’s blessings should continue to be showered even on those who deny Him and set up partners with Him and are disobedient to Him. The foolish people are liable to conclude from this that He does not withhold His favors from such people because He has no knowledge of their wicked deeds, The Quran declares: Even though He has full knowledge of all the deeds of the people, whether these are done secretly or openly, He does not discontinue His blessings on the sinners, for He is Forgiving, Compassionate and Merciful. Therefore: O people, get…
Read the full tafseer →