An-Nahl 16:19

An-Nahl · from ayah 19

16:19

وَاللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ۟وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah knows what you conceal and what you declare.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:19

حالانکہ وہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو کچھ تم چھپاؤ اور ﻇاہر کرو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو تم چھپ کر کرتے ہو، اور وہ بھی جو تم علی الاعلان کرتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اللہ سب کچھ جانتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اللہ ایک برابر جانتا ہے ان سب کاموں کو جو تم لوگ چھپا کر کرتے ہو، اور جو تم اعلانیہ کرتے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ جانتا ہے اس کو بھی جو تم چھپاتے ہو اور اس کو بھی جو تم ظاہر کرتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو سب سے اللہ واقف ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah knows all that you conceal and all that you disclose.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah knows what you conceal and what you reveal.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah knows what you conceal and what you reveal.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Allah knows what you conceal and what you reveal.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Allah knoweth that which ye keep hidden and that which ye proclaim.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah knows what you conceal and what you declare.

— Saheeh International

God knows all that you conceal or reveal.

— Muhammad Sarwar

And Allah knows what you conceal and what you do openly.

— Muhammad Habib Shakir

And Allah knoweth that which ye keep secret and that which ye publish.

— Abdul Majid Daryabadi

And Allah doth know what ye conceal, and what ye reveal.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–21

اللہ خالق کل چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ جیسے کہ خلیل الرحمن حضرت ابرا ہیم ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ آیت (قَالَ اَ تَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ 95؀ۙ) 37۔ الصافات :95) تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بےروح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة النَّحْل 18 یعنی کوئی احمق یہ نہ سمجھے کہ انکار خدا اور شرک اور معصیت کے باوجود نعمتوں کا سلسلہ کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کو لوگوں کے کرتوتوں کی خبر نہیں ہے۔ یہ کوئی اندھی بانٹ اور غلط بخشی نہیں ہے کہ جو بیخبر ی کی وجہ سے ہو رہی ہو۔ یہ تو وہ علم اور درگزر ہے جو مجرموں کے پوشیدہ اسرار بلکہ دل کی چھپی ہی نیتوں سے واقف ہونے کے باوجود کیا جا رہا ہے، اور یہ وہ فیاضی و عالی ظرفی ہے جو صرف رب العالمین ہی کو زیب دیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–23

خلاصہ تفسیر سو (جب اللہ تعالیٰ کا خالق اشیاء مذکورہ ہونا اور اس میں اس کا منفرد ہونا ثابت ہوچکا تو) کیا جو شخص پیدا کرتا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ) وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا (کہ تو دونوں کو معبود سمجھنے لگے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی اہانت ہے اس کو بتوں کے برابر کردیا) پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے اور (اللہ تعالیٰ نے جو اوپر دلائل توحید میں اپنی نعمتیں بتلائی ہیں ان پر کیا حصر ہے وہ تو اس کثرت سے ہیں کہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو (مگر مشرکین شکر اور قدر نہیں کرتے اور یہ جرم اتنا عظیم تھا کہ نہ معاف کرانے سے معاف ہوتا اور نہ اصرار پر آگے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ۔ یہ تہدید و وعید ہے یعنی خدا نے اپنی رافت و رحمت کے سبب تمہیں ڈھیل تو دے رکھی ہے لیکن یہ یاد رکھو کہ وہ تماہرے ظاہر و باطن اور پوشیدہ و علانیہ سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ایک دن آئے گا جب کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔ وہ رتی رتی کا حساب اور عدل کے ساتھ تمام معاملات کا فیصلہ کرے گا۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ نعمتیں سب اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں لیکن جان کر انجان بنتے ہو، تمہارے دل جانتے لیکن زبانیں انکار کرتی ہیں۔ آگے اسی سورة کی آیت 83 میں یہ حقیقت یوں بیان ہوئی ہے۔ " یعرفون نعۃ ماللہ ثم ینکرونہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 اور اس کے مطابق وہ قیامت والے دن جزا اور سزا دے گا۔ نیک کو نیکی کی جزا اور بد کو بدی کی سزا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

11: یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں جب اتنی زیادہ ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتیں تو ان کا حق تو یہ تھا کہ انسان ہر آن اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کرتا رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ انسان کے بس میں نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنی مغفرت اور رحمت کا معاملہ فرما کر شکر کی اس کوتاہی کو معاف فرماتا رہتا ہے۔ البتہ یہ مطالبہ ضرور ہے کہ وہ اس کے احکام کے مطابق زندگی گذارے اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار رہے۔ اس کے لیے اسے یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام کو جانتا ہے۔ چاہے وہ چھپ کر کرے یا علانیہ۔ چنانچہ اگلی آیت میں یہی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–21

آیت نمبر 17 تا 21 اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی حق تعالیٰ تمام ظاہری و باطنی احوال سے خبردار ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون شخص اس کی نعمتوں پر کس حد تک دل سے اور کس حد تک جوارح سے شکر گزار بنتا ہے اور کون ایسا ہے جس کا ظاہر و باطن ادائے حق نعمت سے خالی رہتا ہے، یا مذکورہ بالا دلائل و نعم کو سن کر کون ہے جو سچے دل سے اس پر ایمان لاتا ہے اور کون ہے جو ظاہر میں دلائل سے لاجواب ہو کر بھی حق کو قبول نہیں کرتا۔ خدا کے علم میں جس کا جو حال ہوگا اسی کے موافق معاملہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

آیت 18 وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی گنتی تو کجا اس کی بیشمار نعمتیں ایسی ہیں جن سے انسان فیض یاب تو ہو رہا ہے لیکن ان تک انسان کے علم اور شعور کی ابھی پہنچ ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 الٰہ ہونے کی خصوصیات :۔ ناشکرے، نافرمان اور مشرک لوگ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کو ان کی تقصیرات اور کرتوتوں کا علم نہیں بلکہ وہ ان کی تمام ظاہر اور پوشیدہ حرکات و سکنات جانتے ہوئے بھی از راہ کرم و فضل انھیں مسلسل ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیئے جارہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ یعنی یہ حاضر و غائب کی تفریق تو ہمارے معیار سے ہے۔ اللہ کیلئے ہر شے یکساں اور اس پر سب عیاں ہے۔ اس کا علم کامل بھی ہے، محیط بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–21

آیت نمبر 10 تا 21 ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وا اللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون اور اللہ تمہارے سب پوشیدہ اور ظاہر احوال کو جانتا ہے۔ پوشیدہ احوال سے مراد ہیں : عقائد ‘ ارادے ‘ دل کا شکر ‘ کامل طور پر حقوق عبدیت کو ادا کرنے سے قاصر رہنے کا علم ‘ غفلت ‘ غرور وغیرہ اور ظاہری احوال سے اچھے برے اعمال مراد ہیں۔ اللہ کے واقف ہونے کے اظہار کا یہ مقصد ہے کہ اللہ تم کو تمہارے اندرونی و بیرونی احوال کی سزا و جزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(19) واقعی اللہ تعالیٰ تمہارے پوشیدہ اور ظاہری احوال خواہ خیر ہوں یا شر سب کو جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ : اللہ کے سوا کوئی بھی سب لوگوں کے اعمال نہیں جان سکتا، چھپے ہوئے عمل تو بہت دور کی بات ہے، علانیہ بھی نہیں جان سکتا۔ چند لوگوں کے چند اعمال اس کے دیکھنے سننے میں آ بھی جائیں تو بیشمار انسانوں کے اعمال کیسے جان سکتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ تمام جنوں اور انسانوں کے علانیہ کاموں کے علاوہ ان کے چھپ کر کیے ہوئے کام بھی جانتا ہے، بلکہ سینے کے راز تک جانتا ہے۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (7) اور سورة اعلیٰ (7) کی تفسیر۔ لہٰذا یہ نہ سمجھو کہ تمہارے شرک و کفر کے باوجود تم پر جو رحم فرما رہا ہے اور نعمتوں پر نعمتیں دے رہا ہے یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ وہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–19

آیت نمبر 18 تا 19 قولہ تعالیٰ : وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا اس کا ذکر سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے۔ ان اللہ لغفور رحیم۔ واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اسے بھی جو تم چھپاتے ہو اور اسے بھی جو تم ظاہر ہو، یہ سب پہلے گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–23

1:۔ عبد ابن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ کے طریق سے حسن بصری (رح) سے انہوں نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی فرشتے کہنے لگی یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن یونہی صبح ہوئی زمین کے اندر پہاڑ گاڑ دیئے گئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے کہنے لگے اے ہمارے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا لوہے سے بھی سخت کوئی چیز اور مخلوق ہے فرمایا ہاں آگ ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آگ سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ تُسِرُّوْنَ : تم لوگ چھپاتے ہو ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ تُعْلِنُوْنَ : تم لوگ اعلان کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ ) (اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو) اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں اللہ کی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری عقیدہ اور عمل سے کرتے ہیں یوں نہ سمجھیں جیسے دنیا گزر رہی ہے اس میں عام طور سے سزا نہیں دی جاتی، اسی طرح موت کے بعد بھی عذاب سے بچ جائیں گے اللہ تعالیٰ کو سب کے باطنی احوال بھی معلوم ہیں اور ظاہری اعمال بھی، وہ اپنے علم کے مطابق شکر گزاروں کو ان کے شکر کا ثواب عطا فرمائے گا اور ناشکروں کا مواخذہ فرمائے گا،

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17:۔ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے اور اس سے نفی شرک فی العلم مقصود ہے۔ یعنی پوشیدہ اور ظاہر سب کچھ جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–21

(ربط آیات) سورة ہذا کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی نازل فرما کر انہیں انذار کا حکم دیا ، اور فرمایا (آیت) ” انذروا انہ لا الہ الا انا “۔ لوگوں کو ڈرا دو اور خبردار کر دو میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت بیان فرمائے اور مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کیا جن میں ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، دلائل قدرت میں سے ارض وسما کی پیدائش ، انسان کی قطرہ آب سے تخلیق ، جانوروں کی پیدائش اور ان کے فوائد بارش کا نزول ، باغات اور نباتات کی تخلیق ، لیل ونہار اور شمس وقمر کی تسخیر ، ستاروں کی تسخیر ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ 19؀ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ سرر (كتم) والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–19

(2) تمہارے اسباب معاش تمہیں حاصل ہوجاویں اور ان میں تمہیں کامیابی ہو۔ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان اسباب سے مسبب الاسباب کی طرف ہدایت ہو عارف کو ہر نعمت میں اسی کا یدہدایت دکھائی دیتا ہے۔ )

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 19) (اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ ) مشرکین کو وعید یہ مشرکینِ مکہ کے لیے وعید ہے۔ انھیں تنبیہ کی جارہی ہے کہ تمہاری ساری نافرمانیوں اور اذیت رسانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کا تم پر عذاب نہیں آیا حالانکہ تم بار بار اس کا تمسخر بھی اڑا چکے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہاری یہ حرکتیں اللہ تعالیٰ کے علم میں نہیں۔ جو کچھ تم ہمارے پیغمبر ﷺ کے ساتھ علانیہ کررہے ہو وہ تو سب کے سامنے ہے، اس سے تو مکہ کا بچہ بچہ واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ تو تمہارے منصوبوں سے بھی واقف ہے اور تمہاری سازشوں کو بھی جانتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–21

فہم القرآن ربط کلام : بڑی بڑی نعمتوں کے ذکر کے بعد انسان کو احساس دلایا ہے کہ تو اگر اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو تمہارے لیے ان کا گننا اور شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ آفاقی، زمینی اور بحری نعمتوں کے تذکرے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ چند نعمتوں کا بیان ہوا ہے اگر تم اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تم سب مل کر اپنے بنائے کمپیوٹرز اور دیگر ذرائع سے بھی ان کا شمار نہیں کرسکتے۔ اس کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقیدۂ توحید ہے۔ جس کی نشاندہی اللہ کی نعمتیں کر رہی ہیں۔ تم اس کی نعمتوں کی ناشکری اور اس کی ذات اور صفات میں اس کی مخلوق کو شریک کرتے ہو لیکن پھر بھی وہ درگزر کرتا اور تم پر رحم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19: وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو تم چھپاتے اور جو تم ظاہر کرتے ہو) یعنی تمہارے اقوال و افعال کو۔ یہ وعید ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–21

19۔ 21۔ مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کی یہ دوسری مذمت ہے کیونکہ پہلے اس سے یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان اور دریا اور ان کے اندر جو جو چیزیں ہیں سب خدائے وحدہ لا شریک نے پیدا کیں ان مشرکوں کا اگر یہ اعتقاد ہے کہ جن بتوں کی یہ پوجا کرتے ہیں ان میں ان چیزوں کے پیدا کرنے کی قدرت ہے یا کوئی شئے انہوں نے پیدا کی ہے تو اس شئے کی نشان دہی کی جاوے ورنہ پھر ان کو اس خالق کے برابر کیوں سمجھتے ہیں اب دوسری بات یہ فرمائی کہ اللہ پاک ہر شخص کے ظاہر اور باطن کو یکساں جانتا ہے جو کام چھپ کر کیا جاتا ہے اس سے بھی وہ واقف ہے اور جو کھلم کھلا کیا جاتا ہے اسے بھی وہ دیکھتا ہے تو کیا ان بتوں کو بھی ایسا علم ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–23

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمہیں لا محدود نعمتیں عطا کیں۔۔۔ فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ نہ اس کی برابری کرسکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چناچہ فرمایا (افمن یخلق) ” پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے “ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ (کمن لایخلق) ” اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ “ (افلا تذکرون) ” کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے “ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلق و تدبیر میں یکتا ہے اسی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

35۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں لامحدود وبے شمار : ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ کی نعمتوں کو گننے لگے تو کبھی بھی گن کر پور انہیں کرسکوگے۔ کہ تم خود اور تمہاری گنتی کے سب ذرائع وسائل محدود ہیں۔ جب کہ اس کی نعمتیں لاتعداد وغیرمحدود۔ تو پھر محدود سے لامحدود کا احصاء و احاطہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تو پھر ایسے منعم حقیقی اور وہاب مطلق کے حق بندگی اور اس کے شکر سے منہ موڑنا کتنی بےانصافی ہے۔ اور جن کو تم لوگ گن بھی نہیں سکتے اس نے محض اپنی شان کریمی ورحیمی سے دنیا کو نوازا ہے۔ اور لوگوں کی طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر نوازا ہے جو کہ اس کا کرم بالائے کرم ہے سبحانہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–19

پہاڑ، نہریں اور ستاروں کے وجود کے مقاصد تشریح : پہاڑوں کے بارے میں پہلے بھی لکھا جا چکا ہے مزید اللہ تعالیٰ جل شانہٗ ہمیں یہ اطلاع دیتا ہے کہ یہ اونچے اونچے وسیع پہاڑوں کے سلسلے زمین کی مضبوطی اور حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ جتنے اوپر نظر آتے ہیں اتنے ہی زمین کے اندر گاڑے ہوئے ہیں۔ اور یوں پہاڑوں کے پتھریلے سخت اور وزنی اجزاء سمندر کی زبردست ٹکریں زمین کو ضائع ہونے سے بچاتی ہیں۔ دوسرا زمین کا توازن برقرار رہتا ہے۔ تیسرا پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف جمتی رہتی ہے جو موسم گرما میں پگھل کر دریائوں کی صورت میں زمینوں کو سیراب کرنے کے کام آتی ہے۔ چوتھا پہاڑوں کی وجہ سے مسلسل زلزلوں سے بچائو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 لہذا یہ نہ سمجھو کہ تمہارے شرک و کفر کے باوجود جو تم پر رحم فرما رہا ہے اور تمہیں نعمتوں پر نعمتیں دے رہا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ وہ تمہارے اعمال سے ناواقف ہے بلک ہبایں ہمہ اس کی مہربانی اس لئے ہے کہ شاید تمہاری آنکھیں کھلیں اور اپنے کرتوتوں سے باز آجائو۔ اس میں کافروں کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ معبود تو وہی ہونا چاہیے اور ہوسکتا ہے جو ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:19) ما تسرون۔ جو تم چھپاتے ہو وما تعلنون۔ اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ آشکار کرتے ہو۔ اعلان سے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–21

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 21 ذرا اس نے پھیلا دیا، پیدا کیا۔ الوان (لون) رنگ۔ یذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ لحم گوشت۔ طری تازہ۔ تستخرجو تم نکالتے ہو۔ حلیۃ زیور۔ تلبسون تم پہنتے ہو۔ مواخر پھاڑنے والا، پھاڑنے والیاں۔ لتبتغو تاکہ تم تلاش کرو۔ القی اس نے ڈالا، رکھا۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، پہاڑ۔ تمید جھک جانا۔ سبل (سبیل) راستے۔ علمت علامتیں، نشانیاں۔ نجم ستارہ۔ یخلق پیدا کرتا ہے۔ تعدوا تم گنو گے ، شمار کرو گے۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ تبسرون تم چھپاتے ہو۔ تعلنون تم ظاہر کرتے ہو۔ یدعون پکارتے ہیں۔ یخلوقن وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ اموات مردے ہیں۔ ایان کب ؟ یبعثون وہ دوبارہ اٹھائیں جائیں گے۔ تشریح : آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

اس آیت میں ارشاد ہے کہ اللہ پاک ہر شخص کے ظاہر اور باطن کو یکساں جانتا ہے، تو کیا ان بتوں کو بھی ایسا علم ہے۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو ان بتوں کی پوجا کرنا بےفائدہ ہے کیونکہ ان میں بلکل کسی شے کے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے یہ تو بلکل بےجان ہیں۔ ان میں حس و حرکت تک نہیں، زندہ ہونا تو درکنار نرے پتھر ہی پتھر ہیں۔ ان کے بتوں کو کیا خبر ہے کہ ان کے پجاری اور یہ خود مرنے کے بعد کب زندہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–20

[12] یعنی راستوں کی شناخت کے لئے ٹیلے، پہاڑیاں، درخت، چشمے وغیرہ سب علامات راہ (Land Marks) کا کام انجام دیتے ہیں۔ [13] یہاں تک بہت سی نشانیاں جو پے درپے بیان کی گئی ہیں ان سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ جو پروردگار ہستی انسان کی تمام جسمانی ضرورتوں اور آسائشوں کا انتظام کررہی ہے تو کیا ضروری نہ تھا کہ انسان کی روحانی سعادت و زندگی کا بھی سروسامان کردیتی ؟ جس اللہ نے تمہاری مادی زندگی میں تمہاری رہنمائی کے لئے جو کچھ انتظامات کئے ہیں کیا وہ تمہاری اخلاقی زندگی سے اتنا بےپروا ہوسکتا ہے کہ تمہاری ہدایت کا کچھ بھی انتظام نہ کرے ؟ یہی سروسامان و انتظام ہے جو ہدایت وحی اور بعثت رسل کی صورت میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–19

(ف 1) قرآن چونکہ کتاب فطرت ہے ، اس لئے وہ عجائب مخلوقات سے استدلال کرتا ہے ، وہ کہتا ہے آسمان کو دیکھو پانی اور بارش کے فوائد پر غور کرو ، کیونکر کھیت اور باغات ہرے بھرے ہوجاتے ہیں ، اور کیونکر بہترین پھل اور اثمار پیدا ہوئے ہیں کیا اس میں غور وفکر کے لئے کافی سامان موجود نہیں ؟ ۔ رات اور دن کی ترتیب سورج چاند اور ستاروں کی باقاعدہ گردش ان میں جو لانی عقل کے لئے کس قدر میدان ہے اسی طرح اشجار رنگا رنگ میں قدرت کی کس قدر صنعت کاریاں نمایاں ہیں ، اور باعث تذکیر ونصیحت ہیں ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے ، کہ ان سب باتوں کو سوچو ، غور کرو ، تو فکر عقل اور ذکر کا تمہیں وافر ذخیرہ ملے گا ، غرض یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

19 ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شاید اس جگہ یہ بات اس پر فمائی کہ بعض شخص بات میں لا جواب ہوتے ہیں یہ دل میں بات نہیں بیٹھتی سو خدا دل پر پکڑتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

ف 2۔ کوئی شرک سے توبہ کرلے تو مغفرت ہوجاتی ہے اور نہ کرے جب بھی تمام نعمتیں حیات تک منقطع نہیں ہوتیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : تمہارے چھپانے اور ظاہر کرنے کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ۔ 24۔ یہ حاضر و غائب کی تفریق تو ہمارے معیار سے ہے اللہ تعالیٰ کے لئے تو ماضی ومستقبل کا کوئی مسئلہ نہیں اس کے لئے تو گویا سب حال ہی حال ہے کیونکہ اس کے لئے تو سب کچھ عیاں ہے ، اس کا علم کامل بھی ہے اور محیط بھی ، اس لئے کوئی احمق یہ نہ سمجھے کہ انکار الہی اور شرک ومعصیت کے باوجود نعمتوں کا سلسلہ بند نہ ہونا کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کو لوگوں کے کرتوتوں کی خبر نہیں ہے یہ کوئی اندھی بانٹ اور غلط بخشش نہیں ہے جو بیخبر ی کی وجہ سے ہو رہی ہو یہ تو وہ حلم اور درگزر ہے جو مجرموں کے پوشیدہ اسرار بلکہ دل کی چھپی ہوئی نیتوں تک سے واقف ہونے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–23

Commentary Verses appearing immediately earlier described the many blessings of Allah Ta` ala in details, proved that He alone is their Creator and established that He is unique in this matter. Now, in the present verses, there comes an admonition against the failure of people to recognize that there is a fact behind the statement describing all these blessings - and that is Tauhid, the Oneness of Allah Ta’ ala, except whom there is none worthy of worship. Therefore, it was said: When it stands proved that Allah alone made the heavens and the earth, made the mountains and rivers, vegetation…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

18. A grave misunderstanding might arise as to why Allah’s blessings should continue to be showered even on those who deny Him and set up partners with Him and are disobedient to Him. The foolish people are liable to conclude from this that He does not withhold His favors from such people because He has no knowledge of their wicked deeds, The Quran declares: Even though He has full knowledge of all the deeds of the people, whether these are done secretly or openly, He does not discontinue His blessings on the sinners, for He is Forgiving, Compassionate and Merciful. Therefore: O people, get…

Read the full tafseer →