An-Nahl 16:18

An-Nahl · from ayah 18

16:18

وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَاؕ اِنَّ اللّٰهَ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if you should count the favors of Allah, you could not enumerate them. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:18

اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا اور رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم اسے نہیں کر سکتے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو، تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کرسکو گے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پاؤ گے۔ بیشک اللہ یقینا بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گننا چاہو تو کبھی ان کا حساب نہ رکھ سکو گے بلاشبہ اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور گر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم ان کا احاطہ نہ کرسکے گو، بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ان مذکورہ بالا نعمتوں ہی پر کیا منحصر، وہ تو اتنی ہیں کہ) اگر تم لوگ اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو تم کبھی بھی انکو شمار نہیں کرسکو گے، (اسقدر نعمتوں پر بھی اس کی یہ ناشکری ؟ اور پھر بھی اس کی طرف سے یہ چھوٹ، بخشش اور رحمت ؟) بیشک اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا، انتہائی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو ان کا احاطہ نہ کرپاؤ گے۔ بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو ان کا احاطہ نہیں کرسکو گے یقیناً اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

For, were you to count the favours of Allah, you will not be able to count them. Surely Allah is Ever Forgiving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If you count the bounties of Allah, you cannot count them all. Surely, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

If you count the bounties of Allah, you cannot count them all. Surely, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if you would try to count the favors of Allah, you would never be able to count them. Truly, Allah is Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if ye would count the favour of Allah ye cannot reckon it. Lo! Allah is indeed Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if you should count the favors of Allah, you could not enumerate them. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Even if you wanted to count up all of God's blessings, you would not be able to. God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

And if you would count Allah's favors, you will not be able to number them; most surely Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And if ye would count the favours of Allah ye could not compute them verily Allah is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

If ye would count up the favours of Allah, never would ye be able to number them: for Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–18

اللہ کے انعامات اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 17 پہلے اور دوسرے فقرے کے درمیان ایک پوری داستان ان کہی چھوڑ دی ہے، اس لیے کہ وہ اس قدر عیاں ہے اور اس کے بیان کی حاجت نہیں۔ اسکی طرف محض یہ لطیف اشارہ ہی کافی ہے کہ اللہ کے بےپایاں احسانات کا ذکر کرنے معا بعد اس کے غفور و رحیم ہونے کا ذکر کردیا جائے۔ اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جس انسان کا بال بال اللہ کے احسانات میں بندھا ہوا ہے وہ اپنے محسن کی نعمتوں کا جواب کیسی کیسی نمک حرامیوں، بےوفائیوں، غداریوں اور سر کشیوں سے دے رہا ہے، اور پھر اس کا محسن کیسا رحیم اور حلیم ہے کہ ان ساری حرکتوں کے باوجود سالہا سال ایک نمک حرام شخص کو اور صدہا برس ایک باغی قوم کو اپنی نعمتوں سے نوازتا چلا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–23

خلاصہ تفسیر سو (جب اللہ تعالیٰ کا خالق اشیاء مذکورہ ہونا اور اس میں اس کا منفرد ہونا ثابت ہوچکا تو) کیا جو شخص پیدا کرتا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ) وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا (کہ تو دونوں کو معبود سمجھنے لگے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی اہانت ہے اس کو بتوں کے برابر کردیا) پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے اور (اللہ تعالیٰ نے جو اوپر دلائل توحید میں اپنی نعمتیں بتلائی ہیں ان پر کیا حصر ہے وہ تو اس کثرت سے ہیں کہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو (مگر مشرکین شکر اور قدر نہیں کرتے اور یہ جرم اتنا عظیم تھا کہ نہ معاف کرانے سے معاف ہوتا اور نہ اصرار پر آگے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ توبہ اور اصلاح کی دعوت : یعنی یہ نعمتیں جو گنائی گئی ہیں یہ تو خدا کی بیشمار نعمتوں میں سے چند ہیں۔ اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود تم خدا کی ناشکری اور اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ اپنی اس حرکت کے سبب سے تم سزاوار تو اس بات کے تھے کہ خدا تم کو فوراً ہر نعمت سے محروم کردیتا لیکن اس نے تم کو مہلت دے رکھی ہے اس لیے کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر توبہ اور اصلاح کرو اور اس کے غضب کے بجائے اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 ان تمام نعمتوں سے توحید کی اہمیت کو اجاگر فرمایا کی اللہ تو ان چیزوں کا خالق ہے، لیکن اس کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو، انہوں نے بھی کچھ پیدا کیا ہے ؟ نہیں، بلکہ وہ تو خود اللہ کی مخلوق ہیں۔ پھر بھلا خالق اور مخلوق کس طرح برابر ہوسکتے ہیں ؟ جبکہ تم انھیں معبود بنا کر اللہ کا برابر ٹھہرا رکھا ہے۔ کیا تم ذرا نہیں سوچتے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

11: یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں جب اتنی زیادہ ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتیں تو ان کا حق تو یہ تھا کہ انسان ہر آن اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کرتا رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ انسان کے بس میں نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنی مغفرت اور رحمت کا معاملہ فرما کر شکر کی اس کوتاہی کو معاف فرماتا رہتا ہے۔ البتہ یہ مطالبہ ضرور ہے کہ وہ اس کے احکام کے مطابق زندگی گذارے اور ظاہر و باطن ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار رہے۔ اس کے لیے اسے یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر کام کو جانتا ہے۔ چاہے وہ چھپ کر کرے یا علانیہ۔ چنانچہ اگلی آیت میں یہی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–21

آیت نمبر 17 تا 21 اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔ یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی جو نعمتیں اوپر بیان ہوئیں " مشتے نمونہ ازخروارے " تھیں۔ باقی خدا کی نعمتیں تو اس قدر ہیں جن کا تم کسی طرح شمار نہیں کرسکتے۔ 13 یعنی ان بیشمار نعمتوں کا شکر پوری طرح کس سے ادا ہوسکتا تھا۔ لہذا ادائے شکر میں جو کوتاہی رہ جاتی ہے خدا اس سے درگزر کرتا اور تھوڑے سے شکر پر بہت سا اجر عطا فرما دیتا ہے۔ یا یہ کفر ان نعمت کے بعد جو شخص توبہ کر کے شکر گزار بن جائے حق تعالیٰ اس کی پچھلی کوتاہیوں کو بخشتا اور آئندہ کے لیے رحمت مبذول فرماتا ہے۔ بلکہ ناشکری کی حالت میں بھی اپنی رحمت واسعہ سے اس کو بالکلیہ محروم نہیں کرتا۔ ہزاروں طرح کی نعمتیں دنیا میں فائض کرتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

آیت 18 وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی گنتی تو کجا اس کی بیشمار نعمتیں ایسی ہیں جن سے انسان فیض یاب تو ہو رہا ہے لیکن ان تک انسان کے علم اور شعور کی ابھی پہنچ ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 اللہ کی نعمتوں کا شمار ناممکن ہے :۔ یہ چند موٹی موٹی چیزیں ذکر کی گئی ہیں لیکن اگر تم ان کی جزئیات میں یا دوسری چیزوں میں غور کرو تو اللہ کی اس قدر نعمتیں معلوم ہوں گی جو شمار میں بھی نہیں آسکتیں۔ انسان کو چاہئے تو یہ تھا کہ ان نعمتوں کی وجہ سے وہ اللہ کا شکرگزار بنتا۔ مگر اس نے الٹا اللہ کے شریک بنانا شروع کردیئے پھر بھی اللہ ان کے ایسے جرائم کو درگزر کرتے ہوئے از راہ مہربانی انھیں ان تمام نعمتوں سے فیضیاب کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ یعنی یہ چند نعمتیں تو محض نمونہ کے طور پر بیان ہوئیں، ورنہ اللہ کی بیشمار نعمتوں کا حصر بھلا کس کے امکان میں ہے ؟ (آیت) ” نعمۃ اللہ “۔ نعمۃ صورۃ مفرد ہے ؛ معنی بہ طور اسم جنس آیا ہے۔ تمام اقسام نعمت کو شامل۔ 27۔ چناچہ صفت غفر کے تقاضہ سے وہ مشرکین وملحدین تک کی توبہ قبول کرکے انہیں بخش دیتا ہے۔ اور صفت رحم کے تقاضہ سے وہ مشرکوں اور کافروں کو ان کی زندگی میں دنیوی نعمتوں سے یکسر محروم نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–21

آیت نمبر 10 تا 21 ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان نعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کی گنتی کرو تو گن بھی نہیں سکتے۔ تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا تو ذکر ہی کیا ہے ‘ اللہ کی نعمتوں کی کوئی حد ہی نہیں ہے کہ گن سکو ‘ لہٰذا اس کے معبود ہونے کا حق بھی محدود نہیں ہے (ہر نعمت اس کو مستحق عبادت بنا رہی ہے) پس تم پورا حق عبادت تو ادا ہی نہیں کرسکتے ‘ یہی کافی ہے کہ تم اپنی عاجزی کا اقرار کرو اور ظاہر باطن ‘ ہر طور پر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ ان اللہ لغفور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ (تمہارے قصور اور پورے شکر کو ادا کرنے سے عاجزی کو) معاف کرنے والا ہے۔ رحیم (تم پر) مہربان ہے کہ تمہارے استحقاق کے بغیر اس نے اپنی وسیع نعمتیں تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) اگر تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو گننے لگو تو کبھی نہ گن سکو یا یہ کہ ہرگز شکر نہ ادا کرسکو واقعی اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے اور توبہ کرنے والے پر بڑی رحمت والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا : شمار ہی نہیں کرسکتے تو شکر کس طرح ادا کرسکتے ہو ؟ دیکھیے سورة ابراہیم (34) کی تفسیر۔ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : یعنی یہ اس کی بخشش اور مہربانی ہے کہ تمہاری ناشکری کے باوجود تمہیں بیشمار نعمتیں عطا کرتا ہے اور توبہ کرنے اور پلٹ آنے پر تمہارے تمام گناہ معاف کردیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ ، ثُمَّ تَابَ تَاب اللّٰہُ عَلَیْہِ) ”بندہ جب اعتراف کرلے، پھر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوجاتا ہے۔“ [ بخاري، المغازي، باب حدیث الإفک : 4141۔ مسلم : 2770 ] پھر تھوڑے سے شکر پر بہترین جزا دیتا ہے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–19

آیت نمبر 18 تا 19 قولہ تعالیٰ : وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا اس کا ذکر سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے۔ ان اللہ لغفور رحیم۔ واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اسے بھی جو تم چھپاتے ہو اور اسے بھی جو تم ظاہر ہو، یہ سب پہلے گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–23

1:۔ عبد ابن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ کے طریق سے حسن بصری (رح) سے انہوں نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی فرشتے کہنے لگی یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن یونہی صبح ہوئی زمین کے اندر پہاڑ گاڑ دیئے گئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے کہنے لگے اے ہمارے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا لوہے سے بھی سخت کوئی چیز اور مخلوق ہے فرمایا ہاں آگ ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آگ سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَان : اور اگر ] [ تَعُدُّوْا : تم لوگ گنتی کرو گے ] [ نِعْمَةَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کی ] [ لَا تُحْصُوْهَا ۭ: تو شمار پورا نہ کر پائو گے اس کا ] [ ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَغَفُوْرٌ: یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

مخلوق اور خالق برابر نہیں ہوسکتے، تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو نہیں گن سکتے، اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں وہ بےجان ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے گزشتہ آیات میں توحید کے دلائل بیان فرمائے اور مخلوقات کی انواع و اقسام بیان فرمائیں اور ان کے فوائد بھی بتائے، یہ تمام چیزیں اور ان کے علاوہ ہر چیز جو کبھی موجود تھی یا موجود ہے یا موجود ہوگی سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جو جاہلوں نے دوسروں کی عبادت شروع کردی ان کے وہ معبود اللہ کی مخلوق ہیں۔ مخلوق خالق کے برابر نہیں ہوسکتی پھر یہ کیسی حماقت ہے کہ مخلوق کو خالق کا ساجھی بنا دیا کچھ تو سمجھ کی بات کرتے اور دلائل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–23

ذکر دلائل توحید قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16:۔ اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں میں سے اگر صرف ایک ہی میں غور و فکر کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قدرت و صفت میں اور استحقاق عبادت میں واحد و یکتا ہے۔ سارے جہاں میں نہ اس کے سوا کوئی متصرف و کارساز ہے، نہ عبادت اور پکار کے لائق ہے، چہ جائے کہ اس کی نعمتیں بےحد و حساب اور شمار سے باہر ہوں اور پھر وہ ایسا رحیم و کریم اور غفور و حلیم ہے کہ بندوں کو ان کی ناشکری پر فورًا نہیں پکڑتا اور کوتاہیوں سے درگذر فرماتا ہے اور بندوں کے کفران نعمت کی وجہ سے انعام و احسان کا دروازہ بند نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–21

(ربط آیات) سورة ہذا کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی نازل فرما کر انہیں انذار کا حکم دیا ، اور فرمایا (آیت) ” انذروا انہ لا الہ الا انا “۔ لوگوں کو ڈرا دو اور خبردار کر دو میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت بیان فرمائے اور مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کیا جن میں ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، دلائل قدرت میں سے ارض وسما کی پیدائش ، انسان کی قطرہ آب سے تخلیق ، جانوروں کی پیدائش اور ان کے فوائد بارش کا نزول ، باغات اور نباتات کی تخلیق ، لیل ونہار اور شمس وقمر کی تسخیر ، ستاروں کی تسخیر ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 18؀ عد العَدَدُ : آحاد مركّبة، وقیل : تركيب الآحاد، وهما واحد . قال تعالی: عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ( ع د د ) العدد ( گنتی ) آحا د مرکبہ کو کہتے ہیں اور بعض نے اس کے معنی ترکیب آحاد یعنی آجا د کو ترکیب دینا بھی کئے ہیں مگر ان دونوں معنی کا مرجع ایک ہی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] بر سوں کا شمار اور ( کاموں ) کا حساب نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–19

(2) تمہارے اسباب معاش تمہیں حاصل ہوجاویں اور ان میں تمہیں کامیابی ہو۔ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان اسباب سے مسبب الاسباب کی طرف ہدایت ہو عارف کو ہر نعمت میں اسی کا یدہدایت دکھائی دیتا ہے۔ )

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لاَ تُحْصُوْھَا ط اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 18) (اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو تم انھیں شمار نہیں کرسکتے، بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی بےپایاں نعمتوں کی طرف اشارہ گزشتہ آیات میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کردہ مخلوقات کا ذکر فرمایا اسی طرح اپنی بےپایاں نعمتوں کی طرف بھی اشارے فرمائے۔ قسم قسم کی نعمتوں کا ذکر کیا جن کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ گویا آسمان سے نعمتیں برس رہی ہیں، زمین سے ابل رہی ہیں اور سمندروں سے اچھل رہی ہیں اور انسان ان سے نوازا جارہا ہے۔ ہر چھوٹی بڑی مخلوق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–21

فہم القرآن ربط کلام : بڑی بڑی نعمتوں کے ذکر کے بعد انسان کو احساس دلایا ہے کہ تو اگر اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو تمہارے لیے ان کا گننا اور شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ آفاقی، زمینی اور بحری نعمتوں کے تذکرے کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ چند نعمتوں کا بیان ہوا ہے اگر تم اپنے رب کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تم سب مل کر اپنے بنائے کمپیوٹرز اور دیگر ذرائع سے بھی ان کا شمار نہیں کرسکتے۔ اس کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقیدۂ توحید ہے۔ جس کی نشاندہی اللہ کی نعمتیں کر رہی ہیں۔ تم اس کی نعمتوں کی ناشکری اور اس کی ذات اور صفات میں اس کی مخلوق کو شریک کرتے ہو لیکن پھر بھی وہ درگزر کرتا اور تم پر رحم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اَن گنت انعامات : 18: وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا (اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننے لگو تو گن نہ سکو) ان کی گنتی کو بھی ضبط نہیں کرسکتے۔ اور نہ اس تک تمہاری طاقت پہنچ سکتی ہے۔ چہ جائیکہ ان نعمتوں کے شکریہ کا پورا حق ادا کرو۔ اس کے بعد نعمتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد یہ آیت لائے تاکہ متنبہ کردیا جائے کہ اس کے پیچھے غیر محصور نعمتیں چھپی ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں) وہ نعمت کے شکریہ کی ادائیگی میں تمہاری کوتاہی سے تجاوز فرمائیں گے تمہاری کمی کی وجہ سے نعمت کو منقطع نہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(18)” وان تعدوانعمۃ اللہ لا تحصوھا ان اللہ لغفور “ تمہارے گناہوں کی پاداش میں، وہ اپنی نعمتوں کو منقطع نہیں کرتا۔ ” رحیم “ تمہارے لیے نعمتوں کو وسیع قرار دی ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–18

17۔ 18۔ اللہ پاک نے آسمان اور زمین اور دریا کے پیدا کرنے کا ذکر اور اس سے جو جو نفع انسان کو پہنچتا رہتا ہے اس کا ذکر کر کے اب مشرکوں کو یوں سمجھایا کہ اب جو تم بتوں کی عبادت کرتے ہو اور انہیں خدا کا شریک ٹھہراتے ہو تو تم ہی بتلاؤ کہ ان بتوں نے کونسا آسمان بنایا کون سی زمین پیدا کی کدھر انہوں نے دریا بہائے اگر کچھ نہیں کیا تو پھر یہ اس خدا کے برابر کیوں کر ہوسکتے ہیں جس نے ساری چیزیں پیدا کی ہیں۔ تھوڑا سا تو غور کر کے دیکھو تمہارے خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے اور کیس کیسی نعمتیں تم کو دیں کیا تم ان کا شمار کرسکتے ہو اور اس کا شکر ادا کرسکتے ہو۔ ہرگز نہیں گن سکتے اگر وہ اپنی ہر نعمت کے مقابل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–23

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمہیں لا محدود نعمتیں عطا کیں۔۔۔ فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ نہ اس کی برابری کرسکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چناچہ فرمایا (افمن یخلق) ” پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے “ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ (کمن لایخلق) ” اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ “ (افلا تذکرون) ” کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے “ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلق و تدبیر میں یکتا ہے اسی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–65

زیور کے بارے میں حکم قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–19

35۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں لامحدود وبے شمار : ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ کی نعمتوں کو گننے لگے تو کبھی بھی گن کر پور انہیں کرسکوگے۔ کہ تم خود اور تمہاری گنتی کے سب ذرائع وسائل محدود ہیں۔ جب کہ اس کی نعمتیں لاتعداد وغیرمحدود۔ تو پھر محدود سے لامحدود کا احصاء و احاطہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تو پھر ایسے منعم حقیقی اور وہاب مطلق کے حق بندگی اور اس کے شکر سے منہ موڑنا کتنی بےانصافی ہے۔ اور جن کو تم لوگ گن بھی نہیں سکتے اس نے محض اپنی شان کریمی ورحیمی سے دنیا کو نوازا ہے۔ اور لوگوں کی طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر نوازا ہے جو کہ اس کا کرم بالائے کرم ہے سبحانہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–19

پہاڑ، نہریں اور ستاروں کے وجود کے مقاصد تشریح : پہاڑوں کے بارے میں پہلے بھی لکھا جا چکا ہے مزید اللہ تعالیٰ جل شانہٗ ہمیں یہ اطلاع دیتا ہے کہ یہ اونچے اونچے وسیع پہاڑوں کے سلسلے زمین کی مضبوطی اور حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ جتنے اوپر نظر آتے ہیں اتنے ہی زمین کے اندر گاڑے ہوئے ہیں۔ اور یوں پہاڑوں کے پتھریلے سخت اور وزنی اجزاء سمندر کی زبردست ٹکریں زمین کو ضائع ہونے سے بچاتی ہیں۔ دوسرا زمین کا توازن برقرار رہتا ہے۔ تیسرا پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف جمتی رہتی ہے جو موسم گرما میں پگھل کر دریائوں کی صورت میں زمینوں کو سیراب کرنے کے کام آتی ہے۔ چوتھا پہاڑوں کی وجہ سے مسلسل زلزلوں سے بچائو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 کجا کہ تم ان کا شکر ادا کرسکو۔ 4 یعنی یہ اس کی بخشش اور مہربان ہے کہ تمہاری ناشکری کے باوجود تمہیں لاکھوں نعمتیں عطا کرتا ہے اور توبہ وانابت کے بعد تمہارے تمام گناہ معاف کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:18) تعدوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تعدون تھا۔ ان شرطیہ کے عمل سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ عد مصدر۔ عدیعد (باب نصر) ان تعدوا اگر تم شمار کرنے لگو۔ اگر تم گننے لگو تو ان کو گن نہ سکو گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–21

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 21 ذرا اس نے پھیلا دیا، پیدا کیا۔ الوان (لون) رنگ۔ یذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ لحم گوشت۔ طری تازہ۔ تستخرجو تم نکالتے ہو۔ حلیۃ زیور۔ تلبسون تم پہنتے ہو۔ مواخر پھاڑنے والا، پھاڑنے والیاں۔ لتبتغو تاکہ تم تلاش کرو۔ القی اس نے ڈالا، رکھا۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، پہاڑ۔ تمید جھک جانا۔ سبل (سبیل) راستے۔ علمت علامتیں، نشانیاں۔ نجم ستارہ۔ یخلق پیدا کرتا ہے۔ تعدوا تم گنو گے ، شمار کرو گے۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ تبسرون تم چھپاتے ہو۔ تعلنون تم ظاہر کرتے ہو۔ یدعون پکارتے ہیں۔ یخلوقن وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ اموات مردے ہیں۔ ایان کب ؟ یبعثون وہ دوبارہ اٹھائیں جائیں گے۔ تشریح : آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–18

مشرکین کو تنبیہ اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ جس نے ساری چیزیں پیدا کی ہیں تھوڑا سا غور کر کے دیکھو کہ تمہارے خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے۔ اور کیسی کیسی نعمتیں تم کو دیں۔ کیا تم ان کا شمار کرسکتے ہو اور اس کا شکر ادا کرسکتے ہو، ہرگز نہیں گن سکتے۔ اگر وہ اپنی ہر نعمت کے مقابل میں تم سے شکر چاہے تو بلکل بجا ہے اور تم سے کوتاہی ہونے پر تمہیں سزا کا مستحق ٹھہرا سکتا ہے، مگر اس نے ان باتوں سے درگزر کی، تم پر مہربانی کی ہر نعمت پر تم سے شکر کا طلب گار نہیں ہے، ایک تھوڑا سا شکریہ ادا کرنے کو کہتا ہے کہ تم اس کی عبادت چھوڑ کر عاجز وبے اختیار بتوں کی پرستش نہ کرو یا انہیں عبادت میں اس کا شریک نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–20

[12] یعنی راستوں کی شناخت کے لئے ٹیلے، پہاڑیاں، درخت، چشمے وغیرہ سب علامات راہ (Land Marks) کا کام انجام دیتے ہیں۔ [13] یہاں تک بہت سی نشانیاں جو پے درپے بیان کی گئی ہیں ان سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ جو پروردگار ہستی انسان کی تمام جسمانی ضرورتوں اور آسائشوں کا انتظام کررہی ہے تو کیا ضروری نہ تھا کہ انسان کی روحانی سعادت و زندگی کا بھی سروسامان کردیتی ؟ جس اللہ نے تمہاری مادی زندگی میں تمہاری رہنمائی کے لئے جو کچھ انتظامات کئے ہیں کیا وہ تمہاری اخلاقی زندگی سے اتنا بےپروا ہوسکتا ہے کہ تمہاری ہدایت کا کچھ بھی انتظام نہ کرے ؟ یہی سروسامان و انتظام ہے جو ہدایت وحی اور بعثت رسل کی صورت میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–19

(ف 1) قرآن چونکہ کتاب فطرت ہے ، اس لئے وہ عجائب مخلوقات سے استدلال کرتا ہے ، وہ کہتا ہے آسمان کو دیکھو پانی اور بارش کے فوائد پر غور کرو ، کیونکر کھیت اور باغات ہرے بھرے ہوجاتے ہیں ، اور کیونکر بہترین پھل اور اثمار پیدا ہوئے ہیں کیا اس میں غور وفکر کے لئے کافی سامان موجود نہیں ؟ ۔ رات اور دن کی ترتیب سورج چاند اور ستاروں کی باقاعدہ گردش ان میں جو لانی عقل کے لئے کس قدر میدان ہے اسی طرح اشجار رنگا رنگ میں قدرت کی کس قدر صنعت کاریاں نمایاں ہیں ، اور باعث تذکیر ونصیحت ہیں ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے ، کہ ان سب باتوں کو سوچو ، غور کرو ، تو فکر عقل اور ذکر کا تمہیں وافر ذخیرہ ملے گا ، غرض یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

18 ۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنے اور گنے لگو تو ان نعمتوں کو شمار بھی نہیں کرسکتے بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت کرنے والا ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ کی نعمتیں اس قدر ہیں کہ تم ان کو گننے لگو تو گن بھی نہیں سکتے یہ اس کی بڑی رحمت اور مغفرت ہے کہ باوجود نافرمانی کے بیشمار نعمتیں جاری رکھتا ہے اور ان گنت احسانات کے دروازے بند نہیں کرتا ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

ف 2۔ کوئی شرک سے توبہ کرلے تو مغفرت ہوجاتی ہے اور نہ کرے جب بھی تمام نعمتیں حیات تک منقطع نہیں ہوتیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو کبھی گن نہیں سکو گے وہ بخشنے والا رحمت والا ہے : 23۔ اوپر انعامات الہی کا ذکر ہو رہا تھا اور چند نعمتوں کے ذکر کے بعد فرما دیا کہ یہ جو نعمتیں بیان ہوئیں محض نمونہ کے طور پر بیان ہوئیں ورنہ اللہ کی بیشمار اور ان گنت نعمتوں کا احصاء بھلا کسی شخص کے امکان میں ہے ؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات بیحد و حساب ہیں اگر تم کوشش بھی کرو تب بھی ان کا شمار نہیں کرسکتے ، تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم اپنے منعم حقیقی کو پہنچانوں اور اس کی بندہ نوازیوں کا شکریہ ادا کرو لیکن شکر ادا کرنا تو کجا تم نے اس کی واحدانیت کا انکار کردیا اور ان بےجان مورتیوں اور مقبروں والوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–23

Commentary Verses appearing immediately earlier described the many blessings of Allah Ta` ala in details, proved that He alone is their Creator and established that He is unique in this matter. Now, in the present verses, there comes an admonition against the failure of people to recognize that there is a fact behind the statement describing all these blessings - and that is Tauhid, the Oneness of Allah Ta’ ala, except whom there is none worthy of worship. Therefore, it was said: When it stands proved that Allah alone made the heavens and the earth, made the mountains and rivers, vegetation…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17. Here the connection of Allah’s attributes,“Forgiving and Compassionate”, with the preceding verse is so obvious that it has been left unmentioned. It is this: Though Allah goes on showering countless blessings upon people, they behave in an ungrateful, faithless and rebellious manner towards Him. He does not punish them immediately, but gives them respite, for He is Forgiving and Compassionate. This is true of both individuals and communities. There are people, who deny even the existence of God, yet He goes on bestowing His favors on them for years. There are others who set up partners…

Read the full tafseer →