Explained with ayahs 14–18
اللہ کے انعامات
اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کردیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں۔ اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو پھر اس کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 16
یعنی اگر تم یہ مانتے ہو (جیسا کہ فی الواقع کفار مکہ بھی مانتے تھے اور دنیا کے دوسرے مشرکین بھی مانتے ہیں) کہ خالق اللہ ہی ہے اور اس کائنات کے اندر تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں سے کسی کا کچھ بھی پیدا کیا ہوا نہیں ہے تو پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ خالق کے خلق کیے ہوئے نظام میں غیر خالق ہستیوں کی حیثیت خود خالق کے برابر یا کسی طرح بھی اس کے مانند ہو ؟ کیونکر ممکن ہے کہ اپنی خلق کی ہوئی کائنات میں جو اختیارات خالق کے ہیں وہی ان غیر خالقوں کے بھی ہوں، اور اپنی مخلوق پر جو حقوق خالق کو حاصل ہیں وہی حقوق غیر خالقوں کو بھی حاصل ہوں ؟ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ خالق اور غیر خالق کی صفات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
خلاصہ تفسیر
سو (جب اللہ تعالیٰ کا خالق اشیاء مذکورہ ہونا اور اس میں اس کا منفرد ہونا ثابت ہوچکا تو) کیا جو شخص پیدا کرتا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ) وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا (کہ تو دونوں کو معبود سمجھنے لگے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی اہانت ہے اس کو بتوں کے برابر کردیا) پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے اور (اللہ تعالیٰ نے جو اوپر دلائل توحید میں اپنی نعمتیں بتلائی ہیں ان پر کیا حصر ہے وہ تو اس کثرت سے ہیں کہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو (مگر مشرکین شکر اور قدر نہیں کرتے اور یہ جرم اتنا عظیم تھا کہ نہ معاف کرانے سے معاف ہوتا اور نہ اصرار پر آگے کو…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔
اب یہ توحید اور جزا و سزا کے ان نتائج کی طرف لائی جا رہی ہے جو اوپر کی بیان کردہ تمام نعمتوں سے نکلتے ہیں۔ فرمایا کہ کیا وہ جو تمام چیزیں پیدا کرتا ہے ان کی مانند ہوجائے گا جو نہ صرف یہ کہ کچھ پیدا نہیں ہوتے بلکہ، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، وہ مخلوق ہیں افلا تذکرون، یعنی یہ عقل کی کیسی موت کہ اتنی موٹی سی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے ! یہاں اس حقیقت پر نظر رہے کہ مشرکین عرب ان چیزوں کا، جن کی طرف اوپر توجہ دلائی گئی ہے، خالق خدا ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود انہی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں کو وہ خدا شریک ٹھہراتے اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 1 ان تمام نعمتوں سے توحید کی اہمیت کو اجاگر فرمایا کی اللہ تو ان چیزوں کا خالق ہے، لیکن اس کو چھوڑ کر جن کی تم عبادت کرتے ہو، انہوں نے بھی کچھ پیدا کیا ہے ؟ نہیں، بلکہ وہ تو خود اللہ کی مخلوق ہیں۔ پھر بھلا خالق اور مخلوق کس طرح برابر ہوسکتے ہیں ؟ جبکہ تم انھیں معبود بنا کر اللہ کا برابر ٹھہرا رکھا ہے۔ کیا تم ذرا نہیں سوچتے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
10: جب زمین کو شروع میں سمندر پر بچھایا گیا تو وہ ڈگمگاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے اس کو جما دیا ہے۔ جدید سائنس کے مطابق اب بھی بڑے بڑے براعظم سمندر کے پانی پر تھوڑے تھوڑے سرکتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ سرکنا اتنا معمولی ہوتا ہے کہ انسان کو احساس نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
آیت نمبر 17 تا 21
اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔
یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔
افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی…
Read the full tafseer →11 یعنی سوچنا چاہیے یہ کس قدر حماقت ہے کہ جو چیزیں ایک مکھی کا پر اور مچھر کی ٹانگ بلکہ ایک جو کا دانہ یا ریت کا ذرہ پیدا کرنے پر قادر نہ ہوں انھیں معبود و مستعان ٹھہرا کر خداوند قدوس کے برابر کردیا جائے۔ جو مذکورہ بالا عجیب و غریب مخلوقات کا پیدا کرنے والا اور ان کے محکم نظام کو قائم رکھنے والا ہے اس گستاخی کو دیکھو اور خدا کے انعامات کو خیال کرو۔ حقیقت میں انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 17 اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ
مشرکین عرب نے مختلف ناموں سے جو بت بنا رکھے تھے ان کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے۔ سورة یونس کی آیت 18 میں ان کے اس عقیدے کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَاۗءِ شُفَعَاۗؤُنَا عِنْدَاللّٰهِ ”اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں“۔ اللہ کے بارے میں ان کا ماننا تھا کہ وہ کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق ہے اور وہ یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ ان کے معبودوں کا اس تخلیق میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں۔ قرآن میں ان کے اس عقیدے کا بھی…
Read the full tafseer →18 اوپر اللہ تعالیٰ کی جس قدر نشانیاں اور قدرتیں مذکور ہوئی ہیں وہ سب فطری چیزیں ہیں۔ جنہیں ہر شخص بچشم خود ملاحظہ کرسکتا ہے اور ایسے سیدھے سادے انداز میں بیان ہوئی ہیں جن کو سمجھنے کے لیے کسی خاص علم کی ضرورت نہیں۔ ہر شہری اور دیہاتی، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ سب ان کو دیکھ کر ان میں غور کرسکتے ہیں اور ایسی ہی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور پوچھا ہے کہ یہ سب کچھ تو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ اب تم بتاؤ کہ تمہارے شریکوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ اور اگر انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا تو وہ اللہ کے شریک کیسے بن سکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →25۔ خطاب مشرکوں سے ہے کہ تم اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے، اور اتنا واضح اور بین فرق بھی تمہیں محسوس نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لئے آسمان بادلوں سے پانی برسایا اسی کو تم پیتے ہو اور اسی سے نباتات اگتی ہیں جس کو چرنے کے لئے تم اپنے جانوروں کو چھوڑتے ہو، اسی (پانی) سے تمہارے لئے کھیتی زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتی ہے بیشک ان تمام مذکورہ چیزوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو اس کی صنعت میں غور و فکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایمان لے آتے ہیں، اور اسی نے رات اور دن کو اور شمس و قمر کو اور ستاروں کو (اپنی قدرت سے) تمہارے کام میں لگا رکھا ہے (الشمس) پر نصب کے ساتھ اس کے ماقبل پر عطف کرتے ہوئے، اور…
Read the full tafseer →افمن یخلق کمن لا یخلق سو کیا جو پیدا کرتا ہے ‘ اس کی طرح ہوجائے گا جو پیدا نہیں کرتا۔ من لا یخلق سے مراد ہیں : معبودان باطل (خواہ اہل عقل ہوں یا بےعقل) اہل عقل کو بےعقل پر تغلیب دے کر (بجائے مَا کے) مَنْ استعمال کیا ہے ‘ یا صرف بت مراد ہیں۔ چونکہ مشرک بتوں کو الہٰہ (اپنے معبود) مانتے تھے اور الٰہ کو اہل علم ہونا ہی چاہئے (تو گویا مشرکوں کے مفروضے کے مطابق بتوں کیلئے مَنْ کا صیغہ استعمال کیا) ۔ اَفَمَنْ میں ہمزہ انکاریہ اور فَا تعقیبیہ ہے ‘ یعنی جب روشن و کثیر دلائل سے اللہ کا علمی کمال اور قدرت کا احاطہ اور حکمت کی ہمہ گیری ثابت ہوگئی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تنہا اللہ ہی خالق کائنات ہے ‘…
Read the full tafseer →(17) سو کیا جو پیدا کرتا یعنی اللہ تعالیٰ تو وہ ان بتوں جیسا ہوجائے گا کہ جو پیدا ہی نہیں کرسکتے تو کیا پھر بھی تم مخلوقات خداوندی کی اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ۔۔ : یہ سب نعمتیں جو ذکر ہوئیں، سب جانتے اور مانتے ہیں کہ ایک اللہ کی پیدا کردہ ہیں اور جنھیں مشرکین پکارتے ہیں انھوں نے نہ کچھ پیدا کیا ہے، نہ کرسکتے ہیں، حتیٰ کہ اس کا دعویٰ بھی نہیں کرسکتے (دیکھیے سورة حج : 73) تو یہ بتاؤ کہ ہر چیز کے خالق کو تم نے ان بےبس ہستیوں کے برابر کردیا جو مکھی کا پر بھی نہیں بنا سکتیں، تو کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔ سچ ہے : (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ) [ الأنعام : 91 ] ”انھوں نے اللہ کی قدر ہی نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا۔“ یہ مضمون مفصل سورة رعد (16) میں ملاحظہ فرمائیں۔ علامہ زمخشری نے یہاں سوال اٹھایا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 17
قولہ تعالیٰ : افمن یخلق وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ کمن لا یخلق مراد بت ہیں۔ افلا تذکرون ان بتوں کے بارے خبر دی گئی ہے جو نہ کچھ بنا سکتے ہیں اور نہ کسی کو نقصان اور نفع پہنچا سکتے ہیں، جیسا کہ اس کے بارے خبر دی جا رہی ہے جو اس طور پر عمل کرتا ہے جیسے عمل کا عرب اس سے مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان (بتوں) کی عبادت کرتے تھے اور اسے لفظ من کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ یہ قول ہے الھم ارجل (الاعراف :195) (کیا ان کے پاؤں ہیں) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ذکر میں ضمیر خالق کے ساتھ ملنے کی وجہ سے ہے۔ فراء نے کہا ہے : یہ عربوں کے اس قول کی طرح ہے : إشتبہ علی الراکب و جملہ فلا ادری من ذا ومن ذا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–23
1:۔ عبد ابن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ کے طریق سے حسن بصری (رح) سے انہوں نے قیس بن عباد (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرمایا تو وہ حرکت کرنے لگی فرشتے کہنے لگی یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن یونہی صبح ہوئی زمین کے اندر پہاڑ گاڑ دیئے گئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوگئے کہنے لگے اے ہمارے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسی چیز بھی ہے جو ان سے زیادہ سخت ہو اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے پھر فرشتوں نے عرض کیا لوہے سے بھی سخت کوئی چیز اور مخلوق ہے فرمایا ہاں آگ ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آگ سے بھی زیادہ سخت کوئی اور چیز…
Read the full tafseer →[اَفَمَنْ : تو کیا وہ جو ] [ يَّخْلُقُ : پیدا کرتا ہے ] [ كَمَنْ : اس کی مانند ہے جو ] [ لَّا يَخْلُقُ ۭ: پیدا نہیں کرتا ] [ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ : تو کیا تم لوگ نصیحت نہیں پکڑو گے ]
پھر آیت نمبر۔ 17 میں سوال کیا گیا کہ اگر تم مانتے ہو (جیسا کہ فی الواقع مکہ کے مشرکین بھی مانتے تھے اور دنیا کے دوسرے مشرکین بھی مانتے ہیں) کہ خالق اللہ ہی ہے اور اس کائنات میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کسی کا کچھ بھی پیدا کیا ہوا نہیں ہے، تو پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ غیر خالق ہستیوں کی حیثیتخود خالق کے برابر ہو یا کسی طرح بھی اس کے مانند ہو۔ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ خالق اور غیر خالق کی صفات ایک جیسی ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
مخلوق اور خالق برابر نہیں ہوسکتے، تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو نہیں گن سکتے، اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں وہ بےجان ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے
گزشتہ آیات میں توحید کے دلائل بیان فرمائے اور مخلوقات کی انواع و اقسام بیان فرمائیں اور ان کے فوائد بھی بتائے، یہ تمام چیزیں اور ان کے علاوہ ہر چیز جو کبھی موجود تھی یا موجود ہے یا موجود ہوگی سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جو جاہلوں نے دوسروں کی عبادت شروع کردی ان کے وہ معبود اللہ کی مخلوق ہیں۔ مخلوق خالق کے برابر نہیں ہوسکتی پھر یہ کیسی حماقت ہے کہ مخلوق کو خالق کا ساجھی بنا دیا کچھ تو سمجھ کی بات کرتے اور دلائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–23
ذکر دلائل توحید
قال اللہ تعالیٰ : خلق السموت والارض بالحق .... الیٰ .... انہ لایحب المستکبرین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اللہ کی معرفت اور اس کی وحدانیت کا علم سب سے اول اور مقدم اور اہم ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اس کی تعلیم دیتے رہے۔ وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور توحید کے بعد درجہ تقویٰ کا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تمام اولین اور آخرین کو وصیت فرمائی ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ اس لیے اب آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت و حکمت کے قسم قسم کے دلائل بیان فرماتے ہیں اور کمال قدرت کی…
Read the full tafseer →15:۔ یہ پہلی دونوں عقلی دلیلوں پر متفرع اور ان کا نتیجہ ہے۔ مذکورہ بالا دونوں دلیلوں کی تفصیلات سے معلوم ہوگیا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے اور مشرکین کے مزعومہ معبودوں نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا تو کیا ازر وئے عقل یہ ممکن ہے کہ جس نے سب کچھ پیدا کیا ہو اور جس نے کچھ بھی پیدا نہ کیا وہ دونوں برابر ہوں اور دونوں متصرف و مختار اور مستحق الوہیت ہوں ؟ نہیں ! نہیں ! ! ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا جو ساری کائنات کا خالق ہے وہی متصرف و کارساز اور مستحق الوہیت ہوسکتا ہے۔ ” اَ فَلَا تَذَکَّرُوْنَ “ یہ بات کس قدر واضح ہے مگر تم لوگ اس قدر واضح بیان کے بعد بھی سمجھنے اور نصیحت پکڑنے کی کوشش نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
(ربط آیات)
سورة ہذا کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی نازل فرما کر انہیں انذار کا حکم دیا ، اور فرمایا (آیت) ” انذروا انہ لا الہ الا انا “۔ لوگوں کو ڈرا دو اور خبردار کر دو میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت بیان فرمائے اور مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کیا جن میں ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، دلائل قدرت میں سے ارض وسما کی پیدائش ، انسان کی قطرہ آب سے تخلیق ، جانوروں کی پیدائش اور ان کے فوائد بارش کا نزول ، باغات اور نباتات کی تخلیق ، لیل ونہار اور شمس وقمر کی تسخیر ، ستاروں کی تسخیر ،…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 17
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
تَّذْكِرَةُ
: ما يتذكّر به الشیء، وهو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
(2) تمہارے اسباب معاش تمہیں حاصل ہوجاویں اور ان میں تمہیں کامیابی ہو۔ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان اسباب سے مسبب الاسباب کی طرف ہدایت ہو عارف کو ہر نعمت میں اسی کا یدہدایت دکھائی دیتا ہے۔ )
Read the full tafseer →اَفَمَنْ یَّخْلُقُ کَمَنْ لاَّ یَخْلُقُ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْن۔ (سورۃ النحل : 17)
(کیا وہ ذات جس نے سب کچھ پیدا فرمایا اس کی مانند ہوسکتی ہے جس نے کچھ بھی نہیں بنایا کیا تم اتنا بھی غور نہیں کرتے۔ )
مذکورہ حقائق کے لازمی نتائج
گزشتہ آیات کریمہ میں مختلف مخلوقات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو پروردگار کی صفت تخلیق کا مظہر ہیں، جن میں سے خود انسان اس کی صفت تخلیق کا شاہکار ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ انسانوں نے مخلوقات میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر قرار دے دیا ہے، بعض کے بارے میں یقین کرلیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک ہیں، بعض کو اللہ تعالیٰ کا اوتار بنادیا۔ مختلف طریقوں سے شرک کا یہ کاروبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
فہم القرآن
ربط کلام : سمندر کے بعد پھر زمین کا تذکرہ۔
بارہویں پارے کی ابتدا میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ ( ھود : 7) جب زمین کو پانی پر استوار کیا گیا تو یہ ہچکولے کھاتی تھی جس طرح خالی کشتی پانی پر ہچکولے کھایا کرتی ہے۔ کشتی میں مناسب مقدار میں وزن ہو تو وہ ہچکولے کھانے اور ڈانواں ڈول ہونے کے بجائے پانی کی سطح پر متوازن رفتار میں ٹھہری رہتی ہے۔ یہی کیفیت پہاڑوں سے پہلے زمین کی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے زمین پر بڑے بڑے پہاڑ گاڑ دیے تاکہ ہچکولے کھانے سے رک جائے۔ پھر پہاڑوں کے درمیان دریا، نہریں اور راستے بنا…
Read the full tafseer →یہ خالق کے نمونہ ہائے قدرت اوروں کو تم دکھائو :
17: اَفَمَنْ یَّخْلُقُ (کیا وہ جو پیدا کرتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ۔ کَمَنْ لَّا یَخْلُقُ (اس کی طرح ہوجائے گا جو پیدا نہیں کرتا) یعنی اصنام، یہاں منؔ لائے جو ذوی العقول کیلئے ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے خیال کے مطابق ان کو حاجت روا بنا کر عبادت شروع کر رکھی تھی (معبود کی تمام صفات ان میں مانتے تھے) گویا اولوالعلم کے قائم مقام قرار دیا۔
نمبر 2۔ مطلب یہ ہے کہ جو پیدا کرتا ہے ان کی طرح نہیں ہوسکتا۔ جو اولو العلم ہیں پیدا نہیں کرسکتے پھر جس کے پاس بالکل علم ہی نہ ہو وہ کیسے برابر ہوسکتا ہے ؟ اس طرح نہیں فرمایا افمن لا یخلق کمن لا یخلق حالانکہ مقام کا…
Read the full tafseer →(17)” افمن یخلق “ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا۔ ” کمن لا یخلق “ یعنی ان بتوں نے۔ ” افلا تذکرون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 18۔ اللہ پاک نے آسمان اور زمین اور دریا کے پیدا کرنے کا ذکر اور اس سے جو جو نفع انسان کو پہنچتا رہتا ہے اس کا ذکر کر کے اب مشرکوں کو یوں سمجھایا کہ اب جو تم بتوں کی عبادت کرتے ہو اور انہیں خدا کا شریک ٹھہراتے ہو تو تم ہی بتلاؤ کہ ان بتوں نے کونسا آسمان بنایا کون سی زمین پیدا کی کدھر انہوں نے دریا بہائے اگر کچھ نہیں کیا تو پھر یہ اس خدا کے برابر کیوں کر ہوسکتے ہیں جس نے ساری چیزیں پیدا کی ہیں۔ تھوڑا سا تو غور کر کے دیکھو تمہارے خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے اور کیس کیسی نعمتیں تم کو دیں کیا تم ان کا شمار کرسکتے ہو اور اس کا شکر ادا کرسکتے ہو۔ ہرگز نہیں گن سکتے اگر وہ اپنی ہر نعمت کے مقابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
آیت 17
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو تخلیق کیا اور اس نے تمہیں لا محدود نعمتیں عطا کیں۔۔۔ فرمایا کہ کوئی ہستی اس کے مشابہ نہ اس کی برابری کرسکتی ہے اور نہ اس کی ہمسر ہے، چناچہ فرمایا (افمن یخلق) ” پس کیا وہ ہستی جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتی ہے “ اور وہ جو ارادہ کرتی ہے اسے کر گزرتی ہے۔ (کمن لایخلق) ” اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو (کم یا زیادہ) کچھ بھی پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ “ (افلا تذکرون) ” کیا تم (اتنا) نہیں سمجھتے “ کہ تم پہچان سکو کہ وہ ہستی جو تخلیق میں یکتا ہے، وہی ہر قسم کی عبودیت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنی تخلق و تدبیر میں یکتا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →33۔ توحید خداوندی کی دلیل اس کی صفت خلق کے اعتبار سے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ کیا وہ ذات جو سب کچھ پیدا کرے وہ ان کی طرح ہوسکتی ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکیں ؟ یعنی اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ یہ سب کچھ اسی نے کیا اور وہی کرتا ہے۔ اور بلاشرکت غیرے کیا ہے اور کرتا ہے جل وعلا۔ کہ وہی خالق کل بھی اور مالک کل بھی، اور ہر چیز اسی کی پیدا فرمودہ ہے۔ تو بھلا جو ہر چیز کا خالق ہو اور خاص کر ان عظیم الشان مخلوقات ومصنوعات کا جن کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے۔ وہ خالق کل ان کے برابر ہوسکتا ہے جنہوں نے نہ کچھ پیدا کیا ہو اور نہ ہی وہ پیدا کرسکتے ہیں ؟ نہیں ! اور ہرگز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
پہاڑ، نہریں اور ستاروں کے وجود کے مقاصد
تشریح : پہاڑوں کے بارے میں پہلے بھی لکھا جا چکا ہے مزید اللہ تعالیٰ جل شانہٗ ہمیں یہ اطلاع دیتا ہے کہ یہ اونچے اونچے وسیع پہاڑوں کے سلسلے زمین کی مضبوطی اور حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ جتنے اوپر نظر آتے ہیں اتنے ہی زمین کے اندر گاڑے ہوئے ہیں۔ اور یوں پہاڑوں کے پتھریلے سخت اور وزنی اجزاء سمندر کی زبردست ٹکریں زمین کو ضائع ہونے سے بچاتی ہیں۔ دوسرا زمین کا توازن برقرار رہتا ہے۔ تیسرا پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف جمتی رہتی ہے جو موسم گرما میں پگھل کر دریائوں کی صورت میں زمینوں کو سیراب کرنے کے کام آتی ہے۔
چوتھا پہاڑوں کی وجہ سے مسلسل زلزلوں سے بچائو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس…
Read the full tafseer →ف 2 بلکہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے اس میں استفہام برائے تکبیت ہے اور اس سے شرک کا ابطال مقصود ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(16:15) القی۔ القاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے ڈالا۔
رواسی ۔ رسو۔ مصدر رسا الشیٔ (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے وقدور رسیت (34:13) اور بڑی بھاری دیگیں جو ایک جگہ پر جمی رہیں۔ اونچے اونچے پہاڑوں کو بوجہ ان کے اثبات اور استواری کے رواسی کہا گیا ہے۔
لہٰذا رواسی بمعنی اونچے اونچے پہاڑ۔ بندرگاہ کو مرسی (اسم ظرف مکان) اس واسطے کہتے ہیں کہ یہاں بھی جہاز اور کشتیاں آکر ٹھہر جاتی ہیں۔
رواسی راسیۃ کی جمع ہے۔ پہاڑ۔
تمید۔ ماد یمید مید (باب ضرب) سے مضارع واحد مؤنث غائب۔
وہ ہلتی ہے وہ جھکتی ہے۔ ان تمید بکم ای لئلا تمیدبکم کہ وہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–21
لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 21
ذرا اس نے پھیلا دیا، پیدا کیا۔ الوان (لون) رنگ۔ یذکرون وہ دھیان دیتے ہیں۔ لحم گوشت۔ طری تازہ۔ تستخرجو تم نکالتے ہو۔ حلیۃ زیور۔ تلبسون تم پہنتے ہو۔ مواخر پھاڑنے والا، پھاڑنے والیاں۔ لتبتغو تاکہ تم تلاش کرو۔ القی اس نے ڈالا، رکھا۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، پہاڑ۔ تمید جھک جانا۔ سبل (سبیل) راستے۔ علمت علامتیں، نشانیاں۔ نجم ستارہ۔ یخلق پیدا کرتا ہے۔ تعدوا تم گنو گے ، شمار کرو گے۔ لاتحصوا تم شمار نہ کرسکو گے۔ تبسرون تم چھپاتے ہو۔ تعلنون تم ظاہر کرتے ہو۔ یدعون پکارتے ہیں۔ یخلوقن وہ پیدا کئے جاتے ہیں۔ اموات مردے ہیں۔ ایان کب ؟ یبعثون وہ دوبارہ اٹھائیں جائیں گے۔
تشریح : آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
مشرکین کو تنبیہ
اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ جس نے ساری چیزیں پیدا کی ہیں تھوڑا سا غور کر کے دیکھو کہ تمہارے خدا نے تم پر کیا کیا احسان کئے۔ اور کیسی کیسی نعمتیں تم کو دیں۔ کیا تم ان کا شمار کرسکتے ہو اور اس کا شکر ادا کرسکتے ہو، ہرگز نہیں گن سکتے۔ اگر وہ اپنی ہر نعمت کے مقابل میں تم سے شکر چاہے تو بلکل بجا ہے اور تم سے کوتاہی ہونے پر تمہیں سزا کا مستحق ٹھہرا سکتا ہے، مگر اس نے ان باتوں سے درگزر کی، تم پر مہربانی کی ہر نعمت پر تم سے شکر کا طلب گار نہیں ہے، ایک تھوڑا سا شکریہ ادا کرنے کو کہتا ہے کہ تم اس کی عبادت چھوڑ کر عاجز وبے اختیار بتوں کی پرستش نہ کرو یا انہیں عبادت میں اس کا شریک نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
[12] یعنی راستوں کی شناخت کے لئے ٹیلے، پہاڑیاں، درخت، چشمے وغیرہ سب علامات راہ (Land Marks) کا کام انجام دیتے ہیں۔
[13] یہاں تک بہت سی نشانیاں جو پے درپے بیان کی گئی ہیں ان سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ جو پروردگار ہستی انسان کی تمام جسمانی ضرورتوں اور آسائشوں کا انتظام کررہی ہے تو کیا ضروری نہ تھا کہ انسان کی روحانی سعادت و زندگی کا بھی سروسامان کردیتی ؟ جس اللہ نے تمہاری مادی زندگی میں تمہاری رہنمائی کے لئے جو کچھ انتظامات کئے ہیں کیا وہ تمہاری اخلاقی زندگی سے اتنا بےپروا ہوسکتا ہے کہ تمہاری ہدایت کا کچھ بھی انتظام نہ کرے ؟ یہی سروسامان و انتظام ہے جو ہدایت وحی اور بعثت رسل کی صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
(ف 1) قرآن چونکہ کتاب فطرت ہے ، اس لئے وہ عجائب مخلوقات سے استدلال کرتا ہے ، وہ کہتا ہے آسمان کو دیکھو پانی اور بارش کے فوائد پر غور کرو ، کیونکر کھیت اور باغات ہرے بھرے ہوجاتے ہیں ، اور کیونکر بہترین پھل اور اثمار پیدا ہوئے ہیں کیا اس میں غور وفکر کے لئے کافی سامان موجود نہیں ؟ ۔
رات اور دن کی ترتیب سورج چاند اور ستاروں کی باقاعدہ گردش ان میں جو لانی عقل کے لئے کس قدر میدان ہے اسی طرح اشجار رنگا رنگ میں قدرت کی کس قدر صنعت کاریاں نمایاں ہیں ، اور باعث تذکیر ونصیحت ہیں ۔
قرآن حکیم کا ارشاد ہے ، کہ ان سب باتوں کو سوچو ، غور کرو ، تو فکر عقل اور ذکر کا تمہیں وافر ذخیرہ ملے گا ،
غرض یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →17 ۔ پھر بھلا وہ جو تمام مخلوقات کو پیدا کرتا ہے کیا وہ اس جیسا ہے جو کچھ بھی نہیں پیدا کرسکتا پھر کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ یعنی ایک وہ جو تمام کائنات کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے کیا وہ اس کے برابر اور اس جیسا ہوسکتا ہے جو کچھ بھی نہ پیدا کرسکے جب برابر ی نہیں تو پھر کیوں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ف 1۔ اس میں تمام حیوانات و نباتات و جمادات و بسائط و مرکبات داخل ہوگئے۔
Read the full tafseer →تفسیر :
کیا پیدا کرنے والا اور نہ پیدا کرنے والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ :
22۔ (آیت) ” افمن یخلق “۔ کیا وہ شخص جو پیدا کرتا ہے (آیت) ” کمن لا یخلق “۔ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو پیدا نہیں کرتا۔ (آیت) ” خلق “۔ آفرینش ‘ پیدائش ‘ بنانا ‘ پیدا کرنا اصل میں تو (آیت) ” خلق “۔ کے معنی تقدیر مستقیم یعنی صحیح اندازہ ٹھہرانے کے ہیں اور اس کا استعمال کسی چیز کے بغیر نمونہ اور پیروی کے ایجاد کرنے کے ہیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ اس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو “ اس جگہ (خلق) کا استعمال ابداع یعنی بےمثال اور بےنمونہ سابق بنانے کے لئے ہوا جیسا کہ (آیت) ” بدیع السموت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
Commentary
Verses appearing immediately earlier described the many blessings of Allah Ta` ala in details, proved that He alone is their Creator and established that He is unique in this matter. Now, in the present verses, there comes an admonition against the failure of people to recognize that there is a fact behind the statement describing all these blessings - and that is Tauhid, the Oneness of Allah Ta’ ala, except whom there is none worthy of worship. Therefore, it was said: When it stands proved that Allah alone made the heavens and the earth, made the mountains and rivers, vegetation…
Read the full tafseer →16. That is, if you, people of Makkah, acknowledge (and they acknowledged this just as other mushriks did) that Allah alone is the Creator of all of you and everything, and no one of the partners, you have set up with Him, has created anything in the universe. How is it, then, that you ascribe from among the creation, a status equal to or like that of the Creator in the system of universe created by Him? How can it be possible that the power and the rights of the creation should be equal to the power and the rights of the Creator in the universe created by Himself? How can it be believed that…
Read the full tafseer →