Explained with ayahs 30–32
متقیوں کے لیے بہترین جزا
بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں۔ بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہوجائے۔ پھر خبر دیتا ہے کہ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کرچکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہوگی۔ جیسے فرمان ہے کہ جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سورة النَّحْل 28
یہ ہے جنت کی اصل تعریف۔ وہاں انسان جو کچھ چاہے گا وہی اسے ملے گا اور کوئی چیز اس کی مرضی اور پسند کے خلاف واقع نہ ہوگی۔ دنیا میں کسی رئیس، کسی امیر کبیر، کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی یہ نعمت کبھی میسر نہیں آئی ہے، نہ یہاں اس کے حصول کا کوئی امکان ہے۔ مگر جنت کے ہر مکین کو راحت و مسرت کا یہ درجہ کمال کہ اس کی زندگی میں ہر وقت ہر طرف سب کچھ اس کی خواہش اور پسند کے عین مطابق ہوگا۔ اس کا ہر ارمان نکلے گا۔ اس کی ہر آرزو پوری ہوگی۔ اس کی ہر چاہت عمل میں آکر رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ شرک سے بچتے ہیں ان سے (جو قرآن کے بارے میں) کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے وہ کہتے ہیں کہ بڑی خیر (اور برکت کی چیز) نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے نیک کام کئے ہیں (جس میں یہ قول مذکور اور تمام اعمال صالحہ آگئے) ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے (وہ بھلائی ثواب کا وعدہ و بشارت ہے) اور عالم آخرت تو (بوجہ اس کے کہ وہاں اس وعدہ کا تحقق و ظہور ہوجائے گا) اور زیادہ بہتر (اور موجب سرور) ہے اور واقعی وہ شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے وہ گھر (کیا ہے) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے ان باغوں کے (اشجار وعمارات کے) نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جس چیز کو…
Read the full tafseer →جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاۗءُوْنَ ۭكَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ۔
جَنّٰتُ عَدْنٍ کا مفہوم : " عدن کے معنی توطن اور اقامت کے ہیں۔ یہ متقین کے گھر کی تعریف ہے کہ وہ اقامت اور توطن کے باغ ہوں گے۔ خدا کے متقی بندے ان میں محض وقتی سیر و تفریح کے لیے نہی بلکہ ان میں ہمیشہ رہنے بسنے کے لیے داخل ہوں گے فعل " یدخلون " یہاں اپنے حقیقی اور کامل معنی میں ہے یعنی متقین ان باغوں میں عزت و اکرام کے ساتھ براجمان ہوں گے، ان میں ان کے لیے وہ سب کچھ حاضر ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یہ ان باغوں کی تصویر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29۔ 1 امام ابن کثیر فرماتے ہیں، ان کی موت کے فوراً بعد سب کی روحیں جہنم میں چلی جاتی ہیں اور ان کے جسم قبر میں رہتے ہیں (جہاں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے جسم و روح میں بعد کے باوجود، ان میں ایک گونہ تعلق پیدا کر کے ان کو عذاب دیتا ہے، (اور صبح شام ان پر آگ پیش کی جاتی ہے) پھر جب قیامت برپا ہوگی تو ان کی روحیں ان کے جسموں میں لوٹ آئیں گی اور ہمیشہ کے لئے یہ جہنم میں داخل کردیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
15: اس سے معلوم ہوا کہ عذاب صرف ان لوگوں کو ہوگا جو کفر کی حالت میں مرے ہوں۔ اگر کوئی مرنے سے پہلے پہلے سچی توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے اور اسے معاف کردیا جاتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت نمبر 30 تا 32
متقین اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر خیر ہے۔ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے ، جو امرونہی اور ہدایت و قانون پر مشتمل ہے ، اس کی روح انسان کی بھلائی ہے ۔ یہ لوگ پوری داستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں (خیرا) اور اس کے بعد وہ اس خیر کی تشریح اپنے علم و فضل کے مطابق کرتے ہیں۔
للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (16 : 30) “ اس طرح کے نیکو کاروں کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ”۔ بہترین زندگی ، بہترین سازو سامان اور بہترین مقام و مرتبہ۔
ولدار الاخرۃ خیر ( 16 : 30) “ اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی…
Read the full tafseer →8 یعنی جنتی جس قسم کی جسمانی راحت اور روحانی مسرت چاہیں گے وہاں حاصل ہوگی ( وَفِيْهَا مَا تَشْتَهِيْهِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْيُنُ ۚ وَاَنْتُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ) 43 ۔ الزخرف :71)
9 یعنی ان تمام لوگوں کو جو کفر و شرک اور فسوق و عصیان سے پرہیز کرتے ہیں ایسا اچھا بدلہ ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 30 وَقِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ
دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جن کے دلوں میں اخلاقی حس بیدار اور جن کی روحیں زندہ ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ جو کلام آپ لوگوں کو سناتے ہیں وہ کیا ہے ؟
قَالُوْا خَیْرًا
یعنی یہ کلام خیرہی خیر ہے اور ہماری ہی بھلائی کے لیے نازل ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30 قرآن سراسر بھلائی ہے :۔ کفار مکہ سے جب آس پاس کے لوگ یہی سوال کرتے تو وہ کہتے کہ وہ تو بس پہلی قوموں کے قصے کہانیاں ہی ہیں جو ہم پہلے ہی بہت سن چکے ہیں لیکن وہی بیرونی لوگ جب یہی سوال کسی ایمان لانے والے اور متقی شخص سے کرتے ہیں تو ان کا جواب کفار مکہ کے جواب کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی پر جو تعلیم نازل ہوئی ہے اس میں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔ پھر یہ لوگ صرف زبان سے ہی ان باتوں کا اقرار نہیں کرتے بلکہ اللہ کی اس نازل کردہ تعلیم کو اپنے آپ پر نافذ بھی کرتے ہیں۔ اور جن کاموں کے کرنے کا انھیں حکم ہوتا ہے وہ احسن طور پر بجا لاتے ہیں اور جن کاموں سے منع کیا…
Read the full tafseer →44۔ (آیت) ” المتقین “ یہ وہی ہیں جن کا ذکر ایک آیت قبل الذین اتقوا سے آچکا ہے یعنی اہل ایمان۔ (آیت) ” لھم فیھا ما یشآون “۔ ایک بڑی گہری اور اصولی حقیقت ان دو مختصر لفظوں کے اندر آگئی ہے۔ جنت میں جو ہوا بھی چلے گی، سب اہل جنت کی مرضی کے مطابق ہوگی، جو کچھ بھی جس کسی کا جی چاہے گا، سب پورا ہو کر رہے گا۔ ہر تمنا نکل کر، ہر آرزو حاصل ہو کر رہے گی، ایک ایک نعمت جامع جواب ہر مذاق اور ہر درجہ کے سائلین کے لیے آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
آیت نمبر 26 تا 34
ترجمہ : ان سے پہلے لوگوں نے بھ مکر کیا تھا، اور وہ نمرود تھا جس نے ایک بہت اونچا منارہ بنایا تاکہ اس پر چڑھ کر آسمان والوں سے
قتال کرے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان بنیادوں کو جڑ سے اکھاڑدیا کہ ان پر آندھی اور زلزلہ بھیج کر ان کو منہدم کردیا، اور ان کے سروں پر ان کی چھتیں اوپر آپڑیں جس وقت وہ ان کے نیچے تھے اور ان پر عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا، یعنی ایسی جہت سے کہ ان کے خیال و خواب میں بھ نہ تھا، اور کہا گیا ہے کہ یہ تمثیل ہے ان منصوبوں کو ناکام کرنے کی جن کو انہوں نے رسول کے خلاف استوار کیا تھا، پھر روز قیامت بھی اللہ انھیں رسوا کرے گا اور فرشتوں کے…
Read the full tafseer →جنت عدن ان کیلئے عدن کی جنتیں ہیں ‘ یا آخرت میں ان کا مسکن جنات عدن ہیں۔
یدخلونھا تجری من تحتھا الانھر لھم فیھا ما یشآء ون جن کے اندر متقی داخل ہوں گے (اور) جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی (اور) جو کچھ اہل جنت چاہیں گے ‘ ان کو وہاں ملے گا۔
مَا یَشَآءُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ اقسام مرغوبات میں سے جو کچھ چاہیں گے ‘ ان کو جنت میں ملے گا۔ فِیْھَا کو مَا یَشَآءُوْنَ سے پہلے ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کے تمام مرغوبات صرف جنت ہی میں مل سکیں گے (دنیا میں تمام مقاصد کی تکمیل ممکن نہیں) ۔
کذلک یجزی اللہ المتقین اسی طرح اللہ متقیوں کو جزا دے گا۔ یعنی جو لوگ شرک اور بداعمالی سے پرہیزرکھیں…
Read the full tafseer →(31) اور وہ حضرت رحمن کی خوشنودی کا مقام ہے اس کی عمارات اور درختوں کے نیچے سے شہد، دودھ، شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی، جنت میں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا اور اس کی خواہش ہوگی وہاں ان کو ملے گی، اسی طرح کا بدلہ اور ثواب اللہ تعالیٰ کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والوں کو دے گا۔
Read the full tafseer →جَنّٰتُ عَدْنٍ : ہمیشہ رہنے کے باغات، کیونکہ ان میں ضرورت اور چاہت کی ہر چیز موجود ہوگی۔ دنیا میں بڑی سے بڑی تفریح گاہ اور اچھے سے اچھے گھر سے بھی دل بھر جاتا ہے، مگر جنت میں ہمیشہ رہنے کے باوجود دل نہیں بھرے گا، کیونکہ دل جو کچھ چاہے گا وہ حاضر ہوجائے گا، فرمایا : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ السجدۃ : 17 ] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔“
كَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ : یعنی اللہ سے ڈرنے اور اس کی منع کردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت نمبر 30 تا 32
قولہ تعالیٰ : وقیل للذین اتقوا ماذا انزل ربکم قالوا خیرا یعنی انہوں نے کہا : سراپا خیر نازل کیا اور کلام مکمل ہوگئی۔ اور ماذا اس بنا پر واحد اسم ہے۔ عرب سے کوئی آدمی ایام حج میں مکہ مکرمہ آتا تھا اور مشرکوں سے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے مکیں پوچھتا تو وہ کہتے : ساحر ہے یا شاعر ہے یا کاہن ہے یا مجنون ہے۔ اور وہ مومنوں سے پوچھتا تو وہ کہتے : اللہ تعالیٰ نے ان پر خیر اور ہدایت نازل کی ہے، اور اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک قیامت کے دن یہ اہل ایمان کو کہا جائے گا۔ ثعلبی (رح) نے کہا ہے : پس اگر کہا جائے : اس قول باری تعالیٰ : اساطیر الاولین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1:۔ عبدبن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقیل للذین اتقوا “ سے مراد مومنین ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے ” ما ذا انزل ربکم “ (تمہارے رب نے کیا اتارا) تو وہ کہتے ہیں خیر کو اتارا (آیت) ” للذین احسنوا “ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور اس کی کتابوں پر اور جنہوں نے اطاعت کی اور اللہ کے بندوں کو نیکی پر آمادہ کیا اور ان کو اس کی طرف بلایا۔
Read the full tafseer →[جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ہیں ] [ يَّدْخُلُوْنَهَا : وہ لوگ داخل ہوں گے ان میں ] [ تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [ مِنْ تَحْتِهَا : ان کے نیچے سے ] [ الْانهٰرُ : نہریں ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ہے ] [ فِيْهَا : ان میں ] [ مَا : وہ جو ] [ يَشَاۗءُوْنَ ۭ: وہ لوگ چاہیں گے ] [كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ يَجْزِي : بدلہ دے گا ] [ اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ : اللہ تقوٰی کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
اہل تقویٰ کا اچھا انجام، انہیں جنت کے باغوں میں وہ سب کچھ نصیب ہوگا جو ان کی خواہش ہوگی
گزشتہ آیات میں کافروں کے مکر اور آخرت میں جو انہیں عذاب ہوگا اور رسوائی ہوگی اس کا ذکر تھا اور اس بات کا بھی ذکر تھا کہ فرشتے ایسی حالت میں ان کی جانیں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، ان آیات میں اہل ایمان کے اچھے اعمال اور اچھے اقوال کا تذکرہ فرمایا اور انہیں بشارت دی کہ وہ ایسے باغوں میں داخل ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور ان باغیچوں میں ان کی خواہش کے مطابق سب کچھ موجود ہوگا جو بھی چاہیں گے وہ سب ملے گا، سورة زخرف میں فرمایا (وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
قال اللہ تعالیٰ : قد مکر الذین من قبلہم .... الیٰ .... ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون۔
(ربط) ان آیات میں اول متکبرین کی اس دنیا وہ تباہی اور بربادی کا بیان ہے جو پہلے کافروں پر ناگہانی طور پر نازل ہوئی اس کے بعد الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم۔ میں متکبرین کے اخروی عذاب کا بیان ہے یہ سب غرور اور تکبر کا نتیجہ ہے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح اگلے کافر اور متکبر ناگہانی بلاؤں میں مبتلا ہوئے جن کا پہلے سے کہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اسی طرح تمہارا بھی یہی حال اور مآل ہوگا اور گزشتہ متکبرین کی طرح تم کو بھی غرور اور تکبر کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ اور اس کے بعد وقیل للذین اتقوا الخ میں بطور مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
25:۔ کفار کا حال اور ان کے لیے تخویف اخروی ذکر کرنے کے بعد اب مؤمنین کا حال اور ان کے لیے بشارت دنیوی و اخروی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب مؤمنین سے قرآن کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ اسے سراپا خیر و برکت قرار دیتے ہیں۔ ” لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا “ خبر مقدم۔ ” حَسَنَةٌ“ مبتداء مؤخر۔ یہ بشارت دنیوی ہے ” وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ ” اَّلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمْ الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ ” طَیِّبِیْنَ “ یہ ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی در آنحالیکہ وہ شرک کی نجاست سے پاک تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
(ربط آیات)
پہلے اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا حال بیان کیا کہ جب ان سے قرآن پاک سے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو قصے کہانیاں ہیں وہ نہ صرف وحی الہی کا انکار کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں اور اس کی تردید کرتے ہیں ، اللہ نے ان کا انجام بیان فرمایا کہ قیامت کے دن یہ لوگ نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے بلکہ ان لوگوں کے گناہوں کا بار بھی ان پر ہوگا جن کو انہوں نے دنیا میں گمراہ کیا ، پھر اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے دنیا میں اسلام کے خلاف بڑی منصوبہ بندی کی ، بڑی سکی میں بنائیں ، چال بازیاں کرتے رہے مگر کامیاب نہ ہو…
Read the full tafseer →جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاۗءُوْنَ ۭكَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ 31ۙ
جَنَّةُ :
كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]
الجنۃ
ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
ترکیب : ماذا محل نصب میں ہے انزل سے جیسا کہ ماذا کے جواب قالو اخیرا ای انزل خیرا سے معلوم ہوتا ہے جنت عدن مخصوص بالمدح نعم کا یدخلونہا اس سے حال اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو کہ یدخلونہا اس کی خبر ہو یا محذوف ہو طیبین حال من المفعول وھوالقوی وقیل من الفاعل مقارنۃ اومقدرۃ۔
تفسیر : کافروں کے مقابلہ میں مومنین کا ذکر کرتا ہے وقیل للذین الخ کہ ان سے جو قرآن کا حال پوچھا جاتا ہے تو اس کو بہتر اور عمدہ بتلاتے ہیں۔ مکہ کے مشرکین ایام حج میں بدمعاش لوگوں کو مکہ کے رستوں پر بٹھلا دیتے تھے اور عرب کے قبیلوں میں آنحضرت ﷺ کے دین اور قرآن کا ایک حیرت خیز چرچا پھیلا ہوا تھا۔ وہ اپنے ایلچی ان ایام میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
وَقِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَآ اَنْزَلَ رَبُّکُمْ ط قَالُوْا خَیْرًا ط لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّّنْیَا حَسَنَۃٌ ط وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ ط وَلَنِعْمَ دَارُالْمُتَّقِیْنَ ۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَہَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ لَہُمْ فِیْھَا مَایَشَآئُ وْنَ ط کَذٰلِکَ یَجْزِی اللّٰہُ الْمُتَّقِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ لا یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْکُمُ لا ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 30۔ 31۔ 32)
(اور یوں ہی پوچھا گیا ان سے جو متقی تھے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ جواب دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فہم القرآن
ربط کلام : کفار، مشرکین اور مجرموں کے انجام کے بعد متقی حضرات کا صلہ اور ان کے انجام اور انعام کا بیان۔
اس خطاب کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ لوگو ! تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ جس کے ردِّ عمل میں کافر اور مشرک یہ کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ کفر و شرک سے تائب ہوئے اور اللہ کی توحید کا اقرار کیا ان کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے رب نے تمہاری ہدایت کے لیے کیا نازل فرمایا ہے وہ بلا تاخیر کہتے ہیں کہ ہمارے رب نے جو کچھ نازل کیا ہے اس میں ہماری بھلائی اور رہنمائی ہے۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بہتری ہے اور آخرت میں ان کے لیے…
Read the full tafseer →31: جَنّٰتُ عَدْنٍ (وہ ہمیشہ کے باغات ہیں) یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ یا مخصوص بالمدح ہے۔ یَّدْخُلُوْنَہَا (وہ اس میں داخل ہونگے) یہ حال ہے۔ تجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ لَھُمْ فِیْھَا مَایَشَآ ئُ وْنَ کَذٰلِکَ یَجْزِی اللّٰہُ الْمُتَّقِیْنَ (اس کے نیچے نہریں جاری ہونگی ان کے لئے اس میں وہ ہے جو وہ چاہیں گے اسی طرح اللہ تعالیٰ متقین کو بدلہ دیں گے) ۔
Read the full tafseer →(31)” جنات عدن یدخلونھا تجری من تحتھا… تا المتقین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
30۔ 32۔ نافرمان لوگ اللہ کے رسول اور قرآن کی شان میں جو کہتے تھے اس کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں اللہ پاک نے متقی اور ایمان والوں کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو جواب دیتے ہیں کہ نیک باتیں۔ پھر اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا کہ جس نے بھلائی کی اس کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے ایک نیکی کا بدلہ دس دس سے سات سات سو یا اس سے بھی دوگنا جتنا خدا چاہے دے گا پھر فرمایا کہ اس سے بھی بہتر آخرت کا گھر ان کے واسطے تیار ہے پھر فرمایا کہ متقیوں کا انجام کیا ہی اچھا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں آخرت کی پونجی جمع کرتے ہیں اور آخرت کا گھر جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
آیت 30
جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی کو جھٹلایا، ان کے قول کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کے قول کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے، وہ ایک عظیم نعمت اور بڑی بھلائی ہے جس کے ذریعے سے اللہ نے بندوں پر احسان فرمایا۔ (ان کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے) پس انہوں نے اس نعمت کا قبولیت اور اطاعت کے جذبے کے ساتھ استقبال کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پس انہوں نے اسے جانا اور اس پر عمل کیا۔ (للذین احسنوا) ” ان کے لئے جو نیکو کار ہیں۔ “ ) یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر فائز ہوئے اور انہوں نے اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–65
زیور کے بارے میں حکم
قول باری ہے (وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا۔ اور تاکہ اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو) امام ابو یوسف اور امام محمد اس آیت سے اس مسئلے میں استدلال کرتے ہیں جس میں ایک شخص نے زیور نہ پہننے کی قسم کھائی ہو اور پھر وہ موتی پہن لے تو حانث ہوجائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر سے نکلنے والے موتی کو زیور کے نام سے موسوم کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شخص حانث نہیں ہوگا اس لئے کہ قسموں کو ان معافی پر محمول کیا جاتا ہے جو لوگوں کے درمیان متعارف ہوتے ہیں۔ عرف میں صرف موتی کو زیور کے نام سے موسوم کرنا موجود نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ موتی فروخت کرنے والا زیورات…
Read the full tafseer →63۔ اہل جنت کے لیے ہر خواہش کی تعمیل کی بشارت و خوشخبری : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ اہل جنت کی ہر خواہش پوری ہوگی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو وہاں پر ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے، سو یہ جنت کی ایک امتیازی شان اور عظیم نعمت ہوگی۔ کہ اہل جنت کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ اور اس طرح کہ بغیر کسی محنت ومشقت، تگ ودو اور انقطاع و محرومی کے۔ سو یہ جنت کی وہ عظیم الشان اور منفرد نعمت ہے جو یہاں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی۔ پس متقی لوگوں نے اس دنیا میں جو رب چاہی زندگی گزاری ہوگی اس کا صلہ وبدلہ ان کو وہاں پر یہی ملے گا کہ وہاں پر یہ خوش نصیب من چاہی زندگی گزاریں گے۔ اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
نیک لوگوں کے لیے خوش خبری
تشریح : اللہ تعالیٰ کا یہ خاص طریقہ ہے کہ جہاں وہ دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ ہی جنت کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ یہاں ان آیات میں جنت کا ذکر ہے۔ جنت کی دو خاص صفتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک تو وہاں کے عیش و آرام ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ دوسرا ان سے انسان کبھی اکتائے گا نہیں۔ جیسا کہ دنیا میں دکھ اور سکھ ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ وہاں ایسا نہ ہوگا حدیث میں آتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ (ہمیشہ) عیش میں رہے گا، اسے کوئی رنج و تکلیف نہیں پہنچے گی۔ نہ اس کے کپڑے پرانے ہوں گے اور نہ اس کا ثبات فنا ہوگا۔ “ (صحیح مسلم)
ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–34
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
جہاں تک اپنی حفاظت اقتدار اور غلبے کا تعلق ہے جس کے خاطر یہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے سے نہیں چوکتے تو اس کی مثالیں سامنے ہیں کہ ان سے پہلی کافر قوموں نے بہت تدبیریں کی تھیں اور بڑے دنیاوی اسباب جمع کئے تھے مگر تقدیر باری کے سامنے پیش نہ گئی اللہ کریم نے انہیں ایسے برباد کیا کہ بنیادوں تک سے اکھیڑ دیا اور ان کی چھتیں انہی پر گر گئیں یعنی جو تدبیریں حفاظت کیلئے کی تھیں وہی تباہی کا باعث بن گئیں اور عذاب الہی نے ایسا پکڑا کہ وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مصیبت کدھر سے آرہی ہے یہ تو دنیا کا حال تھا اصل خرابی تو میدان حشر میں ہوگی جب انہیں تمام عالم کے روبرو رسوا کیا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ف 1 ظاہری سبب کے اعتبار سے عمل کو نجات یا جنت میں داخل ہونے کا سبب قرار دے دیا۔ ورنہ حقیقت میں داخل ہونے کا سبب تو اللہ کی رحمت اور اس کا فضل و کرم ہوگا۔ چناچہ ایک صحیح حدیث میں ہے۔ ” راست روی اور میانہ روی اختیار کرو اور یہ جان لو کہ تم میں سے کسی کا عمل اسنے جنت میں داخل نہ کرے گا۔ ” صحابہ نے عرض کی “ اور نہ آپ کا عمل آپ کو جنت میں داخل کرے گا ؟ فرمایا ” ہاں ! میرا عمل بھی نہیں الایہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے ڈھانپ لے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(16:31) جنت عدن۔ مضاف مضاف الیہ مل کر خبر جس کا مبتدا محذوف ہے ایھی جنت یا یہ مبتدا ہے جس کی خبر محذوف ہے ای لہم جنت۔ یا یہ مبتدا ہے اور یدخلونہا اس کی خبر ہے۔ اور جملہ تجری من تحتہا الانہر لہم فیھا ما یشاء ون حال ہے۔ جنت عدن ہمیشہ رہنے کے باغات ۔
فیھا کو ما یشاء ون کیا اشارہ ہے کہ تمام خواہشات کی تکمیل جنت میں ہوگی !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 34
خیر خیر، بھلائی، دارلاخرۃ آخرت کا گھر۔ نعم اچھا ، بہتر۔ عدن ہمیشہ۔ طیبین پاک صاف۔ امر حکم، فیصلہ۔ یظلمون وہ ظلم اور زیادتی کرتے ہیں۔ اصاب پہنچا۔ حاق گھیر لیا، پہنچ گیا۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 34
گزشتہ آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کفار و مشرکین سے کوئی اجنبی آدمی یہ سوال کرتا تھا کہ یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں اور جس قرآن کو وہ سناتے ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ جواب دیتے کہ قرآن کیا ہے (نعوذ باللہ) گذرے ہوئے لوگوں کے کچھ قصے کہانیاں ہیں جو اس کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔ قرآن کریم کی حقارت کے ساتھ ساتھ وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ایماندار لوگوں کا ذکر اور ان کی قبض روح کی قابل رشک کیفیت
ان آیتوں میں اللہ پاک نے متقی اور ایمان والوں کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے، تو جواب دیتے ہیں کہ نیک باتیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ جس نے بھلائی کی ہے اس کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور نیکی کا بدلہ دس سے سات سو یا اس سے بھی دوگنا جتنا خدا چاہے دے گا۔ پھر فرمایا کہ اس سے بہتر آخرت کا گھر ان کے واسطے تیار ہے۔ پھر فرمایا کہ متقیوں کا انجام کیا ہی اچھا ہے کہ وہ لوگ دنیا میں آخرت کی پونجی جمع کرتے ہیں اور آخرت کا گھر جس میں یہ لوتگ داخل ہوں گے اس میں ہر ہر موقع ومحل سے نہریں جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
[16] یعنی موت کے وقت تک کفر و شرک میں مبتلا رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(ف 2) موت کے فرشتے کئی ہیں جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے ملک الموت حضرت عزرائیل کا مخصوص نام ہے جو موت کے عملہ کا اعلی افسر ہے ۔
دنیا میں جس قدر حادثے ہوتے ہیں ان کے اسباب دو قسم کے ہیں ، ایک وہ جو مادی ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جن کا تعلق فوق العادۃ قوتوں اور طاقتوں سے ہوتا ہے ، یہ دوسری قسم کے اسباب ملائکہ ہیں ، جو مادی اسباب پر اثر انداز ہوتے ہیں ، چناچہ موت کے لئے کچھ اسباب ظاہری ہیں جنہیں امراض کہتے ہیں کچھ باطنی اسباب ہیں ، یہ فرشتے ہیں صوفیا کے نزدیک امراض ہی ملائکہ موت ہیں ۔
Read the full tafseer →31 ۔ وہ گھر دائمی اور سدا رہنے کے باغات ہیں جن میں متقی حضرات داخل ہوں گے ان باغوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ متقی جو چاہیں گے اور جس چیز کی خواہش کریں گے وہ ان کو وہاں میسر ہوگی اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں اور شرک سے بچنے والوں کو ایسا ہی عوض اور صلہ فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ف 4۔ حاصل آیت کا یہ ہوا کہ تم نے اپنے سے پہلے کافروں کا حال خسارہ و عذاب دنیا و آخرت سنا لیا، اسی طرح جو تدبیر ومکر دین حق کے مقابلہ میں تم کر رہے ہو اور خلق کو گمراہ کرنا چاہتے ہو یہی انجام تمہارا ہوگا۔
Read the full tafseer →تفسیر :
متقی لوگوں کے لئے باغات ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے :
37۔ اس موجودہ دنیا میں بھی گو لذتیں اور مسرتیں ہیں اگر یہ نہ ہوتیں تو آخرت کی لذتوں اور مسرتوں کا کچھ نام ہمارے سامنے نہ آتا جب ہی ان لذتوں اور مسرتوں کا نام ہمارے سامنے لیا جاتا ہے کہ ہم ان سے ایک حد تک واقف ہیں ، مگر ایک چیز یہاں بالکل میسر نہیں وہ کیا ہے ؟ وہ بقائے دوام ہے ، یہاں کی ہر لذت عارضی اور ہر مسرت آنی ہے ، یہاں خوشی کا کوئی ایسا ترانہ نہیں جس کے بعد غم وماتم کا نالہ نہ ہو ‘ یہاں ہر پھول کے ساتھ کانٹے ‘ ہر روشنی کے ساتھ تاریکی ‘ ہر وجود کے ساتھ فنا ‘ ہر سیری کے بعد بھوک ‘ ہر سیربی کے بعد پیاس اور ہر غنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–34
Commentary
It will be recalled that, after describing the blessings of Allah and proving that He was unique in the creation of the universe, the text made a pointed reference to how the polytheists chose to stick to their own ways of error. In the present verses, the text describes how they, not content with their own straying, tried that others should also go astray like them. The punishment they would get for doing that has also been stated here. Earlier to that (24), there is a question about the Qur’ an, and the addressees of the question, at this place, are the polytheists. It is their…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
28. This is the best blessing of Paradise. The dweller will get there whatever he will desire and wish and there will be nothing at all to offend him. This is the blessing that has never been attained even by the richest and the most powerful people in this world. On the contrary, every dweller of Paradise will enjoy this blessing to his fill because he will always have everything to his desire and liking, and will have each and every wish and desire fulfilled.
Read the full tafseer →