Explained with ayahs 126–128
قصاص اور حصول قصاص
قصاص میں اور حق کے حاصل کرنے میں برابری اور انصاف کا حکم ہو رہا ہے۔ امام ابن سیرین ؒ وغیرہ فرماتے ہیں اگر کوئی تم سے کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے اسی جیسی لے لو۔ ابن زید ؒ فرماتے ہیں کہ پہلے تو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔ جب ذرا حیثیت دار لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی طرف سے بدلے کی رخصت ہوجائے تو ہم بھی ان کتوں سے نبڑ لیا کریں اس پر یہ آیت اتری آخر یہ بھی جہاد سے منسوخ ہوگئی۔ حضرت عطا بن یسار ؒ فرماتے ہیں سورة نحل پوری مکہ شریف میں اتری ہے مگر اس کی تین آخری آیتیں مدینے شریف میں اتری ہیں۔ جب کہ جنگ احد میں حضرت حمزہ ؓ شہید کر دئے گئے اور آپ کے…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 124
یعنی جو خدا سے ڈر کر ہر قسم کے برے طریقوں سے پرہیز کرتے ہیں اور ہمیشہ نیک رویہ پر قائم رہتے ہیں۔ دوسرے ان کے ساتھ خواہ کتنی ہی برائی کریں، وہ ان کا جواب برائی سے نہیں بلکہ بھلائی ہی سے دیے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →آخری آیت میں پھر ایک عام قاعدہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد حاصل ہونے کے کا یہ بتلادیا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ
جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو دو صفتوں کے حامل ہوں ایک تقوی دوسرے احسان تقوی کا حاصل نیک عمل کرنا اور احسان کا مفہوم اس جگہ خلق خدا تعالیٰ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے یعنی جو لوگ شریعت کے تابع اعمال صالحہ کے پابند ہوں اور دوسروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتے ہوں حق تعالیٰ ان کے ساتھ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی معیت (نصرت) حاصل ہو اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔
وللہ الحمد اولا اخرا…
Read the full tafseer →نصرت کا وعدہ اور اسلام کے غلبہ کی بشارت : اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔ یہ نصرت کا وعدہ بالآخر اسلام کے اور مسلمانوں کے غلبہ کی بشارت ہے۔ فرمایا کہ اللہ اہل تقوی اور ان لوگوں کے ساتھ ہے جو خوب کار ہیں۔ " محسنون " یعنی جو اپنے رب کی بندگی اور اس کی عبادت و اطاعت اس طرح کر رہے ہیں گویا اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ فرمایا کہ انہی لوگوں کو اللہ کی معیت حاصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کی معیت انہی کو حاصل ہے تو لازماً انجام کار کی کامیابی بھی انہی کا حصہ ہے۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
127۔ 1 اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے مکروں کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ اور محسنین کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے اہل دنیا کی سازشیں نقصان نہیں پہنچا سکتیں، جیسا کہ ما بعد کی آیت میں ہے
Read the full tafseer →53: ”احسان“ بڑا عام لفظ ہے جس میں ہر طرح کے نیک کام داخل ہیں۔ اور ایک حدیث میں اس کی یہ تشریح فرمائی گئی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ جیسے وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہو، یا کم از کم اس تصور کے ساتھ کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ اللہم اجعلنا من المحسنین۔
Read the full tafseer →ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون (61 : 821) ” بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں “۔ جس کے ساتھ اللہ ہو ، تو اسے کوئی ڈر نہیں ہے۔ جو چاہے اس کے خلاف سازش کرے اور اس کے خلاف تدابیر کرے ، اللہ بہرحال اپنے نیک بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
یہ ہے دعوت اسلامی کا دستور العمل اسے خود باری تعالیٰ نے وضع کیا ہے۔ اگر داعی اس پر چلے تو کامیابی یقینی ہے۔ یہ اللہ کا فرمان ہے اور اللہ سے زیادہ سچی بات کون کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →10 یعنی انسان جس قدر خدا سے ڈر کر تقویٰ ، پرہیزگاری اور نیکی اختیار کرے گا، اسی قدر خدا کی امدادو اعانت اس کے ساتھ ہوگی۔ سو ایسے لوگوں کو کفار کے مکرو فریب سے تنگ دل اور غمگین ہونے کی کوئی وجہ نہیں حق تعالیٰ اس عاجز ضعیف کو بھی متقین و محسنین کے ساتھ اپنے فضل و رحمت سے محشور فرمائے۔ تم سورة النحل بعونہ و توفیقہ وللہ الحمد۔
Read the full tafseer →آیت 128 اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ
جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہوئے درجۂ احسان پر فائز ہوگئے ہیں اللہ کی معیت نصرت اور تائید ان کے شامل حال رہے گی۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہوگا تو یہ مشرکین آپ کو کچھ گزند نہیں پہنچا سکتے۔
کیا ڈر ہے اگر ساری خدائی ہے مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے !
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالایات والذِّکر الحکیم
Read the full tafseer →131 اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو بھی وہ نیکی کے کام کرتے ہیں۔ اسے بہتر سے بہتر طریقہ سے سرانجام دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →194۔ (پھر آپ تو تقوی و احسان دونوں کے اعلی ترین مرتبہ پر ہیں، آپ کو تو اللہ کی محبت سب سے بڑھ کر حاصل رہے گی) (آیت) ” مع الذین “۔ الخ حق تعالیٰ کی یہ معیت متقین کے ساتھ اس معنی میں ہوتی ہے کہ وہ انہیں گناہوں سے بچاتا رہتا اور طاعتوں کی توفیق دیتا رہتا ہے، اور اپنی رحمت وفضل سے انہیں گھیرے رہتا ہے، ومعیۃ نصرتہ فی المامور وعصمۃ فی المحظور (مدارک) اے بالعون والنصرۃ (معالم) معیتہ بالرحمۃ والفضل اشارۃ الی التعظیم لامر اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” الذین ھم محسنون “ یہ وہ لوگ ہیں، جو خلق کے ساتھ بہترین سلوک سے پیش آتے رہتے ہیں، اس میں مخلوق الہی کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت کی جانب اشارہ ہوگیا، اشارۃ الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
آیت نمبر 120 تا 128
ترجمہ : بیشک ابراہیم (علیہ السلام) امام، پیشوا تھے کہ جو تمام اچھی خصلتوں کے جامع تھے اللہ کے فرمانبردار دین قیم کی طرف رخ کرنے والے تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گذار تھے اللہ نے ان کو برگزیدہ بنایا تھا اور انھیں راہ راست سمجھا دی تھی، اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور ہر مذہب (وملت) کے لوگوں میں ان کا ذکر جمیل ہے، اس میں غیبت سے (تکلم) کی جانب التفات ہے اور وہ آخرت میں بھی نیکوں کاروں میں ہوں گے ایسے لوگوں میں کہ ان کے لئے بلند درجات ہوں گے پھر اے محمد ﷺ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پر وی کریں اور ابراہیم…
Read the full tafseer →ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ہم محسنون اللہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو (گناہوں سے) بچتے ہیں اور ان کے ساتھ ہوتا ہے جو نیک کردار ہوتے ہیں۔
اتَّقُوْا یعنی گناہوں سے پرہیز رکھتے ہیں۔ مُحْسِنُوْنَ یعنی نیک کردار ہیں۔ یا اتَّقُوْا سے مراد ہیں وہ لوگ جو اللہ کے حکم کی تعظیم کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور مُحْسِنُوْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جو مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ یا اتَّقُوْا سے مراد ہیں وہ لوگ جو بدلہ لینے میں زیادتی کرنے سے بچتے ہیں اور مُحْسِنُوْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جو دوسروں کو معاف کرتے ہیں۔
ا اللہ کے ساتھ ہونے سے مراد ہے : اللہ کی رفاقت ‘ دوستی ‘ مہربانی اور مدد و نصرت کا ساتھ…
Read the full tafseer →(128) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والے ہوتے ہیں اور جو کہ قول و عمل ہر ایک اعتبار سے موحد ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔۔ : یعنی دل تنگ وہ ہو جس کا کوئی ساتھی و مددگار نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر متقی اور محسن کا ساتھی اور مددگار ہے اور آپ اللہ کے فضل سے تمام متقی اور محسن لوگوں کے سردار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ) [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة بني إسرائیل : 3148، و صححہ الألباني ] ”میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔“ پھر آپ دل تنگ کیوں ہوں ؟ احسان کی تفصیل کے دیکھیے سورة نحل کی آیت (90) ، احسان کا مقام تقویٰ سے اونچا ہے۔
معیت (ساتھ) دو قسم کی ہے، ایک معیت عامہ، یہ ہر شخص بلکہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
آیت نمبر 127 تا 128
اس میں ایک مسئلہ ہے :
مسئلہ نمبر 1: ابن زید نے کہا ہے : یہ آیت آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے۔ اور جمہور لوگ اس پر ہیں کہ یہ محکم ہے، یعنی آپ اس کی مثل سزا دینے سے عفو و درگزر کے ساتھ صبر کیجئے جیسی انہوں نے مثلہ وغیرہ کے ساتھ سزا دی۔ ولا تحزن علیھم یعنی آپ شہدائے احد پر رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں پہنچ چکے ہیں۔ ولاتک فی ضیق، ضیق ضیقۃ کی جمع ہے، جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
کشف الضیقۃ عنا وفسح
(اس نے ہم سے تنگی دور کردی اور وسعت و خوشحالی عطا کردی)
اور جمہور کی قرأت ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہے، ابن کثیر نے ضاد کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور اسے نافع سے روایت کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
1:۔ ترمذی (ترمذی نے تحسین بھی کی ہے) عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں نسائی ابن منذر ابن ابی حاتم ابن حبان ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے دلائل میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ احد کی جنگ میں 64 انصار اور چھ مہاجر شہید ہوئے مہاجرین شہداء میں حضرت حمزہ بھی شامل تھے ان سب کو کافروں نے مثلہ کردیا تھا (یعنی شہیدوں کے ناک کان بھی کاٹ لئے تھے) انصار نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر ہم کو غلبہ دیا تو ہم بھی ان سے بڑھ کر مثلہ کریں گے کچھ مدت کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیرللصبرین “ (اس آیت کے نازل ہونے…
Read the full tafseer →[ان : بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا : ان کے ساتھ ہے جنھوں نے ] [ وَّالَّذِينَ : اور ان کے ساتھ ہے جو کہ ] [ هُمْ : وہ ہی ] [ مُّحْسِنُوْنَ : خوب کار ہیں ]
Read the full tafseer →(اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اچھے کام کرتے ہیں) جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو تقویٰ اور احسان کی صفت سے نواز دیا تو اس کے ساتھ یہ بھی سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہوگی دشمن اپنی تدبیر میں کامیاب نہ ہوں گے چناچہ الحمد للہ ایسا ہی ہوا کہ کافر اپنی تدبیریں کرتے رہے اور اسلام آگے بڑھتا گیا۔
فالحمد للّٰہ علی انعامہ واحسانہ ولقدتم تفسیر سورة النحل بفضل اللّٰہ تعالیٰ وحولہ وقوتہ فی اللیلۃ العشرین من جمادی الاولی سنۃ 1414 ھ والحمد للّٰہ اولاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
آداب دعوت و تبلیغ
قال اللہ تعالیٰ : ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ .... الیٰ .... والذین ہم محسنون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ملت ابراہیمی کے اتباع کا حکم تھا اور اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت ملت ابراہیمی کا مقصود اصل اور اولیٰ تھا۔ اب ان آیات میں دعوت اسلام اور تبلیغ کے آداب بتلاتے ہیں کہ وعظ و نصیحت اور تبلیغ و دعوت میں کن امور کو ملحوظ رکھنا چاہئے یعنی حکمت اور موعظت اور مجادلہ حسنہ کو ملحوظ رکھیں اور اگر کفار کی طرف سے کوئی اذیت اور تکلیف پہنچے تو اگرچہ انتقام جائز ہے لیکن اگر صبر اور تقویٰ سے کام لیں تو بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے متقین اور محسنین سے اپنی معیت خاصہ کا وعدہ فرمایا ہے اور صبر اور تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
104:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تین طرح سے تسلی ہے۔ یعنی آپ صبر سے کام لیں اور مشرکین کے ایمان نہ لانے اور ان کے ضد وعناد پر ڈٹے رہنے سے آپ غمین اور دل برداشتہ نہ ہوں اور نہ ان کے مکر و فریب سے پریشان ہوں ” ان اللہ مع الذین اتقوا الخ “ جملہ ماقبل کے لیے تعلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان لوگوں کا ساتھ دیتا اور ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو تمام برائیوں سے اجتناب کریں اور اعمال صالحہ بجا لائیں یا محسنین سے مخلصین مراد ہے یعنی ان کا ہر کام اخلاص نیت سے ہو اور ان کی زندگی کی تمام تگ و دو محض رضائے الٰہی کے لیے ہو۔ ای ھو و لی الذین اجتنبوا السیئات و ولی العاملین بالطاعات قیل من اتقی فی افعالہ واحسن فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
(زمانہ نزول)
سورة النحل کی ان آخری تین آیات کے زمانہ نزول کے متعلق مفسرین کی دو رائیں ہیں ، امام ابوحنیفہ (رح) کے استاد ، مکہ کے استاد الحدیث حضرت عطاء (رح) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة ہذا کی ان تین آیات کے سوا باقی ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی جب کہ یہ آیات مدنی زندگی میں نازل ہوئیں اور ان کا زمانہ نزول فتح مکہ کے قریب ہے ، دوسری روایت یہ ہے کہ یہ ساری کی ساری سورة مکی ہے اور ان آیات میں بیان کردہ انتقامی کاروائی کا قانون غزوہ احد کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہر مکان وزمان کے لیے نافذ العمل ہے ، اس لحاظ سے غزوہ احد کے موقع پر پیش آمدہ حالات پر بھی اس قانون کا اطلاق ہوتا ہے ۔
(شان…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ 128ۧ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
وقی
الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
جب آنحضرت ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کی مسند نبوت پر بیٹھے اور ان سے بھی بڑھ گئے تو ان کو حج کے لیے لوگوں میں منادی کا حکم ہوا تھا واذن فی الناس بالحج تو آپ کو تمام عالم کی دعوت کا حکم ہوا کہ سب کو راہ راست کی طرف بلائیں فقال ادع الی سبیل ربک مگر دنیا میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ اول اعلیٰ درجہ کے حکماؤ کملاء جن کا مقصود اصلی یقینات کا دلائلِ قطعیہ سے حاصل کرنا ہے سو ان کی دعوت بالحکمہ ہوتی ہے دلائلِ قطیعہ یقینیہ کے ساتھ ان کے دل میں عقائد و اعمال صالحہ کی رغبت پیدا کرنا۔ اب یہ کچھ ضرور نہیں کہ یہ دلائل قواعد منطقیہ پر مبنی ہوں یا نہ ہوں بلکہ ان کے فہم و استعداد کے موافق، دوم اوسط درجہ کے لوگ ان کے…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 128)
(بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا اور جو نیک کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔ )
غلبے کی نوید
مسلمانوں کو عموماً اور داعیانِ حق کو خصوصاً اس بات کو اپنے دل میں بٹھا لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی معیت اور اس کی توفیق ان لوگوں کو میسر آتی ہے جو اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ پیدا کرتے ہیں، یعنی جن کے دلوں کا میلان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف ہوتا ہے جن کے دل ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے سرشار رہتے ہیں۔ ان کا ہر قدم نیکی کی طرف اٹھتا ہے اور ہر فیصلہ کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
فہم القرآن
ربط کلام : مبلغ کو ہر حال میں حکمت اور حوصلہ سے کام لینا چاہیے اگر وہ انتہائی ظلم پر صبر و حوصلہ نہیں کرسکتا تو اسے ظلم سے بڑھ کر بدلہ لینے کی اجازت نہیں۔
مفسرین کا خیال ہے سورة النحل کی آخری تین آیات مدنی دور میں نازل ہوئیں جبکہ باقی پوری کی پوری سورة مکی دور میں نازل ہوئی تھی۔ آخری آیات کا شان نزول بیان کرتے ہوئے حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ احد کے موقع پر انصار کے چونسٹھ اور مہاجرین کے چھ آدمی شہید ہوئے تھے۔ ان میں سید الشّہداء حضرت حمزہ ؓ بھی شہید ہوئے تھے۔ جن کے جسد اطہر کی بےحرمتی کرتے ہوئے کفار نے ان کے کان، ہونٹ، ناک کاٹنے کے ساتھ آنکھیں نکال دیں جس پر مسلمانوں نے ردّ…
Read the full tafseer →متقی اللہ کی معیت میں :
128: اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ (اللہ تعالیٰ بیشک ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو گناہوں سے بچتے اور جو نیک کردار ہوتے ہیں) یعنی وہ انکا دوست ہے جو برائیوں سے پرہیز کرنے والے ہیں۔ اور ان لوگوں کا جو طاعات پر عمل پیرا ہوں۔ کہا گیا۔ من اتقی فی افعالہ، احسن فی اعمالہ کان اللّٰہ معہ فی احوالہ جو شخص اعمال میں حسن، افعال میں تقویٰ پیدا کرلے اللہ تعالیٰ کی بےکیف معیت اس کے ساتھ ہے۔
معیت کا مطلب : مامورات میں اس کی نصرت اور مخطورات میں اس کی عصمت۔
وفقنا اللّٰہ بعونہ العصمۃ من المحظورات والنصرۃ فی المامورات و المعیۃ فی جمیع الحالات…
Read the full tafseer →(128)” ان اللہ مع الذین اتقو ا “ جن سے منع کیا گیا ۔ ” والذین ھم محسنون “ اللہ کی مدد نصرف کا ساتھ ہونا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
127۔ 128۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے مومنوں کو خطاب کیا تھا کہ جب کوئی تم پر ظلم کرے اور تم کسی وقت اس پر قابو پا کر بدلہ لینا چاہو تو اسی قدر بدلہ لو جتنا اس نے ظلم کیا تھا ایسا نہ ہو کہ اس سے تجاوز کرو بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ صبر کرو اس آیت میں خاص کر سرور کائنات حضرت رسول مقبول ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ صبر اختیار کریں اور اس کی تاکید فرمائی اور اس بات کی خبر دی کہ خداوند جل جلالہ کی مدد کے بغیر صبر ہاتھ نہیں آتا آپ اگر صبر کریں گے تو خدا ہی کی مدد سے کرسکیں گے اور پھر آپ کو اس بات سے منع فرمایا کہ جو شخص آپ کے خلاف کرے تو اس سے رنجیدہ ہوجاویں کیونکہ یہ بھی خدا ہی کی طرف سے مقدر ہوچکا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
آیت : (126-128)
اللہ تبارک و تعالیٰ عدل کو مباح کرتے ہوئے فضل اور احسان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (وان عاقبتم) ” اور اگر تم بدلہ لو “ اگر تم اس شخص کا مواخذہ کرنا چاہو جس نے تمہیں قول و فعل کے ذریعے سے برے سلوک کا نشانہ بنایا ہے (فعاقبوابمثل ما عوقبتم بہ) ” تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کہ تم کو تکلیف پہنچائی گئی “ یعنی تمہارے ساتھ جو معاملہ کیا گیا ہے ‘ بدلہ لیتے وقت تمہاری طرف سے اس میں زیادتی نہ ہو۔ (ولئن صبرتم) ” اور اگر تم صبر کرلو “ یعنی دلہ نہ لو اور ان کا جرم معاف کردو تو (لھو خیر اللصبرین) ” وہ صبر کنے والوں کے لئے بہتر ہے۔ “ یعنی یہ بدلہ لینے سے بہتر ہے اور جو اجر وثواب اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
ظلم و زیادتی کا بدلہ کتنا لیا جائے ؟
قول باری ہے (وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتھم لھو خیر للصابرین اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے) شعبی، قتادہ اور عطاء بن یسار سے مروی ہے رجب مشرکین نے احد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کا مثلہ کیا تو مسلمانوں نے یہ کہا اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ان مشرکین پر غلبہ عطا کرے گا تو ہم اس سے بڑھ کر ان کا مثلہ کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مجاہد اور ابن سیرین کا قول ہے کہ آیت ہر اس شخص کے بارے میں ہے جو غصے کی حالت میں یا کسی اور…
Read the full tafseer →272۔ معیت خداوندی کا مژدہ جانفزاء اور اس سے سرفرازی کا ذریعہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ ساتھ ہے ان لوگوں کے جو تقوی اور احسان کا اپنائے ہوئے ہیں اور وہ نیکوکار ہیں۔ یعنی معیت خاصہ جو کہ عبارت ہے اس قادر مطلق کی نصرت و امداد سے۔ ورنہ معیت عامہ جو کہ عبارت ہے اس کے علم اور قدرت سے وہ تو اس خالق ومالک مطلق کی ہر کسی کو حاصل ہے۔ کہ کوئی بھی چیز نہ اس کے علم سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ قدرت سے سبحانہ وتعالیٰ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (وھو معکم اینماکنتم ) ۔ اور اس معیت خاصہ اور نصرت خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ تقوی وپر ہیزگاری اور صت احسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
یہود کا انجام، اصلاح و تبلیغ کا بہترین طریقہ
تشریح : یہاں سب سے پہلے یہود کا ذکر کیا گیا ہے وہ بھی دین ابراہیمی ہی کے تابع کہلاتے تھے، حالانکہ وہ ایسے نہ تھے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خاصیت ہی یہ تھی کہ وہ ایک ہی طرف کے چلنے والے تھے، یعنی صرف اور صرف اللہ کی وحدانیت کو ماننے والے پکے مسلم (فرمانبردار) تھے جبکہ یہود تو انتہائی ضدی اور نافرمان قوم تھی۔ ان کو فرمانبرداری سکھانے کے لیے ہفتے کا دن مقدس دن مقرر کیا گیا مگر وہ دو فرقوں میں بٹ گئے کچھ نے مانا اور کچھ نے نہ مانا۔ نہ ماننے والوں کو دنیاوی عذاب کی صورت میں سور اور بندر بنا دیا گیا اور آخرت کا عذاب تو خیر ان کو ضرور ہی ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
(رکوع نمبر 16)
اسرارومعارف
مشرکین عرب ہوں یا یہود ونصاری ان کا خود کو ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع قرار دینا اور ان عقائد و اعمال کے ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ تو بلاشبہ ایک بہت عظیم پیشوا اور اللہ کریم کے اطاعت گذار بندے تھے ان کا تو کوئی عقیدہ یا عمل خود ساختہ نہ تھا جبکہ تمہارا سارا مذہب ایجاد بندہ ہے اور وہ تو ہرگز شرک نہیں کرتے تھے جس پر تمہارے مذاہب کی بنیاد ہے نیز وہ اللہ کے انعامات پر اس کا شکر ادا کرنے والے تھے اور اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے ، کہ ساری عمر معاشرے حکومت اور ہر طاغوت سے ٹکر لی مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت کا دامن نہ چھوڑا ، اولاد وازواج اور گھر بار کی محبت انہیں اللہ…
Read the full tafseer →ف 10 خلق خدا کے ساتھ نیکی کرتے ہیں دوسرے خواہ ان سے کتنا ہی برا رویہ اختیار کریں وہ جواب ہمیشہ بھلائی سے دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(16:128) محسنون۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ محسن واحد۔ نیکو کار۔ بھلائی کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
لغات القرآن آیت نمبر 125 تا 128
ادع بلا، پکارا۔ سبیل راستہ۔ الحکمۃ سمجھ، دانئای۔ الموعظۃ نصیحت۔ جادل بحث کرو۔ احسن زیادہ بہتر ہے ۔ اعلم بہت زیادہ جانتا ہے ۔ ضل بھٹک گیا۔ عاقبتم تم نے بدلہ لیا۔ غو قبتم تمہیں تکلیف دی گئی۔ لاتخزن رنجیدہ نہ ہو۔ ضیق دل میں تنگی محسوس کرنا۔ یمکرون وہ مکرو فریب کر رہے ہیں۔
محسنون نیکی کرنے والے۔
تشریح آیت نمبر 125 تا 128
سورۃ النحل میں بہت سے بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گی ہے۔ اس سورت کو جن آیات پر ختم فرمایا گیا ہے اس میں اس بات کی نصیحت کی جا رہی ہے کہ کائنات کی سچائیاں وہی ہیں جو اس سورت میں اور اس سے پہلی سورتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ ان کو سمجھانا اور ہر شخص کے دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
صبر کا ذکر : اس آیت میں خاص کر آنحضرت ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ صبر اختیار کریں اور اس کی تاکید فرمائی اور اس بات کی خبر دی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر صبر ہاتھ نہیں آتا۔ آپ اگر صبر کریں گے تو خدا ہی کی مدد سے کریں گے اور پھر آپ کو اس بات سے منع فرمایا کہ جو شخص آپ کے خلاف کرے تو اس سے رنجیدہ نہ ہوجاویں۔ کیونکہ یہ بھی خدا ہی کی طرف سے مقرر ہوچکا تھا جو کچھ احد کی لڑائی میں ہوا اور پھر کفار کے مکروفریب کرنے سے غمگین ہونے کو منع فرمایا کہ اگر یہ مکروفریب کرتے ہیں تو کرنے دو خدا تو تمہارے ساتھ ہے، ان کے مکروفریب سے تمہیں کیا نقصان ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :" تکلیف کے وقت جو شخص صبر کرتا ہے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
[73] اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعوت حق کا طریقہ حکمت و دانائی اور موعظہ حسنہ کا طریقہ ہے اور بحث و نزاع کی اجازت صرف اس صورت میں ہے جو احسن طریقے پر ہو۔ احسن طریقے سے مراد یہ ہے کہ ایسا اسلوب، ایسا لب و لہجہ اور اس طرح کے الفاظ اختیار نہ کئے جائیں جو مخالف کے دل کو دکھ پہنچانے والے ہوں یا اسے سننے والوں کی نظر میں ذلیل و رسوا کرنے والے ہوں۔ کیونکہ اگر بحث سے مقصود دعوت حق ہے تو مخاطب کے دل کو نرمی و محبت سے حق کی طرف متوجہ کرنا چاہئے نہ یہ کہ صدمہ پہنچانا، ضد میں لانا اور جوش نفرت سے بھر دینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
(ف 2) اس میں حضور ﷺ کی شفقت وہمدردی کا ذکر ہے ، اور آپ سے کہا گیا ہے کہ ان کی بدبختی پر غم نہ کھاؤ ، جی تھوڑا نہ کرو ، ان کو آزاد چھوڑ دو یہ تمام باطل تدبیروں کو آزما دیکھیں تمہارے خلاف سازشیں کرلیں اللہ انہیں ناکام رکھے گا اور یہ اپنے مقصد میں ذلیل و خوار ہوں گے ۔
Read the full tafseer →128 ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کی معیت ، حمایت اور مدد ان کو میسر ہوتی ہے جو پرہیز گار اور تقوے کے پابند ہوتے ہیں اور جو لوگ نیک کردار اور نیکی کرنے والے ہوتے ہیں ۔ یعنی اہل تقویٰ جو برائی کا بدلہ لینے سے بچتے ہیں اور اہل احسان کو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور معیت حاصل ہوتی ہے۔
الحمد للہ ! سورة نحل کی تیسیر آج 10 ربیع الثانی 1372ھ بمطابق 28 دسمبر 1952ء اتوار کے دن عشاء اور صبح کے مابین پوری ہوئی۔.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
ف 3۔ اس لیے آپ تسلی رکھیں کہ صبر میں آپ کو دشواری نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →نیک عملی میں سرگرم رہنے والوں کا اللہ مددگار ہوتا ہے :
(142) ۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو آخری ہدایت اس سورت میں دی جارہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! اللہ تعالیٰ کی مدد ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو دو صفتوں کے حامل ہوں ایک تقوی اور دوسرے احسان ۔ تقوی کا حاصل نیک عمل کرنا اور احسان کا مفہوم اس جگہ خلق خدا کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے یعنی جو لوگ شریعت کے تابع ہوں اور اعمال صالح کے پابند ہوں اور دوسروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتے ہوں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ کی معیت اور نصرت حاصل ہو اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے ؟ اختصار کے ساتھ زیر نظر آیت میں یہ بات کہی گئی…
Read the full tafseer →After that, once again in the last verse (128), a universal formula of having the help of Allah Ta’ ala by one's side was announced. It is:
إِنَّ اللَّـهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ
Surely, Allah is with those who fear Him and those who are good in deeds.
The essence of this formula is that the help of Allah Ta’ ala is with people who have two virtues: Taqwa and Ihsan. The essence of Taqwa is acting righteously or being good in deed while the sense of Ihsan at this place is to be good to those created by Allah Ta’ ala, that is, those who are duty-bound to do…
Read the full tafseer →124.“Allah is with those who fear Him”because they scrupulously refrain from evil ways and always adopt the righteous attitude, for they know that their actions and deeds are not determined by the evils others do to them but by their own sense of righteousness; so they return good for evil.
Read the full tafseer →