سرگزشت معراج کا تسلسل
پس آپ نے نہ تو صخرہ کی ایسی تعظیم کی جیسے یہود کرتے تھے کہ نماز بھی اسی کے پیچھے پڑھتے تھے بلکہ اسی کو قبلہ بنا رکھا تھا۔ چونکہ حضرت کعب رحمۃ اللہ عیہ بھی اسلام سے پہلے یہودی تھے اسی لئے آپ نے ایسی رائے پیش کی تھی جسے خلیفۃ المسلمین نے ٹھکرا دیا اور نہ آپ نے نصرانیوں کی طرح صخرہ کی اہانت کی کہ انہوں نے تو اسے کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ بنا رکھا۔ بلکہ آپ نے خود اس کے آس پاس سے کوڑا اٹھا کر پھینکا یہ بالکل اس حدیث کے مشابہ ہے جس میں ہے کہ نہ تو قبروں پر بیٹھو نہ ان کی طرف نماز ادا کرو۔ ایک طویل روایت معراج کی بابت ابوہریرہ ؓ سے غرب والی بھی مروی ہے، اس میں ہے کہ جبرائیل اور…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 1
یہ وہی واقعہ ہے جو اصطاحا ”معراج“ اور ”اسراء“ کے نام سے مشہور ہے۔ اکثر اور معتبر روایات کی رو سے یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بکثرت صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ہیں جن کی تعداد 25 تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے مفصل ترین روایت حضرت انس بن مالک، حضرت مالک بن صعصعہ، حضرت ابوذر غفاری اور حضرت ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ہیں۔ ان کے علاوہ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابو سعید خدری، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت عائشہ اور متعدد دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے بھی اس کے بعض…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
وہ ذات پاک ہے جو اپنے بندہ (محمد ﷺ کو شب کے وقت مسجد حرام (یعنی مسجد کعبہ) سے مسجداقصی (یعنی بیت المقدس) تک جس کے آس پاس (کہ ملک شام ہے) ہم نے (دینی اور دنیوی) برکتیں کر رکھی ہیں (دینی برکت یہ ہے کہ وہاں بکثرت انبیاء (علیہم السلام) مدفون ہیں اور دنیوی برکت یہ ہے کہ وہاں باغات اور نہروں چشموں اور پیداوار کی کثرت ہے غرض اس مسجد اقصی تک عجیب طور پر اس واسطے) لے گیا تاکہ ہم ان کو اپنے کچھ عجائبات قدرت دکھلا دیں (جن میں بعض تو خود وہاں کے متعلق ہیں مثلا اتنی بڑی مسافت کو بہت تھوڑے سے وقت میں طے کرلینا اور سب انبیاء (علیہم السلام) سے ملاقات کرنا اور ان کی باتیں سننا وغیرہ اور بعض آگے کے…
Read the full tafseer →سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۔
سُبْحٰنَ تنزیہہ کا کلمہ ہے : سُبْحٰنَ ، جیسا کہ متعدد مواقع میں تصریح ہوچکی ہے، تنزیہہ کا کلمہ ہے۔ یعنی اللہ کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک و منزہ ہے۔ اس کلمہ سے کلام کا آغاز اس موقع پر کیا جاتا ہے جہاں مقصود خدا کے باب میں کسی سوئے ظن یا غلط فہمی کو رفع کرنا ہو۔ یہاں واقعہ معراج کی تمہید اس لفظ سے اس لیے اٹھائی ہے کہ یہ واقعہ بھی خدا کے باب میں یہود اور مشرکین کے ایک بہت بڑے سوء ظن کو رفع کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یہ سورت مکی ہے۔ اسے سورت الاسراء بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ اس میں نبی ﷺ کے اسراء (رات کو مسجد اقصیٰ لے جانے) کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ مرفوعا حدیث فرماتے ہیں کہ سورة کہف، مریم اور بنی اسرائیل یہ عتاق اول میں سے ہیں اور میرے تلاد میں سے ہیں، تلاد قدیم مال کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورتیں ان قدیم سورتوں میں سے ہیں جو مکہ میں اول اول نازل ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ ہر رات کو بنی اسرائیل اور سورة زمر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد جلد 6، ص 48،۔
1۔ 1 سُبْحَا نَ عام طور پر اس کا استعمال ایسے موقع پر ہوتا ہے جب کسی عظیم الشان واقعے کا ذکر ہو۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: اس سے معراج کے واقعے کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور رات کے وقت انہیں ایک جانور پر سوار کیا جس کا نام براق تھا، وہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ آپ کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک لے گیا، یہ سفر معراج کا پہلا مرحلہ تھا، جسے اسراء کہا جاتا ہے، پھر وہاں سے حضرت جبریئل ؑ آپ کو ساتوں آسمانوں پر لے گئے، ہر آسمان پر آپ کی ملاقات پچھلے پیغمبروں میں کسی پیغمبر سے ہوئی، اس کے بعد جنت کے ایک درخت سدرۃ المنتہی پر تشریف لے گئے، اور آپ کو اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہم کلامی کا شرف عطا ہوا، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ…
Read the full tafseer →سورت کا آغاز تسبیح سے ہوتا ہے ، چونکہ مقام ایسا ہے جہاں بندے اور رب کی ملاقات ہور ہی ہے ، اس لئے ایسی فضا اور ایسے حالات میں تسبیح و تحلیل ایک مناسب فعل ہے اور حضرت محمد ﷺ کی صفت عبدیت کو یہاں خصوصیات کے ساتھ اس لئے بیان کیا گیا کہ اس قدر عروج اور بلندی درجات حضور اکرم ﷺ اللہ کے بندے ہی ہیں۔ دوسرے غلط مذاہب کی طرح مقام عبودیت اور مقام الوہیت کو ایک کرنے کے بجائے اس کو ممتاز رکھنا چاہیے۔ ان دونوں کا امتزاج ممکن نہیں۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آپ کی ذات میں الوہیت کو جمع کیا گیا۔ یہ محض اس لئے کیا گیا کہ آپ کی ولادت معجزانہ تھی ، آپ سے معجزات کا صدور ہوا اور پھر آپ کو اس دنیا سے…
Read the full tafseer →1 یعنی اس کی ذات نقص و قصور اور ہر قسم کے ضعف و عجز سے پاک ہے جو بات ہمارے خیال میں بےانتہا عجیب معلوم ہو اور ہماری ناقص عقلیں اسے بیحد مستبعد سمجھیں، خدا کی قدرت و مشیت کے سامنے وہ کچھ بھی مشکل نہیں۔
2 یعنی صرف ایک رات کے محدود حصہ میں اپنے مخصوص ترین اور مقرب ترین بندہ (محمد رسول اللہ ﷺ کو حرم مکہ سے بیت المقدس تک لے گیا۔ اس سفر کی غرض کیا تھی ؟ آگے لِنُرِیَہ مِنْ اٰیتِنَا میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ خود اس سفر میں یا " بیت المقدس " سے آگے کہیں اور لیجا کر اپنی قدرت کے عظیم الشان نشان اور حکیمانہ انتظامات کے عجیب و غریب نمونے دکھلانے منظور تھے۔ سورة نجم میں ان آیات کا کچھ…
Read the full tafseer →آیت 1 سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا
یہ رسول اللہ کے سفر معراج کے پہلے مرحلے کی طرف اشارہ ہے جو مسجد حرام مکہ مکرمہ سے مسجد اقصیٰ بیت المقدس تک کے زمینی سفر پر مشتمل تھا۔ ”سُبْحٰن“ تنزیہہ کا کلمہ ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک و منزہ ہے۔ اس کلمہ سے بات کا آغاز کرنا خود دلالت کرتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارق عادت واقعہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے رونما ہوا۔ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا ‘ بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم کو کرایا۔
الَّذِيْ بٰرَكْنَا…
Read the full tafseer →1 واقعہ معراج کے جسمانی ہونے کے دلائل :۔ یہ واقعہ ہجرت نبوی سے تقریباً ایک سال پہلے پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کے دو حصے ہیں۔ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کو اسرائ کہا جاتا ہے اور قرآن میں صرف واقعہ اسراء کا ہی ذکر ہے۔ دوسرا حصہ مسجد اقصیٰ سے آسمانوں کی سیاحت اور واپسی ہے اسے معراج کہا جاتا ہے اور واقعہ معراج بہت سی احادیث میں مذکور ہے حتیٰ کہ واقعہ کے راوی صحابہ کی تعداد پچیس سے زائد ہی ہے کم نہیں۔
جمہور امت کا قول یہ ہے کہ یہ سفر جسمانی تھا۔ محض روحانی (جیسے خواب میں ہوتا ہے) یا کشفی قسم کا نہ تھا۔ تاہم بعض لوگ اسے روحانی بھی سمجھتے ہیں اور منکرین حدیث تو واقعہ معراج کا انکار ہی کردیتے…
Read the full tafseer →1۔ (اور اپنے اس برگزیدہ بندہ کو اس عجیب اور انوکھی سرفرازی سے نوازدیا) سبحن وہ ذات ہر نقص اور کمی سے پاک، ہر عجز سے منزہ، ہر قید اور حد بندی سے بالاتر ہے، تسبیح کا لفظ لایا ہی ایسے موقع پر جاتا ہے جہاں کسی امر اہم وعظیم الشان کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ فالتسبیح انما یکون عند الامور العظام (ابن کثیر) (آیت) ” لیلا “۔ یعنی رات کے ایک حصہ میں، ایک ہی رات کے تھوڑے سے وقت میں، (آیت) ” اسری “۔ کے معنی میں تو خود ہی رات کا سفر داخل ہے السری سیر اللیل (راغب) لفظ (آیت) ” لیلا “۔ بہ صیغہ نکرہ کے اضافہ سے یہ تاکید وتصریح مقصود ہے کہ اتنا بڑا سفر جو عادۃ کئی کئی ہفتہ میں یا 40 دن کی مدت میں ممکن تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیات نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے محمد ﷺ کو لیلاً ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اسراء رات کے سفر کو کہتے ہیں، اور لَیْل کو ذکر کرنے کا فائدہ لیل کی تنکیر سے مدت سیر کی قلت کی طرف اشارہ ہے مسجد حرام یعنی مکہ سے مسجد اقصیٰ (یعنی) بیت المقدس تک (بیت المقدس کا نام مسجد اقصی) اس کے مسجد حرام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے جس کے اطراف میں ہم نے پھلوں اور نہروں کے ذریعہ برکت رکھی ہے تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سے واقف…
Read the full tafseer →سُبْحٰنَ :. پاک ہے ( یا میں اللہ کی پاکی کا اقرار کرتا ہوں یا اللہ کے پاک ہونے کا تم اقرار کرو) وہ جو رات کو لے گیا اپنے (خاص) بندے (یعنی محمد ﷺ کو حرمت والی مسجد (یعنی کعبہ) سے مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس تک وہ جس کے ماحول کو ہم نے برکت والا بنا دیا ہے تاکہ ہم اس بندہ کو اپنی قدرت کی کچھ عجیب نشانیاں دکھا دیں بیشک اللہ (نبی کی دعا اور کلام کو) خوب سننے والا اور (آپ کے احوال وافعال کو) خوب دیکھنے والا ہے
سُبْحٰنَ اصل میں اسم مصدر ہے بمعنی تسبیح کے تسبیح کا معنی ہے پاک جاننا اور پاکی کا اقرار کرنا۔ کبھی اللہ کے نام کے طور پر بھی مستعمل ہوتا ہے۔ یعنی اللہ سبحان (پاک) ہے۔ سبحان اگرچہ اسم مصدر ہے…
Read the full tafseer →(1) وہ اولاد اور شریک سے پاک ذات ہے جو رسول اکرم ﷺ کو حرم شریف یعنی حضرت ام ہانی کے مکان سے رات کے ابتدائی حصہ میں مسجد اقصی تک لے گیا جو کہ مکہ مکرمہ سے بہت دور اور گویا کہ آسمان کے قریب ہے جس کے گروہم نے پانی درختوں اور پھلوں کی برکتیں رکھی تھیں تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنے عجائبات قدرت دکھا دیں چناچہ اس رات میں رسول اکرم ﷺ نے جو کچھ دیکھا وہ سب عجائبات خداوندی میں سے تھا بیشک اللہ تعالیٰ قریش کی باتوں کو بڑے سننے والے اور قریش کے طرز عمل اور رسول اکرم ﷺ کے اس سفر کو بڑے دیکھنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ : اس سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کو ہر ایسی چیز سے پاک قرار دینے سے کی جو اس کے جلال کے لائق نہیں، چناچہ فرمایا : (سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ) طنطاوی نے فرمایا، اس کی سب سے اچھی نحوی ترکیب یہ ہے کہ ”سُبْحٰنَ“ اسم مصدر ہے اور فعل محذوف ”سَبَّحْتُ“ یا ”اُسَبِّحُ“ کا مفعول مطلق ہے اور ”الَّذِيْٓ“ کی طرف مضاف ہے، یعنی میں اس (اللہ) کا ہر عیب اور کمی سے پاک ہونا بیان کرتا ہوں جو اپنے بندے۔۔ (التفسیر الوسیط) معلوم ہوا کہ آگے کوئی ایسا کام بیان ہونے والا ہے جس کا واقع ہونا انسانی طاقت سے باہر ہے، اس لیے بات یہیں سے شروع فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام…
Read the full tafseer →آیت نمبر 1
اس میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : سبحٰن۔ سبحان اسم ہے جو مصدر کی جگہ رکھا گیا ہے، اور یہ غیر متمکن ہے، کیونکہ اس میں وجوہ اعراب جاری نہیں ہوسکتیں، اور نہ اس پر الف لام ہوسکتا ہے، اور نہ اس سے فعل آیا ہے، اور یہ غیر منصوف ہے کیونکہ اس کے آخر میں الف نون زائدہ تان ہے، تو کہتا ہے : سبحت یسبیحا وسبحانا، جیسا کہ کفرت الیمین تکفیراو کفرانا ہے۔ اور اس کا معنی ہے التنزیہ والرأۃ للہ عزوجل من کل نقص (ہر نقص سے اللہ تعالیٰ کی برأت اور پاکی بیان کرنا ہے) ۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کا ذکر عظیم ہے اس کے سوا اس کی صلاحیت رکھتا۔ اور رہاشاعرکا قول :
أقول لما جاءنی فخرہ سبحان من علقمۃ…
Read the full tafseer →:۔ ابن جریر نے حذیفہ کیا کہ وہ (آیت) ” سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا “ پڑھتے تھے۔
2:۔ طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ” سبحن “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے (آیت) ” الذی اسری “ یعنی محمد ﷺ کو (آیت) ” من المسجد الحرام “ یعنی مسجد حرام سے بیت المقدس تک پھر ان کو واپس مسجد حرام تک لے آئے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے وقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو اعشی کو نہیں سنا اور وہ کہتا ہے۔
قلت لہ لما علا فخرہ سبحان من علقمۃ الفاجر :
ترجمہ : میں نے اس…
Read the full tafseer →[سُبْحٰنَ الَّذِيٓ: اس کی پاکیزگی ہے جو ] [اَسْرٰى: لے گیا ] [بِعَبْدِهٖ : اپنے بندے کو ] [لَيْلًا : رات کے کسی وقت ] [مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام سے ] [اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِي : اس مسجد اقصیٰ تک ] [بٰرَكْنَا : ہم نے برکت دی ] [حَوْلَهٗ : جس کے ارد گرد کو ] [لِنُرِيَهٗ : تکہ ہم دکھائیں اس کو ] [مِنْ اٰيٰتِنَا : اپنی نشانیوں میں سے ] [انهٗ : بیشک وہ ] [هُوَ السَّمِيْعُ : ہی سننے والا ہے ] [الْبَصِيْرُ : دیکھنے والا ہے ]
ترکیب : (آیت۔ 1) لَیْلًا ظرف زماں ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اَلْاَقْصٰی کو اَلْاَقْصَا لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املاء ہے۔ لِنُرِیَہٗ کے لام کا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک رات میں مسجد حرام سے سے مسجد اقصیٰ تک اور وہاں سے ملا اعلیٰ کا سفر کرایا
یہاں سے سورة الاسراء شروع ہو رہی ہے اسراء کا معنی ہے رات کو سفر کرانا اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے حبیب ﷺ کو ایک رات میں مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی اس سورت کی پہلی آیت میں اس کا ذکر ہے اس مناسبت سے یہ سورت سورة الاسراء کے نام سے معروف ہے۔
آیت مذکورہ میں اس بات کی تصریح ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی اور سورة النجم کی آیات (عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی اِِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا…
Read the full tafseer →ذکر کرامت اسراء معراج بہ نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ : سبحن الذی اسری بعبدہ .... الیٰ .... انہ ھو السمیر البصیر۔
گزشتہ سورت کے ختم پر صبر کی فضیلت بیان فرمائی کما قال تعالیٰ ولئن صبرتم لھو خیرہ للصبرین اور اہل صبر اور اہل تقویٰ کے لیے اپنی معیت اور قرب کا وعدہ فرمایا کما قال تعالیٰ ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ہم محسنون اس لیے اس سورت کا آغاز واقعہ معراج کے بیان سے فرمایا کہ جو مکہ میں دس سالہ ہوشربا مصائب پر صبر جمیل کے بعد پیش آیا گویا مسلسل دس سال کے ذبر کے بعد حق تعالیٰ نے ایسی عزت و کرامت و رفعت و بلندی عطا فرمائی جس نے دس سالہ مصیبتوں اور ذلتوں کو عزتوں اور راحتوں سے بدل دیا۔
دانہ پست…
Read the full tafseer →2:۔ اس آیت میں معجزہ اسراء کا ذکر ہے۔ معجزہ اسراء یعنی معجزہ معراج کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ روحانی تھا کہ جسمانی۔ بعض صحابہ ؓ اور بعض تابعین سے منقول ہے کہ معراج روحانی تھا یعنی آنحضرت ﷺ کو یہ سیر خواب میں کرائی گئی اور تمام ملکوت کا آپ نے حالت خواب میں مشاہدہ فرمایا۔ لیکن جمہور صحابہ ؓ اور جمہور امت کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا معراج بجسد عنصری تھا اور حالت بیداری میں تھا۔ مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ تک اور پھر وہاں سے لے کر ساتوں آسمانوں کے اوپر جہاں تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ کو عجائب ملکوت کا بجسد عنصری بحالت بیداری بشم سر مشاہدہ کرایا۔ وذھب معظم السلف والمسلمین الی انہ کان…
Read the full tafseer →(نام اور کوائف)
اس کا نام سورة بنی اسرائیل ہے ، اس میں بنی اسرائیل کا تھوڑا سا حال بیان ہوا ہے اور اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام رکھا گیا ہے یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اس کی ایک سو گیارہ آیات اور بارہ رکوع ہیں ، یہ سورة 1533 کلمات اور 6400 حروف پر مشتمل ہے ۔
(فضائل سورة )
اس سورة مبارکہ کی بڑی فضیلت آئی ہے بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کا سورة بنی اسرائیل ، کا سورة بنی اسرائیل ، سورة کہف اور سورة مریم کے متعلق بیان (1) (بخاری ص 683 ج 2 (فیاض) ہے ” انھن من العقاق الاول “ یہ عمدہ سورتیں میرا پرانا مال ہیں یعنی میں نے انہیں بہت پہلے یاد کرلیا تھا ، ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ…
Read the full tafseer →سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ
سبحان
و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر
«1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد…
Read the full tafseer →ترکیب : سبحٰن اسم ہے بمعنی تسبیح بمعنی التنزیہ اور کبھی علم بھی ہو کر مستعمل ہوتا ہے تب اضافۃ سے منقطع ہوگا اور غیرمنصرف ہوگا۔ قدقلت لماجاء فی فخرہ، سبحان من علقمۃ الفاخر۔ اور اس کا نصب فعل محذوف سے ہے جو متروک الاظہار ہے۔ اسرٰی و سرٰی ایک معنی میں ہے لیلاً منصوب ہے اسرٰی کا مفعول فیہ ہو کر حولہ منصوب ہے مفعول بہ یافیہ ہو کر بارکنا کا لنری اسریٰ سے متعلق ہے۔
تفسیر : چونکہ پہلی دونوں سورتوں کے خاتمہ پر آنحضرت ﷺ کو عبادت و تسبیح اور اس پر صبر یعنی اس کے تکالیف برداشت کرنے اور اس پر مدافعت کا حکم دیا گیا تھا جس کی آپ نے بخوبی تعمیل کی اب اس سورة کی ابتدا میں اس عبادت و صبر کا نیک نتیجہ ظاہر…
Read the full tafseer →سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِالْاَقْصَاالَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیْہٗ مِنْ اٰیٰـتِنَا ط اِنَّہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْبَیِصْرُ ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 1)
(پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو ایک رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک، جس کے گردونواح کو ہم نے برکت دی ہے تاکہ ہم دکھائیں اپنے بندے کو اپنی قدرت کی نشانیاں، بیشک وہی ہے سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا۔ )
1 آنحضرت ﷺ کے ہاتھ سے اس سے پہلے بھی ایسے ایسے معجزات کا ظہور ہوچکا تھا کہ جس نے مسلمانوں میں اللہ کی ذات وصفات اور مغیبات پر یقین لانے میں اہم کردار ادا کیا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز : اس سورة میں بنی اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اب تمہارا دور ختم ہوا۔
معراج کے دو حصے ہیں : پہلے حصے کو اسراء اور دوسرے کو معراج کہا جاتا ہے لیکن عرف عام میں دونوں ہی کو معراج کہا جاتا ہے۔” پاک ہے وہ ذات جو رات کے ایک مختصر حصّہ میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی۔ جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کے کچھ نمونے دیکھائیں۔ “
مسجد حرام (خانہ کعبہ) مکہ میں ہے اور مسجد اقصیٰ فلسطین کے شہر ” القدس “ میں ہے۔ جس کا پرانا نام یروشلم اور ایلیا ہے۔ اس وقت مکہ سے القدس تک کی مسافت چالیس دن میں طے ہوتی تھی۔ لیکن معراج کی رات چالیس دن…
Read the full tafseer →1: سُبْحٰنَ (پاک ہے عیوب سے) تمام عیوب سے اس کی پاکیزگی بیان فرمائی۔ یہ لفظ تسبیح کا علم ہے جیسے عثمان کا لفظ آدمی کیلئے کہ اللہ تعالیٰ کے اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کا فعل ہمیشہ مضمر ہوتا ہے ظاہر نہیں کیا جاتا اور اسی وجہ سے یہ منصوب ہے تقدیر عبارت یہ ہے : اسبح اللہ سبحان میں اللہ سبحان کی تسبیح کرتا ہوں۔ یہ حذف فعل کے بعد اس کے قائم مقام استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ انتہائی پاکیزگی پر دلالت کرتا ہے۔ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِ ہٖ وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا۔ عبدہؔ سے محمد ﷺ مراد ہیں اور سری اور اسری یہ دو لغات ہیں۔ لَیْلًا (رات کو) ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
وجہ : اسراء تورات…
Read the full tafseer →تفسیر : (1)” سبحن الذی اسری بعدہ لیلہ “ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ہر اس برے وصف سے جس کی برأت کی جائے بطور مبالغہ کے ۔ اس صورت میں سبحان بمعنی تعجب کے ہوگا ۔ ” اسریٰ بعبدہ “ اس کو سیرا کرائی ۔ اسی سے بولا جاتا ہے ” سری بہ “ عبد سے مراد محمد ﷺ ہیں ۔ ” من المسجد الحرام “ اس سیر کی ابتداء مکہ سے ہوئی۔ حضرت قتا دہ ؓ سے مروی ہے کہ انس نے مالک بن صعصعہ سے روایت نقل کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں مسجد میں حرام میں حجرا سود کے قریب نیند اور بیداری کی حالت میں درمیان میں تھا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) براق لے کر آئے ۔ پھر آپ ﷺ نے معراج والی حدیث بیان کی ۔
اور بعض حرات کا قول ہے کہ اُم…
Read the full tafseer →صحیحین اور کتب حدیث میں معراج کی جو کیفیت اور حال ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں حطیم میں جو بیت اللہ کی مغرب کی طرف ایک چار دیواری ہے لیٹا ہوا تھا کہ اللہ کی طرف سے ایک شخص نے آن کر میرا سینہ چاک کیا اور آب زمزم سے میرا دل دھو کر اور حکمت اور ایمان سے بھر کر پھر سینہ میں رکھ دیا اور پھر ایک جانور سفید رنگ پر جس کا نام براق ہے میں سوار ہوا جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا اور حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) میرے ساتھ ہوئے اور ہم بیت المقدس پہنچے وہاں نماز کا وقت آگیا۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے میرا ہاتھ پکڑ کے امام بنایا۔ میں نے نماز پڑھائی اور سب انبیاء بھی موجود تھے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 1
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ذات مقدس کی تنزیہ و تعظیم بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے افعال بہت عظیم اور اس کے احسانات بہت جسیم ہیں۔ اس کے جملہ افعال و احسانات میں سے ایک یہ ہے۔ (اسریٰ بعبدہ لیلاً ) ، ، وہ رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو لے گیا۔ ، ، یعنی وہ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو راتوں رات لے گیا (من المسجد الحرام) ، ، مسجد حرام سے ، ، جو علی الاطلاق تمام مساجد میں جلیل ترین مسجد ہے۔ (الی المسجد الاقصا) ، ، مسجد اقصیٰ تک ، ، جو فضیلت والی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے اور وہ انبیاء کرام کی سر زمین ہے۔
جناب نبی مجتبیٰ ﷺ کو ایک ہی رات میں بہت دور مسافت تک لے جا یا گیا پھر اسی رات واپس لایا گیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سفر معراج کا آغاز
قول باری ہے (سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد لاقصی الذی بارکنا حولہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے) حضرت ام ہانی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ ان کے گھر سے اس رات معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (من المسجد الحرام) اس لئے کہ حرم سارے کا سارا مسجد ہے۔ اس بارے میں گزشتہ اوراق میں گفتگو ہوچکی ہے حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ حضور ﷺ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور وہیں سے آپ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →1۔ اللہ تعالیٰ کی پاکی اور عظمت شان کا ذکر وبیان :۔
سو فرمایا گیا ” پاک ہے وہ ذات جو راتوں رات لے گئی اپنی بندے کو “ یعنی وہ پاک ہے ہر نقص وعیب اور ہر عجز سے۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ نہ اس کے لئے کوئی مشکل ہے نہ کوئی رکاوٹ، پس اس ایک لفظ (سبحان) سے ان تمام شکوک و شبہات کا خاتمہ وازالہ فرمادیا گیا جو معجزہ اسراء و معراج کے بارے میں پیش کئے جاتے ہیں یا پیش کئے جاسکتے ہیں کہ یہ اتنا بڑا اور اس قدر عظیم الشان سفر ایک رات میں بلکہ رات کے بھی ایک مختصر سے حصے میں کیسے ہوگیا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو (سبحان) کے اس کلمہ کریمہ سے اس طرح کے تمام سوالات واعتراضات اور شکوک و شبہات ھباء منثوا ہوجاتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →عظمت نبوی اور مقام عبد
تشریح : یہ اس مشہور معجزہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو معراج کے نام سے مشہو رہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے ہوا جبکہ آپ کو تبلیغ کرتے ہوئے بارہ سال گزر چکے تھے آپ کی عمر اس وقت 53 سال تھی تاریخ میں اختلاف ہے مگر معروف یہی ہے کہ 27 رجب کو یہ واقعہ ہوا۔ اس طرح کہ ایک رات آپ ام ہانی کے گھر سو رہے تھے یا بیت اللہ میں تھے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) آپ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئے وہاں آپ ﷺ نے انبیاء (علیہم السلام) کو نماز پڑھائی۔ پھر وہ آپ کو عالم بالا، یعنی کائنات کی بلندیوں کی طرف لے چلے پھر مختلف آسمانی طبقات میں آپ کی ملاقات کئی انبیاء سے ہوئی، آخر کار رب جلیل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة بنی اسرائیل :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر…
Read the full tafseer →ف 2 ” عبد “ (بندہ) کا لفظ اس محبت اور تعلق کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے آخری پیغمبر محمد ﷺ سے ہے اہل قلم کہتے ہیں کہ اگر پیار و محبت کے اظہار کے لئے اس سے زیادہ موزوں کوئی دوسرا لفظ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس مقام پر اسی کو استعمال فرماتا۔ (روح)3 اسی اسرار “ کو معراج بھی کہا جاتا ہے مگر دراصل اسراء اور معراج دو سفر ہیں جو ایک ہی رات میں ہوئے۔ مکہ سے بیت المقدس تک سفر کا نام ” اسراء “ ہے جس کا تذکرہ یہاں فرمایا ہے۔ پھر بیت المقدس سے آسمانوں کے لئے جانے کو معراج کہا جاتا ہے جس کی تفصیلات کتب حدیث اور سیر میں مذکور ہیں …“ مسجد حرام “ سے مراد مکہ یا پورا حرم ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →(17:1) سبحان۔ السبح سے۔ جس کے اصل معنی پانی یا ہوا میں تیز رفتاری سے گذر جانے کے ہیں۔ سبح (فتح) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا۔ پھر استعارۃً یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے وکل فی فلک یسبحون۔ (21:33) سب (اپنے اپنے) فلک یعنی مدار میں تیز رفتاری سے چل رہے ہیں۔ اور گھوڑے کی تیز رفتاری پر بھی بولا جاتا ہے۔ مثلاً والسابحات سبحا (79:3) اور فرشتوں کی قسم جو (آسمان و زمین کے درمیان) تیرتے پھرتے ہیں۔
التسبیح کے معنی تنزیہ الٰہی بیان کرنے کے ہیں۔ اصل میں اس کے معنی عبادت الٰہی میں تیزی کرنے کے ہیں پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے…
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 1
سبحن ہر طرح کے عیب سے پاک ذات۔ ساری لے گیا۔ (گیا) ۔ المسجد الحرام قابل احترام مسجد (بیت اللہ) ۔ المسجد الاقصی دور کی مسجد۔ (بیت المقدس) ۔ حول اردگرد۔ آس پاس۔ نری ہم دکھائیں گے۔
تشریح : آیت نمبر 1
اللہ تعالیٰ نے سورة الاسراء یا سورة بنی اسرائیل کی ابتدا ” سبحن “ سے فرمائی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر طرح کے عیب سے پاک ہے، وہ اللہ جیسے اس کائنات میں ہر طرح کی تعریفوں اور عظمتوں کا مستحق ہے اسی طرح وہ تمام انسانی کمزوریوں سے بھی پاک ہے۔ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ کسی کام کے کرنے میں دنیاوی اسباب اور ذرائع کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ جب بھی کسی کام کو کرنا چاہتا ہے…
Read the full tafseer →خواص سورة بنی اسرائیل : اس سورت کو سات مرتبہ اعتقاد کے ساتھ ہر روز پڑھنا دین و دنیا کی جملہ حاجات کو بر لاتا ہے۔ اور جو بچہ کند ذہن ہو یا زبان میں لکنت ہو تو اس سورت کو زعفران سے طشتری پر لکھ کر پانی سے کھو کر پلا دیں۔ معراج کا تفصیلی بیان یہ ایک جلیل معجزہ اور عظیم نعمت ہے جو آپ کے سوا کسی کو میسر نہیں ہوئی۔ نبوت کے بارہویں سال رجب کی ستائیسویں شب کو معراج ہوئی۔ اگرچہ آیت میں صرف مسجد بیت المقدس تک جو چالیس رات کی مسافت ہے، شب کے چھوٹے حصہ میں تشریف لے جانا ثابت ہے اس کا منکر کافر ہے اور آسمان کی سیر اور مرتبہ قرب پر پہنچنا صحیح احادیث سے ثابت ہے اس کا منکر گمراہ ہے۔ معراج شریف بحالت بیداری…
Read the full tafseer →[1] مسجد اقصیٰ یعنی دور کی مسجد۔ مراد ہے بیت المقدس جو مکہ سے بہت دور فلسطین کے شہر یروشلم میں ہے۔
[2] برکت کے تحت میں مادی و روحانی ہر قسم کی برکتیں آگئیں۔ وہاں کی سرزمین کی شادابی مادی برکت کی مثال ہوئی اور انبیاء کرام کا کثرت سے اس سرزمین سے اٹھنا اور اسی کی خاک میں مدفون ہونا اس کی روحانی برکتوں کو واضح کرتا ہے۔
[3] ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے نبی ﷺ کو یہ واقعہ پیش آیا جو عام طور پر معراج کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاملہ سے مقصود یہ تھا کہ آپ اللہ کی نشانیوں کا عینی مشاہدہ کرلیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ وحی کی تکمیل تھا۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ہی فرمایا کہ '' ہم نے موسیٰ کو کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
روح اور جسم کی انتہائی پرواز :
(ف 1) عین اس وقت جب مکہ میں حضور ﷺ کے نام لیواؤں کو ناقابل برداشت تکلیفیں دی جارہی تھیں ، حضور ﷺ کے وطن مالوف سے نکال باہر کرنے کی سازشیں کی جارہی تھیں ، عین اس وقت جب زمین والوں نے گلشن رسالت کو برباد کردینے کا تہیہ کرلیا تھا ، جب یہ طے پا چکا تھا ، کہ اس شمع ہدایت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گل کردیا جائے ، آسمان پر آپ کے عروج وارتقاء کے سامان ہو رہے تھے ، قضاء قدر کے دفاتر میں معراج وتقدم کے ہنگامہ خیز چرچے تھے ۔
اللہ کی مشیت نے آپ کو اٹھایا اور مسجد اقصے تک لے اڑی پرواز اور اڑان کا یہ منظر اس لئے تھا ، تاکہ آپ کو فتوحات اسلامی کی وسعت کا اندازہ ہو کفار ، ومعاندین…
Read the full tafseer →- 1 ہر قسم کے عیوب سے وہ اللہ تعالیٰ پاک اور منز ہ ہے جو اپنے بندے محمد ﷺ کو راتوں رات مسجد حرام یعنی کعبہ کی مسجد سے مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس تک لے گیا وہ مسجد اقصیٰ جس کے چاروں طرف اور جس کے اردگرد ہم نے ہر قسم کی ظاہری اور باطنی برکتیں رکھی ہیں ہم اس کو اس لئے لے گیء تاکہ ہم اس کو اپنے عجائبات قدرت میں سے کچھ دکھلا دیں۔ بلاشبہ وہ بڑا سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے۔
واقعہ معراج کا یہاں اجمالی ذکر فرمایا ہے کعبہ کی مسجد سے بیت المقدس تک جانے کو ” آسریٰ “ کہتے ہیں اور بیت المقدس سے عرش تک کے سفر کو ” معراج “ کہتے ہیں اگرچہ ایک کا اطلاق دوسرے پر یا مجموعہ پر ہوا کرتا ہے چونکہ واقعہ میں ندرت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 5۔ یعنی ملک شام کو۔
6۔ دینی برکت یہ کہ وہاں کثرت انبیاء مدفوں ہیں۔ دنیوی برکت یہ کہ وہاں اشجار و انہار و پیداوار کی کثرت ہے۔
7۔ مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے جانے کو اسراء کہتے ہیں اور آگے آسمانوں پر جانے کو معراج کہتے ہیں۔ اور گاہے دونوں لفظ مجموعہ پر اطلاق کئے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وہ ذات کیا ہے جو تمام پاکیزگیوں کی اصل مالک ہے ؟ وہ اللہ تعالیٰ ہے :
1۔ (سبحن) وہ ذات ہے جو ہر نقص اور کمی سے پاک ہے ‘ ہر عجز سے منزہ ہے ‘ ہر قید اور ہر حد بندی سے بالاتر ہے ۔ تسبیح کا لفظ لایا ہی ایسے موقع پر جاتا ہے جہاں کسی امراہم وعظیم الشان کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے ، نبی کریم ﷺ کا مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جانا بھی ایک عظیم الشان امر الہی ہے اور واقعہ معراج بھی بعض لوگوں نے اس سے ہجرت کی پیش گوئی مراد لی ہے اور بعض نے اس سے واقعہ الاسراء یا معراج مراد لیا ہے اور دونوں واقعات ہی اتنے اہم ہیں کہ ان کے بیان کو لفظ (سبحان) سے شروع کرنا ان کے شایان شان ہے ۔ اگر ہجرت کی پیش گوئی مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Commentary
Described in this verse is the event of Mi` raj (the Ascent to the heavens, or al-'Isra', the midnight journey of the Holy Prophet ﷺ which is a signal honor and distinctive miracle of our Messenger of Allah ﷺ). The word: أَسْرَىٰ (asra) is a derivation from: اِسْرَىٰ (isra' ) which literally means to make someone travel at night. After that, the introduction of the word: لَيْلًا (lailan) also makes this sense very clear. Then, by placing this word as a common noun, the indication released was that during this event the time spent was that of a part of the night - not even that of…
Read the full tafseer →1. The event referred to in this verse is known Miraj and Isra. According to authentic traditions, this took place a year before Hijrah. In the traditional and biographical literature, its details have been related by a large number (25) of the companions. Anas bin Malik, Malik bin Saasaah, Abuzar Ghifari, and Abu Hurairah (May Allah be pleased with them all) have related details of the event. Besides them, Umar, Ali, Abdullah bin Masud (Allah be pleased with them) have also related some parts of this event.
In this verse, the Quran mentions only a part of the Journey, i.e. from…
Read the full tafseer →