17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام (یعنی خانہ کعبہ) سے مسجد اقصی (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

(1) وہ اولاد اور شریک سے پاک ذات ہے جو رسول اکرم ﷺ کو حرم شریف یعنی حضرت ام ہانی کے مکان سے رات کے ابتدائی حصہ میں مسجد اقصی تک لے گیا جو کہ مکہ مکرمہ سے بہت دور اور گویا کہ آسمان کے قریب ہے جس کے گروہم نے پانی درختوں اور پھلوں کی برکتیں رکھی تھیں تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنے عجائبات قدرت دکھا دیں چناچہ اس رات میں رسول اکرم ﷺ نے جو کچھ دیکھا وہ سب عجائبات خداوندی میں سے تھا بیشک اللہ تعالیٰ قریش کی باتوں کو بڑے سننے والے اور قریش کے طرز عمل اور رسول اکرم ﷺ کے اس سفر کو بڑے دیکھنے والے ہیں۔
Ayah 17:2

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا

(2) اور ہم نے موسیٰ ؑ کو ایک دم توریت دی تھی اور ہم نے اسکو بنی اسرائیل کے لیے گمراہی سے ذریعہ ہدایت بنایا جس میں یہ بھی حکم تھا کہ میرے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو۔
Ayah 17:3

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا، بیشک نوح (ہمارے) شکر گذار بندے تھے

(3) اے ان لوگوں کی نسل جن کو ہم نے حضرت نوح ؑ کے ساتھ ان مردوں اور عورتوں کی پشتوں میں کشتی میں سوار کیا تھا وہ بڑے شکر گزار بندے تھے چناچہ کھانے پینے اور لباس اور پہننے کے وقت بھی الحمد للہ کہتے تھے۔
Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ تم زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

(4) اور ہم نے توریت میں بنی اسرائیل کو یہ بات بتادی تھی کہ تم زمین میں دوبارہ خرابی کرو گے اور بڑا زور چلانے لگوگے اور بہت زیادتیاں کرو گے۔
Ayah 17:5

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پس جب پہلے (وعدے) کا وقت آیا تو ہم نے اپنے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا

(5) پھر جب ان دو مرتبہ میں سے پہلی بار کی شرارت پر عذاب کا وقت آئیگا یا یہ کہ ان میں سے پہلی شرارت کا وقت آئے گا تو ہم تم لوگوں پر بابل کا بادشاہ اور اس کے فوجیوں کو مسلط کردیں گے جو بڑے جنگجو ہوں گے اور پھر وہ تمہارے گھروں میں گھس پڑیں گے اور تمہیں قتل کر ڈالیں گے اور یہ ایک وعدہ ہے جو ضرور پورا ہو کر رہے گا یعنی اگر تم نافرمانیاں کرو گے تو تمہارے ساتھ یہی برتاؤ کیا جائے گا، چناچہ بنی اسرائیل نوے سال تک سخت تکالیف کے اندر بخت نصر بادشاہ کی قید میں رہے۔
Ayah 17:6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسری بار تم کو ان پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی اور تم کو جماعت کثیر بنایا

(6) پھر اللہ تعالیٰ نے کو رش ہمدانی بادشاہ کے ذریعے ان کی مدد فرمائی اور بخت نصر پر کو رش ہمدانی کو غلبہ دیا یعنی پھر ہم تمہیں دولت دے کر تم پر مہربانی فرمائیں گے اور مال اور بیٹوں سے تمہاری امداد فرمائی گے اور تمہاری جماعت اور تعداد کو بڑھا دیں گے۔
Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم نیکو کاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے اور اگر اعمال بد کرو گے تو (ان کا) وبال بھی تمہاری جانوں پر ہوگا، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں

(7) اگر تم توحید خداوندی پر قائم رہو گے تو اس کا ثواب یعنی جنت اپنے اپنے ہی نفع کے لیے حاصل کرو گے اور اگر تم شرک کرو گے تو اس کی سزا تم ہی کو بھگتنی پڑے گی۔ چناچہ تطوس کے غلبہ سے پہلے بنی اسرائیل دو سو بیس سال تک خوب خوشیوں اور نعمتوں اور مردوں کی زیادتی اور دشمنوں پر غلبہ میں مست رہے پھر جب ان دو بار میں سے دوسری سزا یا دوسرے فساد کی میعاد آئے گی تو ہم تم پر تطوس بن اسیانوس رومی کو مسلط کریں گے تاکہ وہ تمہیں مار مار کر اور قید کرکے تمہاری صورتیں بگاڑدے جس طرح بخت نصر لوٹ مار کے ساتھ بیت المقدس میں گھسا تو اسی یہ لوگ بھی گھس پڑیں گے اور جس چیز پر ان کا زور چلے گا سب کو ہلاک وبرباد کر ڈالیں گے۔
Ayah 17:8

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی وہی (پہلا سا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے

(8) عجب نہیں کہ (اگر تم شریعت محمدیہ کی پیروی کرو) تو تمہارا پروردگار اس کے بعد تم رحم فرمائے، اور اگر تم پھر وہی شرارت کرو گے تو ہم بھی پھر وہی سزا کا برتاؤ کریں گے اور اگر تم نیکیاں کرو گے تو ہم بھی رحمتیں نازل فرمائیں گے اور ہم نے جہنم کو ایسے کافروں کا جیل خانہ بنا رکھا ہے۔
Ayah 17:9

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے

(9) یہ قرآن حکیم ایسے طریقے کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے یعنی شہادت۔ (آیت) ”ان لا الہ اللہ وان محمد رسول اللہ“۔ اور ان بااخلاص مومنوں کو جو کہ اعمال صالحہ کرتے ہیں جنت میں کامل عظیم الشان ثواب ملنے کی خوشخبری دیتا ہے۔
Ayah 17:10

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

(10) اور اس سے آگاہ کرتا ہے کہ جو بعث بعد الموت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے آخرت میں ایک درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے

(11) اور نضر بن حارث کافر اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے برائی اور تکالیف کی ایسی درخواست کرتا ہے جیسا کہ عافیت اور رحمت کی درخواست کی جاتی ہے اور یہ نضر عذاب کا بہت ہی جلدی مطالبہ کررہا ہے۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے، رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن، تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو، اور ہم نے ہر چیز کی (بخوبی) تفصیل کردی ہے

(12) اور ہم نے چاند اور سورج کو اپنی قدرت کی دو نشانیاں بنائیں سو ہم نے رات کی نشانی یعنی چاند کی روشنی کو دھندلابنایا اور سورج کو خوب روشن بنایا تاکہ تم دن میں دنیا وآخرت کماؤ اور تاکہ چاند کی کمی اور زیادتی سے برسوں، مہینوں اور دنوں کا حساب معلوم کرلو اور ہم نے حلال و حرام اور اوامرو نواہی میں سے ہر ایک چیز کو قرآن کریم میں خوب تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
Ayahs 17:13–14

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو (بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

(کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے،

(13۔ 14) اور ہم نے ہر ایک انسان کا عمل یعنی قبر میں منکر ونکیر کو سوال و جواب کا دفتر اس کی گردن کا ہار کر رکھا ہے یا یہ کہ اس کی نیکی وبدی اس کا نفع ونقصان اور شقاوت وسعادت اس کے ساتھ لازم ہے اور پھر قیامت کے دن ہم اس کا نامہ اعمال اس کے دیکھنے کے لیے سامنے کردیں گے جس میں نیکیاں اور برائیاں سب واضح ہوں گی اور وہ ان کو دیکھ لے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے، آج تو خود اپنے اعمال کا آپ ہی محاسب کافی ہے۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

(15) جو ایمان لاتا ہے تو وہ اس کے ثواب کو حاصل کرنے لیے ایمان لاتا ہے اور جو شخص کفر کرتا ہے تو اس کفر کی اسی کو ملتی ہے کیوں کہ کوئی شخص کو بغیر جرم کے سزا نہیں دی جائے گی اور ہم کسی قوم قوم کو ہلاک نہیں کرتے جب تک کہ کسی رسول کو ان کے پاس ان کی ہدایت اور ان پر اتمام حجت کے لیے نہیں بھیج لیتے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولاتزروازرۃ وزر اخری“۔ (الخ) حافظ ابن عبد البر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے مشرکین کی نابالغ اولاد کے بارے میں دریافت کیا آپ نے فرمایا وہ اپنے آباء کے ساتھ ہوں گے، حضرت عائشہ ؓ کہ پھر میں نے آپ سے ان کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا فرماتی ہیں کہ جب اسلام مضبوط ہوگیا تو پھر میں نے آپ سے ان کے بارے میں دریافت کیا تب یہ آیت نازل ہوئی یعنی کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ بچے فطرت پر ہوں گے یا آپ نے فرمایا کہ وہ جنت میں ہوں گے۔
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش) پر مامور کردیا، تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے، پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا

(16) اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس کے سرداروں اور ظالموں کو اطاعت اور فرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں یا یہ کہ اسی بستی کے سرداروں ظالموں اور مالداروں کی تعداد میں اضافہ کردیتے ہیں یا یہ کہ بستی کے ظالموں اور رؤسا کو تسلط دے دیتے ہیں پھر جب وہ لوگ خوب نافرمانیاں کرتے ہیں، تب ان پر نزول عذاب کی حجت پوری ہوجاتی ہے پھر ہم اس بستی کو تباہ اور برباد کر ڈالتے ہیں۔
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی امتوں کو ہلاک کر ڈالا اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے

(17) اور ہم نے بہت سی امتوں کو قوم نوح ؑ کے بعد ہلاک کیا ہے اور ہم اپنے بندوں کی ہلاکت اور ان کے گاہوں اور ان پر نزول عذاب سے باخبر ہیں اگرچہ اس چیز سے آپ کو آگاہ نہیں کیا۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں، پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے، جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا

(18) جو شخص اپنے ان نیک اعمال سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیے ہیں، دنیا کی نیت رکھے گا اور آخرت کا منکر ہوگا تو ہم ایسے شخص کو دنیا میں جتنا چاہیں گے جس کے واسطے چاہیں گے فی الحال دے دیں گے پھر اس کو آخرت میں بالکل بھی نہ دیں گے بلکہ جہنم اس کے لیے واجب کریں گے جو بدحال اور ہر ایک نیک کام کے ثواب سے محروم ہو کر داخل ہوگا یہ آیت مرثد بن ثمامہ کے بارے نازل ہوئی ہے۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہو اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے

(19) اور جو شخص اپنے ان مفروضہ اعمال صالحہ میں جنت کی نیت رکھے گا اور جنت کے لیے جیسے اعمال کرنے چاہیں ویسے ہی عمل کرے گا بشرطیکہ وہ مومن مخلص بھی ہو تو اس کا یہ عمل اللہ کے نزدیک مقبول ہوگا یہ آیت حضرت بلال ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم ان کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں، اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں

(20) آپ کے رب کی عطا میں تم ہم اہل اطاعت کی بھی امداد کرتے ہیں اور اہل معصیت کو بھی مال و دولت دیتے ہیں اور آپ کے رب کی یہ عطا نیک وبد سے بند نہیں ہے۔
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے، اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

(21) اور اے محمد ﷺ آپ دیکھ لیجے کہ مال و دولت خرم وحشم میں ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دی ہے اور آخرت میں مومنین کے لیے بہت انعامات ہیں اور آخرت درجات اور فضائل کے اعتبار سے بہت بلند ہے۔
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اور) خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بیکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے

(22) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود تجویز کر ورنہ صاحب ملامت ہوجائے گا کہ خود ہی اپنے آپ کو ملامت کرے گا اور پروردگار حقیقی تجھ کو ذلیل کر دے گا۔
Ayah 17:23

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی (کرتے رہو) ، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا

(23) تیرے معبود برحق نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اسی معبود برحق کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور تم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو اگر وہ تیرے پاس ہوں اور ان میں سے ایک یا دونوں کے دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو اس وقت بھی ان کے ساتھ قطعا کوئی نازیبا اور ادب کے خلاف گفتگو مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب کے خلاف گفتگو مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے خوب نرمی کے ساتھ گفتگو کرنا۔
Ayah 17:24

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار ! جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت) سے پرورش کیا ہے تو بھی ان (کے حال) پر رحمت فرما

(24) اور اللہ کے سامنے اور نرمی سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور اگر وہ مسلمان ہوں تو ان کے لیے دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے، اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے

(25) تمہارا رب دل کی باتوں کو خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کا ادب واحترام کرنے کا کیا جذبہ ہے اگر تم حقیقت میں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ہو تو وہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں کی خطا معاف کردیتا ہے۔
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ

(26) یہ آیت مبارکہ حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور قرابت دار کو اس کا حق دیتے رہنا اللہ تعالیٰ نے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم فرمایا ہے اور اسی طرح محتاج کے ساتھ بھی حسن سلوک کرتے رہنا اور نیز مسافر کا بھی احترام کرتے رہنا اور مسافر کا حق تین دن تک ہے اور اپنے مال کو حقوق اللہ کے علاوہ اور دوسری جگہ پر مت خرچ کرنا اگرچہ ایک کوڑی ہی کیوں نہ ہو یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں قطعا مت خرچ کرنا۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وات ذا القربی“۔ (الخ) طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی قرابت دار کو اس کا حق دیتے رہنا تو رسول اکرم ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو بلا کر ان کو (باغ) فدک دے دیا ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں یہ حدیث مشکل ہے (ظاہر کے خلاف ہے) کیوں کہ حدیث سے یہ پتاچلتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے حالانکہ یہ آیت مکی ہے اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح نقل کی ہے۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفران کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

(27) ایسے لوگ جو اپنے اموال کو اگرچہ ایک کوڑی ہو، حقوق اللہ کے علاوہ اور دوسرے مقام پر خرچ کرتے ہیں یہ شیطانوں کے مددگار ہوتے ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا شکرا ہے۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تم اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو تو ان سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو

(28) اور اپنے رب کی طرح طرف سے جس رزق کے آنے کی تجھے امید ہو اور اس پوشیدہ مال کے انتظار میں تجھے ان قرابت داروں اور محتاجوں سے بطور شفقت اور حیا کے پہلو تہی کرنا پڑے تو پھر ایسی صورت میں دلجوئی کے ساتھ ان سے وعدہ کرلینا کہ انشاء اللہ کہیں سے آئے گا تو دے دیا جائے گا۔ شان نزول : (آیت) ”۔ واما تعرضن عنہم“۔ (الخ) سعید بن منصور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عطا خراسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ مزنیہ کے کچھ لوگ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں سواری حاصل کرنے کے لیے آئے آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں تمہیں سوار کر دوں تو وہ روتے ہوئے غم و افسوس کے ساتھ واپس ہوئے اور رسول اکرم ﷺ کے انکار سے یہ سمجھے کہ آپ ان سے ناراض ہوگئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اور اگر اپنے رب کی طرف جس رزق کے آنے کی امید ہے آپ کو اس کے انتظار میں ان سے پہلو تہی کرنا پڑے تو ان سے نرمی کی بات کہہ دینا، اور ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ضحاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ان مساکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کہ رسول اکرم ﷺ سے مانگا کرتے تھے۔
Ayah 17:29

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کو کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل ہی کھول دو (کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور انجام یہ ہو کہ) ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ

(29) اور نہ تو خرچ اور عطیہ سے اس طرح جیسا کہ ہاتھ گردن میں باندھ لیا جائے ہاتھ روک لیا جائے اور نہ بالکل ہی خرچ اور عطیہ میں اسراف کرنا چاہیے یعنی کہ اپنا تمام مال ایک محتاج اور صرف ایک قرابت دار کو نہ دینا چاہیے کہ دوسروں کا بالکل ہی نظر انداز کردیا جائے ورنہ الزام خوردہ خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہو گے کہ دوسروے فقراء اور قرابت دار الزام دیں گے اور تم سے علیحدہ ہوجائیں گے اور جو تمہارے پاس مال ہوگا وہ سب دوسرے تم سے لے جائیں گے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت ایک عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جس نے رسول اکرم ﷺ سے کرتہ مانگا تھا تو آپ نے کرتہ اتار کر اس کو دے دیا اور خود برہنہ ہو کر بیٹھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس چیز سے منع فرمایا کہ اپنا ہاتھ بالکل ہی نہیں کھول دینا چاہیے کہ اپنے بدن کا کرتہ تک اتار کر آپ دے دیں اور پھر آپ کرتہ بدن پر نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے سامنے باہر بھی نکل نہ سکیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولا تجعل یدک مغلولۃ“۔ (الخ) سعید بن منصور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سیارابی الحکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے پاس کپڑے وغیرہ مال آیا اور آپ بہت ہی بخشش کرنے والے تھے چناچہ آپ نے اس کو لوگوں میں تقسیم کردیا پھر دوسری قوم آپ کے پاس لینے کی امید سے آئی تو آپ کو دیکھا کہ آپ تقسیم کرچکے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ نہ اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لینا چاہیے اور نہ بالکل ہی کھول دینا چاہیے ورنہ الزام خوردہ اور خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہو گے۔ اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ نے ابن مسعود رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ ایک لڑکا رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ آپ سے یہ مانگ رہی ہے، آپ نے فرمایا آج کے دن تو ہمارے پاس کچھ نہیں، وہ لڑکا کہنے لگا تو میری ماں کہتی ہے کہ پھر آپ اپنا کرتہ مبارک ہی مجھے دے دیں، چناچہ آپ نے فورا اپنا کرتہ اتار کر اس کو دیا دے اور گھر میں بغیر کرتہ کے بیٹھ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، نیز ابوامامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کچھ میرے پاس مال ہے سب راہ اللہ میں خرچ کر دو ، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اب کچھ باقی نہیں رہا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیا نازل فرمائی، اس حدیث کا ظاہر بتلا رہا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے۔
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے، وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

(30) بیشک آپ کا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے مال کی فراخی عطا فرماتا اور اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے اور اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے مال کی فراخی عطا فرماتا ہے اور اس میں بھی اس کی مصلحت ہوتی ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اور تنگی اور فراخی کو خوب دیکھتا ہے۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف قتل نہ کرنا (کیوں کہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں، کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

(31) یہ آیت قبیلہ خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے، اس کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی کہ ناداری اور ذلت کے اندیشہ سے اپنی لڑکیوں کو زندہ مت دفن کیا کرو ہم ان لڑکیوں کو اور تم کو بھی رزق دیتے ہیں کردینا سزا کے اعتبار سے بہت بڑا بھاری گناہ ہے۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

(32) اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ خفیہ طریقہ پر اور نہ علانیہ طور پر وہ بڑی معصیت اور گناہ کی بات ہے اور برا راستہ ہے۔
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بہ فتوی شریعت) اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا (کہ ظالم قاتل سے بدلا لے) تو اس کو چاہیے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصور و فتحیاب ہے۔

(33) اور جس مومن کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرما دیا ہے اس کو مت قتل کرو ہاں مگر حق پر جیسا کہ زانی کو رجم کردیا جائے اور قصاص میں قاتل کی اور حال ارتداد میں مرتد کی گردن اڑا دی جائے۔ اور جس شخص کو ناحق دانستہ قتل کردیا جائے تو ہم نے ولی مقتول کو قاتل کے قتل کے بارے میں حد شرعی تجاوز نہیں چاہے وہ قاتل کو قتل کردے اور اگر چاہے تو معاف کردے تو ولی مقتول کو قاتل کے قتل کے بارے میں حد شرعی تجاوز نہیں کرنا چاہیے یعنی غیر قاتل کو نہ قتل کرے یا یہ کہ ایک کے عوض دس کو نہ قتل کرے، وہ طرف داری کے قابل ہے کہ قاتل کو قتل کردیا جائے اور اس کو معاف نہ کیا جائے۔
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔

(34) اور یتیم کے مال میں اس کے مال کی حفاظت اور اس کے مال کے بڑھانے کی غرض سے تصرف کرو تاکہ وہ پندرہ یا اٹھارہ سال کا ہوجائے اور تمہارے اور لوگوں کے درمیان جو عہد مشروع ہوا کرے، اس کو پورا کیا کرو کیوں کہ ایسے عہد کے توڑنے والے سے اس کے عہد کے بارے میں قیامت کے دن حساب ہوگا۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب (کوئی چیز) ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کردو) تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔

(35) اور جب ماپنے کی چیز ماپ کر دو تو پورا ماپوا اور تولنے کی چیز کو صحیح ترازو سے تول کر دو ، یہ ماپ وتول اور وعدوں کو پورا کرنا یہ بدعہد اور چیزوں کو کم دینے سے بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے۔
Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔

(36) اور جب تک کسی بات کی تحقیق نہ ہو اور اس کو صحیح طور پر دیکھی اور سنی نہ ہو تو مت بیان کرو، کیوں کہ کانوں سے جن باتوں کو سنا ہے اور آنکھوں سے جن کو دیکھا ہے اور دل میں جن باتوں کی تمنا کی ہے قیامت کے دن ہر ایک شخص سے ان کے متعلق باز پرس ہوگی۔
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا۔

(37) اور زمین پر تکبر کے ساتھ اتراتا ہوا مت چل کیوں کہ تو اپنے اترانے اور زمین پر زور سے قدم رکھنے ے ساتھ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ (بدن تان کر) پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتا ہے۔
Ayah 17:38

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔

(38) یہ تمام مذکورہ برے کام جن سے تجھ کو روکا گیا ہے تیرے رب کے نزدیک قطعی ناپسند ہیں۔
Ayah 17:39

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔

(39) جن باتوں کا آپ کے ذریعے سے حکم دیا گیا ہے یہ اس حکمت میں کی ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں آپ پر وحی کے ذریعے بھیجی ہیں اور اے مخاطب اللہ برحق کے ساتھ اور کوئی معبود مت تجویز کرنا ورنہ تو خود اپنے نفس کو ملامت کرنے والا اور ہر ایک بھلائی سے دور ہر کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(مشرکو !) کیا تمہار پروردگار نے تم کو تو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول) بات کہتے ہو۔

(40) تو کیا پھر بھی اس بات کے قائل ہو کہ تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے اور خود فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے خلاف بہت سخت بات کہتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتے ہو،