17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا بیشک باطل نابود ہونے والا ہے۔

(81) اور کہہ دیجیے کہ اب رسول اکرم ﷺ قرآن کریم کے ساتھ تشریف لے آئے ہیں یا یہ کہ اب اسلام کا غلبہ ہوگیا ہے اور مسلمانوں کی کثرت ہوگئی ہے اور شیطان اور شرک اور مشرکین سب ہلاک ہوئے اور واقعی یہ باطل چیزیں تو یوں ہی آتی جاتی رہتی ہیں۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔

(82) اور ہم قرآن کریم میں ایسی چیزیں بیان کرتے رہتے ہیں جو ایسے حضرات کے لیے جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والے ہیں گمراہی اور کفر وشرک اور نفاق سے شفاء اور بیان اور عذاب سے رحمت ہے، اور مشرکین کا ان نازل شدہ احکامات سے الٹا نقصان بڑھتا ہے۔
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگرداں ہوجاتا اور پہلو بھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔

(83) اور کافر کو جب ہم مال اور عیش و عشرت عطا کرتے ہیں تو دعا کرنے اور شکر خداوندی سے منہ موڑ لیتا ہے اور ایمان سے دور بھاگتا ہے اور جب اس کو تکلیف اور فقر وفاقہ پہنچتا ہے تو بالکل رحمت خداوندی سے ناامید ہوجاتا ہے یہ آیت عتبہ بن ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔

(84) اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر کام کرتا ہے سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے۔
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے۔ اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے۔

(85) اے محمد ﷺ یہ لوگ آپ سے روح کی حقیقت کو پوچھتے ہیں، اہل مکہ یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے روح کے متعلق آپ سے دریافت کیا تھا، آپ فرما دیجیے کہ وہ میرے پروردگار کے عجائبات میں سے یا یہ اس کے علم اور حکم سے بنی ہے اور علوم خدا وندی میں سے تمہیں بہت تھوڑ اعلم دیا گیا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ویسئلونک عن الروح“۔ (الخ) امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں جارہا تھا۔ آپ کھجور کی ایک چھڑی پر ٹیک دیے ہوئے تھے، آپ کا گزر کچھ یہودیوں کے پاس سے ہوا وہ آپس میں کہنے لگے کہ ان سے کچھ پوچھو، چناچہ وہ بولے کہ ہم سے روح کے بارے میں بیان کیجیے، آپ یہ سن کر کچھ دیر کھڑے ہوئے اور اپنا سر مبارک اوپر کو اٹھایا میں سمجھ گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے یہاں تک کہ وحی بند ہوگئی تو آپ نے ان سے فرمایا (آیت) ”الروح من امر بن وما اوتیتم من العلم الا قلیلا“۔ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتاؤ، جو ہم اس شخص یعنی رسول اکرم ﷺ سے پوچھیں یہودیوں نے کہا کہ آپ روح کے بارے میں دریافت کرو، چناچہ قریش نے آپ سے دریافت کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی اور یہ لوگ آپ سے روح کو پوچھتے ہیں آپ فرمادیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے، حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں روایتوں میں متعدد نزول کی توجیہہ سے مطابقت پیدا کی جائے گی یہی قول حافظ ابن حجر عسقلانیرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس توقع میں کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں اور مزید تفصیل بتادے، اس لیے سکوت اختیار فرمایا ہو ورنہ تو پھر صحیح بخاری کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ صیح بخاری کی روایت کو اس حیثیت سے بھی ترجیح حاصل ہے کہ اس روایت کے راوی واقعہ کے وقت موجود ہیں، برخلاف حضرت ابن عباس ؓ کے وہ واقعہ کے وقت موجود نہیں۔
Ayah 17:86

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو جو (کتاب) ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اسے (دلوں سے) محو کردیں پھر تم اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ۔

(86) اور اگر ہم چاہیں تو جس قدر بذریعہ جبریل امین ؑ آپ پر وحی بھیجی ہے اور آپ نے اس کو محفوظ کیا ہے سب سلب کرلیں۔ پھر آپ کو ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی اور اس چیز کو روکنے والا بھی نہ ملے۔
Ayah 17:87

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اسکا بڑا فضل ہے۔

(87) یہ آپ کے رب ہی کا انعام ہے کہ اس نے قرآن کریم کو آپ کے قلب مبارک میں محفوظ کردیا ہے۔ بیشک آپ پر نبوت اور اسلام کے ذریعے اس نے بڑا فضل فرمایا ہے۔
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔

(88) اے محمد ﷺ آپ مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ اگر تمام انسان اور جنات اس بات کے لیے جمع ہوجائیں کہ اس قرآن کریم جیسا فصیح وبلیغ قرآن بنا دیں جس میں اومر و نواہی، وعدے وعید، ناسخ ومنسوخ، محکم و متشابہ اور جو امور ہوچکے اور جو ہونے والے ہیں سب ہی کا بیان ہو، تب بھی ایسا نہ لاسکیں گے، اگرچہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ قل لئن اجتمعت الانس والجن“۔ (الخ) ابن اسحاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سعید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یا عکرمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے رسول اکرم ﷺ یہودیوں کی ایک جماعت میں آئے تو وہ (یہودی) لوگ کہنے لگے کہ ہم آپ کا اتباع کیسے کریں، حالانکہ آپ نے ہمارا قبلہ بھی چھوڑ دیا ہے اور یہ جو قرآن کریم آپ لے آئے ہیں اس میں ہم توریت کی طرح اتصال نہیں دیکھتے تو ہمارے لیے ایسی کتاب نازل کروائیے جسے ہم پہچانتے ہوں ورنہ ہم آپ کے پاس جیسی آپ کتاب لے کر آئے ہیں ویسی کتاب لے کر آتے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی آپ فرما دیجیے کہ اگر تمام انسان اور جنات سب اس بات کے لیے جمع ہوجائیں کہ اس قرآن جیسا لائیں تب بھی ایسا نہ لاسکیں گے۔
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔

(89) اور ہم نے اس قرآن کریم میں مکہ والوں کے لیے وعدے وعید اور ہر قسم مضامین بیان کیے ہیں مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے قبول نہ کیا اور کفر ہی پر جمے رہے۔
Ayah 17:90

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (عجیب و غریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو) ہمارے لئے زمین میں سے چشمہ جاری کردو۔

(90) اور عبداللہ بن امیہ مخزومی اور اس کے ساتھی یوں کہتے ہیں کہ ہم آپ کی ہر گزتصدیق نہیں کریں گے جب تک کہ آپ ہمارے لیے سرزمین مکہ میں چشمے اور نہریں نہ جاری کردیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وقالوا لن نؤمن لک“۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بواسطہ ابن اسحاق شیخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عکرمہ ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ عتبہ، شیبہ، ابوسفیان اور عبدالدار کا ایک شخص اور ابوالبختری، اسود بن مطلب، ربیعۃ بن اسود، ولید بن مغیرہ، ابوجہل عبداللہ بن امیہ، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، منبیہ بن حجاج منبہ بن الحجاج، ان سب نے باہم جمع ہو کر رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ آپ اپنی قوم میں جو بات لے کر آئے ہیں، ہمارے علم میں عرب میں سے کوئی بھی ایسی بات لے نہیں آیا، تم نے آباؤ اجداد کو برا کہا دین کو عیب لگایا اور نوعمروں کو بیوقوف بنایا، بتوں کو گالیاں دیں اور جماعت میں تفرقہ ڈالا، سو کوئی برائی ایسی نہیں ہے جو تم نے ہمارے اور اپنے درمیان نہ کی ہو، اگر تم یہ باتیں مال حاصل کرنے کے لیے کرتے ہو تو ہم اپنے مال تمہارے لیے جمع کردیتے ہیں تاکہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ، اور اگر تم ہمارے اندر عزت اور شرافت چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنادیتے ہیں اور اگر تمہارے پاس یہ لانے والا جو کچھ لے کر آتا ہے کوئی جن ہے کہ جس کا تم پر غلبہ ہوگیا تو ہم آپ کا علاج کرانے اور اس سے آپ کو چھٹکارا دلانے کے لیے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں یہ سن کر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جو کچھ تم کہہ رہے ہو ان میں سے میرے اندر کوئی بھی بات نہیں، اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور میرے اور میرے اوپر کتاب نازل کی ہے اور مجھے اس بات کا حکم دیا ہے کہ میں تمہیں خوشخبری سناؤں اور ڈراؤں یہ سن کر یہ لوگ بولے کہ اگر آپ ہماری پیشکش کو نہیں قبول کرتے تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ تمام شہروں میں ہمارے شہر سے زیادہ تنگ اور کوئی شہر نہیں اور نہ ہم سے کم مال والا اور تنگ معیشت والا اور کوئی ہے تو آپ ہمارے لیے اپنے اس پروردگار سے دعا کیجیے کہ جس نے آپ کو بھیجا ہے کہ وہ ہم سے ان پہاڑوں کو چلا کر دور کر دے جن سے ہم پر تنگی ہورہی ہے اور ہمارے لیے ہمارے شہروں کو کشادہ کر دے۔ اور اس میں شام اور عراق کی طرح نہریں جاری کر دے اور ہمارے جو آباؤ اجداد مرچکے ہیں، ان کو ہمارے لیے زندہ کر دے اور اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو اپنی باتوں کی تصدیق کرانے کے لیے اپنے پروردگار سے ایک فرشتہ کی درخواست کراؤ جو آکر تمہاری تصدیق کرے اور ہمارے باغات اور خزانے اور سونے چاندی کے محلات تعمیر کر دے تاکہ جس چیز کی تلاش میں ہم آپ کو دیکھیں اس پر آپ کی مدد کرسکیں کیوں کہ ہم آپ کو بازاروں میں کھڑا ہوا اور روزی کی تلاش کرتا ہوا دیکھتے ہیں اور اگر آپ ایسا کرسکتا ہے کیوں کہ ہم تو جب کہ آپ ان باتوں میں سے کوئی بات نہ پوری کریں ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے یہ سن کر رسول اکرم ﷺ ان لوگوں کے درمیان سے اٹھ کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ عبداللہ بن ابی امیہ بھی کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے محمد ﷺ آپ کی قوم نے آپ کے سامنے کئی باتیں رکھیں، مگر آپ نے ان میں سے ایک بھی قبول نہیں کی پھر انہوں نے اپنی ذات کے لیے کچھ باتوں کی درخواست کی تاکہ ان کے ذریعے سے آپ کا اللہ تعالیٰ کے یہاں جو مقام سے اس کو پہچان لیں اگر آپ نے ایسا بھی نہیں کیا پھر جس عذاب سے آپ ان کو ڈراتے ہیں، اس عذاب کے جلدی نازل ہونے کی انہوں نے درخواست کی، اللہ تعالیٰ کی قسم میں تو ہرگز آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا جب تک کہ آپ آسمان پر چڑھنے کے لیے ایک سیڑھی نہ بنائیں پھر آپ اس پر چڑھیں اور میں آپ کو خود دیکھوں اور جب آپ وہاں سے آئیں اور آپ کے ساتھ ایک تحریر ہو اور مزید یہ کہ آپ کے ساتھ چار فرشتے ہوں جو آپ کے دعوے کی گواہی دیں کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ یہ سن کر رسول اکرم ﷺ وہاں سے غمگین ہو کر چل دیئے چناچہ اللہ تعالیٰ نے جو عبداللہ بن ابی امیہ نے آپ سے کہا تھا، اسی کے قول کو براہ تردید آپ نازل کردیا اور سعید بن منصور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی سنن میں (آیت) ”وقالوا لن نؤمن لک“۔ کی تفسیر میں حضرت سعید بن جبیر کا قول روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ عبداللہ بن ابی امیہ کے بارے نازل ہوئی ہے، امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ مرسل صحیح اور اس سے پہلے والی روایت کے لیے شاہد ہے اس کی سند میں جو ابہام ہے اس کا اس مرسل سے انجبار ہوگیا۔
Ayah 17:91

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو۔

(91) یا خاص آپ کے لیے انگور وغیرہ کا کوئی باغ ہو اور پھر اس باغ کے درمیان جگہ جگہ آپ بہت سی نہریں جاری کردیں۔
Ayah 17:92

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا لاؤ یا خدا اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے لے آؤ۔

(92) یا آپ ہم پر آسمان سے عذاب کا کوئی ٹکرا گرا دیں یا آپ اپنے دعوے پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو گواہ کرکے ہمارے سامنے لا کر نہ کھڑا کردیں۔
Ayah 17:93

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے۔ میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔

(93) یا آپ کے پاس کوئی سونے، چاندی کا بنا ہوا گھر نہ ہو یا آپ آسمان پر نہ چڑھ جائیں اور پھر وہاں سے ہمارے پاس فرشتے لے کر نہ آئیں جو اس بات کی آکر گواہی دیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور ہم تو آپ کے آسمان پر چڑھنے کا بھی کبھی باور نہ کریں جب تک کہ آپ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے ایک تحریر نہ لائیں جس کو ہم پڑھ بھی لیں کہ اس میں آپ کی رسالت کے متعلق لکھا ہو، اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرا پروردگار تو اولاد اور شریک سب چیزوں سے پاک ہے میں بجائے اس کے آدمی ہوں اور تمام رسولوں کی طرح رسول ہوں اور کیا ہوں۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کیا خدا نے آدمی کو پیغمبر کر کے بھیجا ہے ؟

(94) اور جس وقت ان مکہ والوں کے پاس رسول اکرم ﷺ قرآن کریم لے کر آچکے ہیں، اس وقت ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے سے سوائے اس کے اور کیا امر مانع ہوا کہ انہوں نے کہا کہ کیا ہماری طرف آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔
Ayah 17:95

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم ان کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے۔

(95) آپ ان مکہ والوں سے کہہ دیجیے کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے بستے ہوتے تو ہم فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے کیوں کہ ہم فرشتوں میں فرشتہ کو اور انسانوں کی طرف انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجتے ہیں۔
Ayah 17:96

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے وہی اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔

(96) اور آپ ان مکہ والوں سے آخری بات فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے اس بات پر اس نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور وہ جو اپنے بندوں کی طرف رسول بھیجتا ہے، خوب جانتا اور خوب دیکھتا ہے کہ کون اس پر ایمان لائے گا اور کون ایمان نہیں لاے گا۔
Ayah 17:97

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا ان کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم ان کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب اس کی آگ بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو عذاب دینے کے لیے اور بھڑکا دیں گے۔

(97) اور اللہ تعالیٰ جس کو اپنے دین کی ہدایت فرمائے، وہی سیدھے راستے پر آتا ہے اور جسے وہ اپنے دین سے گمراہ کردے تو اللہ تعالیٰ کے سوا ان مکہ والوں کے لیے آپ کسی کو بھی ایسا نہ پائیں گے جو ان کی ہدایت کی طرف رہنمائی کرے اور ہمیں قیامت کے دن ان کو اندھا، گونگا، بہرہ کرکے منہ کے بل دوزخ کی طرف چلائیں گے اور ان میں کسی چیز کے دیکھنے، سننے اور بولنے کی قطعا طاقت نہ ہوگی، پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور دوزخ کی لپٹیں جب ذرا دھیمی ہونے لگیں گی، تب ہی ہم ان کے لیے اور زیادہ بھڑکادیں گے۔
Ayah 17:98

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا کیے جائیں گے ؟

(98) یہ عذاب ان کو اس سبب سے ملے گا کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کیا تھا اور کفار مکہ نے یوں کہا تھا کہ جب ہم پرانی ہڈیاں اور وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو کیا ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا اور دوباہ ہمارے اندرروح پھونکی جائے گی، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا

(99) کیا ان کفار مکہ کو اتنا معلوم ہے کہ جو تمام آسمان و کا خالق ہے وہ اس بات پر پہلے ہی کی طرح قادر ہے کہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کردے، اور اس کے لیے اس نے ایک وقت مقرر کر رکھا کہ مومنین کو اس میں ذرا بھی شک نہیں، اس کے باوجود بھی مشرکین نے اس چیز کو قبول نہیں کیا اور کفر ہی پر قائم رہے۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے اور انسان دل کا بہت تنگ ہے۔

(100) آپ ان مکہ والوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے ہاتھ میں میرے پروردگار کے رزق کے خزانوں کی کنجیاں ہوتیں تو اس صورت میں تم فاقہ کے ڈر سے ان کے خرچ کرنے سے ضرور ہاتھ روک لیتے اور کافر بڑا تنگ، دل بخیل اور لالچی ہے۔
Ayah 17:101

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے۔

(101) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو کھلے ہوئے نومعجزے یعنی یدبیضاء، عصا، طوفان، ٹڈیاں، گھن کے کیڑے، مینڈک، خون، قحط سالی، اور مالوں کی کمی و بربادی دیے جب کہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے۔ آپ مثلا حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں سے بھی پوچھ کر دیکھ لیجیے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ تم ضرور مغلوب العقل ہو۔
Ayah 17:102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا اس کو کسی نے نازل نہیں کیا (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون ! میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے۔

(102) حضرت موسیٰ ؑ نے اس سے فرمایا اے فرعون تو اپنے دل میں خوب جانتا ہے کہ موسیٰ پر یہ عجائبات خاص رب العالمین نے نازل کیے ہیں جو کہ میری نبوت کی دلیل اور اس کی تصدیق کے لیے کافی ہیں۔ اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ کفر کی حالت میں تو برے طریقہ سے تباہ ہوگا۔
Ayah 17:103

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

تو اس نے چاہا کہ ان کو سرزمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا۔

(103) یہ دیکھ کر فرعون نے چاہا کہ سرزمین اردن یا فلسطین سے بنی اسرائیل کے قدم اکھاڑ دے نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اس سے پہلے ہی اس کو اور اس کے ساتھیوں کو دریا میں غرق کردیا۔
Ayah 17:104

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے۔

(104) اور اس کی ہلاکت کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ تم سرزمین اردن یا فلسطین میں رہو سہو، پھر جس وقت قبروں سے مردوں کو زندہ کرکے اٹھایا جائے گا یا یہ کہ نزول حضرت عیسیٰ ؑ ہوچکا ہوگا تو ہم سب کو جمع کریں گے۔
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بناکر بھیجا ہے۔

(105) اور اسی طرح اس قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین ؑ رسول اکرم ﷺ پر ہم نے ہدایت ہی کے ساتھ تو نازل کیا ہے اور یہ وہ ہدایت ہی کے ساتھ آپ پر نازل ہوگیا اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو بھی جنت کی خوشخبری سنانے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔

(106) اور ہم نے قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ؑ آپ پر نازل کیا اور اس میں حلال و حرام اور امر و نواہی کو بیان کیا تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر اور اطمینان کے ساتھ پڑھیں۔ اور ہم نے اس میں مضامین کو خوب کھول کھول کر بیان کیا ہے یا یہ کہ ہم نے قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین تھوڑا تھوڑا ایک ایک، دو دو، تین تین آیات کر کے اور جا بجا تفصیل کے ساتھ مختلف اوقات میں نازل کیا ہے۔
Ayahs 17:107–109

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فی نفسہٖ حق ہے) جن لوگوں کو اس سے پہلے علم (کتاب) دیا گیا ہے جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو رہا ہے۔

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

(107۔ 108۔ 109) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کہ تم اس قرآن کریم پر خواہ ایمان لاؤ یا نہ ایمان لاؤ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ چناچہ جن حضرات کو قرآن کے نزول سے قبل رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کا بذریعہ توریت علم دیا گیا تھا یہ قرآن کریم جب ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اولاد اور شریک سے پاک ہے اور ہمارے پروردگار نے جو رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہوگا اور ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرتے ہیں وہ سجدے میں روتے ہوئے گرتے ہیں اور اس قرآن کریم کا سننا ان کا خشوع اور تواضع اور بڑھا دیتا ہے یہ آیت کریمہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم خدا کو اللہ (کے نام سے) پکارو یا رحمان (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب نام اچھے ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔

(110) اور اے محمد ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اچھے اچھے نام اور بہت ہی بلند صفات ہیں، خواہ اللہ، اللہ پکارو یا رحمن جس نام اور جس صفت کے ساتھ اس کا پکارو، سو بہتر ہے اور آپ اپنی نمازوں میں نہ تو بہت پکار کر قرآن کریم پڑھیے کہ مشرکین اس کو سن کر اول فول بکیں اور وہ حسد کریں اور نہ قرآن کریم کو اتنا آہستہ پڑھیے کہ آپ کے اصحاب بھی نہ سن سکیں اور دونوں کے درمیان ایک متوسط طریقہ اختیار کرلیجیے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ قل ادعواللہ او ادعوالرحمن“۔ (الخ) ابن مردویہ ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں کھڑے ہو کر دعا کی اور اپنی دعا میں فرمایا، یا اللہ، یارحمن، یہ سن کر مشرکین بولے کہ اس بےدین کو دیکھو ہمیں تو دو خداؤں کے پکارنے سے روکتا ہے اور خود دو خداؤں کو پکار رہا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی یعنی آپ فرما دیجیے، خواہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس نام سے بھی پکارو گے اس کے بہت سے اچھے اچھے نام ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولا تجہر بصلاتک“۔ (الخ) امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے فرمان خداوندی۔ (آیت) ”ولا تجھر بصلاتک“۔ (الخ) کی تفسیر میں رورایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ اس وقت نازل ہوئی ہے جب کہ رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں کفار کے ڈر سے چھپے رہتے، آپ جب اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تو بلند آواز سے قرآن کریم نازل کیا ہے اور جو قرآن کریم لے کر آیا ہے سب کو برا کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ نیز امام بخاری ؒ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ابن جریر ؒ نے بھی حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے مگر پھر پہلی روایت کو ترجیح دی ہے کیوں کہ وہ سند کے اعتبار سے بھی زیادہ صحیح ہے اور اسی طرح امام نووی نے بھی پہلی روایت ہی کو ترجیح دی ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں ان دونوں روایتوں میں تطبیق ممکن ہے کہ یہ آیت کریمہ اس دعا کے بارے میں بھی نازل ہوئی جو نماز کے اندر ہوتی ہے اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ جس وقت بیت اللہ کے قریب نماز پڑھتے تو بلند آواز سے دعا فرماتے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ابن جریر ؒ اور امام حاکم ؒ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ تشہد کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ روایت حضرت عائشہ ؓ کی سابقہ روایت کی تشریح کررہی ہے، نیز ابن منیعہ نے اپنی مسند میں حضرت ابن عباس ؓ سے کہ صحابہ کرام ؓ یہ دعا زور سے مانگا کرتے تھے۔ ”الھم ارحمنی“۔ (الخ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اور اس بات کا حکم دیا گیا کہ نہ بہت زور سے دعا مانگیں اور نہ بہت آہستہ۔
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہو کہ سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز و ناتواں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔

(111) اور فرما دیجیے کہ تمام خوبیاں اور شکر اور خدائی اسی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے کہ جو نہ فرشتوں اور نہ انسانوں میں سے کوئی اولاد رکھتا ہے کہ اس کی بادشاہت کا نعوذ باللہ وہ مالک بنے اور نہ اس کا سلطنت میں کوئی شریک ہے کہ اس کی معاذ باللہ مخالفت کرسکے اور نہ ان ذلیلوں یعنی یہود و نصاری میں سے کوئی اس کا مددگار ہے کیوں کہ یہ ذلیل ترین لوگ ہیں یا یہ کہ نہ کمزوری کی وجہ سے اب یہود نصاری اور مشرکین وغیرہ میں سے کوئی اس کا مددگار ہے اور یہود و نصاری اور مشرکین وغیرہ کی جو کہ احکم الحاکمین کے شریک اور اس کے دربار میں سفارشی تجویز کرتے ہیں، علیحدگی اختیار کیجیے اور اس ذات کی خوب بڑائیاں بیان کیجیے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وقل الحمدللہ الذی“۔ (الخ) ابن جریررحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے سے روایت کیا ہے کہ یہود اور عیسائی اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے عرب حج میں یہ کہتے تھے۔ لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک“۔ (الخ) یعنی نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کا ایک شریک ٹھہراتے تھے اور ستاروں کے بچاری اور آتش پرست کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے مددگار نہ ہوتے تو معاذ باللہ اللہ تعالیٰ کمزور ہوجاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اور کہہ دیجیے کہ تمام خوبیاں اسی اللہ کے لیے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے اور نہ اس کا کوئی سلطنت میں شریک ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے۔