17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔

(41) اور ہم نے اس قرآن میں وعدے اور وعید سب کو بیان کیا ہے تاکہ اچھی طرح نصیحت حاصل کرلیں، باقی قرآن کریم کی وعیدیں سن کر وہ تو ایمان سے دور ہی بھاگ رہے ہیں۔
Ayahs 17:42–43

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف ضرور (لڑنے بھڑنے کے لیے) راستہ نکالتے۔

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے (اسکا رتبہ) بلند ہے۔

(42۔ 43) اور اگر اس معبود برحق کے ساتھ مقابل ان لوگوں کے اور بھی معبود ہوتے تو انہوں نے ابھی تک عرش والے تک اپنی قدرومنزلت کو یا یہ کہ راستہ کو تلاش کرلیا ہوتا، اللہ تعالیٰ شانہ کی ذات بابرکت اولاد اور شریک سے پاک اور ان کی شرکیہ باتوں سے بہت زیادہ برتر اور ہر ایک چیز سے بلند ہے۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اسکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بیشک وہ بردبار (اور) غفار ہے۔

(44) اور وہ ایسا پاک ہے کہ تمام مخلوقات اس کی پاکی بیان کررہی ہیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں، خواہ نباتات میں ہو جو کہ اس کے حکم سے اس کی پاکی (حالا یا قالا) نہ بیان کرتی ہو لیکن تم ان کی پاکی کو نہیں سمجھتے کہ کون سی زبان میں وہ پاکی بیان کر رہے ہیں۔ بیشک وہ اپنے بندوں پر بڑا حلیم ہے کہ فورا ان کی گرفت نہیں کرتا اور بڑا غفور بھی ہے کہ تو بہ کرنے والے کی مغفرت فرماتا ہے۔
Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کردیتے ہیں

(45) اور جب آپ مکہ مکرمہ میں قرآن کریم پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ابوجہل کے درمیان جو کہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پردہ حائل کردیتے ہیں اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ حق بات کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دیتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ واذا قرأت القران جعلنا بینک“۔ (الخ) ابن منذر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابن شہاب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مشرکین قریش کے سامنے قرآن کریم ﷺ کی تلاوت کرتے اور ان کو کتاب اللہ کی طرف بلاتے تو وہ کہتے کہ یہ ہمیں مائل کرنا چاہتے ہیں جس کی طرف یہ ہمیں بلا رہے ہیں اس سے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ حائل ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ان ہی کے اقوال روایت کردیے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ”واذا قرأت القران جعلنا بینک“۔ (الخ) یعنی جب آپ قرآن کریم پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں۔
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور انکے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

(46) اور جب آپ کلمہ لاالہ الا اللہ“۔ کا ذکر کرتے ہیں تو یہ لوگ اپنے بتوں کی طرف لوٹ جاتے اور ان کی عبادت کی طرف جھک جاتے اور آپ کے فرمان سے دور بھاگ جاتے ہیں۔
Ayah 17:47

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔

(47) اور جس وقت ابوجہل وغیرہ آپ کے قرآن کریم پڑھنے کی طرف کان لگاتے ہیں تو ہم خوب جانتے ہیں کہ جس غرض سے یہ قرأت کو سنتے ہیں اور نیز جس وقت یہ لوگ آپ کے بارے میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ بعض ان میں سے آپ کو ساحر اور بعض شاعر اور بعض کاہن اور بعض دیوانہ کہتے ہیں اور بعض دوسروں سے کہتے ہیں کہ تم محمد ﷺ کا ساتھ دے رہے ہو جو کہ مغلوب العقل ہیں۔
Ayah 17:48

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائی ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور راستہ نہیں پاسکتے۔

(48) اے محمد ﷺ آپ دیکھیے تو کہ یہ لوگ آپ کے لیے کیسے کیسے القابات تجویز کرتے ہیں، سو یہ لوگ اپنی ان باتوں میں گمراہی میں پڑے ہوئے ان سے ان کو چھٹکارا نہیں حاصل ہوسکتا یا یہ کہ ان کے پاس اپنی باتوں کے لیے کوئی بھی دلیل نہیں۔
Ayah 17:49

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور چور چور ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا ہو کر اٹھیں گے۔

(49) اور نضر اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر پرانی ہڈیاں اور ان کا بھی چورا ہوجائیں گے تو ہم پھر زندہ ہوں گے اور مرنے کے بعد پھر از ہمارے اندر روح پھونکی جائے گی۔
Ayah 17:50

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا۔

(50) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم پتھر یا پتھر سے سخت یالو ہے سے بھی زیادہ سے بھی زیادہ مضبوط ہو کر دیکھ لو پھر بھی مرنے کے بعد تمہیں زندہ کیا جائے گا۔
Ayah 17:51

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جلائے گا ؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سر ہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا ؟ کہہ دو امید ہے کہ جلد ہوگا۔

(51) اب اس تحقیق کے بعد آپ سے پوچھیں گے کہ کون ہمیں زندہ کرے گا تو آپ ان کے جواب میں فرما دیجیے کہ وہ، وہ ہے کہ جس نے پہلی بار تمہیں تمہاری ماؤں کے رحموں سے پیدا کیا ہے۔ آپ کی اس بات پر سر ہلا ہلا کر اظہار تعجب کے طور پر کہیں گے، سو اس بات کا جو آپ ہم سے وعدہ کررہے ہیں یہ کب ہوگا آپ فرما دیجیے عجب نہیں کہ یہ قریب ہی آپہنچا ہو یعنی اللہ تعالیٰ پر اس وعدہ کا پورا فرمانا ضروری ہے۔
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے۔

(52) اب اس کے وقت وقوع کو بیان فرماتا ہے کہ یہ اس روز ہوگا جب کہ تمہیں قبروں سے اٹھانے کے لیے حضرت اسرافیل ؑ صور پھونکیں گے اور تم اللہ تعالیٰ کے پکارنے والے فرشتہ کی بحکم الہی تعمیل کرو گے اور تم یہ خیال کرو گے کہ قبر میں ہم بہت ہی کم رہے تھے۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

(53) آپ حضرت عمر فاروق ؓ اور ان کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ جب کفار کی باتوں کا جواب دیا کریں تو ایسی بات کہا کریں جو کہ اخلاق اور نرمی کے اعتبار سے بہتر ہو۔ کیوں کہ شیطان سخت جواب دلوا کر لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے اور واقعی وہ کھلا دشمن ہے، اور یہ حکم جہاد کے نزول سے قبل والا حکم ہے۔
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔

(54) تمہارا پروردگار تمہاری صلاحیتوں کو خوب جانتا ہے اگر وہ چاہے تو تمہیں اہل مکہ سے نجات دے دے اور وہ چاہے تو ان لوگوں کو تم پر مسلط کر دے اور ہم نے آپ کو ان لوگوں کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ ان کے ایمان نہ لانے پر آپ سے کچھ باز پرس ہو۔
Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داوٗد کو زبور عنایت کی۔

(55) اور آپ کا پروردگار مومنوں کی صلاحیتوں کو خوب جانتا ہے اور ہم نے پہلے بھی بعض نبیوں کو شرف خلوت اور شرف کلامی کے ساتھ بعض پر فضیلت دی ہے اور ہم داؤد ؑ کو زبور دے چکے ہیں اور حضرت موسیٰ ؑ کو توریت اور حضرت عیسیٰ ؑ کو انجیل اور رسول اکرم ﷺ کو قرآن کریم دیا ہے۔
Ayah 17:56

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

کہو (کہ مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے انکو بلا دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کو بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔

(56) محمد ﷺ آپ خزاعہ سے فرما دیجیے جو کہ جنوں کی پوجا کرتے ہیں اور ان کو فرشتے سمجھتے ہیں کہ ذرا اپنے ان معبودوں کو جن کی تم اللہ کے علاوہ پوجا کرتے ہو شدت اور سختی کے وقت پکارو توسہی وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس کے بدل ڈالنے کا ان کو اختیار ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ قل ادعوالذین زعمتم“۔ (الخ) امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی پوجا کیا کرتے تھے وہ جن مشرف بااسلام ہوگئے مگر یہ بدبخت پجاری ان ہی کی عبادت کرتے رہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی آپ فرما دیجیے کہ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا رہے ہو، ذرا ان کو پکارو تو سہی، وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، نہ اس کے بدل ڈالنے کا۔
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب (ہوتا) ہے اور اسکی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اسکے عذاب سے خوف رکھتے ہیں بیشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔

(57) اور یہ فرشتے جن کی یہ کفار عبادت کررہے ہیں، وہ خود اپنے رب کی عبادت کرکے اس کے دربار میں قربت اور فضیلت حاصل کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب بنتا ہے اور وہ خود اس کی جنت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں واقعی آپ کے رب کے عذاب نازل ہونے پر ان کو پھر کوئی پناہ نہیں۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کفر کرنے والوں کی کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جا چکا ہے۔

(58) کوئی بستی ایسی نہیں جس کے رہنے والوں کو ہم ہلاک نہ کردیں یا ان کو تلوار اور دیگر بیماریوں کا سخت ترین عذاب نہ دیں ان کی ہلاکت اور ان پر عذاب کا نازل ہونا لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لیے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو۔

(59) اور ہمیں خاص فرمایشی معجزات بھیجنے سے یہی امر مانع ہوا کہ پہلے لوگ ان معجزات کو جھٹلا چکے ہیں اور اس جھٹلانے پر ہم نے انکو ہلاک کردیا ہے تو اسی طرح اگر یہ تکذیب کریں گے تو یہ بھی ہلاک کردیے جائیں گے۔ اور ہم نے حضرت صالح ؑ کو انکی نبوت پر معجزہ کے طور پر ان کی قوم کی فرمایش پر ایک اونٹنی دی تھی جو کہ عجیب طور پر پیدا ہوئی تھی سو ان لوگوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کے پیر کاٹ ڈالے اور ہم ایسے معجزات کو صرف عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجا کرتے ہیں یعنی اگر یہ اس پر ایمان نہ لائیں تو ہم ان سب کو ہلاک کردیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وما منعنآ ان نرسل“۔ (الخ) امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے ابن عباس ؓ سے روایت نق کی ہے کہ مکہ والوں نے رسول اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے لیے صفا پہاڑی کو سونے کا کردیا جائے اور ان سے پہاڑوں کو دور کردیا جائے تاکہ یہ کھیتی باڑی کرسکیں تو آپ سے کہا گیا کہ اگر آپ چاہیں تو ان کے اس سوال کا جواب ان سے ٹال دیں اور اگر آپ چاہیں تو ان کی اس درخواست کو پورا کردیا جائے گا، آپ نے فرمایا نہیں بلکہ میں ان کی اس درخواست کو ٹال دیتا ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ہمیں خاص معجزات بھیجنے سے صرف یہ امر مانع ہوا کہ پہلے لوگ ان کو جھٹلا چکے ہیں۔ نیز طبرانی اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی حضرت زبیر ؓ سے اسی طرح مگر اس سے مفصل روایت نقل کی ہے۔
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لیے آزمائش کیا اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی سخت سرکشی پیدا ہوتی ہے۔

(60) اور آپ وہ وقت یاد کیجیے، جب کہ ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کا رب تمام مکہ والوں سے بخوبی واقف ہے کہ کون ان میں سے ایمان لایا اور کون ایمان نہیں لائے گا۔ اور ہم نے واقعہ معراج میں جو تماشا حالت بیداری میں آپ ﷺ کو دکھا دیا تھا، اور شجرۃ زقوم جس کی قرآن کریم میں مذمت کی گئی ہے، ان دونوں چیزوں کو ان مکہ والوں کے لیے موجب گمراہی کردیا۔ اور ہم ان کو شجرۃ زقوم سے جو کہ طعام کفار ہے ڈراتے رہتے ہیں مگر اس وعید سے ان کی بڑی سرکشی بڑھی چلی جاتی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس“۔ (الخ) ابویعلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ام ہانی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو جب رات کے وقت معراج کرائی گئی تو آپ نے صبح کو معراج کا واقعہ کفار کی ایک جماعت کے سامنے بیان کیا تو وہ مذاق اڑانے لگے اور آپ سے نشانیاں پوچھنے لگے چناچہ آپ نے ان سے بیت المقدس کی کیفیت بیان کی اور عیر پہاڑ کا واقعہ بیان کیا، اس پر ولید بن مغیرہ نے کہا نعوذ باللہ یہ جادوگر ہیں، تب اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی کہ ہم نے جو تماشہ آپ کو دکھایا تھا اور جس درخت کا قرآن کریم میں مذمت کی گئی ہے ہم نے تو ان دونوں چیزوں کو ان لوگوں کے لیے موجب گمراہی کردیا اور ابن منذر نے حسن ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت حسین بن علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کو متفکر تھے تو آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ آپ کیوں فکر فرما رہے ہیں یہ معراج کا واقعہ جو آپ کو دکھایا گیا یہ تو ان کے لیے موجب گمراہی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، نیز ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سہل بن سعد ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حدیث عمرو بن العاص اور حدیث یعلی بن مرہ اور مرسل سعید بن المسیب سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر ان سب کی سندیں ضعیف ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ والشجرۃ الملعونۃ فی القرآن“۔ (الخ) ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اور امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کتاب بعث میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شجرۃ زقوم کا ذکر فرمایا تو اس سے قریش کا یہ قبیلہ ڈرا تو ابوجہل بدبخت کہنے لگا کہ تمہیں معلوم ہے کہ وہ شجر و زقوم جس سے محمد ﷺ تمہیں ڈرا رہے ہیں کیا ہے، قریش نے کہا نہیں، ابوجہل نے کہا کہ وہ ثرید پر مکھن لگا ہوا ہے کہ جس سے ہم اپنے پیٹ بھریں گے اور اس کو چبا چبا کر کھائیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا بولا بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔

(61) وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ ہم نے ان فرشتوں سے بھی کہا جو کہ زمین پر تھے کہ حضرت آدم ؑ کو سجدہ تحیت کرو، ابلیس کہنے لگا کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو آپ نے مٹی سے بنایا۔
Ayah 17:62

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔

(62) کہنے لگا کہ ان کو جو مجھ پر سجدہ کرا کے فضیلت دی ہے تو اگر آپ نے میری درخواست کے مطابق مجھے مہلت دی ہے تو میں سوائے ان تھوڑے آدمیوں کے جو مجھ سے محفوظ ہیں، سب کو راہ حق سے پھسلاؤں گا اور گمراہ کروں گا اور اپنے قبضہ میں کرلوں گا۔
Ayah 17:63

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزاء جہنم ہے (اور وہ) بری سزا ہے۔

(63) اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا یہ بات کان کھول کر سن لے جو ان میں سے تیرے طریقہ پر چلے گا تو تم سب کی پوری سزا جہنم ہے۔
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدہ کرتا رہ اور شیطان جو وعدہ ان سے کرتا ہے سب دھوکہ ہے۔

(64) اور جا ان میں سے جس پر تیرا بس چلے، اپنی تبلیغ سے اس کے قدم پھسلا دینا یا یہ کہ امیر اور تمام گانوں کی آوازوں اور ہر قسم کی برائیوں سے ان کو گمراہ کردینا۔ اور ان پر اپنے سوار مشرکین اور پیادہ مشرکین چڑھا لانا اور ان کے خلاف مشرکین کے لشکر سے مدد حاصل کرنا اور ان کو اموال حرام اور اولاد حرام میں گرفتار کردینا اور ان سے وعدے کرنا کہ جنت اور دوزخ کچھ نہیں اور شیطان ان لوگوں سے بالکل جھوٹے وعدے کرتا ہے۔
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر ﷺ تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے۔

(65) میرے ان بندوں پر جو تجھ سے محفوظ ہیں تیرا بالکل قابو اور بس نہیں چلے گا اور آپ کے رب نے جو وعدے فرمائے ہیں وہ ان کا ذمہ دار اور کافی کار ساز ہے۔
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بیشک وہ تم پر مہربان ہے

(66) وہ ایسا غنی ہے کہ تمہارے نفع کے لیے کشتیوں کو چلاتا ہے تاکہ تم اس کے رزق کی یا یہ کہ اس کے علم کی تلاش کرو اور وہ عذاب کے مؤخر کرنے یا یہ کہ تم میں سے جو توبہ کرے اس کے حال پر بہت مہربان ہے۔
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا۔

(67) اور جس وقت دریا میں تمہیں کوئی تکلیف یا غرق ہونے کا ڈر ہوتا ہے تو جن بتوں کو تم پوجتے ہو، سب کو چھوڑ دیتے ہو ان میں سے کسی سے بھی نجات کی درخواست نہیں کرتے، سوائے خدائے وحدہ لاشریک کے اسی کے سامنے نجات کی درخواست کرتے ہو۔ پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو پھر شکر خداوندی اور توحید خداوندی سے پھرجاتے ہو، واقعی کافر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا بڑا ناشکرا ہے
Ayah 17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلا دے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ۔

(68) مکہ والو تو کیا تم اس بات سے مطمئن بیٹھے ہو کہ وہ تمہیں قارون کی طرح خشکی کی طرف لا کر دھنسا دے یا تم پر قوم لوط ؑ کی طرح پتھر برسا دیے جائیں پھر تم کسی کو اپنا مددگار نہ پاؤ۔
Ayah 17:69

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا (اس سے) بےخوف ہو کہ تم کو دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔

(69) یا اے مکہ والو اس سے بےفکر ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں پھر دریا ہی میں دوبارہ لے جائے پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے اور پھر تمہیں دریا میں تمہارے کفر کے سبب جو کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہے اور اس کا کفران نعمت کیا ہے، غرق کردے اور پھر اس غرق کرنے پر تمہیں کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا اور بدلہ لینے والا نہ ملے ،
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔

(70) اور ہم نے آدم کی اولاد کو ہاتھ اور پیر عطا کر کے عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی میں جانوروں پر اور دریا میں کشتیوں پر سوار کیا اور ان کو جانوروں کی روزی کی بہ نسبت بہتر اور پاکیزہ روزی عطا کی، اور ہم نے ان کو جانوروں پر شکل و صورت اور ہاتھ پیروں کے اعتبار سے فوقیت دی۔
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم سب لوگوں کو انکے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔

(71) قیامت کے دن جب کہ ہم تمام انسانوں کو ان کے انبیاء کرام ؑ کے ساتھ یا ان کے نامہ اعمال سمیت یا یہ کہ ان کے دعوت ہدایت دینے والے یا دعوت گمراہی دینے والے کے ساتھ ملا دیں گے۔ پھر جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو ایسے حضرات اپنی نیکیوں کو خوش ہو کر پڑھیں گے اور ان کی نیکیوں میں ذرا کمی نہ کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں ذرا اضافہ کیا جائے گا۔ کھجور کی گٹھلی کے درمیان جو لکیر ہوتی ہے اس میں جو چیز ہو اس کو فتیل کہتے ہیں اور انگلیوں کی جڑوں میں جو معمولی سا میل کچیل ہو، اس معنی میں بھی لفظ فتیل کا استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 17:72

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) راستے سے بہت دور۔

(72) اور جو شخص دنیا میں ان نعمتوں کے شکر کی بجا آوری سے اندھا رہے گا وہ جنت کی نعمتوں سے بھی اندھا رہے گا اور زیادہ گمراہ ہوگا یا یہ کہ جو شخص اس دنیا میں راہ نجات اور حجت وبیان کے دیکھنے سے اندھا رہے گا اور زیادہ گمراہ ہوگا۔
Ayah 17:73

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ﷺ جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے۔

(73) اور یہ کافر لوگ آپ کو ان کے بتوں کے توڑنے سے بچلانے اور ہٹانے ہی لگے تھے تاکہ آپ اس حکم وحی کے علاوہ ہماری طرف غلط بات کی نسبت کردیں اور اس صورت میں کہ آپ ان کی بات مانتے وہ آپ کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے، یہ آیت قبیلہ ثقیف کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وان کادوا لیفتنونک“۔ (الخ) ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابن اسحاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ محمد بن ابی محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عکرمہ کے ذریعے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ امیہ بن خلف، ابوجہل اور کچھ قریشی چلے اور رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ محمد چلو اور نعوذ باللہ ہمارے بتوں کو چھولو، ہم آپ کجے ساتھ آپ کے دین میں داخل ہوجائیں گے۔ اور آپ ﷺ اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے کے خواہاں رہتے تھے، چانچہ ان کے لیے نرم ہوگئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ جتنی روایات اس آیت کے شان نزول کے بارے میں مروی ہیں، یہ سب سے زیادہ صحیح ہے، اس کی سند جید ہے اور اس کا شاہد بھی موجود ہے۔ چناچہ ابوالشیخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے تو کافروں نے کہا ہم آپ کو اس وقت حجر اسود کا استلام نہیں کرنے دیں گے، تاوقتیکہ آپ ہمارے بتوں کا استلام نہ کریں تو رسول اکرم ﷺ فرمانے لگے اگر میں ایسا کرلوں تو کیا حرج ہے جب کہ اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے کہ میں ان بتوں کے مخالف ہوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسی طرح ابن شہاب سے روایت کیا گیا ہے ؛۔ نیز جبیر بن نفیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ قریش رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ اگر آپ ہماری طرف رسول ہو کر آئے ہیں تو ان غرباء اور غلاموں کی جو آپ کے پیرو ہیں اپنے پاس سے بالکل ہٹا دیجیے تاکہ ہم آپ کے تابع اور اصحاب ہوجائیں یہ سن کر آپ کچھ ان کی طرف متوجہ سے ہوئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور محمد بن کعب قرظی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے سورة نجم کی (آیت) ”افرایتم اللات والعزی“۔ تک تلاوت فرمائی تو شیطان نے یہ الفاظ آپ پر القاء کردیے۔ (آیت) ”تلک الغرانیق العلی وان شفاعتھن لترتجی“۔ چناچہ فورا یہ آیت نازل ہوئی، اس کے نزول کے بعد آپ برابر مغموم رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ (آیت) ”وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیۃ“۔ یہ روایات اس بات پر دال ہیں کہ یہ آیات مکی ہیں۔ اور جن حضرات نے ان روایتوں کو مدنی شمار کیا ہے، انھوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جس کو ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک قبیلہ نے رسول اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ ہمیں ایک سال کی مہلت دیجیے تاآنکہ ہمارے بتوں کے چڑھاوے آجائیں، پھر ہم اپنے بتوں کے چڑھاوے وصول کر کے اسلام لے آئیں، رسول اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو مہلت دینے کا ارادہ کرلیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی مگر اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دلائل میں شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالرحمن بن غنم سے روایت کیا ہے کہ یہودی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے اگر آپ نبی ہیں تو شام جائیے کیوں کہ وہ ارض محشر اور سرزمین انبیاء کرام ہے ان کی یہ بات سن کر رسول اکرم ﷺ کو بھی اس چیز کا خیال ہوگیا چناچہ آپ نے ملک شام کے ارادہ سے غزوہ تبوک کیا، جب آپ تبوک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل کی تکمیل کے بعد سورة بنی اسرائیل کی یہ آیات نازل فرمائیں (آیت) ”وان کادوا“۔ یعنی لوگ اس سرزمین سے آپ کے قدم بھی اکھاڑنے لگے تھے تاکہ آپ کو اس سے نکال دیں، اور اگر یہ آپ کو مدینہ منورہ سے نکال دیتے تو یہ بھی بہت کم ٹھہر پاتے، یہاں تک کہ ہم ان کو ہلاک کردیتے۔
Ayah 17:74

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے۔

(74) اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا اور آپ کی حفاظت نہ کی ہوتی تو آپ ان کے مطالبہ کے مطابق ان کی طرف کچھ کچھ جھکنے کے قریب جا پہنچتے۔
Ayah 17:75

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اس وقت ہم تم کو زندگی میں بھی (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا عذاب چکھاتے پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے۔

(75) اور اگر آپ کو ان کے مطالبہ کے موافق ان کی طرف میلان اور رجحان ہوجاتا تو ہم آپ کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دوہرا عذاب چکھاتے، پھر آپ کوئی مددگار بھی نہ پاتے۔
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین میں (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلا وطن کردیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔

(76) اور نیز یہ یہودی اس سرزمین مدینہ منورہ سے آپ کے قدم ہی اکھاڑنے لگے تھے تاکہ آپ کو شام کی طرف نکال دیں۔
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے انکا (اور انکے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق تغیر و تبدل نہ پاؤ گے۔

(77) جیسا کہ ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کی قوموں کو ہلاک کیا جب کہ اپنے رسولوں کو انہوں نے اپنے درمیان سے نکال دیا اور آپ ہمارے اس عذاب میں کوئی تبدیلی نہ پاتے۔
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے۔

(78) اے محمد ﷺ سورج غروب ہونے کے بعد نماز ظہر اور عصر اور رات آنے پر مغرب و عشاء کی نماز ادا کیجیے اور صبح کی نماز بھی ادا کیجیے، بیشک صبح کی نماز رات اور دن کے فرشتوں کے حاضر ہونے کا وقت ہے۔
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوا کرو (اور تہجد کی نماز پڑھا کرو یہ شب خیزی) تمہارے لئے (سبب) زیادت (ثواب) ہے اور قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے۔

(79) اور کسی قدر رات کے حصہ میں بھی قرأت قرآن کریم کیا کیجیے اور سو کر اٹھنے کے بعد تہجد پڑھا کیجیے یہ آپ کے لیے فضیلت کی چیز ہے یا یہ کہ خاص آپ کے لیے ہے۔
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور کہو کے اے پروردگار مجھے (مدینے میں) اچھی طرح داخل کیجیو اور (مکے سے) اچھی طرح نکالیو۔ اور اپنے ہاں سے زور و قوت کو میرا مددگار بنائیو۔

(80) اور آپ یوں دعا کیا کیجیے کہ اے میرے پروردگار مجھے مدینہ منورہ میں اچھے طریقے سے داخل کیجیے، اس وقت آپ مدینہ منورہ میں نہیں تھے اور جب میں مدینہ منورہ میں ہوں تو مجھے وہاں سے اچھے طریقے سے لے جائیے اور مکہ مکرمہ میں داخل کیجیے یا یہ کہ مجھے قبر میں خوبی اور راحت کے ساتھ پہنچائیے اور قیامت کے دن قبر سے خوبی و راحت کے ساتھ نکالیے اور مجھے اپنے پاس سے ایسا غلبہ اور قوت عطا کیجیے، جس میں کسی قسم کی کوئی کمی اور نہ کسی کے قول کی تردید ہو۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وقل رب ادخلنی مدخل صدقہ“۔ (الخ) امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا، تب آپ پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، یعنی اور آپ یوں دعا کیجیے کہ اے رب مجھے اچھے طریقے سے پہنچائیے اور مجھے اچھے طریقے سے لے جائیے اور مجھے اپنے پاس سے ایسا غلبہ دیجیے جس کے ساتھ نصرت ہو یہ روایت اس چیز کے بیان کرنے میں صاف ہے کہ یہ آیت کریمہ مکی ہے اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے زیادہ واضح الفاظ کے ساتھ روایت نقل کی ہے۔