17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsانوار البیان

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام (یعنی خانہ کعبہ) سے مسجد اقصی (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

(17:1) سبحان۔ السبح سے۔ جس کے اصل معنی پانی یا ہوا میں تیز رفتاری سے گذر جانے کے ہیں۔ سبح (فتح) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا۔ پھر استعارۃً یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے وکل فی فلک یسبحون۔ (21:33) سب (اپنے اپنے) فلک یعنی مدار میں تیز رفتاری سے چل رہے ہیں۔ اور گھوڑے کی تیز رفتاری پر بھی بولا جاتا ہے۔ مثلاً والسابحات سبحا (79:3) اور فرشتوں کی قسم جو (آسمان و زمین کے درمیان) تیرتے پھرتے ہیں۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الٰہی بیان کرنے کے ہیں۔ اصل میں اس کے معنی عبادت الٰہی میں تیزی کرنے کے ہیں پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شریر بولا جاتا ہے۔ ابعدہ اللہ خدا اسے ہلاک کرے۔ فجعلنہم غثاء فبعدا للقوم الظلمین (23:41) ہم نے ان کو خس و خاشاک بنادیا۔ سو خدا کی مار ظالم لوگوں پر۔ پس تسبیح کا لفظ قولی، فعلی، قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے۔ الزجاج نے لکھا ہے کہ سبحان مصدر ہونے کی بناء پر منصوب ہے یعنی مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے اور اس کا نصب ایک پوشیدہ فعل کی بناء پر ہے جس کا اظہار متروک ہوچکا ہے اس کی اصل یوں ہے اسبح اللہ سبحانہ تسبیحا۔ میں اللہ کی تسبیح کرتا ہوں۔ علامہ جلال الدین سیوطی الاتقان میں رقمطراز ہیں سبحان مصدر ہے بمعنی تسیبح (پاکی بیان کرنا) اس کو نصب اور کسی اسم مفرد کی طرف مضاف ہونا لازم ہے جو ظاہر ہو جیسے سبحان اللہ اور سبحان الذی اسری بعبدہ یا مضمر ہوجی سے سبحانک لا علم لنا (2:32) اور یہ ایسا مفعول مطلق ہے کہ اس کا فعل حذف کر کے اس کو اس کی جگہ قائم کردیا گیا ہے۔ سبحان الذی پاک ومنزہ ہے ہر قسم کے قبائح سے وہ ذات۔ اسری۔ اسراء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب مادہ سری سے سری یسری (باب ضرب) اور اسری یسری اسراء (باب افعال) رات کے وقت سفر کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ باب ضرب سے فعل لازم آتا ہے اور ب کے ساتھ فعل متعدی ۔ جیسے سری بہ اس نے اس کو رات کو سفر کرایا۔ ابو عبیدہ کے قول کے مطابق اسری میں ہمزہ تعدیہ کے لئے نہیں ہے لہٰذا تعدیہ کے لئے اس کے ساتھ بھی ب کو لایا گیا۔ نیز بعض کے نزدیک اسری لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ الذی اسری بعبدہ جو لے گیا اپنے بندے کو رات کے وقت۔ بعض کے نزدیک اسری کا مادہ س ر ی سے نہیں جس کے معنی رات کے سفر کرنے کے ہیں بلکہ یہ سراۃ سے مشتق ہے جس کے معنی کشادہ زمین کے ہیں۔ اور اصل میں اس کے لام کلمہ میں وائو ہے (ناقص واوی ہے) پس اسری کے معنی کشادہ زمین میں چلے جانا۔ جیسے اجبل کے معنی ہیں وہ پہاڑ پر چلا گیا۔ اور اتہم کے معنی ہیں وہ تہامہ میں چلا گیا۔ اس صورت میں سبحان الذی اسری بعبدہ کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو وسیع اور کشادہ سرزمین میں لے گیا۔ نیز سراۃ ہر چیز کے افضل اور اعلیٰ حصہ کو بھی کہتے ہیں۔ اسی سے سراۃ النھار ہے جس کے معنی دن کی بلندی کے ہیں۔ لیلا۔ رات کے ایک حصہ میں۔ ایک ہی رات کے تھوڑے وقت میں لیلا بہ صیغہ نکرہ کے اضافہ سے یہ تاکیدو تصریح مقصود ہے کہ اتنا بڑا سفر جو عادۃً کئی ہفتوں میں ممکن تھا۔ مافوق العادۃ کے طور پر رات کی چند گھڑیوں میں ہی انجام پا گیا۔ اسی تبعیض (بعض حصہ) کی بناء پر عبداللہ اور حذیفہ نے من اللیل پڑھا ہے جیسا کہ قول ہے اللہ تعالیٰ کا ومن اللیل فتھجد بہ (17:79) بوجہ اسریٰ کے ظرف زمان ہونے کے منصوب ہے۔ المجسد الاقصی۔ موصوف وصفت، اقصی اسم التفضیل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ بہت بعید۔ بہت دور۔ زیادہ دور۔ قصاء سے جس کے معنی دور ہونے کے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کو باعتبار بعد کے جو مخاطبین قرآن (اہل عرب) سے تھی اقصی کہتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ سے مراد بیت المقدس ہے ۔ اس کا مادہ ق ص و (ناقص واوی) سے ہے قرآن مجید میں ہے اذ انتم بالعدوۃ الدنیا وھم بالعدوۃ القصوی (8:42) جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکہ پر تھے اور کافر بعید کے ناکہ پر۔ حولہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ حول بمعنی گرد۔ حوالی۔ حولہ اس کے گرد۔ اس کے آس پاس۔ ہٗ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع مسجد اقصی ہے۔ نریہ۔ نری۔ مضارع جمع متکلم ۔ اراء ۃ (افعال) مصدر ہٗ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع عبدہ ہے ہم اس کو دکھاویں۔ من ایتنا۔ من تبعیض کے لئے ہے بعض۔ کچھ۔ ایتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ایات جمع ایۃ۔ کی۔ نشانیاں۔ عجائبات قدرت۔ اپنے عجائبات قدرت میں سے بعض ۔ چند۔ کچھ۔ عجائبات یہاں التفاتِ ضمائر ہے۔ پہلے خدا وند تعالیٰ کو ضمیر واحد مذکر غائب سے بیان فرمایا۔ پھر برکنا اور نریہ میں جمع متکلم کا صیغہ استعمال ہوا۔ یہ فصاحت و بلاغت کے لئے ہے یا یہ برکات و آیات کے اظہار عظمت و تکریم کے لئے ہے۔ السمیع۔ سمع سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور جب یہ حق تعالیٰ کی صفت واقع ہو تو اس کے معنی ہیں ایسی ذات جس کی سماعت ہر شے پر حاوی ہے۔ سننے والا۔ البصیر۔ دیکھنے والا۔ جاننے والا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 17:2

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا

17:2 جعلنہ۔ جعلنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے اس کو کیا۔ ہُ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الکتاب ہے یعنی تورات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ الا تتخذوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی حذف ہوگیا ہے تم مت پکڑو۔ تم مت اختیار کرو۔ تم مت بتائو۔ الا۔ ان لا ہے ان کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ کہ آیا یہ تفسیر یہ ہے، ناہیہ ہے، مصدریہ ہے۔ یا ان اور اس کا مابعد الکتاب کا بدل ہے۔ یہاں اتنا ہی کافی ہے کہ الا تتخذوا۔ ای قلنا لہم لا تتخذوا۔ تقدیر کلام ہے۔ من دونی۔ میرے سوا۔ مجھے چھوڑ کر۔ دون ۔ ورے۔ سوائے۔ غیر۔ ی ضمیر اضافت واحد متکلم۔ وکیلا۔ صفت مشبہ ۔ نکرہ۔ منصوب وکل سے بمعنی کارساز ۔ ذمہ دار۔ مددگار وکیل۔ اس کارساز کو کہتے ہیں جس کو اپنے تمام امور سپرد کر دئیے ہیں۔
Ayah 17:3

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا، بیشک نوح (ہمارے) شکر گذار بندے تھے

(17:3 ) ذریۃ۔ اولاد۔ اصل میں تو چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے مگر عرف میں چھوٹی اور بڑی سب اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں یہ جمع ہے مگر واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے ذریۃ بوجہ ندا کے ہے اس سے پہلے حرف ندا یا محذوف ہے۔ ذریۃ مضاف سے اور من حملنا مع نوح مضاف الیہ ہے۔ یا ذریۃ من حملنا مع نوح اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا۔ اس کے بعد انہ کان عبدا شکورا کا جملہ، جملہ معترضہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعریف میں ہے تو گویا الا تتخذوا ۔۔ الخ کی تقدیر ہے۔ وقلنا لہم لا تتخذوا من دونی وکیلا یا ذریۃ من حملنا مع نوح۔ اور ہم نے ان سے (بنی اسرائیل سے) کہا کہ اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا مجھے چھوڑ کر (کسی کو) اپنا کارساز مت ٹھہرائو۔ شکورا۔ نصب بوجہ عمل کان کے ہے شکور۔ شکر گذار۔
Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ تم زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

(17:4 ) قضینا الی۔ ای اعلمناہم واخبرنا ہم۔ ہم نے (بنی اسرائیل کو ) آگاہ کردیا تھا ۔ بتادیا تھا۔ (قضی الی) کسی کو بتانا۔ کسی کو وضاحت کے ساتھ بتانا۔ قضینا۔ ماضی جمع متکلم۔ الکتب۔ ای التوارۃ۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ لتفدن فی الارض۔ لتفسدن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ افساد (افعال) تم ضرور فساد کرو گے۔ تم ضرور خرابی پھیلائو گے۔ بعض کے نزدیک لام، لام قسم ہے ! اور تقدیر کلام ہے واللہ لتفسدن۔ خدا کی قسم تم ضرور فساد مچائو گے۔ فی الارض۔ زمین میں ۔ یہاں ارض سے مراد ارض شام اور بیت المقدس ہے۔ ولتعلن۔ مضارع بلام تاکیدونون ثقیلہ جمع مذکر حاضر۔ علو (باب نصر) سے۔ تم چڑھ جائو گے۔ تم سرکشی کرو گے۔ لتفسدن کی لتعلن میں بھی۔ لام للقسم ہوسکتی ہے۔ العلو۔ کسی چیز کا بلند ترین حصہ ۔ العلو۔ کسی چیز کا بلند ترین حصہ۔ یہ سفل کی ضد ہے العلو۔ بلند ہونا۔ مذموم معنوں میں فساد کرنا۔ سرکشی کرنا۔ جیسے اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے لا یریدون علوا فی الارض (28:83) جو زمین میں سرکشی کرنا نہیں چاہتے۔ ولتعلن علوا کبیرا اور تم بڑی سرکشی کا ارتکاب کرو گے (خلق پر ظلم وستم کر کے اور خالق کے قانون سے بغاوت کر کے) ۔ آیات 4 ۔۔ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ 1 ۔ 4 کے بعد۔ اور اس کے بعد نتیجۃً تمہیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ کے الفاظ محذوف ہیں۔
Ayah 17:5

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پس جب پہلے (وعدے) کا وقت آیا تو ہم نے اپنے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا

(17:5) فاذا جاء وعد اولہما۔ پھر جب ان دوباریوں میں سے پہلی مرتبہ کے وعدہ کا وقت آیا۔ بعثنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے بھیجا۔ بعث سے۔ یہاں بعثت سے مراد تشریعی بعثت نہیں کہ کسی رسول یا نبی کو بھیجا گیا بلکہ محض تکوینی بعثت مراد ہے۔ پھر تشریعی بعثت کے لئے بعث الی استعمال ہوا ہے کہ نبی ہمیشہ کسی قوم کی طرف اس کی بہتری کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ اور یہاں بعث علی استعمال ہوا ہے کہ سزا اور سرزنش کے لئے مبعوث کو بھیجا گیا۔ مفسرین کے نزدیک یہاں 586؁ ق۔ م میں بخت نصر تاجدار بابل ونینوا کے ہاتھوں بنی اسرائیل کی تباہی و بربادی کی طرف اشارہ ہے۔ عبادا۔ عبد کی جمع۔ بندے ۔ عبادا لنا۔ ہمارے بندے (بلا تخصیص ان کے اعتقادات کے) یہاں مراد ہے۔ وہ انسان جو عذاب الٰہی کے کارندوں کی حیثیت سے ان پر مسلط کئے گئے تھے۔ اولی۔ والے ۔ اولوا سے اولوا جمع ہے اس کا واحد نہیں۔ اگرچہ بعض ذوکو اس کا واحد بیان کرتے ہیں اولوا بحالت رفع اور اولی بحالت نصب وجر۔ اولی باس شدید۔ سخت قوت والے۔ سخت جنگ جو۔ باس۔ قوت، بہادری۔ خوف۔ عذاب ۔ جنگ۔ لا باس کوئی خوف نہیں۔ لا باس فی ذلک۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ المفردات میں ہے کہ البؤس والباس والباساء تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں مگر بؤس کا لفظ زیادہ تر فقروفاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولاجاتا ہے اور الباساء اور الباس جسمانی زخم اور نقصان کے لئے آتا ہے مثلاً واللہ اشد باسا واشد تنکیلا (4:84) اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا دینے کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے۔ جاسوا۔ ماضی جمع مذکر غائب، وہ گھس پڑے۔ وہ داخل ہوگئے جوس سے (باب نصر) لوٹ مار کے لئے گھس پڑنا۔ خلل۔ درمیان ۔ بیچ۔ وسط۔ خلل کی جمع ہے۔ دو چیزوں کی درمیانی کشادگی۔ فجاسوا خلل الدیار۔ وہ (تمہاری) آبادیوں میں (لوٹ مار کے لئے) گھس گئے۔ وکان وعدا مفعولا۔ میں وعدا۔ کان کی خبر کی وجہ سے منصوب ہے۔ اسم کان محذوف ہے تقدیر کلام ہے وکان (وعد العقاب) وعدا مفعولا ای لا بد ان یفعل۔ اور سزا و عذاب کا وعدہ پورا ہوکر رہنا تھا۔
Ayah 17:6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسری بار تم کو ان پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی اور تم کو جماعت کثیر بنایا

(17:6) رددنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے پھیر دیا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ ہم نے واپس کردیا۔ ہم نے پلٹا دیا۔ لکم تمہارے حق میں۔ الکرۃ۔ الکر کے اصل معنی ہیں کسی چیز کو بالذات بالفعل پلٹانا یا موڑ دینا۔ یہ اصل میں مصدر ہے مگر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اس کی جمع کرو رہے (مادہ کرر) اسی سے الکرۃ بمعنی دوسری بار ثم رددنا لکم الکرۃ علیہم پھر ہم نے دوسری بار تم کو ان پر غلبہ دیا۔ امددناکم۔ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم نے تمہاری مدد کی امداد (افعال) سے۔ نفیرا۔ منصوب بوجہ تمیز کے ہے اکثر سے نفیر کنبہ یا قبیلہ کے افراد۔ یا یہ نفر کی جمع ہے جیسے عبد کی جمع عبید ہے اور کلب کی جمع کلب کی جمع کلیب ہے۔ یا نفر ینفر (ضرب) سے مصدر ہے۔ لڑائی کے لئے نکلنا۔ نفر القوم للقتال قوم لڑائی کے لئے نکلی اکثرہم بفیرا۔ ای اکثر عددا۔ جعلنکم اکثر نفیرا۔ ہم نے تم کو کثیر التعداد بنادیا۔
Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم نیکو کاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے اور اگر اعمال بد کرو گے تو (ان کا) وبال بھی تمہاری جانوں پر ہوگا، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں

(17:7 ) اساتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم برائی کرو گے۔ یا تم نے برائی کی۔ تم نے برا کیا۔ اساء ۃ سے مادہ سوئ۔ فلھا۔ میں لام بمعنی علی ہے جیسا کہ وعلیھا ما اکتسبت۔ (2:286) اور جو (بد عمل) اس نے اپنے ارادہ واختیار سے کئے (اس کا برا نیتجہ عذاب وسزا کی صورت میں بھی) اسی پر ہوگا۔ یا یہ لام استحقاق کے لئے جیسا کہ ارشاد حق تعالیٰ ہے لہم عذاب عظیم (9:61) (اور جو دکھ پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو) ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ یا یہ لام اختصاص کے لئے ہے کہ اچھے اور برے کام کی جزا وسزا اس کے کرنے والے کے لئے مختص ہے یعنی وہی بھگتے گا۔ وعد الاخرۃ۔ دوسرا وعدہ۔ یعنی تمہاری دوسری دفعہ کی ظلم وتعدی و سرکشی و نافرمانی کے نتیجہ میں سرزنش و عذاب دینے کا وقت یا عذاب دینے کی نوبت۔ لیسوء ۔۔ الخ۔ تقدیر کلام ہے فاذا جاء وعد الاخرۃ بعثنا علیکم عبادا لنا اولی باس شدید لیسوئ۔۔ الخ۔ یعنی اور جب دوسرا وعدہ آگیا تو ہم نے اپنے طاقت ور۔ جنگ جو سخت بندے تمہارے خلاف بھیجے۔ تاکہ غمناک بنادیں یا بگاڑ دیں تمہارے چہروں کو۔۔ الخ مفسرین کے نادیک اس کا اشارہ 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ طیطائوس (Titus) کے ہاتھوں ارض شام وبیت المقدس کے تاخت و تاراج کی طرف ہے۔ لیسوئ۔ میں لام تعلیل کی ہے۔ یسوئٗ مضارع جمع مذکر غائب سوء مصدر (باب نصر) تاکہ وہ بگاڑ دیں۔ اور جگہ ارشاد ربانی ہے فلما راوہ زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا (67:27) پھر جب وہ اس (قیامت ) کو پاس آتا دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ اور یہاں چہروں کو بگاڑنے سے مراد ہے کہ ان کی مالی۔ ملکی۔ اخلاقی۔ دنیوی۔ دینی حالت کو تہس نہس کر کے بالکل مسخ کردینا۔ ساء یسوء سوء (باب نصر) افعال ذم سے ہے۔ لیتبروا۔ لام برائے تعلیل، یتبروامضارع جمع مذکر غائب باب تفعیل۔ تبر یتبر تتبیرا۔ تاکہ تباہ و برباد کردیں۔ تبر ہلاک کرنا۔ لیسوئ۔ لیدخلوا۔ لیتبروا ان تینوں افعال میں لام برائے تعلیل ہے۔ ما علوا۔ اس میں ما موصولہ ہے علوا ماضی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ علو سے۔ وہ غالب آئے۔ ما علوا جس پر وہ قابو پائیں۔ یہ مفعول ہے لیتبروا کا۔ لیتبروا ما علوا تتبیرا۔ تا کہ وہ جس پر قابو پائیں اس کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیں۔
Ayah 17:8

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی وہی (پہلا سا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے

(17:8) عسی ربکم ان یرحمکم۔ (عجب نہیں کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے) یہ خطاب ان اسرائیلیوں سے ہے جو قرآن کے معاصر اور براہ راست مخاطب تھے۔ اس سے قبل ان تبتم عن المعاصی وتؤمنوا باللہ وبرسولہ (محمد ﷺ ) محذوف ہے یہ اس جملہ شرطیہ کا جواب ہے عسی ربکم ان یرحمکم۔ ان عدتم۔ یہ جملہ شرطیہ ہے اگر تم سرکشی کی طرف دوبارہ پھرے۔ عدنا۔ جوابِ شرط۔ تو (اس کی سزا و عذاب دینے کے لئے) ہم بھی دوبارہ (ایسا ہی) کریں گے (جیسا کہ پہلے تمہیں سزا دی تھی) عاد یعود عود (باب نصر) پھر آنا۔ پھر کرنا۔ کسی چیز سے ہٹ جانے کے بعد پھر اس کی طرف لوٹنا۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل ہے۔ یعنی اگر تم سرکشی کی طرف دوبارہ پھر تو پھر ہم بھی دوبارہ سزا دہی کی طرف رجوع کریں گے۔ حصیرا۔ زندان خانہ۔ قید خانہ ۔ بندی خانہ۔ حصر سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی فاعل بھی ہوسکتا ہے کیونکہ قید خانہ روکنے والا ہوتا ہے اور بمعنی مفعول بھی کیونکہ وہ رکا ہوا ہوتا ہے۔
Ayah 17:9

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے

(17:9) للتیھی اقوم۔ ای الی الطریقۃ التیھی اصوب (بیشک یہ قرآن رہنمائی کرتا ہے) اس راستہ کی جو صائب ترین ہے یا الی الکلمۃ التیھی اعدل۔ یا (رہنمائی کرتا ہے) اس کلمہ کی طرف (لا الہ الا اللہ) جو موزوں ترین ہے۔ یبشر۔ بشارت دیتا ہے۔ خوشخبری دیتا ہے تبشیر (تفعیل) سے اس کا فاعل القرآن ہے۔
Ayah 17:10

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

(17:10) اعتدنا۔ ماضی جمع متکلم۔ اعتاد (افعال) سے ہم نے تیار کیا۔ ہم نے تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے

(17:11) یدع۔ مضارع واحد مذکر غائب دعاء سے باب نصر وہ دعا مانگتا ہے وہ دعا کرتا ہے۔ دعاء ہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا دعا کرنا۔ اس کا دعا مانگنا ای کد عائہ بالخیر۔ اپنی بھلائی کی دعا کی طرح۔ یعنی جس طرح اس کو اپنی بھلائی کی دعا کرنی چاہیے بلا تامل اسی طرح وہ اپنی برائی کے لئے بھی دعا کردیتا ہے (نتائج سے لاپرواہی کرتے ہوئے) آیت 10 ۔ میں بالوضاحت ارشاد فرمایا گیا کہ مؤمنین صالحین کے لئے اجرکبیر (یعنی جنت ) ہے اور منکرین وکافرین کے لئے عذاب الیم (دوزخ) ہے۔ لیکن بعض لوگ یعنی کافر سزا و عذاب کے لئے بھی یوں بار بار دعائیں کرتے ہیں جیسے وہ جزایا رحمت کے لئے کر رہے ہوں۔ مثلاً کفار مکہ کہ وہ اپنے اس احمقانہ پن میں بار بار کہتے تھے۔ اللہم ان کان ھذا (ای القران) ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم۔ (8:32) اے اللہ اگر یہ قرآن تیری طرف سے سچ ہے (تو ہمارے اس انکار پر) تو ہم آسمان سے پتھر برسا دے یا لے آہم پر دردناک عذاب۔ یا مثلاً ان سے قبل قوم ہود (علیہ السلام) نے کہا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین (7:70) اگر تم سچے ہو تو لے آئو ہم پر وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ یا حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا وقالوا یصالح ائتنا بما تعدنا ان کنت من المرسلین (7:77) اور انہوں نے کہا کہ اے صالح لے آئو ہم پر اس عذاب کو جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم (سچ مچ) اللہ کے فرستادگان میں سے ہو۔ یا مثلاً حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا کہنا قالوا ینوح قد جاد لتنا فاکثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصادقین۔ (11:32) اے نوح تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور جھگڑے کو بہت طول دیا۔ (اس مباحثہ کو رہنے دو ) اگر تم سچے ہو تو لے آئو ہم پر وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ صاحب تفہیم القرآن رقمطراز ہیں : یہ جواب ہے کفار مکہ کی ان احمقانہ باتوں کا جو وہ بار بار حضور نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ بس لے آئو وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈرایا کرتے ہو۔ اوپر کے بیان کے بعد معاً یہ فقرہ ارشاد فرمانے کی غرض اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ بےوقوفو ! خیر مانگنے کی بجائے عذاب مانگتے ہو تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ خدا کا عذاب جب کسی قوم پر آتا ہے تو اس کی کیا گت بنتی ہے ! اور اگر اس آیت سے یہ مطلب لیا جاوے کہ یہ خطاب سب انسانوں کے لئے ہے تو اس بارہ تفسیر ابن کثیر میں ہے :۔ انسان کبھی کبھی دلگیر اور ناامید ہو کر اپنی سخت غلطی سے خود اپنے لئے برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے کبھی اپنے مال واولاد کے لئے بددعا کرنے لگتا ہے کبھی موت کی کبھی ہلاکت کی کبھی بربادی کی دعا کرتا ہے لیکن اس کا خدا خود اس سے بھی زیادہ اس پر مہربان ہے ادھر یہ دعا کرے ادھر وہ قبول فرمائے تو ابھی ہلاک ہوجائے۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ اپنی جان ومال کے لئے بد دعا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت میں ایسا کوئی کلمہ ٔ بد زبان سے نکل جائے (اور وہ بددعا اپنے خلاف ہی قبول ہوجائے) اس کی وجہ سے صرف انسان کی اضطرابی حالت اور اس کی جلد بازی ہے۔ یہ ہے ہی جلد باز۔ عجولا۔ عجل سے مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ بہت جلد باز ۔ بوجہ خبر کان منصوب ہے۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے، رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن، تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو، اور ہم نے ہر چیز کی (بخوبی) تفصیل کردی ہے

(17:12) محونا ماضی جمع متکلم۔ محر مصدر۔ باب نصر۔ ہم نے مٹا دی۔ ہم مٹا دیتے ہیں۔ ناقص واوی ہے لیکن ناقص یائی بھی آیا ہے۔ ابواب ضرب وسمع سے اور اس کا معنی بھی یہی ہے مٹانا۔ اثر زائل کرنا۔ محو کا اگرچہ اصل معنی مٹا دینا اور اثر زائل کرنے کے ہیں۔ لیکن یہاں اس سے مراد مدہم کردینا۔ یا دھندلا دینا ہے۔ فمحونا ایۃ الیل۔ ہم نے مدہم کردیا رات کی نشانی کو۔ یا دھند لابنا دیا رات والی نشانی کو۔ یعنی رات کو دن کے مقابلہ میں تاریک رکھا۔ اگر رات جزوی طور پر یا کلی طور پر چاندنی ہو تو بھی دن کے مقابلہ میں تاریک ہے اور یہ تاریکی عدم مشغولیت کے لئے ہے تا کہ رات کے وقت انسان آرام کرے جیسا کہ اور جگہ فرمایا ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ والنھار مبصرا (10:67) وہ وہی اللہ تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ تم اس میں چین پائو اور دن کو (بنایا) دکھلانے والا۔ یا اور جگہ فرمایا۔ وجعلنا الیل لباسا والنھار معاشا۔ (78:10 ۔ 11) اور ہم نے رات کو پردہ کی چیز بنادیا اور ہم نے دن کو معاش (روزی کمانے) کا وقت بنادیا۔ مبصرۃ۔ خود روشن اور دوسری چیزوں کو روشن کرنے والی ۔ اسم فاعل واحد مؤنث منصوب ۔ لتبتغوا۔ میں لام تعلیل کی ہے تبتغوا مضارع جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ ابتغاء (افتعال) سے اصل میں تبتغون تھا۔ نون اعرابی لام تعلیل کے عمل سے حذف ہوگیا۔ کہ تم تلاش کرو۔ تم ڈھونڈو تم چاہو۔ فضلا من ربکم۔ فضلا۔ روزی۔ رزق۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ (62:10) پھر جب نماز پوری ہوچکے تو زمین پر چلو پھرو۔ اور اللہ کا رزق تلاش کرو۔ الفضل۔ کے معنی کسی چیز کے اقتصاد (متوسط درجہ) سے زیادہ ہونے کے ہیں اور اس کی دو قسمیں ہیں (1) محمود۔ جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی (2) مذموم۔ جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا۔ لیکن عام طور پر الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں پر۔ جب فضل کے معنی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) برتری بلحاظ جنس کے ہو۔ جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے برتر ہونا۔ (2) یہ برتری بلحاظ نوع کے ہو جیسے نوع انسان کا نوع حیوان سے برتر ہونا۔ جیسے فرمایا ولقد کرمنا بنی ادم ۔۔ وفضلناہم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا (17:70) اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔۔ اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی۔ (3) افضلیت بلحاظ ذات۔ مثلاً ایک شخص کا دوسرے شخص سے برتر ہونا۔ اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جوہر ہوتی ہے جن میں ادنی ترقی کر کے اپنے سے اعلیٰ درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا۔ مثلاً گھوڑا اور گدھا کہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات ہے اور چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے اور یہی تیسری قسم کی فضیلت ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے : ہر وہ عطیہ جو دینے والے پر لازم نہیں آتا وہ فضل کہلاتا ہے : ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء (5:54) یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرے ۔ لتبتغوا فضلا من ربکم تاکہ تم اپنے پروردگار کا رزق تلاش کرو۔ والحساب۔ اور (دوسرے سارے) حساب۔ دنیا اور دین کے سارے کاروبار جو وقت اور زمانے سے متعلق ہیں۔ وکل شیء فصلنہ تفصیلا۔ اور ہم نے ہر (ضروری) شے کو خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے مصدر کو آخر میں تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 17:13

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو (بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا

(17:13) وکل انسان الزمنہ۔ ہم نے ہر انسان کے لئے لازم کردیا ہے ۔ ہم نے اس کے لئے لگا دیا ہے۔ الزمنا۔ ماضی جمع متکلم۔ الزام سے ہُ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع کل انسان ہے۔ طئرہ۔ ہر وہ پروں والا جانور جو فضا میں حرکت کرتا ہے اسے طائر کہتے ہیں۔ طار یطیر طیر وطیران وطیرورۃ پرندہ کا اڑنا۔ طائر کی جمع طیر ہے۔ جیسے راکب کی جمع رکب ہے۔ پرندے کے اڑنے کے معنی میں طار یطیر کا اکثر استعمال ہوا ہے مثلاً ولا طائر یطیر بجناحیہ (6:38) اور نہیں ہے کوئی پرندہ جو اپنے دونوں پروں سے اڑتا ہے (مگر یہ کہ وہ سب تمہاری ہی طرح کے گروہ ہیں) الطیر وتطیرفلان۔ اس کے اصل معنی تو کسی پرندہ سے شگون لینے کے ہیں پھر یہ ہر اس چیز کے لئے استعمال ہونے لگا جس سے برا شگون لیا جائے اور اسے منحوس سمجھا جائے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے انا تطیرنا بکم (36:18) ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔ اور ان تصبہم سیئۃ یطیروا (7:131) اگر ان کو سختی پہنچتی ہے تو بدشگونی لیتے ہیں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو باعث نحوست سمجھتے ہیں۔ اور قالوا طائرکم معکم (36:19) انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ یہاں طائر سے مراد انسان کے نیک وبداعمال ہیں جو اپنے انجام میں بطور جزو لا ینفک اس کے ساتھ لازم کر دئیے گئے ہیں۔ طئرہ اس کے اعمال کی شامت اس کی بری قسمت الزمنہ فی عنقہ محاورہ عرب میں شدت لزوم اور کمال ربط کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں۔ انسانی اعمال کو طائر اس لئے کہا گیا ہے کہ عمل کے سرزد ہونے کے بعد انسان کو یہ اختیار نہیں رہتا کہ اسے واپس لے سکے۔ گویا وہ اس کے ہاتھوں سے اڑ جاتا ہے۔ وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ اور ہم نے ہر انسان کی بری قسمت کو اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے۔ یلقہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع کتبا ہے لقی مصدر باب سمع وہ اس کو پائے گا۔ منشورا۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب۔ نشر سے۔ کھلا ہوا۔ المفردات میں ہے۔ النشر۔ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے کے ہیں۔ یہ کپڑے اور صحیفے کے پھیلانے بارش اور نعمت کے عام کرنے اور کسی بات کے مشہور کردینے پر بولا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں اور جگہ آیا ہے واذا الصحف نشرت (81:10) اور جب عملوں کے دفتر کھولے جائیں گے۔
Ayah 17:14

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

(کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے،

(17:14) اقرأ۔ تو پڑھ۔ امر ۔ واحد مذکر حاضر۔ قراء ۃ مصدر۔ باب فتح ونصر سے مستعمل ہے ! اس سے قبل یقال لہ مقدر ہے۔ ای یقال لہ اقرأ۔ اس سے کہا جائے گا پڑھ۔ کتابک۔ ای کتاب اعمالک۔ اپنا نامۂ اعمال۔ کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا۔ بنفسک میں باء زائدہ ہے۔ نفسک مضاف مضاف الیہ مل کر کفی کا فاعل ہے۔ یعنی حساب لگانے میں آج تو خود ہی کافی ہے۔ تیری اپنی ذات ہی کافی ہے (یعنی تیرا نامہ ٔ اعمال بذاب کود تجھ پر تیرے دنیاوی اعمال کی حقیقت واضح کر دے گا) کفی۔ ماضی واحد مذکر غائب ماضی بمراد استمرار ہے یعنی اس طرح کفایت کرنے والا۔ ضرورت پوری کرنے والا کہ اس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ کفایۃ مصدر۔ اسم مصدر بھی ہے۔ وہ چیز جو ضرورت کو پوری کر دے اور اس کے بعد کسی کی حاجت نہ رہے۔ اسی سے الکافی۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے کہ وہ ذات پاک ضرورت کو پوری کرنے والی ہے اور اس کے بعد کسی کی حاجت نہیں۔ حسیبا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ حساب لینے والا۔ حساب کرنے والا۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

(17:15) اھتدی۔ راہ پر آیا۔ اس نے ہدایت اختیار کی۔ اھتداء (افتعال) مصدر سے ماضی واحد مذکر غائب۔ علیھا۔ ای علیھا وبال الضلال۔ اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہے۔ لا تزر۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ وہ بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ وہ بوجھ نہیں اٹھاتی ہے وزر (باب ضرب) سے وازرۃ بوجھ اٹھانے والی۔ نفس کی رعائیت سے فاعل کو مؤنث لایا گیا ہے۔ اخری۔ اخرواخر کا مؤنث ہے۔ دوسری۔ پچھلی۔ وزر اخری۔ مضاف مضاف الیہ۔ دوسرے کا بوجھ۔ لا تزر وازرۃ وزر اخری۔ کوئی بوجھ اٹھنے والی جان کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ما کناماضی منفی جمع متکلم ہم نہیں تھے۔ یا ہم نہیں ہیں۔ نبعث۔ مضارع منصوب جمع متکلم بعث مصدر۔ (باب فتح) ہم بھیج دیں
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش) پر مامور کردیا، تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے، پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا

(17:16) امرنا۔ امر سے۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے حکم دیا۔ امرنا کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) بعض نے کہا ہے کہ امرنا بمعنی امرنا ہے یعنی ہم امیر بنا دیتے ہیں یعنی حاکم کردیتے ہیں اہل ثروت کو۔ اور وہ دولت و اقتدار کے نشے میں فسق وفجور کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (2) بعض کے نزدیک امرنا بمعنی اکثرنا ہے یعنی ہم اہل ثروت کی تعداد کثیر کردیتے ہیں اور وہ دولت کے نشے میں فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں۔ (3) بعض کے نزدیک امرنا متر فیھا کے بعد یہ عبارت مقدر ہے بالطاعۃ علی لسان الرسول یعنی ہم وہاں کے اہل ثروت اشخاص کو ان کے رسول کے ذریعہ اطاعت کا حکم دیتے ہیں لیکن وہ نافرانی کرتے ہیں۔ مترفیھا۔ اسم مفعول جمع مذکر حالت نصب۔ مضاف ھا مضاف الیہ ضمیر بستی کی طرف راجع ہے۔ اصل میں مترفین تھا اضافت کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ بستی کے دولت مند۔ اہل ثروت صاحب اقتدار لوگ۔ مترفی۔ صاحب ِ دولت ۔ اسم فاعل ۔ اتراف (افعال) سے جس کے معنی عیش و آرام دینا۔ فراغت کی زندگی دینا ہے۔ اترف زید زید کو خوش حالی دی گئی فھو مترف۔ پس وہ آسودہ حالی اور کثرت دولت سے بدمست ہے اترفتہ النعمۃ۔ عیش نے اس کو بےراہ کردیا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے واترفنہم فی الحیوۃ الدنیا (23:33) اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی۔ فحق علیھا القول۔ ای فوجب علیھا الوعید۔ پس عذاب کا فرمان ان پر واجب ہوجاتا ہے۔ القول۔ ای کلمۃ العذاب۔ فدمرنھا تد میرا۔عطف سببی کے لئے ہے دمرنا۔ فعل با فاعل ھا مفعول تد میرا۔ مصدر برائے تاکید لایا گیا ہے۔ پس ہم اس کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ دمر یدمر تدمیر (تفعیل) ہلاک کرنا۔ اکھاڑ مارنا۔ تباہی لا ڈالنا۔ اور جگہ ارشاد ہے دمر اللہ علیہم (47:10) اللہ تعالیٰ نے ان پر تباہی ڈال دی۔
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی امتوں کو ہلاک کر ڈالا اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے

(17:17) کم۔ خبریہ ہے جو مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے۔ جیسے کم رجل ضربت۔ میں نے کتنے ہی مردوں کو پیٹا۔ اس صورت میں کبھی اس کی تمیز سے پہلے من جارہ آتا ہے۔ جیسے کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ (2:249) کتنے ہی قلیل التعداد گروہ کثیر التعداد گروہوں پر غالب آگئے۔ یا کم قصمنا من قریۃ کانت ظالمۃ (21:11) اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر ڈالا۔ آیۃ ہذا میں کم خبریہ ہی استعمال ہوا ہے۔ اس کی دوسری صورت استفہامیہ ہے اس حالت میں اس کا ما بعد اسم تمیز بن کر منصوب ہوتا ہے اور اس کے معنی کتنی تعداد یا مقدار کے ہوتے ہیں۔ مثلاً کم رجلا ضربت۔ تو نے کتنے آدمیوں کو پیٹا۔ القرون۔ وہ قومیں جن میں سے ہر ایک کا زمانہ دوسری سے جدا ہو۔ قرنواحد۔ ایک زمانہ کے آدمی وہ قوم جو ایک زمانے میں ہو وکفی بربک۔ میں ب زائد ہے۔ وکفی ربک۔۔ وکفی بربک بذنوب عبادہ خبیرا بصیرا۔ اور اپنے بندوں کے گناہوں کی بابت خبر رکھنے اور ان کو دیکھنے کے لئے تیرا رب ہی کافی ہے، کسی اور کی ضرورت نہیں۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں، پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے، جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا

(17:18 ) العاجلۃ۔ جلد ملنے والی۔ دنیا اور دنیا کی آسودگی مراد ہے عجل۔ عجلۃ سے اسم فاعل واحد مؤنث ہے۔ العاجلۃ صفت ہے اس کا موصوف الدار محذوف ہے العاجلۃ سے مراد دار دنیا ہے۔ عجلناہم نے جلدی کی۔ تعجیل (تعفعیل) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ عجلنا لہ۔ ہم اس کو جلدی دیدیتے ہیں فیھا۔ ای فی تلک الدار العاجلۃ۔ ای فی الدنیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الدار العاجلۃ۔ یعنی دار دنیا ہے۔ یصلھا۔ مضارع واحد مذکر غائب وہ داخل ہوگا۔ صلی یصلی (باب فتح) باب سمعمصدر صلی ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کی طرف راجع ہے۔ یصلھا وہ اس (جہنم) میں داخل ہوگا۔ مذموما۔ اسم مفعول ۔ مذمت کیا ہوا۔ ذم یذم (نصر) ذم ومذمۃ سے برائی کرنا۔ عیب جوئی کرنا۔ مذمت کرنا۔ اذمۃ۔ کسی کو پناہ دے کر اپنی حفاظت میں لینا۔ الذمامۃ۔ کفالت۔ ذمہ داری۔ انت فی ذمۃ اللہ۔ تو اللہ کی پناہ میں ہے۔ مدحورا۔ اسم مفعول۔ ٹھکرایا ہوا۔ راندہ ہوا۔ الدحر والدحور (باب نصر) کے معنی دھتکار دینے اور دور کردینے کے ہیں۔ آیت ہذا میں لمن نرید بدل البعض ہے اور اس کا مبدل منہ لہ جس کا مرجع من ہے جو ابتداء آیت میں ہے ۔ من اور لہ اگرچہ لفظاً واحد ہیں لیکن معنی ً جمع ہیں۔ لہٰذا آیت کا ترجمہ ہوگا جو لوگ طلبگار ہیں دار دنیا کے ہم ان میں سے جس کو چاہیں جلدی ہی اس دنیا میں جتنا چاہیں دے دیتے ہیں۔ ثم جعلنا لہ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من نرید ہے۔ اور یصلھا میں ضمیر فاعل بھی من نرید کے لئے ہے۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہو اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے

(17:19) مشکورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ مقبول۔
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم ان کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں، اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں

(17:20) کلا۔ میں تنوین عوض کی ہے اصل میں کل الفریقین مضاف الیہ کو حذف کردیا گیا ہے اور اس کے عوض کلا پر تنوین آگئی۔ اس کی اور مثالیں وکل فی فلک یسبحون (36:40) اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔ اور وکلا جعلنا صالحین (21:73) اور سب کو ہم نے نیک بخت بنایا۔ مضاف مضاف الیہ کی صورتیں۔ (1) جمع معرف باللام کی طرف کل کا مضاف ہونا۔ جیسے کل القوم پوری قوم۔ (2) جمع معرف باللام کی ضمیر کی طرف مضاف ہونا۔ جیسے فسجد الملئکۃ کلہم اجمعون۔ (15:20) تو فرشتے سب کے سب سجدہ میں گرپڑے۔ (3) نکرہ مفردہ کی طرف مضاف ہونا۔ جیسے وکل انسان الزمنہ (17:13) اور ہم نے ہر انسان (کے اعمال کو بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے۔ نمد۔ مضارع جمع متکلم۔ امداد (افعال) ہم مدد دیتے ہیں۔ ہم امداد کرتے ہیں۔ ہم دیتے ہیں۔ ہم سعت کھول دیتے ہیں۔ ہم اپنا رزق اور نعمتیں مطیع وعاصی دونوں کو عطا کرتے ہیں۔ ھؤلاء وھؤلائ۔ ان کی بھی اور ان کی بھی۔ یعنی طالبان دنیا کی بھی اور طالبانِ آخرت کی بھی ۔ محظورا۔ اسم مفعول ۔ واحدمذکر۔ ممنوع۔ روکی گئی۔ بند کردی گئی۔ یعنی تیرے رب کی نعمتیں اور بخششیں کسی پر بند نہیں۔
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے، اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

(17:21) فضلنا۔ ماضی، جمع متکلم۔ ہم نے فضیلت دی ۔ (دنیاوی سازوسامان) کے عطا کرنے میں) ۔ وللاخرۃ اکبر درجت واکبر تفضیلا۔ لیکن باعتبار درجات وباعتبار فضل و کرم کے آخرت سب سے بڑھ کر ہے۔
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اور) خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بیکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے

(17:22) فتقعد۔ ورنہ تو بیٹھ رہے گا (قعود (بیٹھے رہنا) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ مخذولا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ منصوب۔ خذل وخذلان مصدر۔ بےمدد چھوڑا ہوا خذل یخذل (باب نصر) بےمدد چھوڑنا۔
Ayah 17:23

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی (کرتے رہو) ، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا

(17:23) قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضاء وقضاء مصدر۔ قضا قولی ہو یا عملی۔ بشری ہو یا الٰہی۔ بہرحال اس میں فیصلہ کردینا یا فیصلہ کرلینا۔ کسی بات کے متعلق ارادہ کرلینا۔ حکم دینا۔ یا عمل کو ختم کردینا۔ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ صلہ یا سیاق کی مناسبت سے اس کے مختلف معانی ہیں۔ حکم دینا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ مقدر کرنا۔ مقرر کرنا۔ قضی حاجتہ ضرورت پوری کرنا اور اس سے فارغ ہونا قضی وطرہ اپنی حاجت پوری کرلی۔ اپنی مراد پالی۔ قضی زید منھا وطرا۔ (33:37) زید کا دل اس عورت سے بھر گیا۔ یعنی بےتعلق ہوگیا۔ اس نے طلاق دے دی) قضی نجہ مرجانا۔ کنایۃً موت مراد ہے اصل استعمال منت پوری کرنا کے لئے ہے۔ وبالوالدین احسانا۔ ای احسنوا بالوالدین احسانا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اما۔ ان ما ہے ان شرطیہ ہے ما زائدہ ہے تاکید کے لئے آیا ہے۔ اگر۔ یبلغن۔ بلغ یبلغ (نصر) سے مضارع بانون ثقیلہ واحد مذکر غائب وہ پہنچ جائے الکبراسم مصدر منصوب۔ پیرانہ سالی۔ بڑھاپا کلا۔ تاکید۔ تثنیہ مذکر کے لئے آتا ہے یعنی دونوں (مذکر) یہ لفظ لفظاً مفرد ہے اور معنی کے اعتبار سے تثنیہ۔ اس لئے مفرد بھی مستعمل ہے اور تثنیہ بھی۔ بغیر مضاف الیہ کے مستعمل نہیں۔ اگر مضاف الیہ اسم ظاہر ہو تو رفع، نصب، جر۔ ہر حالت میں اس کا الف باقی رہتا ہے۔ جیسے جاء کلا الرجلان ورأیت کلا الرجلین ومررت بکلا الرجلین۔ مگر جب مضاف الیہ ضمیر ہو تو حالت رفع میں کلاہما اور حالت نصب وجر میں کلیھما (یاء کے ساتھ ) آئے گا۔ جیسے رأیت الرجلین کلیھما۔ کلتا۔ دونوں (مؤنث) تاکید مؤنث کے لئے ہے۔ اس کا استعمال بھی کلا کی طرح ہے لیکن جب ان (کلا۔ کلتا) کی طرف ضمیر راجع ہو تو ان کا لفظ مفرد ہونے کی وجہ سے مفرد کا صیغہ لایا جاتا ہے جیسے زید وعمروکلاہما قائم یا کلتا الجنتین اتت اکلھا (18:33) دونوں باغ اپنا پورا پورا پھل لائے۔ لا تنھر۔ فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر، تو مت ڈانٹ۔ تو مت جھڑک۔ نھرمصدر باب فتح۔
Ayah 17:24

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار ! جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت) سے پرورش کیا ہے تو بھی ان (کے حال) پر رحمت فرما

(17:24) اخفض۔ خفض مصدر سے۔ باب ضرب۔ تو جھکا دے۔ تو نرمی اختیار کر۔ جناح الذل۔ مضاف مضاف الیہ۔ تواضع اور انکسار کے پر ۔ جناح بازو۔ اجنحۃ جمع۔ پرندہ کا پر۔ کسی شے کی جانب اور پہلو۔ بازو اور ہاتھ کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً ولا طائر یطیر بجناحیہ (6:38) اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے دو پروں سے، اور واضمم یدک الی جناحک (20:22) اور ملالے اپنا ہاتھ اپنے پہلو سے اور واضمم الیک جناحک من الرھب (28:32) اور خوف (دفع کرنے) کے واسطے اپنا بازو پھر اپنے سے ملا لینا۔ واخفض لہما جناح الذل من الرحمۃ۔ اور ان دونوں کے لئے ذلت کا بازو مہربانی سے بچھا دے۔ ذلت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک ذلت انسان کو گراتی ہے۔ دوسری سے مرتبہ بجائے گھٹنے کے بڑھتا ہے۔ جابر کے سامنے جھک جانا اول الذکر میں شامل ہے۔ لیکن کمزور کے سامنے نرمی اختیار کرنا مؤخرالذکر میں شامل ہے۔ یہاں یہ دوسری قسم کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں رحمت بمعنی شفقت ہے۔ ذل۔ ذل یذل (ضرب) کا مصدر ہے۔ توا ضع، عاجزی۔ رب۔ اصل میں ربی تھا اس سے قبل یا حرف ندا۔ مقدر ہے تخفیف کے لئے یا ساقط ہوگیا ہے۔ کما ربینی۔ جیسا کہ (پیارو محبت سے) ان دونوں نے مجھے پالا تھا۔
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے، اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے

(17:25) اوابین۔ اواب۔ بہت رجوع ہونے والا۔ اوب سے جس کے معنی رجوع ہونے کے ہیں۔ مبالغہ کا صیغہ بروزن فعال یہاں اپنے تمام اقوال و افعال ۔ حرکات و سکنات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا اور اس کا مطیع ہونا مراد ہے۔ اوابین۔ اواب کی جمع ہے بہت رجوع کرنے والے۔ یعنی وہ جو گناہ سے توبہ کی طرف اور برائیوں سے اچھائیوں کی طرف رجوع کریں۔
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ

(17:26) ات۔ ایتاء سے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو دے۔ لا تبذر۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تبذیر (تفعیل) سے تو فضول خرچی نہ کر۔ تبذیرامصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفران کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

(17:27) المبذرین۔ فضول خرچ۔ فضول برباد کرنے والے۔ یذر۔ بیج جو کھیت میں بکھیرا جاتا ہے اسی رعایت سے مال کو (فضول) بکھیرنے والے کو مبذر کہتے ہیں۔ بذر یبذر (نصر) بکھیرنا۔ کفورا۔ صفت مشبہ۔ منصوب۔ نکرہ۔ ناشکرا۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تم اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو تو ان سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو

(17:28) تعرضن۔ مضارع بانون ثقیلہ۔ واحد مذکر حاضر۔ اعراض (افعال) مصدر تو منہ پھیر لے۔ تو تغافل کرے (یعنی عدم استطاعت کی وجہ سے اعراض پر مجبور ہوجائے۔ ابتغائ۔ بروزن (افتعال) بمعنی چاہنا۔ تلاش کرنا (سخت کو شی کے لئے مخصوص ہے) یہ منصوب بوجہ مفعول لہٗ ہونے کے ہے۔ ابتغاء رحمۃ۔ رحمت کی تلاش۔ اللہ کی طرف سے رحمت کی امید۔ ترجوھا۔ جس کی تو توقع اور امید رکھتا ہے رجاء سے (نصر) ھاضمیر واحد مؤنث غائب جو رحمۃ کی طرف راجع ہے۔ میسورا۔ اسم مفعول واحد مذکر یسر سے۔ آسان ۔ نرم۔ عسر کی ضد۔ آیت کا ترجمہ ہوا۔ اگر اپنے رب کی طرف سے متوقع خوشحالی کی تلاش وجدوجہد کے دوران میں وقتی طور پر تنگدستی کی وجہ سے تجھے ان سے تغافل برتنا پڑے تو ان کے ساتھ نرم گفتاری کا سلوک کر۔ (ان سے مراد وہ حقدار ہیں جن کا ذکر ابھی اوپر گذرا ہے) ۔
Ayah 17:29

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کو کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل ہی کھول دو (کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور انجام یہ ہو کہ) ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ

(17:29) مغلولۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ منصوب، بالکل بندھا ہوا۔ مغلولۃ الی عنق گردن سے بندھا ہوا۔ ہاتھوں کا گردن سے بندھا ہونا کے معنی دینے کے لئے کھلنے سے قاصر ہونا۔ لہٰذا بخیل کو کہیں گے کہ اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھ رہے ہیں۔ غل کے معنی ہیں باندھنا۔ جکڑنا۔ طوق۔ ہتھکڑی وغیرہ۔ ارشادہ ربانی ہے، خذوہ فغلوہ (29:30) پکڑو اس کو اور طوق پہنائو اس کو۔ ولا تبسطھا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اور نہ ہی اسے (اپنے ہاتھ کو) بالکل کھول دے۔ فتقعد۔ تو بیٹھ جائے گا۔ ملاحظہ ہو 17:22 ۔ ملوما۔ اسم مفعول ۔ واحد مذکر۔ لوم مادہ۔ ملامت زدہ ۔ ملامت کیا ہوا۔ محسورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ حسرت زدہ۔ پر افسوس۔ درماندہ۔ حیران ۔ حسر یحسر (نصر) حسر یحسر (ضرب) لازم۔ نگاہ کا تھک جانا۔ برہنہ ہوجانا۔ پہلی مثال ینقلب الیک البصر خسئا وحسیر (67:4) نگاہ ذلیل اور تھکی ماندی تیری طرف لوٹ آئے گی۔ اور متعدی تھکادینا یا برہنہ کردینا۔
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے، وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

17:30) یبسط۔ کھول دیتا ہے۔ مضارع واحد مذکر غائب کشادہ کردیتا ہے۔ یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ قدر مصدر (باب ضرب) وہ تنگ کرتا ہے۔ قد رعلی عیالہ اس نے اپنے اہل و عیال پر تنگی کی و قدرت علیہ الشیٔ۔ میں نے اس پر تنگی کردی گویا وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی۔ (بغیر حساب وبے اندازہ نہیں دی گئی)
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف قتل نہ کرنا (کیوں کہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں، کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

(17:31) خشیۃ۔ خوف۔ ڈر۔ ہیبت۔ خشیۃ اس خوف کو کہتے ہیں جس میں تعظیم شامل ہو۔ اسی بناء پر آیۃ شریفہ انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤ(35:28) اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو عالم ہیں۔ اس میں علماء کو خشیت سے مخصوص کیا گیا ہے املاق۔ مصدر (افعال) سے مفلس اور تنگ دست ہونا۔ فقروفاقہ۔ خشیۃ املاق مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول لہٗ ہے لا تقتلواکا۔ خطا۔ گناہ ۔ چوک۔ جرم۔ خطائ۔ خطیٔ یخطأ (سمع) کا مصدر ہے بمعنی گناہ کرنا کے آتا ہے۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

(17:32) فاحشۃ۔ الفحش والفحشاء والفاحشۃ۔ اس قول یا فعل کو کہتے ہیں جو قباحت میں حد سے بڑھا ہوا ہو۔ ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسرے پر پڑے۔ آیات الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ (4:19) ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں۔ اور والتی یاتین الفاحشۃ من نشائکم (4:5) تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں۔ ان دونوں آیات میں مراد زنا ہے۔ فاحشۃ منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بہ فتوی شریعت) اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا (کہ ظالم قاتل سے بدلا لے) تو اس کو چاہیے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصور و فتحیاب ہے۔

(17:33) ولیہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا ولی ۔ اس کا وارث۔ جیسا کہ آیت شریف میں آیا ہے۔ ھب لی من لدنک ولیا (19:5) مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔ قرآن مجید میں اور جگہ بمعنی مددگار۔ دوست ۔ رفیق بھی آیا ہے۔ سلطنا۔ برہان۔ دلیل۔ سند۔ اختیار۔ زور۔ قوت۔ حجت۔ حکومت۔ مادہ سلط۔ فقط جعلنا لولیہ سلطنا۔ تو ہم نے مقتول کے وارث کو (قصاص کے مطالبہ کا) حق دے دیا ہے ۔ لا یسرف۔ فعل نہی واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل ولی کی طرف راجع ہے۔ فلا یسرف فی القتل پس اسے چاہیے کہ قتل کے باب میں حد سے آگے نہ بڑھے۔ یعنی قتل کا بدلہ اگر قتل ہی لینا ہے تو قاتل کے سوا دوسرے کو قتل نہ کرے۔ اور نہ ہی ایک قتل کے بدلہ میں ایک سے زیادہ مخالفین کو قتل کرے : انہ کان منصورا۔ ضرور اس کی مدد کی جائے گی۔ ہٗ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع کون ہے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں : (1) اس کا مرجع مقتول ہے کہ دنیا میں اس کے قتل کا قصاص یا دیت دلانے میں اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں حکم فرمایا اور آخرت میں وہ ثواب کا حق دار ہوگا۔ (2) اس کا مرجع ولی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقتول کا قصاص لینے کا اختیار دیا اور دوسروں کو قصاص حاصل کرنے میں اس کی مدد کرنے کا حکم دیا۔ (3) اس کا مرجع وہ مقتول ہے جسے ولی نے اسراف کا ارتکاب کرتے ہوئے قتل کردیا ہو۔ اس صورت میں مقتول ناحق کی امداد میں ولی مسرف پر قصاص یا دیت کی ادائیگی لازم آئے گی۔
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔

(17:34) لا تقربوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم قریب نہ جائو۔ تم پاس نہ جائو۔ تم ہاتھ میں نہ لو۔ الا بالتیھی احسن۔ ای الا بالطریقۃ التیھی احسن۔ بجز اس طریق کے جو (مالِ یتیم کی حفاظت ومنفعت کے بارہ میں) بہتر ہو۔ یبلغ اشدہ۔ اپنے سن پختگی کو پہنچ جائے۔ واوفوا بالعھد۔ تم عہد کی پابندی کرو۔ عہد کو پورا کرو۔ ایفائے عہد کرو یہ حکم یتیم کے ولی کے لئے ہے۔ کیونکہ جب وہ کسی کی سرپرستی قبول کرتا ہے تو خدا اور بندوں سے مال یتیم کی حفاظت کا عہد کرتا ہے۔ جس کا بجا لانا اس کا فرض ہے۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب (کوئی چیز) ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کردو) تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔

(17:35) اوفوا۔ تم پورا کرو۔ تم ایفا کرو۔ ایفاء (افعال) مصدر۔ امر ۔ جمع مذکر حاضر۔ الکیل۔ مصدر۔ پیمانے سے غلہ وغیرہ کا ماپنا۔ اوفوا الکیل۔ جب ماپو تو پورا پورا ماپ دو ۔ مراد غلہ ہے۔ کلتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ کیل مصدر اصل میں کیلتم تھا۔ باب ضرب اذا کلتم جب تم پیمانہ بھر کردو۔ یا کوئی چیز غلہ وغیرہ پیمانہ سے ماپ کردو۔ اوفوا۔ تو پورا پورا دو ۔ القسطاس۔ ترازو، یہ لفظ رومی ہے۔ قسطاس المستقیم۔ انصاف کی ترازو۔ صحیح ترازو۔ تاویلا۔ انجام کار۔ مصدر ہے اول سے جس کے معنی اصل کی طرف لوٹنے کے ہیں اسی لئے جائے بازگشت کو موئل کہت ہیں۔ تاویل کے معنی کسی چیز کو اس کی غایت کی طرف لوٹانے کے ہیں جو اس سے بلحاظ علم یا عمل کے مقصود ہوتی ہے۔ چناچہ غایت علمی کے متعلق فرمایا وما یعلم تاویلہ الا اللہ (3:6) حالانکہ اس کی مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ غایت عملی کے متعلق فرمایا ھل ینظرون الا تاویلہ یوم یاتی تاویلہ (7:53) اب وہ صرف اس کی تاویل یعنی وعدۂ عذاب کے انجام کار کا انتظار کر رہے ہیں جس دن اس وعدۂ عذاب کے نتائج سامنے آئیں گے۔ یعنی اس دن سے جو غایت مقصود ہے وہ عملی طور پر ان کے سامنے آجائے گی۔
Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔

(17:36) لا تقف۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ جس شے کا تجھے علم نہیں تو اس کے پیچھے نہ پڑ۔ تو اس کے درپے مت ہو۔ قفو (باب نصر) سے۔ جس کے معنی اصل میں تو کسی کے پیچھے چلنے اور درپے ہونے کے ہیں۔ اور اسی لئے اتباع اور پیروی کرنے کے معنی میں آتا ہے (یعنی اپنے کان ۔ آنکھ اور دل کا مکمل اور صحیح استعمال کرنے کے بعد فیصلہ کر) ۔ القفا کے معنی گدی کے ہیں اور قفوتہ کے معنی کسی کی گردن پر مارنا اور کسی کے پیچھے چلنا کے ہیں۔ کل اولئک۔ یہ سب کے سب۔ اولئک کا اشارہ مجموعاً السمع والبصر والفؤاد کی طرف ہے۔ اور عنہ کا اشارہ فرداً فرداً ان کی طرف ہے ای کل واحد منھا کان مسئولا عنہ۔ ان میں سے ہر ایک کے متعلق پوچھ گچھ ہوگی۔
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا۔

(17:37) لا تمش۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو نہ چل۔ تو مت چل۔ مشی یمشی (ضرب) سے۔ مشی مصدر۔ مرحا۔ المرح کے معنی ہیں بہت زیادہ اور شدت کی خوشی جس میں انسان اترانے لگے مرحا اترا کر۔ نخوت و تکبر سے۔ لا تمش سے حال ہے۔ لن تخرق مضارع نفی تاکید بلن۔ تو نہیں پھاڑ سکتا۔ تو نہیں پھاڑے گا۔ تخرق منصوب بوجہ عمل لن کے ہے۔ الخرق (ضرب) کسی چیز کو بلا سوچے سمجھے بگاڑنے کے لئے پھاڑ ڈالنا۔ خلق کی ضد ہے جس کے معنی اندازہ کے مطابق خوش اسلوبی سے کسی چیز کو بنانے کے ہیں اور خرق کسی چیز کو بےقاعدگی سے پھاڑ ڈالنا کے ہیں۔ خرق۔ شگاف۔ سوراخ ۔ بےآب وگیاہ بیابان۔ اور خرقۃ کپڑے کا چیتھڑا ۔ دھجی۔ لن تبلغ۔ بلغ یبلغ (نصر) سے مضارع نفی تاکید بہ لن۔ تو نہیں پہنچ سکے گا۔ یا تو نہیں پہنچے گا۔ طولا۔ لمبائی میں۔ بلندی میں۔ طولاکا نصب بوجہ تمیز کے ہے یا یہ لن تبلغ کا مفعول لہٗ ہے یا فاعل یا مفعول (الجبال) سے حال ہے۔
Ayahs 17:38–39

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔

(17:38) کل ذلک۔ یہ سب اس کا اشارہ اوامرونواہی کی طرف ہے جن کا ذکر آیۃ 12 لا تجعل مع اللہ سے شروع ہو کر آیۃ 37 تک مذکور ہے۔ سیئہ عن ربک مکروھا۔ یعنی ہر حکم میں جو چیز ممنوع ہے اس کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے یا دوسرے الفاظ میں جس حکم کی بھی نافرمائی کی جائے وہ ناپسندیدہ ہے۔ ذلک۔ یہ تمام باتیں جو آیۃ 21 سے لے کر یہاں تک مذکور ہیں۔ ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمۃ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تیری طرف وحی کی ہیں۔ لا یجعل مع اللہ الھا اخر۔ اسی جملہ سے ان حکمت کی باتوں کا آغاز آیۃ 21 سے ہوا تھا۔ اور اسی پر اس پندو نصائح کو ختم کیا گیا کیونکہ توحید ہی راس الحکمۃ ہے اور شرک بدترین گناہ۔ فتلقی۔ کہ تو ڈالا جائے یا ڈالا جائے گا۔ القاء سے مضارع مجہول واحد مذکر حاضر۔ ملوما۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 29 سورة ہذا۔ مدحورا۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 18 سورة ہذا۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہار پروردگار نے تم کو تو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول) بات کہتے ہو۔

(17:40) افاصفکم۔ ا۔ برائے استفہام انکاری ہےعطف کا ہے جس کا عطف کلام مقدر افضلکم علی جنابہ پر ہے۔ اصفکم۔ اصفی یصفی اصفاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ اس نے چن لیا اس نے منتخب کرلیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہے جس کا مرجع وہ لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ افاصفکم کیا (اے مشرکو جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو اللہ نے تم کو اپنی ذات پر فضیلت دیتے ہوئے) تم کو (بیٹوں کے لئے) انتخاب کرلیا (اور اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا) ۔ یعنی ایک تو اللہ تعالیٰ کا صاحب اولاد ہونا ہی کیا کم افتراء ہے کہ مزید برآں اس کی اولاد بھی بیٹیاں قرار دیتے ہو جن کا انتساب خود اپنی جانب باعث ننگ و تحقیر سمجھتے ہو۔ اناثا۔ انثی کی جمع ہے مادہ مؤنث عورتیں۔ بیٹیاں۔ اصل میں انثی اور ذکر عورت اور مرد کی شرمگاہوں کے نام ہیں پھر اس معنی کے لحاظ سے مجازًا یہ دونوں نر اور مادہ پر بولے جاتے ہیں۔ مثلاً ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی (4:124) مرد یا عورت میں سے جو بھی نیک کام کرے گا۔