Ayah 17:11 یعنی اس کی ذات نقص و قصور اور ہر قسم کے ضعف و عجز سے پاک ہے جو بات ہمارے خیال میں بےانتہا عجیب معلوم ہو اور ہماری ناقص عقلیں اسے بیحد مستبعد سمجھیں، خدا کی قدرت و مشیت کے سامنے وہ کچھ بھی مشکل نہیں۔
2 یعنی صرف ایک رات کے محدود حصہ میں اپنے مخصوص ترین اور مقرب ترین بندہ (محمد رسول اللہ ﷺ کو حرم مکہ سے بیت المقدس تک لے گیا۔ اس سفر کی غرض کیا تھی ؟ آگے لِنُرِیَہ مِنْ اٰیتِنَا میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ خود اس سفر میں یا " بیت المقدس " سے آگے کہیں اور لیجا کر اپنی قدرت کے عظیم الشان نشان اور حکیمانہ انتظامات کے عجیب و غریب نمونے دکھلانے منظور تھے۔ سورة نجم میں ان آیات کا کچھ ذکر کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ " سدرۃ المنتہیٰ " تک تشریف لے گئے اور نہایت عظیم الشان آیات کا مشاہدہ فرمایا۔ (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى 13 ۙ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى 14 عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى 15ۭ اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى 16ۙ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى 17 لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى 18) 53 ۔ النجم :13 تا 18) علماء کی اصطلاح میں مکہ سے بیت المقدس تک کے سفر کو " اسراء " اور وہاں سے اوپر ' سدرۃ المنتہیٰ " تک کی سیاحت کو " معراج " کہتے ہیں۔ اور بسا اوقات دونوں سفروں کے مجموعہ کو ایک ہی لفظ " اسراء " یا " معراج " سے تعبیر کردیا جاتا ہے۔ معراج کی احادیث تیس صحابہ سے منقول ہیں جن میں معراج و اسراء کے واقعات بسط و تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ جمہور سلف و خلف کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور پر نور ﷺ کو حالت بیداری میں بجسدہ الشریف معراج ہوئی۔ صرف دو تین صحابہ وتابعین سے منقول ہے کہ واقعہ اسراء و معراج کو منام (نیند) کی حالت میں بطور ایک عجیب و غریب خواب کے مانتے تھے۔ چناچہ اسی سورة میں آگے چل کر جو لفظ (وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ) 17 ۔ الاسراء :60) آتا ہے اس سے یہ حضرات استدلال کرتے ہیں۔ سلف میں سے یہ کسی کا قول نہیں کہ معراج حالت بیداری میں محض روحانی طور پر ہوئی ہو۔ جیسا کہ بعض حکماء و صوفیہ کے مذاق پر تجویز کیا جاسکتا ہے۔ روح المعانی میں ہے " وَلَیْسَ مَعْنَی الْاَسْرَاء بالرُّوْحِ الذَّہَابُ یَقْظَۃ ً کَالْاِ نْسِلَاخِ الَّذِیْ ذَہَبَ اِلَیْہَ الصُّوْفِیَۃُ وَالْحُکَمَاءُ فَاِنَّہ، وَاِنْ کَانَ خَارِقَا لِّلْعَادَۃِ وَمَحَلاًّ للْتَعْجب اَیْضًا اِلَّا اَنَّہ اَمْرً لَا تَعْرِفُہُ الْعَرَبُ وَلَمْ یَذْہَبْ اِلَیْہِ اَحَدٌ مِّنَ السَّلَفِ " بیشک ابن قیم نے زادالمعاد میں عائشہ صدیقہ، معاویہ اور حسن بصری ؓ کے مسلک کی اس طرح توجیہ کی ہے۔ لیکن اس پر کوئی نقل پیش نہیں کی۔ محض ظن وتخمین سے کام لیا ہے۔ ابن اسحاق وغیرہ نے جو الفاظ ان بزرگوں کے نقل کیے ہیں ان میں کہیں حالت بیداری کی تصریح نہیں۔ بہرحال قرآن کریم نے جس قدر اہتمام اور ممتاز درخشاں عنوان سے واقعہ " اسراء " کو ذکر فرمایا اور جس قدر جدّ و مستعدی سے مخالفین اس کے انکار و تکذیب پر تیار ہو کر میدان میں نکلے، حتیٰ کہ بعض موافقین کے قدم بھی لغزش کھانے لگے یہ اس کی دلیل ہے کہ واقعہ کی نوعیت محض ایک عجیب و غریب خواب یا سیر روحانی کی نہ تھی۔ روحانی سیر و انکشاف کے رنگ میں آپ کے جو دعاوی ابتدائے بعثت سے رہے ہیں، دعوائے اسراء کفار کے لیے کچھ ان سے بڑھ کر تعجب خیز و حیرت انگیز نہ تھا جو خصوصی طور پر اس کو تکذیب و تردید اور استہزاء و تمسخر کا نشانہ بناتے اور لوگوں کو دعوت دیتے کہ آؤ، آج مدعی نوبت کی ایک بالکل انوکھی بات سنو، نہ آپ کو خاص اس واقعہ کے اظہار پر اس قدر متفکر و مشوش ہونے کی ضرورت تھی جو بعض روایات صحیحہ میں مذکور ہے۔ بعض احادیث میں صاف لفظ ہیں " ثُمَّ اَصْبَحْتُ بِمَکَّۃَ یَاثُمَّ اَتَیْتُ مَکَّۃَ " (پھر صبح کے وقت میں مکہ پہنچ گیا) اگر معراج محض کوئی روحانی کیفیت تھی تو آپ مکہ سے غائب ہی کہاں ہوئے۔ اور شداد بن اوس وغیرہ کی روایت کے موافق بعض صحابہ کا یہ دریافت کرنا کیا معنی رکھتا ہے کہ " رات میں قیام گاہ پر تلاش کیا، حضور کہاں تشریف لے گئے تھے "؟ ہمارے نزدیک " اسری بعبدہ " کے یہ معنی لینا کہ " خدا اپنے بندہ کو خواب میں یا محض روحانی طور پر مکہ سے بیت المقدس لے گیا۔ " اس کے مشابہ ہے کہ کوئی شخص " فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ " کے یہ معنی لینے لگے کہ " اے موسیٰ میرے بندوں (بنی اسرائیل) کو خواب میں یا محض روحانی طور پر لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ یا سورة " کہف " میں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا حضرت خضر (علیہ السلام) کی ملاقات کے لیے جانا اور ان کے ہمراہ سفر کرنا جس کے لیے کئی جگہ " فَانْطَلَقَا " کا لفظ آیا ہے، اس کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ یہ سب کچھ محض خواب میں یا بطور روحانی سیر کے واقع ہوا تھا۔ باقی لفظ " رؤیا " جو قرآن میں آیا، اس کے متعلق ابن عباس ؓ فرماچکے ہیں۔ " رُوْیَا عَیْنٍ اُرِیَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ " مفسرین نے کلام عرب سے اس کے شواہد پیش کیے ہیں کہ " رؤیا " کا لفظ گاہ بگاہ مطلق رویت (دیکھنے) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہذا اگر اس سے مراد یہ ہی اسراء کا واقعہ ہے تو مطلق نظارہ کے معنی لیے جائیں جو ظاہری آنکھوں سے ہوا تاکہ ظاہر نصوص اور جمہور امت کے عقیدہ کی مخالفت نہ ہو۔ ہاں شریک کی روایت میں بعض الفاظ ضرور ایسے آئے ہیں جن سے " اسراء " کا بحالت نوم واقع ہونا معلوم ہوتا ہے مگر محدثین کا اتفاق ہے کہ شریک کا حافظہ خراب تھا، اس لیے بڑے بڑے حفاظ حدیث کے مقابلہ میں ان کی روایت قابل استناد نہیں ہوسکتی۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری کے اواخر میں حدیث شریک کے اغلاط شمار کرائے ہیں اور یہ بھی بتلایا ہے کہ ان کی روایت کا مطلب ایسا لیا جاسکتا ہے جو عام احادیث کے مخالف نہ ہو۔ اس قسم کی تفاصیل ہم یہاں درج نہیں کرسکتے۔ شرح صحیح مسلم میں یہ مباحث پوری شرح و بسط سے درج کیے ہیں۔ یہاں صرف یہ بتلانا ہے کہ مذہب راجح یہی ہے کہ معراج و اسراء کا واقعہ حالت بیداری میں بجسدہ الشریف واقع ہوا۔ ہاں اگر اس سے پہلے یا بعد خواب میں بھی اس طرح کے واقعات دکھلائے گئے ہوں تو انکار کرنے کی ضرورت نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک شب میں اتنی لمبی مسافت زمین و آسمان کی کیسے طے کی ہوگی یا کرہ نار و زمہریر میں سے کیسے گزرے ہوں گے۔ یا اہل یورپ کے خیال کے موافق جب آسمانوں کا وجود ہی نہیں تو ایک آسمان سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے پر اس شان سے تشریف لے جانا جو روایات میں مذکور ہے کیسے قابل تسلیم ہوگا۔ لیکن آج تک کوئی دلیل اس کی پیش نہیں کی گئی کہ آسمان واقع میں کوئی شے موجود نہیں۔ اگر ان لوگوں کا یہ دعویٰ بھی تسلیم کرلیا جائے کہ یہ نیلگونی چیز جو ہم کو نظر آتی ہے فی الحقیقت آسمان نہیں ہے۔ تب بھی اس کا کیا ثبوت ہے کہ اس نیلگونی رنگ کے اوپر آسمانوں کا وجود نہیں ہوسکتا۔ رہا ایک رات میں اتنا طویل سفر طے کرنا تو تمام حکماء تسلیم کرتے ہیں کہ سرعت حرکت کے لیے کوئی حد نہیں ہے۔ اب سے سو برس پیشتر تو کسی کو یہ بھی یقین نہیں آسکتا تھا کہ تین سو میل فی گھنٹہ چلنے والی موٹر تیار ہوجائے گی۔ یا دس ہزار فٹ کی بلندی تک ہم ہوائی جہاز کے ذریعہ پرواز کرسکیں گے۔ " اسٹیم " اور " قوت کہربائیہ " کے یہ کرشمے کس نے دیکھے تھے۔ کرہ نار تو آجکل ایک لفظ بےمعنی ہے۔ ہاں اوپر جا کر ہوا کی سخت برودت وغیرہ کا مقابلہ کرنے والے آلات طیاروں میں لگا دیئے گئے ہیں جو اڑنے والوں کی زمہریر سے حفاظت کرتے ہیں۔ یہ تو مخلوق کی بنائی ہوئی مشینوں کا حال تھا۔ خالق کی بلاواسطہ پیدا کی ہوئی مشینوں کو دیکھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ زمین یا سورج چوبیس گھنٹہ میں کتنی مسافت طے کرتے ہیں۔ روشنی کی شعاع ایک منٹ میں کہاں سے کہاں پہنچتی ہے۔ بادل کی بجلی مشرق میں چمکتی اور مغرب میں گرتی ہے۔ اور اس سرعت سیر و سفر میں پہاڑ بھی سامنے آجائے تو پرکاہ کے برابر حقیقت نہیں سمجھتی۔ جس خدا نے یہ چیزیں پیدا کیں کیا وہ قادر مطلق اپنے حبیب ﷺ کے براق میں ایسی برق رفتاری کی کلیں اور حفاظت و آسائش کے سامان نہ رکھ سکتا تھا جن سے حضور بڑی راحت و تکریم کے ساتھ چشم زدن میں ایک مقام سے دوسرے مقام کو منتقل ہو سکیں۔ شاید اسی لیے واقعہ " اسراء " کا بیان لفظ " سبحان الذی " سے شروع فرمایا، تاکہ جو لوگ کوتاہ نظری اور تنگ خیالی سے حق تعالیٰ کی لامحدود قوت کو اپنے وہم وتخمین کی چہار دیواری میں محصور کرنا چاہتے ہیں، کچھ اپنی گستاخیوں اور عقلی ترک تازیوں پر شرمائیں۔
نہ ہر جائے مرکب تواں تاختن
کہ جاہا سپر باید انداختن
3 یعنی جس ملک میں مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) واقع ہے وہاں حق تعالیٰ نے بہت سی ظاہری و باطنی برکات رکھی ہیں۔ مادی حیثیت سے چشمے، نہریں، غلے، پھل اور میووں کی افراط، اور روحانی اعتبار سے دیکھا جائے تو کتنے انبیاء و رسل کا مسکن و مدفن اور ان کے فیوض و انوار کا سرچشمہ رہا ہے۔ شاید نبی کریم ﷺ کو وہاں لے جانے میں یہ بھی اشارہ ہوگا کہ جو کمالات انبیاء بنی اسرائیل وغیرہ پر تقسیم ہوئے تھے آپ کی ذات مقدس میں وہ سب جمع کردیے گئے، جو نعمتیں بنی اسرائیل پر مبذول ہوئی تھیں، ان پر اب بنی اسماعیل کو قبضہ دلایا جانے والا ہے۔ " کعبہ " اور " بیت المقدس " دونوں کے انوار و برکات کی حامل ایک ہی امت ہونے والی ہے۔
احادیث معراج میں تصریح ہے کہ بیت المقدس میں تمام انبیاء (علیہم السلام) نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ گویا حضور ﷺ کو جو سیادت و امامت انبیاء کا منصب دیا گیا تھا اس کا حسی نمونہ آپ کو اور مقربین بارگاہ کو دکھلایا گیا۔
4 یعنی اصل سننے والا اور دیکھنے والا خدا ہے۔ وہ جسے اپنی قدرت کے نشان دکھلانا چاہے دکھلا دیتا ہے۔ اس نے اپنے حبیب محمد ﷺ کی مناجات کو سنا اور احوال رفیعہ کو دیکھا۔ آخر معراج شریف میں " بِیْ یُبْصِرُ " والی آنکھ سے وہ آیات عظام دکھلائیں، جو آپ کی استعداد کامل اور شان رفیع کے مناسب تھیں۔
Ayah 17:25 نبی کریم ﷺ کا فضل و شرف بیان فرما کر سلسلہ کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کی طرف منتقل کردیا گیا۔ چونکہ " اسراء " کے ذیل میں ' مسجد اقصیٰ " (بیت المقدس) تک جانا مذکور ہوا تھا، آگے " مسجد اقصیٰ " اور اس کے قدیم متولیوں (بنی اسرائیل) پر جو مختلف دور گزرے، مسلمانوں کی عبرت اور خود بنی اسرائیل کی نصیحت کے لیے ان کا بیان کیا جاتا ہے، یہ آیت اسی کی تمہید ہے۔ واقعہ " اسراء " میں اشارہ تھا کہ حجازی پیغمبر کی امت ہی آئندہ اس امانت الٰہی کی مالک بننے والی ہے جو شام کی مبارک سرزمین میں ودیعت کی گئی تھی۔ ان آیات میں بنی اسرائیل کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر خیریت چاہتے ہیں تو اب پیغمبر عربی ﷺ کی پیروی کرو، حق تعالیٰ ان کے حال پر مہربانی فرمائے گا۔ ورنہ پہلے کی طرح پھر شرارتوں پر سزا ملے گی اور مسجد اقصیٰ کی تولیت سے محروم کردیئے جائیں گے۔
6 یعنی تورات میں یہ ہدایت کی گئی تھی کہ خالص توحید پر قائم رہیں اور خدا کے سوا کسی کو کارساز نہ سمجھیں ہمیشہ اسی پر بھروسہ اور توکل کریں۔
Ayah 17:37 یعنی تم ان کی اولاد ہو جو نوح کے ساتھ کشتی پر سوار ہو کر عذاب الٰہی سے بچے تھے۔ جو احسان تمہارے بڑوں پر کیا گیا اسے فراموش مت کرو۔ دیکھو نوح (علیہ السلام) جن کی اولاد میں تم ہو کیسے احسان شناس اور شکر گذار بندے تھے۔ تم کو بھی ان ہی کی راہ پر چلنا چاہیے۔
Ayah 17:48 تورات میں یا کسی دوسری آسمانی کتاب میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ یہ قوم (بنی اسرائیل) دو مرتبہ ملک میں سخت خرابی پھیلائے گی اور ظلم وتکبر کا شیوہ اختیار کر کے سخت تمردو سرکشی کا مظاہرہ کرے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور ہر مرتبہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دردناک سزا کا مزہ چکھنا پڑا۔ جس کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayah 17:59 یعنی جن کو ہم نے سزا دینے کے لیے تم پر مسلط کیا تھا۔
10 یعنی بستی میں مکانوں کے اندر گھس کر خوب کشت و خون اور لوٹ کھسوٹ کی۔ اس طرح خدا نے سزا دہی کا جو وعدہ کیا تھا پورا ہو کر رہا۔
Ayah 17:611 یعنی جب تم ہماری طرف رجوع ہوئے اور توبہ وانابت کا طریقہ اختیار کیا ہم نے پھر ایک مرتبہ تم کو دشمنوں پر غالب کیا۔
Ayah 17:71 یعنی بھلائی برائی کا جو کچھ نفع نقصان پہنچنا تھا تم ہی کو پہنچتا تھا، سو پہنچا۔
2 یعنی مار مار کر تمہارے منہ بگاڑ دیئے۔ اور " مسجد اقصیٰ " (بیت المقدس) میں گھس کر پہلے کی طرح اودھم مچائی ہیکل وغیرہ کو تباہ کردیا۔ اس طرح " بنی اسرائیل " کی قوت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگیا۔
Ayah 17:83 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ' تورات میں کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل دو بار شرارت کریں گے، اس کی جزا میں دشمن ان کے ملک پر غالب ہوں گے۔ اسی طرح ہوا ہے۔ ایک بار جالوت غالب ہوا، پھر حق تعالیٰ نے اس کو حضرت داؤد کے ہاتھ سے ہلاک کیا۔ پیچھے بنی اسرائیل کو اور قوت زیادہ دی حضرت سلیمان کی سلطنت میں۔ دوسری بار فارسی لوگوں میں بخت نصر غالب ہوا۔ تب سے ان کی سلطنت نے قوت نہ پکڑی۔ اب فرمایا کہ اللہ مہربانی پر آیا ہے اگر اس نبی کے تابع ہو تو وہی سلطنت اور غلبہ پھر کر دے اور اگر پھر وہی شرارت کرو گے تو ہم وہی کریں گے۔ یعنی مسلمانوں کو ان پر غالب کیا اور آخرت میں دوزخ تیار ہے۔ " بعض علماء نے پہلے وعدہ سے بخت نصر کا حملہ جو ولادت مسیح سے 587 سال پہلے اور دوسرے وعدے سے " طیطوس رومی " کا حملہ جو رفع مسیح سے ستر سال بعد ہوا مراد لیا ہے۔ کیونکہ ان دونوں حملوں میں یہود پر پوری تباہی آئی اور " مقدس ہیکل " کو برباد کیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 17:94 یعنی یوں تو " تورات " بھی بنی اسرائیل کو راہ بتانے والی تھی جیسا کہ پہلے فرمایا " ہُدًی لِّبَنِی اِسْرَائِیْلَ " لیکن یہ قرآن ساری دنیا کو سب سے زیادہ اچھی، سیدھی اور مضبوط راہ بتاتا ہے۔ تمام " قویم راہیں " اس " اقوم " کے تحت میں مندرج ہوگئی ہیں۔ لہذا اگر کامیابی اور نجات چاہتے ہو تو خاتم الانبیاء کی پیروی میں اسی سیدھی سڑک پر چلو۔ جو لوگ قلب وجوارح یعنی ایمان و عمل صالح سے اس صاف و کشادہ راہ پر چلیں گے قرآن ان کو دنیا میں حیات طیبہ کی اور آخرت میں جنت کی عظیم الشان بشارت سناتا ہے۔ باقی جنہیں انجام کا کچھ خیال نہیں۔ اندھا دھند دنیا کی لذات و شہوات میں غرق ہیں۔ آخرت کی اصلاً فکر نہیں رکھتے، ان کا انجام اگلے جملہ میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 17:10–115 یعنی قرآن تو لوگوں کو سب سے بڑی بھلائی کی طرف بلاتا، اجر کبیر کی بشارتیں سناتا اور بدی کے مہلک نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔ لیکن حضرت انسان کا حال یہ ہے کہ وہ سب کچھ سننے کے بعد بھی اپنے لیے برائی کو اسی اشتیاق و الحاح سے طلب کرتا ہے جس طرح کوئی بھلائی مانگتا ہو، یا جیسے بھلائی طلب کرنا چاہیے۔ وہ انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر کے بڑی تیزی کے ساتھ گناہوں اور برائیوں کی طرف لپکتا ہے بلکہ بعض بدبخت تو صاف لفظوں میں زبان سے کہہ اٹھتے ہیں۔ (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) 8 ۔ الانفال :32) (خداوندا ! اگر پیغمبر اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجئے یا اور کوئی سخت عذاب نازل کیجئے) بعض بیوقوف غصہ سے جھنجھلا کر اپنے حق میں یا اپنی اولاد وغیرہ کے حق میں بےسوچے سمجھے بددعا کر بیٹھتے ہیں۔ بعض دنیا کے نفع عاجل کو معبود بنا کر ہر ایک حلال و حرام طریقہ سے اس کی طرف دوڑتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اس لہلہاتے پودے کے نیچے سانپ بچھو بھی چھپے ہوئے ہیں۔ جو انجام کار ہلاکت کے گڑھے میں پہنچا کر رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنی جلد بازی سے کسی چیز کی ظاہری ٹیپ ٹاپ کو دیکھ لیتا ہے، بدی کے دور رس نتائج پر غور نہیں کرتا۔ بس جو بات کسی وقت سانح ہوئی فوراً کہہ ڈالی یا ایک دم کر گزرا۔ جدھر قدم اٹھ گیا بےسوچے سمجھے ادھر ہی بڑھتا چلا گیا۔ اگر جلد بازی چھوڑ کر متانت، تدبر اور انجام بینی سے کام لے تو کبھی ایسی غلطیاں نہ کرے۔
Ayah 17:126 رات کا اندھیرا، دن کا اجالا، دونوں میں سے کبھی اس کا کبھی اس کا چھوٹا بڑا ہونا، پھر رات میں چاند کی آہستہ آہستہ گھٹنے بڑھنے والی ٹھنڈی اور دھیمی چاندنی، دن میں آفتاب عالمتاب کی تیز اور گرم روشنی، یہ سب خداوند قدوس کی قدرت کاملہ کے نمونے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کا مستقل نظام علیحدہ ہے جس کے ساتھ سینکڑوں فوائد اور مصالح وابستہ ہیں۔ اور سب کا مجموعی نظام الگ ہے جو شروع سے اب تک نہایت مضبوط و محکم قوانین کے ماتحت چل رہا ہے۔
7 رات کا نمونہ تاریک اور مٹا ہوا ہے، چاند کی روشنی سورج کے اعتبار سے دھیمی اور دھندلی ہوتی ہے بلکہ خود جرم قمر بھی دیکھنے والے کو داغ دار نظر آتا ہے۔
8 یعنی دن کے وقت سورج کی روشنی میں ہر چیز صاف دکھائی دیتی ہے لوگ تازہ دم ہو کر روزی کی تلاش میں نکلتے اور مختلف قسم کے کاروبار میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ الغرض شب میں جن چیزوں پر تاریکی کی چادر پڑی ہوئی تھی۔ سورج کی شعاعیں سب کو بےحجاب کردیتی ہیں۔ اور جو لوگ خواب گراں سے مدہوش تھے آنکھیں کھول کر ادھر ادھر گشت لگانے لگتے ہیں۔
9 یعنی لیل و نہار کی آمد و شد اور شمس و قمر کے طلوع و غروب سے مہینوں اور سالوں کی گنتی اور بہت طرح کے چھوٹے بڑے حساب متعلق ہیں۔
1 تم سمجھ لو کہ گھبرانے اور جلدی مچانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ خدا کے یہاں ہر چیز کا خیر ہو یا شر ایک وقت اور انداز مقرر ہے۔ جیسے رات اور دن۔ کسی کی جلد بازی اور شتاب کاری سے رات کم نہیں ہوجاتی یا دن بڑھ نہیں جاتا۔ اپنے وقت پر صبح و شام ہوتی ہے شر کے بعد خیر اور خیر کے بعد شر کا آنا بھی ایسا ہی سمجھو جیسے رات کے پیچھے دن اور دن کے پیچھے رات برابر لگی چلی آتی ہے۔ دنیا کے تمام خیرو شر کا سلسلہ ایک معین ضابطہ اور نظام کے ماتحت ہے جس کا توڑ ڈالنا کسی کے امکان میں نہیں۔ اس دنیا کی مکدر و منغض زندگی کو شب تاریک کے مشابہ سمجھو جس کے اندھیرے میں آدمی کو خیر و شر کے نتائج بالکل صاف دکھائی نہیں دیتے۔ بیشک حق تعالیٰ نے انبیاء ومرسلین کو بھیجا کہ رات کی اندھیری میں مخلوق کو صحیح راستہ بتلائیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے اپنے اپنے درجے کے موافق اجالا کریں جس سے لوگوں کو خیر و شر کی حقیقت اور اس کے نتائج کا انکشاف ہوجائے۔ لیکن ایسا صریح اور بدیہی انکشاف جس میں کسی فرد بشر کو انکار یا شبہ کی مجال ہی باقی نہ رہے، اس وقت ہوگا جب ہماری دنیاوی زندگی کی رات ختم ہو کر فردائے محشر کا دن نکل آئے گا۔ انسان کے وہی اعمال جو دنیا کی دھندلی زندگی میں ہر وقت اس کے گلے کا ہار بنے ہوئے تھے، پر غفلت و جہالت وغیرہ کی تاریکی میں صاف نظر نہ آتے تھے قیامت کی صبح ہوتے ہی ایک کھلی کتاب کی شکل میں سامنے آجائیں گے جسے روز روشن کے اجالے میں ہر شخص بےتکلف پڑھ سکے گا۔ (فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ) 50 ۔ ق :22) اس وقت اپنے تمام چھوٹے بڑے اعمال کو اصلی رنگ میں دیکھ کر بول اٹھے گا۔ (فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ) 18 ۔ الکہف :49)
Ayah 17:132 یعنی شومئی قسمت اور زشتیٔ اعمال اس کے گلے کا ہار ہے۔ بری قسمت کے ساتھ برے عمل ہیں کہ چھوٹ نہیں سکتے۔ وہ ہی نظر آئیں قیامت میں۔
Ayah 17:143 یعنی نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا کہ خود پڑھ کر فیصلہ کرلے، جو کام عمر بھر میں کیے تھے کوئی رہا تو نہیں یا زیادہ تو نہیں لکھا گیا۔ ہر آدمی اس وقت یقین کرے گا کہ ذرہ ذرہ عمل بلاکم وکاست اس میں موجود ہے۔ دنیا میں جو کتاب بھیجی (قرآن کریم) اور چاند سورج وغیرہ سے جو حساب و کتاب کا ذکر فرمایا جو اسی پہلے حساب و کتاب پر بطور نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔
Ayah 17:154 یعنی سیدھی راہ خدا نے سب کو بتلا دی اب جو کوئی اس پر چلے یا نہ چلے، اپنا بھلا برا خود سوچ لے۔ کیونکہ اپنے طریق عمل کا نفع یا نقصان اسی کو پہنچے گا۔ ایک کے گناہوں کی گٹھڑی دوسرے کے سر پر نہیں رکھی جائے گی۔
5 یعنی بلاشبہ برے عمل آفت لاتے ہیں، پر حق تعالیٰ بغیر سمجھائے نہیں پکڑتا اسی واسطے رسول بھیجتا ہے کہ لوگوں کو بیخبر اور غافل نہ رہنے دیں۔ نیک و بد سے پوری طرح آگاہ کردیں۔ جن باتوں کو آدمی محض عقل و فطرت کی راہنمائی سے سمجھ سکتا ہے (مثلاً وجود باری یا توحید) ان کی مزید تشریح و توثیق پیغمبروں کی زبانی کردی جائے اور جن چیزوں کے ادراک میں محض عقل کافی نہ ہو انھیں وحی والہام کی روشنی میں پیش کیا جائے۔ اسی لیے ابتدائے آفرینش سے حق تعالیٰ نے وحی و رسالت کا سلسلہ جاری رکھا تاآنکہ انبیاء (علیہم السلام) کے انوار و فیوض نے دنیا میں ایسی فضا پیدا کردی کہ کوئی معذب قوم دنیا یا آخرت میں جہل و بیخبر ی کا عذر پیش کر کے عذاب الٰہی سے رستگاری حاصل نہیں کرسکتی۔ (تنبیہ) مفسرین نے یہاں " اصحاب فترت " اور اطفال صغار کی تعذیب پر بحث شروع کردی ہے۔ ہم تطویل کے خوف سے درج نہیں کرسکتے۔
Ayah 17:166 یعنی جب بداعمالیوں کی بدولت کسی بستی کو تباہ کرنا ہوتا ہے تو یوں ہی دفعۃً پکڑ کر ہلاک نہیں کردیتے، بلکہ اتمام حجت کے بعد سزا دی جاتی ہے۔ اول پیغمبر یا اس کے نائبین کی زبانی خدائی احکام ان کو پہنچائے جاتے ہیں۔ خصوصاً وہاں کے امراء اور با رسوخ لوگوں کو جن کے ماننے نہ ماننے کا اثر جمہور پر پڑتا ہے، آگاہ کیا جاتا ہے۔ جب یہ بڑی ناک والے سمجھ بوجھ کر خدائی پیغام کو رد کردیتے اور کھلے بندوں نافرمانیاں کر کے تمام بستی کی فضا کو مسموم و مکدر بنا دیتے ہیں، اس وقت وہ بستی اپنے کو اعلانیہ مجرم ثابت کر کے عذاب الٰہی کی مستحق ہوجاتی ہے (نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا) (تنبیہ) وَقَالَ بَعْضُ السَّلَفِ اَنَّ الْاَمْرَ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی " اَمَرْنَا مُتْرَفِیْہَا " اَمْرٌ تَکْوِیْنِیٌّ قَدْرِیٌّ بالْفِسْقِ وَقَوْلُہ، تَعَالٰی " اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَاْمُرُ بالْفَحْشَاءِ " مَعْنَاہُ نَفْیُ الْاَمْرِ التَّشْرِیْعِیِّ فَلَاَ مُنَافَاۃَ ۔ فَافْہَمْ ۔
Ayah 17:177 آدم و نوح کے درمیانی زمانہ میں سب آدمی اسلام پر رہے۔ پھر شرک و بت پرستی شروع ہوئی۔ نوح (علیہ السلام) ان کی اصلاح کے لیے بھیجے گئے، سینکڑوں برس سمجھایا، نہ مانے، آخر سب ہلاک کئے گئے۔ اس کے بعد بہت سی قومیں (عاد وثمود وغیرہ) تباہ ہوئیں۔ حاصل یہ کہ قوموں کے ہلاک کیے جانے کا سلسلہ بعثت نوح کے بعد سے شروع ہوا۔
8 یعنی کسی کو بےقصور نہیں پکڑتا نہ غیر مناسب سزا دیتا ہے۔ بلکہ ہر ایک کے گناہوں کو دیکھ کر اور اس کے اوضاع واطوار کو پوری طرح جان کر موزوں و مناسب برتاؤ کرتا ہے۔
Ayah 17:189 یعنی ضروری نہیں کہ ہر عاشق دنیا کو فوراً ہلاک کردیا جائے، نہیں۔ ہم ان لوگوں میں سے جو صرف متاع دنیا کے لیے سرگرداں ہیں جس کو چاہیں اور جس قدر چاہیں اپنی حکمت و مصلحت کے موافق دنیا کا سامان دے دیتے ہیں تاکہ ان کی جدوجہد اور فانی نیکیوں کا فانی پھل مل جائے اور اگر آخری سعادت مقدر نہیں تو شقاوت کا پیمانہ پوری طرح لبریز ہو کر نہایت ذلت و رسوائی کے ساتھ دوزخ کے ابدی جیل خانہ میں دھکیل دیے جائیں۔
Ayah 17:191 یعنی جس کے دل میں ایمان و یقین موجود ہو اور نیک نیتی سے خدا کی خوشنودی اور ثواب اخروی کی خاطر پیغمبر کے بتلائے ہوئے راستہ پر عملی دوڑ دھوپ کرے۔ اس کی کوشش ہرگز ضائع ہونے والی نہیں۔ یقینا بارگاہ احدیت میں حسن قبول سے سرفراز ہو کر رہے گی۔
Ayah 17:202 یعنی حق تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے موافق بعض طالبین دنیا کو دنیا اور تمام طالبین آخرت کو آخرت عطا فرماتا ہے۔ اس کی عطا میں کوئی مانع و مزاحم نہیں ہوسکتا۔ یا یہ مطلب ہے کہ طالب دنیا ہو یا طالب آخرت دنیاوی امداد سے دونوں کو حسب مصلحت حصہ پہنچتا ہے۔ محض کفر و عصیان کی وجہ سے دنیاوی بخشش کے دروازے بند نہیں کردیے جاتے۔
Ayah 17:213 یعنی دنیاوی زندگی میں مال، دولت، عزت، حکومت، اولاد وغیرہ کے اعتبار سے ایک کو دوسرے پر کسی قدر فضیلت ہے۔ اسی پر قیاس کرلو کہ آخرت میں تفاوت اعمال و احوال کے لحاظ سے کس قدر فرق مراتب ہوگا۔ چناچہ نصوص سے ثابت ہے کہ درجات جنت اور درجات جہنم بیحد متفاوت ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ جنت کے درجوں کے درمیان زمین و آسمان کا تفاوت ہوگا، نیچے والے اوپر والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے ہم زمین پر کھڑے ہو کر افق میں کوئی ستارہ دیکھتے ہیں۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ جنت کے یہ درجات انہی کو مل سکتے ہیں جو آخرت کے لیے اس کے لائق دوڑ دھوپ کریں۔
Ayah 17:224 یعنی شرک ایسی ظاہر البطلان چیز ہے جس کے اختیار کرنے پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے، بلکہ دنیا کے ہر عقلمند کے نزدیک تم مذموم و ملزم ٹھہرو گے۔ چناچہ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جن مذاہب میں شرک صریح کی تعلیم تھی وہ بھی دانش مندوں کی سوسائٹی میں جگہ حاصل کرنے کے لیے اپنی ترمیم و اصلاح کر کے آہستہ آہستہ توحید کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں۔ ہر ایک عاقل یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ اشرف المخلوقات انسان کے لیے یہ چیز سخت ذلت و رسوائی کی موجب ہے کہ اپنے سے کمتر یا کسی عاجز مخلوق کے سامنے سربسجود ہوجائے۔ خصوصاً ان چیزوں کے سامنے دست سوال دراز کرے جو خود اسی کی تراشی ہوئی ہیں۔ جو آدمی خدا کو چھوڑ کر غیر اللہ کے سامنے جھکتا ہے، خدائے بےنیاز حقیقی نصرت و برکت کا دروازہ اس پر بند کر کے کمزوری اور بیکسی کی حالت میں چھوڑ دیتا ہے چناچہ سخت کٹھن وقت میں جب کہ اسے اعانت و امداد کی بڑی ضرورت ہوگی، کوئی یارومددگار نہ ملے گا " ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ "
Ayah 17:235 خدا تو حقیقۃً بچہ کو وجود عطا فرماتا ہے، والدین اس کی ایجاد کا ظاہری ذریعہ ہیں۔ اس لیے کئی آیتوں میں خدا تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ والدین کے حقوق ذکر کیے گئے۔ حدیث میں آیا ہے کہ وہ شخص خاک میں مل گیا جس نے اپنے والدین کو پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کی۔ " ایک حدیث میں فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ والدین کے ساتھ بھلائی کرنا یہ ہے کہ زندگی میں ان کی جان و مال سے خدمت اور دل سے تعظیم و محبت کرے۔ مرنے کے بعد ان کا جنازہ پڑھے، ان کے لیے دعاء و استغفار کرے۔ ان کے عہد تامقدور پورے کرے، ان کے دوستوں کے ساتھ تعظیم و حسن سلوک سے اور ان کے اقارب کے ساتھ صلہ رحمي سے پیش آئے وغیرہ ذالک۔
6 بڑھاپے میں خدمت کی احتیاج زیادہ ہوتی ہے جس سے بعض اوقات اہل و عیال بھی اکتانے لگتے ہیں زیادہ پیرانہ سالی میں ہوش و حواس بھی ٹھکانے نہیں رہتے۔ بڑی سعادت مند اولاد کا کام ہے کہ اس وقت بوڑھے والدین کی خدمت گزاری و فرمانبرداری سے جی نہ ہارے۔ قرآن نے تنبیہ کی کہ جھڑکنا اور ڈانٹنا تو کجا ان کے مقابلہ میں زبان سے " ہوں " بھی مت کر۔ بلکہ بات کرتے وقت پورے ادب و تعظیم کو ملحوظ رکھو۔ ابن مسیب نے فرمایا ایسی طرح بات کرو جیسے ایک خطاوار اور غلام سخت مزاج آقا سے کرتا ہے۔
Ayah 17:247 یعنی جب میں بالکل کمزور و ناتواں تھا انہوں نے میری تربیت میں خون پسینہ ایک کردیا۔ اپنے خیال کے موافق میرے لیے ہر ایک راحت و خوبی کی فکر کی۔ ہزارہا آفات و حوادث سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ بارہا میری خاطر اپنی جان جوکھوں میں ڈالی، آج ان کی ضعیفی کا وقت آیا ہے، جو کچھ میری قدرت میں ہے ان کی خدمت و تعظیم کرتا ہوں۔ لیکن پورا حق ادا نہیں کرسکتا۔ اس لیے تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بڑھاپے میں اور موت کے بعد ان پر نظر رحمت فرما۔
Ayah 17:258 یعنی والدین کی تعظیم اور ان کے سامنے تواضع و فروتنی صمیم قلب سے ہونی چاہیے۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ کون کیسے دل سے ماں باپ کی خدمت کرتا ہے۔ اگر فی الواقع تم دل سے نیک اور سعادت مند ہو گے اور خدا کی طرف رجوع ہو کر اخلاص و حق شناسی کے ساتھ ان کی خدمت کرو گے تو وہ تمہاری کوتاہیوں اور خطاؤں سے درگزر فرمائے گا۔ فرض کرو اگر کسی وقت باوجود نیک نیتی کے تنگ دلی یا تنگ مزاجی سے کوئی فروگزاشت ہوگئی، پھر توجہ و رجوع کیا تو اللہ بخشنے والا ہے۔
(تنبیہ) والدین کی فرمانبرداری کن چیزوں میں ہے اور کن میں نہیں ؟ اس کی تفصیل کتب فقہ وغیرہ میں دیکھنا چاہیے۔ روح المعانی میں بھی اس پر مفید و مبسوط کلام کیا ہے۔ فلیراجع۔
Ayah 17:269 یعنی قرابت والوں کے مالی و اخلاقی ہر قسم کے حقوق ادا کرو۔ محتاج و مسافر کی خبر گیری رکھو اور خدا کا دیا ہوا مال فضول بےموقع مت اڑاؤ۔ فضول خرچی یہ ہے کہ معاصی اور لغویات میں خرچ کیا جائے یا مباحات میں بےسوچے سمجھے اتنا خرچ کر دے جو آگے چل کر تفویت حقوق اور ارتکاب حرام کا سبب بنے۔
Ayah 17:271 یعنی مال خدا کی بڑی نعمت ہے جس سے عبادت میں دلجمعی ہو، بہت سی اسلامی خدمات اور نیکیاں کمانے کا موقع ملے۔ اس کو بےجا اڑانا ناشکری ہے جو شیطان کی تحریک و اغواء سے وقوع میں آتی ہے اور آدمی ناشکری کر کے شیطان کے مشابہ ہوجاتا ہے۔ جس طرح شیطان نے خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو عصیان واضلال میں خرچ کیا۔ اس نے بھی حق تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو نافرمانی میں اڑایا۔
Ayah 17:282 یعنی جو کوئی ہمیشہ سخاوت کرتا ہے اور ایک وقت اس کے پاس نہیں ہے تو اللہ کے ہاں امید والے کا محروم جانا خوش نہیں آتا۔ اس محتاج کی قسمت سے اللہ سخیوں کو بھیج دیتا ہے۔ سو اس واسطے اگر ایک وقت تو نہ دے سکے تو نرم اور میٹھے طریقہ سے معذرت کر دے۔ مثلاً یہ کہہ دیا جائے کہ جب خدا ہم کو دے گا انشاء اللہ ہم تمہاری خدمت کریں گے۔ سختی اور بد اخلاقی سے جواب دینے میں اندیشہ ہے کہ کہیں اگلی خیراتیں بھی برباد نہ ہوجائیں۔
Ayah 17:293 سب الزام دیں کہ کنجوس مکھی چوس ہے یا یہ کہ اتنا کیوں دیا کہ آپ محتاج رہ گیا۔ غرض ہر معاملہ میں توسط و اعتدال مرعی رکھنا چاہیے۔ نہ ہاتھ اس قدر کھینچے کہ گردن سے لگ جائے اور نہ طاقت سے بڑھ کر خرچ کرنے میں ایسی کشادہ دستی دکھلائے کہ پھر بھیک مانگنی پڑے اور ہاتھ کھلے کا کھلا رہ جائے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں " فَتُعْطِیْ فَوْقَ طَاقَتِکَ وَتُخْرِجَ اَکْثَرُ مِنْ دَخَلِکَ " یعنی طاقت سے بڑھ کر یا آمدنی سے زائد خرچ کرنا بھی " ولاتبسطہا کل البسط " کے تحت میں داخل ہے۔ حدیث میں ہے " مَاعَالَ مَنِ اقْتَصَدَ " (جس نے میانہ روی اختیار کی محتاج نہیں ہوا)
Ayah 17:304 یعنی تمہارے ہاتھ روکنے سے تم غنی اور دوسرا فقیر نہیں ہوجاتا۔ نہ تمہاری سخاوت سے وہ غنی اور تم فقیر بن سکتے ہو۔ فقیر و غنی بنانا اور روزی کا کم و بیش کرنا محض خدا کے قبضہ میں ہے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ افسوس آج ہمارے پاس نہیں ہے، یہ فقیر جو امید لے کر آیا تھا کیا کہے گا۔ فقر و غنی کے مختلف احوال بھیجنا اسی مالک علی الاطلاق کے قبضہ میں ہے۔ تمہارا کام میانہ روی سے امتثال حکم کرنا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی محتاج کو دیکھ کر بالکل بیتاب نہ ہوجا۔ اس کی حاجت روائی تیرے ذمہ نہیں۔ اللہ کے ذمہ پر ہے۔ لیکن یہ باتیں پیغمبر ﷺ کو فرمائی ہیں جو بیحد سخی واقع ہوئے تھے۔ باقی جس کے جی سے مال نہ نکل سکے اس کو پابند کیا ہے دینے کا۔ حکیم بھی گرمی والے کو سرد دوا دیتا ہے اور سردی والے کو گرم۔ "
5 یعنی ہر ایک بندے کے ظاہری و باطنی احوال و مصالح سے خبردار ہے۔ اسی کے موافق معاملہ کرتا ہے۔ حدیث قدسی میں فرمایا کہ میرے بعض بندے وہ ہیں جن کی درستی حال فقیر رہنے میں ہے۔ اگر میں اس کو غنی کردیتا تو اس کا دین تباہ ہوجاتا۔ اس کے برعکس بعض بندے ہیں جن کو غنی بنایا، اگر فقیر بنادیا جاتا تو دین پر قائم نہ رہ سکتے۔ اس کے علاوہ بعض اشقیاء کے حق میں غنائے ظاہری محض امہال و استدراج کے طور پر یا فقر و تنگدستی عقوبت اور سزا کے طریقہ سے ہے۔ (عیاذا باللہ من ہذا وہذا) ہم پہلے کئی جگہ اس کی تقریر کرچکے ہیں۔
Ayah 17:316 بعض کافر اولاد کو مار ڈالتے تھے کہ ان کا خرچ کہاں سے لائیں گے۔ " سورة انعام " میں اسی مضمون کی آیت گزر چکی تفصیل وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔
7 کیونکہ یہ بےرحمی کی حرکت نسل انسانی کے قطع کرنے کا موجب ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کرنے والے کو حق تعالیٰ کی رزاقی پر اعتماد نہیں۔
Ayah 17:328 یعنی زنا کرنا تو بڑی چیز ہے۔ اس کے پاس بھی مت جاؤ۔ گویا لاتقربوا میں مبادی زنا سے بچنے کی ہدایت کردی گئی۔ مثلاً اجنبی عورت کی طرف بدون عذر شرعی نظر کرنا یا بوس و کنار وغیرہ۔
9 کیونکہ زنا سے انساب میں گڑ بڑ ہوتی ہے اور بہت طرح کی لڑائیاں اور جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں اور سب کے لیے بری راہ نکلتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اگر یہ راہ نکلی تو ایک شخص دوسرے کی عورت پر نظر کرے، کوئی دوسرا اس کی عورت پر کرے گا۔ " مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے زنا کی اجازت دے دیجئے۔ حاضرین نے اسے ڈانٹ بتلائی کہ (پیغمبر خدا کے سامنے ایسی گستاخی ؟ ) خبردار چپ رہو۔ حضور ﷺ نے اس کو فرمایا کہ میرے قریب آؤ۔ وہ قریب آکر بیٹھا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو یہ حرکت اپنی ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ میں سے کسی کی نسبت پسند کرتا ہے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! خدا مجھ کو آپ پر قربان کرے ہرگز نہیں۔ فرمایا دوسرے لوگ بھی اپنی ماؤں، بیٹیوں، بہنوں، پھوپھیوں اور خالاؤں کے لیے یہ فعل گوارا نہیں کرتے۔ پھر آپ نے دعا فرمائی کہ الٰہی اس کے گناہ کو معاف فرما اور اس کے دل کو پاک اور شرمگاہ کو محفوظ کر دے۔ " ابو امامہ فرماتے ہیں کہ اس دعا کے بعد اس شخص کی یہ حالت ہوگئی کہ کسی عورت وغیرہ کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھتا تھا۔ " اللہم صل علی سیدنا محمدٍ وبارک وسلم "
Ayah 17:3310 صحیحین میں ہے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں، جان کے بدلے جان، یا زانی محصن یا جو شخص دین کو چھوڑ کر جماعت سے علیحدہ ہوجائے۔
11 یعنی اولیائے مقتول کو اختیار ہے کہ حکومت سے کہہ کر خون کا بدلہ لیں، لیکن بدلہ لیتے وقت حد سے نہ گزریں۔ مثلاً قاتل کی جگہ غیر قاتل کو سزا دلوانے لگیں یا قاتل کے ساتھ دوسرے بےگناہوں کو بھی شامل کرلیں۔ یا قاتل کے ناک، کان وغیرہ کو کاٹنے اور مثلہ کرنے لگیں۔
12 یعنی خدا نے اس کی مدد کی کہ بدلہ لینے کا حق دیا اور حکام کو امر فرمایا کہ حق دلوانے میں کمی نہ کریں۔ بلکہ ہر کسی کو لازم ہے کہ خون کا بدلہ دلانے میں مدد کرے۔ نہ یہ کہ الٹا قاتل کی حمایت کرنے لگے۔ اور وارث کو بھی چاہیے کہ ایک کے بدلے دو نہ مارے یا قاتل ہاتھ نہ لگا تو اس کے بیٹے بھائی کو نہ مار ڈالے جیسے جاہلیت میں رواج تھا۔
Ayah 17:341 یعنی یتیم کے مال کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ ہاں اگر اس کی حفاظت و نگہداشت اور خیر خواہی مقصود ہو تو مضائقہ نہیں۔ جس وقت جوان ہوجائے اور اپنے نفع نقصان کو سمجھنے لگے، مال اس کے حوالہ کردو۔
2 اس میں سب عہد داخل ہیں خواہ اللہ سے کیے جائیں یا بندوں سے بشرطیکہ غیر مشروع نہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ کسی کو قول وقرار صلح کا دے کر بدعہدی کرنا، اس کا وبال ضرور پڑتا ہے۔
Ayah 17:353 یعنی جھونک نہ مارو۔ ناپ تول میں کمی کرنے سے معاملات کا نظام مختل ہوجاتا ہے۔ قوم شعیب کی ہلاکت کا قصہ پہلے کئی جگہ آچکا ہے ان کا بڑا عملی گناہ یہ ہی بیان کیا گیا ہے۔ روایات میں ہے کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت پا کر محض خدا کے خوف سے رک جائے تو خدا تعالیٰ اسی دنیا میں آخرت سے پہلے اس کو نعم البدل عطا فرمائے گا۔
4 یعنی دغا بازی اول چلتی ہے پھر لوگ خبردار ہو کر اس سے معاملہ نہیں کرتے۔ اور پورا حق دینے والا سب کو بھلا لگتا ہے۔ اللہ اس کی تجارت خوب چلاتا ہے۔
Ayah 17:365 یعنی بےتحقیق بات زبان سے مت نکال، نہ اس کی اندھا دھند پیروی کر۔ آدمی کو چاہیے کہ کان، آنکھ اور دل و دماغ سے کام لے کر اور بقدر کفایت تحقیق کر کے کوئی بات منہ سے نکالے یا عمل میں لائے۔ سنی سنائی باتوں پر بےسوچے سمجھے یوں ہی اٹکل پچو سے کوئی قطعی حکم نہ لگائے یا عملدرآمد شروع نہ کرے۔ اس میں جھوٹی شہادت دینا، غلط تہمتیں لگانا، بےتحقیق چیزیں سن کر کسی کے درپے آزار ہونا یا بغض و عداوت قائم کرلینا، باپ دادا کی تقلید یا رسم و رواج کی پابندی میں خلاف شرع اور ناحق باتوں کی حمایت کرنا، ان دیکھی یا ان سنی چیزوں کو دیکھی یا سنی ہوئی بتلانا۔ غیر معلوم اشیاء کی نسبت دعویٰ کرنا کہ میں جانتا ہوں یہ سب صورتیں اس آیت کے تحت میں داخل ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن تمام قویٰ کی نسبت سوال ہوگا کہ ان کو کہاں کہاں استعمال کیا تھا، بےموقع تو خرچ نہیں کیا ؟
Ayah 17:376 یعنی متکبروں کی چال چلنا انسان کو زیبا نہیں نہ تو زور سے پاؤں مار کر وہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے نہ گردن ابھارنے اور سینہ تاننے سے اونچا ہو کر پہاڑوں کے برابر ہوسکتا ہے۔ پھر ایسے ضعف و عجز اور اس بساط پر اپنے کو اس قدر لمبا کھینچنے سے کیا فائدہ ؟
Ayah 17:387 یعنی جن باتوں کو اوپر منع کیا ان کے کرنے میں رب کی بیزاری ہے اور جن کا حکم کیا ان کے نہ کرنے میں بیزاری ہے۔
Ayah 17:398 یعنی اوپر جو پر مغز اور بیش بہا نصیحتیں کی گئیں، یہ وہ علم و حکمت اور تہذیب اخلاق کی باتیں ہیں جنہیں عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ اور جو وحی کے ضمن میں نبی امی ﷺ کی طرف بلاواسطہ اور امت امیہ کی طرف بواسطہ حضور ﷺ بھیجی گئیں۔
9 مذکورہ بالا نصائح کا بیان توحید سے شروع کیا گیا تھا، (لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا) 17 ۔ الاسراء :22) خاتمہ پر بھی توحید یاددلا دی گئی تاکہ قاری سمجھ سکے کہ تمام حسنات کا آغاز و انجام خالص توحید کو ہونا چاہیے۔
Ayah 17:4010 یعنی ایک تو خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا اور اولاد بھی بیٹیاں جنہیں تم نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ بڑی بھاری گستاخی ہے۔