Ayah 17:11۔ اللہ تعالیٰ کی پاکی اور عظمت شان کا ذکر وبیان :۔
سو فرمایا گیا ” پاک ہے وہ ذات جو راتوں رات لے گئی اپنی بندے کو “ یعنی وہ پاک ہے ہر نقص وعیب اور ہر عجز سے۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ نہ اس کے لئے کوئی مشکل ہے نہ کوئی رکاوٹ، پس اس ایک لفظ (سبحان) سے ان تمام شکوک و شبہات کا خاتمہ وازالہ فرمادیا گیا جو معجزہ اسراء و معراج کے بارے میں پیش کئے جاتے ہیں یا پیش کئے جاسکتے ہیں کہ یہ اتنا بڑا اور اس قدر عظیم الشان سفر ایک رات میں بلکہ رات کے بھی ایک مختصر سے حصے میں کیسے ہوگیا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو (سبحان) کے اس کلمہ کریمہ سے اس طرح کے تمام سوالات واعتراضات اور شکوک و شبہات ھباء منثوا ہوجاتے ہیں کہ جب اس سفر پر لے جانے والی ذات اللہ پاک کی ذات اقدس واعلیٰ ہے جو کہ ہر چیز پر قادر ہے اور وہ ہر نقص وعیب سے پاک اور بری ہے تو پھر اس میں اس طرح کے کسی شک وشبہ کی گنجائش ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جو کم سواداس بارے میں اس طرح کے اعتراض کرتے اور شکوک و شبہات پیش کرتے ہیں وہ دراصل اپنی نگاہ محدود اور اپنے عجز و قصور کے اعتبار سے کرتے ہیں۔ جبکہ معجزہ اسراء و معراج اس خالق ومالک اور قادر مطلق کے قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ کا کرشمہ ہے جو۔ (علی کل شیء قدیر) ہے۔ جو ہر طرح کے عجز و قصور اور ہر شائبہ نقص وعیب اور محدودیت سے پاک واعلیٰ وبالا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
2۔ پیغمبر کی شان عبدیت کا ذکر وبیان :۔
سو فرمایا گیا ” جو راتوں رات لے گیا اپنے بندہ خاص کو “۔ یعنی یہ اضافت اختصاص و تعظیم کے لیے ہے۔ اور اس بندہ خاص سے مراد نبی اکرم ﷺ ہیں۔ یہاں پر آنحضرت ﷺ کے نام نامی یا دوسری صفات میں سے کسی صفت کی بجائے آپ ﷺ کی صفت عبدیت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی یہی صفت اللہ پاک کو سب سے زیادہ پسند اور محبوب ہے اور آنحضرت ﷺ عبدیت کاملہ کے عظیم الشان اور بےمثل مظہر تھے۔ مگر افسوس کے آج کا بدعتی ملاں حضرت رسالت مآب ﷺ کی اسی صفت بشریت و عبدیت کے انکار پر گویا ادھار کھائے بیٹھا ہے۔ اور اس کے لئے وہ صاف وصریح نصوص کریمہ میں بھی طرح طرح کی تحریفات وتلبیسات سے کام لیتا ہے۔ اور اس کو وہ عشق و محبت نبوی کا معیار قرار دیتا ہے فالی اللہ المشکی، اگرچہ اسراء کے معنی رات میں لیجانے ہی کے ہیں۔ لیکن (لیلا) کی تصریح سے اس بات کو اور مؤکد کردیا گیا کہ یہ سفر رات ہی کو بلکہ رات کے بھی کچھ حصے میں ہوا اور (بعبدہ) کی تصریح سے اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا کہ آپ کی شان عبدیت اس درجہ کی حامل تھی کہ گویا آپ کی ذات اقدس اس کے سوا اور کسی تعریف و تعارف کی محتاج نہیں۔ اور عبدیت کاملہ کے اصل اور حقیقی مصداق آپ ہی ہیں۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔
3۔ مسجد اقصی کی سرزمین کے مبارک و بابرکت ہونے کا ذکر وبیان :۔
سومسجد اقصی کے ماحول کو طرح طرح کی برکات سے نوازا گیا تھا۔ ظاہری اور حسی طور پر بھی کہ اس میں طرح طرح کے پھول پھل اور قسما قسم کی پیدواریں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی شہد اور دودھ کی سرزمین ” ارض العسل واللبن “ کہا جاتا ہے۔ اور معنوی و روحانی طور پر بھی کہ وہ ارض مبارک کتنے ہی انبیائے کرام کا مستقر اور مہبط وحی رہی۔ بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے بھی انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام تشریف لائے ان کی اکثریت بلکہ کم وبیش سب ہی کا تعلق اسی ارض مقدسہ سے تھا۔ سو اس طرح یہ سرزمین دین و دنیا کی خیرات و برکات کی امین و پاسدار اور جامع رہی۔ اور اسراء و معراج کے اس معجزہ کے موقع پر یہ سب حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔ یہیں جمع ہوئے۔ اور ہمارے حضور ﷺ نے ا سی مقام مبارک میں ان سب کی امامت فرمائی۔ تاکہ یہ امر واضح ہوجائے کہ آپ ﷺ ان سب قدسی صفت حضرات انبیائے کرام کے امام و پیشوا ہیں۔ علیہ وعلیہم افضل الصلوات اوتم التسلیمات۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ سفر مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک اسراء کہلاتا ہے جس کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے۔ اور بیت المقدس سے عالم بالا کا سفر معراج کہلاتا ہے جس کا کچھ ذکر سورة نجم میں آتا ہے۔ اور تفصیلی ذکر صحیح احادیث میں وراد ہے۔ اور جمہور علماء و مفسرین کے نزدیک یہ معجزانہ سفر جسم وروح دونوں کے ساتھ ہوا تھا۔ کیونکہ لفظ (عبد) کا اطلاق جسم وروح کے مجموعے ہی ہوتا ہے۔ اور یہ سفر عالم بیداری میں ہوا تھا نہ کی خواب میں۔ ورنہ مشرکین عرب کو اس پر شور مچانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی کہ خواب میں تو ہر کوئی طرح طرح کے عجائب دیکھ سکتا ہے اور دیکھتا رہتا ہے مگر اس میں کسی کیلئے تعجب اور اچھنبے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ اسی لئے یہاں اس کا ذکر (سبحان) کے لفظ سے فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف (الذی برکنا حولہ) سے مراد وہ سرزمین ہے جس میں یہ مسجد واقع ہے جس کو یروشلم اور بیت المقدس کہا جاتا ہے۔ اور جس کو جیسا کہ ابھی اوپر گزرا قدیم صحیفوں میں دودھ اور شہد کی سرزمین کہا گیا ہے۔ جو اسکی انتہائی زرخیزی اور مبارک ہونے کی تعبیر ہے۔ اور جتنے انبیائے کرام کے مولد اور مدفن ہونے کا شرف اس سرزمین کو حاصل ہوا ہے اتنا دوسرے کسی بھی خطہ زمین کو حاصل نہیں ہوسکا۔ سو یہ اس کی انفرادی شان ہے۔
4۔ بیشک اللہ ہی سمیع اور بصیر ہے :۔
پس وہی ہے جو سنتادیکھتا ہے اپنے بندوں کے احوال اوراقوال کو۔ اور اسی کے مطابق وہ ہر ایک کو اس مقام وشرف سے سرفراز فرماتا ہے جس کا وہ اہل ہوتا ہے۔ اور اسی کے مطابق وہ ان کو سزاوجزا سے سے نوازے گا یہی بات جملہ مفسرین کرام نے ذکر فرمائی ہے۔ مثلا ملاحظہ ہو تفسیر طبری، قرطبی، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، صفوۃ البیان، المراغی، ابن کثیر، خازن، فتح القدیر، اور محاسن التاویل وغیرہ وغیرہ۔ پس اہل بدعت کے جن بڑوں نے اپنی تحریفانہ ذہنیت کے مطابق اس کو آنحضرت ﷺ پر محمول گردانا ہے وہ سلف وخلف امت کے تمام علماء و مفسرین کرام کے خلاف اور تحریف کے زمرے میں آتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہی وحدہ لاشریک سمیع وبصیر ہے جو ہر کسی کی سنتا اور دیکھتا اور سب کچھ دیکھتا ہے۔ اس سے ان کی کوئی حرکت وسکون مخفی ومستور نہیں کہ اس کی شان ” لا تخفی علیہ خافیہ “ کی شان ہے۔ اور اس پر ذرہ برابر کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس منکر لوگ وقت آنے پر اپنے کیے کرائے کا بدلہ پاکر رہیں گے۔ کبھی چھوٹ اور بچ نہیں سکیں گے۔ سو اس میں ایک طرف اہل کفر وباطل کیلئے تنبیہ وتہدید ہے اور دوسری طرف اہل حق کیلئے تسلیہ و تسکین۔ والحمد اللہ جل وعلا۔
Ayah 17:25۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اکرام وعزاز کا ذکر :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم ہی نے موسیٰ کو دی تھی وہ کتاب “ یعنی تورات جو کہ اپنے دور میں ہدایت ونور کا منبع و ماخذ تھی۔ مگر بعد میں اس کے حاملین ووارثین نے اس کو بدل کر کچھ کا کچھ کردیا۔ یہاں تک کہ اب اس کے اصل نسخے کا وجود بھی کہیں باقی نہیں رہا۔ جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ یہ سب یقینی طور پر اللہ کلام ہے۔ بہرکیف اصل تورات آسمانی اور الہامی کتاب ہی تھی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطاء فرمائی گئی تھی۔ اور اس کو سرچشمہ ہدایت بنایا گیا تھا بنی اسرائیل کیلئے۔ سو پہلی آیت کریمہ میں اکرام محمدی کا ذکر تھا جس سے معجزہ اسراء و معراج کی صورت میں حضور ﷺ کو نوازا گیا تھا۔ اور اب یہ اکرام موسیٰ کا ذکر ہے جس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطائے تورات کی صورت میں سرفراز فرمایا گیا تھا۔ (المارف، المحاسن، الکبیر، اور المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی دوسرے انبیاء ورسل کی طرح اللہ تعالیٰ کے سچے نبی و رسول تھے۔ جنکو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اور آپ پر نازل فرمائی جانے والے کتاب یعنی تورات بھی آسمانی اور الہامی کتاب تھی۔ جس کو بنی اسرائیل کی ہدایت و راہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا تھا جو کہ اپنے دور میں ہدایت و راہنمائی کا منبع ومصدر اور سرچشمہ تھی۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔
6۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو کار ساز بنانا ممنوع :۔
سو اس میں صاف طور پر ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کو کارساز بنانا کہ کار ساز سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اور یہی یہ وہ مرکزی مضمون اور بنیادی ہدایت وتعلیم ہے جو کہ جملہ آسمانی کتابوں اور ادیان سماویہ میں ہمیشہ قدر مشترک کے طور پر موجود رہی ہے کہ وکیل و کارساز اور حاجت روا مشکل کشا سب کا اللہ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا کلمہ گو مشرک طرح طرح کی تاویلات و تحریفات کا سہارا لے کر اسی بنیاد کے ھدم وبیخ کنی کے درپے ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اللہ پاک کی طرف سے صاف اور صریح طور پر تاکید فرما دی گئی کہ اللہ کے سوا کسی کو مافوق الاسباب طور پر کارساز اور مختار امور نہیں بنانا۔ کیونکہ وکیل اسی کو کہا جاتا ہے۔ جس پر اپنے تمام امور پر بھروسہ کیا جائے اور اپنا معاملہ اسی چھوڑ دیا جائے۔ (قرطبی، کبیر اور مدارک وغیرہ) ۔ سو عطائے کتاب کے ذکر کے فوری بعد توحید کی اس صریح تعلیم سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ یہ چیز دین متین کی تمام تعلیمات کیلئے اصل واساس اور مرکز ثقل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور دین و شریعت کی پوری عمارت اسی پر قائم ہے۔ اور اسی کے ساتھ وابستگی سے کوئی جاعت دین سے وابستہ رہ سکتی ہے۔ جہاں اس مرکز ثقل سے وابستگی میں ضعف آیا اور کمزوری واقع ہوئی وہیں ساری دینداری غارت ہو کر رہ گئی۔ یہاں تک کہ اس کے بعد خالص توحید کا دین کھلے شرک کا کاروبار بن کر رہ گیا۔ جس کی ایک کھلی اور واضح مثال ہمارے سامنے مسیحیت محرفہ کی شکل میں موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جس دین توحید کو دنیا کے سامنے پیش فرمایا تھا اسی کو ان لوگوں نے نرادین شرک بنادیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:37۔ شکر گزاری کی موثر اور بلیغ انداز میں تعلیم و تلقین :۔
کہ تم لوگ بھی اپنے جد امجد حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح شکر گزاررہو اپنے رب کے کہ دل وجان سے یہ تسلیم کرو کہ ہر طرح کی نعمتیں بخشنے والا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ دل میں بھی اسی کا احساس و یقین رکھو اور زبان سے بھی اسی کا اقرار و اعتراف کرو کہ سب کچھ اسی کا اور صرف اسی کا دیا ہوا ہے اور اس کے دئے کو اسی کے حکم وارشاد کے مطابق اور اسی کی رضاء خوشنودی کی طلب وتلاش میں صرف وخرچ بھی کرو۔ اس طرح تم اپنے رب کا حق شکر بھی ادا کرسکوگے اور تمام نعمتیں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بھی بن جائیں گی۔ سو شکر خداوندی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ وباللہ التوفیق۔ اور اللہ پاک کی شکر گزاری عقیدہ توحید کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ مشرف انسان جب اس دھوکے اور خبط میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اس کے بناوٹی خداؤں، من گھڑت معبودوں اور فرضی ووہمی سرکاروں سے ملا ہے تو یہ خالق ومالک حقیقی کا شکر کیسے اور کیونکر ادا کرے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
8۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی صفت شکر کی تعریف و توصیف :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” بلاشبہ وہ یعنی نوح بڑا ہی شکر گذار بندہ تھا “ کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرتارہتا تھا۔ سو اس میں طرف اشارہ ہے کہ شکر نعمت کے سبب ہی ان حضرات کو نجات ملی۔ (محاسن، فتح اور صفوۃ وغیرہ) ۔ اور امام بیہقی اور حاکم رحمہا اللہ وغیرہ نے حضرت سلیمان فارسی ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جب کوئی کپڑاپہنتے یا کھانا کھاتے تو اللہ پاک کا شکر بجا لاتے۔ اس لئے ان کو ” عبدالشکور “ بڑاشکر گذار بندہ “ کے وصف سے نوازا گیا۔ (ابن کثیر، فتح القدیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس میں حضرت نوح کی صفت شکر کی تعریف و توصیف فرمائی گئی ہے۔ اور اسی میں آپ کی ذریت اور آپ کے پیروکاروں کے لئے درس شکر کی تعلیم و تلقین بھی ہے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 17:49۔ بنی اسرائیل کو ان کے ہولناک انجام سے آگہی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ہم نے بنی اسرائیل کو آگاہ کردیا تھا اپنے فیصلے سے اس کتاب میں “ یعنی تورات میں۔ جس کو ان کے پیغمبر کے واسطے سے ان کی طرف نازل کردیا گیا تھا۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، فتح القدیر اور مراغی وغیرہ) اور بعض نے کہا کہ اس کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ (محاسن التاویل، فتح القدیر وغیرہ) بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو اس فیصلے سے اپنی کتاب میں آگاہ کردیا تھا تاکہ عبرت پکڑنے والے عبرت پکڑیں اور جان لیں کہ اللہ کی بغاوت و سرکشی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پر اس دنیا میں بھی عذاب آتا ہے اور اس طرح آتا ہے کہ دوسروں کو ان پر مسلط کردیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو خداوند قدوس کی توحید سے انحراف اور اس کی شریعت سے بغاوت ہولناک ہلاکت و تباہی اور عبرت ناک سزاکاباعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
10۔ بنی اسرائیل کے دو مرتبہ فساد پھیلانے کا ذکر وبیان :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” تم دو فساد مچاؤگے زمین میں “ اپنے خالق ومالک کے احکام کو توڑ کر اور اس کی نازل کردہ تعلیمات مقدسہ کی خلاف ورزی اور بغاوت کا ارتکاب کرکے۔ (فتح القدیر، مراغی وغیرہ ) ۔ سو اللہ تعالیٰ کے احکام واوامر کی خلاف ورزی اور ان سے سرتابی و سرکشی فساد ہے۔ خواہ کوئی اصلاح اور بہتری کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتاہو۔ افسوس کہ آج امت مسلمہ کا ایک بڑا حـصہ اسی فتنہ و فساد میں مبتلا اور اسی مرض کا شکار ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف بنی اسرائیل کو خبردار اور آگاہ کردیا گیا تھا کہ وہ زمین میں دو مرتبہ فساد پھیلائیں گے اور اس کے نتیجے میں سخت سزا بھگتیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
11۔ بنی اسرائیل کی بڑی سرکشی کا ذکر وبیان :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تم بڑی سرکشی کا ارتکاب کرو گے “۔ حدود بندگی سے نکل کر۔ اور دوسروں پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرکے۔ کیونکہ بندے کا کام اور اس کا مقام یہ ہے کہ وہ ان حدود کے اندر رہے جو اس کے خالق ومالک نے اس کیلئے مقرر فرمائی ہیں۔ اور ان حدود کو توڑنا اور ان سے نکل جانا طغیان و سرکشی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یاد رکھو کہ تم دو مرتبہ اللہ کی زمین میں فتنہ و فساد مچاؤگے اور بغاوت و سرکشی کا ارتکاب کروگے۔ اور تم کو اس کا بھگتان بھگتنا ہوگا۔ اور جس طرح تمہاری یہ بغاوت و سرکشی سخت ہوگی اسی طرح اس کا نتیجہ وانجام بھی بڑا ہولناک ہوگا۔ سو تم کو پیشگی خبردار کردیا گیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے اور جس نے عبرت پکڑنی ہو وہ عبرت پکڑے۔ اور جو اس کے باوجود آنکھ نہ کھولے اور کوئی درس عبرت نہ لے اس کو اپنے آخری اور ہولناک انجام کے لئے تیار ہوجانا چاہیے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:512۔ اللہ کا وعدہ اٹل اور قطعی، سبحانہ وتعالی :۔
سو اللہ کے وعدے نے بہرحال پورا ہوکررہنا ہوتا۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ ایسا وعدہ ہے جس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔ کیونکہ یہ وعدہ اصدق القآئلین حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے تھا۔ اور اس کا ہر وعدہ بہرحال سچا ہی ہوتا ہے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا۔ اور یہ وعدہ پورا ہو کررہا۔ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے چڑھائی کرکے ستر ہزار یہود کو تہ تیغ کردیا۔ ہزاروں قیدی بنا کر وہ اپنے ملک لے گیا۔ انکے اموال اس نے لوٹ لیے۔ تورات جلادی اور بیت المقدس کی اس نے اینٹ بجا دی۔ یہاں تک کہ تورات کا اصل نسخہ بھی ناپیدہو گیا (ابن کثیر، فتح القدیر، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کے احکام سے بغاوت و سرکشی کی سزا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان دونوں میں سے پہلے وعدے کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان دونوں میں سے پہلے وعدے کا وقت آجائے گا تو ہم تم پر اپنے ایسے زور آور بندوں کی مسلط کردیں گے جو تمہارے گھروں کے اندر گھس گھس جائیں گے اور تمہاری عزت وناموس ہر چیز کو تاراج کرکے رکھ دیں گے اور دشمن کا گھروں میں طرح گھس جانا انتہائی توہین و تذلیل کی تصویر ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:613۔ بنی اسرائیل کیلئے دوبارہ غلبہ وعطاء کا وعدہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم تمہیں دوبارہ غلبہ عطاء کریں گے اور جان ومال سے تمہاری مدد کریں گے جبکہ تم لوگ اپنی اصلاح اور درستی کی طرف متوجہ ہوؤگے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا اس لٹی پٹی اجڑی بکھری اور تہس نہس شدہ قوم کو حضرت شدہ قوم کو حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے اپنی قدرت کاملہ اور رحمت شاملہ سے پھر اٹھایا۔ یہاں تک کہ یہ پھر اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی اور بابلیوں سے لڑنے اور مقابلہ کرنے کے قابل ہوگئی۔ ان سے لڑ کر انہوں نے اپنے قیدیوں کو چھڑا لیا۔ اپنے لوٹے ہوئے مال ان سے واپس لے لئے اور ان کے مال و اولاد میں خوب ترقی ہوئی۔ (المراغی، الفتح وغیرہ) ۔ واضح رہے کہ یہ ذلیل اور ظالم قوم تاریخ میں ہمیشہ لٹتی پٹتی اور پستی رہی یہاں تک ہماری اسی صدی کے لواسط میں ہٹلر نے ان کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور اس کو ان یہود بےبہبود سے اتنی نفرت تھی کہ اس کا کہنا تھا کہ یہ جونکیں ہیں جنہوں نے میری قوم کا خون چوسا ہے۔ لہذا ان کو مار کر میرے ملک کی اس دھرتی میں اس طرح گاڑ دو اور ان کو اس ملک کی مٹی میں دفن کرکے اس طرح ملادو کہ ان کو چوسا ہوا وہ خون واپس اس دھرتی اور اس مٹی میں مل جائے۔ چناچہ اس نے انکومارنے اور مٹانے کیلئے ایسی خصوصی مشینیں لگائیں اور (Special Plants) تیار کئے کہ ان میں ان کو ایک طرف سے ڈالا جاتا اور دوسری طرف سے ان کے وجود پس کرسیال مادے کی شکل میں بہہ نکلتے۔ اور اس طرح اس نے ان کو چن چن کرمارا اور چھ ملین (ساٹھ لاکھ) کا اس نے صفایا کردیا۔ جس پر یہ لوگ آج تک کوس رہے ہیں۔ اور ان دنوں میں بھی راقم آثم یہ سطور تحریر کررہا ہے جرمنی کے ان یہودیوں کی دولت اور انکے اثاثوں کے بارے میں اخبارات وغیرہ میں کافی شورغوغاچل رہا ہے۔ جب کہ مرے ہوئے پچاس سال سے بھی اوپر ہورہے ہیں۔ اور یہ اس قوم کیلئے اللہ کا عذاب ہے جو کہ ہمیشہ ان پر مسلط رہا اور رہے گا۔ اور جس سے انکوخبردار بھی کردیا گیا تھا۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس بارے میں اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ (واذ تاذن ربک لیبعثن علیہم الی یوم القیامۃ من یسومہم سوء العذاب) ۔ الایۃ (اعراف : 167) ” اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا تھا کہ وہ ضرور بالضرور مسلط رکھے گا ان پر قیامت تک کسی نہ کسی ایسے شخص کو جو ان کو سخت ( اور برا) عذاب چکھاتا رہے گا۔ “ اس لئے یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت کریمہ میں اس قوم کی جن دوسرکشیوں اور ان پر ملنے والے جن دو عذابوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ان سے کون سے دو فساد اور کونسے مراد دو عذاب مراد ہیں ؟ سو اس کے جواب میں اس قوم کی عبرتناک تاریخ کے حوالے سے حضرات مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ ہم نے ان میں سے زیادہ مشہور قول کو لیا ہے کہ پہلے عذاب سے مراد بخت نصروالا عذاب ہے جو ان کو مجوس فارس کے ذریعے دیا گیا۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ باقی تفصیلات انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں عرض کریں گے اگر قدرت کو منظور ہوا اور اس کا موقع ملا۔ واللہ الموفق لکل خیروھو المستعان لکل خیروھو المستعان لکل غیروھو علی کل شیء قدیر فعلیہ نتوکل وبہ نستین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 17:714۔ انسان کی اچھائی اس کے خود اپنے ہی لئے :۔
سو اس اصولی کلیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” اگر تم نے اچھا کیا تو اپنے ہی لیے کرو “ کہ اس کا فائدہ اور صلہ وثمرہ خود تم ہی کو پہنچے گا نہ کہ حضرت حق۔ جل مجدہ کو کہ وہ اس طرح کے ہر تصور سے پاک اور بےنیاز ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اگر تم نے اپنے رب کی اطاعت کا راستہ اپنایا اس کے اوامر وارشادات کی اطاعت و اتباع کی اور اس کے نواہی و مناہی سے بچتے رہے تو اس سے تمہیں اس دنیا میں عزت و غلبہ اور خیروبرکت نصیب ہوگی۔ تمہارا رب تمہارے دشمنوں سے تمہاری حفاظت فرمائے گا اور آخرت میں اس کی بناء پر تمہیں ان عظیم الشان جنتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہونگی اور تم لوگ اللہ کی رضاء و خوشنودی کے شرف سے مشرف ہوگے جو کہ سب سے بڑی روحانی اور معنوی نعمت ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ (رضوان من اللہ اکبر) ۔ (التوبہ : 72) اور اس کے برعکس اگر تم نے برائی کا راستہ اپنایا تو اس کا وبال بھی خود تم ہی کو بھگتنا ہوگا۔ دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب کی صورت میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس اصولی ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ انسان کی اچھائی اور بھلائی خود اس کے اپنے لیے ہے۔ اور اس کی برائی کا وبال بھی خود اسی پر پڑے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آج مسلمانوں کا جو حال ہے اور پوری دنیا میں ان کو جس ذلت وادبار کا سامنا ہے اور جن ہولناک اور لرزہ خیز مظالم کا ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس کے بھی بڑی حد تک ذمہ دار یہ مسلمان خود ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی، کتنے ہی صاف وصریح احکام کی، علی الاعلان مخالفت کررہے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کتنے ہی نام نہاد مسلمان اور خاص کر حکمران طبقے کے لوگ ایسے ہیں جو کہ حق گو علمائے کرام کو حق گوئی سے روکتے ہیں۔ ان کی زبان بندی کیلئے طرح طرح کے ظالمانہ کالے قوانین بناتے اور ان پر نت نئی پابندیاں لگاتے ہیں۔ (فانا للہ وانا الیہ راجعون) اللہم اجرنا فی ما اصابنامن المصائب واخلف لنا خیرامنھا انت المستعان، علیک التکلان، فی کل حین وان۔
15۔ بنی اسرائیل کی دوسری سرکشی اور عذاب کا ذکر :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” پھر دوسری مرتبہ کے عذاب کا وقت آیا تو ہم نے تم پر دوسرے لوگ مسلط کردیئے تاکہ وہ حلیہ بگاڑ کر رکھ دین تمہارے چہروں کا “ چناچہ اس مرتبہ مجوس فارس نے ان پر چڑھائی کی اور انکو تہس نہس کرڈالا (بیضاوی، مراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ اور انہوں نے ان کی سب تعمیروترقی کو خاک میں ملادیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایک طویل عرصے کی غلامی اور تذلیل و تحقیر کے بعد تم لوگوں کو جس نجات اور از سرنو بحالی کی نعمت سے سرفراز کیا گیا اس میں یہ درس مضمر تھا کہ اگر تم بھلائی کی روش اختیار کروگے تو خود تمہارا اپنا بھلا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر تم لوگوں نے حسب سابق پھر سرکشی سے کام لیا تو ان کا انجام بھی تم کو پہلے کی طرح بھگتنا پڑے گا اور تمہیں اس سے تمہاری سرکوبی کیلئے اپنے دوسرے زور آور بندے تم پر مسلط کردیے تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ کر رکھ دیں۔ اور تاکہ یہ بھی مسجد میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح کہ پہلے والے گھس گئے تھے۔ اور تاکہ یہ ہر اس چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دین جن پر ان کا زورچلے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین۔
Ayah 17:816۔ بنی اسرائیل سے آئندہ کیلئے رحمت کا وعدہ اور انکو حق کی دعوت :۔
ہوسکتا ہے تمہارا رب رحم فرما دے تم لوگوں پر اگر تم نے اپنی اصلاح کرلی اور اپنی روش کو درست رکھا تو “ (عسی) کا لفظ یہاں پر وعدہ و یقین کے معنی میں ہے کہ یہ شاہانہ کلام کا ایک خاص اسلوب و اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں پر وعدہ و یقین کو عام طور پر ” عیسیٰ “ اور ” لعل “ جیسے الفاظ امید وترجی سے ہی ادا کیا جاتا ہے۔ (کبیر، صفوۃ وغیرہ) اور یہاں تو یہ باشاہ حقیقی اور احکم الحاکمین کے کلام صدق ترجمان میں ذکر ہوا ہے۔ تو پھر اس کے کہنے ہی کیا۔ سو اس میں بگڑے بھٹکے لوگوں کیلئے امید و رحمت کا پیغام ہے کہ تم لوگ اپنی اصلاح کرلو تو رحمت حق تم کو اب بھی اپنی آغوش میں لے لینے کو تیار ہے کہ اس خالق کل اور مالک مطلق کا کام اور اس کی شان ہی کرم کرنا اور رحمت فرمانا ہے۔ پس بندے کو ہمیشہ اور ہر حال میں اسی کی طرف جھکے رہنا چاہیے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف یہ خطاب ان یہود سے ہے جو کہ ان آیات کریمات کے نزول کے وقت موجود تھے اور وہ حق کا ساتھ دینے کی بجائے کفار قریش کے ہمنوا وپشت پناہ بنے ہوئے تھے۔ سو ان سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ تم لوگوں کو سنادیا گیا ہے۔ اب آئندہ کیلئے اگر تم لوگ اپنی خیریت چاہتے ہو تو نبی امی کی دعوت پر لبیک کہو جس کے ذریعے اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اور ساری دنیا کیلئے نجات وسعادت اور دارین کی فوز و فلاح سے سرفرازی کی راہ کھولی ہے۔ سو تم لوگوں نے اگر توبہ اور اصلاح کی اس راہ کو اپنایا تو تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ ورنہ محروم کے محروم رہوگے۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال۔
17۔ قانون مکافات کی تذکیر و یاددہانی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اگر تم نے پھر وہی کچھ کیا تو ہم بھی وہی کریں گے جس کے تم مستحق ہوؤگے “ پس تم لوگ جیسا کروگے ویسا بھروگے کہ قانون مکافات اور جزاء عمل کا تقاضا یہی ہے کہ جیسا کروگے ویسا بھروگے۔ اور ہمارا یہ قانون عام، بےلاگ اور سب کے لئے یکساں ہے۔ سو اگر تم نے بغاوت و سرکشی کی راہ کو اپنایا، میرے احکام واوامر کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے قتل جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا تو پھر ہم بھی تم کو قتل، قید اور ذلت و خواری کے گذشتہ عذاب میں مبتلا کردیں گے۔ چناچہ یہود نے ایسا ہی کیا نبی آخرالزمان ﷺ کو جھٹلایا اور انکے قتل کی سازش کی تو اللہ نے بھی اپنے قانون مکافات کے مطابق ان کو اسی عذاب میں پکڑا جس کے یہ مستحق تھے۔ بنوقریظہ کو قتل کردیا گیا۔ بنوقینقاع اور بنونظیر کو جلاوطن۔ اور دوسروں پر جزیہ عائد کیا گیا۔ بہرکیف ان کو خبردار کیا گیا کہ اگر تم نے اسی طرح کی حرکتیں کیں جیسے پہلے کرتے آئے تو ہم وہی کچھ کریں گے جو پہلوں کے ساتھ کیا گیا۔ کہ یہی تقاضا ہے قانون مکافات۔ والعیاذ باللہ۔
18۔ کافروں کیلئے دوزخ کا انتہائی ہولناک قیدخانہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور کافروں کیلئے ہم نے ایک بڑا ہی ہولناک قید خانہ تیار کر رکھا ہے “۔ اتنا بڑا اور اس قدر ہولناک کہ اس دنیا میں اس کا احاطہ و ادراک اور اس کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس جو لوگ اپنے کفر وباطل سے باز نہ آئے اور کفر ہی پر انہوں نے جان دے دی تو ان کو لازما اس میں داخل ہونا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو منکرین و مکذبین اور دشمنان حق ودین کو اس دنیا میں جس ذلت و رسوائی اور عذاب ونکال سے دوچار ہونا پڑتا ہے اسی پر بات ختم نہیں ہوجاتی۔ بلکہ یہ تو ان کے عذاب کی ایک معمولی سی قسط ہے۔ اصل عذاب تو ایسے بدبختوں کو آخرت کے اس ” دارالجزائ “ ہی میں ہوگا اور وہاں ان کیلئے دوزخ کا وہ ہولناک قیدخانہ تیار ہے جس کا اس جہاں میں تصور کرنا بھی کسی کیلئے ممکن نہیں۔ اور جس سے پھر نکلنے کی کوئی صورت بھی ایسے بدبختوں کیلئے ممکن نہ ہوگی۔ سو ان کے کفر وانکار کا اصل اور پورا بدلہ ان کو وہی ملے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:919۔ قرآن کی راہنمائی سب سے زیادہ سیدھے راستے کی طرف :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک یہ قرآن اس راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا اور ہر لحاظ سے درست راستہ ہے۔ جس میں نہ کوئی کجی ہے نہ غموض۔ اور جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اور دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا کفیل وضامن ہے۔ اور جو عبارت ہے اس دین قیم اور ملت حنیفیہ سے۔ اور جو مقتضی ہے عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا اور جو مفاد ہے قرآن وسنت کی تعلیمات مقدسہ کا۔ اور جس کا حاصل ونچوڑ اور خلاصہ ہے انابت ورجوع الی اللہ۔ اور یہ اعتقاد کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت اسی کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ” اقوم “ کے معنی ہیں سیدھا اور مستقیم۔ یعنی وہ راستہ جو ٹھیک فطرت مستقیم اور عقل سلیم کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ اور جو سیدھا خدا تک پہنچنے اور پہنچانے والا ہے۔ اس کے سوا باقی سب راستے ٹیڑھے۔ والعیاذ باللہ :۔
20۔ قرآن حکیم سے حقیقی استفادہ و فیضیابی کیلئے اولین شرط ایمان صادق :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور یہ خوشخبری سناتا ہے ان ایمانداروں کو جو نیک عمل کرتے ہیں “ اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات مقدسہ اور ارشادات عالیہ کے مطابق۔ سو معلوم ہوا کہ قرآن پاک سے مستفید ہونے کی پہلی اور بنیادی شرط اس پر سچا پکا ایمان رکھنا ہے۔ اور دوسری شرط اس کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنا۔ جتنی ان دونوں باتوں میں پختگی ہوگی اتنا ہی یہ نوازے گا اور نوازتاچلا جائے گا۔ اللہم ارزقنا التوفیق وکماتحب وترضی۔ پس انسان کی اصل قدروقیمت اور اس کا شرف و مرتبہ اس کے ایمان و یقین اور عمل و کردار سے ہے اور بس۔ نہ کہ رنگ ونسل اور حسب ونسب وغیرہ جیسے دوسرے کسی عامل پر۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک طرف اہل کفر و باطل کو دعوت ایمان ہے کہ اگر تم لوگ راہ حق پر چلنا اور اپنے رب سے ملنا اور اس تک پہنچنا چاہتے ہو تو صدق دل سے اس کتاب حکیم پر ایمان لے آؤ۔ ورنہ تمہارے لیے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ وضلال، سوء وانحراف۔
21۔ اہل ایمان کیلئے اجر کبیر کا مژدہ جانفزا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ان کیلئے ایک بڑا ہی عظیم الشان اجر وثواب ہے “ اتنا بڑا اور اس قدر عظیم الشان کہ اس کی عظمت وسعت دارین کو محیط ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں حیات طیبہ ” پاکیزہ زندگی “ اور سچی ناموری کی دولت سے بہرہ ور ہوں گے۔ اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفراز۔ اللہم اجعلنا منہم بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین۔ اور وہاں ان کیلئے وہ کچھ ہوگا جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ہوگا اور نہ ہی کسی دل پر اس کا گزر ہی ہوگا۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ سو جو لوگ اس اجر کبیر اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و فیضاب ہونا چاہتے ہوں وہ صدق دل سے قرآن حکیم پر ایمان لاکر اس کی دروس وتعلیمات کو اپنائیں۔ کہ یہی راستہ ہے صحت و سلامتی کا۔ وباللہ التوفیق۔
Ayahs 17:10–1122۔ ایمان سے محروم لوگوں کیلئے بڑا درناک عذاب والعیاذ باللہ :۔
سو اس سے ایمان سے محروم لوگوں کے بڑی ہی درد ناک عذاب کی تصریح فرما دی گئی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا ” اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کیلئے ہم نے بڑا درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے “۔ اتنا بڑا اور اس قدر ہولناک کہ نہ تو یہاں اس کا ادراک کسی کے بس میں ہے اور نہ ہی الفاظ و تعبیرات سے اس کا احاطہ ممکن ہے۔ والیعاذ باللہ العظیم۔ اور یہ طبعی نتیجہ اور لازمی اثر ہوگا ایسے لوگوں نے اپنے ظاہر وباطن کو ملوث کر رکھا تھا، اور یہ زندگی بھر نور حق و ہدایت کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے تھے۔ جس کے باعث وہ کفر وباطل کی اس ہولناک میل میں لتھڑے ہوئے ہی اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ اور کل قیامت کے اس عالم مشاہدہ میں کفر وباطل کی ان کی یہی معنوی اور مرئی میل ان کے جسموں پر تارکول بن کر پھیل جائے گی۔ جس کو دوزخ کی وہ ہولناک آگ لپک کر پکڑلے گی اور ان کے چہروں تک پر چھا جائے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس حقیقت کو صاف اور صریح طور پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ (سرابیلہم من قطران وتغشی وجوہہم النار) ۔ (ابراہیم : 50) ۔ والیعاذ باللہ العظیم۔ اور اس میں بھی اہل ایمان کیلئے بالواسطہ طور پر مسرت و شادمانی کا سامان ہے کہ انکے دشمن اس طرح کے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے کہ دشمن کی مصیبت سے مسرت ایک طبعی چیز ہے۔ والیعاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 17:1225۔ رات ودن کی دو عظیم نشانیوں میں سامان عبرت و بصیرت :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور رات اور دن کو ہم نے دو عظیم الشان نشانیاں بنایا “ اپنی قدرت و عنایت اور رحمت وحکمت کی۔ سو ذرا دیکھو تو سہی کہ ہماری قدرت کے یہ دونوں مظہر تمہارے لئے کتنے کتنے عظیم الشان فوائد ومصالح اپنے پہلو میں لئے ہوئے کس قدر باقاعدگی و باریکی اور کتنی عمدگی و پابندی سے آتے جاتے اور دنیا کو طرح طرح سے فیضیاب کرتے ہیں ؟ پس کیا کہنے اس وحدہ لاشریک کی اس بےپایاں قدرت اور بےنہایت رحمت اور حکمت کے کہ اس نے ہماری طرف سے کسی اپیل اور درخواست کے بغیر محض اپنی رحمت و عنایت سے ادلتے بدلتے شب وروز کے اس حیرت انگیز سلسلے کو ہمارے کام میں لگا دیا۔ فسبحانہ من الہ قادر قیوم رؤف رحیم۔ مگر یہ انسان کی غفلت اور اس کی محرومی ہے کہ وہ قدرت کے ان عظیم الشان مظاہر اور رحمتوں بھرے نظام میں غور وفکر سے کام نہیں لیتا۔ وہ عقل وفکر سے محروم جانوروں کی طرح ان سے فائدے تو پوری طرح اٹھاتا ہے اور لگاتار و مسلسل اٹھاتا ہے لیکن اس بارے کبھی غور و فکر نہیں کرتا کہ ایسا پُر حکمت نظام بنایا کس نے ؟ اور اس کو اس باقاعدگی سے چلاتا کون ہے ؟۔ اس کی اس رحمت و عنایت کا تقاضا اور حکیم و مہربان کا ہم پر حق کیا ہے ؟ اور اس کے اس حق کی ادائیگی کی صورت کیا ہوسکتی ہے ؟ سو یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جواب پر انسانی زندگی کے بناؤبگاڑ کا سلسلہ موقوف ہے۔ اور ان سوالوں کا صحیح جواب قرآن حکیم کی اس کتاب مقدس کے سوا اور کہیں سے ممکن نہیں۔ اور قرآن حکیم ایسے تمام سوالات کا ایساصحیح جواب دیتا ہے جو سو فیصد حق و صدق اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرتا ہے۔ سو اس کے باوجود اس قرآن حکیم سے منہ موڑنا اور اس سے اعراض و روگردانی برتنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدرہولناک محرومی ہے۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین۔
26۔ رات کی نشانی میں رحمت خداوندی کا ایک اور خاص پہلو :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” پھر رات کی نشانی کو تو ہم نے دھندلا ( اور مدہم) رکھا “۔ تاکہ اس میں اس کے بندے آرام وراحت سے پوری طرح بہرہ مندوفیضاب ہوسکیں۔ اور دن بھر کی محنت ومشقت کی بناء پر ان کی تحلیل اور ضائع شدہ انرجی پھر سے بحال ہوسکے۔ اور پھر تازہ دم ہوکراٹھیں اور اندھیری رات کو ہم نے ایک ایسا عظیم الشان اور بےمثال لباس بنایا ہے کہ اس کی سیاہ چادر اپنے وقت پر سب دنیا پر تن جاتی ہے جس سے تمہارے طرح طرح کے مفادات وابستہ ہیں اے لوگو۔ چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (وجعلنا اللیل لباسا) ۔ (النباء : 10) سو تم لوگ آخر سوچتے کیوں نہیں ؟ اور اس بارے غور وفکر سے کام کیوں نہیں لیتے کہ آخر یہ کس قادر مطلق اور حکیم مطلق کی قدرت و عنایت اور حکمت و رحمت کی کارستانی ہے کہ رات کے آنے پر تمہارے لیے سکون وراحت کا ایسا عظیم الشان بستر بچھا دیا جاتا ہے۔ اور اوپر سیاہ رات کی اس قدر وسیع و عریض اور بےمثال چادر اوڑھا دی جاتی ہے جس میں ساری مخلوق پر سکون نیند اور بےمثال آرام اور راحت سے سرشار و فیضیاب ہوتی ہے۔ سو وہی ہے اللہ خالق کل ومالک مطلق جس کی رحمتوں، عنایتوں اور قدرت وحکمت کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہاء۔ سو وہی ہے معبود برحق جو اس بات کا حقدار ہے کہ انسان اپنی گردن اس کے آگے ڈال دے اور اپنے ظاہر وباطن ہر اعتبار سے اسی کا ہو کر رہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرضی وعلی سبیل الدوام والاستمرار۔
27۔ دن کی نشانی کا ایک خاص اور امتیازی پہلو :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور دن کی نشانی کو ہم نے آنکھیں کھولنے والا بنایاسب لوگوں کے لئے “ تاکہ اس میں وہ اپنی روزی تلاش کرسکیں اور دوسرے طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل کرسکیں۔ اور اسی سے تمہارے دلوں کی آنکھیں بھی کھلیں۔ اور تم لوگ سوچو کہ آخروہ کون ہے جو اندھیری رات کے بعد اس طرح ہمارے لیے یہ روشن دن لاتا ہے اور رات اور دن کے اس عظیم الشان سلسلہ کو جس سے ہمارے طرح طرح کے مفادات وابستہ ہیں اس قدر پابندی اور پر حکمت طریقے سے چلاتا ہے ؟ وہ کیسا قادر مطلق کس حکیم مطلق، رحمن ورحیم اور فیاض و کریم ہے۔ اور کیا حق ہے اس کا ہم پر ؟ اور اس کا یہ حق واجب ہم کس طرح نہیں کرتے۔ اور ان سے درس عبرت و بصیرت کیوں نہیں لیتے جو پوری پابندی کے ساتھ آتی جاتی۔ انکے دامن فکر کو جھنجھوڑتی اور حکمتوں بھری آمد ورفت سے ان کو دعوت غور و فکر دیتی رہتی ہیں۔ تاکہ غفلت کے مارے یہ لوگ آنکھیں کھولیں۔ اپنے مقام کو پہچانیں اور قرآن حکیم کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اس سبیل اقوم اور صراط مستقیم کو اپنائیں جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔
28۔ روزی محض اللہ تعالیٰ کا وفضل وکرم ہے :۔
سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ روزی محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی مہربانی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ یہاں پر روزی کو ” فضل “ کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جس کے اصل اور لغوی معنی مہربانی کے آتے ہیں۔ سو اس میں اشارہ ہے اس بات کیطرف کہ روزی کے لئے تم لوگ کوشش اور محنت تو اپنی طرف سے کرو اور پوری پوری کرو لیکن یہ تم کو ملے گی۔ بہرحال اسی واہب مطلق کی عنایت و مہربانی سے۔ اور اس نے اپنے کرم پے پایاں، رحمت بےنہایت اور عنایت بےغایت سے ہر ایک کی روزی خود مقرر فرما دی ہے۔ اور ایسی اور اس طور پر کہ انسان کو اس کا مقررہ حصہ بہرحال مل کررہے گا۔ بلکہ بعض روایات کے مطابق انسان کی مقررہ روزی اس کا اسی طرح پیچھا کرتی ہے جس طرح اس کی موت اسکا پیچھا کرتی ہے۔ (المراغی وغیرہ) پس روزی کے بارے نہ تو کوئی مایوس اور نہ کوئی اس پر مست اور مغرور ہوجائے کہ یہ سب کچھ میری لیاقت اور قابلیت کا نتیجہ ہے۔ نہیں بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کا نتیجہ اور اس کے فضل وکرم کا ثمرہ واحسان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
29۔ سلسلہء شب وروز کے ایک اور فائدہ کا ذکر وبیان :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تاکہ تمہیں معلوم ہوسالوں کی گنتی اور حساب “۔ جس سے تمہارے طرح طرح کے معاملات اور مفادات وابستہ ہیں۔ سو ذرا سوچو کہ اگر روز وشب کی آمد ورفت کا یہ سلسلہ قائم نہ ہوتا تو تم لوگ ہفتوں، مہینوں اور سالوں کی گنتی اور ان سے متعلق وہ حساب کتاب کس طرح معلوم کرتے جن سے تمہارے طرح طرح کے مصالح اور مفادات وابستہ ہیں ؟ فرض کہ اگر ہمیشہ دن ہی دن ہوتا اور تمہیں رات اور اس کا وہ سکون میسر نہ ہوتا جس میں تم آرام کی اور گہری نیند سوتے ہو تو تم کیا کرتے ؟ اور تمہارا کیا حال ہوتا ؟ اور اگر اس کے برعکس ہمیشہ رات ہی رات اور اس کا اندھیرا ہی ہوتا اور تمہیں دن کا وہ اجالا میسر نہ آتا جس سے تم طرح طرح سے مستفید ہورہے ہو تو پھر تمہارا کیا حال ہوتا ؟ اور تمہاری زندگی کتنی مصیبتوں اور کس قدر مشکلات میں ڈوب جاتی۔ تو سوچو کہ آخرکون ہے وہ ذات اقدس واعلیٰ جس نے نہایت پر حکمت طریقے سے تمہارے لئے شب وروز کا یہ سلسلہ قائم فرما دیا جو نہایت ہی پابندی اور باریکی کے ساتھ چل رہا ہے ؟ (ذالک تقدیر العزیز العلیم) ۔ سو اس سے تم لوگ خود اندازہ کرلو کہ کس قدر ظالم، بےانصاف اور ناشکرے ہیں وہ لوگ جو اپنے اس خالق ومالک کا احسان مان کر دل وجان سے اس کے آگے نہیں جھکتے۔ والعیاذ باللہ۔ فکن اللہم لنا واجعلنا لک وخذ بنواصینا الی ماتحب وترضی من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل لحظۃ من اللحظات۔ یامن ھو ارحم بنامنا لانفسنا۔ سو رات اور دن کی اس پر حکمت اور نہایت ہی منظم آمد ورفت میں عظیم الشان دلائل میں غور وفکر سے کام لینے والوں کیلئے وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 17:1330۔ ہر انسان کا شگون خود اس کے اپنے گلے میں :۔
سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر انسان کا شگون خود اس کے اپنے گلے میں ہے۔ پس ہر انسان کی سعادت یا نحوست دراصل اس کے اپنے عمل و کردار ہی سے وابستہ ہے نہ کہ اس خارج سے۔ اور وہ گلے کے ہار کی طرح اس سے لٹکی اور چمٹی رہے گی۔ یہاں تک کہ اس کو اپنے آخری انجام تک پہنچا دے گی۔ پس انسان کو اپنا شگون باہر سے دیکھنے اور تلاش کرنے کی بجائے خود اپنے عمل میں دیکھنا چاہیے۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، المراغی اور محاسن وغیرہ) ۔ اور اپنی مصیبت ومشکل کا الزام دوسروں کو دینے اور ان کا ذمہ دار انکو ٹھہرانے کی بجائے خود اپنے اوپر نظر رکھنی چاہیے۔ اور اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔” طائر “ کے اصل معنی پرندے کے ہیں لیکن یہاں پر اس سے مراد انسان کا شگون اور اس کا حظ اور نصیب ہے۔ کیونکہ عرب کے لوگ پرندوں سے فال لیتے اور اپنی قسمت کا حال معلوم کیا کرتے تھے۔ اور آج بھی دنیا میں اور خود ہمارے ملک اور معاشرے میں اس طرح کے لوگ موجود ہیں جو ایسے ہی بےبنیاد اور ادہام و خرافات میں مبتلا ہیں۔ سو ایسے لوگ کوے کے دائیں طرف اڑنے کو سعادت کی نشانی قرار دیتے ہیں اور بائیں طرف اڑنے کو نحوست کی نشانی۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال، وسوء وانحراف۔
31۔ قیامت کے روز ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے :۔
سو اس ارشاد واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز ہر انسان کو اسکا نامہ اعمال کھلا ہوا دیا جائے گا۔ جس میں وہ اپنا زندگی بھرکا کیا کرایا سب کچھ موجود پائے گا۔ (فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ) ۔ سو اس میں نہ کوئی کمی ہوگی نہ پیشی۔ نہ کسی طرح کا ظلم نہ زیادتی۔ نہ کسی کی کوئی نیکی کم کی جائے گی اور نہ کسی پر کسی ناکردہ گناہ کا بوجھ ڈالا جائے گا۔ بلکہ اس کے انہی اعمال کا ریکارڈ اس کو پیش کردیا جائے گا جو وہ زندگی بھر خود کرتارہا تھا۔ سو جو لوگ اپنے کفر وانکار اور اپنے مزعومہ شرکاء وشفعاء اور اپنی خود ساختہ اور فرضی ووہمی سرکاروں ہستیوں اور آستانوں وغیرہ کے اعتماد پر نچنت اور بےفکر بیٹھے ہوئے ہیں انہیں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ یہ سب کچھ بےحقیقت اور بےبنیاد ہے۔ اصل چیز انسان کا اپنا عقیدہ و ایمان اور اس کا عمل و کردار ہے۔ اور اسی بناء پر ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اور اس کا شگون اس کے گلے میں لٹکا رکھا ہے۔ اور اس نے زندگی بھر جو کچھ کیا کرایا ہوگا اس کو قیامت کے روز ایک کھلی کتاب کی شکل میں اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔
Ayahs 17:14–1532۔ قیامت کے روزہرکسی کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا :۔
سو اس روز اس کے ان مزعومہ اور من گھڑت حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں سے کوئی بھی اس کے کام نہ آسکے گا۔ اور اسے کہا جائے گا کہ لے اپنا اعمال نامہ خود پڑھ لے اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کو خود دیکھ لے۔ آج تو کافی ہے اپنا حساب لینے کیلئے۔ پس تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ ان اعمال کا صلہ وبدلہ کیا ہونا چاہیے۔ اور ایسے شخص کا آخری ٹھکانا کہاں اور کیسا ہونا چاہیے ؟ اللہ نے تو تمہارے اعمال کو اس میں درج کرکے تم پر حجت قائم کردی ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کی کوئی نیکی درج ہونے سے رہ گئی ہے یا کوئی ناکردہ گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ سو اب ایسی کوئی شکایت کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ ہر انسان کے سامنے اس کی زندگی بھر کا کیا کرایا سارا ریکارڈ پیش کردیا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (ینبؤاالانسان یومئذ بما قدم واخر) (القیامہ : 13) یعنی ” اس دن انسان کو ان تمام کاموں کی خبر کردی جائے گی جو اس نے پہلے کیے اور جو اس نے پیچھے کیے ہوں گے “ سو اس روز انسان کے فیصلے کا دارومدار خود اس کے اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہوگا۔ کسی اور کی دخل اندازی کی نہ کوئی گنجائش ہوگی نہ اجازت۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 17:1636۔ عیش پرستی ہولناک انجام کا پیش خیمہ۔ والعیاذ باللہ :۔
سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ خوشحال وعیش پرست لوگوں کی خرمستیاں ان کی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ پس خوش حال لوگوں کا اطاعت و فرمانبرداری کے حکم سے منہ موڑنا ان کی ہلاکت و تباہی کا آغاز وپیش خیمہ ہوتا ہے۔ سو انبیاء ورسل اور ان کے اتباع و پیروکاروں کے ذریعے ان کو دعوت حق دی جاتی ہے لیکن ایسے لوگ اعراض وانکار سے کام لیتے ہیں۔ جس سے یہ اپنے اس انجام کے مستحق ہوجاتے ہیں جن سے ان کو دوچار کیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سوخوشحال لوگوں کیلئے اطاعت و فرمانبرداری کا ایسا حکم وارشاد اور ان کی اس سے سرتابی و سرکشی ان کی ہلاکت و تباہی کا آغاز وپیش خیمہ ہوتا ہے مگر اپنی غفلت و سرکشی کے باعث ایسے لوگ ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
37۔ اعراض و سرکشی کا نتیجہ ہلاکت و تباہی۔۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب عیش پرست لوگ اپنی خرمستی میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں ان پر عذاب کی بات پکی ہوجاتی ہے تو ہم ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔ کہ ہماری حکمت اور قانون عدل وانصاف کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ایسے فاسد مواد کی جڑ کاٹ دی جائے۔ سو پیغام حق و ہدایت سے اعراض و سرکشی کا نتیجہ وانجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور نجات وامان اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ صرف یہ ہے کہ دعوت حق پر صدق دل سے لبیک کہا جائے اور حضرت حق مجدہ کی طرف سے ارشاد فرمودہ ہدایت وتعلیمات کو صحیح طور پر اور پوری طرح اپنایا جائے۔ اس صراط مستقیم کے سوا باقی ہر راستہ گمراہی اور ہلاکت و تباہی کا راستہ ہے۔ اور اس سے محروم لوگ سراسر اندھیروں میں مستغرق ہیں۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہر طرح کے زیغ وضلال اور انحراف سے ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین
Ayah 17:1738۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم و آگہی کا حوالہ وذکر سو اس سے حقیقت کی تصریح فرما دی گئی کہ حضرت حق جل مجدہ اپنے بندوں کے ہر حال سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے۔ اس سے کسی کا کوئی بھی حال اور عمل کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تمہارا رب کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے والا دیکھنے والا “۔ پس تم لوگ طرح طرح کی چالبازیوں اور ملمع سازیوں سے کام لینے کی بجائے اپنے اس خبیر وبصیر رب کے ساتھ اپنا معاملہ صحیح اور صاف ررکھو جس سے تمہاری کوئی بھی بات چھپی نہیں رہ سکتی کہ سلامتی کی راہ یہی اور صرف یہی ہے کہ رب راضی رہے۔ فایاک نسال رضاک و تقاک یا ربنا یا ارحم الراحمین۔ سو انسان اپنی چالاکیوں اور چالبازیوں سے دنیا کی نگاہوں سے تو چھپ سکتا ہے اور چھپا لیتا ہے، مگر اس خبیر وبصیر رب قدیر سے چھپنا چھپانا کسی بھی طرح ممکن نہیں جسکی شان ہے۔ (یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور) ۔ (المومن : 19) یعنی ” وہ آنکھوں کی چوری اور دلوں کے چھپے رازوں کو بھی جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے “۔ سبحانہ وتعالیٰ
Ayahs 17:18–1939۔ طالب دنیا کے لئے صرف دنیا اور وہ بھی مقدر کے مطابق :۔ سو طالب دنیا کو بھی اتنا ہی ملتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے اور بس۔ پس طالب دنیا کو بھی دنیا اتنی نہیں ملتی جتنی وہ چاہتا ہے۔ بلکہ صرف اسی قدر ملتی ہے جتنا کہ ہم چاہتے ہیں۔ اور اس کو وہی کچھ ملتا ہے اور اسی قدر ملتا ہے جتنا اور جس قدر ہمیں دینا منظور ہوتا ہے اپنی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق۔ سو ابنائے دنیا کی یہ بڑی غلط فہمی ہے کہ ہم جو کچھ چاہیں حاصل کرسکتے ہیں۔ اس ارشاد ربانی میں (عاجلہ) کا لفظ آخرت کے بالمقابل استعمال فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے مراد یہ دنیائے فانی اور اس کا نفع عاجل ہے۔ سو اس ارشاد سے امہال کے بارے میں سنت الہی کو بیان فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور اس کے تقاضوں کو نظر انداز کر کے صرف دنیاوی زندگی اور اس کے فانی اور عارضی نفع ہی کے طلب گار بن جاتے ہیں ان کو اسی دنیا کا عارضی اور فانی بدلہ دیا جاتا ہے اور وہ بھی سب اور ان کی طلب و خواہش کے مطابق نہیں بلکہ ہماری مشیت ومرضی کے مطابق۔ سے (مانشاء اور لمن نرید) کی دو قیدوں سے واضح فرمادیا گیا کہ معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضئہ قدرت واختیار میں ہے “ نہ کہ ان لوگوں کی چاہت اور مرضی پر۔
40۔ ایسوں کیلئے آخرت میں دوزخ ہی ہوگا۔۔ والعیاذ باللہ :۔ سو جو لوگ دنیا ہی کو مقصود بنا کر آکرت سے منہ موڑ لیتے ہیں وہ بڑے ہی بدبخت اور محروم ہیں اور آخرت میں ایسوں کا مقسوم دوزخ ہے۔۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ جنت یا آخرت کی کامیابی ایسوں کو سرے سے مطلوب ہی نہیں تھی۔ اس لئے اپنے اس ہولناک انجام اور ابدی خساری کے ذمہ کار ایسے لوگ بذات خود ہوں گے۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی نگاہوں میں انکے نزدیک دنیا ہی سب کچھ ہوتی تھی اور ہے۔ وہ اسی کے طالب اور اسی کے پجاری ہوتے ہیں اور اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ یہاں تک وہ آخرت کے اس ابدی اور ہولناک خسارے میں پڑجاتے ہیں۔ سو آخرت کو بھول کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر دنیا ہی کو مقصد بنا لینا اور اسی کیلئے جینا اور مرنا خسارہ در خسارہ اور ہولناک ابدی تباہی اور محرومی کا پیش خیمہ ہے۔ مگر دنیا ہے کہ اس کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کیلئے دوزخ ہی ہوگا جس میں ان کو ذلیل وخوار اور بدحال ہو کر داخل ہونا ہوگا۔