17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

پاک ذات ہے وہ جو اپنے بندہ کو راتی رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گیا،1۔ جس کے اردگرد کو ہم نے بابرکت بنا رکھا ہے تاکہ اس (بندہ) کو ہم بعض اپنے عجائب (قدرت) دکھائیں،2۔ بیشک سمیع بصیر،3۔

1۔ (اور اپنے اس برگزیدہ بندہ کو اس عجیب اور انوکھی سرفرازی سے نوازدیا) سبحن وہ ذات ہر نقص اور کمی سے پاک، ہر عجز سے منزہ، ہر قید اور حد بندی سے بالاتر ہے، تسبیح کا لفظ لایا ہی ایسے موقع پر جاتا ہے جہاں کسی امر اہم وعظیم الشان کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ فالتسبیح انما یکون عند الامور العظام (ابن کثیر) (آیت) ” لیلا “۔ یعنی رات کے ایک حصہ میں، ایک ہی رات کے تھوڑے سے وقت میں، (آیت) ” اسری “۔ کے معنی میں تو خود ہی رات کا سفر داخل ہے السری سیر اللیل (راغب) لفظ (آیت) ” لیلا “۔ بہ صیغہ نکرہ کے اضافہ سے یہ تاکید وتصریح مقصود ہے کہ اتنا بڑا سفر جو عادۃ کئی کئی ہفتہ میں یا 40 دن کی مدت میں ممکن تھا فوق العادۃ طور پر رات کی چند گھڑیوں ہی میں انجام پا گیا اراد بقول لیلا بلفظ التنکیر تقلیل مدۃ الاسراء وانہ اسری بہ فی بعض اللیل من مکۃ الی الشام مسیرۃ اربعین لیلۃ (کشاف) وفائدتہ الدلالۃ بتنکیرہ علی تقلیل مدۃ الاسراء (بیضاوی) (آیت) ” بعبدہ “ عبد سے مراد عبد کامل یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک ہے، محل تخصیص پر قرآن مجید میں آپ کو اکثر عبد ہی سے موسوم کیا گیا ہے۔ مثلا نزل الفرقان علی عبدہ یاوان کنتم فی ریب ممانزلنا علی عبدنا۔ وغیرہ لفظ عبد سے اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ بہ ایں شرف و کرامت وبہ ایں کمالات معجزانہ محمد مصطفے ﷺ عبد محض ہی رہے، یہ نہیں ہوا کہ کچھ شرکت الوہیت و ربوبیت میں ہوگئی ہو، نصرانیوں کی عبرت انگیز مثال سب کے سامنے ہے۔ وقیل حکمۃ اخری ان فی التعبیربہ ھھنا دون حبیبہ مثلا سد الباب الغلوفیہ ﷺ کما وقع للنصاری فی نبیھم (روح) اور مقام عبدیت میں پستی تو صرف عوام وجہلا کو نظر آتی ہے، محققین عارفین کے نزدیک یہ تو عین اشرفیت اور کمال افضیلت کا مظہر ہے۔ والعبودیۃ علی مانص علی العارفون اشرف الاوصاف واعلی المراتب (روح) یہ واقعہ معراج پیش کب آیا تھا ؟ ہجرت سے قبل قیام مکہ کے زمانہ میں تو ظاہر ہی ہے، لیکن ہجرت سے کتنا قبل ہے اس میں بھی کچھ زیادہ اختلاف نہیں، سال سواسال قبل پر اتفاق ہے، بعض تابعین کی روایت پورے ایک سال کی ہے، اور بعض کی 16 مہینہ کی۔ عن الزھری کان الاسراء قبل الھجرۃ بسنتہ وکذا قال عروۃ وقال السدی بستۃ عشرشھرا (ابن کثیر) (آیت) ” اسری بعبدہ “۔ سے یہ حقیقت بھی صاف ہوگئی کہ اس سفر کا کرانے والا، اس عجیب ومعجز واقعہ کو تکمیل تک پہنچانے والا، حق تعالیٰ تھا، رسول اللہ ﷺ خود نہ تھے، جس حیرت انگیز شبانہ سفر نبوی کا یہاں ذکر ہے اس کا اصطلاحی نام معراج ہے، ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ معراج ایک نہیں متعدد واقع ہوئی ہیں، لیکن محققین کا ارشاد ہے کہ یہ احتمال بہت بعید ہے اور علماء سلف میں سے کوئی اس طرف نہیں گیا ہے۔ ھذا بعید جدا ولم ینقل ھذا عن احد من السلف (ابن کثیر) معراج سے متعلق اور بھی بڑی بڑی بحثیں پیدا ہوگئی ہیں، مثلا یہ کہ معراج جسمانی تھی یاروحانی، بیداری میں ہوئی یا حالت خواب میں، مختلف جوابات مختلف فریقوں کی طرف سے دیئے گئے ہیں اور ہر ہر فریق کچھ نہ کچھ دلائل بھی اپنی تائید میں رکھتا ہے لیکن آیت قرآنی کی تفسیر ان میں سے کسی پہلو کے بھی اختیار کرنے پر موقوف ومعلق نہیں، واقعہ معراج جس صورت اور جس کیفیت کے ساتھ پیش آیا ہو بہرحال ایک حیرت انگیزمعجزہ اور عام بشری تجربہ سے مافوق واقعہ ہوا ہے اور اس کے نفس وقوع پر ایمان رکھنا واجب ہے۔ پیغمبران کو جو جو تجربے کرائے گئے ہیں (اکیلے سید الانبیاء ہی کو نہیں ابراہیم خلیل (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کو بھی) ان کی پوری تفصیلات عام انسانوں کے ذہن کی گرفت میں آہی کب سکتی ہیں ؟ بقول عارف رومی (رح) ۔ ع :۔ درنیابدحال پختہ ہیچ خام پس سخن کوتاہ باید والسلام :۔ محدث سہیلی (رح) نے سیرۃ ابن ہشام کی شرح الروض الانف میں ایک مستقل عنوان یہ قائم کیا ہے ھل کان الاسراء فی یقظۃ بجسدہ اوکان فی نومہ بروحہ (آپ کی معراج بیداری میں جسم کے ساتھ ہوئی تھی یا حالت خواب میں محض روحانی ؟ ) اور خود سیرۃ ابن ہشام میں محدث اور مشہور صاحب السیرۃ ابن اسحاق کے حوالہ سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل بیدار رہتا ہے چناچہ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ ﷺ کو عجائب الہی میں سے یہ جو کچھ دکھلایا گیا یہ خواب یا بیداری کس حالت میں دکھایا گیا بہرحال جو بھی حالت ہو وہ عین حق وصدق ہے۔ قال ابن اسحاق وکان رسول اللہ ﷺ یقول فی ما بلغنی تنام عینی وقلبی یقظان اللہ اعلم وھی ذلک کان قد جاء ہ وعاین فیہ ماعاین من امر علی ای حالیہ کان نائما اویقظان کل ذلک حق وصدق۔ (آیت) ” من المسجد الحرام “ یعنی خانہ کعبہ کی مسجد سے (آیت) ” الی المسجد الاقصا “۔ یعنی قبلہ اول بیت المقدس کی مسجد تک (آیت) ” اقصی “ یعنی شہر مکہ سے بہت دور۔ 2۔ واقعہ اسراء ایک تو بجائے خود عجیب و غریب، مکہ معظمہ سے یروشلیم کی صدہا میل کی مسافت کا گویا آنافانا طے ہوجانا اور پھر حسب تصریح احادیث بیت المقدس میں انبیاء سابقین سے ملاقات کا ہونا اور پھر ملکوتی اور آسمانی مشاہدات عجیب ترین۔ (آیت) ” الذی برکنا حولہ “۔ یعنی ملک شام برکنا کے تحت میں مادی وروحانی ہر قسم کی برکتیں آگئیں، ملک کی سرسبزی وشادابی، سرزمین سے (بہ زبان توریت) دودھ اور شہد کی نہروں کا ابلنا برکت مادی کی مثال ہوئی، اور انبیاء کرام کا کثرت سے اس سرزمین سے اٹھنا اور اسی کی خاک میں مدفون ہونا روحانی برکتوں کو واضح کررہا ہے ،۔ برکات الدین والدنیا (بیضاوی) (آیت) ” من ایتنا “۔ یہ عجائبات جو کچھ بھی تھے ان کی حیثیت محض آیات الہی ہی کی تھی جن سے معرفت و حکمت کے بڑے بڑے سبق ملتے ہیں، تفریح اور تماشہ کی نہ تھی، اوپر سے بیان صیغہ غائب چلا آرہا تھا، یہاں معا صیغہ متکلم میں منتقل ہوگیا، یہ انتقال ان برکات وآیات کے اظہار عظمت و تکریم کے لئے ہے وصرف الکلام من الغیبۃ الی التکلم لتعظیم تلک البرکات والایات (بیضاوی) 3۔ (رسول اللہ ﷺ کے ان مراتب قرب و کمال قرب سے کہیں یہ نہ سمجھنے لگنا کہ آپ بھی ان صفات باری میں کچھ شریک ہوگئے تھے معاذ اللہ سمیع وبصیر تو بلاشرکت غیرے وہی حق تعالیٰ ہی ہے) یہ مراد بھی ہوسکتی ہے، کہ حق تعالیٰ پر سب کچھ روشن ہے، اس نے رسول اللہ ﷺ کے اقوال سن کر اور احوال کو دیکھ کر آپ ﷺ کو اس درجہ کا قرب عطا کیا،
Ayah 17:2

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

وہی (اللہ) ہے اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور ہم نے اس (کتاب) کو بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا تھا کہ کہیں میرے سوا کسی (اور) کو کار ساز مت قرار دے لینا،4۔

4۔ توریت موجودہ میں اب تک متعدد آیتیں تعلیم توحید کو مل رہی ہیں مثلا ” خداوند تیرا خدا جو تجھے زمین مصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہوں، میرے حضور تیرے لئے دوسرا خدا نہ ہو وے، تو اپنے لئے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے سے مت بنا، تو ان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں “۔ (خروج۔ 2: 2) (آیت) ” الکتب “۔ توریت کا مراد ہونا ظاہر ہے، یہود برائے نام تو ہمیشہ توحید کے قائل رہے ہیں، البتہ دنیا پرستی میں مبتلا ہو کر عملا اس راہ سے بار بار ہٹ جاتے تھے، وعید اسی پر ہورہی ہے۔
Ayah 17:3

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

اے ان لوگوں کی نسل جنہیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا،5۔ وہ بیشک بڑے بڑے شکر گزار بندہ تھے،6۔

5۔ (اور اسی طرح ہلاکت عام سے بچا لیا تھا) سوائے اسرائیلیو ! سن لو کہ یہ خطاب تمہیں سے ہے، ہم ہی نے اس ہلاکت عام کے وقت تمہارے مورثوں کو بچالیا تھا اور تم انہیں بچے ہوؤں کی نسل میں ہو، تم انہیں بچے ہوؤں کی نسل میں ہو، تم پر تم شکر گذاری اور زیادہ واجب ہے۔ (آیت) ” مع نوح “۔ نوح (علیہ السلام) ان کی کشتی اور طوفان سب پر حاشیہ پہلے گذر چکے۔ (آیت) ” ذریۃ “۔ صیغہ ندا کا ہے ” اے ذریت “ کے معنی میں قال مجاھد ھذا نداء یعنی یا ذریۃ من حملنا (معالم) 6۔ (اور شکر گذاری ہی کی ایک بڑی فرد عقیدۂ توحید ہے)
Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ جتلا دیا تھا کہ تم ملک میں دو بار بڑی خرابی پیدا کرو گے اور بڑا زور چلانے لگو گے،7۔

7۔ (خلق پر ظلم کرکے اور خالق کے قانون سے بغاوت اختیار کر کرکے) فساد فی الارض اور علو دونوں سے مراد حقوق اللہ وحقوق العباد دونوں کا اتلاف ہے اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ (آیت) ” وقضینا۔۔۔ الکتب “۔ یہ خبر بنی اسرائیل کو ان کے مختلف پیغمبروں کے ذریعہ سے سنا دی گئی تھی۔ خود توریت ہی کے بعض مقامات انذاری پیش گوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں، مثلا احبار باب 26۔ یا استثناء باب 28۔ پھر اس کے علاوہ یرمیاہ نبی کی ہولناک پیش گوئیاں موجود ہیں اور حضرت یحییٰ نبی اور حضرت عیسیٰ نبی کی انذاری پیش گوئیاں، سب انہیں اسرائیلی صحیفوں میں ، (آیت) ” مرتین “۔ یوں تو قوم اسرائیل کی تاریخ تباہیوں اور بربادیوں ہی کی ایک مسلسل سرگزشت ہے، تاہم دو مرتبہ کی قیامت خیز ہلاکتیں تاریخ کے صفحات پر بہت گہرے الفاظ میں نقش ہیں۔ ایک بار 586 ؁ ق، م میں بخت نصر تاجدار بابل ونینوا کے ہاتھوں اور دوبارہ 70 ء ؁ میں رومی شہنشاہ طیطاؤس (TITUES) کے زمانہ میں۔
Ayah 17:5

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پھر جب دوبارہ میں سے پہلی کی میعاد آئے گی،8۔ تو ہم تمہارے اوپر اپنے (ایسے) بندوں کو مسلط کردیں گے جو بڑے جنگجو ہوں گے سو وہ گھروں میں گھس پڑیں گے،9۔ اور یہ وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا،10۔

8۔ (اور تمہارے جرائم تمہیں عقوبت شدید کا مستحق بنادیں گے) یرمیاہ نبی کی کتاب جو آج بھی صحائف عہد عتیق کا ایک جزو ہے، دیکھی جاسکتی ہے، یہود کی شرارتوں، بدکاریوں کی داستان سے لبریز ہے، احبار اور ربیون کے نزدیک بھی انتقام الہی کی محرک یہود کی تباہ کاریاں ہی ہوئی تھیں، ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ 9۔ (اور تمہیں کہیں پناہ نہ مل سکے گی) (آیت) ” بعثنا علیکم عبادالنا “۔ اس عالم اسباب میں سزا اور غضب الہی کا نفاذ ہمیشہ کسی نہ کسی مخلوق ہی کے ذریعہ اور واسطہ سے ہوگا، بعث سے یہاں مراد بعثت تشریعی نہیں، محض بعثت تکوینی ہے اور عباد سے مراد وہ انسان جو عذاب الہی کے کارندوں کی حیثیت سے ان پر مسلط کئے گئے تھے اور ان کے لئے یہ ہرگز ضروری نہ تھا کہ وہ خود بھی مومنین صالحیں میں سے ہوں۔ اس لیے (آیت) ” عبادالنا “ پر یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ بخت نصر کا ایک کافر تاجدار تھا پھر قرآن نے اس کے لشکر کا انتساب اپنی جانب کیسے کرلیا، یہی مضمون یہود کے مقدس صحیفہ یرمیاہ میں بھی ہے اور اس میں بخت نصر کو خدا کو خدمت گذار کہا گیا ہے :۔” رب الافواج یوں کہتا ہے۔ اس لئے کہ تم نے میری باتیں نہ سنیں، دیکھ میں اتر کے سارے گھرانوں کو اور اپنے خدمت گزار شاہ بابل بنو کہ نضر کو بلا بھیجوں گا “۔ (یرمیاہ۔ 25: 8، 9) (آیت) ” اولی باس شدید “۔ بابل والے عموما بڑے جنگجو اور نبرد پیشہ تھے، اور بخت نصر کی خون آشامی کے ذکر سے تو تاریخ کے صفات رنگین ہیں۔ (آیت) ” فجاسوا خلل الدیار “۔ بخت نصر کے لشکر نے جس جس طرح سرزمین شام کو تاخت و تاراج کیا، ہیکل سلیمانی کو شہید کیا، شہر میں آگ لگائی، ایک ایک گھر میں گھس گھس کر جان، مال، عزت سب کو برباد کیا، یہ سب اسی مختصر جامع فقرہ قرآنی کی تفصیلات ہیں۔ 10۔ یرمیاہ نبی کے صحیفہ میں خود یہ وعید اور پھر اس کے ظہور محل دونوں کی تفصیلات درج ہیں۔” میں ایسا کروں گا کہ ان کے درمیان خوشی کی آواز اور خرمی کی آواز، دل ہے کی آواز، دلہن کی آواز، چکی کی آواز اور چراغ کی روشنی باقی نہ رہے اور یہ ساری سرزمین ویرانہ اور حیرانی کا باعث ہوجائے گی اور یہ قومیں ستر برس تک بابل کے بادشاہ کی غلامی کریں گی اور ایسا ہوگا خداوند کہتا ہے کہ جب ستربرس پورے ہوں گے، میں بابل کے بادشاہ کو اور اس کی قوم کو اور کسدیوں کی سرزمین کو ان کی بدکاری کے سبب سزادوں گا اور میں اسے ایسا اجاڑوں گا کہ ہمیشہ تک ویرانہ رہے “ (یرمیاہ۔ 25: 9۔ 12) ” خداوند نے صہیون کی بیٹی کو اپنے قہر کے ابرتلے چھپادیا۔ اس نے اسرائیل کے جمال کو آسمان سے زمین پر پٹک دیا اور اپنے قہر کے دن اپنے پاؤں رکھنے کی کرسی کو نہ یاد کیا۔ خداوند نے یعقوب کے سارے مکانوں کو غارت کیا اور رحم نہ کیا۔ اس نے اپنے قہر میں یہوداہ کی بیٹی کے قلعوں کو ڈھادیا، اس نے انہیں خاک کے برابر کردیا اس نے بادشاہت اور امیروں کو ناپاک کیا اس نے اپنے قہرشدید میں اسرائیل کا ایک سینگ بالکل کاٹ ڈالا “ (یرمیاہ کا نوحہ۔ 2: 1۔ 3)
Ayah 17:6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ایک بار ہم تمہارا ان پر غلبہ کردیں گے،11۔ اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کریں گے اور تمہیں ایک بڑی جماعت بنادیں گے،12۔

11۔ (کسی ایسی حکومت کے ذریعہ سے جو تمہاری ہمدرد وہوا خواہ ہوگی اور یہ اس وقت جب تم اپنی حرکتوں پر پشیمان ہولوگے) دارائے اول سایرس یامورس شاہ ایران نے کلدانیوں کو شکست دے کر اور خود ان کے ملک پر قابض ہو کر 539 ؁ ق، م میں یہ ود کو جلاوطنی سے نجات دے کر وطن جانے اور اسے دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دے دی تھی، قرآن مجید کا یہ اشارہ اسی تاریخی واقعہ کی جانب ہے۔ 12۔ یعنی تمہاری جو جائدادیں چھن گئی تھیں وہ تمہیں واپس مل جائیں گی اور تمہارے افراد جو قید ہوگئے تھے چھوٹ کر اپنے وطن آجائیں گے اور تمہاری آبادی اچھی خاصی ترقی کرجائے گی، جلاوطنی کے بعد اسرائیلیوں کو جو مال واپس ملا تھا، اس کا تذکرہ عہد عتیق میں ہے۔
Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر اچھے کام کرو گے اپنے ہی لئے اچھائی کرو گے اور اگر برائی کرو گے تو بھی اپنے ہی حق میں،13۔ پھر جب پچھلی بار میعاد آئے گی (ہم دوسروں کو مسلط کردیں گے) تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ (تمہاری) عبادت گاہ میں گھس پڑیں جیسا کہ اس میں (اگلے لوگ) اگلی بار گھس آئے تھے اور تاکہ یہ جس چیز پر بھی ان کا زور چلے اسے تہس نہس کرڈالیں،14۔

13۔ (اور خود ہی سزا بھگتوگے) یہ سب کچھ اسرائیلیوں سے اسی وقت ان کے پیغمبروں کی وساطت سے کہہ دیا گیا تھا۔ (آیت) ” ان احسنتم “۔ اس کے تحت میں ساری ہی نیکیاں اور طاعتیں آجاتی ہیں۔ لیکن خاص اشارہ اوپر معلوم ہوتا ہے کہ اگر تم نے انبیاء کا اتباع شروع کردیا۔ یہود کا اصل اور بنیادی جرم ہی اپنے انبیاء سے بار بار سرکشی اور نافرمانی تھی، توحید کے تو وہ بہرحال کسی نہ کسی صورت میں قائل ہی تھے۔ 14۔ یعنی جس طرح چھ صدیوں قبل کلدانی اور بابلی سپاہیوں نے تمہیں ہلاک وتباہ کرڈالا تھا اور تمہاری عبادتگاہ میں آگ لگادی تھی، اب کی بار رومی سپاہی عذاب الہی کے مؤکل بن کر تم پر نازل ہوں گے۔ ان پیش خبریوں کا عملا جس طرح ظہورہوا، اس کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” وعدالاخرۃ “۔ یعنی جن دو بار کا ابھی اوپر ذکر آچکا ہے، ان میں سے دوسری بار۔۔ 70 ء ؁ میں ٹایئٹس رومی کے عہد میں۔ پہلی سزا شریعت موسوی کے ترک وتحریف پر ملی تھی، اب یہ دوسری سزا رسالت عیسوی کی مخالفت و انکار پر دی جارہی ہے۔ (آیت) ” لیسوٓء ا۔ لیدخلوا۔ لیتبروا “۔ ان تینوں افعال میں ل۔ لام تعلیل ہے۔ مراد اس سے مقصود الہی تکوینی کا ظاہر کرنا ہے نہ کہ مقصود الہی تشریعی کا۔ مظہر ارادۂ الہی کا ہے نہ کہ رضائے الہی کا۔
Ayah 17:8

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

عجب نہیں کہ تمہارا پروردگار تم پر مہربانی کرے،15۔ اور اگر تم پھر وہی کروگے تو ہم بھی وہی کریں گے اور جہنم کو تو ہم نے کافروں کا قید خانہ بنا ہی رکھا ہے،16۔

15۔ (اور تم کو مزید ذلت وادبار سے بچا لے) اب خطاب ان اسرائیلیوں سے ہے جو قرآن کے معاصر اور براہ راست مخاطب تھے، ان سے ارشاد ہورہا ہے کہ پچھلی تباہیاں جو آنا تھیں آچکیں۔ اب بھی کچھ نہیں گیا ہے خاتم النبین ﷺ پر، شریعت موسوی وعیسوی کے جامع پر اگر آج ایمان لے آؤ، اور شریعت اسلامی کو قبول کرلو، تو اب بھی یہ ادبارٹل سکتا ہے۔ 16۔ یہ آخرت کی سزا دنیوی سزا کے علاوہ ہے۔ (آیت) ” وان عدتم عدنا “۔ یعنی تم نے بھی اگر اپنی وہی پچھلی حرکتیں، وہی مخالفت حق، وہی انانیت و استکبار جاری رکھا تو پھر وہی سزائیں قتل، اسیری، جلاوطنی، خانماں بربادی وغیرہ اب بھی تمہارے لئے موجود ہیں، بدنصیب یہود عرب نے اس آخری تنبیہ کو نہ سنا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے سارے پر قوت قبیلے بنی قریظہ، بنی نضیر، بنی قینقاع وغیرہ ایک ایک کرکے ایک قلیل ہی مدت کے اندر مٹ گئے، (آیت) ” حصیرا “۔ یہ عالم آخرت کا وہ حلقہ عذاب ہوگا جس سے کافر کبھی مخلصی حاصل نہ کرسکیں گے۔ الھؤلآء والاقوام لھم من عذاب الدنیا ما وصفناہ ویکون لھم بعد ذلک من عذاب الاخرۃ مایکون محیطابھم من جمیع الجھات ولا یتخلصون منہ ابدا (کبیر)
Ayah 17:9

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن ایسے (طریقہ) کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے رہتے ہیں خوش خبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا بھاری اجر ہے،17۔

17۔ صلاح و فلاح دارین، دنیوی واخروی فوز و کامرانی کی راہیں اسی کتاب حقیقت ترجمان سے وابستہ ہیں، ذرا اس پر عمل کرکے دیکھو تو۔ (آیت) ” اقوم “۔ سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ سابق کتب آسمانی کی بتائی ہوئی راہیں بھی اپنی اپنی جگہ سیدھی ہیں لیکن یہ قرآن والی شاہراہ سب سے بڑھ کر اور سب کی جامع ہے۔ اے اقوم الطرق واسدھا (روح) (آیت) ” ھذا القران “۔ اشارۂ ھذا تعظیم قرآن کے لئے ہے۔ وفی الاشارۃ بھذا تعظیم لماجآء بہ النبی ﷺ (روح) (آیت) ” یھدی “۔ اس کا مفعول عام ہے۔ یعنی یہ ہدایت سب ہی کو کرتا ہے۔ کسی مخصوص فرقہ کو نہیں، اے الناس کافۃ لافرقۃ مخصوصۃ (روح) (آیت) ” للتی “۔ یہاں الطریقۃ محذوف ہے۔ اے للطریقۃ التی (روح) اے الطریقۃ التیھی اقوم الملل والشرائع والطرق ومثل ھذہ الکنایۃ کثیرۃ الاستعمال فی القرآن (کبیر)
Ayah 17:10

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ بھی (بتانا ہے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے عذاب دردناک تیار کر رکھا ہے،18۔

18۔ آخرت سے انکار اپنے وسیع معنی میں یعنی صحیح تفصیلات کے ساتھ یوم الجزاء سے انکار تو ہر کافر کیلئے عام ہے لیکن یہود کے سلسلہ میں اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ برمحل ہے۔ اس لئے کہ یہود باوجود دعوی توحید کے سب سے زیادہ اسی عقیدۂ آخرت ہی کو بھولے ہوئے تھے دنیا پرستی جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو یہی صورت پیدا کردیتی ہے۔ موجودہ توریت محرف میں سب سے کم ذکر یوم آخرت اور وہاں کی جزاسزا کا ہے۔ سارا زور اسی دنیا کے انعامات کا ہے۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور انسان برائی کی درخواست بھی (اسی تقاضہ سے) کرتا ہے (جس طرح) بھلائی کی درخواست اور انسان ہے ہی جلد باز،19۔

19۔ ( اور اپنے انجام پر غور نہ کرنے والا) (آیت) ” یدع الانسان “۔ یہاں الانسان سے مراد ایک خاص قسم کا انسان یعنی کافر انسان ہے۔ والمراد بالانسان الجنس اسند الیہ حال بعض افرادہ وھو الکافر والیہ یشیر کلام ابن عباس ؓ (روح) (آیت) ” یدع۔۔ بالخیر “۔ جن چیزوں کا لازمی نتیجہ عذاب الہی میں مبتلا ہونا ہے ان کی تمنا کرتے رہنا، اپنے کو عذاب یا برائی کی دعوت ہی دنیا ہے۔ (آیت) ” کان الانسان عجولا “۔ اس کے ماتحت وہ انسان نہیں آتے جنہوں نے اپنے اتباع شریعت سے مہذب ومزین کرلیا ہے۔ اس ذرا سے فقرہ میں گمراہ و باطل پرست انسان کی ساری ذہینت کی تشریح آگئی، ہر معصیت ہر فسق، ہر کفر کی طرف لے جانے والی چیز انسان کی یہی عجلت پسندی اور فوری لذت کی تمنا ہوتی ہے۔ اگر ذرا وہ سوچ سمجھ سے کام لے لیاکرے تو کبھی ان نتائج کی نوبت ہی نہ آئے۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنا رکھا ہے،20۔ سو ہم نے رات والی نشانی کو تو دھندلا بنایا اور ہم نے دن والی نشانی کو روشن کردیا تاکہ اپنے پروردگار کی روزی تلاش کرو اور تاکہ برسوں کا شمار اور (دوسرے) حساب معلوم کرلیا کرو اور ہر (ضروری) شے کو ہم نے خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے،21۔

20۔ (اپنی قدرت، صنعت و حکمت کی) حکمت وعرفان کی نظر سے دیکھا جائے تو رات اور دن کے طلوع و غروب میں ان کی مسلسل پابندیوں میں حکمتوں اور صنعتوں کی ایک دنیا پوشیدہ نظر آئے گی، بدبخت قوموں نے الٹا انہیں بھی دیوی دیوتا، مان کر ان کی پرستش شروع کردی ، 21۔ (اس کتاب عزیز و حکیم کے اندر) محونا، جعلنا۔ دن جیسا کہ وہ ہے اور رات جیسی کہ وہ ہے، ان کی ترتیب، ترکیب سب کچھ اللہ ہی کی کاری گری کا ثمرہ ہے، یہ نہیں کہ یہ محض بخت واتفاق سے خود بخود وجود میں آگئے ہوں یا کسی دیوی دیوتا نے انہیں خلعت وجود سے مشرف کیا ہو، (آیت) ” لتبتغوا۔ والتعلموا “۔ سورج ہو کہ چاند، دن ہو کہ رات، سب کی خلقت کی غایت انسان کی خدمت ہے نہ یہ کہ انسان ہی الٹٰ ان کی پرستش میں لگ جائے، (آیت) ” کل شیء “۔ کو اگر بالکل اپنے لفظی معنی میں لیاجائے اور اس کے اندر چھوٹی بڑی ہر قسم کی چیز سمجھ لی جائے تو مراد بجائے قرآن کے لوح محفوظ ہوگی۔ (آیت) ” لتبتغوا فضلا من ربکم “۔ یعنی تلاش معاش میں مشغول رہو جس کی صورتیں بیشمار ہیں اور ان سب کے لئے دن کی روشنی اور اجالے کا انتظام حق تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا ایک معمولی مظہر ہے۔ (آیت) ” لتعلموا عدد السنین والحساب “ دنیا اور دین کے سارے کاروبار اسی وقت وزمان ہی کے حساب و کتاب پر معلق رہتے ہیں۔
Ayah 17:13

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہر انسان کا عمل ہم نے اس کے گلے کا ہار کر رکھا ہے،22۔ اور اس کے واسطے قیامت کے دن ہم (اس کا) نامہ اعمال نکال کر سامنے کردیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھ لے گا،23۔

22۔ یعنی ہر شخص کا عمل نیک ہو یا بد، ہر حال میں ہم نے اس کے ساتھ بطور جزء غیر منفک کے لازم کردیا ہے۔ (آیت) ” طیئرہ “۔ ہر مکلف انسان کے افعال اختیاری مراد ہیں۔ اے عملہ الصادر منہ باختیارہ (روح) سمی الخیر والشر بالطائر تسمیۃ للشیء باسم لازمہ (کبیر) (آیت) ” الزمنہ فی عنقہ “۔ محاورہ عرب میں شدت لزوم اور کمال ربط کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ تصور لشدۃ اللزوم و کمال الارتباط (روح) ۔ 23۔ یہ نامہ اعمال جو اس وقت تک عالم غیب میں فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہوگا، حشر میں کھول کر ہر بندہ کے سامنے پیش کیا کردیا جائے گا۔
Ayah 17:14

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

) لے) اپنا نامہ اعمال پڑھ، آج تو خود ہی اپنے حق میں حساب کرنے کیلئے کافی ہے،24۔

24۔ (کسی اور کو ضرورت ہی نہیں کہ تجھے تیرے اعمال گنا دے) (آیت) ” اقرأ کتبک “۔ یہ بندہ سے کہا جائے گا۔ نامہ اعمال کے اس تھرا دینے والے ذکر پر اس نامہ سیاہ کو اپنے نامہ اعمال کی سیاہیاں یاد آگئیں لیکن ساتھ ہی بندہ نواز مولی کی بےانداز شفقتوں اور بےحد و حساب بندہ پروری کا بھی خیال آگیا ! اللہ ٹھنڈی رکھے اقبال (رح) کی تربت کو کیا لاجواب مضمون باندھ گیا ہے، گوپیرایہ ادا ذرا خلاف ادب ہے۔ ع : روز حساب جب میرا پیش ہودفتر عمل آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو کوئی راہ پر چلتا ہے سو وہ اپنے ہی نفع کے لئے راہ پر چلتا ہے اور جو کوئی بےراہی کرتا ہے وہ بھی اپنے ہی لئے بےراہ ہوتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا،25۔ اور ہم کبھی سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو ہم بھیج نہیں لیتے،26۔

25۔ مشرک قوموں کا تو ذکر ہی نہیں، خود اہل کتاب و یہود ونصاری کے ہاں انفرادی ذمہ داری مٹ مٹا کر سارا زور مسئلہ ” شفاعت “ و ” کفارہ “ وغیرہ پر رہ گیا تھا۔ قرآن مجید میں اسی لئے ان عقاید کی پرزور تردید بار بار مختلف عنوانات سے ہوتی رہتی ہے اور یہاں بھی مقصود شخصی ذمہ داری ومسؤلیت کا اثبات ہے۔ 26۔ یہاں یہ عام قاعدہ بیان کردیا کہ تبلیغ دین، رسول یا اس کے کسی نائب کے ذریعہ سے ہوجانا ضروری ہے، بغیر اس کے کسی قوم پر عذاب نہیں آتا۔ اور محققین نے اس سے استنباط کرکے لکھا ہے کہ جن قوموں تک رسول کی اصلا خبر نہیں پہنچی وہ کفر ومعاصی پر معذب نہ ہوں گے۔ اور یہیں سے فقہاء نے یہ بھی نکالا ہے کہ کوئی کفار حربی اگر اسلام لے آئے اور اسے نماز زکوٰۃ وغیرہ کے احکام کی خبر نہ پہنچے تو جب تک اطلاع نہ پہنچ لے اس پر ان واجبات وفرائض کی قضا نہیں ہے۔ ھذا یدل علی من اسلم من اھل الحرب ولم یسمع بالصلاۃ ولزکوۃ ونحوھا من الشرائع السمعیۃ انہ لایلزمہ قضاء شیء منھا (جصاص) فیہ دلیل علی ان ماوجب وجب بالسمع لابالعقل (معالم) اور یہ نتیجہ بھی نکالا ہے کہ جب تک رسول ہی کے پیامات کی مخالفت نہ ہولے محض عقلی واجبات وفرائض کی مخالفت سے عذاب ہلاکت نازل نہیں ہوتا۔ انہ لایعذب عذاب الاستیصال الا بعد قیام حجۃ السمع بالرسول ان مخالفۃ موجبات احکام العقول قبل ورود السمع من جھۃ الرسول لاتوجب فی حکم اللہ عذاب الاستیصال (جصاص)
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہم ارادہ کرلیتے ہیں کہ کسی بستی کو ہلاک کریں گے تو اس (بستی) کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں پھر وہ لوگ وہاں شرارت مچاتے ہیں تو ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے پھر اس (بستی) کو تباہ و غارت کر ڈالتے ہیں،27۔

27۔ یہاں اسی عام ضابطہ کا بیان ہے کہ جب کسی قوم کی شدت کفر و طغیان کی بنا پر حکمت الہی کو اس کا فنا کردینا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے تو پہلے کسی رسول کے ذریعہ سے اسے ایمان و اطاعت احکام کا حکم پہنچایا جاتا ہے اور جب وہ برابر عدول حکمی کرتے رہتے ہیں تو ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور بستی تہس نہس کر ڈالی جاتی ہے۔ (آیت) ” واذا اردنا “۔ یہ ارادۂ الہی ہمیشہ مصالح تکوینی اور آئین حکمت کے ماتحت ہوتا ہے رضائے الہی ایک بالکل دوسری چیز ہے۔ (آیت) ” ان نھلک قریۃ “۔ یہ کسی بستی کی ہلاکت بطریق عذاب اس کی مسلسل نافرمانیوں کا نتیجہ ہوتی ہے خود بخود نہیں واقع ہوجاتی۔ (آیت) ” امرنا مترفیھا “۔ اطاعت احکام الہی کا یہ حکم رسول کے ذریعہ سے ملتا تو امت کے عوام و خواص سب ہی کو ہے لیکن خواص کی حیثیت لیڈر، پیشوا یا مقتدا کی ہوتی ہے۔ اس لئے ان کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا، عوام تو بس انہی کے پیرو ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” ففسقوا فیھا فحق علیھا القول “۔ یہ الفاظ اس باب میں صریح ہیں کہ گرفت دفعۃ اور بلااطلاع نہیں ہوجاتی پوری طرح موقع دینے اور ہر طرح کے اتمام حجت کے بعد ہی ہوتی ہے۔
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے کتنی ہی امتوں کو نوح (علیہ السلام) کے بعد سے ہلاک کرڈالا ہے اور آپ کا پروردگار ہی اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے والے، دیکھتے رہنے والے کی حیثیت سے کافی ہے،28۔

28۔ (اسے کسی اور کی اعانت کی ذرا بھی حاجت نہیں) صفات خیبر وبصیر لاکر یہ یاد دلادیا کہ حق تعالیٰ سب کے ظاہر و باطن سے پوری طرح خبردار ہے اور بصیرت میں کامل ہے۔ اس کے ہاں اس اندھیر کا امکان ہی نہیں کہ کسی کو بلاقصور سزا مل جائے عام مشرک قوموں کے دیوی دیوتاؤں کے ہاں انسانوں کے ساتھ برتاؤ کا کوئی قانون وقاعدہ ہی نہیں گا ہے بسلامے برنجند گاہے بدشنامے خلعت وہند کا معاملہ رہتا ہے۔ (آیت) ” وکم اھلکنا من القرون “۔ یہ انہیں قوموں کی ہلاکت کا ذکر ہے جو اپنے کفر و طغیان کے پاداش میں ہلاک ہوئیں۔ (آیت) ” من بعد نوح “۔ یعنی جب سے تاریخ کا آغاز ہوا ہے۔ دنیا از سر نوطوفان نوح کے بعد ہی آباد ہوئی اور تاریخ عالم کا آغاز کہنا چاہیے کہ اسی وقت سے ہوتا ہے۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو کوئی دنیا کی نیت رکھے گا ہم اس کو دنیا میں سے جتنا چاہیں گے جس کے واسطے چاہیں گے فورا ہی دے دیں گے پھر ہم اس کے لئے جہنم رکھیں گے اس میں وہ بدحال اور راندہ ہو کر داخل ہوگا،29۔

29۔ آیت کے اندر بڑی عبرت کا مضمون بیان ہوا ہے آج دنیا میں کثرت سے ایسے لوگ ہیں کہ اپنے مختلف منصوبوں میں کامیاب پاکر اپنے برسرحق اور مقبول سمجھنے لگتے ہیں اور بجائے اس کے کہ ضمیر کی خلش محسوس کریں اپنی ہر کامیابی کے ساتھ اور زیادہ غافل مطمئن اور بےفکر ہوجاتے ہیں۔ کوئی رشوت لے لے کر اپنی حرص پوری کررہا ہے کوئی سود لے لے کر اپنا خزانہ جمع کررہا ہے اور چونکہ دولت کھٹا کھٹ چلی آرہی ہے اپنے حال پر اور زیادہ نازاں ہوتا جاتا ہے۔ اور اپنے عمل پر احتساب ونظر ثانی کی ضرورت ہی سرے سے نہیں سمجھتا۔ آیت میں بتایا ہے کہ یہ فوری کامیابی مطلق صورت میں ہرگز خوش ہونے والی چیز نہیں دیکھنا تو یہ چاہیے کہ غایت عمل کیا ہے اور مقصود سعی کیا ہے۔ اگر محض دنیا ہے تو انجام تمامتر خراب ہی ہونا ہے۔ (آیت) ” من کان یرید العاجلۃ “۔ یعنی جو اپنا مطمح نظر اسی عارضی وفانی دنیا کو بنائے رکھے اور اپنے عمل سے مقصود اسی کو رکھے۔ (آیت) ” مانشآء لمن نرید “۔ دونوں قیدیں اہم ہیں یہ وعدہ مطلق صورت میں نہیں کہ ہر طالب دنیا کو اس کی خاطر خواہ دنیا مل ہی جائے گی بلکہ صرف اسی کو اور اتنی ہی مقدار میں ملے گی، جس کے لئے اور جس حد تک مشیت الہی مصالح تکوینی کے مطابق ہوگی ،
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو کوئی آخرت کی نیت رکھے گا اور اس کے لئے کوشش بھی اس کے لائق کرے گا درآنحالیکہ وہ مومن بھی ہو سو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہوگی،30۔

30۔ (اللہ کے ہاں اور ایسوں کو اجر پورا مل کررہے گا) بہ خلاف آیت ماقبل کے یہاں وعدہ مطلق اور قطعی صورت میں ہے طالب عقبی کو (جو حقیقۃ طالب مولی ہی ہوتا ہے) اسے ایمان اور سعی حسن عمل کے بعد جزائے کامل یقیناً ملے گی۔ (آیت) ” من ارادالاخرۃ “۔ یعنی جو اپنا مطمح نظر اس مکمل وپایدار زندگی کو بنائے رکھے اور اپنے عمل سے مقصود اسی کو رکھے۔ گویا قبول کی پہلی شرط تصحیح نیت ہوئی۔ (آیت) ” وسعی لھا سعیھا “۔ محض تمنا ہرگز کافی نہیں۔ جب انسان نیکی حاصل کرنا چاہے تو لازم ہے کہ عملا بھی اس کی طرف قدم بڑھائے، محض آرزو و تمنا کا درجہ قطعا ناکافی ہے۔ اور عمل بھی اپنے ظن وتخمین سے نہیں یا اپنی ہوائے نفس کے ماتحت نہیں بلکہ قانون شریعت کے مطابق ہو۔ گویا دوسری شرط تصحیح عمل ہوئی۔ حسب ضابطہ شریعت اعمال و طاعات کا شریعت کے سانچہ میں ڈھلا ہوا ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ اپنے دل سے گڑھی ہوئی ریاضتیں اور مجاہدات کیسے ہی شدید ہوں ہرگز نافع نہ ہوسکیں گے اگر معیار شریعت سے ہٹے ہوئے رہے۔ (آیت) ’ وھو مومن “۔ تیسری اور سب سے زبردست شرط یہ تصحیح عقیدہ کی ہوئی، منکر قانون الہی کا عمل کوئی سا بھی مقبول نہیں۔
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم ہر ایک کی امداد کرتے ہیں ان میں سے بھی اور ان میں سے بھی آپ کے پروردگار کی بخشش میں سے اور آپ کے پروردگار کی بخشش (کسی پر) بند نہیں،31۔

31۔ یہاں یہ قانون بیان ہوا ہے کہ نیک وبد، سعید وشقی، مقبول ومردود تکوینی طور پر خزانہ غیب سے سب ہی مدد پاتے رہتے ہیں، چناچہ یہ تو روز کا مشاہدہ ہے کہ ہوا اور پانی اور سورج کی گرمی اور چاند کی ٹھنڈک اور روشنی اور حیوانی ونباتی موجودات سے جس طرح مومن نفع اٹھا سکتے ہیں اسی طرح شدید منکرین بھی نفع اٹھا رہے ہیں۔ (آیت) ” کلا “۔ یعنی ہر دو فریق۔ اے کل واحد من الفریقین (مدارک)
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

تو دیکھ ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت یقیناً بہت بڑی ہے درجات کے اعتبار سے بھی اور بہت بڑی ہے فضیلت کے اعتبار سے بھی،32۔

32۔ (سواصل اہتمام اور پورا اہتمام اسی آخرت کا چاہیے) (آیت) ” وللاخرۃ اکبر درجت “۔ جس آخرت میں یہ مرتبہ عطا ہوں گے، وہ مخصوص ہے مومنین مقبولین کیلئے۔ آیت میں اشارہ اسی جانب ہے کہ دنیا میں جو فرق مراتب ومدارج تمہارے لئے محسوس ومشاہد ہے وہ تو اس قدر ہے تو آخرت میں باہمی فرق درجات تو اس سے ہزاروں گنا نمایاں ہوگا ! (آیت) ” فضلنا بعضھم علی بعض “۔ یہ ایک دوسرے کی فضیلت انعامات دنیوی کے لحاظ سے ہے۔ مال، جاہ، کمالات وغیرہ۔ (آیت) ” انظر “۔ سبق لینے کی نیت سے دیکھو۔ انظر بعین الاعتبار (مدارک)
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ تو بیٹھ رہے گا بدحال بےیارومددگار ہوکر،33۔

33۔ شرک کی ایک نمایاں قباحت اس دنیا میں تو یہ نظر آتی ہے کہ انسان توحید سے کٹ کر بالکل بےسہارے اور بےیارومدد گار رہ جاتا ہے۔ اور آخرت میں بھی بےکسی اور بےبسی متشکل ہو کر خود مشرک کے سامنے آجاتی ہے۔ (آیت) ” فتقعد “۔ قعود سے یہاں مراد جسم کی وہ وضع وہیئت نہیں جو کھڑے ہونے یا لیٹنے سے متمایز ہے بلکہ جیسے اردو محاورہ میں ” بیٹھ رہنے سے “ مراد صرف ناخوشگوار حالت میں پڑے رہ جانے سے ہوتی ہے جیسے ان فقروں میں ” صدمہ تو بہت ہوا لیکن کرتے کیا روپیٹ کر بیٹھ رہے “” تھک کر بیٹھ رہے۔ “ اسی طرح عربی محاورہ میں بھی قعود کسی بری حالت کے مستمر ہوجانے کے موقع پر آتا ہے۔ معناہ المکث اے متمکث فی الناس مذموما مخذولا ھذہ اللفظۃ مستعملۃ فی لسان العرب والفرس فی ھذا المعنی (کبیر) معناہ المکث سواء کان قائما اوجالسا (کبیر)
Ayah 17:23

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تیرے پروردگار نے حکم دے رکھا ہے کہ بجز اسی (ایک رب) کے اور کسی کی پرستش نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک رکھنا،34۔ اگر وہ تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں ان دونوں میں سے ایک یا وہ دونوں تو تو ان ان سے ہوں بھی نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب کے ساتھ بات چیت کرنا،35۔

34۔ ماں باپ کی خدمت کرتے رہنا شریعت اسلامی کے اہم ترین واجبات میں سے ہے۔ تہذیب فرنگ کی طرح شریعت اسلامی کا یہ فتوی نہیں کہ لڑکا جب عاقل وبالغ اور صاحب اختیار ہوجائے تو بیوی کے ساتھ اپنا الگ گھر بار کرلے اور بوڑھے ماں باپ سے تعلق اگر رکھے بھی تو محض دور کا اور ضابطہ کا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” وبالوالدین احسانا “۔ یہ فقرہ جس میں خدمت والدین کا حکم ہے اس کا عطف اس فقرہ پر جس میں توحید اور منع شرک کا حکم ہے خود اس امر پر ایک دلیل ہے کہ شریعت میں خدمت والدین کا درجہ کتنا اہم وبلند ہے۔ بین اللہ تعالیٰ بھذہ الایۃ تاکید حق الابوین الامر بالاحسان الیھما الی الامر بالتوحید (جصاص) آیت میں کوئی نسخ و تخصیص نہیں، والدین اگر مشرک ہیں تو ان کے حق میں دعائے ہدایت جاری رہنا چاہیے اور اگر مومن ہیں تو دعائے رحمت، لانسخ ولا تخصیص لان الوالدین اذا کانا کافرین فلہ ان یدعوا لھما بالھدایۃ والا رشاد وان یطلب الرحمۃ لھما بعد حصول الایمان (کبیر) فقہاء نے لکھا ہے کہ والدین اگر مشرک ہوں جب بھی ان کے ساتھ حسن معاشرت واجب ہے بجز اس کے کہ باب شرک میں ان کی اطاعت نہ کی جائے۔ فامر بمصاحبۃ الوالدین المشرکین بالمعروف مع النھی عن طاعتھما فی الشرک (جصاص) 35۔ دنیا میں اس سطح ارض پر ایسی ایسی مہذب وشائستہ قومیں بھی گزری ہیں جن کے ہاں دستور یہ تھا کہ جب والدین بوڑھے ہو کر قوم کے لئے بیکار بلکہ اس پر ایک بار ہوجاتے تھے تو سعادتمند صاحبزادے انہیں لے جاکر کسی سنسان پہاڑی وغیرہ پر چھوڑ آتے تھے کہ وہیں پڑے پڑے مرجائیں یا کسی جنگلی جانور کی غذا بن جائیں۔ (آیت) ” اما یبلغن عندک الکبر “۔ بڑھاپے کا ذکر اس لئے فرمایا گیا کہ اسی سن میں والدین معذور ہو کر دوسروں کی خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں اور اسی سن میں ان کی خدمت طبیعت کو گراں گزرنے لگتی ہے۔ ایک حدیث نبوی میں بھی یہ مضمون آیا ہے کہ بڑا بدقسمت ہے وہ شخص جو اپنے والدین کا بڑھاپا پائے اور پھر انہیں خوش کرکے ان کی دعاؤں سے اپنے کو جنت کا مستحق نہ بنالے۔ (آیت) ” فلاتقل لھما اف “۔ جب ان کے سامنے ہوں کرنے کی بھی ممانعت ہوگئی تو ظاہر ہے کہ جو چیزیں اس سے بڑھ کر ان کے مقابلہ میں گستاخانہ یا ان کے حق میں تکلیف دہ ہیں۔ ان کی ممانعت تو کہیں زائد ہوگی، حکم قرآنی سے مراد صرف یہ ہے کہ والدین کو قولا فعلا بڑی چھوٹی کسی قسم کی بھی اذیت پہنچانا جائز نہیں صرف لفظ ” اف “ کے تلفظ سے روکنا ہرگز مقصود نہیں۔ ثم انھم تو سعوا فذکروا ھذہ اللفظۃ عند کل مکروہ یصل الیھم (کبیر) لاتقل لفلان اف مثل یضرب للمنع من کل مکروہ واذیۃ وان خف وقل (کبیر) المقصود من ھذا الکلام المبالغۃ فی تعظیم الوالدین (کبیر) (آیت) ” وبالوالدین احسانا “۔ سے اگر والدین کے ساتھ عمل میں لطف ونرمی کا حکم نکلا تو فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما سے قول میں ان کے ساتھ ادب اور تمیز داری کی تاکید نکلی اور (آیت) ” وقل لھما قولا کریما “۔ سے مخاطبت وگفتگو میں ان کے ادب و عظمت کے لحاظ رکھنے کا حکم نکل آیا۔
Ayah 17:24

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور ان کے سامنے محبت سے انکسار کے ساتھ جھکے رہنا اور کہتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان پر رحمت فرما جیسا کہ انہوں ن ے مجھے بچپن میں پالا، پرورش کیا،36۔

36۔ خدمت والدین کے سلسلہ میں محض سلبی ہدایات یا نواہی کافی نہیں۔ ایجابی اوامر بھی مل رہے ہیں۔ (آیت) ” قل لھما قولا کریما “۔ تو ابھی آہی چکا ہے۔ اب دوہدایتیں اور ملیں۔ (آیت) ” واخفض لھما جناح الذل “۔ محاورۂ زبان کے اعتبار سے اس فقرہ سے والدین کے ساتھ انتہائی فروتنی اختیار کرنے کی تاکید نکل آئی۔ ھو مجاز لان الذل لیس لہ جناح ولا یوصف بذلک ولکنہ ارادالمبالغۃ فی التذلل والتواضع (جصاص) مبالغۃ فی التذلل والتواضع لھما (کشاف) والمقصود منہ المبالغۃ فی التواضع (کبیر) (آیت) ” قل۔۔۔ صغیرا “۔ یہاں کس حکمت کے ساتھ جوان تندرست وتنومند اولاد کو خود اس کے بچپن کی بےکسی وبے بسی یاد دلادی گئی۔ قدرۃ یہاں پہنچ کر ہر انسان کو یہ خیال آئے گا کہ ایک دن مجھے بھی اسی طرح ضعیف ومعذور ہو کر خود اپنی اولاد کا محتاج ودست نگر ہونا ہے۔ (آیت) ” قل رب ارحمھما “۔ والدین کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہنے سے خود اپنے دل میں بھی ان کے متعلق جذبات محبت وکشش بیدار ہوجائیں گے یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے جب جس کا جی چاہے اس کا تجربہ کرکے دیکھ لے۔ اور پھر یہ دعا کرنا کہ ” اے پروردگار ان پر رحمت فرما “ گویا یہ دعا کرنا ہے کہ ” اے پروردگار انہیں دنیا وآخرت کی ہر قسم کی بھلائی سے بہرہ ور کر، کہ لفظ رحمۃ عرب میں جامعیت ہی ایسی رکھتا ہے۔ ولفظ الرحمۃ جامع لکل الخیرات فی الدین والدنیا (کبیر عن القفال) (آیت) ” کما ربینی صغیرا “۔ اس سے ضمنا یہ بات بھی نکل آئی کہ معاشرت اسلامی میں بچوں کی پرورش والدین ہی کا حق ہے (اور ہر صالح تمدن میں یہی ہوتابھی ہے) نہ کہ حکومت کا یا کسی اور ادارہ کا۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔37۔ اگر تم (دل سے) سعادت مند ہو تو وہ بھی توبہ کرنے والوں کے حق میں بڑا مغفرت کرنے والا ہے،38۔

37۔ (اس لئے محض ظاہری اور لفظی تعظیم پر اکتفانہ کرنا بلکہ دل سے بھی ان کی توقیر وتعظیم اور ادب ولحاظ میں لگے رہنا) اللہ اللہ خدمت والدین و اطاعت والدین کے باب میں قرآن مجید کو کس درجہ اہتمام منظور ہے۔ 38۔ (اس لئے اگر اتفاقی طور سے کبھی کوئی بات تم سے ان کے مرتبہ کے منافی صادر ہوجائے تو معا نادم ہو کر اس کی تلافی کرو) (آیت) ” صلحین “۔ یعنی نیکی اور حسن سلوک کا ارادہ رکھنے والے، ہماری زبان ہی موقع کیلئے ہے۔ اے قاصدین الصلاح والبر دون العقوق والفساد (روح) قاصدین الصلاح والبر (کشاف) (آیت) ” اوابین “۔ یعنی وہ لوگ جو غلطی یا لغزش صادر ہوجانے کے بعد حق تعالیٰ کی طرف توبہ و استغفار کے ساتھ رجوع کریں، اے الراجعین الیہ تعالیٰ التائبین عما فرط منھم مما لایکاد یخلومن البشر (روح)
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور تو قرابت دار کو (بھی) اس کا حق ادا کر اور محتاج اور مسافر کو (بھی ان کا حق) اور مال کو فضولیات میں نہ اڑا،39۔

39۔ اسلام نفس جمع مال وکسب مال کا مانع نہیں، البتہ پہلے تو وہ کسب مال کے لئے شرائط جائز و حلال کی قید لگاتا ہے اور پھر صرف مال کے قاعدے مقرر کرتا ہے کہ مال و دولت پر تو عزیزوں کے، مسکینوں کے، نادار مسافروں، پردیسیوں کے حق میں قائم ہیں یہ انہیں کے کام میں آنے کی چیزیں ہیں۔ (آیت) ” حقہ “۔ حق کا لفظ مالی وغیرمالی ہر قسم کے حقوق پر شامل ہے لیکن یہاں ذکر حقوق مالی ہی کا ہورہا ہے، حق کے لفظ نے یہ بھی بتادیا کہ عزیزوں، مسکینوں وغیرہ کی اعانت واجب ہے، ان کا حق ہے کہ وہ مالداروں سے اعانت طلب کریں اور مالداروں پر لازمی ہے کہ ان پر احسان رکھ کر نہیں اپنا فرض سمجھ کر ان کی اعانت کریں، یہ معنی ہیں صحیح سوشلزم (اشتراکیت) کے۔ نہ یہ کہ ایک طرف ناداروں کو سرمایہ داروں کے خلاف بھڑکا دیا جائے اور غصہ دلادیاجائے، اور دوسری طرف نظام سرمایہ داری مالداروں کے قلب میں قساوت پیدا کردے۔ خدمت والدین کا حکم ابھی ابھی مل چکا ہے۔ اس کے معا بعد یہ ہدایت لانا گویا یہ کہنا ہے کہ حقوق خدمت صرف والدین تک محدود نہ رہیں، والدین کے بعد ہی دوسرے عزیزوں کا نمبر ہے اور پھر درجہ بدرجہ ہر تعلق اور سابقہ رکھنے والے کا۔ (آیت) ” ولا تبذر تبذیرا “۔ اسلام مالدار کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ اپنے نفس کی آسائش پر سرے سے کچھ خرچ ہی نہ کرے، جائز حدود کے اندر اس نے اس کی بھی پوری اجازت دی ہے۔ البتہ وہ اندھا دھند اسراف سے قطعا روکتا ہے جس سے جائدداد کچھ روز میں تباہ ہو کر رہ جائے۔ تبذیر کہتے ہیں، مال کے بےموقع یعنی محل معصیت میں خرچ کرنے کو اور اس کی دو قسمیں ہوسکتی ہیں۔ (1) ایک معصیت بالذات مثلا زنا، شراب، قمار بازی وغیرہ، اس میں کچھ بھی صرف کرنا ہر حال میں حرام ہے۔ (2) دوسرے معصیت بالغیر یعنی عمل تو بجائے خود جائز ہو، لیکن اس میں شرکت سے مقصود و تفاخر وغیرہ ہو۔ التبذیر انفاق فی غیر حقہ (جصاص۔ عن ابن عباس ؓ وعبداللہ بن مسعود ؓ وقتادۃ ؓ التبذیر تفریق المال فی غیر الحل والمحل (مدارک)
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بیشک فضولیات میں اڑا دینے والے شیطانوں کے بھائی بند ہوتے ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے،40۔

40۔ (کہ حق تعالیٰ نے اس کو دولت عقل کی دی تھی مگر اس نے اسے خدا تعالیٰ کی نافرمانی میں لٹادیا) (آیت) ” اخوان الشیطین “۔ یعنی ناشکری اور کفران نعمت میں شیطان کے مشابہ وہم سطح ہوتے ہیں۔ والمراد من ھذہ الاخوۃ التشبہ بھم فی ھذا الفعل القبیح (کبیر) (آیت) ” اخوان “۔ اخ کا اطلاق عربی میں بہت وسیع اور ہر قسم کے اشتراک ومشابہت کے لئے عام ہے۔ (آیت) ” یستعار فی کل مشارک لغیرہ فی القبیلۃ اوفی الدین اوفی صنعۃ اوفی معاملۃ اوفی غیرذلک من المناسبات (راغب) العرب یسمون الملازم للشیء اخالہ فیقولون فلاں اخوالکرم والجود واخوالسفر اذا کان موا ظبا علی ھذہ الاعمال (کبیر) انسان کی مذمت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسے شیطان سے تشبیہ دیدی جائے جو سرچشمہ ساری برائیوں کا ہے۔ وھی غایۃ المذمۃ لانہ لااشر من الشیطان (کشاف)
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تجھے ان سے پہلو تہی کرنا پڑے اس انتظار میں کہ تیرے پروردگار کی طرف سے وہ کشائش آئے جس کی تجھے امید ہو تو تو ان سے نرمی کی بات کہہ دے،41۔

41۔ یعنی نرم زبانی اور ان کی دلجوئی ملحوظ رکھ کر ان سے آئندہ کے لئے وعدہ کرلینا، کوئی کڑا اور دل شکن جواب انہیں ہرگز نہ دینا۔ (آیت) ” واما تعرضن عنھم “۔ یعنی جب وہ لوگ تم سے طالب اعانت ہوں اور عارضی طور پر تم خود اس وقت تہی دست ہو۔ (آیت) ” عنھم “۔ سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا حقدار ہونا ابھی اوپر گزر چکا ہے۔
Ayah 17:29

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور تو نہ اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لے اور نہ اسے بالکل کھول ہی دے ورنہ تو ملامت زدہ، تہی دست ہو کر بیٹھ جائے گا،42۔

42۔ (جیسا کہ بےتحاشا اسراف کا نتیجہ لازمی طور پر نکلتا ہے) خرچ کے معاملہ میں اسلام کی تعلیم اعتدال، اقتصادی ومیانہ روی کی ہے۔ نہ اپنی حالت اور قدرت سے بڑھ کر خرچ اور نہ بالکل کنجوسی ہی نہ صرف بےمحل، خلاف موقع، نہ موقع ومحل پر صرف سے گریز۔ (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “۔ عربی محاورہ میں کنایہ ہے غایت بخل سے۔ اے لاتجعل یدک فی عنقھا منھا کا المغلولۃ الممنوعۃ عن الانبساط (کبیر) (آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط “۔ عربی محاورہ میں کنایہ ہے انتہائے اسراف سے۔ اے ولا تتوسع فی الانفاق توسعا مفرطا بحیث لایبقی فی یدک شیء (کبیر) (آیت) ” فتقعد “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 33۔
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تیرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے اور (وہی) تنگی (بھی) کردیتا ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کی خوب خبر رکھنے والا ہے (انہیں) خوب دیکھتے رہنے والا ہے،43۔

43۔ مخلوقات کی ضرورتوں سے، مصلحتوں سے حق تعالیٰ سے بڑھ کر باخبر وواقف کار اور کون ہوسکتا ہے ؟ کیا انفرادا اور کیا اجتماعا اس کو سب کے ظاہر و باطن دونوں کی ہے۔ اس نے تقسیم دولت جملہ مقتضیات حکمت کے ساتھ کی ہے، کسی احمق، تنگ نظر، سطح بین کو اس پر زبان طعن دراز کرنے کا کوئی حق ہی نہیں۔ (آیت) ” یبسط الرزق لمن یشآء یقدر “۔ یعنی اس کی مشیت تکوینی جس کسی کے مناسب حال وسعت رزق سمجھتی ہے اس کے ذرائع وسیع کردیتی ہے، غ اور جس کے لئے اس کے برعکس سمجھتی ہے ذرائع رزق تنگ و محدود کردیتی ہے۔ غرض جو کچھ بھی ہورہا ہے یوں ہی اندھا دھند اور بغیر کسی مقصد ومصلحت کے نہیں ہورہا ہے۔ سب آئین حکمت اور نقشہ مصلحت کے ماتحت ومطابق ہورہا ہے۔ (آیت) ” فالتفاوت فی ارزاق العباد لیس لاجل البخل بل لاجل رعایۃ المصالح (کبیر)
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو ناداری کے اندیشہ سے قتل مت کردیا کرو،44۔ ہم ہی ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی،45۔ بیشک ان کا قتل کرنا بہت بڑا جرم ہے

44۔ قتل اولاد کی حمایت میں ایک بڑی دلیل جاہلی قوموں کے ہاتھ میں والدین کی مفلسی رہی ہے اور اسی دلیل سے کام لے کر آج بیسویں صدی میں بڑے طمطراق کے ساتھ ” منع حمل “ کی تحریک کو اٹھایا گیا ہے۔ قرآن مجید اس نظریہ باطل کی قطعی تردید کرتا ہے۔ سورة انعام، پ 8 میں اس پر حاشیہ گذر چکا۔ متعدد جاہلی قوموں کا نظریہ یہ رہا ہے کہ افراد کا سبہ چونکہ عورتوں میں نہیں، صرف مردوں ہی میں پیدا ہوتے ہیں، اس لئے عورت کو قومی دولت میں شرکت کا اور اس لئے زندہ رہنے کا بھی کوئی حق نہیں۔ عرب جاہلی میں بھی یہی نظریہ عام تھا۔ العرب کانوا یقتلون البنات لعجز البنات عن الکسب وقدرۃ البنین علیہ بسبب اقدامھم علی النھب والغارۃ (کبیر) 45۔ (اور ہماری ربوبیت ورزاقیت کے قوانین ان اصول سے بالکل الگ ہیں جو تم نے اپنی محدود نظر کے موافق معاشیات واقتصادیات کے گڑھ رکھے ہیں) اسی طرح کی ایک آیت، ایسے ہی موقع پر سورة الانعام (رکوع 19) میں بھی آئی ہے۔ مگر وہاں الفاظ ہیں۔ نرزقکم وایاھم یہاں اس کے برعکس صیغہ غائب پہلے اور صیغہ مخاطب بعد کو، یہ فرق کیوں ؟ اصل یہ ہے کہ دو مسئلہ الگ الگ ہیں ایک چیز تو ہے نفس افلاس یا اس کا وقوع۔ یعنی والدین واقعۃ اور فی الحال افلاس میں مبتلا ہیں اور اس لئے بچوں کی زندگی ختم کئے دیتے ہیں، اور دوسری چیز ہے خوف افلاس، یعنی والدین فی الحال تو افلاس میں مبتلا نہیں لیکن اندیشہ یہ کررہے ہیں کہ اولاد اگر پیدا ہونی شروع ہوگئی تو موجودہ آمدنی کفایت نہ کرے گی، قرآن مجید نے ان دونوں فتنوں کے درمیان فرق ملحوظ رکھا ہے۔ اول الذکر کے موقع پر محض من املاق آیا ہے اور آخر الذکر کے موقع پر (آیت) ” من خشیۃ املاق “۔ لایا گیا ہے۔ اور حرام اگرچہ دونوں صورتوں میں قتل اولاد کو ٹھہرایا ہے لیکن جہاں میں املاق ہے یعنی افلاس کا تحقق پایا جاچکا ہے، وہاں خطاب براہ راست ہے۔ (آیت) ” نرزقکم وایاھم “۔ یعنی اے گروہ والدین تمہیں تو بہرحال ہم رزق پہنچا ہی رہے ہیں اسی طرح اولاد کو پہنچاتے رہیں گے اور جہاں (آیت) ” خشیۃ املاق “۔ یعنی تحقق افلاس فی الحال نہیں ہے بلکہ صرف اس کا اندیشہ لگا ہوا ہے وہاں ترتیب خطاب میں ایک ذرا سالطیف ونازک فرق کردیا ہے (آیت) ” نرزقھم وایاکم “۔ ہم انہیں بھی رزق پہنچاتے رہیں گے جیسا کہ تمہیں اب تک پہنچاتے رہے ہیں۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زناکے پاس بھی مت جاؤ یقیناً وہ بڑی بےحیائی ہے اور بری راہ ہے،46۔

46۔ یعنی زنا بجائے خود بھی قبیح ہے اور بلحاظ دوسرے مفاسد کے بھی، افراد کی روحانی پاکیزگی اور اخلاقی طہارت کے بھی منافی اور صالح تمدن ومعاشرہ کی اجتماعی صالحیت کے بھی، روحانیت اور عبودیت کے چہرہ پر بھی ایک داغ اور جسمانی، معاشری، معاشی مضرتوں اور خطروں کے اعتبار ولحاظ سے بھی قابل نفرت۔ (آیت) ” ولا تقربوا الزنی “۔ الفاظ قرآنی پر غور ہو۔ (آیت) ” لاتزنوا “۔ ارشاد نہیں ہورہا ہے۔ ارشاد ہورہا ہے۔ (آیت) ” لاتقربوا الزنی “۔ زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو۔ اس کے مبادی دواعی مقدمات تک سے بچو۔ یقول تعالیٰ ناھیا عن الزنی وعن مقاربتہ ومخالطۃ اسبابہ ودواعیہ (ابن کثیر) وھو نھی عن دواعی الزنا ولوارید بالنھی عن نفس الزناتقال ولا تزنوا (مدارک) گویا اس حکم امتناعی کے تحت میں بےحیائی وبے حجابی کے سارے قولی، فعلی، تقریری، تحریری، تصوری، لباسی مظاہرے آگئے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ یہ شریعت اسلامی ہی ہے جس نے ہر غیر نکاحی ازدواجی تعلق کو ہر حال اور ہر صورت میں حرام قرار دے دیا ہے۔ ورنہ اکثر قدیم وجدید جاہلی تہذیبوں اور قانونوں میں زنابجائے خود تو کوئی جرم ہی نہیں جب تک کہ جبر کی آمیزش یا حقوق شوہری میں دست اندازی وغیرہ اس میں شامل نہ ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بابل، مصر، ایران، ہند قدیم وغیرہ کے متعدد جاہلی مذہبوں نے تو خاص خاص حالات میں ایک عبادت یا عمل مقدس مان رکھا ہے ! ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ :۔
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس شخص (کی جان) کو اللہ نے محفوظ قرار دیا ہے اسے قتل مت کرو ہاں مگر حق پر،47۔ اور جو کوئی ناحق قتل کیا جائے گا سو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دے دیا ہے،48۔ سو (اسے چاہیے کہ) قتل کے باب میں حد سے آگے نہ بڑھے،49۔ بیشک وہ شخص قابل طرف داری کے ہے،50۔

47۔ یعنی جب تک کوئی شرعی سبب وجوب قتل یا جواز قتل کا نہ پیدا ہوجائے اس وقت تک قتل ہرگز جائز نہ ہوگا۔ (آیت) ” ولا تقتلوا “۔ قتل یہاں اپنے وسیع لغوی معنی ہلاک کے مرادف ہے۔ محدود اصطلاحی فقہی معنی میں نہیں۔ جان لے لینے کی ہر صورت پر شامل ہے۔ یہ مراد نہیں کہ صرف دھار دار آہنی آلہ سے جان نہ لو۔ (آیت) ” النفس التی حرم اللہ “۔ اور جان تو ہر انسان کی محفوظ ہی ہے۔ تاآنکہ کوئی خاص سبب حسب قواعد شرعی اس کے واجب القتل یا مباح الدم ہونے کا نہ پیدا ہوجائے۔ 48۔ (قصاص طلب کرنے گا) تسلطا علی القاتل فی الاقتصاص (مدارک) اے فی استیفاء القصاص من القاتل (کبیر) (آیت) ” ومن قتل مظلوما “۔ اس قتل ناحق کے تحت میں ہر وہ قتل آگیا جو بغیر وجہ شرعی کے ہو، مظلوم کے لفظ نے یہ بھی صاف کردیا کہ یہ قتل قتل عمد ہوگا، قتل خطا کو ظلم نہیں کہتے۔ اے غیر مستوجب للقتل (بیضاوی) یدل علی ان القتل عمد عدوان فان الخطالایسمی ظلما (بیضاوی) (آیت) ” ولیہ “۔ اسی ” وارث “۔ کے تحت میں حقیقی اور حکمی دونوں قسم کے وارث آگئے۔ (آیت) ” سلطنا “۔ سلطان کے معین یہاں حجۃ کیلئے گئے ہیں۔ یعنی ولی کو حق قصاص حاصل ہوگا۔ سلطانا اے حجۃ (جصاص، عن ابن عباس ؓ و سعید بن جبیر ومجاہد) 49۔ یعنی یہ نہ کرے کہ جوش انتقام میں قاتل کے ساتھ غیر قاتل کو بھی قتل کرڈالے یا اور کسی طرح زیادتیاں کرنے لگے۔ کہاں ایک طرف شریعت اسلامی کی یہ معتدل ومتوازن تعلیم اور کہاں بڑی بڑی مہذب فرنگی حکومتوں کا یہ علم متواتر کہ اگر اپنا ایک آدمی یا چند آدمی بھی مار دیئے گئے تو اس کے معاوضہ میں پوری پوری آبادیوں کو آگ لگا کر پھونک دیا یا بم کے گولے برسا کر ہلاک کرڈالا ! 50۔ قانون شریعت تو خود ہی اس کی حمایت، نصرت اور پشت پناہی پر آمادہ ہے اور حکومت اسلام خود ہی مقتول مظلوم کے معاملہ میں مدعی بنی جاتی ہے پھر ایسے شخص کے وارثوں پر یہ شامت کیوں سوار ہو کہ وہ خواہ مخواہ حدود شرع سے تجاوز کریں اور دوسروں پر ظلم زیادتی کرتے پھریں۔ (آیت) ” انہ “۔ ضمیر ولی کی جانب لی جائے یا خود مقتول کی، حاصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ مقتول دونوں ہیں۔ قال قتادۃ ھو عائد الولی، وقال مجاھد علی المقتول (جصاص)
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ بجز اس طریق کے جو مستحسن ہے،51۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سن پختگی کو پہنچ جائے،52۔ اور عہد کی پابندی رکھو بیشک عہد کی باز پرس ہوگی،53۔

51۔ (شریعت کی نگاہ میں) یعنی یتیم کی جائداد میں کسی قسم کی دست اندازی روانہ رکھو بجز ان صورتوں کے کہ جنہیں خود شریعت نے روا رکھا ہے۔ یتیموں کی جائداد کے تحفظ کے باب میں قرآن مجید کو جو اہتمام ہے اس کا اندازہ کچھ ان حاشیوں سے بھی ہوسکے گا جو پ 4 وپ 5 میں اسی مسئلہ پر گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” التیھی احسن “۔ کے تحت میں صرف مال یتیم کے وہ سارے طریقے آگئے جن سے خود یتیم کا نفع متصور ہو، خواہ تجارت ہو یا کچھ اور۔ الاحسن ماکان فیہ حفظ مالہ وبتثمیرہ (جصاص) وقد دلت الایۃ علی جواز اجارۃ مال الیتیم والعمل بہ مضاربۃ (جصاص) 52۔ اور اپنے نفع ونقصان کو خوب پہچاننے لگے اور اس وقت اس کی جائداد اس کے حوالہ کردی جائے گی، یعنی یتیم کی کم سنی بھر تو اس کی جائداد اولیاء کینگرانہ وانتظام میں رہے اور اولیاء ہمیشہ اسی کی مصلحتوں کو مصارف کے وقوت ملحوظ رکھیں پھر جب وہ یتیم پوری طرح سن شعور کو پہنچ جائے تو اس کی جائداد اس کے حوالہ کرکے خود سبکدوش ہوجائیں۔ بلوغ اشد کا معیار کیا ہے ؟ مختلف فقہاء نے اس کے جواب میں مختلف عمریں تجویز کی ہیں لیکن اصل یہ ہے کہ یہ سب محض تخمینے اور اندازے ہیں مختلف قوموں اور ملکوں میں بلکہ ایک ہی برادری کے افراد میں قوائے جسمانی وذہنی کی پختگی کا کوئی ایک سن متعین ہی نہیں اور اسی لئے قرآن مجدی نے بھی قصدا اسے مبہم ہی رکھا ہے فقیہ ابوبکر الرازی مختلف عمروں کا حوالہ دینے کے بعد لکھتے ہیں :۔ واذا کان کذالک فالا شدلیس لہ مقدار معلوم فی العادۃ لایزید علیہ ولا ینقص منہ وقد یختلف احوال الناس فیہ فیبلغ بعضھم الاشد فی مدۃ لا یبلغہ غیرہ فی مثلھا (جصاص) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ بلوغ عقل بھی اس سن کو کہیں گے جب قوائے عقلی وحسی وحرکمال کو پہنچ جائیں۔ وبلوغ العقل ھو ان یکمل عقلہ وقواہ الحتیۃ والحرکیۃ (کبیر) 53۔ (آیت) ” العھد “۔ کے تحت میں ہر قسم کے جائز وعدے اور معاہدے آگئے بلکہ اگر اسے ذرازیادہ وسیع معنی میں لیاجائے تو حقوق اللہ اور حقوق العباد سب کے سب اس کے اندر آجاتے ہیں۔ اعلم ان کل عقد تقدم لاجل توثیق الامر وتوکیدہ فھوعھد (کبیر) وحاصل القول فیہ ان مقتضی ھذہ الایۃ ان کل عقد وعھد جری بین انسانین فانھما یجب علیھما الوفاء (کبیر)
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب ناپو تو ناپ پوری پوری رکھا کرو اور وزن بھی صحیح ترازو سے کیا کرو یہی اچھا ہے اور (یہی) انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے،54۔

54۔ یعنی یہی احکام دین جو ابھی بتائے گئے ہیں بجائے خود بھی فطرت سلیم کے مطابق ہیں اور نتائج بھی دنیا وآخرت دونوں میں انہیں نکلتے ہیں۔ (آیت) ’ واوفوا۔۔۔ المستقیم “۔ غرض یہ کہ تجارتی، معاشری، قانونی زندگی کے ہر شعبہ اور معاملات باہمی کی ہر شاخ میں پوری طرح دیانت، امانت، وصداقت کے اصول پر کاربند رہو۔ اسلام کچھ یت رسم یا پوجا پاٹ کے قسم کے اعمال کا نام نہیں، سارے نظام زندگی کو قانون الہی کے سانچہ میں ڈھال لینے کے مرادف ہے۔
Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور اس چیز کے پیچھے مت ہولیا کر جس کی بابت تجھے علم (صحیح) نہ ہو بیشک کان اور آنکھ اور دل ان کی پوچھ ہر شخص سے ہوگی،55۔

55۔ (قیامت کے دن) یعنی ہر ہر شخص سے سوالاس کا ہوگا کہ کان سے سننے کا، آنکھ سے دیکھنے کا، دل سے سوچنے سمجھنے یقین کرنے کا کام جائز اور صحیح موقعوں پر کتنا لیا، اور ناجائز اور غلط موقعوں پر کتنا ! احساس ذمہ داری کی تعلیم ہر ہر فرد کو اس سے بہتر اور کہاں ملے گی ؟ اس پر آج عمل ہونے لگے تو شخصی اور قومی، انفرادی واجتماعی دونوں قسم کے کتنے جھگڑے قصے آج دنیا سے مٹ جائیں ! (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بہ علم “۔ یعنی بلاتحقیق ہر سنی سنائی بات کے پیچھے نہ ہولیا کرو البتہ مختلف مسائل کی تحقیق کے درجہ مختلف ہوتے ہیں اور ہر مسئلہ کے متناسب فقہاء اصولیین نے کہا ہے کہ قطعیات میں دلائل بھی قطعی ہونے چاہئیں اور ظنیات میں ظنی۔ فقہاء نے اسی آیت کے ذیل میں یہ بھی کہا ہے کہ احکام شرعی محض اٹکل سے بتا دینا یا کسی پر بغیر تحقیق کوئی الزام لگا دینا دونوں اس آیت سے ناجائز ٹھہرتے ہیں۔ وقد اقتضی ذلک نھی الانسان عن ان یقول فی احکام اللہ ما لا علم بہ علی جھۃ الظن والحسیات وان لایقول فی الناس من السوء مالا یعلم صحتہ (جصاص)
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اترا کر نہ چلا کر تو نہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتا ہے،56۔

56۔ (تو جب متکبرین کی وضع وہیئت اس وقد رممنوع و مذموم ہے تو نفس تکبر کس درجہ کا ممنوع و مذموم ہوگا ! ) مقصود ہر طرح کے فخروتکبر کی روک تھام ہے۔