Ayah 17:1آیت 1 سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا
یہ رسول اللہ کے سفر معراج کے پہلے مرحلے کی طرف اشارہ ہے جو مسجد حرام مکہ مکرمہ سے مسجد اقصیٰ بیت المقدس تک کے زمینی سفر پر مشتمل تھا۔ ”سُبْحٰن“ تنزیہہ کا کلمہ ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک و منزہ ہے۔ اس کلمہ سے بات کا آغاز کرنا خود دلالت کرتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارق عادت واقعہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے رونما ہوا۔ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا ‘ بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم کو کرایا۔
الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ
اس علاقے کی برکت دنیوی اعتبار سے بھی ہے اور روحانی اعتبار سے بھی۔ دنیوی اعتبار سے یہ علاقہ بہت زرخیز ہے اور یہاں کی آب و ہوا خصوصی طور پر بہت اچھی ہے۔ روحانی اعتبار سے دیکھیں تو یہ علاقہ بہت سے جلیل القدر انبیاء کا مسکن رہا ہے اور حضرت ابراہیم سمیت بہت سے انبیاء یہاں مدفون ہیں۔ ہیکل سلیمانی بنی اسرائیل کی مرکزی عبادت گاہ تھی۔ اس لحاظ سے نہ معلوم اللہ کے کیسے کیسے نیک بندے کس کس انداز میں یہاں عبادت کرتے رہے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بیت المقدس کو بنی اسرائیل کے قبلہ کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ چناچہ مادی و روحانی دونوں اعتبار سے اس علاقے کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ برکتوں سے نوازا ہے۔
سفر معراج کے پہلے مرحلے میں رسول اللہ کو مکہ مکرمہ سے یروشلم لے جایا گیا وہاں بیت المقدس میں تمام انبیاء کی ارواح کو جمع کیا گیا انہیں جسد عطا کیے گئے ہمارے حواس اس کیفیت کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں اور وہاں حضور نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ حضور کے سفر معراج کے اس حصے کا ذکر جس انداز میں یہاں ہوا ہے اس کی ایک خصوصی اہمیت ہے۔ یہ گویا اعلان ہے کہ نبی آخر الزماں اور آپ کی امت کو توحید کے ان دونوں مراکز بیت اللہ اور بیت المقدس کا متولی بنایا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے آپ کو پہلے بیت المقدس لے جایا گیا اور پھر وہاں سے آپ کے آسمانی سفر کا مرحلہ شروع ہوا۔ سفر معراج کے اس دوسرے مرحلے کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ سورة النجم میں کیا گیا ہے۔
لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ
بنی اسرائیل کے اہم ترین تاریخی مقام کا ذکر کرنے کے بعد اب آئندہ آیات میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کی تاریخ کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔
Ayah 17:2آیت 2 وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ
یہاں تخصیص کردی گئی کہ تورات تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت نہیں تھی ‘ بلکہ درحقیقت وہ صرف بنی اسرائیل کے لیے ایک ہدایت نامہ تھی۔
اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا
یعنی تورات توحید کا درس دیتی تھی۔ اس کی تعلیمات کا لب لباب یہ تھا کہ اللہ کے سوا کسی بھی دوسری ہستی یا ذات کو اپنا کارساز مت سمجھو اسے چھوڑ کر کسی دوسرے پر بھروسہ یا توکل نہ کرو۔
Ayah 17:3آیت 3 ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا
حضرت نوح کے تین بیٹے سام حام اور یافث تھے جن سے بعد میں نسل انسانی چلی۔ ان میں سے حضرت سام کی نسل میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جن کی اولاد کو یہاں بنی اسرائیل کے طور پر مخاطب کیا جارہا ہے۔ انہیں یاد دلایاجا رہا ہے کہ حضرت نوح کے ساتھ جن لوگوں کو ہم نے بچایا تھا انہی میں سے ایک کی اولاد تم ہو اور نوح ہمارا بہت ہی شکر گزار بندہ تھا۔
Ayah 17:4آیت 4 وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا
یعنی تم پر دو ادوار ایسے آئیں گے کہ تم زمین میں سرکشی کرو گے فساد برپا کرو گے دین سے دور ہوجاؤ گے لہو و لعب میں مبتلا ہوجاؤ گے اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے تم پر عذاب کے کوڑے برسیں گے۔
یہاں پر بین السطور یہ اشارہ بھی ہے کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل پر ایک بہتر دور بھی آیا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمتوں اور نعمتوں سے نوازا تھا۔ سورة البقرۃ میں ان کے اس اچھے دور کی کچھ تفصیلات ہم پڑھ آئے ہیں۔ یاد دہانی کے طور پر اہم واقعات اختصار کے ساتھ یہاں پھر تازہ کرلیں۔ حضرت موسیٰ 1400 قبل مسیح میں بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر نکلے تھے۔ صحرائے سینا میں جبل طور کے پاس پڑاؤ کے زمانے میں آپ کو تورات عطا کی گئی۔ وہاں سے پھر شمال مشرق کی طرف کوچ کرنے اور فلسطین پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا گیا۔ جہاد کے اس حکم سے انکار کی پاداش میں بنی اسرائیل کو صحرا نوردی کی سزا ملی۔ اسی دوران میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا۔ صحرا نوردی کے دوران پروان چڑھنے والی نسل بہادر اور جفاکش تھی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد کیا جس کے نتیجے میں فلسطین فتح ہوگیا۔ فلسطین کا جو شہر سب سے پہلے فتح ہوا وہ اریحا Jericho تھا۔ فلسطین کی فتح کے بعد ایک بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ ایک مضبوط مرکزی حکومت بنانے کے بجائے یہ علاقہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں نے آپس میں بانٹ لیا اور ہر قبیلے نے اپنی حکومت قائم کرلی۔ یہ چھوٹی چھوٹی حکومتیں نہ صرف بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں بہت کمزور تھیں بلکہ بہت جلد انہوں نے آپس میں بھی لڑنا جھگڑنا شروع کردیا ‘ جس کے نتیجے میں ان کے زیر تسلط علاقے بہت جلد انتشار اور طوائف الملوکی کا شکار ہوگئے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے شام اور اردن کے ہمسایہ علاقوں میں بسنے والی مشرک اقوام نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کی بیشتر آبادی کو اس علاقے سے نکال باہر کیا۔
اس حالت کو پہنچنے پر انہوں نے اپنے نبی حضرت سموئیل سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے ایک بادشاہ یا سپہ سالار مقرر کردیں تاکہ اس کی قیادت میں تمام قبیلے اکٹھے ہو کر جہاد کریں۔ اس مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ حضرت طالوت نے دشمن افواج کے خلاف لشکر کشی کی ‘ جن کا سپہ سالار جالوت تھا۔ اس جنگ میں حضرت داؤد بھی شامل تھے۔ آپ نے جالوت کو قتل کردیا ‘ جس کے نتیجے میں دشمن لشکر پر بنی اسرائیل کو فتح نصیب ہوئی اور وہ علاقے میں ایک مضبوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ حضرت طالوت کے بعد حضرت داؤد ان کے جانشین ہوئے اور حضرت داؤد کے بعد آپ کے بیٹے حضرت سلیمان بادشاہ بنے۔
حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں فلسطین کے فتح ہونے سے لے کر طالوت اور جالوت کی جنگ تک تین سو سال کا وقفہ ہے۔ حضرت سلیمان کا عہد حکومت اس تین سو سالہ دور کا نقطہ عروج تھا۔ حضرت طالوت حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا دور اقتدار تقریباً ایک سو سال کے عرصے پر محیط تھا۔ سولہ برس تک حضرت طالوت نے حکومت کی ‘ اس کے بعد چالیس برس تک حضرت داؤد اور پھر چالیس برس تک ہی حضرت سلیمان برسر اقتدار رہے۔ یہ دور گویا بنی اسرائیل کی خلافت راشدہ کا دور تھا جو ہمارے دور خلافت راشدہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ اگرچہ ان کی پہلی تین خلافتیں ایک سو برس کے عرصے پر محیط تھیں اور ہماری امت کی پہلی تین خلافتوں کا عرصہ چوبیس برس تھا لیکن جس طرح ان کے پہلے خلیفہ کا دور اقتدار مختصر اور بعد کے دونوں خلفاء کا دور نسبتاً طویل تھا اسی طرح ہمارے ہاں بھی حضرت ابوبکر کا دور خلافت مختصر جبکہ حضرت عمر اور حضرت عثمان کا دور نسبتاً طویل تھا۔ اس کے بعد حضرت علی کی خلافت کو امیر معاویہ نے قبول نہیں کیا تھا چناچہ شام اور مصر کے علاقے علیحدہ رہے تھے بالکل اسی طرح بنی اسرائیل کی مملکت بھی حضرت سلیمان کی وفات کے بعد آپ کے دو بیٹوں کے درمیان تقسیم ہوگئی۔ شمالی مملکت کا نام اسرائیل تھا جس کا دار الخلافہ سامریہ تھا جبکہ جنوبی مملکت کا نام یہودیہ تھا اور اس کا دار الخلافہ یروشلم تھا۔
اس عظیم سلطنت کی تقسیم کے بعد بھی مادی اعتبار سے ایک عرصے تک بنی اسرائیل کا عروج برقرار رہا لیکن رفتہ رفتہ عوام میں مشرکانہ عقائد اوہام پرستی اور ہوس دنیا جیسی نظریاتی و اخلاقی بیماریاں پیدا ہوگئیں اور احکام شریعت کا استہزا ان کا اجتماعی وطیرہ بن گیا۔ چناچہ اخلاق و کردار کا یہ زوال منطقی طور پر ان کے مادی زوال پر منتج ہوا۔ بنی اسرائیل کا یہ عہد زوال بھی تقریباً تین سو سال ہی کے عرصے میں اپنی انتہا کو پہنچا۔ سب سے پہلے آشوریوں کے ہاتھوں ان کی شمالی سلطنت ”اسرائیل“ سات آٹھ سو قبل مسیح کے لگ بھگ تباہ ہوئی۔ اس کے بعد 587 قبل مسیح میں عراق کے نمرود بخت نصر Nebukadnezar نے ان کی جنوبی سلطنت ”یہودیہ“ پر حملہ کیا اور پوری سلطنت کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ یروشلم کو اس طرح تباہ و برباد کیا گیا کہ کسی عمارت کی دو اینٹیں بھی سلامت نہیں رہنے دی گئیں۔ ہیکل سلیمانی کو مسمار کر کے اس کی بنیادیں تک کھود ڈالی گئیں۔ اس دوران بخت نصر نے چھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا جبکہ چھ لاکھ مردوں عورتوں اور بچوں کو جانوروں کی طرح ہانکتا ہوا بابل لے گیا جہاں یہ لوگ سوا سو سال تک اسیری Captivity کی حالت میں رہے۔ ذلت و رسوائی کے اعتبار سے یہ ان کی تاریخ کا بد ترین دور تھا۔
بنی اسرائیل کے دوسرے دور عروج کا آغاز حضرت عزیر کی اصلاحی کوششوں سے ہوا۔ آپ کو بنی اسرائیل کی نشاۃ ثانیہ Renaissance کے نقیب کی حیثیت حاصل ہے۔ 539 ق م میں ایران کے بادشاہ کیخورس Cyrus یا ذوالقرنین نے عراق بابل فتح کیا اور اس کے دوسرے ہی سال اس نے بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ چناچہ یہودیوں کے قافلے فلسطین جانے شروع ہوگئے اور یہ سلسلہ مدتوں جاری رہا۔ 458 ق م میں حضرت عزیر بھی ایک جلاوطن گروہ کے ساتھ یروشلم پہنچے اور اس شہر کو آباد کرنا شروع کیا اور ہیکل سلیمانی کی ازسر نو تعمیر کی۔ اس سے قبل حضرت عزیر کو اللہ تعالیٰ نے سو برس تک سلائی بھی رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سو سال کے لیے موت طاری کردی تھی اور پھر انہیں زندہ کیا اور انہیں بچشم سر ان کے مردہ گدھے کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرایا جس کے بارے میں ہم سورة البقرۃ آیت 259 میں پڑھ آئے ہیں۔ بہر حال حضرت عزیر نے توبہ کی منادی کے ذریعے ایک زبردست تجدیدی اور اصلاحی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں ان کے نظریات اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہونا شروع ہوئی۔ حضرت عزیر نے تورات کو بھی یادداشتوں کی مدد سے ازسرنو مرتب کیا جو بخت نصر کے حملے کے دوران گم ہوگئی تھی۔
ایرانی سلطنت کے زوال سکندر مقدونی کی فتوحات اور پھر یونانیوں کے عروج سے یہودیوں کو کچھ مدت کے لیے شدید دھچکا لگا۔ یونانی سپہ سالار انیٹوکس ثالث نے 198 ق م میں فلسطین پر قبضہ کرلیا۔ یونانی فاتحین نے پوری جابرانہ طاقت سے کام لے کر یہودی مذہب و تہذیب کی بیخ کنی کرنا چاہی ‘ لیکن بنی اسرائیل اس جبر سے مغلوب نہ ہوئے اور ان کے اندر ایک زبردست تحریک اٹھی جو تاریخ میں ”مکابی بغاوت“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ حضرت عزیر کی پھونکی ہوئی روح دینداری کا اثر تھا کہ انہوں نے بالآخر یونانیوں کو نکال کر اپنی ایک عظیم آزاد ریاست قائم کرلی جو ”مکابی سلطنت“ کہلاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے دوسرے دور عروج میں قائم ہونے والی یہ سلطنت 170 ق م سے لے کر 67 ق م تک پوری شان و شوکت کے ساتھ قائم رہی۔ مکابی سلطنت اپنے وقت کی معلوم دنیا کے تمام علاقوں پر محیط تھی۔ چناچہ رقبے کے اعتبار سے یہ حضرت سلیمان کی سلطنت سے بھی وسیع تھی۔ اس زمانہ عروج میں پھر سے ان کی نظریاتی و اخلاقی حالت بگڑنے لگی۔ مشرکانہ عقائد سمیت بہت سی اخلاقی برائیاں پھر سے ان میں پیدا ہوگئیں جن کے نتیجے میں ایک دفعہ پھر یہ قوم عذاب خداوندی کی زد میں آگئی۔
مکابی تحریک جس اخلاقی ودینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بےروح ظاہر داری نے لے لی۔ آخر کار ان کے درمیان پھوٹ پڑگئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپئی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔ چناچہ پومپئی نے 63 ق م میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کردیا۔ رومیوں نے فلسطین میں اپنے زیرسایہ ایک دیسی ریاست قائم کردی جو بالآخر 40 ق م میں ہیرود نامی ایک ہوشیار یہودی کے قبضے میں آئی۔ یہ شخص ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے اور اس کی فرماں روائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر 40 سے 4 ق م تک رہی۔ اس شخص نے رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی خوشنودی حاصل کرلی تھی۔ اس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ گئی تھی۔ ہیرود اعظم کے بعد اس کی ریاست اس کے تین بیٹوں کے درمیان تقسیم ہوگئی۔ لیکن 4 ء میں قیصر آگسٹس نے ہیرود کے بیٹے ارخلاؤس کو معزول کر کے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کردی اور 41 ء تک یہی انتظام قائم رہا۔ یہی زمانہ تھا جب حضرت مسیح بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے اٹھے تو یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواؤں نے مل کر ان کی مخالفت کی اور انہیں واجب القتل قرار دے کر رومی گورنر پونٹس پیلاطس سے ان کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی اور اپنے خیال کے مطابق تو ان کو سولی پر چڑھوا ہی دیا۔
رومیوں نے 41 ء میں ہیرود اعظم کے پوتے ”ہیرود اگر پا“ کو ان تمام علاقوں کا حکمران بنا دیا جن پر ہیرود اعظم اپنے زمانے میں حکمران تھا۔ اس شخص نے برسراقتدار آکر مسیح کے پیروؤں پر مظالم کی انتہا کردی۔ کچھ ہی عرصے بعد یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہوگئی اور 64 ء تا 66 ء کے دوران یہودیوں نے رومیوں کے خلاف کھلی بغاوت کردی ‘ جو ان کے عروج ثانی کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ یہودیوں کی بغاوت کا قلع قمع کرنے کے لیے بالآخر رومی سلطنت نے ایک سخت فوجی کارروائی کی اور 70 ء میں ٹائٹس Titus نے بزور شمشیر یروشلم کو فتح کرلیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر مسمار کردیا گیا۔ جنرل ٹائیٹس کے حکم پر شہر میں قتل عام ہوا۔ ایک دن میں ایک لاکھ 33 ہزار یہودی قتل ہوئے ‘ جبکہ 67 ہزار کو غلام بنا لیا گیا۔ اس طرح رومیوں نے پورے شہر میں کوئی متنفس باقی نہ چھوڑا۔ اس کے ساتھ ہی ارض فلسطین سے بنی اسرائیل کا عمل دخل مکمل طور پر ختم ہوگیا۔ بیسویں صدی کے شروع تک پورے دو ہزار برس یہ لوگ جلا وطنی اور انتشار Diaspora کی حالت میں ہی رہے۔ جنرل ٹائیٹس کے ہاتھوں 70 ء میں ہیکل سلیمانی مسمار ہوا تو آج تک تعمیر نہ ہوسکا۔ حضور کی پیدائش 571 ء کے وقت اسے مسمار ہوئے پانچ سو برس گزر چکے تھے۔
یہ خلاصہ ہے اس قوم کی داستان عبرت کا جو اپنے وقت کی امت مسلمہ تھی۔ جس کے اندر چودہ سو برس تک مسلسل نبوت رہی۔ جس کو تین الہامی کتابوں سے نوازا گیا اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ البقرۃ ”اے بنی اسرائیل یاد کرو میری وہ نعمت جو میں نے تم لوگوں کو عطا کی اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت دی تمام جہانوں والوں پر۔“
آخر کار بنی اسرائیل کو امت مسلمہ کے منصب سے معزول کر کے محمد رسول اللہ کی امت کو اس مسند فضیلت پر متمکن کیا گیا۔ حضور نے اپنی امت کے بارے میں فرمایا کہ تم لوگوں پر بھی عین وہی حالات وارد ہوں گے جو بنی اسرائیل پر ہوئے تھے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ مسلمانوں کو پہلا عروج عربوں کے زیر قیادت نصیب ہوا۔ اس کے بعد جب زوال آیا تو صلیبیوں کی یلغار کی صورت میں ان پر عذاب کے کوڑے برسے۔ پھر تاتاریوں نے ہلاکو خان اور چنگیز خاں کی قیادت میں عالم اسلام کو تاخت و تاراج کیا۔ اس کے بعد قدرت نے عالم اسلام کی قیادت عربوں سے چھین کر انہی تاتاریوں کے ہاتھوں میں دے دی جنہوں نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا تھا
ہے عیاں فتنۂ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
چنانچہ ترکوں کی قیادت میں اس امت کو ایک دفعہ پھر عروج نصیب ہوا۔ ترکان تیموری ترکان صفوی ترکان سلجوقی اور ترکان عثمانی نے دنیا میں عظیم الشان حکومتیں قائم کیں۔ اس کے بعد امت مسلمہ پر دوسرا دور زوال آیا۔ بنی اسرائیل پر دوسرا دور عذاب یونانیوں اور رومیوں کے ہاتھوں آیا تھا جبکہ امت مسلمہ پر دوسرا عذاب اقوام یورپ کے تسلط کی صورت میں آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انگریز فرانسیسی اطالوی ہسپانوی اور ولندیزی Dutch پورے عالم اسلام پر قابض ہوگئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں عظیم عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔
یہ ان حالات وو اقعات کا خلاصہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے آیت زیر نظر میں فرمایا ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی بنی اسرائیل کے بارے میں کہہ دیا تھا کہ تم لوگ اپنی تاریخ میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور سرکشی دکھاؤ گے۔
Ayah 17:5آیت 5 فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم پر واضح کیا گیا تھا کہ جب تم لوگ دین سے برگشتہ ہوجاؤ گے ‘ جب تم اللہ کی کتاب اور اس کے احکام کو ہنسی مذاق بنا لو گے تو تم ضرور اللہ کے عذاب کا نشانہ بنو گے۔ چناچہ ان کے دین سے برگشتہ ہوجانے کے بعد آشوریوں اور عراق کے بادشاہ بخت نصر کے ہاتھوں ان پر عذاب کا کوڑا برسا جس کے نتیجے میں دونوں اسرائیلی سلطنتیں ختم ہوگئیں یروشلم مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہیکل سلیمانی مسمار کردیا گیا ‘ چھ لاکھ یہودی قتل ہوگئے جبکہ چھ لاکھ کو غلام بنا لیا گیا۔
Ayah 17:6آیت 6 ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ
یعنی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر تمہیں سہارا دیا اور ان پر غلبے کا موقع عطا کردیا۔ اس سہارے کا باعث ایرانی بادشاہ کیخورس Cyrus یا ذوالقرنین بنا۔ اس نے عراق بابل پر تسلط حاصل کرلینے کے بعد تمہیں آزاد کر کے واپس یروشلم جانے اور اس شہر کو ایک دفعہ پھر سے آباد کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر جب تم نے واپس آکر یروشلم کو آباد کیا تو ہم نے ایک دفعہ پھر تمہاری مدد کی :
وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا
ہم نے تمہیں مال و اولاد میں برکت دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ تم لوگ خوب پھلے پھولے اور جلد ہی ایک مضبوط قوم بن کر ابھرے۔
Ayah 17:7آیت 7 اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا
تمہارے نیک اعمال کا فائدہ بھی تمہیں ہوا اور تمہاری برائیوں اور نافرمانیوں کا وبال دنیا میں بھی تم پر آیا اور اس کا وبال آخرت میں بھی تم پر پڑے گا۔
فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ
جب دوبارہ تم نے اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی تمہارے اعتقادات نظریات اور اخلاق پھر سے مسخ ہوگئے تو وعدے کے عین مطابق تم پر عذاب کے دوسرے مرحلے کا وقت آپہنچا۔
لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ
اس سلسلے میں آیت 5 میں یہ الفاظ آئے تھے : بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ کہ ہم نے تم پر اپنے بندے مسلط کردیے جو سخت جنگجو تھے۔ اس فقرے کا مفہوم یہاں بھی پایا جاتا ہے لیکن یہاں دوبارہ اسے دہرایا نہیں گیا۔ چناچہ اس فقرے کو یہاں مخدوف سمجھا جائے گا اور آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ ہم نے پھر تم پر اپنے سخت جنگجو بندے مسلط کیے تاکہ وہ تمہارے حلیے بگاڑ دیں۔
وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ
یہاں اشارہ ہے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کی بار دگر بےحرمتی کی طرف۔ جیسے 587 قبل مسیح میں بخت نصر نے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو مسمار کیا تھا ویسے ہی رومی جرنیل ٹائیٹس نے 70 ء میں ایک دفعہ پھر ان کے تقدس کو پامال کیا۔
وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا
ان آیات میں بنی اسرائیل کی دو ہزار سالہ تاریخ کے نشیب و فراز کی تفصیلات کو سمو دیا گیا ہے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو مرتبہ عروج دیکھا اور دو دفعہ ہی زوال سے دو چار ہوئے۔ نبی آخر الزماں کی بعثت کے زمانے میں ان آیات کے نزول کے وقت ان کے دوسرے دور زوال کو شروع ہوئے پانچ سو برس ہونے کو آئے تھے۔ اس سیاق وسباق میں انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ :
Ayah 17:8آیت 8 عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا
اگر تم نے پہلے کی طرح ہماری نا فرمانیوں اور احکام شریعت سے اعراض کی روش اختیار کی تو ہم بھی اسی طرح پھر تمہیں سزا دیں گے۔
وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا
نافرمانیوں کی سزا دنیا میں تو ملے گی ہی جبکہ جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح جانوروں کو گھیر کر باڑے میں بند کردیا جاتا ہے اسی طرح آخرت میں اللہ کے نافرمانوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے قید خانے میں دھکیل دیا جائے گا۔ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنَا مَعَھُمْ !
Ayah 17:9آیت 9 اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ
یاد رکھو ! اب راہ ہدایت وہی ہوگی جس کی نشان دہی یہ کتاب کرے گی جسے ہم اپنے آخری رسول پر نازل کر رہے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ کے قصر رحمت میں داخل ہونے کا ”شاہدرہ“ ایک ہی ہے اور وہ ہے یہ قرآن۔ اب اگر تم اللہ کے دامن رحمت میں پناہ لینا چاہتے ہو تو اس قرآن کے راستے سے ہو کر آؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو اللہ کی رحمت کے دروازے ایک بار پھر تمہارے لیے کھل جائیں گے اور جو رفعتیں اور برکتیں اس آخری نبی کی امت کے لیے لکھی گئی ہیں تم بھی ان میں حصہ دار بن جاؤ گے۔
Ayah 17:10آیت 10 وَّاَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا
یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جہاں کہیں بھی اعمال کی خرابی کی بات ہوتی ہے وہاں ایمان بالآخرت کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے۔
اس رکوع کے حوالے سے یہ بات بہت اہم ہے کہ یہاں بنی اسرائیل کے عروج وزوال کے آئینے میں جو تصویر دکھائی گئی ہے اس میں ہمارے لیے ایک دعوت فکر ہے۔ الحمد للہ ! آج ہم امت محمد امت مسلمہ ہیں ‘ لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک زمانے میں بنی اسرائیل بھی امت مسلمہ ہی تھے۔ وہ بحیثیت نسل آج بھی ایک قوم کے طور پر موجود ہیں مگر انہیں امت مسلمہ کے منصب سے معزول کردیا گیا ہے۔ اب ان لوگوں کی حیثیت سابقہ امت مسلمہ کی ہے اور پچھلے دو ہزار برس سے یہ لوگ بہت زیادہ سختیوں کا شکار رہے ہیں۔ ہمیں ان کی قومی تاریخ کے نشیب و فراز کا جائزہ لے کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کون سے عوامل تھے اور ان کے عقائد و اعمال کی وہ کون سی خرابیاں تھیں جن کے باعث وہ لوگ اللہ کے ہاں مغضوب و معتوب ٹھہرے۔
یہاں دوسرا نکتہ یہ ذہن نشین کرنے کے لائق ہے کہ سابقہ اور موجودہ امتوں کے درمیان مقابلے کے لیے میدان تیزی سے تیار ہو رہا ہے اور یوں سمجھئے کہ دو پتنگیں اوپر چڑھ رہی ہیں ‘ جن کے درمیان پیچ پڑنے والا ہے۔ بنی اسرائیل اپنے انتہائی زوال کو پہنچنے کے بعد بحیثیت ایک قوم کے پچھلے ایک سو سال سے مادی لحاظ سے رو بہ ترقی ہیں۔ ان کی پتنگ 1917 ء میں بالفور Balfor ڈیکلریشن کی منظوری سے اوپر چڑھنا شروع ہوئی اور 1948 ء میں اسرائیل کی ریاست معرض وجود میں آگئی۔ 1966 ء میں اس کی مزید توسیع عمل میں آئی اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے۔ عرب دنیا کا واحد ملک عراق تھا جس سے اسرائیل کو خطرہ ہوسکتا تھا ‘ اسے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس پورے خطے میں اب کوئی ایسا ملک نہیں جو اسرائیل کی طاقت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
دوسری طرف دیکھا جائے تو مسلم دنیا بھی اپنے زوال کی آخری حدوں کو چھونے کے بعد اب بیداری کی طرف مائل ہے اور اس امت کے اندر نئی زندگی پیدا ہونے کا وقت قریب نظر آتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد 1924 ء میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ گویا ہمارے زوال کی انتہا تھی۔ اس کے بعد عالم اسلام میں آزادی کی تحریکیں چلیں اور متعدد مسلم ممالک یورپی اقوام کے تسلط سے آزاد ہوگئے۔ مزید برآں امت مسلمہ میں بہت سی احیائی تحریکیں اٹھیں مثلاً پاک و ہند میں جماعت اسلامی ‘ مصر میں الاخوان المسلمون ایران میں فدائی تحریک اور انڈونیشیا میں مسجومی پارٹی وغیرہ ‘ اور اس طرح اس کی نشأۃِ ثانیہ کے عمل کا آغاز ہوگیا۔ چناچہ پچھلی صدی سے امت مسلمہ کی صفوں میں زوال اور احیائی عمل پہلو بہ پہلو چل رہے ہیں۔ جیسے سورة الرحمن میں متوازی چلنے والے دو دریاؤں کی مثال دی گئی ہے : مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِ ”اس نے دو دریا رواں کیے جو آپس میں ملتے ہیں۔ دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتے“۔ اب صورت حال یہ ہے کہ سابقہ اور موجودہ امت مسلمہ کی صورت میں دو پتنگیں فضا میں تیر رہی ہیں اور ان کا آپس میں کسی وقت بھی پیچ پڑ سکتا ہے۔
یہ تمام تفصیلات ان لوگوں کے علم میں ہونی چاہئیں جو دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہیں زمان و مکان کے اعتبار سے درست ادراک ہونا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں ان کے دائیں بائیں کیا حالات ہیں ؟ ماضی میں کیا ہوتا رہا ہے ابھی سامنے کیا کچھ ہے اور مستقبل میں کیا امکانات ہیں ؟
Ayah 17:11آیت 11 وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ
یعنی انسان اللہ سے دعا کر رہا ہوتا ہے کہ اے اللہ ! میرے لیے یوں کر دے یوں کر دے۔ حالانکہ اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ اپنے لیے مانگ رہا ہے وہ اس کے لیے مفید ہے یا مضر۔ اس طرح انسان اپنے لیے اکثر وہ کچھ مانگ لیتا ہے جو اس کے لیے الٹا نقصان دہ ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : عَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ”ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے شر ہو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے“۔ چناچہ بہتر لائحہ عمل یہ ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے انسان اپنے معاملات اس کے حوالے کر دے کہ اے اللہ ! میرے معاملات تیرے سپرد ہیں کیونکہ میرے نفع و نقصان کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے :
سپردم بتو مایۂ خویش را
تو دانی حساب کم و بیش را !
دعائے استخارہ میں بھی ہمیں تفویض امر کا یہی انداز سکھایا گیا ہے :
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْءَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ‘ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ 1
”اے اللہ ! میں تیرے علم کی بدولت تجھ سے خیر چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی برکت سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے فضل عظیم کا ‘ بیشک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں تو سب کچھ جانتا ہے اور میں کچھ بھی نہیں جانتا اور تو ہر قسم کے غیب کو جاننے والا ہے۔“
بہرحال انسان کا عمومی رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرنے کے بجائے اپنی عقل اور سوچ پر انحصار کرتا ہے اور اس طرح اپنے لیے خیر کی جگہ شر کی دعائیں کرتا رہتا ہے۔
وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا
اپنی اس جلد بازی اور کوتاہ نظری کی وجہ سے وہ شر کو خیر اور خیر کو شر سمجھ بیٹھتا ہے۔
Ayah 17:12آیت 12 وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ
دن کو روشن بنایا تاکہ اس کی روشنی میں تم لوگ آسانی سے کسب معاش کے لیے دوڑ دھوپ کرسکو۔
وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا
یہ دن اور رات کا الٹ پھیر ہی ہے جو نظام الاوقات کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے اور دنوں سے ہفتے مہینے اور پھر سال بنتے ہیں۔
Ayah 17:13آیت 13 وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ
”طاءِر“ کا لفظ عربی میں عام طور پر شگون نحوست اور بد قسمتی کے لیے بولا جاتا ہے لیکن یہاں پر خوش بختی اور بد بختی دونوں ہی مراد ہیں۔ یعنی کسی انسان کا جو بھی مقسوم و مقدور ہے زندگی میں اچھا برا جو کچھ بھی اسے ملنا ہے جیسے بھی اچھے برے حالات اسے پیش آنے ہیں اس سب کچھ کے بارے میں اس کا جو کھاتہ ”اُمّ الکتاب“ میں موجود ہے اس کا حاصل اس کی گردن میں چپکا دیا گیا ہے۔ گردن میں چپکانے کے الفاظ کا استعمال محاورۃً بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی کچھ مادی حقیقت بھی ہو۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی گردن میں کسی gland کی صورت میں واقعی کوئی مائیکرو کمپیوٹر نصب کر رکھا ہو۔ واللہ اعلم !
وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا
ان الفاظ سے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ انسانی جسم کے اندر ہی کوئی ایسا سسٹم لگا دیا گیا ہے جس میں اس کے تمام اعمال و افعال ریکارڈ ہو رہے ہیں اور قیامت کے دن ایک chip کی شکل میں اسے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس chip کے اندر اس کی زندگی کی ساری فلم موجود ہوگی ایک ایک حرکت جو اس نے کی ہوگی ایک ایک لفظ جو اس نے منہ سے نکالا ہوگا ایک ایک خیال جو اس کے ذہن میں پیدا ہوا ہوگا ایک ایک نیت جو اس کے دل میں پروان چڑھی ہوگی سب ڈیٹا پوری تفصیل کے ساتھ اس میں محفوظ ہوگا۔ روز قیامت اس chip کو کھول کر کھلی کتاب کی طرح اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور کہا جائے گا :
Ayah 17:14آیت 14 اِقْرَاْ كِتٰبَكَ ۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا
تمہاری زندگی کی کتاب کا ایک ایک ورق اس قدر تفصیل سے تمہارے سامنے موجود ہے کہ تم خود ہی اپنا حساب کرسکتے ہو۔ تمہارا سارا debit/credit تمہارے سامنے ہے۔
Ayah 17:15وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى
روز قیامت ہر کسی کو اپنی بداعمالیوں کا بوجھ ذاتی طور پر خود ہی اٹھانا ہوگا۔ اس سلسلے میں کوئی کسی کی کچھ مدد نہیں کرسکے گا۔ سب اپنے اپنے اعمال کا انبار اپنے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے۔
وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا
یہ اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ کسی بھی قوم پر عذاب استیصال اس وقت تک نہیں بھیجا گیا جب تک کہ اس قوم کی ہدایت کے لیے اور حق و باطل کا فرق واضح کردینے کے لیے کوئی رسول مبعوث نہیں کردیا گیا۔ البتہ چھوٹے چھوٹے عذاب اس قانون سے مشروط نہیں۔ قرآن میں قوم نوح قوم ہود قوم صالح وغیرہ کی مثالیں بار بار بیان کی گئی ہیں جن سے اس اصول کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ کسی قوم کو عذاب کے ذریعے اس وقت تک مکمل طور پر تباہ و برباد نہیں کیا جاتا جب تک اللہ کا مبعوث کردہ رسول اس قوم کے لیے حق کا حق ہونا بالکل واضح نہ کر دے اور اس سلسلے میں اس قوم پر اتمام حجت نہ ہوجائے۔ یہی مضمون سورة النساء آیت 165 میں اس طرح بیان ہوا ہے : رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ”اس نے بھیجے رسول خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت رسولوں کے بعد۔“
Ayahs 17:16–17فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا
یہاں کسی بستی پر عذاب استیصال کے نازل ہونے کا ایک اصول بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اس کا سبب وہاں کے دولت مند اور خوشحال لوگ بنتے ہیں۔ یہ لوگ علی الاعلان اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی دیدہ دلیری کے سبب ان کی رسی مزید دراز کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی عیاشیوں اور من مانیوں میں تمام حدیں پھلانگ کر پوری طرح عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں عوام انہیں ان کے کرتوتوں سے باز رکھنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ایک وقت آتا ہے جب وہ بھی ان کے ساتھ جرائم میں شریک ہوجاتے ہیں اور یوں ایسا معاشرہ اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ ایسے میں صرف وہی لوگ عذاب سے بچ پاتے ہیں جو نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہے ہوں۔
Ayah 17:18آیت 18 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ
یہاں پر ”دنیا“ کی بجائے ”عاجلہ“ کا لفظ آیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ مؤنث ہیں۔ ”ادنیٰ“ قریب کی چیز کو کہا جاتا ہے اس کی مونث ”دنیا“ ہے جبکہ ”عاجل“ کے معنی جلدی والی چیز کے ہیں اور اس کی مؤنث ”عاجلہ“ ہے۔ یہ دنیا نقد کا سودا ہے یہاں پر راحت بھی فوراً آسودگی دیتی ہے اور اس کی تکلیف بھی فوری طور پر خود کو محسوس کراتی ہے۔ اسی لیے اسے ”عاجلہ“ کہا گیا ہے۔ عاجلہ کے مقابلے میں آیت زیر نظر میں ”آخرت“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ قرآن حکیم میں اکثر ”دنیا“ کے مقابلے میں بھی آتا ہے۔ دنیا یا عاجلہ کے مقابلے میں آخرت کو آخرت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا ثواب و عذاب بعد میں آنے والی چیز ہے۔
آیت زیر نظر میں جو اصول بیان ہوا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ جو شخص دنیا کی عیش اور دنیا کی دولت و شہرت حاصل کرنے کا خواہش مند ہو اور صرف اسی کے لیے منصوبہ بندی محنت اور دوڑ دھوپ کرے اس کی محنت اور دوڑ دھوپ کو اللہ کسی نہ کسی درجہ میں کامیاب کردیتا ہے ‘ مگر ضروری نہیں کہ جس قدر کوئی دنیا سمیٹنا چاہے اسی قدر اسے مل بھی جائے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی بھی اس“ عاجلہ“ کو پانے کی دوڑ میں شامل ہو کامیاب ٹھہرے بلکہ ہر کسی کو وہی کچھ ملے گا جو اللہ چاہے گا اور صرف اسی کو ملے گا جس کے لیے وہ چاہے گا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حصول دنیا کے لیے ساری عمر اپنے آپ کو ہلکان کردیتے ہیں مگر دنیا پھر بھی ہاتھ نہیں آتی۔ چناچہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ جس کو وہ چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے دنیا میں اس کی محنت کا صلہ دے دیتا ہے۔
ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا
اس شخص کی خواہش اور محنت سب دنیا کے لیے کی تھی چناچہ دنیا کسی نہ کسی قدر اسے دے دی گئی۔ آخرت کے لیے اس نے خواہش کی تھی اور نہ محنت لہٰذا آخرت میں سوائے جہنم کے اس کے لیے اور کچھ نہیں ہوگا۔
Ayah 17:19آیت 19 وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ
یعنی اس کی یہ طلب صرف زبانی دعویٰ تک محدود نہ ہو بلکہ حصول آخرت کے لیے وہ ٹھوس اور حقیقی کوشش بھی کرے جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اہل ایمان میں سے ہو کیونکہ ایمان کے بغیر اللہ کے ہاں بڑی سے بڑی نیکی بھی قابل قبول نہیں ہے۔
فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! یہ آیت ہم میں سے ہر ایک کے لیے لٹمس ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے ہر شخص ٹھیک سے معلوم کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے کس موڑ پر کس حیثیت سے کھڑ ا ہے ؟ چناچہ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی منصوبہ بندیوں اور شبانہ روز بھاگ دوڑ کی ترجیحات کا تجزیہ کر کے اپنا احتساب کرے کہ وہ کس قدر دنیا کا طالب ہے اور کس حد تک فلاح آخرت کو پانے کا خواہش مند ؟ بہر حال دنیا پر آخرت کو ترجیح دینا اور پھر اپنے قول و فعل سے اپنی ترجیحات کو ثابت کرنا ایک کٹھن اور دشوار کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو اس کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین !
Ayah 17:20آیت 20 كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ
یہ دنیا چونکہ دار الامتحان ہے اس لیے جب تک انسان یہاں موجود ہیں ان میں سے کوئی مجرم ہو یا اطاعت گزار ہر ایک کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نوازش ہے جس میں سے وہ اپنے نافرمانوں اور دشمنوں کو بھی نواز رہا ہے۔
وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا
دنیا میں اللہ تعالیٰ کی یہ عطا اور بخشش عام ہے۔ اس میں دوست اور دشمن کے امتیاز کی بنیاد پر کوئی قدغن یا روک ٹوک نہیں ہے۔
Ayah 17:21آیت 21 اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بعض لوگوں کو مال و اسباب ذہنی و جسمانی صلاحیتوں شکل و صورت اور مقام و مرتبے میں بعض دوسروں پر فضیلت دے رکھی ہے۔ یہ اس کی مرضی اور مشیت کا معاملہ ہے۔
وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا
دنیا میں تو درجات و فضائل جیسے بھی ہوں جتنے بھی ہوں محدود ہی ہوں گے مگر آخرت کی نعمتیں اور نوازشیں ایسی لامحدود اور لامتناہی ہوں گی کہ ان کا موازنہ و مقابلہ دنیا کی کسی چیز سے ممکن ہی نہیں ہوگا۔ یہاں ایک شخص بیس پچیس سال کٹیا میں رہ لے گا اور ایک دوسرا شخص اتنا ہی عرصہ محل میں رہ لے گا تو کیا فرق واقع ہوجائے گا ؟ آخرکار تو دونوں کو یہاں سے جانا ہے۔ لیکن آخرت کے آرام و آسائش ابدی ہوں گے۔ وہاں کے نعمتوں کے باغات کی اپنی ہی شان ہوگی : فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعۃ ”تو اس کے لیے آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں۔“
Ayah 17:22آیت 22 لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا
آئندہ دو رکوع اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں تورات کے احکام عشرہ Ten Commandments کو قرآنی اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے نزدیک ان احکام کے اندر تورات کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ ان احکام کا خلاصہ ہم سورة الانعام کے آخری حصے میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یہاں پر وہی باتیں ذرا تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔
Ayah 17:23آیت 23 وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا
اللہ کے حقوق کے فوراً بعد والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید اس سے پہلے ہم سورة البقرۃ کی آیت 83 اور سورة النساء کی آیت 36 میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ اس کے بعد سورة لقمان کی آیت 14 میں یہی حکم چوتھی مرتبہ آئے گا۔
فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا
اگر کبھی والدین کی بات کو ٹالنا بھی پڑجائے تو حکمت اور نرمی کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ عقل اور منطق کے بل پر سینہ تان کر یوں جواب نہ دیا جائے کہ ان کا دل دکھے۔
Ayah 17:24آیت 24 وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ
جب بھی اپنے والدین کے سامنے آؤ تو تمہاری چال ڈھال اور گفتگو کے انداز سے عاجزی و انکساری اور ادب و احترام کا اظہار ہونا چاہیے۔
وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا
اللہ تعالیٰ کے حضور ہر وقت ان کے لیے دعا گو رہنا چاہیے کہ اے اللہ جب میں ضعیف کمزور اور محتاج تھا تو انہوں نے میری غذا میرے آرام اور میری دوسری ضروریات کا انتظام کیا۔ میری تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا اور میرے لیے اپنے آرام و آرائش کو قربان کیا۔ اب میں تو ان کے ان احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔ اس لیے میں تجھی سے درخواست کرتا ہوں کہ تو ان پر رحم فرما اور اپنی خصوصی شفقت اور مہربانی سے ان کی خطاؤں کو معاف فرما دے۔
Ayah 17:25آیت 25 رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا
بوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم پر کماحقہ عمل کرنا آسان کام نہیں۔ بڑھاپے میں انسان پر ”ارذل عمر“ کا مرحلہ بھی آتا ہے جس کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں : لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا النحل : 70۔ ایسی کیفیت میں کبھی بچوں کی سی عادتیں لوٹ آتی ہیں اور ان کی بہت سی باتیں ناقابل عمل اور اکثر احکام ناقابل تعمیل ہوتے ہیں۔ کہیں انہیں سمجھانا بھی پڑتا ہے اور کبھی روکنے ٹوکنے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ان سب مراحل میں کوشش کے باوجود کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہو ہی جاتی ہے اور کبھی نہ کبھی کوئی کوتاہی رہ ہی جاتی ہے۔ یہاں اس سیاق وسباق میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف تمہارے ظاہری عمل اور رویے ہی کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں کی نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ چناچہ اگر بندے کے دل کا رجوع اللہ کی طرف ہو اور نیت اس کی نافرمانی کی نہ ہو تو چھوٹی موٹی لغزشوں کو وہ معاف فرمانے والا ہے۔
Ayah 17:26آیت 26 وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا
تبذیر کے معنی بلاضرورت مال اڑانے کے ہیں اور یہ اسراف سے بڑا جرم ہے۔ اسراف تو یہ ہے کہ کسی ضرورت میں ضرورت سے زائد خرچ کیا جائے۔ مثلاً کھانا کھانا ایک ضرورت ہے اور یہ ضرورت دو روٹیوں اور تھوڑے سے سالن سے بخوبی پوری ہوجاتی ہے مگر اسی ضرورت کے لیے اگر کئی کئی کھانوں پر مشتمل دستر خوان سجا دیے جائیں تو یہ اسراف ہے۔ اسی طرح کپڑا انسان کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک دو جوڑے کافی ہیں۔ اب اگر الماریوں کی الماریاں طرح طرح کے جوڑوں سوٹوں اور پوشاکوں سے بھری پڑی رہیں تو یہ اسراف کے زمرے میں آئے گا۔ اسراف کے مقابلے میں تبذیر سے مراد ایسے بےتحاشا اخراجات ہیں جن کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہو مثلاً شادی بیاہ کی رسموں پر بےحساب خرچ کرنا اور نام و نمود کے لیے طرح طرح کے مواقع پیدا کر کے ان پر مال و دولت کو ضائع کرنا تبذیر ہے۔
Ayah 17:27آیت 27 اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ
یہاں پر مبذرین کو جو شیاطین کے بھائی قرار دیا گیا ہے اس کی منطق اور بنیاد کیا ہے ؟ یہ بات جب میری سمجھ میں آئی تو مجھ پر قرآن کے اعجاز کا ایک نیا پہلو منکشف ہوا۔ سورة المائدۃ کی آیت 91 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ”شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرے شراب اور جوئے کے ذریعے سے“ اس آیت کے مضمون پر غور کرنے سے یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ شراب اور جوا شیطان کے وہ خطرناک ہتھیار ہیں جن کی مدد سے وہ انسانوں کے درمیان بغض و عداوت کی آگ کو بھڑکا کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے۔ چناچہ اگر شیطان کا ہدف انسانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عداوت کے جذبات پیدا کرنا ہے تو اس کا یہ ہدف تبذیر کے عمل سے بھی بخوبی پورا ہوجاتا ہے اور یوں ”مبذرین“ اس مکروہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شیطان کے کندھے سے کندھا اور اس کے قدم سے قدم ملائے سر گرم عمل نظر آتے ہیں۔ اس تلخ حقیقت کو ایک مثال سے سمجھیں۔ ذرا تصور کریں کہ ایک سیٹھ صاحب کی بیٹی کی شادی کے موقع پر اس کی کو ٹھی بقعۂ نور بنی ہوئی ہے ‘ خوب دھوم دھڑکا ہے اور محض نمود و نمائش کے لیے مال و دولت کو بےدریغ لٹایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اسی سیٹھ صاحب کا ایک ملازم ہے جو صرف اپنی غربت کے سبب اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے نہیں کر پارہا اور سیٹھ صاحب کے یہ تمام تبذیری چلن اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے لازمی طور پر اس غریب کے دل میں نفرت بغض اور دشمنی کا لاوا جوش مارے گا۔ اب اگر اسے موقع ملے تو یہ آتش فشاں پوری شدت سے پھٹے گا اور وہ غریب ملازم اپنے مالک کا پیٹ پھاڑ کر اس کی دولت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اسی طرح فضول لٹائی جانے والی دولت کی نمائش سے امراء کے خلاف معاشرے کے محروم لوگوں کے دلوں میں بغض و عداوت اور نفرت کی آگ بھڑکتی ہے اور یوں شیطان کے ایجنڈے کی تکمیل ہوتی ہے۔ اسی شیطانی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے معاونین کا کردار ادا کرنے کے باعث مبذرین کو یہاں ”اِخوان الشّیاطین“ قرار دیا گیا ہے۔
Ayah 17:28آیت 28 وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا
کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی محتاج اپنی کسی حاجت برآری کے لیے ایسے موقع پر آپ کے پاس آتا ہے جب آپ کے پاس بھی اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اچھے دنوں اور فراخ دستی کی امید تو ہے مگر وقتی طور پر آپ سائل کی حاجت سے اعراض کرنے پر مجبور ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اس کی مدد نہیں کرسکتے۔ اگر تمہیں کسی وقت ایسی صورت حال کا سامان ہو :
فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا
ایسے موقع پر سائل کو جھڑکو نہیں بلکہ متانت اور شرافت سے مناسب الفاظ میں اس سے معذرت کرلو۔
Ayah 17:29آیت 29 وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ
یہ استعارہ ہے بخل اور کنجوسی کا۔ یعنی آپ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر کسی کو کچھ دینے سے خود کو معذور نہ کرلیں۔
وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ
بعض اوقات انسان کے اندر نیکی کا جذبہ اس قدر جوش کھاتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا دینا چاہتا ہے۔
فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا
ایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں تو جذبات میں آکر انسان سارا مال قربان کر دے مگر بعد میں پچھتائے کہ یہ میں نے کیا کردیا ؟ اب کیا ہوگا ؟ اب میری اپنی ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی ؟ چناچہ انسان کو ہر حال میں اعتدال کی روش اختیار کرنی چاہیے۔
Ayah 17:30آیت 30 اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ
بعض اوقات اللہ کا کوئی بندہ چاہتا ہے کہ میں کوشش کر کے اپنے فلاں نادار رشتہ دار کے حالات بہتر کردوں مگر اس کی پوری کوشش کے باوجود اس کے حالات نہیں سدھرتے۔ ایسی کیفیت کے بارے میں فرمایا گیا کہ کسی کے رزق کی تنگی اور فراخی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اس میں تم لوگوں کو کچھ اختیار نہیں۔ لہٰذا تم لوگ اپنی سی کوشش کرتے رہو اور نتائج اللہ پر چھوڑ دو۔
Ayah 17:31آیت 31 وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ
قدیم زمانے میں قتل اولاد کا محرک افلاس کا خوف ہوا کرتا تھا۔ آج کل ہمارے ہاں برتھ کنڑول اور آبادی کی منصوبہ بندی کے بارے میں جو اجتماعی سوچ پائی جاتی ہے اور اس سوچ کے مطابق انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کی کئی صورتیں بھی اس آیت کے حکم میں آتی ہیں۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر کوئی ایک حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کی تمام صورتیں حرام مطلق نہیں بلکہ بعض صورتیں جائز بھی ہیں جبکہ بعض مکروہ اور بعض حرام۔ مگر ایسی سوچ کو ایک اجتماعی تحریک کی صورت میں منظم کرنا بہر حال ایمان اور توکل علی اللہ کی نفی ہے۔ اس کوشش کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ کے رازق ہونے پر ایمان و یقین نہیں اور وہ خود اپنی جمع تفریق سے حساب پورا کرنے کی کوششیں کرنا چاہتا ہے۔ دراصل انسان اللہ کے خزانوں اور وسائل کی وسعتوں کا کچھ اندازہ نہیں کرسکتا اور اسے اپنی اس کوتاہی اور معذوری کا ادراک ہونا چاہیے۔ مثلاً کچھ عرصہ پہلے تک انسان کو اندازہ نہیں تھا کہ سمندر کے اندر انسانی غذا کے کس قدر وسیع خزانے پوشیدہ ہیں اور اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سمندری گوشت لَحْمًا طَرِیًّا النحل : 14 اور فاطر : 12 کی افادیت انسانی صحت کے لیے red meat کے مقابلے میں کس قدر زیادہ ہے۔
اس ضمن میں ایک اہم بات یہ جاننے کی ہے کہ مختلف مانع حمل طریقوں اور کوششوں پر ”قتل اولاد“ کے حکم کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن باقاعدہ حمل ٹھہر جانے کے بعد اسے ضائع کرنا بہر حال قتل کے زمرے میں ہی آتا ہے۔
نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ
تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں جو رزق مل رہا ہے وہ تمہاری اپنی محنت اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں تمہارے حقیقی رازق ہم ہیں اور جیسے ہم تمہیں رزق دے رہے ہیں اسی طرح تمہاری اولاد کے رزق کا بندوبست بھی ہمارے ذمہ ہے۔
Ayah 17:32آیت 32 وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى
یہاں ”زنا مت کرو“ کے بجائے وہ حکم دیا جا رہا ہے جس میں انتہائی احتیاط کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ زنا کے قریب بھی مت پھٹکو۔ یعنی ہر اس معاملے سے خود کو محفوظ فاصلے پر رکھو جو تمہیں زنا تک لے جانے یا پہنچانے کا سبب بن سکتا ہو۔
Ayah 17:33آیت 33 وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ
یہاں ”حق“ سے مراد چند وہ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کا قتل جائز ہے۔ ان میں خون کا بدلہ خون ‘ اسلامی ریاست میں مرتد کی سزا موت ، شادی شدہ زانی اور زانیہ کا رجم اور حربی کافر کا قتل شامل ہے۔
وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا
اسلامی قانون میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ جان کے بدلے جان کی سزا پر اصرار کریں یا معاف کردیں یا پھر خون بہا لے لیں۔ یہ تینوں اختیارات مقتول کے ورثاء ہی کو حاصل ہیں۔ کسی عدالت یا سربراہ مملکت کو اس میں کچھ اختیار نہیں۔
فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ
یعنی جان کے بدلے جان کا فیصلہ ہو تو اس میں تجاوز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک آدمی کے بدلے مخالف فریق کے زیادہ لوگ قتل کردیے جائیں طریقہ قتل میں کسی قسم کی زیادتی کی جائے یا کسی بھی انداز میں اپنے اس اختیار کا ناجائز استعمال کیا جائے۔
اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا
قاتل کو پکڑنے اس پر مقدمہ چلانے اور انصاف دلانے تک کے طویل اور پیچیدہ عمل میں ہر مرحلے پر مقتول کے ورثاء کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قتل کے مقدمات میں ریاست یا حکومت مدعی نہیں بنے گی بلکہ مقتول کے ورثاء ہی مدعی ہوں گے۔ ہمارے ہاں جو ”سرکار بنام فلاں“ کے عنوان سے مقدمہ بنتا ہے وہ معاملہ سراسر غیر اسلامی ہے۔
Ayah 17:34آیت 34 وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ
یہ آیت قبل ازیں ہم سورة الانعام آیت 152 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ یعنی یتیم کے مال کو ہڑپ کرنے اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے یا اسے ضائع کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس کی حفاظت کرو اور اسے ہر طرح سے سنبھال کر رکھو :