17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsسراج البیان

Ayahs 17:1–4

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راتوں رات مسجد حرام (کعبہ) (ف 1) ۔ سے مسجد اقصی (بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکت دی ہے ، لے گیا ، تاکہ ہم اسے اپنی بعض نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے ۔

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی ، اور اس کتاب بنی اسرائیل کے لئے ہدایت ٹھہرایا کہ میرے سوا تم کسی کو کارساز نہ جانو ،

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

(اے) ان لوگوں کی اولاد جنہیں ہم نے نوح کیساتھ کشتی میں چڑھایا تھا ، نوح بندہ شکر گزار تھا ۔

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں صاف کہہ سنایا ، کہ تم زمین میں دو بار فساد کروگے ، اور نہایت مغرور سرکش ہو گے ۔

روح اور جسم کی انتہائی پرواز : (ف 1) عین اس وقت جب مکہ میں حضور ﷺ کے نام لیواؤں کو ناقابل برداشت تکلیفیں دی جارہی تھیں ، حضور ﷺ کے وطن مالوف سے نکال باہر کرنے کی سازشیں کی جارہی تھیں ، عین اس وقت جب زمین والوں نے گلشن رسالت کو برباد کردینے کا تہیہ کرلیا تھا ، جب یہ طے پا چکا تھا ، کہ اس شمع ہدایت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گل کردیا جائے ، آسمان پر آپ کے عروج وارتقاء کے سامان ہو رہے تھے ، قضاء قدر کے دفاتر میں معراج وتقدم کے ہنگامہ خیز چرچے تھے ۔ اللہ کی مشیت نے آپ کو اٹھایا اور مسجد اقصے تک لے اڑی پرواز اور اڑان کا یہ منظر اس لئے تھا ، تاکہ آپ کو فتوحات اسلامی کی وسعت کا اندازہ ہو کفار ، ومعاندین کو معلوم ہو کہ یہ شخص تنگنائے وطن سے نکل کر شام کے مرغزاروں تک پھیل جائے گا ، یعنی جس شخص کو تم وطن سے نکال رہے ہو ، ساری دنیا اس کا وطن قرار پائے گی ۔ حضور ﷺ آسمان تک گئے ، اور عجب راستار کو چیرتے ہوئے جناب باری تک پہنچ گئے ، باتیں ہوئیں ، اسرار دین سمجھائے گئے نمازیں عطا ہو میں شریعت کی تفصیلات دی گئیں ، اور سب سے بڑی بات یہ کہ قرب آلہی کا بلند ترین مقام حصہ میں آیا ۔ یہ امر کہ یہ پرواز جسم وجسد کے ساتھ تھی ، یا روح و نسحہ کے ساتھ محل بحث ونظر ہے ، ائمہ حدیث و تفسیر کی اکثریت معراج جسمانی کی قائل ہے اور میں سمجھتا ہوں ‘ عارف باللہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے ایک جملہ میں اس تمام کدو کاوش کا فیصلہ کردیا ہے ، ان کی قوت ایمانی نے اجتہاد ونظر کا وہ مرحلہ طے کرلیا ہے ، ان کی قوت ایمانی نے اجتہاد ونظر کا وہ مرحلہ طے کرلیا ہے جو عقل وفکر کو سعی بلیغ کے بعد بھی میسر نہ ہوسکا وہ یہ ہے کہ ” انا اصدقم با بعد منہ ، اصدقم بخیر من السمآء “۔ یعنی جب میں نے آپ کی نبوت و رسالت کے کوائف کو مان لیا ، جب یہ تسلیم کرلیا ، کہ آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں ، کتابیں عطا کی جاتی ہیں ، اور لاہوت وناسوت میں ایک رشتہ محبت ہے ، تو پھر معراج میں کیا استحالہ ہے ؟ خدا نے قدیر اپنے محبوب ترین بندے کو اپنے ہاں بلا رہا ہے ، اس میں کیا اعتراض ہے ، فلسفہ وعقل کی شام بحثیں بےسود ہیں ، جو خط زمین کو حرکت دے سکتا ہے جو آفتاب کو محوری گردش پر مجبور کرسکتا ہے جس کے ادنی اشارہ پر تمام انجم گھوم رہے ہیں کیا وہ ایک لطیف وسبک جسم کو آسمان پر نہیں اٹھا سکتا ۔ انسان کی تو یہ ہمت ہے کہ فضائے آسمانی میں اڑ رہا ہے ، اور طیاروں کی ایجاد پرانی ہوچکی ، اس نوع کے پر بن گئے ہیں جنہیں لگا لو اور پرندوں کی طرح اڑتے پھر ، چاند اور مریخ تک پہنچنے کی جدوجہد ہو رہی ہے کیا خدا کی وسعتوں میں یہ نہیں کہ اپنے محبوب کو اپنے یہاں بلا لے معلوم ہوا اس باب میں فلسفہ اور سائنس کی بحثیں بیکار ہیں ، البہ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے ، احادیث میں کیا مذکور ہے ، اور ائمہ حدیث و تفسیر کی اکثریت کی رائے کیا ہے ؟ سو میں کہہ چکا کہ افسوس معراج جسمانی کی تائید میں احادیث میں انداز بیان اس نوع کا ہے کہ ارتقاء روحانی کی تائید نہیں ہوتی ، ائمہ تفسیر ہی کثرت کے ساتھ معراج جسمانی کے قائل ہیں ، تاویل کے مجتہد اعظم علامہ رازی (رح) سے خدشہ ہو سکتا تھا لیکن وہ بھی جسمانی معراج کے معترف ہیں اور نہایت رفیق دلائل پیش فرمائے ہیں ۔ اصل میں اس قسم کے اعتراضات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب بصیرت دینی سے محرومی ہو اور دماغ پر دیو عقل مسلط ہو ۔ حل لغات : سبحن : تقدیس کے لیے ہے ، یعنی معراج کے سلسلہ میں جس قدر اعتراضات عقل کی واماندگیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے اللہ ان سے اعلی و بلند ہے ۔
Ayahs 17:5–8

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پھر جب ان دوفسادوں میں سے پہلے فساد کا وقت آیا ، تو ہم نے اپنے سخت جنگ آور سے بند (کسدی ) تم پر بھیجے ، پھر وہ گھروں میں آگھسے ، اور خدا کا وعدہ ہونا تھا (ف 1) ۔

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پر تمہیں غلبہ دیا اور مال اور اولاد سے تمہیں مدددی ، اور تمہاری لشکر بڑھایا ۔

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم بھلائی کرو تو اپنے ہی لئے بھلائی کرو گئے اور اگر برائی کرو گے تو بھی اپنے لئے ، پھر جب پچھلاوعدہ آیا تو ہم نے اپنے دوسرے بندے بھیجی (یعنی رومی) کہ وہ تمہارے چہرے اداس کریں ، اور مسجد میں داخل ہوں جیسے پہلی بار (کسدی) اور داخل ہوئے تھے اور جس پر غالب آئیں ، اس کو پوری طرح برباد کریں ۔

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

اب (بعہد اسلام) نزدیک ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے اور جو تم (نافرمانی میں) لوٹو گئے تو ہم بھی (سزا میں) لوٹیں گے ، اور ہم نے کافروں کے لئے جہنم کو جیل خانہ بنایا ہے ۔

بنی اسرائیل کی تباہی : (ف 1) اللہ کا قانون ہے کہ جب قوموں کا اخلاق بگڑ جائے ، فواحش کا ارتکاب کھلم کھلا ہونے لگے ، دین کا اعزاز واحترام دلوں سے اٹھ جائے شہوت کا زور ہو ، تو اس قوم کی ذلت کے سامان پیدا کردیتا ہے ، رسوائی کو قریب کردیتا ہے ، اور کسی دوسری زبردست قوم کو ان پر مسلط کردیتا ہے تاکہ غلامی کی صعوبتوں سے دوچار ہوں اور انہیں آزادی کے ناجائز استفادہ کا نتیجہ معلوم ہو ، تاکہ وہ یہ جائیں کہ اللہ سے بےاعتنائی ناقابل عفو جرم ہے ۔ حل لغات : سبحن : تقدس کے لئے ہے یعنی معراج کے سلسلہ میں جس قدر اعتراضات عقل کی ماندگیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اللہ ان سے اعلی اور بلند ہے ۔ بنی اسرائیل نے جب حق وصداقت سے روگردانی کی اور طرح طرح کی برائیاں ان میں پھیل گئیں ، تو وہ جالوت کے محکوم بنا دیئے گئے ، اس نے ان کو سخت سزائیں دیں ، پھر توبہ و استغفار اور رجوع وانابت کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس سے جہاد کیا ، اور فتحیاب ہوئے اس کے بعد پھر بنی اسرائیل بگڑ گئے ، ان میں بدستور دین کی بےحرمتی ہونے لگی اور کھلے بندوں اخلاق کی حدوں سے تجاوز کیا جانے لگا ، تو اللہ نے بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا ، اس نے ہزاروں کو تیغ وخنجر کے گھاٹ اتارا ہزاروں کو اسیر بنایا ، لاکھوں روپے کا سونا چاندی لوٹا بیت المقدس کو ڈھایا ، ان کی قیمتی املاک چھین لیں ، عین بیت المقدس میں بنی اسرائیل کو ذبح کیا ، عورتوں کی بےحرمتی کی ، توریت کے نسخے آگ میں پھونک دیئے ، مذہبی صحیفوں کو پاؤں تلے روندا تاکہ یہ لوگ ذلیل ہوں ان کی جھوٹی مذہبیت کو صدمہ پہنچے ، اور یہ اپنی بدمعاشیوں کا مزا چکھیں ، اس کے بعد پھر ان کی سنی گئی ، اور انہیں ان ذلتوں سے مخلصی ملی ، کیونکہ وعدہ یہ تھا کہ جب تک سیدھے رہو گے اللہ کا فضل تم پر سایہ افگن رہے گا اور جب بگڑو گے ، اللہ بھی نظریں پھیر لے گا ۔ حل لغات : اولی باس : اصحاب قوت و شدت ، جاسوا : پھیل گئے
Ayahs 17:9–11

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

یہ قرآن وہ راہ دکھلاتا ہے جو بہت سیدھی ہے ، اور نیک اعمال مومنین کو بشارت دیتا ہے ، کہ ان کے لئے بڑا اجر ہے ، (ف 1) ۔

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور جو آخرت کو نہیں مانتے ان کے لئے دکھ کا عذاب ہم نے تیار کیا ہے ۔

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور آدمی جیسے دعاء خیر کرتا ہے ، ویسے ہی بدعاء بھی کرتا ہے ، اور انسان جلد باز ہے ۔

(ف 1) یعنی قرآن حکیم جس مسلک کی دعوت دیتا ہے وہ قدیم ہے عقل و دانش کے قرین اور موافق ہے ، سعادت انسانی کی تمام راہیں اس میں مذکور ہیں ، انسانی بقاء و دوام کا راز اس میں مضمر ہے ، اس کی تعلیمات ایسی ہیں جو سب کے لئے قابل عمل ہیں ، سب کے لئے مفید ہیں اس کی تعلیم چھوٹے بڑے سب کے لئے یکساں قابل عمل ہے یہ شک وشبہ سے بالا ہے ، مگر بشارت و خوشخبری ان کے لئے ہے جو مومن ہیں ، جن کے دلوں میں ایمان وتیقن کا اجالا ہے ، متعصب نہیں ، اور جو آنکھوں اور دلوں کو ہمیشہ کھلا رکھتے ہیں ۔ حل لغات : حصیرا : حصر کے معنی احاملہ کرنے اور تنگی کرنے کے ہیں واحصروھم ۔ الی ضیقوا ، علیہم یہاں قید خانہ اور تکلیف ومقام کے ہیں ۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے رات اور دن دو نشان مقرر کئے ہیں پھر ہم نے رات کا نشان مٹایا اور دن کا نشان دیکھنے کو بنایا ، تاکہ تم اپنے رب کا فضل (روزی) تلاش کرو ، اور برسوں کا شمار اور حساب جانو ، اور ہم نے ہر شئے کا بہ تفصیل بیان کیا (ف 1) ۔

(ف 1) یعنی دن رات میں ان کی تبدیلی و تفسیر میں غور وفکر کرنے والے کے لئے نشان ہیں ، جس طرح رات اور دن دونوں مخلوقات کے لئے یکساں مفید ہیں اسی طرح عبرت ونصیحت کے لئے ایمان وکفر کا باقی رہنا ضروری ہے ، کیونکہ جب تک کفر کی تاریکی اور سیاہی موجود نہ ہو ، ایمان کی روشنی کس طرح ظاہر ہو سکتی ہے ۔ (آیت) ” وکل شیء فصلنہ تفصیلا “۔ سے مقصود یہ ہے کہ قرآن حکیم نے ہدایت وابتداء کے تمام وسائل سے بحث کی ہے ، اور وہ تمام چیزیں بیان کردی ہیں ، جن کی ہمیں بطور ذرائع راہنمائی کے حاجت ہے ۔
Ayahs 17:13–14

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہر آدمی کا پرندہ (تقدیر) ہم نے اس کی گردن میں چمٹا دیا ہے ، اور قیامت کے دن ہم اس کے لئے کتاب نکالیں گے ، کہ وہ اسے کھلا پائے گا (ف 2) ۔

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

پڑھ اپنی کتاب آج تو خود ہی اپنا حساب لینے والا کافی ہے ۔

نامہ اعمال ہر شخص کے اندر موجود ہے : ! (ف 2) (آیت) ” الزمنہ طیرہ فی عنقہ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ نامہ اعمال ہر شخص کے اندر حتمی طور پر موجود ہے اتمام اعمال لوح قلب پر مرنسم ہیں ، تمام نقوش دماغ میں ثبت ہیں ، جب ضرورت ہوگی ، یہی نقوش ابھر آئیں گے ، اور اعمال روشن طور پر ہمارے سامنے آجائیں گے اور کہا جائے گا ، جو کچھ تم نے دنیا میں کیا ہے ، یہاں صاف صاف پڑھ لو ، صحیفہ اعمال کھلا ہے ۔ انسانی دماغ کی صنعت کاریاں عجیب ہیں ، اس میں بعض ایسے مخفی زاوے موجود ہیں ، جن میں ہمارے اعمال کا پورا پورا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے ، قیامت کے دن نگاہوں میں تیزی پیدا ہوجائے گی ، اور ہم خود ان نقوش کا مطالعہ کرسکیں گے ، تمام ذہنی واردات ہمارے لئے موجود ہونگی اور ہم عبرت کا مرقع بنے ہوئے چشم حیرت سے فرد اعمال کو دیکھیں گے اور دل ہی دل میں نادم ہوں گے ۔
Ayahs 17:15–19

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو ہدایت پر آتا ہے ، اپنے ہی لئے آتا ہے ، اور جو گمراہ ہوتا ہے ، اپنے ہی برے کو ہوتا ہے ، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہم عذاب (ف 1) ۔ نہیں کرتے جب تک کوئی رسول نہ بھجیں ،

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہم کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ، تو وہاں کے دولتمندوں کو حکم بھیجتے ہیں پھر وہ اس (حکم) میں نافرمانی کرتے ہیں ، تب ان پر وعد عذاب ثابت ہوجاتا ہے ، پھر ہم انہیں اکھاڑ پھینکتے ہیں ۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بہت امتیں ہلاک کیں ، اور رب اپنے بندوں کے گناہوں کا دانا بینا کافی ہے ۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو دنیا کا طالب ہے ، فورا ہم اس کو اسی دنیا میں جو چاہیں دیتے ہیں ‘ جس کو ہم دیتا چاہیں ، پھر ہم نے اس کے لئے دوزخ مقرر کیا ہے جس میں ملامت سن کر اور مردود ہو کر داخل ہوگا ،

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو آخرت کا طالب ہے اور مومن ہو کر اس کے لئے مناسب کوشش کرتا ہے سو ان کی کوشش قابل شکر گزاری ہے ۔

(ف 1) اسلامی قانون مکافات یہ ہے ، کہ ہر شخص بجائے خود اپنے اعمال کا ذمہ دار ہیں ، اس لئے تناسخ غلط ہے ، اور ہدیہ وکفارہ بھی صحیح نہیں ، ہر شخص اپنے اعمال کا جواب وہ ہے کوئی شخص کسی کے کام میں نہیں آسکے گا ۔ (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ سے مراد یہ ہے کہ عذاب کے لئے تکذیب کی ضرورت ہے ، اور تکذیب کے لئے پیغام کی حاجت ہے ، اس لئے ضرور ہے کہ عذاب سے قبل اتمام حجت ہوچکے ، تاکہ انہیں یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ ہم نے اعمال صالحہ کے لئے مقدور بھر کوشش کی تھی اور ہمیں ناحق عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے ۔ یہ یاد رہے ، کہ عذاب سے مراد تمام تکالیف نہیں ، نہ عادی مصائب مقصود ہیں ، بلکہ عذاب وہ ہے جسے متعین طور پر عذاب کہا جاسکے ، جس کے متعلق تصریحات ہوں کہ یہ عذاب ہے ۔ دوسری بات غور طلب یہ ہے کہ نبعث سے غرض یہ نہیں کہ ہر عذاب سے قبل ایک نبوت کا ظہور ضروری ہے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہر عذاب سے قبل اتمام حجت ضروری ہے ، مثلا اس زمانہ میں اگر عذاب آئے تو یہ کسی نئی نبوت کے انکار کا نتیجہ نہ ہوگا ، بلکہ اس لئے عذاب آئے گا کہ خدا کا پیغام اسلام کی شکل میں موجود ہے ، اس کو تسلیم نہیں کیا گیا ، اور اس کی بےحرمتی کی گئی ہے ۔ حل لغات : امرنا : یعنی امرنا بطاعۃ ، بعض نے امرنا سے مراد کثرنا ، لیا ہے یعنی ہم امراء کو تعداد میں بڑھا دیتے ہیں اور تائید میں یہ حدیث پیش کی ہے ، کہ خیر المال موصوۃ مامورۃ اے کثیر النسل ہو سکتا ہے امر سے غرض تقہ رہو ، کیونکہ عرب یہ بھی کہتے ہیں ، ھوا امیر غیر ما مور ۔
Ayahs 17:20–22

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ان کو اور ان کو ہر کسی کو ہم تیرے رب کی بخشش رد نہیں کی گئی (ف 1) ۔

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھ ہم نے بعض کو بعض پر کیسی فضیلت دی ہے اور آخرت میں تو بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت ۔

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

اللہ کے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرا کہ تو ملامت سن کر اور بےسک ہو کر نہ بیٹھے ،

نیکی اور برائی دونوں کے لئے یکسان مواقع موجود ہیں : (ف 1) اللہ نے دنیا میں دو قسم کے گروہ پیدا کئے ہیں ، ایک وہ ہے جس کا نصب العین دین کی بھلائیوں کو حاصل کرنا ہے ، جو اپنی تمام قوتوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہے ، جس کا مقصد حیات گلشن اسلام کی آبیاری ہے ، اور دوسرا وہ ہے جو دن رات دنیا طلبی میں مصروف رہتا ہے ، جس کی تگ ودو محض نفس کی خواہشات تک محدود ہے ، اور آخرت سے بےپروا اور غافل ہے ۔ اللہ اس گروہ کو جو طالب حق ہے ، دیندار ہے ، پاکبازی اور تدبن کی توفیق عنایت فرماتا ہے ، اور ان کی مشکلات میں راہنمائی فرماتا ہے ، اور وہ جو صرف جیفہ دنیا کا گرویدہ ہے ، جس کی کوتاہ ہمتی اسے دنیا کی حدود سے تجاوز نہیں کرنے دیتی ہمیشہ برائی کے لئے کوشاں رہتا ہے ، اور اللہ نے ایسے سامان پیدا کر رکھے ہیں کہ اسے طریق معصیت میں بھی لذت ملتی ہیں ۔ (آیت) ” کلا نمد ھؤلآئ “۔ کے یہی معنی ہیں ، کہ اللہ نے انسانی فطرت اور دنیا کو اس ڈھب پر بنایا ہے کہ نیکی اور برائی دونوں کے لئے مواقع اور تسہیلات ہیں ، پاکباز انسان نیک مواقع سے استفادہ کرتا ہے ، اور بدکردار برے حالات سے بہرہ حاصل کرتا ہے ، کیونکہ دنیا کا نظام یا کارگاہ فطرت دونوں کے لئے یکساں معین و مددگار ہیں ۔ حل لغات : العاجلۃ : دنیا ۔ محظورا : منقوص ، یا ممنوع ۔
Ayahs 17:23–26

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تیرے رب نے حکم دیا کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اور والدین سے نیکی کرو اگر ان میں سے ایک یا دونوں تیرے سامنے بڈھے ہوجائیں ، تو ان کو اف بھی نہ کہہ اور نہ ان کو جھڑک ، اور ان کے سامنے ادب سے بات کر (ف 1) ۔

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور مہربانی سے عاجزی کے بازو ان کے لئے جھکا ، اور کہہ کہ اے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ ان دونوں نے جب میں چھوٹا تھا مجھے پالا ہے ۔

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

جو تمہارے دلوں میں ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے ، اگر تم نیک ہو ، تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخشتا ہے ۔

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ دار کو اس کا حق دے اور محتاج اور مسافر کو بھی ، اور فضول خرچ نہ ہو ،

(ف 1) ان آیتوں میں وہ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، توحید کا اور والدین کی اطاعت اور آداب کا ، اس لئے کہ ان دونوں میں ایک قسم کی نسبت اور مشابہت کا ، والدین کی پرورش ، ان کی شفقت و محبت ربوبیت کبری سے مشابہ ہے ، جو شخص والدین کا اطاعت شعار ہے وہ ربوبیت کبری کا بھی پہچان سکے گا ، جس کا نام توحید ہے ، اور جو والدین کا مطیع وفرمانبردار نہیں ، جو عارضی ربوبیت سے غافل ہے ، وہ اصلی رب کا بطریق اولی منکر ہوگا ، یعنی جو خدا پرست ہے ، وہ حقوق انسانی کی نگہداشت کرسکے گا ، اور جس کے دل میں اللہ کا ڈر نہیں ، وہ انسانی فرائض کو کیونکر محسوس کرسکتا ہے ؟ جو انسان کا شکر گزار نہیں ، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ہوسکتا ۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ توحید اصل اصول ہے خدا کا فیصلہ ہے ، عقل کا تقاضا ہے ، اسی طرح والدین کی فرمانبرداری ضروری ہے ، ان کے ساتھ مروت واخلاق لازم ہے ، گستاخی کے کلمات سے احتراز چاہئے ، انہیں ناملائم اور درشت انداز میں مخاطب کرنا جائز نہیں ۔ حل لغات : فلا تقل لھما اف : یعنی کلمہ تحقیر سے انہیں مخاطب نہ کرو ، جس سے والدین اذیت وذلت محسوس کریں ۔
Ayahs 17:27–28

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بیشک فضول خرچ شیطانوں کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا ناشکر ہے (ف 1) ۔

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور جو تو اپنے رب کی رحمت (رزق) کے انتظار میں جس کے ملنے کی تجھے امید ہو کبھی ان سے منہ پھیرے تو انہیں نرم کلام سے جواب دے ۔

انسانی حقوق کی رعایت : (ف 1) اسلام جہاں عقائد پر زور دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ اللہ کی چوکھٹ پر جھک جائیں ، پاکباز بنیں ، اور تخلق باخلاق اللہ کے زبور سے آراستہ ہوں ، وہاں وہ حقوق انسانی کی مراعات کو بالخصوص ذکر کرتا ہے ، اور کہتا ہے عزیز داری اور قرابت کا خیال رکھو رشتہ وتعلق کی حرمت کو ملحوظ رکھو ، مسکینوں اور محتاجوں کا خیال رکھو ، مسافروں اور غریب الوطن لوگوں کی مدد کرو ، یعنی اسلام صرف زہد و تورع کا نام نہیں ، پرہیزگاری اور عبادت سے تعبیر نہیں ، بلکہ اسلام میں یہ بھی داخل ہے کہ تمہارے ماں باپ تم سے خوش ہوں ، تمہارے عزیزوں سے تمہارے تعلقات بہتر ہوں ، تمہارے دل میں مسکینوں اور غریبوں کے لئے ہمدردی کا جذبہ موجزن ہو ، تمہارا گھر مسافروں اور مہمانوں کے لئے کھلا رہے ، اور اگر تمہیں ان لوگوں سے اختلاف کرنا پڑے ، تو لڑائی اور جنگ درست نہیں ، بلکہ دل نشین انداز میں ان کو سمجھا دو ، عزیزوں سے لڑائی ، انسانی حقوق سے تغافل ، والدین کی نافرمانی و ناخوشی ، مسافر اور غریبوں سے بدسلوکی ، یہ جائز نہیں ، مسلمان وہ ہے ، جو اللہ کو خوش رکھے ۔ اور اس کی مخلوق کو بھی ۔ (آیت) المبذرین “۔ وہ لوگ ہیں ، جو اللہ کے دیئے ہوئے مال کو معصیت کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کو استعمال نہیں کرتے ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے پوچھا گیا ، تبذیر کسے کہتے ہیں ، اس نے جواب دیا ، ” انفاق المال فی غیر حقہ “۔ یعنی ناحق اور نامناسب طور پر دولت کو صرف کرنا ۔ یہ یاد رہے کہ تبذیر واسراف کا اطلاق صرف گناہوں کے کاموں پر ہوتا ہے ، اگر ایک شخص معصیت کے لئے ایک پائی بھی صرف کرتا ہے تو یہ تبذیر اور اسراف میں داخل ہے تحدیث نعمت یا مقدور کے موافق لباس وخوراک اسراف میں داخل نہیں ، اگر ایک شخص نیک ہے اور صالح ہے اور مالدار بھی ہے تو وہ بیشک ٹھاٹ کے ساتھ رہے ، تاکہ اللہ کی نعمتوں کا اظہار ہو ، ریاکاری اور غریبوں کو مرعوب کرنا مقصود نہ ہو حل لغات : للاوابین : ادب کے معنی رجوع کرنے کے ہیں ۔ اواب : وہ شخص ہے جو ارادہ نہ رکھے اور اپنی خواہشوں کو اللہ کے تابع بنا وے ۔ کفورا : ناشکرا ، کفران سے مشتق ہے ۔ مغلولۃ الی عنقک ۔ بخل کی تشبیہ ہے ، گویا بخیل کے ہاتھ کشادہ نہیں ہوتے ۔
Ayahs 17:29–35

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور بالکل اسے کھول بھی نہ دے ، کہ بیٹھا پچھتایا کرے اور لوگوں کی ملامت سنے (ف 2) ۔

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

تیرا رب جس کی چاہے روزی فراخ کرے اور جس کی چاہے تنگ کرے ، وہ اپنے بندوں کا دانا بینا ہے ۔

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور افلاس کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ، انہیں اور تمہیں ہم رزق دیتے ہیں ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے ۔

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے نزدیک نہ جاؤ کہ وہ بیحیائی اور بری راہ ہے ۔

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے اس کو نہ مارو مگر حق پر اور جو ظلم سے مارا گیا تو اس کے وارث کو ہم نے زور دیا ہے سو اسے چاہئے کہ وہ قتل میں زیادتی نہ کرے ، بیشک اسی کی مدد ہونی ہے ۔

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور مال یتیم کے نزدیک نہ جاؤ مگر بہ طریق مناسب ، جب تک وہ جوان ہو ، اور عہد کو پورا کیا کرو ، عہد کی بابت پرسش ہوگی ۔

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب ناپو ، تو پیمانہ پورا بھرو ، اور سیدھی ترازو سے تولو ، یہ بہتر ہے ، اور اس کا انجام بہت عمدہ ہے ۔

(ف 2) اس آیت میں مسلمانوں کو اعتدال کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے ، اور اسے کہا ہے کہ اپنی مالی حالت کا جائزہ لیتا رہے ۔ نہ اس قدر شاہ خرچ ہو ، کہ جو کچھ ہاتھ لگے صرف کردیا جائے ، اور بعد میں پشیمانی اٹھانا پڑے ، اور نہ بخل وامساک کا اظہار ہو ، بین بین رہے ، افسوس مسلمان آج خرچ کے معاملہ میں بالکل محتاط نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بکمال مہربانی ہے ہر بات سمجھا دی ہے ۔ مسلمان محنت سے روپیہ کماتا ہے ۔ اور رسم و رواج کی پابندیوں میں اڑا دیتا ہے ۔ اور وہ روپیہ جو اللہ کی نعمت ہے محض فضول باتوں میں ضائع ہوجاتا ہے ، آج کسب واکتساب کے جس قدر اسباب ہیں ، وہ سب مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں مگر پھر بھی مسلمان مفلس ہے ، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی آمد وخرچ میں تناسب نہیں ، وہ آمدنی سے زیادہ خرچ کرتا ہے ، اس لئے ہمیشہ محتاج رہتا ہے ۔ چو خلت نیست خرچ آہستہ زکن ! کہ می گوئیند ملا حان سرود سے ! بکوہستان اگر باران نہ بارد ! بہ سالے دجلہ گرودخشک رودے ، حل لغات : سلطنا : یعنی انتقام کا حق تین باتوں کی وجہ سے ایک مجرم کا خون بہانا مباح ہوجاتا ہے ، قتل زنا ، ارتداد ۔