Explained with ayahs 2–3
طوفان نوح کے بعد
آنحضرت ﷺ کے معراج کے واقعہ کے بیان کے بعد اپنے پیغمبر کلیم اللہ حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر بیان فرماتا ہے قرآن کریم میں عموما یہ دونوں بیان ایک ساتھ آئے ہیں اسی طرح تورات اور قرآن کا بیان بھی ملا جلا ہوتا ہے حضرت موسیٰ کی کتاب کا نام تورات ہے۔ وہ کتاب بنی اسرائیل کیلئے ہادی تھی انہیں حکم ہوا تھا کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور مددگار اور معبود نہ سمجھیں ہر ایک نبی اللہ کی توحید لے کر آتا رہا ہے۔ پھر انہیں کہا جاتا ہے کہ اے ان بزرگوں کی اولادو جنہیں ہم نے اپنے اس احسان سے نوازا تھا کہ طوفان نوح کی عالمگیر ہلاکت سے انہیں بچا لیا اور اپنے پیارے نبی حضرت نوح ؑ کے ساتھ کشتی پر چڑھا لیا…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 2
معراج کا ذکر صرف ایک فقرے میں کر کے یکایک بنی اسرائیل کا یہ ذکر جو شروع کردیا گیا ہے، سر سری نگاہ میں یہ آدمی کو کچھ بےجوڑ سا محسوس ہوتا ہے۔ مگر سورت کے مدعا کو اگر اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس کی مناسبت صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ سورت کا اصل مدعا کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے۔ آغاز میں معراج کا ذکر صرف اس غرض کے لیے کیا گیا ہے کہ مخاطبین کو آگاہ کردیا جائے کہ یہ باتیں تم سے وہ شخص کر رہا ہے جو ابھی ابھی اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نشانیاں دیکھ کر آرہا ہے۔ اس کے بعد اب بنی اسرائیل کی تاریخ سے عبرت دلائی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب پانے والے جب اللہ کے مقابلے میں سر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب (یعنی توریت) دی اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لئے (آلہ) ہدایت بنایا (جس میں اور احکام کے ساتھ یہ توحید کا عظیم الشان حکم بھی تھا) کہ تم میرے سوا (اپنا) کوئی کارساز مت قرار دو اے ان لوگوں کی نسل جن کو ہم نے نوح ؑ کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا (ہم تم سے خطاب کر رہے ہیں تاکہ اس نعمت کو یاد کرو کہ اگر ہم ان کو کشتی پر سوار کر کے نہ بچاتے تو آج تم ان کی نسل کہاں ہوتے اور نعمت کو یاد کر کے اس کا شکر کرو جس کی بڑی فرد توحید ہے اور) وہ نوح ؑ بڑے شکر گذار بندہ تھے (پس جب انبیاء (علیہم السلام) شکر کرتے رہے تو تم کیسے اس کے تارک ہو سکتے ہو۔)
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 2 تا 8: یہود کے کبر و غرور پر ضرب : آگے کی آیات میں یہود کے اس غرور پر ضرب لگائی گئی ہے کہ وہ اسرائیل کی اولاد اور خدا کے محبوب اور چہیتے ہیں اس وجہ سے مذہبی پیشوائی ان کا اجارہ ہے۔ یہود اپنے اس غرور کے سبب سے اول تو اپنے خاندان سے باہر کسی کی نوبت و رسالت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے اس وجہ سے آنحضرت ﷺ کے شروع ہی سے شدید مخالف تھے، پھر جب آپ نے شب معراج کے مشاہدات بیان کیے اور وہ ان کے علم میں آئے تو ان کا پارہ اور چڑھ گیا کہ یہ لو، یہ شخص ہمارے نبیوں کی وراثت اور ہماری امامت کا بھی مدعی بن بیٹھا۔ قرآن نے ان کے دماغ سے یہ ہوا نکالنے کے لیے یہ حقیقت واضح فرمائی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یہ سورت مکی ہے۔ اسے سورت الاسراء بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ اس میں نبی ﷺ کے اسراء (رات کو مسجد اقصیٰ لے جانے) کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ مرفوعا حدیث فرماتے ہیں کہ سورة کہف، مریم اور بنی اسرائیل یہ عتاق اول میں سے ہیں اور میرے تلاد میں سے ہیں، تلاد قدیم مال کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورتیں ان قدیم سورتوں میں سے ہیں جو مکہ میں اول اول نازل ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ ہر رات کو بنی اسرائیل اور سورة زمر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ مسند احمد جلد 6، ص 48،۔
1۔ 1 سُبْحَا نَ عام طور پر اس کا استعمال ایسے موقع پر ہوتا ہے جب کسی عظیم الشان واقعے کا ذکر ہو۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: اس سے معراج کے واقعے کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور رات کے وقت انہیں ایک جانور پر سوار کیا جس کا نام براق تھا، وہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ آپ کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک لے گیا، یہ سفر معراج کا پہلا مرحلہ تھا، جسے اسراء کہا جاتا ہے، پھر وہاں سے حضرت جبریئل ؑ آپ کو ساتوں آسمانوں پر لے گئے، ہر آسمان پر آپ کی ملاقات پچھلے پیغمبروں میں کسی پیغمبر سے ہوئی، اس کے بعد جنت کے ایک درخت سدرۃ المنتہی پر تشریف لے گئے، اور آپ کو اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہم کلامی کا شرف عطا ہوا، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تشریح : بنی اسرائیل کی سیرت اور تاریخ کا یہ حصہ قرآن کریم کی صرف اسی سورت میں بیان ہوا ہے اس میں بنی اسرائیل کے اس انجام کا ذکر ہے جس پر وہ پہنچے اور جس کے نتیجے میں ان کی عزت و شوکت ، زوال و نکبت سے بدل گئی۔ اس تاریخی تبصرہ کے ذریعے انسانوں کو یہ سمجھایا گیا کہ اقوام کے عروج وزوال میں اصلاح و فساد کا کتنا گہرا دخل ہوا کرتا ہے۔ بعد کی آیات میں ، اسی سورت میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ سنت الہیہ ہے اللہ جس قوم کو ہلاک کرنا چاہتے ہے وہ اس قوم کے مترفین کے اندر فساد پیدا کرتا ہے ، وہ بگاڑ میں ڈوب جاتے ہیں اور ہلاک کردئیے جاتے اور اس طرح نیست و نابود ہوجاتے ہیں۔
یہاں ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت…
Read the full tafseer →5 نبی کریم ﷺ کا فضل و شرف بیان فرما کر سلسلہ کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کی طرف منتقل کردیا گیا۔ چونکہ " اسراء " کے ذیل میں ' مسجد اقصیٰ " (بیت المقدس) تک جانا مذکور ہوا تھا، آگے " مسجد اقصیٰ " اور اس کے قدیم متولیوں (بنی اسرائیل) پر جو مختلف دور گزرے، مسلمانوں کی عبرت اور خود بنی اسرائیل کی نصیحت کے لیے ان کا بیان کیا جاتا ہے، یہ آیت اسی کی تمہید ہے۔ واقعہ " اسراء " میں اشارہ تھا کہ حجازی پیغمبر کی امت ہی آئندہ اس امانت الٰہی کی مالک بننے والی ہے جو شام کی مبارک سرزمین میں ودیعت کی گئی تھی۔ ان آیات میں بنی اسرائیل کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر خیریت چاہتے ہیں تو اب پیغمبر عربی ﷺ کی پیروی…
Read the full tafseer →آیت 2 وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ
یہاں تخصیص کردی گئی کہ تورات تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت نہیں تھی ‘ بلکہ درحقیقت وہ صرف بنی اسرائیل کے لیے ایک ہدایت نامہ تھی۔
اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا
یعنی تورات توحید کا درس دیتی تھی۔ اس کی تعلیمات کا لب لباب یہ تھا کہ اللہ کے سوا کسی بھی دوسری ہستی یا ذات کو اپنا کارساز مت سمجھو اسے چھوڑ کر کسی دوسرے پر بھروسہ یا توکل نہ کرو۔
Read the full tafseer →4 جن دنوں اسراء کا واقعہ پیش آیا اس وقت بیت المقدس بنی اسرائیل کی تولیت میں تھا۔ اسلام کا عرب کی بستی بستی تک چرچا ہوچکا تھا۔ مدینہ کے اوس و خزرج کے بعض افراد اسلام لا چکے تھے۔ یہود اسلام کی دعوت پر پوری طرح آگاہ تھے۔ بیت المقدس میں آپ کو لے جانے اور آپ کی امامت سے صاف اشارہ ملتا تھا کہ عنقریب بیت المقدس پر امت مسلمہ کا قبضہ ہوجانے والا ہے اور اس سورة بنی اسرائیل کا آغاز جو واقعہ اسراء سے ہوا ہے تو محض تمہید کے طور ہوا ہے ورنہ اصل روئے سخن یہود ہی کی طرف ہے اور انھیں ان کی سابقہ تاریخ سے خبردار کرنے کے بعد متنبہ کیا جارہا ہے کہ ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ پیغمبر اسلام پر ایمان لے آئیں اور…
Read the full tafseer →4۔ توریت موجودہ میں اب تک متعدد آیتیں تعلیم توحید کو مل رہی ہیں مثلا ” خداوند تیرا خدا جو تجھے زمین مصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہوں، میرے حضور تیرے لئے دوسرا خدا نہ ہو وے، تو اپنے لئے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے سے مت بنا، تو ان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں “۔ (خروج۔ 2: 2) (آیت) ” الکتب “۔ توریت کا مراد ہونا ظاہر ہے، یہود برائے نام تو ہمیشہ توحید کے قائل رہے ہیں، البتہ دنیا پرستی میں مبتلا ہو کر عملا اس راہ سے بار بار ہٹ جاتے تھے، وعید اسی پر ہورہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیات نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے محمد ﷺ کو لیلاً ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اسراء رات کے سفر کو کہتے ہیں، اور لَیْل کو ذکر کرنے کا فائدہ لیل کی تنکیر سے مدت سیر کی قلت کی طرف اشارہ ہے مسجد حرام یعنی مکہ سے مسجد اقصیٰ (یعنی) بیت المقدس تک (بیت المقدس کا نام مسجد اقصی) اس کے مسجد حرام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے جس کے اطراف میں ہم نے پھلوں اور نہروں کے ذریعہ برکت رکھی ہے تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سے واقف…
Read the full tafseer →وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا۔ اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب (یعنی توریت) عطا کی اور اس کو (یعنی موسیٰ : ( علیہ السلام) کو یا توریت کو) بنی اسرائیل کے لئے راہنما بنایا کہ میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ قرار دینا۔ وکیل نہ بنانا ‘ یعنی میرے سوا کسی دوسرے کو رب نہ قرار دینا جس پر تم بھروسہ کرلو اور تمام امور کو اس کے سپرد کر دو (مراد یہ کہ کسی کو میرے سوا اپنا کارساز مالک و مختار نہ ماننا)
Read the full tafseer →(2) اور ہم نے موسیٰ ؑ کو ایک دم توریت دی تھی اور ہم نے اسکو بنی اسرائیل کے لیے گمراہی سے ذریعہ ہدایت بنایا جس میں یہ بھی حکم تھا کہ میرے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو۔
Read the full tafseer →وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ : یعنی جس طرح نبی کریم ﷺ کو اسراء کا شرف عطا فرمایا، اسی طرح ہم نے موسیٰ ؑ کو ”الْكِتٰبَ“ (تورات) سے نوازا۔ قرآن مجید میں عموماً نبی کریم ﷺ کے ذکر کے ساتھ موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کا ذکر ہوتا ہے، تاکہ رسول اللہ ﷺ کو دعوت میں پیش آنے والی مشکلات کی مثال پیش نظر رہے اور آپ کی امت کو رسول کی اطاعت اور اس کی نافرمانی کے نتائج پیش نظر رہیں۔
وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ : اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا، یعنی تورات کو یا موسیٰ ؑ کو۔ یہ آیت سورة سجدہ کی آیت (23) کے مشابہ ہے۔
اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا : ”اَلَّا تَتَّخِذُوْا“ اصل میں ”أَنْ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 2
یعنی ہم نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو معراج کے ساتھ شرف و تکریم عطا فرمائی، اور ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب کے ساتھ عزت و تکریم عطا کی اور وہ تورات ہے۔ وجعلنہ اور ہم نے اس کتاب کو بنایا۔ یہ بھی کہا گیا ہے : ھا ضمیر سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں (یعنی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بنایا) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام کا معنی یہ ہے پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے قلیل حصہ میں اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی) پس اس طرح کلام غیب سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے خبر دینے (اخبار) کی طرف نکل گئی ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : بیشک سبحٰن الذی اسرٰی بعبدہٖ کا…
Read the full tafseer →معراج کے موقعہ پر شق صدر :
11:۔ بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ اور ابن مردویہ نے یونس کے طریق سے ابن شہاب سے اور انہوں نے انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوذر ؓ بیان فرمایا کرتے تھے کہ رسول ﷺ نے فرمایا میرے گھر کی چھت کھولی گئی اور میں مکہ میں تھا۔ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے میرے سینے کو شق کیا پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا۔ پھر سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اس کو میرے سینے میں انڈیل دیا گیا۔ پھر اس کو بند کردیا گیا۔ پھر میرے ہاتھ کو پکڑ کر آسمان کی طرف چڑھے۔ جب ہم آسمان دنیا پر آئے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے آسمان کے چوکیدار سے فرمایا۔ دروازہ کھول دو ۔ اس نے…
Read the full tafseer →[وَاٰتَيْنَا : اور ہم نے دی ] [مُوْسَي : موسٰی (علیہ السلام) کو ] [الْكِتٰبَ : کتاب ] [وَجَعَلْنٰهُ : اور ہم نے بنایا اس کو ] [هُدًى: ہدایت ] [لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کے لئے ] [اَلَّا تَتَّخِذُوْا : کہ تم لوگ مت بنائو ] [مِنْ دُوْنِيْ : میرے علاوہ ] [وَكِيْلًا : کوئی کارساز ]
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کا زمین میں دو بار فساد کرنا اور ان کو دشمنوں کا تباہ کرنا
ان آیات میں بنی اسرائیل کے اقتدار اور تسلط کا اور ان کی سرکوبی کے لیے ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط فرمانے کا ذکر ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ واقعات گزر چکے تھے قرآن مجید کا ان تفصیلات کو بتانا یہ بھی ایک عظیم معجزہ ہے، جو لوگ یہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ اپنے پاس سے قرآن بنالیتے ہیں اور یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے وحی آئی ہے ان تمام واقعات میں ان لوگوں کی تردید ہے، یہ سابقہ خبریں آپ کو کسی انسان نے نہیں بتائیں اور آپ امی بھی تھے لہٰذا پرانی کتابوں سے اخذ کرنے کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا، اس سے روز روشن کی طرح ظاہر ہوجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ذکر کرامت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بعطائے تورات و شرف تکلیم و مناجات
قال اللہ تعالیٰ : واتینا موسیٰ الکتاب .... الیٰ .... انہ کان عبدا شکورا۔
(ربط) اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کی کرامت اسراء اور شرف معراج کا ذکر تھا اب اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک شرف اور عزت اور کرامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر بلا کر ان سے کلام کیا اور نبی اسرائیل کی ہدایت کے لیے ان کی توریت دی جس میں یہ تاکیدی حکم تھا کہ اے فرزندان قوم نوح جن کو ہم نے کشتی میں سوار کیا تھا کہ تم خدا کے سوا کسی کو اپنا کارساز اور ھاجت روا نہ بنانا مگر بنی اسرائیل نو سالہ پرستی اور شرک میں پڑ کر ہلاک ہوئے۔ غرض یہ کہ…
Read the full tafseer →6:۔ توحید پر پہلی نقلی دلیل۔ اس میں دعوی توحید پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات سے نقلی دلیل پیش کی گئی ہے۔ فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے دستور ہدایت مقرر کیا اس میں ہم نے ان کو حکم دیا کہ اللہ کے سوا کسی اور کو کارساز مت بناؤ اور اللہ کے سوا کسی کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو۔ ” وکیلا “ کارساز، تمام کاموں میں جس پر بھروسہ کیا جائے اور اپنے معاملات جس کے سپرد کیے جائیں ای و یاتکلون امورکم الیہ (کبیر ج 5 ص 547) ای و یاتکلون الیہ امورکم (مدارک ج 2 ص 237) ربا یتوکلون علیہ فی امورھم (قرطبی ج 10 ص 213) ۔ وقال الشیخ روح اللہ روحہ ای لاتبدوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا تھا اس سورة مبارکہ کی پہلی اور ساٹھویں آیات معراج نبوی سے متعلق ہیں اور اس واقعہ کا بعض حصہ سورة النجم میں بھی بیان کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ واقعہ معراج کی باقی تفصیلات صحیح احادیث میں مذکور ہیں جن میں سے بعض کا ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہ فضیلت بخشی کہ آپ کو معراج کی بلندیوں تک لے گیا اور مقصد معراج کے متعلق فرمایا تاکہ ہم اپنے پیغمبر کو اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دکھائیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس رات ایسی بہت سی نشانیاں دکھائیں جن میں آپ کی امت کے لیے تربیت کا پروگرام موجود ہے ، آپ کو جنت اور دوزخ کی سیر کرائی گئی اور امت کی…
Read the full tafseer →وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ وَكِيْلًا ۭ
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ،
( ک ت ب ) الکتب ۔
الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد)…
Read the full tafseer →ترکیب : الا تتخذوا اصل میں ان لا تھا۔ ان مفسرہ ہے اس چیز کا کہ جس کو کتاب شامل تھی امرونہی سے۔ وکیلا مفعول ہے لا تتخذوا کا اور مفعول ثانی یاذریۃ ہے والتقدیر لاتتخذوا ذریۃ من حملنا وکیلا ای ربا مفوضًا الیہ۔ اس صورت میں من دونی حال ہوگا وکیلا سے یا من دونی خود مفعول ثانی ہے۔ اس صورت میں ذریۃ کا نصب منادیٰ مضاف ہونے کی وجہ سے ہے یا باضماراعنی مرتین مصدر ہے غیر لفظ سے وعدا ولٰہما ای موعود اولی المرتیں خلال ظرف ہے جاسوا کا۔
تفسیر : آنحضرت ﷺ کی بزرگی ذکر فرما کر (یعنی معراج کا ذکر کر کے) بتلاتا ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے ساتھ ہم یوں ہی انعام و اکرام کرتے آئے ہیں اس سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَاٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنٰـہُ ھُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَلاَّ تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلاً ۔ ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ط اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 2۔ 3)
(ہم نے اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا، اس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنھیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) ایک شکرگزار بندہ تھے۔ (
آیت کا ربط
گزشتہ آیت کریمہ میں واقعہ اسراء کو ایک آیت میں بیان کرنے اور اس کے اہداف کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : معراج کا واقعہ درحقیقت یہو دونصارٰی کے لیے یہ پیغام تھا کہ تمہارا دور گزر چکا۔ اب امت مسلمہ کا دور شروع ہونے والا ہے۔ اس لیے واقعہ معراج کی طرف مختصر اشارہ کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو بتلایا اور سمجھایا گیا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو ایسی کتاب دی تھی جو تمہارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ تھی۔
توراۃ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو کا رساز اور اپنے معاملات کا ذمہ دار نہ بنانا۔ اس کے ساتھ ہی بنی اسرائیل کو بتلایا ہے کہ تم نوح (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی اولاد ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے رب کے شکر گزار بندے تھے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیم کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ…
Read the full tafseer →موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کا تذکرہ :
2: وَ ٰاتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنٰہُ (اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی اور اس کو بنایا) ہٗ کی ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے اور کتاب سے مراد تورات ہے۔ ھُدًی لِّبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (بنی اسرائیل کیلئے موجب ہدایت) اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلًا (اور ان سے کہہ دیا کہ تم میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا) ای لا تتخذوا۔
قراءت : ابو عمرو نے یاء ؔ سے پڑھا ہے۔ ای لئلا یتخذوا تاکہ وہ نہ بنائیں میرے سوا کارساز۔ وکیل کا معنی ایسا رب کہ جس کے حوالے اپنے امور کو کرو۔
Read the full tafseer →تفسیر 2۔” واتینا موسیٰ الکتاب وجعلناہ ھدی لنبی اسرائیل ان الا “ یہ بان لا تھا۔ ” تتخذوا من دونی وکیلا “ کسی دوسرے کو رب قرار نہ دو جس پر تم بھروسہ کرلو۔ بعض حضرات نے ’ یتخذوا “ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہم نے ان سے کہا کہ کسی دوسرے کو ولی نہ بنائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ 3:۔ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کے معراج کا ذکر فرما کر اپنے خاص بندے حضرت موسیٰ کلیم اللہ کا ذکر کیا اور اکثر جگہ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ اور اپنے کلام قرآن مجید کے ذکر کے ساتھ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور اپنی کتاب پاک توریت کا ذکر کیا ہے اس لیے یہاں فرمایا پاک ذات ہے وہ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتاب توریت نازل کی تھی اسے بنی اسرائیل کے لیے راہبر ٹھہرایا تھا کہ وہ لوگ اس کے احکام کی پیروی کرکے ہدایت پائیں اور گمراہی سے نکل کر راہ حق کے پورے پورے تابع ہوجاویں اور سوائے خداوند جل شانہ کے کسی اور کو اپنے کسی معاملہ میں وکیل نہ بنائیں مدد بھی چاہیں تو اسی وحدہ لاشکریک سے اور عبادت کریں تو اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
آیت نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوی محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ اس لئے یہاں فرمایا : (و اتینا موسیٰ الکتب) ، ، اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، ، یعنی تورات (وجعلنہ ھدیً لبنیٰ اسرائیل) ، ، اور کیا اس کو ہدایت واسطے نبی اسرائیل کے ، ، یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لئے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا (الا تتخذو من دونی وکیلا) ، ، تم میرے سوا کسی کو کار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سفر معراج کا آغاز
قول باری ہے (سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد لاقصی الذی بارکنا حولہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے) حضرت ام ہانی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ ان کے گھر سے اس رات معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (من المسجد الحرام) اس لئے کہ حرم سارے کا سارا مسجد ہے۔ اس بارے میں گزشتہ اوراق میں گفتگو ہوچکی ہے حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ حضور ﷺ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور وہیں سے آپ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →5۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اکرام وعزاز کا ذکر :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم ہی نے موسیٰ کو دی تھی وہ کتاب “ یعنی تورات جو کہ اپنے دور میں ہدایت ونور کا منبع و ماخذ تھی۔ مگر بعد میں اس کے حاملین ووارثین نے اس کو بدل کر کچھ کا کچھ کردیا۔ یہاں تک کہ اب اس کے اصل نسخے کا وجود بھی کہیں باقی نہیں رہا۔ جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ یہ سب یقینی طور پر اللہ کلام ہے۔ بہرکیف اصل تورات آسمانی اور الہامی کتاب ہی تھی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطاء فرمائی گئی تھی۔ اور اس کو سرچشمہ ہدایت بنایا گیا تھا بنی اسرائیل کیلئے۔ سو پہلی آیت کریمہ میں اکرام محمدی کا ذکر تھا جس سے معجزہ اسراء و معراج کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
عبرت کے لیے بنی اسرائیل کا ذکر
تشریح : یہاں معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اچانک بنی اسرائیل کا ذکر یوں آگیا کہ اہل مکہ کو خبردار کردیا جائے کہ یہ پیغمبر جو تم سے مخاطب ہے کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ انسانیت کی بلندیوں سے ہو کر آرہا ہے یہ عظیم الشان اور بہترین انسان حقیقت میں ایک سچا اور مقبول الٰہی نبی ہے اگر اس پر یقین نہ کرو گے ایمان نہ لائو گے تو پھر بنی اسرائیل کا حال تمہارے سامنے ہے کہ جو قومیں کتاب الٰہی پانے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتیں، نبیوں کو قتل کرتی ہیں، نافرمان اور سرکش ہوتی ہیں، تو ان کو ضرور دردناک سزا دی جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة بنی اسرائیل :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر…
Read the full tafseer →ف 5 آسان کے عجائبات جیسے جنت دوزخ بیت المعمور وغیرہ جن کا حادیث میں ذکر آیا ہے۔
6 یعنی جس طرح آنحضرت کو معراج کا شرف بخشا اسی طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو الکتاب (توراۃ) سے نوازا۔
Read the full tafseer →17:2 جعلنہ۔ جعلنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے اس کو کیا۔ ہُ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الکتاب ہے یعنی تورات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔
الا تتخذوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی حذف ہوگیا ہے تم مت پکڑو۔ تم مت اختیار کرو۔ تم مت بتائو۔ الا۔ ان لا ہے ان کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ کہ آیا یہ تفسیر یہ ہے، ناہیہ ہے، مصدریہ ہے۔ یا ان اور اس کا مابعد الکتاب کا بدل ہے۔ یہاں اتنا ہی کافی ہے کہ الا تتخذوا۔ ای قلنا لہم لا تتخذوا۔ تقدیر کلام ہے۔
من دونی۔ میرے سوا۔ مجھے چھوڑ کر۔ دون ۔ ورے۔ سوائے۔ غیر۔ ی ضمیر اضافت واحد متکلم۔
وکیلا۔ صفت مشبہ ۔ نکرہ۔ منصوب وکل سے بمعنی کارساز ۔ ذمہ دار۔ مددگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
لغات القرآن آیت نمبر 2 تا 3
جعلنا ہم نے بنایا۔ الاتتخذوا یہ کہ تم نہ بناؤ گے۔ دونی میرے سوا۔ وکیل کام بنانے اولا۔ (حاجت روا) ذریۃ اولاد۔ بچے حملنا ہم نے سوار کیا۔ ہم نے اٹھایا۔ شکور بہت شکر ادا کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 2 تا 3
سورۃ الاسراء کی پہلی آیت میں ” اسری “ یعنی معراج النبی ﷺ کو بیان کر کے دوسری اور تیسری آیت میں حضرت موسیٰ اور ان پر اتاری گئی اس کتاب الٰہی (توریت) کا ذکر کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل کی ہدایت و ہنمائی کے لئے نازل کی گئی تھی۔ فرمایا کہ جس کتاب کا پہلا سبق یہی تھا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے جو قبال اعتماد اور لائق بھروسہ ہو۔ وہی سب کا پالنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آنحضرت ﷺ کی معراج کے بعد اور انبیاء پر اپنا فضل بیان فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتاب توریت نازل کی تھی، اسے بنی اسرائیل کے لئے راہبر ٹھرایا تھا کہ وہ لوگ اس کے احکام کی پیروی کر کے ہدایت پائیں اور گمراہی ساے نکل کر راہ حق کے پورے پورے تابع ہوجائیں اور جتنے رسول بھیجے سب کو یہی تعلیم تھی۔ پھر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کس کی اولاد ہو، تم سب حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) طوفان کے وقت کشتی میں سوار ہوئے تھے اور چالیس جوڑے آدمیوں کے ہمراہ جودی پہاڑ کے نیچے اترے تو تھوڑے عرصہ میں سب کے سب فوت ہوگئے۔ صرف آپ کے صاحبزادے دنیا میں سلامت رہے، جن کی نسل سے یہ…
Read the full tafseer →[5] یعنی تورات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
روح اور جسم کی انتہائی پرواز :
(ف 1) عین اس وقت جب مکہ میں حضور ﷺ کے نام لیواؤں کو ناقابل برداشت تکلیفیں دی جارہی تھیں ، حضور ﷺ کے وطن مالوف سے نکال باہر کرنے کی سازشیں کی جارہی تھیں ، عین اس وقت جب زمین والوں نے گلشن رسالت کو برباد کردینے کا تہیہ کرلیا تھا ، جب یہ طے پا چکا تھا ، کہ اس شمع ہدایت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گل کردیا جائے ، آسمان پر آپ کے عروج وارتقاء کے سامان ہو رہے تھے ، قضاء قدر کے دفاتر میں معراج وتقدم کے ہنگامہ خیز چرچے تھے ۔
اللہ کی مشیت نے آپ کو اٹھایا اور مسجد اقصے تک لے اڑی پرواز اور اڑان کا یہ منظر اس لئے تھا ، تاکہ آپ کو فتوحات اسلامی کی وسعت کا اندازہ ہو کفار ، ومعاندین…
Read the full tafseer →-2 اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی نبوت کا اثبات ہے ۔ آگے اس کی مزید تائید فرمائی اور ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب یعنی توریت عطا فرمائی تھی اور ہم نے اس توریت کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنایا اور بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ تم میرے سوا کسی کو اپنا وکیل اور کار ساز نہ بنایا۔ یعنی ہم نے موسیٰ کو اسی طرح توریت عطا کی جس طرح نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کو قرآن مجید عطا کیا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے رسول تھے اسی طرح یہ پیغمبر بھی ہمارے رسول ہیں اور شرک کا رد ہر پیغمبر نے کیا ہے۔
چنانچہ ہم نے بنی اسرائیل کو بھی یہ حکم دیا تھا کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا کار ساز مقرر نہ کرنا اور میرے علاوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 5۔ یعنی ملک شام کو۔
6۔ دینی برکت یہ کہ وہاں کثرت انبیاء مدفوں ہیں۔ دنیوی برکت یہ کہ وہاں اشجار و انہار و پیداوار کی کثرت ہے۔
7۔ مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے جانے کو اسراء کہتے ہیں اور آگے آسمانوں پر جانے کو معراج کہتے ہیں۔ اور گاہے دونوں لفظ مجموعہ پر اطلاق کئے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
واقعہ اسری کی قرآنی تشریح جو خود قرآن کریم ہی میں بیان ہوئی :
مزید یہ کہ اس کی تشریح خود قرآن کریم نے اس سورت کی آیت 60 میں کردی جہاں ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” وما جعلنا الرؤویا التی اریناک الا فتنۃ للناس “۔ میں (رؤیا) سے مقصود یہی واقعہ ہے ، چناچہ عبداللہ بن عباس ؓ سعید بن جبیر ‘ حسن ‘ مسروق ‘ قتادہ ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ اور ابن جریج وغیرہم سے ایسا ہی مروی ہے اور حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس پر محققین تفسیر کا اجماع ہوچکا ہے پس جن مفسرین نے یہاں (رؤیا) سے مراد کوئی دوسری رؤیا لی ہے مثلا فتح مکہ کی رؤیا وہ قابل حجت وقابل اعتناء نہیں کیونکہ سورت بالاتفاق مکی ہے اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Commentary
Described in this verse is the event of Mi` raj (the Ascent to the heavens, or al-'Isra', the midnight journey of the Holy Prophet ﷺ which is a signal honor and distinctive miracle of our Messenger of Allah ﷺ). The word: أَسْرَىٰ (asra) is a derivation from: اِسْرَىٰ (isra' ) which literally means to make someone travel at night. After that, the introduction of the word: لَيْلًا (lailan) also makes this sense very clear. Then, by placing this word as a common noun, the indication released was that during this event the time spent was that of a part of the night - not even that of…
Read the full tafseer →2. As this verse has no apparent connection with the event of Miraj, it may appear to a cursory reader that either of the two verses has been misplaced here. But if we try to understand the matter in the context of the theme of the whole Surah, we can easily understand the connection between the two. The main object of this Surah is to give a warning to the disbelievers of Makkah. That is why the mention of Miraj has been made in the very first verse, as if to say: The person whom you dub as an impostor and reject the Book sent down to him, has just now seen with his naked eyes great signs of…
Read the full tafseer →