Explained with ayahs 2–3
طوفان نوح کے بعد
آنحضرت ﷺ کے معراج کے واقعہ کے بیان کے بعد اپنے پیغمبر کلیم اللہ حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر بیان فرماتا ہے قرآن کریم میں عموما یہ دونوں بیان ایک ساتھ آئے ہیں اسی طرح تورات اور قرآن کا بیان بھی ملا جلا ہوتا ہے حضرت موسیٰ کی کتاب کا نام تورات ہے۔ وہ کتاب بنی اسرائیل کیلئے ہادی تھی انہیں حکم ہوا تھا کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور مددگار اور معبود نہ سمجھیں ہر ایک نبی اللہ کی توحید لے کر آتا رہا ہے۔ پھر انہیں کہا جاتا ہے کہ اے ان بزرگوں کی اولادو جنہیں ہم نے اپنے اس احسان سے نوازا تھا کہ طوفان نوح کی عالمگیر ہلاکت سے انہیں بچا لیا اور اپنے پیارے نبی حضرت نوح ؑ کے ساتھ کشتی پر چڑھا لیا…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 4
یعنی نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کی اولاد ہونے حیثیت سے تمہارے شایاں شان یہی ہے کہ تم صرف ایک اللہ ہی کو اپنا وکیل بناؤ، کیونکہ جن کی تم اولاد ہو وہ اللہ ہی کو وکیل بنانے کی بدولت طوفان کی تباہی سے بچے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب (یعنی توریت) دی اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لئے (آلہ) ہدایت بنایا (جس میں اور احکام کے ساتھ یہ توحید کا عظیم الشان حکم بھی تھا) کہ تم میرے سوا (اپنا) کوئی کارساز مت قرار دو اے ان لوگوں کی نسل جن کو ہم نے نوح ؑ کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا (ہم تم سے خطاب کر رہے ہیں تاکہ اس نعمت کو یاد کرو کہ اگر ہم ان کو کشتی پر سوار کر کے نہ بچاتے تو آج تم ان کی نسل کہاں ہوتے اور نعمت کو یاد کر کے اس کا شکر کرو جس کی بڑی فرد توحید ہے اور) وہ نوح ؑ بڑے شکر گذار بندہ تھے (پس جب انبیاء (علیہم السلام) شکر کرتے رہے تو تم کیسے اس کے تارک ہو سکتے ہو۔)
Read the full tafseer →ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا۔
حرف ندا یہاں محذوف ہے۔ یعنی توحید کی اس تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو یہ یاد دہانی بھی کردی گئی تھی کہ اس بات کو ہمیشہ مستحضر رکھنا کہ تم ان باقیات الصالحات کی نسل سے ہو جن کو اللہ نے نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں بچایا۔ نوح اللہ کے ایک شکر گزار بندے تھے تو تم بھی انہی کی طرح خدا کے شکر گزار اور اس کی توحید پر قائم رہنا ورنہ یاد رکھو کہ جس طرح اللہ نے قوم نوح کے وجود سے، اس کے شرک کی پاداش میں اپنی زمین کو پاک کردیا اسی طرح تمہارے وجود سے بھی اپنی زمین کو پاک کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 طوفان نوح ؑ کے بعد نسل انسانی نوح ؑ کے ان بیٹوں کی نسل سے ہے جو کشتیئ نوح ؑ میں سوار ہوئے تھے اور طوفان سے بچ گئے تھے۔ اس لئے بنو اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا کہ تمہارا باپ، نوح ؑ ، اللہ کا بہت شکر گزار بندہ تھا۔ تم بھی اپنے باپ کی طرح شکر گزاری کا راستہ اختیار کرو اور ہم نے جو محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، ان کا انکار کر کے کفران نعمت مت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2: حضرت نوع ؑ کی کشتی کا حوالہ خاص طور پر اس لیے دیا گیا ہے کہ جو لوگ اس کشتی میں سوار ہوئے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ نے طوفان میں ڈوبنے سے بچالیا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا، اسے یاد دلا کر فرمایا جا رہا ہے کہ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ ان لوگوں کی اولاد اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تشریح : بنی اسرائیل کی سیرت اور تاریخ کا یہ حصہ قرآن کریم کی صرف اسی سورت میں بیان ہوا ہے اس میں بنی اسرائیل کے اس انجام کا ذکر ہے جس پر وہ پہنچے اور جس کے نتیجے میں ان کی عزت و شوکت ، زوال و نکبت سے بدل گئی۔ اس تاریخی تبصرہ کے ذریعے انسانوں کو یہ سمجھایا گیا کہ اقوام کے عروج وزوال میں اصلاح و فساد کا کتنا گہرا دخل ہوا کرتا ہے۔ بعد کی آیات میں ، اسی سورت میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ سنت الہیہ ہے اللہ جس قوم کو ہلاک کرنا چاہتے ہے وہ اس قوم کے مترفین کے اندر فساد پیدا کرتا ہے ، وہ بگاڑ میں ڈوب جاتے ہیں اور ہلاک کردئیے جاتے اور اس طرح نیست و نابود ہوجاتے ہیں۔
یہاں ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت…
Read the full tafseer →7 یعنی تم ان کی اولاد ہو جو نوح کے ساتھ کشتی پر سوار ہو کر عذاب الٰہی سے بچے تھے۔ جو احسان تمہارے بڑوں پر کیا گیا اسے فراموش مت کرو۔ دیکھو نوح (علیہ السلام) جن کی اولاد میں تم ہو کیسے احسان شناس اور شکر گذار بندے تھے۔ تم کو بھی ان ہی کی راہ پر چلنا چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 3 ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا
حضرت نوح کے تین بیٹے سام حام اور یافث تھے جن سے بعد میں نسل انسانی چلی۔ ان میں سے حضرت سام کی نسل میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جن کی اولاد کو یہاں بنی اسرائیل کے طور پر مخاطب کیا جارہا ہے۔ انہیں یاد دلایاجا رہا ہے کہ حضرت نوح کے ساتھ جن لوگوں کو ہم نے بچایا تھا انہی میں سے ایک کی اولاد تم ہو اور نوح ہمارا بہت ہی شکر گزار بندہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 کیا نوح آدم ثانی ہیں ؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ انسانی نسل صرف سیدنا نوح کے تین بیٹوں حام، سام اور یافث ہی کی اولاد نہیں ہیں جیسا کہ مؤرخین کا بیان ہے بلکہ ان تمام لوگوں کی اولاد ہے جو سیدنا نوح کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔
Read the full tafseer →5۔ (اور اسی طرح ہلاکت عام سے بچا لیا تھا) سوائے اسرائیلیو ! سن لو کہ یہ خطاب تمہیں سے ہے، ہم ہی نے اس ہلاکت عام کے وقت تمہارے مورثوں کو بچالیا تھا اور تم انہیں بچے ہوؤں کی نسل میں ہو، تم انہیں بچے ہوؤں کی نسل میں ہو، تم پر تم شکر گذاری اور زیادہ واجب ہے۔ (آیت) ” مع نوح “۔ نوح (علیہ السلام) ان کی کشتی اور طوفان سب پر حاشیہ پہلے گذر چکے۔ (آیت) ” ذریۃ “۔ صیغہ ندا کا ہے ” اے ذریت “ کے معنی میں قال مجاھد ھذا نداء یعنی یا ذریۃ من حملنا (معالم)
6۔ (اور شکر گذاری ہی کی ایک بڑی فرد عقیدۂ توحید ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیات نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے محمد ﷺ کو لیلاً ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اسراء رات کے سفر کو کہتے ہیں، اور لَیْل کو ذکر کرنے کا فائدہ لیل کی تنکیر سے مدت سیر کی قلت کی طرف اشارہ ہے مسجد حرام یعنی مکہ سے مسجد اقصیٰ (یعنی) بیت المقدس تک (بیت المقدس کا نام مسجد اقصی) اس کے مسجد حرام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے جس کے اطراف میں ہم نے پھلوں اور نہروں کے ذریعہ برکت رکھی ہے تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سے واقف…
Read the full tafseer →ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ : اے وہ لوگو جو اولاد ہو ان لوگوں کی جن کو نوح کے ساتھ (کشتی میں) ہم نے
سوار کیا تھا۔
اس فقرہ میں وہ احسان و انعام یاد دلایا ہے جو اللہ نے بنی اسرائیل کے اسلاف و اجداد پر کیا تھا کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کی معیت میں کشتی میں ان کو سوار کرا کے ڈوبنے سے محفوظ رکھا تھا۔
اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا : نوح ( علیہ السلام) بلاشبہ بڑا شکرگزار بندہ تھا۔ ابن مردویہ نے ابو فاطمہ کی روایت سے بیان
کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نوح جو بھی چھوٹا بڑا کام کرتے تھے بسم اللہ والحمدللہ کہہ لیا کرتے تھے۔ اسی لئے اللہ نے ان کو عبدشکور فرمایا جب آپ کچھ کھاتے یا پیتے یا…
Read the full tafseer →(3) اے ان لوگوں کی نسل جن کو ہم نے حضرت نوح ؑ کے ساتھ ان مردوں اور عورتوں کی پشتوں میں کشتی میں سوار کیا تھا وہ بڑے شکر گزار بندے تھے چناچہ کھانے پینے اور لباس اور پہننے کے وقت بھی الحمد للہ کہتے تھے۔
Read the full tafseer →ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ۔۔ :”ذُرِّيَّــةَ“ سے پہلے ”یَا“ حرف ندا محذوف ہے، ”اے ان لوگوں کی اولاد۔۔ !“ یعنی تم ان صالح لوگوں کی اولاد ہو جنھیں ہم نے نوح ؑ کے ساتھ کشتی میں سوار کرکے نجات بخشی۔ مقصد بنی اسرائیل کو ایمان اور عمل صالح پر ابھارنا ہے کہ دیکھو تم کن لوگوں کی اولاد ہو، تمہارے لیے اپنے صالح آبا و اجداد کے نقش قدم پر چل کر ایک اللہ کی عبادت کا پابند رہنا، اپنے باپ نوح ؑ کی طرح ہر وقت اسی کا شکر گزار رہنا اور اس کے سوا کسی کو اپنا وکیل، کارساز اور بھروسے کے قابل نہ سمجھنا لازم ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 3
یعنی یاذریۃ من حملنا، اے ان لوگوں کی اولاد جنہیں ہم نے (کشتی میں) سوار کرایا ! یہ ندا کی بنا پر ہے : یہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے اور ان سے اسے ابن ابی نجیح نے روایت کیا ہے اور ذریۃ سے مراد ہر وہ ہے جس پر قرآن سے حجت پیش کی گئی، اور وہ زمین پر بسنے والے تمام لوگ ہیں : اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ اور ماوردی نے کہا ہے : مراد ہر وہ جس پر قرآن سے حضت پیش کی گئی، اور وہی زمین پر بسنے والے تمام لوگ ہیں : اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ اور ماوردی نے کہا ہے : مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل میں سے آپ کی قوم ہے، اور اس کا معنی ہے اے ان لوگوں کی اولا جنہیں ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →28:۔ ابن مردویہ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مجھے آسمان کی طرف رات کو لے جایا گیا تو میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔
29:۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرے اور وہ اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔
30:۔ ابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مجھے رات کو لے جایا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔
31:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ کو رات کو لے جایا گیا تو انبیاء…
Read the full tafseer →[ذُرِّيَّــةَ مَنْ : اے ان کی اولادجن کو ] [حَمَلْنَا : ہم نے سوار کیا ] [مَعَ نُوْحٍ : نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : تھے ] [عَبْدًا شَكُوْرًا : بہت شکرگزار بندے ]
(آیت۔ 3) ذُرِّیَّۃَ مضاف ہے اور مَنْ اس کا مضاف الیہ ہے۔ ذُرِّیَّۃَ کے حالت نصب میں ہونے کی متعدد وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ اس کو منادٰی کا مضاف مانا جائے یعنی اس سے پہلے حرفِ ندا ” یا “ محذوف ہے اور اس کا تعلق لَا تَتَّخِذُوْا سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ان واقعات کی تفصیل بتانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا ایک انعام یاد دلایا کہ تم لوگ نوح (علیہ السلام) کی ذریت ہو اور ان کی نسل سے ہو جب قوم کی سرکشی کی وجہ سے قوم پر عذاب آیا تھا تو ان کو اور ان کے خاندان کو (بیوی اور ایک بیٹے کے علاوہ) اور دیگر اہل ایمان کو (جو تھوڑے سے تھے) ان کے ساتھ کشتی میں سوار کردیا تھا اس کشتی میں جو لوگ سوار تھے آگے انہیں لوگوں کی نسل چلی اور دنیا میں پھلی اور پھیلی، بنی اسرائیل کو یاد دلایا کہ دیکھو توحید والوں کو کشتی میں سوار کرکے غرق ہونے سے نجات دی تھی تم انہی کی نسل سے ہو اس وقت سے لے کر آج تک نسل در نسل تم زمین پر آ رہے ہو یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر انعام ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ذکر کرامت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بعطائے تورات و شرف تکلیم و مناجات
قال اللہ تعالیٰ : واتینا موسیٰ الکتاب .... الیٰ .... انہ کان عبدا شکورا۔
(ربط) اوپر کی آیت میں آنحضرت ﷺ کی کرامت اسراء اور شرف معراج کا ذکر تھا اب اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک شرف اور عزت اور کرامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر بلا کر ان سے کلام کیا اور نبی اسرائیل کی ہدایت کے لیے ان کی توریت دی جس میں یہ تاکیدی حکم تھا کہ اے فرزندان قوم نوح جن کو ہم نے کشتی میں سوار کیا تھا کہ تم خدا کے سوا کسی کو اپنا کارساز اور ھاجت روا نہ بنانا مگر بنی اسرائیل نو سالہ پرستی اور شرک میں پڑ کر ہلاک ہوئے۔ غرض یہ کہ…
Read the full tafseer →7:۔ یہ منادی ہے اور اس سے قبل حرف نداء محذوف ہے۔ ای یا ذریۃ الخ اس کا مقصود بالنداء محذوف ای اشکروا یعنی اے اولاد نوح شکر گزار بنو اور اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بڑے ہی شکر گذار بندے تھے وہ شرک نہیں کرتے تھے جنہوں نے ساڑھے نو سو سال لوگوں کو اللہ کی توحید سنائی اور توحید کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو طوفان سے اس لیے بچایا کہ وہ اللہ کے شکر گذار اور توحید کو ماننے والے تھے جب کہ ناشکر گذاروں اور مشرکوں کو غرق کردیا گیا۔ پس تم بھی اے مشرکین عرب مانند نوح شکور اور موحد بنو اللہ کے عذاب سے بچ جاؤ گے اور اگر ناشکری کرو گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا تھا اس سورة مبارکہ کی پہلی اور ساٹھویں آیات معراج نبوی سے متعلق ہیں اور اس واقعہ کا بعض حصہ سورة النجم میں بھی بیان کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ واقعہ معراج کی باقی تفصیلات صحیح احادیث میں مذکور ہیں جن میں سے بعض کا ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہ فضیلت بخشی کہ آپ کو معراج کی بلندیوں تک لے گیا اور مقصد معراج کے متعلق فرمایا تاکہ ہم اپنے پیغمبر کو اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دکھائیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس رات ایسی بہت سی نشانیاں دکھائیں جن میں آپ کی امت کے لیے تربیت کا پروگرام موجود ہے ، آپ کو جنت اور دوزخ کی سیر کرائی گئی اور امت کی…
Read the full tafseer →ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا
ذر
الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124]
( ذ ر ر) الذریۃ ۔
نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی
حمل
الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل .
وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی:
وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ…
Read the full tafseer →ذریۃ من حملنا مع نوح فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس وقت لوگوں کی شرارت سے ان کو غرق کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھ والوں کو کشتی میں خدا پرستی کی وجہ سے بچا لیا تھا پھر اب جو تم دنیا میں پھیلے ہوئے ہو سب انہیں انعام یافتوں کی نسل ہو تم کو ذرا اپنے بزرگوں کا بھی خیال رہے کہ وہ کیسے تھے اور اب تم کیا کرتے ہو اور اس عذاب کا بھی کہ جو اس وقت دنیا پر نازل ہوا تھا چونکہ کشتی والوں میں نوح (علیہ السلام) سردار تھے اس لیے ان کا وصف بھی ظاہر کردیا انہ کان عبدًا شکورًا کہ وہ بڑا شکرگزار بندہ تھا۔ اب تم اس کی اولاد ہو کر کس طرح سے کفران کرتے ہو۔ شرماؤ شرماؤ۔ من حملنا مع نوح میں اس شرارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وَاٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنٰـہُ ھُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَلاَّ تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلاً ۔ ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ط اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 2۔ 3)
(ہم نے اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا، اس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنھیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) ایک شکرگزار بندہ تھے۔ (
آیت کا ربط
گزشتہ آیت کریمہ میں واقعہ اسراء کو ایک آیت میں بیان کرنے اور اس کے اہداف کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : معراج کا واقعہ درحقیقت یہو دونصارٰی کے لیے یہ پیغام تھا کہ تمہارا دور گزر چکا۔ اب امت مسلمہ کا دور شروع ہونے والا ہے۔ اس لیے واقعہ معراج کی طرف مختصر اشارہ کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو بتلایا اور سمجھایا گیا ہے کہ ہم نے موسیٰ کو ایسی کتاب دی تھی جو تمہارے لیے رہنمائی کا سرچشمہ تھی۔
توراۃ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو کا رساز اور اپنے معاملات کا ذمہ دار نہ بنانا۔ اس کے ساتھ ہی بنی اسرائیل کو بتلایا ہے کہ تم نوح (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی اولاد ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے رب کے شکر گزار بندے تھے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیم کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ…
Read the full tafseer →3: ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَامَعَ نُوْحٍ (اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا) نمبر 1۔ یہ اختصاص کی وجہ سے منصوب ہے نمبر 2۔ نداء کی وجہ سے منصوب ہے یہ ان کے نزدیک ہے جنہوں نے تاء کے ساتھ پڑھا اور اس کو نہی قرار دیا۔ یعنی ہم نے انہیں کہہ دیا میرے سوا کسی کو وکیل نہ بنائو اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔
اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًا (بیشک وہ نوح بڑا شکر گزار بندہ تھا) ہٗ کی ضمیر نوح (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے۔ مشکورًاوہ شکر گزار تھا تنگدستی و خوشحالی ہر دو حالتوں میں۔ الشکرکہتے ہیں نعمت کے مقابلہ میں منعم کی تعریف…
Read the full tafseer →3۔” ذریۃ من حملنا “ مجاہد کا قول ہے کہ یہ ندائیہ جملہ ہے ۔ عبارت اس طرح ہوگی د ’ یاذریۃ من حملنا “۔۔۔ ” مع نوح “ نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں ان کو طوفان سے نجات دے دی ۔ ” انہ کان عبدا ً شکوراً “ حضرت نوح (علیہ السلام) جب کھانا کھاتے اور پانی پیتے یا جدید کپڑا پہنتے تو الحمد اللہ فرماتے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو عبدشکور فرمایا ۔ بہت زیادہ شکر ادا کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ 3:۔ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کے معراج کا ذکر فرما کر اپنے خاص بندے حضرت موسیٰ کلیم اللہ کا ذکر کیا اور اکثر جگہ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ اور اپنے کلام قرآن مجید کے ذکر کے ساتھ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور اپنی کتاب پاک توریت کا ذکر کیا ہے اس لیے یہاں فرمایا پاک ذات ہے وہ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتاب توریت نازل کی تھی اسے بنی اسرائیل کے لیے راہبر ٹھہرایا تھا کہ وہ لوگ اس کے احکام کی پیروی کرکے ہدایت پائیں اور گمراہی سے نکل کر راہ حق کے پورے پورے تابع ہوجاویں اور سوائے خداوند جل شانہ کے کسی اور کو اپنے کسی معاملہ میں وکیل نہ بنائیں مدد بھی چاہیں تو اسی وحدہ لاشکریک سے اور عبادت کریں تو اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
آیت نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوی محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ اس لئے یہاں فرمایا : (و اتینا موسیٰ الکتب) ، ، اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، ، یعنی تورات (وجعلنہ ھدیً لبنیٰ اسرائیل) ، ، اور کیا اس کو ہدایت واسطے نبی اسرائیل کے ، ، یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لئے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا (الا تتخذو من دونی وکیلا) ، ، تم میرے سوا کسی کو کار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سفر معراج کا آغاز
قول باری ہے (سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد لاقصی الذی بارکنا حولہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے) حضرت ام ہانی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ ان کے گھر سے اس رات معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (من المسجد الحرام) اس لئے کہ حرم سارے کا سارا مسجد ہے۔ اس بارے میں گزشتہ اوراق میں گفتگو ہوچکی ہے حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ حضور ﷺ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور وہیں سے آپ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →7۔ شکر گزاری کی موثر اور بلیغ انداز میں تعلیم و تلقین :۔
کہ تم لوگ بھی اپنے جد امجد حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح شکر گزاررہو اپنے رب کے کہ دل وجان سے یہ تسلیم کرو کہ ہر طرح کی نعمتیں بخشنے والا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ دل میں بھی اسی کا احساس و یقین رکھو اور زبان سے بھی اسی کا اقرار و اعتراف کرو کہ سب کچھ اسی کا اور صرف اسی کا دیا ہوا ہے اور اس کے دئے کو اسی کے حکم وارشاد کے مطابق اور اسی کی رضاء خوشنودی کی طلب وتلاش میں صرف وخرچ بھی کرو۔ اس طرح تم اپنے رب کا حق شکر بھی ادا کرسکوگے اور تمام نعمتیں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بھی بن جائیں گی۔ سو شکر خداوندی دارین کی سعادت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
عبرت کے لیے بنی اسرائیل کا ذکر
تشریح : یہاں معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اچانک بنی اسرائیل کا ذکر یوں آگیا کہ اہل مکہ کو خبردار کردیا جائے کہ یہ پیغمبر جو تم سے مخاطب ہے کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ انسانیت کی بلندیوں سے ہو کر آرہا ہے یہ عظیم الشان اور بہترین انسان حقیقت میں ایک سچا اور مقبول الٰہی نبی ہے اگر اس پر یقین نہ کرو گے ایمان نہ لائو گے تو پھر بنی اسرائیل کا حال تمہارے سامنے ہے کہ جو قومیں کتاب الٰہی پانے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتیں، نبیوں کو قتل کرتی ہیں، نافرمان اور سرکش ہوتی ہیں، تو ان کو ضرور دردناک سزا دی جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة بنی اسرائیل :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی میرے سوا کسی اور پر اعتماد اور بھروسا نہ کرو اور نہ میرے سوا کسی سے ہدیات اور مد طلب کرو۔
Read the full tafseer →(17:3 ) ذریۃ۔ اولاد۔ اصل میں تو چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے مگر عرف میں چھوٹی اور بڑی سب اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں یہ جمع ہے مگر واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے ذریۃ بوجہ ندا کے ہے اس سے پہلے حرف ندا یا محذوف ہے۔ ذریۃ مضاف سے اور من حملنا مع نوح مضاف الیہ ہے۔ یا ذریۃ من حملنا مع نوح اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا۔ اس کے بعد انہ کان عبدا شکورا کا جملہ، جملہ معترضہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعریف میں ہے تو گویا الا تتخذوا ۔۔ الخ کی تقدیر ہے۔ وقلنا لہم لا تتخذوا من دونی وکیلا یا ذریۃ من حملنا مع نوح۔ اور ہم نے ان سے (بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
لغات القرآن آیت نمبر 2 تا 3
جعلنا ہم نے بنایا۔ الاتتخذوا یہ کہ تم نہ بناؤ گے۔ دونی میرے سوا۔ وکیل کام بنانے اولا۔ (حاجت روا) ذریۃ اولاد۔ بچے حملنا ہم نے سوار کیا۔ ہم نے اٹھایا۔ شکور بہت شکر ادا کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 2 تا 3
سورۃ الاسراء کی پہلی آیت میں ” اسری “ یعنی معراج النبی ﷺ کو بیان کر کے دوسری اور تیسری آیت میں حضرت موسیٰ اور ان پر اتاری گئی اس کتاب الٰہی (توریت) کا ذکر کیا گیا ہے جو بنی اسرائیل کی ہدایت و ہنمائی کے لئے نازل کی گئی تھی۔ فرمایا کہ جس کتاب کا پہلا سبق یہی تھا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے جو قبال اعتماد اور لائق بھروسہ ہو۔ وہی سب کا پالنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
آنحضرت ﷺ کی معراج کے بعد اور انبیاء پر اپنا فضل بیان فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتاب توریت نازل کی تھی، اسے بنی اسرائیل کے لئے راہبر ٹھرایا تھا کہ وہ لوگ اس کے احکام کی پیروی کر کے ہدایت پائیں اور گمراہی ساے نکل کر راہ حق کے پورے پورے تابع ہوجائیں اور جتنے رسول بھیجے سب کو یہی تعلیم تھی۔ پھر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کس کی اولاد ہو، تم سب حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) طوفان کے وقت کشتی میں سوار ہوئے تھے اور چالیس جوڑے آدمیوں کے ہمراہ جودی پہاڑ کے نیچے اترے تو تھوڑے عرصہ میں سب کے سب فوت ہوگئے۔ صرف آپ کے صاحبزادے دنیا میں سلامت رہے، جن کی نسل سے یہ…
Read the full tafseer →[6] لہذا اس کی ذرّیت پر لازم ہے کہ وہ اپنے جدِّ محترم کے طریقے پر قائم رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
روح اور جسم کی انتہائی پرواز :
(ف 1) عین اس وقت جب مکہ میں حضور ﷺ کے نام لیواؤں کو ناقابل برداشت تکلیفیں دی جارہی تھیں ، حضور ﷺ کے وطن مالوف سے نکال باہر کرنے کی سازشیں کی جارہی تھیں ، عین اس وقت جب زمین والوں نے گلشن رسالت کو برباد کردینے کا تہیہ کرلیا تھا ، جب یہ طے پا چکا تھا ، کہ اس شمع ہدایت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گل کردیا جائے ، آسمان پر آپ کے عروج وارتقاء کے سامان ہو رہے تھے ، قضاء قدر کے دفاتر میں معراج وتقدم کے ہنگامہ خیز چرچے تھے ۔
اللہ کی مشیت نے آپ کو اٹھایا اور مسجد اقصے تک لے اڑی پرواز اور اڑان کا یہ منظر اس لئے تھا ، تاکہ آپ کو فتوحات اسلامی کی وسعت کا اندازہ ہو کفار ، ومعاندین…
Read the full tafseer →-3 اے اولاد ان لوگوں کی جن کو ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی پر سوار کیا تھا بلاشبہ وہ نوح (علیہ السلام) بڑا شکر گزار بندہ تھا۔ طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد چونکہ نسل انسانی ان لوگوں سے چلی جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ حام سام، یافث سے نوع انسانی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اس لئے فرمایا کہ تم سب کشتی والوں کی اولاد ہو۔ اگر کشتی و الے نجات نہ پاتے تو تم کو بھی یہاں آنا نصیب نہ ہوتا۔ نوح (علیہ السلام) چونکہ بڑا شکر گزار بندہ تھا لہٰذا تم بھی حضرت حق کے احسان کا شکر بجا لائو اور کفران نعمت کر کے کافر مت بنو۔
بعض مفسرین نے یہ خطاب سام کی اولاد کے ساتھ فرمایا ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 5۔ یعنی ملک شام کو۔
6۔ دینی برکت یہ کہ وہاں کثرت انبیاء مدفوں ہیں۔ دنیوی برکت یہ کہ وہاں اشجار و انہار و پیداوار کی کثرت ہے۔
7۔ مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے جانے کو اسراء کہتے ہیں اور آگے آسمانوں پر جانے کو معراج کہتے ہیں۔ اور گاہے دونوں لفظ مجموعہ پر اطلاق کئے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی حالت زار پر افسوس اور ان کی احسان فراموشی کا ذکر :
5۔ بنی اسرائیل کی حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اسے ان لوگوں کی اولاد یا جن کو ہم نے سفینہ نوح میں پناہ دی تھی اور جن کو ہم نے طوفان کی تباہ خیزیوں سے بچایا تھا تم اس احسان عظیم کو فراموش نہ کرو تم تو ان لوگوں کی اولاد ہو جن پر ہم نے یہ خاص احسان کیا تھا کہ نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار کرا کر ان کو بچالیا تھا ؟ کیونکہ وہ شکر گزار بندے تھے تم ان کی اولاد ہو کر اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرو تو بڑی شرم کی بات ہے ۔ کیا تم نے کبھی غور کیا کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ہم نے کیوں نجات دی ؟ محض اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Commentary
Described in this verse is the event of Mi` raj (the Ascent to the heavens, or al-'Isra', the midnight journey of the Holy Prophet ﷺ which is a signal honor and distinctive miracle of our Messenger of Allah ﷺ). The word: أَسْرَىٰ (asra) is a derivation from: اِسْرَىٰ (isra' ) which literally means to make someone travel at night. After that, the introduction of the word: لَيْلًا (lailan) also makes this sense very clear. Then, by placing this word as a common noun, the indication released was that during this event the time spent was that of a part of the night - not even that of…
Read the full tafseer →4. That is, you are the descendants of Noah (peace be upon him) and his companions; therefore, you should behave in a manner as behooves such people. You should make Allah alone as your Guardian, for your ancestors escaped death from the flood only because they had made Allah their Guardian.
Read the full tafseer →