Al-Israa 17:4

Al-Israa · from ayah 4

17:4

وَقَضَیْنَاۤ اِلٰی بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا ۟وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ فِى الۡكِتٰبِ لَـتُفۡسِدُنَّ فِى الۡاَرۡضِ مَرَّتَيۡنِ وَلَتَعۡلُنَّ عُلُوًّا كَبِيۡرًا

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We conveyed to the Children of Israel in the Scripture that, "You will surely cause corruption on the earth twice, and you will surely reach [a degree of] great haughtiness.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:4

پھر ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اِس بات پر بھی متنبہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے بنی اسرائیل کے لئے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دوبار فساد برپا کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے کتاب میں فیصلہ کر کے بنو اسرائیل کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤ گے، اور بڑی سرکشی کا مظاہرہ کرو گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دوبارہ فساد مچاؤ گے اور ضرور بڑا غرور کرو گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو قطعی طور پر بتا دیا تھا کہ تم زمین میں ضرور دو مرتبہ فساد کرو گے اور (اطاعتِ الٰہی سے) بڑی سرکشی برتو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں فیصلہ سنا دیا تھا کہ بیشک تم زمین میں ضرور دو بار فساد کرو گے اور بیشک تم ضرور سرکشی کرو گے، بہت بڑی سرکشی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس کتاب میں ہم نے بنی اسرائیل کو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ تم زمین پر دوبارہ فساد عظیم بپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلہ سے کتاب میں آگاہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے اور بہت سر اٹھاؤ گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلے سے اپنی کتاب میں آگاہ کردیا تھا، کہ تم لوگ زمین میں بڑا سخت فساد پھیلاؤ گے دو مرتبہ، اور سرکشی کرو گے بہت بڑی سرکشی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ جتلا دیا تھا کہ تم ملک میں دو بار بڑی خرابی پیدا کرو گے اور بڑا زور چلانے لگو گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے متنبہ کردیا تھا بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤ گے اور بہت بڑی سر کشی کرو گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچائو گے اور بڑی سرکشی کرو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then We clearly declared to the Children of Israel in the Book: "Twice you will make mischief in the land and will commit transgression."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We declared to the children of Isra‘il in the Book: :You will surely spread mischief on the earth twice, and you will surely show utmost haughtiness.

— Muhammad Taqi Usmani

And We declared to the children of Isra‘il in the Book: :You will surely spread mischief on the earth twice, and you will surely show utmost haughtiness.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We decreed for the Children of Israel in the Scripture: "Indeed you would do mischief in the land twice and you will become tyrants and extremely arrogant!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We decreed for the Children of Israel in the Scripture: Ye verily will work corruption in the earth twice, and ye will become great tyrants.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We conveyed to the Children of Israel in the Scripture that, "You will surely cause corruption on the earth twice, and you will surely reach [a degree of] great haughtiness.

— Saheeh International

We made it known to the Israelites through the Torah that they would twice commit evil in the land with great transgression and rebellion.

— Muhammad Sarwar

And We had made known to the children of Israel in the Book: Most certainly you will make mischief in the land twice, and most certainly you will behave insolently with great insolence.

— Muhammad Habib Shakir

And We decreed unto the Children of Isra'il in the Book; ye will surely cause corruption in the land twice, l and ye will surely rise to a great height.

— Abdul Majid Daryabadi

And We gave (Clear) Warning to the Children of Israel in the Book, that twice would they do mischief on the earth and be elated with mighty arrogance (and twice would they be punished)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–8

پیشین گوئی۔ جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر قضینا کے معنی مقرر کردینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت (وقضینا الیہ ذالک الامر) میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لئے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بےخوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 5 کتاب سے مراد یہاں تورات نہیں ہے بلکہ صُحُفِ آسمانی کا مجموعہ ہے جس کے لیے قرآن میں اصطلاح کے طور پر لفظ " الکتاب " کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 6 بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں یہ تنبیہات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ پہلے فساد اور اس کے برے نتائج پر بنی اسرائیل کو زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل میں متنبہ کیا گیا ہے، اور دوسرے فساد اور اس کی سخت سزا کی پیش گوئی حضرت مسیح ؑ نے کی ہے جو متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ ذیل میں ہم ان کتابوں کی متعلقہ عبارتیں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے اس بیان کی پوری تصدیق ہوجائے۔ پہلے فساد پر اولین تنبیہ حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

خلاصہ تفسیر اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں (خواہ توریت میں یا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل کے صیحیفوں میں) یہ بات (بطور پیشن گوئی کے) بتلادی تھی کہ تم سر زمین (شام) میں دو مرتبہ (گناہوں کی کثرت سے) خرابی کرو گے (ایک مرتبہ شریعت موسویہ کی مخالفت اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی مخالفت) اور دوسروں پر بھی بڑا زور چلانے لگو گے (یعنی ظلم و زیادتی کرو گے اس طرح لَتُفْسِدُنَّ میں حقوق اللہ کے ضائع کرنے کی طرف اور لَتَعْلُنّ میں حقوق العباد ضائع کرنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی بتلا دیا تھا کہ دونوں مرتبہ سخت سزاؤں میں بتلا کئے جاؤ گے) پھر جب ان دو مرتبہ میں پہلی مرتبہ کی میعاد آئے گی تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا۔ عربیت کا ایک اسلوب : " قضینا " کے بعد " الی " کا صلہ عربیت کے قاعدے سے اس بات کی دلیل ہے کہ ؛ ابلغنا " یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ یعنی ہم نے فیصلہ کر کے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا تھا۔ یہود کے دو بڑے فسادات : " فی الکتاب " میں الکتاب کا لفظ یہاں تمام اسفار یہود پر مشتمل ہے۔ قرآن میں یہ لفظ تورات کے لیے بھی آیا ہے اور دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کے صحیفوں کے لیے بھی۔ آیت میں یہود کے جن دو بڑے فسادات اور ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے ان میں سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 3–4

3۔ 1 طوفان نوح ؑ کے بعد نسل انسانی نوح ؑ کے ان بیٹوں کی نسل سے ہے جو کشتیئ نوح ؑ میں سوار ہوئے تھے اور طوفان سے بچ گئے تھے۔ اس لئے بنو اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا کہ تمہارا باپ، نوح ؑ ، اللہ کا بہت شکر گزار بندہ تھا۔ تم بھی اپنے باپ کی طرح شکر گزاری کا راستہ اختیار کرو اور ہم نے جو محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، ان کا انکار کر کے کفران نعمت مت کرو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–4

2: حضرت نوع ؑ کی کشتی کا حوالہ خاص طور پر اس لیے دیا گیا ہے کہ جو لوگ اس کشتی میں سوار ہوئے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ نے طوفان میں ڈوبنے سے بچالیا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا، اسے یاد دلا کر فرمایا جا رہا ہے کہ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ ان لوگوں کی اولاد اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتب لتفسدون فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا (71 : 4) ” پھر ہم اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے “۔ یہ تنبیہ ان کو دراصل اس بات کی پیشگی اطلاع تھی کہ تمہارے ساتھ یہ یہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ اللہ ان کے ہونے والے انجام سے پیشگی باخبر تھا۔ یہ اطلاع محض پیشگی علم کی وجہ سے تھی۔ اس میں ان کے لئے جبر کا کوئی پہلو نہ تھا۔ یا یہ کہ ان کے اندر جو فساد بعد میں پیدا ہوا ، وہ محض اس پیشگی اطلاع کی وجہ سے پیدا ہوا ، کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کسی کو فساد پر مجبور کرے۔ قل ان اللہ لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 تورات میں یا کسی دوسری آسمانی کتاب میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ یہ قوم (بنی اسرائیل) دو مرتبہ ملک میں سخت خرابی پھیلائے گی اور ظلم وتکبر کا شیوہ اختیار کر کے سخت تمردو سرکشی کا مظاہرہ کرے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور ہر مرتبہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دردناک سزا کا مزہ چکھنا پڑا۔ جس کا ذکر آگے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا یعنی تم پر دو ادوار ایسے آئیں گے کہ تم زمین میں سرکشی کرو گے فساد برپا کرو گے دین سے دور ہوجاؤ گے لہو و لعب میں مبتلا ہوجاؤ گے اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے تم پر عذاب کے کوڑے برسیں گے۔ یہاں پر بین السطور یہ اشارہ بھی ہے کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل پر ایک بہتر دور بھی آیا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمتوں اور نعمتوں سے نوازا تھا۔ سورة البقرۃ میں ان کے اس اچھے دور کی کچھ تفصیلات ہم پڑھ آئے ہیں۔ یاد دہانی کے طور پر اہم واقعات اختصار کے ساتھ یہاں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

5 کیا نوح آدم ثانی ہیں ؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ انسانی نسل صرف سیدنا نوح کے تین بیٹوں حام، سام اور یافث ہی کی اولاد نہیں ہیں جیسا کہ مؤرخین کا بیان ہے بلکہ ان تمام لوگوں کی اولاد ہے جو سیدنا نوح کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ (خلق پر ظلم کرکے اور خالق کے قانون سے بغاوت اختیار کر کرکے) فساد فی الارض اور علو دونوں سے مراد حقوق اللہ وحقوق العباد دونوں کا اتلاف ہے اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ (آیت) ” وقضینا۔۔۔ الکتب “۔ یہ خبر بنی اسرائیل کو ان کے مختلف پیغمبروں کے ذریعہ سے سنا دی گئی تھی۔ خود توریت ہی کے بعض مقامات انذاری پیش گوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں، مثلا احبار باب 26۔ یا استثناء باب 28۔ پھر اس کے علاوہ یرمیاہ نبی کی ہولناک پیش گوئیاں موجود ہیں اور حضرت یحییٰ نبی اور حضرت عیسیٰ نبی کی انذاری پیش گوئیاں، سب انہیں اسرائیلی صحیفوں میں ، (آیت) ” مرتین “۔ یوں تو قوم اسرائیل کی تاریخ تباہیوں اور بربادیوں ہی کی ایک مسلسل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیات نمبر 1 تا 10 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے محمد ﷺ کو لیلاً ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اسراء رات کے سفر کو کہتے ہیں، اور لَیْل کو ذکر کرنے کا فائدہ لیل کی تنکیر سے مدت سیر کی قلت کی طرف اشارہ ہے مسجد حرام یعنی مکہ سے مسجد اقصیٰ (یعنی) بیت المقدس تک (بیت المقدس کا نام مسجد اقصی) اس کے مسجد حرام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے جس کے اطراف میں ہم نے پھلوں اور نہروں کے ذریعہ برکت رکھی ہے تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سے واقف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (توریت) میں کہ تم ملک میں دوبارہ ضرور خرابی کرو گے اور چڑھ جاؤ گے بری طرح چڑھنا 1 ؂۔ الْکِتَاب سے مراد توریت اور الارض سے مراد ملک شام ہے حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے فرمایا ‘ الی بمعنی علٰی ہے اور الکتاب سے مراد ہے لوح محفوظ یعنی ہم نے بنی اسرائیل کے لئے یہ بات لوح محفوظ میں لکھ دی تھی ‘ قطعی فیصلہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ فساد برپا کرو گے۔ پہلا بگاڑ اس وقت ہوا جب بنی اسرائیل نے توریت کے احکام چھوڑ دیئے ‘ ممنوعات کو اختیار…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(4) اور ہم نے توریت میں بنی اسرائیل کو یہ بات بتادی تھی کہ تم زمین میں دوبارہ خرابی کرو گے اور بڑا زور چلانے لگوگے اور بہت زیادتیاں کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ۔۔ : ”لَتُفْسِدُنَّ“ اور ”وَلَتَعْلُنَّ“ اصل میں ”لَتُفْسِدُوْنَنَّ“ اور ”لَتَعْلُوُوْنَنَّ“ تھے۔ اللہ تعالیٰ کا علم بندوں کی طرح محدود نہیں کہ اسے صرف گزشتہ اور موجودہ باتوں ہی کا علم ہو، بلکہ اسے آئندہ کسی بھی وقت ہونے والی ہر بات کا اسی طرح علم ہے جس طرح گزشتہ یا موجودہ کا پوری طرح علم ہے اور ہر گزشتہ یا آنے والا کام اس کے کمال علم و حکمت کے مطابق طے شدہ ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی محکم و مضبوط تدبیر و تقدیر کی وجہ سے کوئی خرابی، کوئی حادثہ پیش نہیں آتا۔ اسی تقدیر کے مطابق انسان کو کچھ اختیار دے کر آزمایا گیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 4 قولہ تعالیٰ : وقضینا الیٰ بنی اسرآء یل فی الکتٰب حضرت سعید بن جبیر اور ابو العالیہ نے لفظ جمع کے ساتھ فی الکتب پڑھا ہے۔ اور کبھی لفظ واحد ہوتا ہے اور اس کا معنی جمع ہوتا ہے، پس دونوں قرآتیں ایک ہی معنی میں ہوں گی۔ اور قضینآ کا معنی اعلمنا اور أخبرنا (ہم نے آگاہ کیا، اور ہم نے خبردی) ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : معنی حکمنا ہے یعنی ہم نے فیصلہ کیا۔ اور قضا کا اصل معنی کسی شے کا فیصلہ کرنا اور اس سے فارغ ہونا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : قضینا بمعنی أوحینا (ہم نے وحی کی) ہے : اسی لئے فرمایا : الیٰ بنی اسرآء یل اور حضرت قتادہ کے قول کے مطابق الی بمعنی علی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

معراج پر جانے کا مقام : 93:۔ ابن سعد اور ابن عساکر نے واقدی سے اور واقدی نے ابوبکر بن عبداللہ ابن سبرہ وغیرہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب سے جنت اور دوزخ کے دیکھنے کا سوال کیا جب رمضان کی سترہویں رات تھی ہجرت سے اٹھارہ ماہ پہلے اور رسول اللہ ﷺ اپنے گھر کی چھت پر سوئے ہوئے تھے تو آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) اور میکائیل تشریف کے درمیان سے ایک سیڑھی لائی گئی جو بہت خوبصورت چیز تھی ایک ایک آسمان کرکے آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا اس میں انبیاء سے ملاقاتیں ہوئیں اور پھر آپ سدرۃ المنتہی تک پہنچے اور آپ نے جنت اور دوزخ کو دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ساتویں آسمان کی طرف پہنچا تو میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقَضَيْنَآ : اور ہم نے فیصلہ کیا ] [اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل کی طرف ] [فِي الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [لَتُفْسِدُنَّ : (کہ) تم لوگ لازماً نظم بگاڑو گے ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [مَرَّتَيْنِ : دو مرتبہ ] [وَلَتَعْلُنَّ : اور تم لوگ لازماً عروج پائو گے ] [عُلُوًّا كَبِيْرًا : ایک بڑا عروج ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–5

ان واقعات کی تفصیل بتانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا ایک انعام یاد دلایا کہ تم لوگ نوح (علیہ السلام) کی ذریت ہو اور ان کی نسل سے ہو جب قوم کی سرکشی کی وجہ سے قوم پر عذاب آیا تھا تو ان کو اور ان کے خاندان کو (بیوی اور ایک بیٹے کے علاوہ) اور دیگر اہل ایمان کو (جو تھوڑے سے تھے) ان کے ساتھ کشتی میں سوار کردیا تھا اس کشتی میں جو لوگ سوار تھے آگے انہیں لوگوں کی نسل چلی اور دنیا میں پھلی اور پھیلی، بنی اسرائیل کو یاد دلایا کہ دیکھو توحید والوں کو کشتی میں سوار کرکے غرق ہونے سے نجات دی تھی تم انہی کی نسل سے ہو اس وقت سے لے کر آج تک نسل در نسل تم زمین پر آ رہے ہو یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر انعام ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–8

ذکر انجام مخالفت و معصیت برائے ترہیب عبرت ال اللہ تعالیٰ : وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتاب .... الیٰ .... وجعلنا جھنم للکفرین حصیرا۔ (ربط) گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے انعام کا ذکر فرمایا کہ ان کی ہدایت کیلئے توریت نازل کی مگر وہ بجائے رشد و ہدایت کے فتنہ و فساد میں جاگرے جس کا نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ دنیا ہی میں طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوئے۔ اب ان آیات میں احکام خداوندی کی مخالفت کرنے والوں کے برے انجام کو بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ عبرت پکڑیں کہ جو شخص اللہ سے باغی ہوجاتا ہے اللہ دنیا ہی میں اس کے دشمن کو اس پر مسلط کردیتا ہے۔ ان آیات میں اجمالا دو واقعوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ بنی اسرائیل کو ہم نے تورات میں بتادیا تھا کہ تم دو بار زمین میں شر و فساد بپا کرو گے پہلی بار تم پر ایک سخت گیر اور جابر قوم کو مسلط کر کے تمہیں ذلیل کریں گے اس کے بعد تم پر انعام کریں گے اس کے بعد اگر تم نے پھر فساد کیا تو دنیا و آخرت میں سخت عذاب دیں گے۔ اے مشرکین مکہ اسی طرح پہلے ہم نے تم پر قحط مسلط کیا پھر قحط اٹھا کر تم پر مہربانی کی مگر تم شرک سے باز نہ آئے تو پھر معجزہ معراج دکھایا گیا اس لیے اگر اب بھی شرک سے باز نہ آؤ گے اور توحید سے اعراض کروگے تو دنیا و آخرت میں رسوا کن عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے۔ ” لتفسدن فی الارض الخ “ فساد فی الارض سے احکام تورات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–8

ربط آیات : اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کا ذکر ہوا ، پھر دوسری آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کرنے کا ذکر ہوا جسے اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے سامان ہدایت بنایا ، پھر اللہ نے تمام کتب سماویہ مع تورات کی غرض وغایب یہ بیان فرمائی کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا ، اور میرے ساتھ کسی طرح بھی شرک نہ کرنا ، پھر بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائیں اور فرمایا ، دیکھو ! تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) اللہ کے شکر گزار بندے تھے ، اللہ نے ان کو شکر گزاری کی وجہ سے طوفان سے محفوظ رکھا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا ۝ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–7

یروشلم پر پانچواں حادثہ : آخر اینتوکس چہارم کا تسلط یروسلم پر ہوگیا جس نے کہانت کا عہدہ تیرہ لاکھ میں یسون یہودی کے ہاتھ فروخت کردیا۔ پھر اس سے واپس لے کر اس کے بھائی منلائوس کے ہاتھ چوبیس لاکھ پچھتر ہزار پر فروخت کر ڈالا۔ اینتوکس کی خبر وفات سن کر یسون اپنے بھائی پر حملہ آور ہوا اور اس کو قتل کردیا۔ چونکہ یہ بادشاہ ہنوز زندہ تھا، طیش میں آ کر حضرت مسیح سے ایک سو ستر برس پہلے یروسلم پر 1 ؎ سکندریہ کی سلطنت عظیم اس کے چاروں سرداروں میں یوں تقسیم ہوئی، سلوکس کو ایران و بابل اور چند صوبے مشرقی ملے کالس سانڈر کو مقدونیہ اور اس کے صوبجات انتگونس (اینتوکس) کو شام اور ایشیائِ کو چک کے اکثر صوبجات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

وَقَضَیْنَـآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُـفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔ فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰـھُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّـنَـآ اُوْلِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ ط وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 4۔ 5) (اور ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فسادِ عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے۔ پھر جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع آیا تو ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنی ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–8

فہم القرآن ربط کلام : بائبل کے مجموعۂ کتب مقدسہ میں یہ تنبیہات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ پہلے فساد اور اس کے برے نتائج پر بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا۔ دوسرے فساد اور اس کی سخت سزا کی پیشین گوئی حضرت مسیح (علیہ السلام) نے کی ہے جو متٰی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ ذیل میں ہم ان کتابوں کی متعلقہ عبارتیں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے اس بیان کی تصدیق ہوجائے۔ پہلے فساد پر اولین تنبیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کی تھی جس کے الفاظ یہ ہیں : ” انہوں نے ان قوموں کو ہلاک نہ کیا جیسا خداوند نے ان کو حکم دیا تھا بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان جیسے کام سیکھ لیے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سرکش بنی اسرائیل : 4: وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو صاف بتلا دیا تھا کہ تم ضرور زمین میں فساد کرو گے) ہم نے ان کی طرف فیصلہ کن و حی اتاری یعنی قطعی طے شدہ بات ہے کہ وہ زمین میں فساد کریں گے۔ الکتابؔ سے تورات مراد ہے۔ لَتُفْسِدُنَّ یہ قسم محذوف کا جواب ہے نمبر 2۔ قطعی فیصلہ قسم کے قائم مقام ہے اور لَتُفْسِدُنَّ اس کا جواب ہے گویا اس طرح فرمایا اقسمنا لتفسدن فی الارض۔ مَرَّتَیْنِ (دو مرتبہ) پہلی مرتبہ جب زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا اور ارمیاء (علیہ السلام) کو قید میں ڈالا گیا۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

بنی اسرائیل کے فساد فی الارض کا واقعہ 4۔” واقضیناالیٰ بنی اسرائیل فی الکتاب “ ربیع بن خراش حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب انہوں نے حد سے تجاوز کیا اور انبیاء علہیم السلام کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان ی طرف فارس کے بادشاہ بخت نصر کو ان پر مسلط کیا اور وہ سات سال ان پر حکمرانی کرتا رہا اور وہ ان کی طرف چلا ۔ یہاں تک کہ وہ بیت المقدس میں داخل ہوگیا اور اس کا محاصرہ کیا اور اس کو فتح کردیا۔ یہاں تک کہ اس نے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے خون پر ستر ہزار افراد کا خون بہایا ۔ پھر بیت المقدس کے حواریوں کو انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد کو قید کرلیا اور بیت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–8

4۔ 8:۔ اللہ پاک نے بنی اسرائیل کے حال سے آنحضرت ﷺ کو خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں اس بات کی خبر بنی اسرائیل کو دیدی تھی کہ وہ دو بار دنیا میں فساد برپا کریں گے اور دونوں دفعہ ذلیل و خوار ہوں گے اور ویسا ہی ہوا۔ ایک دفعہ انہوں نے توریت کی مخالفت کی اور ذکریا (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے قتل کیا اللہ پاک نے اپنے قوی اور زور آور بندوں کو ان پر مقرر اور مسلط کردیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جالوت اور اس کا لشکر تھا اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو آگ میں جلا دیا اور مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرنا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–8

آیت نمبر 2 اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوی محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ اس لئے یہاں فرمایا : (و اتینا موسیٰ الکتب) ، ، اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، ، یعنی تورات (وجعلنہ ھدیً لبنیٰ اسرائیل) ، ، اور کیا اس کو ہدایت واسطے نبی اسرائیل کے ، ، یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لئے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا (الا تتخذو من دونی وکیلا) ، ، تم میرے سوا کسی کو کار…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–6

سفر معراج کا آغاز قول باری ہے (سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد لاقصی الذی بارکنا حولہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے) حضرت ام ہانی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ ان کے گھر سے اس رات معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (من المسجد الحرام) اس لئے کہ حرم سارے کا سارا مسجد ہے۔ اس بارے میں گزشتہ اوراق میں گفتگو ہوچکی ہے حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ حضور ﷺ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور وہیں سے آپ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9۔ بنی اسرائیل کو ان کے ہولناک انجام سے آگہی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ہم نے بنی اسرائیل کو آگاہ کردیا تھا اپنے فیصلے سے اس کتاب میں “ یعنی تورات میں۔ جس کو ان کے پیغمبر کے واسطے سے ان کی طرف نازل کردیا گیا تھا۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، فتح القدیر اور مراغی وغیرہ) اور بعض نے کہا کہ اس کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ (محاسن التاویل، فتح القدیر وغیرہ) بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو اس فیصلے سے اپنی کتاب میں آگاہ کردیا تھا تاکہ عبرت پکڑنے والے عبرت پکڑیں اور جان لیں کہ اللہ کی بغاوت و سرکشی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پر اس دنیا میں بھی عذاب آتا ہے اور اس طرح آتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 2–8

عبرت کے لیے بنی اسرائیل کا ذکر تشریح : یہاں معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اچانک بنی اسرائیل کا ذکر یوں آگیا کہ اہل مکہ کو خبردار کردیا جائے کہ یہ پیغمبر جو تم سے مخاطب ہے کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ انسانیت کی بلندیوں سے ہو کر آرہا ہے یہ عظیم الشان اور بہترین انسان حقیقت میں ایک سچا اور مقبول الٰہی نبی ہے اگر اس پر یقین نہ کرو گے ایمان نہ لائو گے تو پھر بنی اسرائیل کا حال تمہارے سامنے ہے کہ جو قومیں کتاب الٰہی پانے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتیں، نبیوں کو قتل کرتی ہیں، نافرمان اور سرکش ہوتی ہیں، تو ان کو ضرور دردناک سزا دی جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة بنی اسرائیل : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:4 ) قضینا الی۔ ای اعلمناہم واخبرنا ہم۔ ہم نے (بنی اسرائیل کو ) آگاہ کردیا تھا ۔ بتادیا تھا۔ (قضی الی) کسی کو بتانا۔ کسی کو وضاحت کے ساتھ بتانا۔ قضینا۔ ماضی جمع متکلم۔ الکتب۔ ای التوارۃ۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ لتفدن فی الارض۔ لتفسدن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ افساد (افعال) تم ضرور فساد کرو گے۔ تم ضرور خرابی پھیلائو گے۔ بعض کے نزدیک لام، لام قسم ہے ! اور تقدیر کلام ہے واللہ لتفسدن۔ خدا کی قسم تم ضرور فساد مچائو گے۔ فی الارض۔ زمین میں ۔ یہاں ارض سے مراد ارض شام اور بیت المقدس ہے۔ ولتعلن۔ مضارع بلام تاکیدونون ثقیلہ جمع مذکر حاضر۔ علو (باب نصر) سے۔ تم چڑھ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–10

لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 10 قضینا صاف صاف بتا دیا۔ مرتین دو مرتبہ تعلن تم ضرور ظلم / تکبر/سرکشی کرو گے۔ اولیٰ پہلا۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اولی باس لڑنے والے۔ جاسوا وہ گھس گئے۔ وہ پھیل گئے۔ الدیار (دیر) گھر، آبادیاں، شہر۔ مفعولاً کیا جانے اولا۔ رددنا ہم نے لوٹایا۔ کرۃ بار بار۔ نفیر لوگ۔ مددگار۔ احسنتم تم نے اچھا کیا۔ اساتم تم نے برا کیا۔ لیسوء تاکہ وہ بگاڑ دیں۔ لیتبروا تاکہ وہ تباہ کردیں گے۔ عدتم تم پلٹے۔ حصیر گھیر لے، روک لے، قید خانہ۔ یھدی رہنمائی کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ اقوم بالکل سیدھا، سب سے بہتر ۔ تشریح :- آیت نمبر 4 تا 10 تاریخ کے دھارے، دنیا کے حالات، رنگ ڈھنگ اور طرز فکر و عمل بدلتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے حال سے آنحضرت ﷺ کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں اس بات کی خبر بنی اسرائیل کو دے دی تھی کہ وہ دوبارہ دنیا میں فساد برپا کریں گے اور دونوں دفعہ ذلیل خوار ہوں گے، چناچہ ویسا ہی ہوا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

روح اور جسم کی انتہائی پرواز : (ف 1) عین اس وقت جب مکہ میں حضور ﷺ کے نام لیواؤں کو ناقابل برداشت تکلیفیں دی جارہی تھیں ، حضور ﷺ کے وطن مالوف سے نکال باہر کرنے کی سازشیں کی جارہی تھیں ، عین اس وقت جب زمین والوں نے گلشن رسالت کو برباد کردینے کا تہیہ کرلیا تھا ، جب یہ طے پا چکا تھا ، کہ اس شمع ہدایت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گل کردیا جائے ، آسمان پر آپ کے عروج وارتقاء کے سامان ہو رہے تھے ، قضاء قدر کے دفاتر میں معراج وتقدم کے ہنگامہ خیز چرچے تھے ۔ اللہ کی مشیت نے آپ کو اٹھایا اور مسجد اقصے تک لے اڑی پرواز اور اڑان کا یہ منظر اس لئے تھا ، تاکہ آپ کو فتوحات اسلامی کی وسعت کا اندازہ ہو کفار ، ومعاندین…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-4 اور ہم نے بنی اسرائیل پر کتاب میں یہ بات واضح کردی تھی اور ان کو یہ بات بتادی تھی کہ تم یقینا ملک میں دوبارہ فساد برپا کرو گے اور چڑھ جائو گے بری طرح کا چڑھنا اور تم بڑی سخت سرکشی کا ارتکاب کرو گے۔ یعنی توریت میں یا لوح محفوظ میں یہ بات بنی اسرائیل کو صاف طور پر بتادی تھی کہ بخدا تم ملک میں دو دفعہ فساد برپا کرو گے اور صحیح تعلیم سے ہٹ جائو گے اور تکبر کے مرتکب ہو کر بہت اونچے ہو جائو گے اور اپنے کو بہت بلند سمجھنے لگو گے۔ اور جب دنیا کی قوموں میں نافرمانی، کفران نعمت، غیر اللہ پرستی اور خصائل قبیحہ مذمومہ پیدا ہوجاتے ہیں تو اس قوم پر مختلف عذاب نازل ہوتے ہیں اسی کا آگے ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

ف 8۔ ایک بار شریعت موسویہ کی مخالفت، دوسری بات شریعت عیسویہ کی مخالفت۔ 1۔ یعنی زیادتیاں کرو گے، پس لتفسدن میں حقوق اللہ کے اور لتعلن میں حقوق العباد کے ضائع کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

6۔ قضینا اے اعلمنا واخبرنا (قرطبی) فرمایا ہم نے بنی اسرائیل کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ان مناجات بےپایاں پر سجدہ ریز ہونے کے بجائے تم شر و فساد کی راہ اختیار کرو گے اور تم کو اس کی پاداش میں دردناک عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور جس طرح آج ہم ایک قوم کو تمہاری آنکھوں کے سامنے عذاب دے رہے ہیں بالکل دوسروں کی آنکھوں کے سامنے تم بھی اپنے کئے کی سزا پاؤ گے گوش ہوش سے سن لو اور یاد رکھو کہ ہم سارے مفسدوں کو ایک ہی طرح کسی نہ کسی سزا میں مبتلا کردیتے ہیں اور اس طرح اس وقت بنی اسرائیل کا ذکر کرکے قوم مسلم کی متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ کی سنت کبھی بدلا نہیں کرتی ، آنکھوں سے دیکھ لو کہ آج اگر بنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

Sequence of Verses Verses 2 and 3 featuring the statement: (We made it guidance for the children of Bani Isra'il) exhorted the Bani Isra'il to follow and obey the Divine Law. The verses that follow warn and admonish them on their disobedience. These verses mention two events relating to the Bani Isra'il so that they serve as a lesson. Tuned to sin and disobedience, first they increased the tempo of their hostility. Allah Ta` ala set their enemies upon them. They shook them up. The Jews got the message, cut down on their mischief and gave the impression of having been corrected. But, soon…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5. The original Arabic word Al-kitab does not stand here for the Torah but for all the divine Books. 6. Such warnings have been given in different Books of the Bible. As regards to their first mischief and its evil consequences, the Israelites were warned in the Psalms, Isaiah, Jeremiah and Ezekiel and the warnings about their second mischief and its severe punishments are found in Matthew and Luke. Given below are some extracts to confirm this statement of the Quran. Prophet David was the first to warn the Israelites in his Psalms of their first mischief: They did not destroy the nations,…

Read the full tafseer →