Explained with ayahs 4–8
پیشین گوئی۔ جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر قضینا کے معنی مقرر کردینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت (وقضینا الیہ ذالک الامر) میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لئے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بےخوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 7
اس سے مراد وہ ہولناک تباہی ہے جو آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔ اس کا تاریخی پس منظر سمجنے کے لیے صرف وہ اقتباسات کافی نہیں ہیں جو اوپر ہم صحف انبیاء سے نقل کرچکے ہیں، بلکہ ایک مختصر تاریخی بیان بھی ضروری ہے تاکہ ایک طالب علم کے سامنے وہ تمام اسباب آجائیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک حامل کتاب قوم کو امامت اقوام کے منصب سے گر اکر ایک شکست خوردہ، غلام اور سخت پسماندہ قوم بنا کر رکھ دیا۔
حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوٹے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔ حتِّی اَمَّوری کنعانی، فِرِزِّی، حَوِی، یبوسی، فِلستی وغیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں (خواہ توریت میں یا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل کے صیحیفوں میں) یہ بات (بطور پیشن گوئی کے) بتلادی تھی کہ تم سر زمین (شام) میں دو مرتبہ (گناہوں کی کثرت سے) خرابی کرو گے (ایک مرتبہ شریعت موسویہ کی مخالفت اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی مخالفت) اور دوسروں پر بھی بڑا زور چلانے لگو گے (یعنی ظلم و زیادتی کرو گے اس طرح لَتُفْسِدُنَّ میں حقوق اللہ کے ضائع کرنے کی طرف اور لَتَعْلُنّ میں حقوق العباد ضائع کرنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی بتلا دیا تھا کہ دونوں مرتبہ سخت سزاؤں میں بتلا کئے جاؤ گے) پھر جب ان دو مرتبہ میں پہلی مرتبہ کی میعاد آئے گی تو…
Read the full tafseer →فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا۔
" اذا " صرف مستقبل ہی کے لیے نہیں آتا بلکہ بیان عادت و سنت اور بعض اوقات تصویر حال کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں تصویر حال ہی کے لیے ہے۔ ہم ترجمے میں اس کو ملحوظ رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چناچہ دیکھ لو جب پہلی بار کی میعاد آجاتی ہے تو ہم تمہیں اپنے عذاب کا مزا چکھانے کے لیے اپنے زور آور بندوں کو ابھار کر تم پر مسلط کردیتے ہیں تو تمہارے گھروں میں گھس پڑتے ہیں اور خدا کا شدنی وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے۔ " بعث " کا صلہ جب " علی " کے ساتھ آئے تو وہ…
Read the full tafseer →5۔ 1 یہ اشارہ ہے اس ذلت اور تباہی کی طرف جو بابل کے فرمان روا بخت نصر کے ہاتھوں، حضرت مسیح ؑ سے تقریبًا چھ سو سال قبل، یہودیوں پر یروشلم میں نازل ہوئی۔ اس نے بےدریغ یہودیوں کو قتل کیا اور ایک بڑی تعداد کو غلام بنا لیا اور یہ اس وقت ہوا جب انہوں نے اللہ کے نبی حضرت شعیب ؑ کو قتل کیا یا حضرت ارمیا ؑ کو قید کیا اور تورات کے احکام کی خلاف ورزی اور معصیات کا ارتکاب کر کے فساد فی الارض کے مجرم بنے۔ بعض کہتے ہیں کہ بخت نصر کے بجائے جالوت کو اللہ تعالیٰ نے بطور سزا ان پر مسلط کیا، جس نے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ حتیٰ کہ طالوت کی قیادت میں حضرت داوٗد ؑ نے جالوت کو قتل کیا۔
Read the full tafseer →3: جب بنو اسرائیل کی نافرمانیاں حد سے بڑھ گئی تھیں تو بابل کے بادشاہ بخت نصر نے ان پر حملہ کرکے ان کا قتل عام کیا تھا اور جو زندہ رہ گئے تھے، انہیں گرفتار کرکے فلسطین سے بابل لے گیا تھا جہاں مدت دراز تک وہ اس کی غلامی میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرتے رہے، اس آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →فاذا جاء وعدا اولھما بعثنا علیکم عبادالنا اولی باس شدید فحاسوا خلل الدیار وکان وعدا مفعولا (71 : 5) ” آخر کار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا ، تو اے بنی اسرائیل ، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اتھائے جو نہایت زور آور تجھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا “۔ یہ ان کی پہلی سرکشی تھی۔ ان لوگوں نے بیت المقدس میں پڑتی ترقی اور سر بلندی حاصل کی۔ ان کے پاس حکومت اور قوت جمع ہوگئی ، جس پر انہوں نے فساد شروع کردیا۔ اللہ انے ان پر ایک دوسری زور آور اور صاحب قوت قوم کو مسلط کردیا۔ ان لوگوں کی گرفت مضبوط تھی۔ انہوں نے تمام علاقوں کو…
Read the full tafseer →9 یعنی جن کو ہم نے سزا دینے کے لیے تم پر مسلط کیا تھا۔
10 یعنی بستی میں مکانوں کے اندر گھس کر خوب کشت و خون اور لوٹ کھسوٹ کی۔ اس طرح خدا نے سزا دہی کا جو وعدہ کیا تھا پورا ہو کر رہا۔
Read the full tafseer →آیت 5 فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم پر واضح کیا گیا تھا کہ جب تم لوگ دین سے برگشتہ ہوجاؤ گے ‘ جب تم اللہ کی کتاب اور اس کے احکام کو ہنسی مذاق بنا لو گے تو تم ضرور اللہ کے عذاب کا نشانہ بنو گے۔ چناچہ ان کے دین سے برگشتہ ہوجانے کے بعد آشوریوں اور عراق کے بادشاہ بخت نصر کے ہاتھوں ان پر عذاب کا کوڑا برسا جس کے نتیجے میں دونوں اسرائیلی سلطنتیں ختم ہوگئیں یروشلم مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہیکل سلیمانی مسمار کردیا گیا ‘ چھ لاکھ یہودی قتل ہوگئے…
Read the full tafseer →6 یہود کی پہلی بار فتنہ انگیزی اور اس کی سزا :۔ سیدنا موسیٰ کے ساتھ مصر سے آنے والے بنی اسرائیل جب فلسطین میں داخل ہوگئے تو انھیں حکم یہ تھا کہ فلسطین کا سارا علاقہ فتح کریں اور وہاں کے رہنے والے لوگوں کی اخلاقی اور اعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہونے سے اجتناب کریں۔ مگر ایک تو انہوں نے سارے علاقہ کو فتح نہ کیا اور جو کرچکے تھے اس پر ہی قناعت کرلی۔ دوسرے وہ قبائلی عصبیت میں مبتلا ہوگئے اور مفتوحہ علاقہ کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر قبیلہ نے الگ الگ حکومت قائم کرلی۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی حکومت کو کبھی استحکام نصیب نہ ہوسکا۔ نیز سابقہ اقوام کی اخلاقی اور اعتقادی بیماریاں یعنی شرک،…
Read the full tafseer →8۔ (اور تمہارے جرائم تمہیں عقوبت شدید کا مستحق بنادیں گے) یرمیاہ نبی کی کتاب جو آج بھی صحائف عہد عتیق کا ایک جزو ہے، دیکھی جاسکتی ہے، یہود کی شرارتوں، بدکاریوں کی داستان سے لبریز ہے، احبار اور ربیون کے نزدیک بھی انتقام الہی کی محرک یہود کی تباہ کاریاں ہی ہوئی تھیں، ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
9۔ (اور تمہیں کہیں پناہ نہ مل سکے گی) (آیت) ” بعثنا علیکم عبادالنا “۔ اس عالم اسباب میں سزا اور غضب الہی کا نفاذ ہمیشہ کسی نہ کسی مخلوق ہی کے ذریعہ اور واسطہ سے ہوگا، بعث سے یہاں مراد بعثت تشریعی نہیں، محض بعثت تکوینی ہے اور عباد سے مراد وہ انسان جو عذاب الہی کے کارندوں کی حیثیت سے ان پر مسلط کئے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیات نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے محمد ﷺ کو لیلاً ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اسراء رات کے سفر کو کہتے ہیں، اور لَیْل کو ذکر کرنے کا فائدہ لیل کی تنکیر سے مدت سیر کی قلت کی طرف اشارہ ہے مسجد حرام یعنی مکہ سے مسجد اقصیٰ (یعنی) بیت المقدس تک (بیت المقدس کا نام مسجد اقصی) اس کے مسجد حرام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے جس کے اطراف میں ہم نے پھلوں اور نہروں کے ذریعہ برکت رکھی ہے تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سے واقف…
Read the full tafseer →فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا : پس جب پہلے فساد (کی سزا) کا مقررہ وعدہ آگیا (یعنی پہلے فساد کی سزا کا وقت آگیا)
بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ : تو ہم نے اپنے کچھ بندوں کو
تم پر مسلط کردیا جو لڑائی میں بڑے طاقتور تھے اور وہ تمہاری بستیوں کے اندر تمہاری جستجو میں گھس پڑے۔
عِبَادًا لَّنَآسے مراد ہیں نینویٰ کے رہنے والے سخاریب (اور اس کے ساتھی) سعید بن جبیر کا یہی قول ہے قتادہ نے کہا جالوت اور اس کا لشکر مراد ہے۔ یہ جالوت وہی تھا جس کو حضرت داؤد نے قتل کیا۔ ابن اسحاق کے نزدیک بخت نصر بابلی مراد ہے۔ بغوی نے لکھا ہے یہی قول زیادہ ظاہر…
Read the full tafseer →(5) پھر جب ان دو مرتبہ میں سے پہلی بار کی شرارت پر عذاب کا وقت آئیگا یا یہ کہ ان میں سے پہلی شرارت کا وقت آئے گا تو ہم تم لوگوں پر بابل کا بادشاہ اور اس کے فوجیوں کو مسلط کردیں گے جو بڑے جنگجو ہوں گے اور پھر وہ تمہارے گھروں میں گھس پڑیں گے اور تمہیں قتل کر ڈالیں گے اور یہ ایک وعدہ ہے جو ضرور پورا ہو کر رہے گا یعنی اگر تم نافرمانیاں کرو گے تو تمہارے ساتھ یہی برتاؤ کیا جائے گا، چناچہ بنی اسرائیل نوے سال تک سخت تکالیف کے اندر بخت نصر بادشاہ کی قید میں رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا۔۔ : اس دو مرتبہ کے فساد اور اس کی سزا کی تعیین کا کوئی مضبوط اور قابل اعتماد ذریعہ ہمارے پاس قرآن و سنت کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ تاریخ خصوصاً قبل مسیح کی تاریخ کی نہ کوئی سند ہے نہ اس کے ثبوت کی کوئی اور پختہ دلیل، رہا ان کا فساد تو اس کا شمار ہی نہیں۔ قرآن مجید میں ان کے مذکور فسادات ہی دیکھ لیں، سمندر سے پار ہوتے ہی معبود بنانے کا مطالبہ، پھر سامری کا بچھڑا بنانا اور اس کی عبادت، پھر موسیٰ ؑ سے مسلسل مختلف تقاضے، حتیٰ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھنے کو موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کی شرط قرار دے دیا۔ پھر جہاد کے لیے نکلنے کی دعوت پر (فَاذْهَبْ اَنْتَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 5
قولہ تعالیٰ : فاذا جآء وعداولٰھما یعنی جب ان کی فساد کی دوباریوں میں پہلی بار آگئی۔ بعثنا علیکم عبادًا لنا اولی باسٍ شدید وہ اہل بابل تھے، اور ان پر پہلی بار میں بخت نصر حاکم تھا جس وقت انہوں نے حضرت ارمیاء کو جھٹلایا، انہیں زخمی کردیا اور انہیں قید کرلیا : یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : ان پر جالوت کو بھیجا اور اس نے انہیں قید کرلیا : یہ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے۔ اور حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : ان پر جالوت کو بھیجا اور اس نے انہیں قتل کردیا پس وہ اس کی قوم بڑے کرخت اور سخت تھے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : فارس سے ایک لشکر ان کے پاس…
Read the full tafseer →معراج جسم وروح کے ساتھ ہوا۔
101۔ ابن ابی حاتم نے سدی کے طریق سے ابو مالک اور ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس، مرہ ہمدانی اور ابن مسعود ؓ اللہ تعالیٰ سے اس قول (آیت) ” سبحن الذی اسری بعبدہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ جبرائیل مکہ مکرمہ میں تشریف لائے نبی کریم ﷺ کے پاس اور انکو براق پر سوار فرمایا اور ان کو لے کر رات میں بیت المقدس کی طرف گئے راستے میں ابوسفیان کے پاس سے گزرے وہ اونٹنی کا دودھ دوہ رہا تھا براق کو محسوس کرکے اونٹنی بدک گئی اور دودھ کو ڈول دیا ابوسفیان نے اس کے بدکنے پر اس کو برا بھلا کہا ان کا خاکستری اونٹ بھی بھاگ گیا وہ کسی پانی کی طرف چلا گیا لوگوں نے ان کو تلاش کیا اور ان کو…
Read the full tafseer →[فَاِذَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آیا ] [وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا : ان دونوں (باری) کی پہلی کا وعدہ ] [بَعَثْنَا : تو ہم نے بھیجا ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [عِبَادًا لَّنَآ : اپنے کچھ ایسے بندے جو ] [اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ : شدید جنگ والے تھے ] [فَجَاسُوْا : تو وہ گھس گئے ] [خِلٰلَ الدِّيَارِ : گھروں کے درمیان ] [وَكَان : اور وہ تھا ] [وَعْدًا مَّفْعُوْلًا : ایک کیا ہوا وعدہ ]
ج و س
[جَوْسًا : (ن) ] لوٹ مار کے لئے کسی جگہ گھس جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 5
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ان واقعات کی تفصیل بتانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا ایک انعام یاد دلایا کہ تم لوگ نوح (علیہ السلام) کی ذریت ہو اور ان کی نسل سے ہو جب قوم کی سرکشی کی وجہ سے قوم پر عذاب آیا تھا تو ان کو اور ان کے خاندان کو (بیوی اور ایک بیٹے کے علاوہ) اور دیگر اہل ایمان کو (جو تھوڑے سے تھے) ان کے ساتھ کشتی میں سوار کردیا تھا اس کشتی میں جو لوگ سوار تھے آگے انہیں لوگوں کی نسل چلی اور دنیا میں پھلی اور پھیلی، بنی اسرائیل کو یاد دلایا کہ دیکھو توحید والوں کو کشتی میں سوار کرکے غرق ہونے سے نجات دی تھی تم انہی کی نسل سے ہو اس وقت سے لے کر آج تک نسل در نسل تم زمین پر آ رہے ہو یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر انعام ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ذکر انجام مخالفت و معصیت برائے ترہیب عبرت
ال اللہ تعالیٰ : وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتاب .... الیٰ .... وجعلنا جھنم للکفرین حصیرا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے انعام کا ذکر فرمایا کہ ان کی ہدایت کیلئے توریت نازل کی مگر وہ بجائے رشد و ہدایت کے فتنہ و فساد میں جاگرے جس کا نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ دنیا ہی میں طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوئے۔ اب ان آیات میں احکام خداوندی کی مخالفت کرنے والوں کے برے انجام کو بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ عبرت پکڑیں کہ جو شخص اللہ سے باغی ہوجاتا ہے اللہ دنیا ہی میں اس کے دشمن کو اس پر مسلط کردیتا ہے۔ ان آیات میں اجمالا دو واقعوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
9:۔ پہلی بار جب بنی اسرائیل نے احکام تورات کی مخالفت کی، توحید کو چھوڑ کر شرک کرنے لگے، محرمات کو حلال کر ڈالا اور انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر مجوسی بادشاہ کو مسلط کردیا جس نے چالیس یا ستر ہزار اسرائیلی قتل کردئیے، باقیوں کو اپنے ساتھ لے گیا اور بیت المقدس کو مسمار کردیا۔ ” فجاسوا “ یعنی بخت نصر کا لشکر اسرائیلیوں کے گھروں کے اندر گھس گیا اور خوب خون خرابہ کیا (کبیر) ” ثم رددنا لکم الکرۃ الخ “ اس کے بعد حضرت داؤود (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہم نے تمہیں غلبہ عطا کیا اور مال و اولاد میں برکت دی اور تمہاری تعداد میں خوب اضافہ کیا۔ ” ان احسنتم الخ “ اب اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کا ذکر ہوا ، پھر دوسری آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کرنے کا ذکر ہوا جسے اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے سامان ہدایت بنایا ، پھر اللہ نے تمام کتب سماویہ مع تورات کی غرض وغایب یہ بیان فرمائی کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا ، اور میرے ساتھ کسی طرح بھی شرک نہ کرنا ، پھر بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائیں اور فرمایا ، دیکھو ! تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) اللہ کے شکر گزار بندے تھے ، اللہ نے ان کو شکر گزاری کی وجہ سے طوفان سے محفوظ رکھا اور…
Read the full tafseer →فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
یروشلم پر پانچواں حادثہ : آخر اینتوکس چہارم کا تسلط یروسلم پر ہوگیا جس نے کہانت کا عہدہ تیرہ لاکھ میں یسون یہودی کے ہاتھ فروخت کردیا۔ پھر اس سے واپس لے کر اس کے بھائی منلائوس کے ہاتھ چوبیس لاکھ پچھتر ہزار پر فروخت کر ڈالا۔ اینتوکس کی خبر وفات سن کر یسون اپنے بھائی پر حملہ آور ہوا اور اس کو قتل کردیا۔ چونکہ یہ بادشاہ ہنوز زندہ تھا، طیش میں آ کر حضرت مسیح سے ایک سو ستر برس پہلے یروسلم پر 1 ؎ سکندریہ کی سلطنت عظیم اس کے چاروں سرداروں میں یوں تقسیم ہوئی، سلوکس کو ایران و بابل اور چند صوبے مشرقی ملے کالس سانڈر کو مقدونیہ اور اس کے صوبجات انتگونس (اینتوکس) کو شام اور ایشیائِ کو چک کے اکثر صوبجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
وَقَضَیْنَـآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُـفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔ فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰـھُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّـنَـآ اُوْلِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ ط وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 4۔ 5)
(اور ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فسادِ عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے۔ پھر جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع آیا تو ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنی ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
فہم القرآن
ربط کلام : بائبل کے مجموعۂ کتب مقدسہ میں یہ تنبیہات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ پہلے فساد اور اس کے برے نتائج پر بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا۔ دوسرے فساد اور اس کی سخت سزا کی پیشین گوئی حضرت مسیح (علیہ السلام) نے کی ہے جو متٰی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ ذیل میں ہم ان کتابوں کی متعلقہ عبارتیں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے اس بیان کی تصدیق ہوجائے۔
پہلے فساد پر اولین تنبیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کی تھی جس کے الفاظ یہ ہیں :
” انہوں نے ان قوموں کو ہلاک نہ کیا جیسا خداوند نے ان کو حکم دیا تھا بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان جیسے کام سیکھ لیے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو…
Read the full tafseer →سرکشی اوّل سزا :
5: فَاِذَا جَآ ئَ وَعْدُ اُوْلٰھُمَا (جب ان دو بار میں سے پہلی بار کا وقت آیا) وعدؔ سے پہلی مرتبہ کا عذاب ہے۔ بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ (ہم نے تم پر بھیجے) مسلط کردیئے عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ ( اپنے وہ بندے جو بڑے جنگجو تھے) لڑائی میں بہت سخت تھے۔ نمبر 2۔ نینوی کے سخاریب اور اس کی فوج۔ نمبر 3۔ بخت نصر با بلی۔ نمبر 4۔ جالوت۔ انہوں نے علماء کو قتل کیا۔ تورات کو جلا ڈالا۔ مسجد کو اجاڑ دیا۔ اور ستر ہزار افراد کو قید و بند میں ڈال دیا۔ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ (وہ تمہارے شہروں میں پھیل گئے) وہ گھروں میں لوٹ مار کیلئے پھرنے لگے۔ زجاج (رح) کہتے ہیں۔ الجوسؔ کسی چیز کو…
Read the full tafseer →تفسیر 5:۔” فاذا جاء وعد او لھما “ دو فسادوں میں پہلے فساد کا وعدہ آگیا ۔ قتادہ کا قول ہے کہ پہلی دفعہ اس کا فساد کرنا کیونکہ انہوں نے تورات کے احکام کو اور حرام کردہ چیزوں کو حلال جاننے کے باوجود ( ان پر یہ عذاب آیا) اور محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ پہلے بگاڑ سے مراد حضرت شعیاء (علیہ السلام) کو شہید کردینا اور ممنوعات کو اختیار کرنا ۔” بعثنا علیکم عبادًا لنا “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد جالوت اور اس کا لشکر ہے ۔ یہ جالوت وہی تھا جس نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو قتل کیا ۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ نینوی کے رہنے والے سخاریب اور اس کے ساتھی ہیں ۔ ابن اسحاق کا قول ہے کہ بخت نصر اور بابلی مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4۔ 8:۔ اللہ پاک نے بنی اسرائیل کے حال سے آنحضرت ﷺ کو خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں اس بات کی خبر بنی اسرائیل کو دیدی تھی کہ وہ دو بار دنیا میں فساد برپا کریں گے اور دونوں دفعہ ذلیل و خوار ہوں گے اور ویسا ہی ہوا۔ ایک دفعہ انہوں نے توریت کی مخالفت کی اور ذکریا (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے قتل کیا اللہ پاک نے اپنے قوی اور زور آور بندوں کو ان پر مقرر اور مسلط کردیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جالوت اور اس کا لشکر تھا اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو آگ میں جلا دیا اور مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرنا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
آیت نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوی محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ اس لئے یہاں فرمایا : (و اتینا موسیٰ الکتب) ، ، اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، ، یعنی تورات (وجعلنہ ھدیً لبنیٰ اسرائیل) ، ، اور کیا اس کو ہدایت واسطے نبی اسرائیل کے ، ، یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لئے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا (الا تتخذو من دونی وکیلا) ، ، تم میرے سوا کسی کو کار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سفر معراج کا آغاز
قول باری ہے (سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد لاقصی الذی بارکنا حولہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے) حضرت ام ہانی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ ان کے گھر سے اس رات معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (من المسجد الحرام) اس لئے کہ حرم سارے کا سارا مسجد ہے۔ اس بارے میں گزشتہ اوراق میں گفتگو ہوچکی ہے حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ حضور ﷺ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور وہیں سے آپ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →12۔ اللہ کا وعدہ اٹل اور قطعی، سبحانہ وتعالی :۔
سو اللہ کے وعدے نے بہرحال پورا ہوکررہنا ہوتا۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ ایسا وعدہ ہے جس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔ کیونکہ یہ وعدہ اصدق القآئلین حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے تھا۔ اور اس کا ہر وعدہ بہرحال سچا ہی ہوتا ہے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا۔ اور یہ وعدہ پورا ہو کررہا۔ بابل کے بادشاہ بخت نصر نے چڑھائی کرکے ستر ہزار یہود کو تہ تیغ کردیا۔ ہزاروں قیدی بنا کر وہ اپنے ملک لے گیا۔ انکے اموال اس نے لوٹ لیے۔ تورات جلادی اور بیت المقدس کی اس نے اینٹ بجا دی۔ یہاں تک کہ تورات کا اصل نسخہ بھی ناپیدہو گیا (ابن کثیر، فتح القدیر، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
عبرت کے لیے بنی اسرائیل کا ذکر
تشریح : یہاں معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اچانک بنی اسرائیل کا ذکر یوں آگیا کہ اہل مکہ کو خبردار کردیا جائے کہ یہ پیغمبر جو تم سے مخاطب ہے کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ انسانیت کی بلندیوں سے ہو کر آرہا ہے یہ عظیم الشان اور بہترین انسان حقیقت میں ایک سچا اور مقبول الٰہی نبی ہے اگر اس پر یقین نہ کرو گے ایمان نہ لائو گے تو پھر بنی اسرائیل کا حال تمہارے سامنے ہے کہ جو قومیں کتاب الٰہی پانے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتیں، نبیوں کو قتل کرتی ہیں، نافرمان اور سرکش ہوتی ہیں، تو ان کو ضرور دردناک سزا دی جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة بنی اسرائیل :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر…
Read the full tafseer →ف 9 پہلی مرتبہ فساد سے مراد حضرت شعیا کا قتل یا حضرت ارمیا کو قید کرنا ہے اور یا پھر توراۃ کے احکام کی خلاف ورزی مراد ہے اور دوسری مرتبہ سے مراد ان کے بادشاہ ہیر و ڈریس کا ایک فاحشہ عورت کے مطالبہ پر حضرت یحییٰ (یوحنا) کو قتل کرنا اور حضرت عیسیٰ کے قتل کا منصوبہ بنانا ہے۔ (شوکانی) یوحنا کے قتل کا واقعہ توراۃ میں مذکور ہے۔
Read the full tafseer →(17:5) فاذا جاء وعد اولہما۔ پھر جب ان دوباریوں میں سے پہلی مرتبہ کے وعدہ کا وقت آیا۔
بعثنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے بھیجا۔ بعث سے۔ یہاں بعثت سے مراد تشریعی بعثت نہیں کہ کسی رسول یا نبی کو بھیجا گیا بلکہ محض تکوینی بعثت مراد ہے۔
پھر تشریعی بعثت کے لئے بعث الی استعمال ہوا ہے کہ نبی ہمیشہ کسی قوم کی طرف اس کی بہتری کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ اور یہاں بعث علی استعمال ہوا ہے کہ سزا اور سرزنش کے لئے مبعوث کو بھیجا گیا۔
مفسرین کے نزدیک یہاں 586 ق۔ م میں بخت نصر تاجدار بابل ونینوا کے ہاتھوں بنی اسرائیل کی تباہی و بربادی کی طرف اشارہ ہے۔
عبادا۔ عبد کی جمع۔ بندے ۔ عبادا لنا۔ ہمارے بندے (بلا تخصیص ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 10
قضینا صاف صاف بتا دیا۔ مرتین دو مرتبہ تعلن تم ضرور ظلم / تکبر/سرکشی کرو گے۔ اولیٰ پہلا۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اولی باس لڑنے والے۔ جاسوا وہ گھس گئے۔ وہ پھیل گئے۔ الدیار (دیر) گھر، آبادیاں، شہر۔ مفعولاً کیا جانے اولا۔ رددنا ہم نے لوٹایا۔ کرۃ بار بار۔ نفیر لوگ۔ مددگار۔ احسنتم تم نے اچھا کیا۔ اساتم تم نے برا کیا۔ لیسوء تاکہ وہ بگاڑ دیں۔ لیتبروا تاکہ وہ تباہ کردیں گے۔ عدتم تم پلٹے۔ حصیر گھیر لے، روک لے، قید خانہ۔ یھدی رہنمائی کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ اقوم بالکل سیدھا، سب سے بہتر ۔
تشریح :- آیت نمبر 4 تا 10
تاریخ کے دھارے، دنیا کے حالات، رنگ ڈھنگ اور طرز فکر و عمل بدلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بنی اسرائیل کی بربادی
اس آیت میں ارشاد ہے کہ پہلی دفعہ انہوں نے احکام توریت کی مخالفت کی اور حضرت ارمیا کو قتل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جالوت لو مسلط کیا۔ اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو جلادیا۔ مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرتا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے قید کر لئے۔ یہ وعدہ اللہ پاک کا ضرور ہونے والا تھا۔ جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور تکبر و فساد سے باز آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت اور قوت دی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ سے جالوت قوم کے ہلاک کیا اور ان کو مسلط کیا لیکن ان کو یہ بات جتلا دی تھی کہ دیکھو یاد رکھو اب بھی اگر ٹھیک راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[8] اس سے مراد وہ تباہی و بربادی ہے جو 685 ق۔ م میں بابل کے بادشاہ بنوکدنزر (بخت نصر) کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بنی اسرائیل کی تباہی :
(ف 1) اللہ کا قانون ہے کہ جب قوموں کا اخلاق بگڑ جائے ، فواحش کا ارتکاب کھلم کھلا ہونے لگے ، دین کا اعزاز واحترام دلوں سے اٹھ جائے شہوت کا زور ہو ، تو اس قوم کی ذلت کے سامان پیدا کردیتا ہے ، رسوائی کو قریب کردیتا ہے ، اور کسی دوسری زبردست قوم کو ان پر مسلط کردیتا ہے تاکہ غلامی کی صعوبتوں سے دوچار ہوں اور انہیں آزادی کے ناجائز استفادہ کا نتیجہ معلوم ہو ، تاکہ وہ یہ جائیں کہ اللہ سے بےاعتنائی ناقابل عفو جرم ہے ۔
حل لغات : سبحن : تقدس کے لئے ہے یعنی معراج کے سلسلہ میں جس قدر اعتراضات عقل کی ماندگیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اللہ ان سے اعلی اور بلند ہے ۔
بنی اسرائیل نے جب حق…
Read the full tafseer →-5 پھر جب ان دوبارہ میں سے پہلی بار کا موقع آیا تو ہم نے تم پر اپنے ان بندوں کو مسلط کردیا اور تمہارے مقابلے اور تمہاری سزا کے لئے اپنے و ہ بندے بھیجے جو بڑے جنگ جو تھے سو وہ تمہارے شہروں اور گھروں میں پھیل پڑے اور وہ وعدہ ایسا تھا جو ضرور پورا ہونا ہی تھا۔
فساد برپا کرنا یہی کہ شریعت موسوی کی اعتقاداً اور عملاً مخالفت کرو گے اور سزا یہی کہ تمہارے اوپر بےرحم کافروں کو مسلط کردیا جائے گا اور وہ تمہاری انتہائی تذلیل و بےآبروئی کریں گے جیسا کہ جالوت کا ان پر غلبہ ہوا اور وہ عبادت گاہوں کی توہین کے ساتھ ساتھ بیشمار یہود کو گرفتار کر کے لے گیا اور قتل بھی کیا۔ آسمانی شریعت کے ماننے والوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 8۔ ایک بار شریعت موسویہ کی مخالفت، دوسری بات شریعت عیسویہ کی مخالفت۔
1۔ یعنی زیادتیاں کرو گے، پس لتفسدن میں حقوق اللہ کے اور لتعلن میں حقوق العباد کے ضائع کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →زیر نظر آیت میں پہلے حملے سے مراد بخت نصر کا حملہ ہے :
7۔ آپ سورة بقرہ میں طالوت کا ذکر پڑھ چکے کہ طالوت نے 1020 قبل مسیح ان کی گرتی ہوئی سلطنت کو سہارا دے کر دوبارہ کھڑا کردیا اور اس کے بعد داؤد (علیہ السلام) 1000 سے 961 قبل مسیح تخت سلطنت پر متمکن ہوئے اور آپ نے اپنے تدبر اور حسن انتظام سے سارے ملک میں امن وامان قائم کیا اس کے بعد ان کے فرزند ارجمند حضرت سلیمان (علیہ السلام) سربراہ حکومت ہوئے آپ کا عہد 961 تا 922 قبل مسیح بنی اسرائیل قبل مسیح بنی اسرائیل کے لئے ایک زریں عہد تھا لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد ہماری اس حکومت کا شیرازہ منتشر ہو گا ے اور یہ دن بدن راہ ہدایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
Sequence of Verses
Verses 2 and 3 featuring the statement: (We made it guidance for the children of Bani Isra'il) exhorted the Bani Isra'il to follow and obey the Divine Law. The verses that follow warn and admonish them on their disobedience. These verses mention two events relating to the Bani Isra'il so that they serve as a lesson. Tuned to sin and disobedience, first they increased the tempo of their hostility. Allah Ta` ala set their enemies upon them. They shook them up. The Jews got the message, cut down on their mischief and gave the impression of having been corrected. But, soon…
Read the full tafseer →7. This refers to the terrible destruction that the Israelites suffered at the hands of the Assyrians and Babylonians. One cannot fully appreciate the historical background of this merely from the extracts that have been reproduced above from the Books of the Prophets. A brief history of the Israelites is also needed so that a student may become acquainted with all the causes and circumstances on account of which Allah removed this nation, that professed to believe in a revealed Book, from the leadership of mankind and turned it into a humiliated, condemned and backward community.
After the…
Read the full tafseer →