Explained with ayahs 4–8
پیشین گوئی۔ جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر قضینا کے معنی مقرر کردینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت (وقضینا الیہ ذالک الامر) میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لئے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بےخوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 8
یہ اشارہ ہے اس مہلت کی طرف جو یہودیوں (یعنی اہل یہودیہ) کو بابل کی اسیری سے رہائی کے بعد عطا کی گئی۔ جہاں تک سامریہ اور اسرئیل کے لوگوں کا تعلق ہے، وہ تو اخلاقی و اعتقادی زوال کی پستیوں میں گرنے کے بعد پھر نہ اٹھے، مگر یہودیہ کے باشندوں میں ایک ایسا موجود تھا جو خیر پر قائم اور خیر کی دعوت دینے والا تھا۔ اس نے ان لوگوں میں بھی اصلاح کا کام جاری رکھا جو یہودیہ میں بچے کھچے رہ گئے تھے، اور ان لوگوں کو بھی توبہ وانابت کی ترغیب دی جو بابل اور دوسرے علاقوں میں جلا وطن کردیے گئے تھے۔ آخرکار رحمت الہی ان کی مددگار ہوئی۔ بابل کی سلطنت کو زوال ہوا۔ سن 539 قبل مسیح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں (خواہ توریت میں یا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل کے صیحیفوں میں) یہ بات (بطور پیشن گوئی کے) بتلادی تھی کہ تم سر زمین (شام) میں دو مرتبہ (گناہوں کی کثرت سے) خرابی کرو گے (ایک مرتبہ شریعت موسویہ کی مخالفت اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی مخالفت) اور دوسروں پر بھی بڑا زور چلانے لگو گے (یعنی ظلم و زیادتی کرو گے اس طرح لَتُفْسِدُنَّ میں حقوق اللہ کے ضائع کرنے کی طرف اور لَتَعْلُنّ میں حقوق العباد ضائع کرنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی بتلا دیا تھا کہ دونوں مرتبہ سخت سزاؤں میں بتلا کئے جاؤ گے) پھر جب ان دو مرتبہ میں پہلی مرتبہ کی میعاد آئے گی تو…
Read the full tafseer →ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا۔ ایک عرصہ کی غلامی اور بدحالی کے بعد بنی اسرائیل میں کچھ اصلاح حال کا جذبہ ابھرا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی طرف توجہ فرمائی، ان کے مال و اولاد میں برکت دی، اور تائید الٰہی ان کے لیے اس شکل میں ظاہر ہوئی کہ دارائے اول سائرس شاہ ایران نے 739 ق، م میں کلدانیوں کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا اور یہود کو جلا وطنی سے نجات دے کر وطن جانے اور اسے دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دے دی، جس کے بعد بنی اسرائیل کو از سر نو خاصا فروغ حاصل ہوا۔
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی بخت نصر یا جالوت کے قتل کے بعد ہم نے تمہیں پھر مال اور دولت، بیٹوں اور جاہ حشمت سے نوازا، جب کہ یہ ساری چیزیں تم سے چھن چکی تھیں۔ اور تمہیں پھر زیادہ جتھے والا اور طاقتور بنادیا۔
Read the full tafseer →4: تقریباً ستر سال تک بخت نصر کی غلامی میں رہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر اس طرح رحم فرمایا کہ ایران کے بادشاہ اخسویرس نے بابل پر حملہ کرکے اسے فتح کرلیا، اس موقع پر اسے ان یہودیوں کی حالت زار پر رحم آیا اور اس نے ان کو آزاد کرکے دوبارہ فلسطین میں بسادیا، اس طرح ان کو دوبارہ خوشحالی ملی، اور ایک مدت تک وہ بڑی تعداد میں وہاں آباد رہے، مگر جب خوشحالی ملنے پر انہوں نے دوبارہ بد اعمالیوں پر کمر باندھی تو وہ دوسرا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔
Read the full tafseer →ثم رددنا لکم الکرۃ علیھم وامددنکم باومال وبنین وجعلنکم اکثر نفیرا (71 : 6) ” اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبہ کا موقعہ دلایا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدددی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی “۔ اس کے بعد یہی عمل از سر نو دہرایا جاتا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ اس پیشن گوئی کا دوسرا حصہ روبعمل آئے اور جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہو ، اللہ تعالیٰ یہاں ایک نہایت ہی اہم اساسی قانون مکافات عمل بیان کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →11 یعنی جب تم ہماری طرف رجوع ہوئے اور توبہ وانابت کا طریقہ اختیار کیا ہم نے پھر ایک مرتبہ تم کو دشمنوں پر غالب کیا۔
Read the full tafseer →آیت 6 ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ
یعنی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر تمہیں سہارا دیا اور ان پر غلبے کا موقع عطا کردیا۔ اس سہارے کا باعث ایرانی بادشاہ کیخورس Cyrus یا ذوالقرنین بنا۔ اس نے عراق بابل پر تسلط حاصل کرلینے کے بعد تمہیں آزاد کر کے واپس یروشلم جانے اور اس شہر کو ایک دفعہ پھر سے آباد کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر جب تم نے واپس آکر یروشلم کو آباد کیا تو ہم نے ایک دفعہ پھر تمہاری مدد کی :
وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا
ہم نے تمہیں مال و اولاد میں برکت دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ تم لوگ خوب پھلے پھولے اور جلد ہی…
Read the full tafseer →7 یعنی جب تم نے اچھے کام کیے تھے تو ہم نے تمہیں غلبہ بھی دیا اور مال و اولاد میں بھی برکت عطا کی اور تم بگڑے اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو ہم نے تمہیں اس کی سزا دے دی اور یہی ہمارا دستور ہے۔
Read the full tafseer →11۔ (کسی ایسی حکومت کے ذریعہ سے جو تمہاری ہمدرد وہوا خواہ ہوگی اور یہ اس وقت جب تم اپنی حرکتوں پر پشیمان ہولوگے) دارائے اول سایرس یامورس شاہ ایران نے کلدانیوں کو شکست دے کر اور خود ان کے ملک پر قابض ہو کر 539 ق، م میں یہ ود کو جلاوطنی سے نجات دے کر وطن جانے اور اسے دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دے دی تھی، قرآن مجید کا یہ اشارہ اسی تاریخی واقعہ کی جانب ہے۔
12۔ یعنی تمہاری جو جائدادیں چھن گئی تھیں وہ تمہیں واپس مل جائیں گی اور تمہارے افراد جو قید ہوگئے تھے چھوٹ کر اپنے وطن آجائیں گے اور تمہاری آبادی اچھی خاصی ترقی کرجائے گی، جلاوطنی کے بعد اسرائیلیوں کو جو مال واپس ملا تھا، اس کا تذکرہ عہد عتیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیات نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے محمد ﷺ کو لیلاً ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اسراء رات کے سفر کو کہتے ہیں، اور لَیْل کو ذکر کرنے کا فائدہ لیل کی تنکیر سے مدت سیر کی قلت کی طرف اشارہ ہے مسجد حرام یعنی مکہ سے مسجد اقصیٰ (یعنی) بیت المقدس تک (بیت المقدس کا نام مسجد اقصی) اس کے مسجد حرام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے جس کے اطراف میں ہم نے پھلوں اور نہروں کے ذریعہ برکت رکھی ہے تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سے واقف…
Read the full tafseer →ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا . پھر ہم نے پھیر دی ان پر تمہاری باری اور تم کو طاقت عطا کردی (کثیر) مال اور بیٹے دے کر اور تمہاری جماعت بہت بڑی کردی۔
الْکَرَّۃَ یعنی سلطنت اور طاقت۔ عَلَیْہِمْ یعنی ان لوگوں پر جن کو تم پر مسلط کیا تھا۔ بیضاوی نے اس کی تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ بہمن بن اسفندیار جب اپنے دادا گشتاسپ بن لہراسپ کی جگہ شاہ ایران ہوا تو اللہ نے اس کے دل میں بنی اسرائیل کے لئے کچھ رحم پیدا کردیا ‘ اس نے تمام اسرائیلیوں کو قید سے رہا کر کے ملک شام کو بھیج دیا اور حضرت دانیال کو سب کا سردار بنا دیا…
Read the full tafseer →(6) پھر اللہ تعالیٰ نے کو رش ہمدانی بادشاہ کے ذریعے ان کی مدد فرمائی اور بخت نصر پر کو رش ہمدانی کو غلبہ دیا یعنی پھر ہم تمہیں دولت دے کر تم پر مہربانی فرمائیں گے اور مال اور بیٹوں سے تمہاری امداد فرمائی گے اور تمہاری جماعت اور تعداد کو بڑھا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا۔۔ : اس دو مرتبہ کے فساد اور اس کی سزا کی تعیین کا کوئی مضبوط اور قابل اعتماد ذریعہ ہمارے پاس قرآن و سنت کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ تاریخ خصوصاً قبل مسیح کی تاریخ کی نہ کوئی سند ہے نہ اس کے ثبوت کی کوئی اور پختہ دلیل، رہا ان کا فساد تو اس کا شمار ہی نہیں۔ قرآن مجید میں ان کے مذکور فسادات ہی دیکھ لیں، سمندر سے پار ہوتے ہی معبود بنانے کا مطالبہ، پھر سامری کا بچھڑا بنانا اور اس کی عبادت، پھر موسیٰ ؑ سے مسلسل مختلف تقاضے، حتیٰ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھنے کو موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کی شرط قرار دے دیا۔ پھر جہاد کے لیے نکلنے کی دعوت پر (فَاذْهَبْ اَنْتَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 6
قولہ تعالیٰ : ثم رددنالکم الکرۃ علیھم یعنی ہم نے تمہارے حق میں زمانے کی گزدش اور رجعت کو پلٹا دیا، اور یہ اس وقت ہوا
جب تم نے توبہ کی اور اطاعت اختیار کرلی۔ پھر کہا گیا ہے : یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے جالوت کو قتل کرنے یا کسی اور کو قتل کرنے کے سبب ہوا، یہ اس کے بارے میں اختلاف ہونے کی بنا پر ہے جس نے انہیں قتل کیا۔ وامددنٰکم باموالٍ وبنین (اور ہم نے مال اور بیٹوں سے تمہیں قوت دی) یہاں تک کہ تم اسی حالت پر لوٹ آئے جس پر پہلے تھے۔ وجعلنٰکم اکثر نفیرًا اور ہم نے تمہیں تعداد اور مردوں کے اعتبار سے دشمن سے زیادہ کردیا۔ اور نفیروہ ہے جو اپنے خاندان میں سے کسی مرد کے ساتھ چلے، کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
بنی اسرائیل کا زمین میں دو مرتبہ فساد پھیلانا :
160:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تو رات میں یہ عہد لیا کہ (آیت) ” لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیر “ (کہ تم ضرور فساد کروگے زمین میں دو مرتبہ) ان کا پہلا فساد یہ تھا کہ انہوں نے زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نبط بادشادہ کو مسلط کردیا پھر اس نے لشکر بھیجے اور اس کے ایک ہزار شہسوار تیر انداز تھے فرمایا (آیت) ” فھم اولی باس ‘ یعنی بنی اسرائیل قلعہ بند ہوگئے اور ان میں بخت نصر یتیم بن کر نکلا اور وہ کھانا مانگنے نکلا اور اس نے نرم گفتگو کی یہاں تک کہ وہ شہر میں داخل ہوگیا وہ…
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر ] [رَدَدْنَا : ہم نے لوٹا دیا ] [لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الْكَرَّةَ : اس باری کو ] [عَلَيْهِمْ : ان لوگوں پر ] [وَاَمْدَدْنٰكُمْ : اور ہم نے مدد دی تم کو ] [بِاَمْوَالٍ : مالوں سے ] [وَّبَنِيْنَ : اور بیٹوں سے ] [وَجَعَلْنٰكُمْ : اور ہم نے کردیا تم کو ] [اَكْثَرَ : زیادہ ] [نَفِيْرًا : بطور جتّھے کے ]
ترکیب : (آیت۔ 6) ۔ جَعَلْنَا کا مفعول اول کُمْ کی ضمیر ہے اور اَکْثَرَ مفعول ثانی ہے جبکہ نَفِیْرًا تمیز ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ (آیت۔ 7) ۔ فَلَھَا میں ھَا کی ضمیر اَنْفس کے لئے ہے۔ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ کے بعد آیت۔ 6 کا پورا جملہ بَعَثْنَا سے بَاسٍ شَدِیْدٍ تک محذوف ہے۔…
Read the full tafseer →اس کے بعد قتادہ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر پہلی بار جالوت کو مسلط فرما دیا تھا اس نے انہیں قید کیا اور قتل کیا اور برباد کیا پھر اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں انہیں قوت و طاقت عطا فرما دی جس کا (ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْھِمْ ) میں ذکر فرمایا ہے پھر دوسری بار جب شرو فساد میں منہمک ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو بھیج دیا جس نے ان کو قید کیا اور برباد کیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا جس کا (عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ) میں تذکرہ فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے پھر ان پر رحمت فرمائی لیکن ان لوگوں نے برائی کو اختیار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ذکر انجام مخالفت و معصیت برائے ترہیب عبرت
ال اللہ تعالیٰ : وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتاب .... الیٰ .... وجعلنا جھنم للکفرین حصیرا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے انعام کا ذکر فرمایا کہ ان کی ہدایت کیلئے توریت نازل کی مگر وہ بجائے رشد و ہدایت کے فتنہ و فساد میں جاگرے جس کا نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ دنیا ہی میں طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوئے۔ اب ان آیات میں احکام خداوندی کی مخالفت کرنے والوں کے برے انجام کو بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ عبرت پکڑیں کہ جو شخص اللہ سے باغی ہوجاتا ہے اللہ دنیا ہی میں اس کے دشمن کو اس پر مسلط کردیتا ہے۔ ان آیات میں اجمالا دو واقعوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
9:۔ پہلی بار جب بنی اسرائیل نے احکام تورات کی مخالفت کی، توحید کو چھوڑ کر شرک کرنے لگے، محرمات کو حلال کر ڈالا اور انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر مجوسی بادشاہ کو مسلط کردیا جس نے چالیس یا ستر ہزار اسرائیلی قتل کردئیے، باقیوں کو اپنے ساتھ لے گیا اور بیت المقدس کو مسمار کردیا۔ ” فجاسوا “ یعنی بخت نصر کا لشکر اسرائیلیوں کے گھروں کے اندر گھس گیا اور خوب خون خرابہ کیا (کبیر) ” ثم رددنا لکم الکرۃ الخ “ اس کے بعد حضرت داؤود (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہم نے تمہیں غلبہ عطا کیا اور مال و اولاد میں برکت دی اور تمہاری تعداد میں خوب اضافہ کیا۔ ” ان احسنتم الخ “ اب اگر تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کا ذکر ہوا ، پھر دوسری آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کرنے کا ذکر ہوا جسے اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے سامان ہدایت بنایا ، پھر اللہ نے تمام کتب سماویہ مع تورات کی غرض وغایب یہ بیان فرمائی کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا ، اور میرے ساتھ کسی طرح بھی شرک نہ کرنا ، پھر بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائیں اور فرمایا ، دیکھو ! تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) اللہ کے شکر گزار بندے تھے ، اللہ نے ان کو شکر گزاری کی وجہ سے طوفان سے محفوظ رکھا اور…
Read the full tafseer →ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا
رد
الرَّدُّ : صرف الشیء بذاته، أو بحالة من أحواله، يقال : رَدَدْتُهُ فَارْتَدَّ ، قال تعالی: وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147]
( رد د ) الرد ( ن )
اس کے معنی کسی چیز کو لوٹا دینے کے ہیں خواہ ذات شے کہ لوٹا یا جائے یا اس کی حالتوں میں سے کسی حالت کو محاورہ ہے ۔ رددتہ فارتد میں نے اسے لوٹا یا پس وہ لوٹ آیا ۔ قرآن میں ہے :۔
وَلا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 147] ( مگر بکے ) لوگوں سے اس کا عذاب تو ہمیشہ کے لئے ٹلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
یروشلم پر پانچواں حادثہ : آخر اینتوکس چہارم کا تسلط یروسلم پر ہوگیا جس نے کہانت کا عہدہ تیرہ لاکھ میں یسون یہودی کے ہاتھ فروخت کردیا۔ پھر اس سے واپس لے کر اس کے بھائی منلائوس کے ہاتھ چوبیس لاکھ پچھتر ہزار پر فروخت کر ڈالا۔ اینتوکس کی خبر وفات سن کر یسون اپنے بھائی پر حملہ آور ہوا اور اس کو قتل کردیا۔ چونکہ یہ بادشاہ ہنوز زندہ تھا، طیش میں آ کر حضرت مسیح سے ایک سو ستر برس پہلے یروسلم پر 1 ؎ سکندریہ کی سلطنت عظیم اس کے چاروں سرداروں میں یوں تقسیم ہوئی، سلوکس کو ایران و بابل اور چند صوبے مشرقی ملے کالس سانڈر کو مقدونیہ اور اس کے صوبجات انتگونس (اینتوکس) کو شام اور ایشیائِ کو چک کے اکثر صوبجات…
Read the full tafseer →ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْھِمْ وَاَمْدَدْنٰـکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰـکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا۔ اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْقف وَاِنْ اَسَاْ تُمْ فَلَھَا ط فَاِذَا جَآئَ وَعْدُالْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓئٗ ا وُجُوْھَکُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّلِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 6۔ 7)
(پھر ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ اگر تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
فہم القرآن
ربط کلام : بائبل کے مجموعۂ کتب مقدسہ میں یہ تنبیہات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ پہلے فساد اور اس کے برے نتائج پر بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا۔ دوسرے فساد اور اس کی سخت سزا کی پیشین گوئی حضرت مسیح (علیہ السلام) نے کی ہے جو متٰی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ ذیل میں ہم ان کتابوں کی متعلقہ عبارتیں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے اس بیان کی تصدیق ہوجائے۔
پہلے فساد پر اولین تنبیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کی تھی جس کے الفاظ یہ ہیں :
” انہوں نے ان قوموں کو ہلاک نہ کیا جیسا خداوند نے ان کو حکم دیا تھا بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان جیسے کام سیکھ لیے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو…
Read the full tafseer →دوبارہ درستگی :
6: ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ (پھر ہم نے تمہیں ان دشمنوں پر دوبارہ غلبہ دیا) سلطنت و غلبہ عَلَیْھِمْ جو تم پر مسلط کئے تھے۔ جب تم توبہ کر کے فساد سے باز آگئے اور تکبر چھوڑ دیا۔ نمبر 1۔ ایک قول یہ ہے کہ بخت نصر کا قتل مراد ہے۔ اور اس کے ہاتھوں سے قیدیوں کی رہائی و آزادی۔ اموال کی واپسی سلطنت کو دوبارہ میسر ہوجانا۔ نمبر 2۔ طالوت کو بادشاہی دیکر ہم نے سلطنت میسر کردی۔ داود (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کردیا۔ وَاَمْدَدْنٰکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا اور ہم نے تمہاری اموال اور اولاد سے مدد کی اور تمہیں لشکر کے لحاظ سے زیادہ کردیا ) ۔ اس…
Read the full tafseer →6۔” ثم رددنا لکم الکرۃ “ پھر ہم نے تمہاری سلطنت اور طاقت کو پھیر دیا۔” علیم وامددنا کم ب اموال وبنین وجعلنا کم اکثر نفیراً “ نفیر ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اپنے کسی آدمی کے ساتھ دشمن کی طرف مارچ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4۔ 8:۔ اللہ پاک نے بنی اسرائیل کے حال سے آنحضرت ﷺ کو خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں اس بات کی خبر بنی اسرائیل کو دیدی تھی کہ وہ دو بار دنیا میں فساد برپا کریں گے اور دونوں دفعہ ذلیل و خوار ہوں گے اور ویسا ہی ہوا۔ ایک دفعہ انہوں نے توریت کی مخالفت کی اور ذکریا (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے قتل کیا اللہ پاک نے اپنے قوی اور زور آور بندوں کو ان پر مقرر اور مسلط کردیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جالوت اور اس کا لشکر تھا اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو آگ میں جلا دیا اور مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرنا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
آیت نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوی محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ اس لئے یہاں فرمایا : (و اتینا موسیٰ الکتب) ، ، اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، ، یعنی تورات (وجعلنہ ھدیً لبنیٰ اسرائیل) ، ، اور کیا اس کو ہدایت واسطے نبی اسرائیل کے ، ، یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لئے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا (الا تتخذو من دونی وکیلا) ، ، تم میرے سوا کسی کو کار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سفر معراج کا آغاز
قول باری ہے (سبحان الذی اسری بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد لاقصی الذی بارکنا حولہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے) حضرت ام ہانی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ ان کے گھر سے اس رات معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (من المسجد الحرام) اس لئے کہ حرم سارے کا سارا مسجد ہے۔ اس بارے میں گزشتہ اوراق میں گفتگو ہوچکی ہے حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ حضور ﷺ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور وہیں سے آپ معراج کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →13۔ بنی اسرائیل کیلئے دوبارہ غلبہ وعطاء کا وعدہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم تمہیں دوبارہ غلبہ عطاء کریں گے اور جان ومال سے تمہاری مدد کریں گے جبکہ تم لوگ اپنی اصلاح اور درستی کی طرف متوجہ ہوؤگے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا اس لٹی پٹی اجڑی بکھری اور تہس نہس شدہ قوم کو حضرت شدہ قوم کو حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے اپنی قدرت کاملہ اور رحمت شاملہ سے پھر اٹھایا۔ یہاں تک کہ یہ پھر اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی اور بابلیوں سے لڑنے اور مقابلہ کرنے کے قابل ہوگئی۔ ان سے لڑ کر انہوں نے اپنے قیدیوں کو چھڑا لیا۔ اپنے لوٹے ہوئے مال ان سے واپس لے لئے اور ان کے مال و اولاد میں خوب ترقی ہوئی۔ (المراغی، الفتح وغیرہ) ۔ واضح رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
عبرت کے لیے بنی اسرائیل کا ذکر
تشریح : یہاں معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اچانک بنی اسرائیل کا ذکر یوں آگیا کہ اہل مکہ کو خبردار کردیا جائے کہ یہ پیغمبر جو تم سے مخاطب ہے کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ انسانیت کی بلندیوں سے ہو کر آرہا ہے یہ عظیم الشان اور بہترین انسان حقیقت میں ایک سچا اور مقبول الٰہی نبی ہے اگر اس پر یقین نہ کرو گے ایمان نہ لائو گے تو پھر بنی اسرائیل کا حال تمہارے سامنے ہے کہ جو قومیں کتاب الٰہی پانے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتیں، نبیوں کو قتل کرتی ہیں، نافرمان اور سرکش ہوتی ہیں، تو ان کو ضرور دردناک سزا دی جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة بنی اسرائیل :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی تاکہ تمہیں ڈھنڈ ڈھونڈ کر قتل کریں، لوٹ مار کریں اور قیدی بنائیں۔ یہاں ” عبادا “ سے بابل کے بادشاہ بخت نصر اور انکے ساتھی مراد ہیں۔ یا جالوت اور اس کے فوجی انہوں نے بنی اسرائیل کو خوب قتل کیا تو رات کو جلا ڈالا اور بیت المقدس کی مسجد مسمار کردی اور پھر ستر ہزار یہودیوں کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
Read the full tafseer →(17:6) رددنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے پھیر دیا۔ ہم نے لوٹا دیا۔ ہم نے واپس کردیا۔ ہم نے پلٹا دیا۔ لکم تمہارے حق میں۔
الکرۃ۔ الکر کے اصل معنی ہیں کسی چیز کو بالذات بالفعل پلٹانا یا موڑ دینا۔ یہ اصل میں مصدر ہے مگر بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اس کی جمع کرو رہے (مادہ کرر) اسی سے الکرۃ بمعنی دوسری بار ثم رددنا لکم الکرۃ علیہم پھر ہم نے دوسری بار تم کو ان پر غلبہ دیا۔
امددناکم۔ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم نے تمہاری مدد کی امداد (افعال) سے۔
نفیرا۔ منصوب بوجہ تمیز کے ہے اکثر سے نفیر کنبہ یا قبیلہ کے افراد۔ یا یہ نفر کی جمع ہے جیسے عبد کی جمع عبید ہے اور کلب کی جمع کلب کی جمع کلیب ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 10
قضینا صاف صاف بتا دیا۔ مرتین دو مرتبہ تعلن تم ضرور ظلم / تکبر/سرکشی کرو گے۔ اولیٰ پہلا۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اولی باس لڑنے والے۔ جاسوا وہ گھس گئے۔ وہ پھیل گئے۔ الدیار (دیر) گھر، آبادیاں، شہر۔ مفعولاً کیا جانے اولا۔ رددنا ہم نے لوٹایا۔ کرۃ بار بار۔ نفیر لوگ۔ مددگار۔ احسنتم تم نے اچھا کیا۔ اساتم تم نے برا کیا۔ لیسوء تاکہ وہ بگاڑ دیں۔ لیتبروا تاکہ وہ تباہ کردیں گے۔ عدتم تم پلٹے۔ حصیر گھیر لے، روک لے، قید خانہ۔ یھدی رہنمائی کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ اقوم بالکل سیدھا، سب سے بہتر ۔
تشریح :- آیت نمبر 4 تا 10
تاریخ کے دھارے، دنیا کے حالات، رنگ ڈھنگ اور طرز فکر و عمل بدلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بنی اسرائیل کی بربادی
اس آیت میں ارشاد ہے کہ پہلی دفعہ انہوں نے احکام توریت کی مخالفت کی اور حضرت ارمیا کو قتل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جالوت لو مسلط کیا۔ اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو جلادیا۔ مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرتا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے قید کر لئے۔ یہ وعدہ اللہ پاک کا ضرور ہونے والا تھا۔ جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور تکبر و فساد سے باز آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت اور قوت دی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ سے جالوت قوم کے ہلاک کیا اور ان کو مسلط کیا لیکن ان کو یہ بات جتلا دی تھی کہ دیکھو یاد رکھو اب بھی اگر ٹھیک راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[8] اس سے مراد وہ تباہی و بربادی ہے جو 685 ق۔ م میں بابل کے بادشاہ بنوکدنزر (بخت نصر) کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بنی اسرائیل کی تباہی :
(ف 1) اللہ کا قانون ہے کہ جب قوموں کا اخلاق بگڑ جائے ، فواحش کا ارتکاب کھلم کھلا ہونے لگے ، دین کا اعزاز واحترام دلوں سے اٹھ جائے شہوت کا زور ہو ، تو اس قوم کی ذلت کے سامان پیدا کردیتا ہے ، رسوائی کو قریب کردیتا ہے ، اور کسی دوسری زبردست قوم کو ان پر مسلط کردیتا ہے تاکہ غلامی کی صعوبتوں سے دوچار ہوں اور انہیں آزادی کے ناجائز استفادہ کا نتیجہ معلوم ہو ، تاکہ وہ یہ جائیں کہ اللہ سے بےاعتنائی ناقابل عفو جرم ہے ۔
حل لغات : سبحن : تقدس کے لئے ہے یعنی معراج کے سلسلہ میں جس قدر اعتراضات عقل کی ماندگیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اللہ ان سے اعلی اور بلند ہے ۔
بنی اسرائیل نے جب حق…
Read the full tafseer →-6 پھر ان دشمنوں پر ہم نے تم کو دوبارہ غلبہ دیا اور تمہاری باری اور تمہارے دن پھر دیئے یعنی تمہاری توبہ کرنے کے بعد اور تمہاری مال سے اور بیٹوں سے مدد کی اور تم کو لشکر کے اعتبار سے زیادہ کردیا یعنی دوسروں کی غلامی کے بعد جب تم کو احساس ہوا اور تم نے توبہ کی اور ناشائستہ اعمال ترک کردیئے تو ہم نے تمہارے نقصانات کی تلافی کردی اور تمہاری باری لوٹا دی اور مال و اولاد کی فراوانی سے نواز دیا اور جب اولاد بڑھی تو لشکر کی زیادتی ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 2۔ یعنی یہ چیزیں تم کو واپس ملیں گی اور ان سے تم کو قوت پہنچے گی۔
3۔ پس جاہ اور مال اور اولاد اور اتباع سب میں ترقی ہوگی۔
Read the full tafseer →8۔ بنی اسرائیل کی پہلی تباہی اور اس کے بعد ان کی دوبارہ حالت کی ذرا درستگی میں ایک مدت خرچ ہوئی اور بخت نصر کی موت کے بعد حالات نے دوبارہ پلٹا کھایا اور بابل کی سلطنت زوال پذیر ہوئی ، سیرس دوم شاہ فارس نے جسے بائبل میں خورس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے نے سرایا اور بابل پر 549 قبل مسیح حملہ کیا اور اس کو فتح کرلیا اور فتح کے بعد سب سے پہلا کام جو اس نے سرانجام دیا وہ یہی تھا کہ یہودا کی سلطنت کو بحال کرنے اور یروشلم کے ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فرمان جاری کیا اور بیشمار یہودی جو بابل میں جلا وطنی کی ذلیل زندگی بسر کر رہے تھے انہیں فلسطین واپس جانے کی اجازت دی چناچہ کتاب عزراء میں اس طرح درج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
Sequence of Verses
Verses 2 and 3 featuring the statement: (We made it guidance for the children of Bani Isra'il) exhorted the Bani Isra'il to follow and obey the Divine Law. The verses that follow warn and admonish them on their disobedience. These verses mention two events relating to the Bani Isra'il so that they serve as a lesson. Tuned to sin and disobedience, first they increased the tempo of their hostility. Allah Ta` ala set their enemies upon them. They shook them up. The Jews got the message, cut down on their mischief and gave the impression of having been corrected. But, soon…
Read the full tafseer →8. This refers to the lease of time that the Israelites (That is the people of Judah) got after their release from the captivity of Babylon. As for the people of Israel and Samaria, they did not rise again after their moral and spiritual degeneration. But among the people of Judah there still were some people who practiced the truth and invited others also to follow it. They carried on their work of invitation to the truth among the remaining Israelites in Judah and also exhorted those who had been driven out into Babylon and other lands to repent and follow the truth. At last the mercy of…
Read the full tafseer →