Al-Israa 17:7

Al-Israa · from ayah 7

17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۫— وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا ؕ— فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا ۟اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ‌ۖوَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا ‌ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ لِيَسُـوْۤءُو ا وُجُوۡهَكُمۡ وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِيُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِيۡرًا‏

اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کردیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[And said], "If you do good, you do good for yourselves; and if you do evil, [you do it] to yourselves." Then when the final promise came, [We sent your enemies] to sadden your faces and to enter the temple in Jerusalem, as they entered it the first time, and to destroy what they had taken over with [total] destruction.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:7

دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اُسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کر کے رکھ دیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کردیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائده کے لئے، اور اگر تم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لئے، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ) وه تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد میں گھس جائیں۔ اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر تم اچھے کام کرو گے تو اپنے ہی فائدے کے لیے کرو گے، اور برے کام کرو گے تو بھی وہ تمہارے لیے ہی برا ہوگا۔ چنانچہ جب دوسرے واقعے کی میعاد آئی (تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کردیا) تاکہ وہ تمہارے چہروں کو بگاڑ ڈالیں، اور تاکہ وہ مسجد میں اسی طرح داخل ہوں جیسے پہلے لوگ داخل ہوئے تھے، اور جس جس چیز پر ان کا زور چلے، اس کو تہس نہس کر کے رکھ دیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر تم بھلائی کرو گے اپنا بھلا کرو گے اور اگر بُرا کرو گے تو اپنا، پھر جب دوسری بار کا وعدہ آیا کہ دشمن تمہارا منہ بگاڑ دیں اور مسجد میں داخل ہوں جیسے پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں تباہ کرکے برباد کردیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر تم بھلائی کرو گے تو اپنے (ہی) لئے بھلائی کرو گے، اور اگر تم برائی کرو گے تو اپنی (ہی) جان کے لئے، پھر جب دوسرے وعدہ کی گھڑی آئی (تو اور ظالموں کو تم پر مسلّط کر دیا) تاکہ (مار مار کر) تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ مسجدِ اقصٰی میں (اسی طرح) داخل ہوں جیسے اس میں (حملہ آور لوگ) پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے اور تاکہ جس (مقام) پر غلبہ پائیں اسے تباہ و برباد کر ڈالیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر تم نے بھلائی کی تو اپنی جانوں کے لیے بھلائی کی اور اگر برائی کی تو انھی کے لیے، پھر جب آخری بار کا وعدہ آیا (تو ہم نے اور بندے تم پر بھیجے) تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ وہ مسجد میں داخل ہوں، جیسے وہ پہلی بار اس میں داخل ہوئے اور تاکہ جس چیز پر غلبہ پائیں اسے برباد کردیں، بری طرح برباد کرنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(دیکھو) اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لئے بھلائی کی اور اور اگر برائی کی اس کا وبال بھی تمہی پر ہوگا۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آگیا کہ (جابر فاتحین) تمہارے حلیہ بگاڑ دیں اور مسجد (اقصیٰ) میں ایسے ہی داخل ہوں جیسے پہلے بار داخل ہوئے تھے اور جہاں جہاں غلبہ پائیں اسے تہس نہس کردیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر تم بھلے کام کروگے تو اپنے لیے کروگے اور اگر برے کام کروگے تو بھی اپنے ہی لیے۔ پھر جب پچھلی بار کی میعاد آجاتی ہے تو ہم تم پر اپنے زور آور بندے مسلط کردیتے ہیں کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ وہ مسجد میں گھس پڑیں جس طرح پہلی بار گھس پڑے تھے اور تاکہ جس چیز پر ان کا زور چلے اسے تہس نہس کرڈالیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(سو) اگر تم نے اچھا کیا تو اپنے ہی لئے کرو گے، اور اگر تم نے برائی کی تو اس کا وبال بھی خود تم ہی لوگوں پر ہوگا، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آئے گا (تو ہم تم پر دوبارہ اپنے ایسے بندے مسلط کردیں گے) تاکہ وہ حلیہ بگاڑ کر رکھ دیں تمہارے چہروں کا، اور تاکہ وہ داخل ہوجائیں مسجد میں، جیسا کہ وہ اس میں داخل ہوگئے تھے پہلی مرتبہ، اور تاکہ وہ تمہیں تہس کر کے رکھ دیں، ہر اس چیز کو جس پر ان کا قابو چلے (اور ہاتھ پڑے)

— مولانا اسحاق مدنی

اگر اچھے کام کرو گے اپنے ہی لئے اچھائی کرو گے اور اگر برائی کرو گے تو بھی اپنے ہی حق میں۔ پھر جب پچھلی بار میعاد آئے گی (ہم دوسروں کو مسلط کردیں گے) تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ (تمہاری) عبادت گاہ میں گھس پڑیں جیسا کہ اس میں (اگلے لوگ) اگلی بار گھس آئے تھے اور تاکہ یہ جس چیز پر بھی ان کا زور چلے اسے تہس نہس کرڈالیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر تم نے کوئی بھلائی کی تو خود اپنے ہی لیے کی اور اگر کوئی برائی کمائی تو وہ بھی اپنے ہی لیے کمائی پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور وہ داخل ہوجائیں مسجد میں جیسے کہ داخل ہوئے تھے پہلی مرتبہ اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیں (ہر اس شے کو) جس کے اوپر بھی انہیں قبضہ حاصل ہوجائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر تم نیکو کاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لیے کرو گے اور اگر اعمال بد کرو گے تو ان کا وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو (ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد بیت المقدس میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Whenever you did good, it was to your own advantage; and whenever you committed evil, it was to your own disadvantage. So, when the time of the fulfilment of the second promise arrived, (We raised other enemies that would) disfigure your faces and enter the Temple (of Jerusalem) as they had entered the first time, and destroy whatever they could lay their hands on.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(saying) _If you do good, you will do it for your own benefit, and if you do evil, it will be against yourselves‘. Later, when came the time appointed for the second, (We sent others,) so that they spoil your faces, and so that they enter into the Mosque as the former ones entered it the first time, and utterly destroy whatever they prevail upon.

— Muhammad Taqi Usmani

(saying) _If you do good, you will do it for your own benefit, and if you do evil, it will be against yourselves‘. Later, when came the time appointed for the second, (We sent others,) so that they spoil your faces, and so that they enter into the Mosque as the former ones entered it the first time, and utterly destroy whatever they prevail upon.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(And We said): "If you do good, you do good for your own selves, and if you do evil (you do it) against yourselves." Then, when the second promise came to pass, (We permitted your enemies) to disgrace your faces and to enter the Masjid as they had entered it before, and to destroy with utter destruction all that fell in their hands.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Saying): If ye do good, ye do good for your own souls, and if ye do evil, it is for them (in like manner). So, when the time for the second (of the judgments) came (We roused against you others of Our slaves) to ravage you, and to enter the Temple even as they entered it the first time, and to lay waste all that they conquered with an utter wasting.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[And said], "If you do good, you do good for yourselves; and if you do evil, [you do it] to yourselves." Then when the final promise came, [We sent your enemies] to sadden your faces and to enter the temple in Jerusalem, as they entered it the first time, and to destroy what they had taken over with [total] destruction.

— Saheeh International

(We told you), "If you do good, it will be for your own benefit, but if you do bad, it will be against your souls. When the prophecy of your second transgression will come to pass, sadness will cover your faces. They (your enemies) will enter the mosque as they did the first time to bring about utter destruction.

— Muhammad Sarwar

If you do good, you will do good for your own souls, and if you do evil, it shall be for them. So when the second promise came (We raised another people) that they may bring you to grief and that they may enter the mosque as they entered it the first time, and that they might destroy whatever they gained ascendancy over with utter destruction.

— Muhammad Habib Shakir

If ye will do well ye will do well for yourselves, and if ye will do evil it will be against the same. Then when the promise of the second came, We raised up a people that they may disgrace your faces and may enter the Mosque even as they entered it the first time, and that they may destroy with utter destruction whatsoever may fall under their power.

— Abdul Majid Daryabadi

If ye did well, ye did well for yourselves; if ye did evil, (ye did it) against yourselves. So when the second of the warnings came to pass, (We permitted your enemies) to disfigure your faces, and to enter your Temple as they had entered it before, and to visit with destruction all that fell into their power.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–8

پیشین گوئی۔ جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر قضینا کے معنی مقرر کردینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت (وقضینا الیہ ذالک الامر) میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لئے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بےخوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 9 اس دوسرے فساد اور اس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بےروح ظاہر داری نے لے لی۔ آخرکار ان کے درمیان پھوٹ پڑگئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔ چناچہ پومپی سن 63 ق م میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کردیا۔ لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے ذریعے سے بالواسطہ اپنا کام نکلوانا زیادہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

خلاصہ تفسیر اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں (خواہ توریت میں یا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل کے صیحیفوں میں) یہ بات (بطور پیشن گوئی کے) بتلادی تھی کہ تم سر زمین (شام) میں دو مرتبہ (گناہوں کی کثرت سے) خرابی کرو گے (ایک مرتبہ شریعت موسویہ کی مخالفت اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی مخالفت) اور دوسروں پر بھی بڑا زور چلانے لگو گے (یعنی ظلم و زیادتی کرو گے اس طرح لَتُفْسِدُنَّ میں حقوق اللہ کے ضائع کرنے کی طرف اور لَتَعْلُنّ میں حقوق العباد ضائع کرنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی بتلا دیا تھا کہ دونوں مرتبہ سخت سزاؤں میں بتلا کئے جاؤ گے) پھر جب ان دو مرتبہ میں پہلی مرتبہ کی میعاد آئے گی تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا۔ " تائییس " کے ہاتھوں یہود کی دوسری تباہی : " ان احسنتم۔۔۔۔ الایۃ " یعنی ایک طویل غلامی کے بعد یہ جو نجات حاصل ہوئی تھی اس کے اندر خود یہ درس مضمر تھا کہ اب اگر تم بھلائی کی روش اختیار کروگے تو اس کا نفع خود اپنے ہی کو پہنچاؤگے اور اگر پھر وہی سرکشی کی روش اختیار کروگے تو اس کا انجام بھی ویسا ہی بھگتوگے۔ یہ نوشتہ دیوار بھی موجود تھا اور اس سے تمہارے نبیوں نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 یہ دوسری مرتبہ انہوں نے فساد برپا کیا کہ حضرت زکریا ؑ کو قتل کردیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی قتل کرنے کے درپے رہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا کر ان سے بچا لیا۔ اس کے نتیجے میں پھر رومی بادشاہ ٹیٹس کو اللہ نے ان پر مسلط کردیا، اس نے یروشلم پر حملہ کر کے ان کے کشتے کے پشتے لگا دیئے اور بہت سوں کو قیدی بنا لیا، ان کے اموال لوٹ لئے، مذہبی صحیفوں کو پاؤں تلے روندا اور بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو غارت کیا اور انھیں ہمیشہ کے لئے بیت المقدس سے جلا وطن کردیا۔ اور یوں ان کی ذلت و رسوائی کا خوب خوب سامان کیا۔ یہ تباہی 70 ء میں ان پر آئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–10

5: بعض حضرات نے تو کہا ہے کہ اس دوسرے دشمن سے مراد انتیو کس ایپی فانیوس ہے جس نے حضرت عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری سے کچھ پہلے دوبارہ بیت المقدس پر حملہ کرکے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع آسمانی کے بعد روم کے شاہ طیطوس کا حملہ ہے، اگرچہ بنی اسرائیل پر مختلف زمانوں میں بہت سے دشمن مسلط رہے ہیں، لیکن ان دو دشمنوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس لئے فرمایا ہے کہ ان کے حملوں میں انہیں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، اور ان میں سے پہلا دشمن یعنی بخت نصر ان پر اس وقت مسلط کیا گیا جب انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کی خلاف ورزی کی، اور دوسرا دشمن اس…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان احسسنتم احسنتھم لانفسکم وان اساتھم فلھا (71 : 7) ” دیکھو تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے یہ لئے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے ہی برائی ثابت ہوئی “۔ مکافات عمل کا یہ تو وہ اساسی قاعدہ ہے جو دنیا و آخرت میں یکساں لاگو ہے۔ یہ کہ انسان اپنے اعمال کا خود حقدار و ذمہ دار ہے۔ اس کے تمام پھل اور نتائج اس کے لئے ہیں۔ عمل اور جزائے عمل لازم و ملزوم ہیں۔ نتیجہ عمل سے پیدا ہوتا ہے ، اس لئے انسان ایک مسئول اور ذمہ دار ہستی ہے ، اگر چاہے تو اپنے ساتھ اچھا کرے یا برا کرے ، اگر اسے اچھے عمل یا برے عمل کا ثمرہ ملے تو اسے گلہ نہیں کرنا چاہیے۔ مکافات عمل کا یہ قاعدہ بیان کرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی بھلائی برائی کا جو کچھ نفع نقصان پہنچنا تھا تم ہی کو پہنچتا تھا، سو پہنچا۔ 2 یعنی مار مار کر تمہارے منہ بگاڑ دیئے۔ اور " مسجد اقصیٰ " (بیت المقدس) میں گھس کر پہلے کی طرح اودھم مچائی ہیکل وغیرہ کو تباہ کردیا۔ اس طرح " بنی اسرائیل " کی قوت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا تمہارے نیک اعمال کا فائدہ بھی تمہیں ہوا اور تمہاری برائیوں اور نافرمانیوں کا وبال دنیا میں بھی تم پر آیا اور اس کا وبال آخرت میں بھی تم پر پڑے گا۔ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جب دوبارہ تم نے اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی تمہارے اعتقادات نظریات اور اخلاق پھر سے مسخ ہوگئے تو وعدے کے عین مطابق تم پر عذاب کے دوسرے مرحلے کا وقت آپہنچا۔ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ اس سلسلے میں آیت 5 میں یہ الفاظ آئے تھے : بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ کہ ہم نے تم پر اپنے بندے مسلط کردیے جو سخت جنگجو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 سیدنا عزیر عليه السلام کی خدمات :۔ اس تباہی کے بعد سیدنا عزیر (علیہ السلام) نے دین موسوی کی تجدید کا بہت بڑا کام سرانجام دیا اور آپ نے قوانین شریعت کو نافذ کرکے ان اعتقادی اور اخلاقی برائیوں کو دور کرنا شروع کیا جو بنی اسرائیل کے اندر غیر قوموں کے اثر سے گھس آئی تھیں۔ اور بنی اسرائیل سے از سر نو اللہ کی بندگی اور اس کے احکام کی پابندی کا پختہ عہد لیا۔ تورات کو ازسر نو اپنی ذہنی یادداشت کے مطابق مرتب کرکے شائع کیا اور یہودیوں کی دینی تعلیم کا بھی انتظام کردیا۔ اس طرح ڈیڑھ سو سال بعد بیت المقدس پھر سے آباد اور یہودی مذہب و تہذیب کا پھر سے مرکز بن گیا۔ یہود کی دوسری بار فتنہ انگیزی اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ (اور خود ہی سزا بھگتوگے) یہ سب کچھ اسرائیلیوں سے اسی وقت ان کے پیغمبروں کی وساطت سے کہہ دیا گیا تھا۔ (آیت) ” ان احسنتم “۔ اس کے تحت میں ساری ہی نیکیاں اور طاعتیں آجاتی ہیں۔ لیکن خاص اشارہ اوپر معلوم ہوتا ہے کہ اگر تم نے انبیاء کا اتباع شروع کردیا۔ یہود کا اصل اور بنیادی جرم ہی اپنے انبیاء سے بار بار سرکشی اور نافرمانی تھی، توحید کے تو وہ بہرحال کسی نہ کسی صورت میں قائل ہی تھے۔ 14۔ یعنی جس طرح چھ صدیوں قبل کلدانی اور بابلی سپاہیوں نے تمہیں ہلاک وتباہ کرڈالا تھا اور تمہاری عبادتگاہ میں آگ لگادی تھی، اب کی بار رومی سپاہی عذاب الہی کے مؤکل بن کر تم پر نازل ہوں گے۔ ان پیش خبریوں کا عملا جس طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیات نمبر 1 تا 10 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے محمد ﷺ کو لیلاً ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اسراء رات کے سفر کو کہتے ہیں، اور لَیْل کو ذکر کرنے کا فائدہ لیل کی تنکیر سے مدت سیر کی قلت کی طرف اشارہ ہے مسجد حرام یعنی مکہ سے مسجد اقصیٰ (یعنی) بیت المقدس تک (بیت المقدس کا نام مسجد اقصی) اس کے مسجد حرام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے جس کے اطراف میں ہم نے پھلوں اور نہروں کے ذریعہ برکت رکھی ہے تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سے واقف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا (ہم نے کہہ دیا کہ) اگر بھلائی کرو گے تو اپنے لئے بھلائی کرو گے (یعنی اگر اللہ کے احکام پر) چلو گے تو خود تمہارے لئے سود مند ہوگا ثواب پاؤ گے اللہ کو تو تمہاری اطاعت سے کوئی فائدہ نہیں) اور اگر برائی کرو گے تب بھی اپنی جانوں کے لئے برائی کرو گے (خود ہی سزا پاؤ گے اپنا نقصان کرو گے اللہ کا کچھ ضرر نہ ہوگا) ۔ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا پھر جب پچھلی مرتبہ (کی سزا) کا وعدہ (مقررہ وقت) آپہنچا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(7) اگر تم توحید خداوندی پر قائم رہو گے تو اس کا ثواب یعنی جنت اپنے اپنے ہی نفع کے لیے حاصل کرو گے اور اگر تم شرک کرو گے تو اس کی سزا تم ہی کو بھگتنی پڑے گی۔ چناچہ تطوس کے غلبہ سے پہلے بنی اسرائیل دو سو بیس سال تک خوب خوشیوں اور نعمتوں اور مردوں کی زیادتی اور دشمنوں پر غلبہ میں مست رہے پھر جب ان دو بار میں سے دوسری سزا یا دوسرے فساد کی میعاد آئے گی تو ہم تم پر تطوس بن اسیانوس رومی کو مسلط کریں گے تاکہ وہ تمہیں مار مار کر اور قید کرکے تمہاری صورتیں بگاڑدے جس طرح بخت نصر لوٹ مار کے ساتھ بیت المقدس میں گھسا تو اسی یہ لوگ بھی گھس پڑیں گے اور جس چیز پر ان کا زور چلے گا سب کو ہلاک وبرباد کر ڈالیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ۔۔ :”لِيَسُوْۗءٗا“ ”سَاءَ ہُ یَسُوْءُ ہُ“ کا فعل مضارع ہے، جو اصل میں ”یَسُوْءُ وْنَ“ تھا۔ ”لام کَیْ“ کے بعد ”اَنْ“ مقدر کی وجہ سے نون گرگیا۔ یہ فعل متعدی ہے، غمگین کرنا، برا کردینا، بگاڑ دینا۔ خوشی ہو یا غم، جسمانی یا قلبی راحت ہو یا اذیت اس کا اثر چہرے پر نمایاں ہوتا ہے، خوشی میں چہرہ چمک اٹھتا ہے اور غم سے کالا ہوجاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) [ الملک : 27 ] ”پس جب وہ اس (عذاب) کو قریب دیکھیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے (بگاڑ دیے جائیں گے) جنھوں نے کفر کیا۔“ لوط ؑ کے غمگین ہونے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 7 قولہ تعالیٰ : ان احسنتم احسنتم لانفسکم یعنی اگر تم اچھے کام کرو گے تو تمہاری نیکی اور اچھے کام کا نفع تم پر ہی لوٹ کر آئے گا۔ وان اساتم فلھا ای فعلیھا۔ اور اگر تم برائی کروگے تو اس کی سزا بھی تمہیں پر ہوگی، جیسا کہ سلام لک بمعنی سلام علیک ہے (یعنی تجھ پر سلام ہو) ۔ کسی شاعر کا قول ہے : فخر صریعا للیدین و للفم اس میں بھی لام بمعنی علی ہے (یعنی وہ ہاتھوں اور منہ کے بل پر گرا) ۔ اور طبری نے کہا ہے : لام بمعنی الی ہے، یعنی وان اسأتم فإلیھا، یعنی اگر تم برائی کروگے تو اسی (نفس) کی طرف برائی کی سزا لوٹے گی) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : بان ربک اوحٰی لھا۔ (الزلزال) اس میں بھی لھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–8

بنی اسرائیل کا زمین میں دو مرتبہ فساد پھیلانا : 160:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تو رات میں یہ عہد لیا کہ (آیت) ” لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیر “ (کہ تم ضرور فساد کروگے زمین میں دو مرتبہ) ان کا پہلا فساد یہ تھا کہ انہوں نے زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نبط بادشادہ کو مسلط کردیا پھر اس نے لشکر بھیجے اور اس کے ایک ہزار شہسوار تیر انداز تھے فرمایا (آیت) ” فھم اولی باس ‘ یعنی بنی اسرائیل قلعہ بند ہوگئے اور ان میں بخت نصر یتیم بن کر نکلا اور وہ کھانا مانگنے نکلا اور اس نے نرم گفتگو کی یہاں تک کہ وہ شہر میں داخل ہوگیا وہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : اگر ] [اَحْسَنْتم : بھلائی کرتے ہو ] [اَحْسَنْتم : تو بھلائی کرتے ہو ] [لِانفُسِكُمْ : اپنی جانوں کے لئے ] [وَان : اور اگر ] [اَسَاْتم : تم برائی کرتے ہو ] [فَلَهَا : تو ان کے لئے ] [فَاِذَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آیا ] [وَعْدُ الْاٰخِرَةِ : آخری (باری) کا وعدہ ] [لِيَسُوْۗءٗا : (تو ہم نے بھیجا جنگجو بندوں کو) کہ وہ بگاڑ دیں ] [وُجوهَكُمْ : تمہارے چہروں کو ] [وَلِيَدْخُلُوا : اور تاکہ وہ داخل ہوں ] [الْمَسْجِدَ : مسجد میں ] [كَمَا : جیسے کہ ] [دَخَلُوْهُ : وہ داخل ہوئے اس میں ] [اَوَّلَ مَرَّةٍ : پہلی مرتبہ ] [وَّلِــيُتَبِرُوْا : اور تاکہ وہ برباد کریں ] [مَا : اس کو جس پر ] [عَلَوْا :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) میں بتایا کہ جو لوگ دو مرتبہ یہودیوں کو قتل کردیں گے دونوں مرتبہ مسجد بیت المقدس میں داخل ہوں گے (چنانچہ ایسا ہی ہوا) (وَلِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا) اس میں یہ بتایا ہے کہ وہ دوسری بار بھی بنی اسرائیل کی قوت و طاقت اور حکومت کو برباد کرکے چھوڑیں گے۔ (اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا) اور (وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا) میں یہ بتادیا کہ اچھے کام کرو گے تو اس کا اچھا پھل ملے گا اور سزا ملنے کے بعد پھر برے کاموں میں لگو گے تو پھر عذاب کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ صاحب بیان القرآن نے لکھا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–8

ذکر انجام مخالفت و معصیت برائے ترہیب عبرت ال اللہ تعالیٰ : وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتاب .... الیٰ .... وجعلنا جھنم للکفرین حصیرا۔ (ربط) گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے انعام کا ذکر فرمایا کہ ان کی ہدایت کیلئے توریت نازل کی مگر وہ بجائے رشد و ہدایت کے فتنہ و فساد میں جاگرے جس کا نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ دنیا ہی میں طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوئے۔ اب ان آیات میں احکام خداوندی کی مخالفت کرنے والوں کے برے انجام کو بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ عبرت پکڑیں کہ جو شخص اللہ سے باغی ہوجاتا ہے اللہ دنیا ہی میں اس کے دشمن کو اس پر مسلط کردیتا ہے۔ ان آیات میں اجمالا دو واقعوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ دوسری بار جب بنی اسرائیل نے شر و فساد بپا کیا، حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کو قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فردوس شاہ بابل کو ان پر مسلط کردیا جس نے لشکر بھیج کر بخت نصر کی طرح بنی اسرائیل میں خون خرابہ کیا (قرطبی) ۔ ” لیسواء “ مقدر کے متعلق ہے ” ای بعثنا علیکم عبادا لنا لیسواءا لخ “۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–8

ربط آیات : اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کا ذکر ہوا ، پھر دوسری آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کرنے کا ذکر ہوا جسے اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے سامان ہدایت بنایا ، پھر اللہ نے تمام کتب سماویہ مع تورات کی غرض وغایب یہ بیان فرمائی کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا ، اور میرے ساتھ کسی طرح بھی شرک نہ کرنا ، پھر بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائیں اور فرمایا ، دیکھو ! تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) اللہ کے شکر گزار بندے تھے ، اللہ نے ان کو شکر گزاری کی وجہ سے طوفان سے محفوظ رکھا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا ۝ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–7

یروشلم پر پانچواں حادثہ : آخر اینتوکس چہارم کا تسلط یروسلم پر ہوگیا جس نے کہانت کا عہدہ تیرہ لاکھ میں یسون یہودی کے ہاتھ فروخت کردیا۔ پھر اس سے واپس لے کر اس کے بھائی منلائوس کے ہاتھ چوبیس لاکھ پچھتر ہزار پر فروخت کر ڈالا۔ اینتوکس کی خبر وفات سن کر یسون اپنے بھائی پر حملہ آور ہوا اور اس کو قتل کردیا۔ چونکہ یہ بادشاہ ہنوز زندہ تھا، طیش میں آ کر حضرت مسیح سے ایک سو ستر برس پہلے یروسلم پر 1 ؎ سکندریہ کی سلطنت عظیم اس کے چاروں سرداروں میں یوں تقسیم ہوئی، سلوکس کو ایران و بابل اور چند صوبے مشرقی ملے کالس سانڈر کو مقدونیہ اور اس کے صوبجات انتگونس (اینتوکس) کو شام اور ایشیائِ کو چک کے اکثر صوبجات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا م وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ خَصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 8) (ممکن ہے تمہارا رب تم پر رحم کرے لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی اپنی سزا کا اعادہ کریں گے اور کافرِنعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قیدخانہ بنا رکھا ہے۔ ) بنی اسرائیل کے لیے آخری موقعہ اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت تمہارے لیے ایک آخری موقع ہے۔ اگر تم نے اس سے فائدہ اٹھایا تو عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے، لیکن اگر تم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا یعنی اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–8

فہم القرآن ربط کلام : بائبل کے مجموعۂ کتب مقدسہ میں یہ تنبیہات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ پہلے فساد اور اس کے برے نتائج پر بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا۔ دوسرے فساد اور اس کی سخت سزا کی پیشین گوئی حضرت مسیح (علیہ السلام) نے کی ہے جو متٰی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ ذیل میں ہم ان کتابوں کی متعلقہ عبارتیں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے اس بیان کی تصدیق ہوجائے۔ پہلے فساد پر اولین تنبیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کی تھی جس کے الفاظ یہ ہیں : ” انہوں نے ان قوموں کو ہلاک نہ کیا جیسا خداوند نے ان کو حکم دیا تھا بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان جیسے کام سیکھ لیے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7: اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا (اگر تم اچھے عمل کروگے تو اس کا فائدہ تمہارے ہی لئے ہوگا۔ اور اگر تم برے کام کروگے تو بھی اپنے ہی لئے کروگے) ایک قول نمبر 1۔ یہ ہے کہ لام علیٰ کے معنی میں ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے : وَعَلَیْہَا مَا اکْتَسَبَتْ ] البقرہ : 286[ صحیح قول یہ ہے کہ وہ اپنے معنی میں ہے۔ کیونکہ اختصاص کیلئے ہے عامل اپنے عمل کے بدلے کے ساتھ خاص ہے خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔ یعنی احسان، برائی دونوں تمہارے نفوس کے ساتھ خاص ہیں۔ انکا نفع و نقصان غیر کی طرف متعدی نہیں ہوسکتا۔ حضرت علی ؓ فرماتے کہ نہ احسان میں نے کسی کے ساتھ کیا اور نہ زیادتی ( مگر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7۔” ان احسنتم احسنتم لا نفسکم “ ان کے لیے ثواب ہے ” وان اساتم فلھا “ اگر برائی کرو گے تو اس کا وبال تم پر ہی آئے گا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فسلام لک “ یعنی تم پر سلام ہو۔ اگر برائی کرو گے تو اس کی جزا و سزا تم خود پائو گے۔ ” فاذا جاء وعد الاخرۃ “ اور ان کا دوسرا فساد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کرنے کا ارادہ کیا جب ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا ۔ انہوں نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو آرے سے چیر لیا ۔ اللہ نے ان پر فارس وروم کو مسلط کردیا ۔ خردوش طیطوس کو یہاں تک کہ انہوں نے ان کو قتل کیا اور بعضوں کو قید کیا اور بعضوں کو اپنے گھروں سے باہر نکالا۔ ” لیسوء اوجوھکم “ کہ تمہارے چہروں کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–8

4۔ 8:۔ اللہ پاک نے بنی اسرائیل کے حال سے آنحضرت ﷺ کو خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں اس بات کی خبر بنی اسرائیل کو دیدی تھی کہ وہ دو بار دنیا میں فساد برپا کریں گے اور دونوں دفعہ ذلیل و خوار ہوں گے اور ویسا ہی ہوا۔ ایک دفعہ انہوں نے توریت کی مخالفت کی اور ذکریا (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے قتل کیا اللہ پاک نے اپنے قوی اور زور آور بندوں کو ان پر مقرر اور مسلط کردیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جالوت اور اس کا لشکر تھا اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو آگ میں جلا دیا اور مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرنا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 2–8

آیت نمبر 2 اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوی محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ اس لئے یہاں فرمایا : (و اتینا موسیٰ الکتب) ، ، اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، ، یعنی تورات (وجعلنہ ھدیً لبنیٰ اسرائیل) ، ، اور کیا اس کو ہدایت واسطے نبی اسرائیل کے ، ، یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لئے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا (الا تتخذو من دونی وکیلا) ، ، تم میرے سوا کسی کو کار…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–11

قول باری ہے (وان اساتم فلھا) اور اگر تم نے برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے برائی ثابت ہوئی) ایک قول کے مطابق فلھا بمعنی فالیھا ہے جس طرح کہا جاتا ہے ” احسن الی نفسہ اس نے اپنے ساتھ بھلائی کی) یا اساء الی انفسہ (اس نے اپنے ساتھ برائی کی) حرف اضافت جب معنی کے لحاظ سے متقارب ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتے ہیں۔ قول باری ہے (بان ربک اوحی لھا اس لئے کہ تمہارے پروردگار کا حکم اسے یہی ہوگا) معنی کے لحاظ سے (اوحی لھا) اوحی الیھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14۔ انسان کی اچھائی اس کے خود اپنے ہی لئے :۔ سو اس اصولی کلیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” اگر تم نے اچھا کیا تو اپنے ہی لیے کرو “ کہ اس کا فائدہ اور صلہ وثمرہ خود تم ہی کو پہنچے گا نہ کہ حضرت حق۔ جل مجدہ کو کہ وہ اس طرح کے ہر تصور سے پاک اور بےنیاز ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اگر تم نے اپنے رب کی اطاعت کا راستہ اپنایا اس کے اوامر وارشادات کی اطاعت و اتباع کی اور اس کے نواہی و مناہی سے بچتے رہے تو اس سے تمہیں اس دنیا میں عزت و غلبہ اور خیروبرکت نصیب ہوگی۔ تمہارا رب تمہارے دشمنوں سے تمہاری حفاظت فرمائے گا اور آخرت میں اس کی بناء پر تمہیں ان عظیم الشان جنتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی جن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 2–8

عبرت کے لیے بنی اسرائیل کا ذکر تشریح : یہاں معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اچانک بنی اسرائیل کا ذکر یوں آگیا کہ اہل مکہ کو خبردار کردیا جائے کہ یہ پیغمبر جو تم سے مخاطب ہے کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ انسانیت کی بلندیوں سے ہو کر آرہا ہے یہ عظیم الشان اور بہترین انسان حقیقت میں ایک سچا اور مقبول الٰہی نبی ہے اگر اس پر یقین نہ کرو گے ایمان نہ لائو گے تو پھر بنی اسرائیل کا حال تمہارے سامنے ہے کہ جو قومیں کتاب الٰہی پانے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتیں، نبیوں کو قتل کرتی ہیں، نافرمان اور سرکش ہوتی ہیں، تو ان کو ضرور دردناک سزا دی جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

سورة بنی اسرائیل : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 جب بخت نصر قتل ہوا یا حضرت دائود نے جالوت کو قتل کی۔ (شوکانی) فوائد صفحہ ہذا 1 ان سے مراد رومی ہیں جنہوں نے بیت المقدس کو ویران کیا اور ہزاروں یہودیوں کو قتل اور قید کیا اور جو رہ گئے قیصر روم کی رعت بن کر رہے۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:7 ) اساتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم برائی کرو گے۔ یا تم نے برائی کی۔ تم نے برا کیا۔ اساء ۃ سے مادہ سوئ۔ فلھا۔ میں لام بمعنی علی ہے جیسا کہ وعلیھا ما اکتسبت۔ (2:286) اور جو (بد عمل) اس نے اپنے ارادہ واختیار سے کئے (اس کا برا نیتجہ عذاب وسزا کی صورت میں بھی) اسی پر ہوگا۔ یا یہ لام استحقاق کے لئے جیسا کہ ارشاد حق تعالیٰ ہے لہم عذاب عظیم (9:61) (اور جو دکھ پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو) ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ یا یہ لام اختصاص کے لئے ہے کہ اچھے اور برے کام کی جزا وسزا اس کے کرنے والے کے لئے مختص ہے یعنی وہی بھگتے گا۔ وعد الاخرۃ۔ دوسرا وعدہ۔ یعنی تمہاری دوسری دفعہ کی ظلم وتعدی و سرکشی و نافرمانی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 4–10

لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 10 قضینا صاف صاف بتا دیا۔ مرتین دو مرتبہ تعلن تم ضرور ظلم / تکبر/سرکشی کرو گے۔ اولیٰ پہلا۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اولی باس لڑنے والے۔ جاسوا وہ گھس گئے۔ وہ پھیل گئے۔ الدیار (دیر) گھر، آبادیاں، شہر۔ مفعولاً کیا جانے اولا۔ رددنا ہم نے لوٹایا۔ کرۃ بار بار۔ نفیر لوگ۔ مددگار۔ احسنتم تم نے اچھا کیا۔ اساتم تم نے برا کیا۔ لیسوء تاکہ وہ بگاڑ دیں۔ لیتبروا تاکہ وہ تباہ کردیں گے۔ عدتم تم پلٹے۔ حصیر گھیر لے، روک لے، قید خانہ۔ یھدی رہنمائی کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ اقوم بالکل سیدھا، سب سے بہتر ۔ تشریح :- آیت نمبر 4 تا 10 تاریخ کے دھارے، دنیا کے حالات، رنگ ڈھنگ اور طرز فکر و عمل بدلتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–8

بنی اسرائیل کی بربادی اس آیت میں ارشاد ہے کہ پہلی دفعہ انہوں نے احکام توریت کی مخالفت کی اور حضرت ارمیا کو قتل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جالوت لو مسلط کیا۔ اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو جلادیا۔ مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرتا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے قید کر لئے۔ یہ وعدہ اللہ پاک کا ضرور ہونے والا تھا۔ جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور تکبر و فساد سے باز آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت اور قوت دی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ سے جالوت قوم کے ہلاک کیا اور ان کو مسلط کیا لیکن ان کو یہ بات جتلا دی تھی کہ دیکھو یاد رکھو اب بھی اگر ٹھیک راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[9] یہ دوسری تباہی 70 ء میں ٹائیٹس رومی کے ہاتھوں ہوئی۔ پہلی سزا شریعت موسوی کے ترک و تحریف پر ملی تھی اور دوسری سزا رسالت عیسوی کے انکار پر دی گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

بنی اسرائیل کی تباہی : (ف 1) اللہ کا قانون ہے کہ جب قوموں کا اخلاق بگڑ جائے ، فواحش کا ارتکاب کھلم کھلا ہونے لگے ، دین کا اعزاز واحترام دلوں سے اٹھ جائے شہوت کا زور ہو ، تو اس قوم کی ذلت کے سامان پیدا کردیتا ہے ، رسوائی کو قریب کردیتا ہے ، اور کسی دوسری زبردست قوم کو ان پر مسلط کردیتا ہے تاکہ غلامی کی صعوبتوں سے دوچار ہوں اور انہیں آزادی کے ناجائز استفادہ کا نتیجہ معلوم ہو ، تاکہ وہ یہ جائیں کہ اللہ سے بےاعتنائی ناقابل عفو جرم ہے ۔ حل لغات : سبحن : تقدس کے لئے ہے یعنی معراج کے سلسلہ میں جس قدر اعتراضات عقل کی ماندگیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اللہ ان سے اعلی اور بلند ہے ۔ بنی اسرائیل نے جب حق…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-7 اگر تم نے اچھے کام اور نیک کام کئے تو اپنے ہی بھلے کے لئے اور ان اعمال کا فائدہ تم ہی کو پہنچے گا اور اگر تم نے برے کام کئیتو بھی اپنے ہی لئے کرو گے اور دین و دنیا میں ان اعمال کی سزا بھگتو گے پھر جب دوسری بار کا وقت آیا یعنی بنی اسرائیل نے مکرر فساد کیا اور شریعت موسوی کی مخالفت کی تو ہم نے دوسرے بندوں کو تم پر غلبہ دے دیا اور تم پر مسلط کردیا تاکہ وہ تم کو مار مار کر تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی مرتبہ کے حملہ آور لوگ مسجد میں گھس گئے تھے اسی طرح یہ پچھلے بھی مسجد یعنی بیت المقدس میں گھس جائیں نیز اس لئے کہ جس چیز پر یہ حملہ آور قابو پالیں اس کو بالکل برباد کر ڈالیں اور تہیس نہیس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–7

ف 2۔ یعنی یہ چیزیں تم کو واپس ملیں گی اور ان سے تم کو قوت پہنچے گی۔ 3۔ پس جاہ اور مال اور اولاد اور اتباع سب میں ترقی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب تم نے نیکی کی تو نیکی کا فائدہ بھی حاصل کیا اور برائی کرو گے تو اس کا وبال بھی تم ہی پر ہوگا : 9۔ یہودیوں کی پہلی تباہی جو بخت نصر کے ہاتھوں ہوئی اور یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کو انکے علاقے سے نکال کر کئی ایک ملکوں میں تتربتر کردیا اور جو یہودی اپنے علاقہ میں رہ گئے وہ بھی ہمسایہ قوموں کے ہاتھوں بری طرح ذلیل اور پامال ہو کر رہ گئے تھے ۔ زیر نظر آیت کے اس حصہ اول میں بتایا جارہا ہے کہ جب تک تم درست رہے نتیجہ بھی درست رہا لیکن جب تم خراب ہوگئے تو نتیجہ درست کیسے نکل سکتا تھا ؟ اصول خداوندی اپنی جگہ امٹ اور اٹل ہے کہ اگر تم نیکی کرو گے تو اس کی جزاء تم کو ملے گی اور اگر تم برائی کرو گے تو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

Sequence of Verses Verses 2 and 3 featuring the statement: (We made it guidance for the children of Bani Isra'il) exhorted the Bani Isra'il to follow and obey the Divine Law. The verses that follow warn and admonish them on their disobedience. These verses mention two events relating to the Bani Isra'il so that they serve as a lesson. Tuned to sin and disobedience, first they increased the tempo of their hostility. Allah Ta` ala set their enemies upon them. They shook them up. The Jews got the message, cut down on their mischief and gave the impression of having been corrected. But, soon…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9. The historical background of the second degeneration and its chastisement is as follows: The moral and religious fervor with which the Maccabees had started their movement gradually cooled down and was replaced by love of the world and empty external form. A split appeared among them and they themselves invited the Roman General, Pompey, to come to Palestine. Pompey turned his attention to this land in 63 B.C. By taking Jerusalem he put an end to the political freedom of the Jews. But the Roman conquerors preferred to rule their dominions through the agency of the local chiefs rather than…

Read the full tafseer →