Explained with ayahs 4–8
پیشین گوئی۔ جو کتاب بنی اسرائیل پر اتری تھی اس میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی سے خبر دے دی تھی کہ وہ زمین پر دو مرتبہ سرکشی کریں گے اور سخت فساد برپا کریں گے پس یہاں پر قضینا کے معنی مقرر کردینا اور پہلے ہی سے خبر دے دینا کے ہیں۔ جیسے آیت (وقضینا الیہ ذالک الامر) میں یہی معنی ہیں۔ بس ان کے پہلے فساد کے وقت ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں کو ان کے اوپر مسلط کیا جو بڑے ہی لڑنے والے سخت جان اور سازو سامان سے پورے لیس تھے وہ ان پر چھا گئے ان کے شہر چھین لئے لوٹ مار کر کے ان کے گھروں تک کو خالی کر کے بےخوف و خطر واپس چلے گئے، اللہ کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا کہتے ہیں کہ یہ جالوت کا لشکر تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 10
اس سے یہ شبہہ نہ ہونا چاہیے کہ اس پوری تقریر کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں۔ مخاطب تو کفار مکہ ہی ہیں، مگر چونکہ ان کو متنبہ کرنے کے لیے یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے چند عبرتناک شواہد پیش کیے گئے تھے، اس لیے بطور ایک جملہ معترضہ کے یہ فقرے بنی اسرائیل کو خطاب کر کے فرما دیا گیا تاکہ ان اصلاحی تقریروں کے لیے تمہید کا کام دے جن کی نوبت ایک ہی سال بعد مدینے میں آنے والی تھی۔
Read the full tafseer →ان دونوں واقعات کے ذکر کے بعد آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان معاملات میں اپنا ضابطہ بیان فرما دیا وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا یعنی اگر تم پھر نافرمانی اور سرکشی کی طرف لوٹو گے تو ہم پھر اس طرح کی سزاء و عذاب تم پر لوٹا دیں گے یہ ضابطہ قیامت تک کے لئے ارشاد ہوا ہے اور اس کے مخاطب وہ بنی اسرائیل تھے جو رسول کریم ﷺ کے عہد مبارک میں موجود تھے جس میں اشارہ کردیا گیا ہے کہ جس طرح پہلے شریعت موسویہ کی مخالفت سے اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی مخالفت سے تم لوگ سزا و عذاب میں گرفتار ہوئے تھے اب تیسرا دور شریعت محمدیہ کا ہے جو قیامت تک چلے گا اس کی مخالفت کرنے کا بھی وہی انجام ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان…
Read the full tafseer →عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا
" حصیر " کا ٹھیک ترجمہ باڑا ہے جس میں جانوروں کو بند کرتے ہیں۔
نبی ﷺ یہود کے لیے نجات : یہ ان یہود سے خطاب ہے جو ان آیات کے نزول کے وقت موجود اور قران کی مخالفت میں کفار قریش کی ہمنوائی و پشت پناہی کر رہے تھے۔ ان سے خطاب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوچکا ہے وہ تمہیں سنایا جا چکا۔ اب اگر خیریت چاہتے ہو تو اس نبی امری ﷺ کی دعوت نے تمہارے لیے نجات کی جو راہ کھولی ہے، اس کو اختیار کرو، اور اپنے مستقبل کر سنوار لو۔ اگر تم نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کرلی تو خدا بھی تم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8۔ 1 یہ انھیں تنبیہ کی کہ اگر تم نے اصلاح کرلی تو اللہ کی رحمت کے مستحق ہو گے۔ جس کا مطلب دنیا وآخرت کی سرخ روئی اور کامیابی ہے اور اگر دوبارہ اللہ کی نافرمانی کا راستہ اختیار کر کے تم نے فساد فی الارض کا ارتکاب کیا تو ہم پھر تمہیں اسی طرح ذلت و رسوائی سے دو چار کردیں گے۔ جیسے اس سے قبل دو مرتبہ ہم تمہارے ساتھ یہ معاملہ کرچکے ہیں چناچہ ایسا ہی ہوا یہ یہود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے اور وہی کردار رسالت محمدیہ کے بارے میں دہرایا جو رسالت موسوی اور رسالت عیسوی میں ادا کرچکے تھے جس کے نتیجے میں یہ یہودی تیسری مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہوئے اور بصد رسوائی انھیں مدینے اور خیبر سے نکلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
5: بعض حضرات نے تو کہا ہے کہ اس دوسرے دشمن سے مراد انتیو کس ایپی فانیوس ہے جس نے حضرت عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری سے کچھ پہلے دوبارہ بیت المقدس پر حملہ کرکے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع آسمانی کے بعد روم کے شاہ طیطوس کا حملہ ہے، اگرچہ بنی اسرائیل پر مختلف زمانوں میں بہت سے دشمن مسلط رہے ہیں، لیکن ان دو دشمنوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس لئے فرمایا ہے کہ ان کے حملوں میں انہیں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، اور ان میں سے پہلا دشمن یعنی بخت نصر ان پر اس وقت مسلط کیا گیا جب انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کی خلاف ورزی کی، اور دوسرا دشمن اس…
Read the full tafseer →عسبی ربکم ان یرحمکم (71 : 8) ” ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر حم کرے “۔ اگر تم اپنی تاریخ سے عبرت حاصل کرو۔
لیکن یاد رکھو اگر تم نے سرکشی کا یہ عمل پھر دہرایا تو اس کے نتائج پھر ظاہر ہوں گے۔ اللہ کی سنت جاری وساری ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
وان عدتم عدنا (71 : 8) ” لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے “۔ ہاں انہوں نے پھر فساد کیا ، اللہ نے ان پر مسلمانوں کو مسلط کردیا اور ان کو جزیرۃ العرب سے خارج ۔۔ کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے پوری دنیا میں فساد کیا تو اللہ نے ان پر اپنے اور بندوں کو مسلط کردیا اور ہٹلر نے ان کی گوشمالی کی۔ اور دور حاضر…
Read the full tafseer →3 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ' تورات میں کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل دو بار شرارت کریں گے، اس کی جزا میں دشمن ان کے ملک پر غالب ہوں گے۔ اسی طرح ہوا ہے۔ ایک بار جالوت غالب ہوا، پھر حق تعالیٰ نے اس کو حضرت داؤد کے ہاتھ سے ہلاک کیا۔ پیچھے بنی اسرائیل کو اور قوت زیادہ دی حضرت سلیمان کی سلطنت میں۔ دوسری بار فارسی لوگوں میں بخت نصر غالب ہوا۔ تب سے ان کی سلطنت نے قوت نہ پکڑی۔ اب فرمایا کہ اللہ مہربانی پر آیا ہے اگر اس نبی کے تابع ہو تو وہی سلطنت اور غلبہ پھر کر دے اور اگر پھر وہی شرارت کرو گے تو ہم وہی کریں گے۔ یعنی مسلمانوں کو ان پر غالب کیا اور آخرت میں دوزخ تیار ہے۔ " بعض علماء نے پہلے وعدہ سے بخت…
Read the full tafseer →آیت 8 عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا
اگر تم نے پہلے کی طرح ہماری نا فرمانیوں اور احکام شریعت سے اعراض کی روش اختیار کی تو ہم بھی اسی طرح پھر تمہیں سزا دیں گے۔
وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا
نافرمانیوں کی سزا دنیا میں تو ملے گی ہی جبکہ جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح جانوروں کو گھیر کر باڑے میں بند کردیا جاتا ہے اسی طرح آخرت میں اللہ کے نافرمانوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے قید خانے میں دھکیل دیا جائے گا۔ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنَا مَعَھُمْ !
Read the full tafseer →9 دور نبوی میں یہود کی فتنہ انگیزی اور اس کی سزا :۔ دو بار کی انتہائی سرکشی اور اس کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد دور نبوی کے یہود کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر تم نے اس نبی آخرالزمان سے وہی سرکشی اور بغاوت جاری رکھی جو تم سابقہ انبیاء کے وقت کرتے رہے تو پھر تمہیں ایسی ہی سزا ملے گی جیسے پہلے مل چکی ہے لیکن اس تنبیہ کا بھی ان پر کچھ اثر نہ ہوا اور یہود مدینہ نبی آخرالزمان پر ایمان لانے کی بجائے آپ سے بدعہدیاں، شرارتیں اور فتنہ انگیزیاں ہی کرتے رہے جس کے نتیجہ میں انھیں یہ سزا ملی کہ کچھ قتل کیے گئے، کچھ غلام بنائے گئے اور کچھ جلا وطن کیے گئے۔ حتیٰ کہ دور فاروقی میں سب یہود وہاں سے نکال کو خطہ عرب کو…
Read the full tafseer →15۔ (اور تم کو مزید ذلت وادبار سے بچا لے) اب خطاب ان اسرائیلیوں سے ہے جو قرآن کے معاصر اور براہ راست مخاطب تھے، ان سے ارشاد ہورہا ہے کہ پچھلی تباہیاں جو آنا تھیں آچکیں۔ اب بھی کچھ نہیں گیا ہے خاتم النبین ﷺ پر، شریعت موسوی وعیسوی کے جامع پر اگر آج ایمان لے آؤ، اور شریعت اسلامی کو قبول کرلو، تو اب بھی یہ ادبارٹل سکتا ہے۔
16۔ یہ آخرت کی سزا دنیوی سزا کے علاوہ ہے۔ (آیت) ” وان عدتم عدنا “۔ یعنی تم نے بھی اگر اپنی وہی پچھلی حرکتیں، وہی مخالفت حق، وہی انانیت و استکبار جاری رکھا تو پھر وہی سزائیں قتل، اسیری، جلاوطنی، خانماں بربادی وغیرہ اب بھی تمہارے لئے موجود ہیں، بدنصیب یہود عرب نے اس آخری تنبیہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیات نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے محمد ﷺ کو لیلاً ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اسراء رات کے سفر کو کہتے ہیں، اور لَیْل کو ذکر کرنے کا فائدہ لیل کی تنکیر سے مدت سیر کی قلت کی طرف اشارہ ہے مسجد حرام یعنی مکہ سے مسجد اقصیٰ (یعنی) بیت المقدس تک (بیت المقدس کا نام مسجد اقصی) اس کے مسجد حرام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے جس کے اطراف میں ہم نے پھلوں اور نہروں کے ذریعہ برکت رکھی ہے تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سے واقف…
Read the full tafseer →عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ (اے بنی اسرائیل) قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے۔ یعنی اگر تم محمد ﷺ
پر ایمان لے آؤ گے اور قرآن کا اتباع کرتے ہوئے اپنے اعمال درست کرلو گے تو امید ہے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔
وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا : اور اگر تم (اللہ کی نافرمانی اور رسول کی مخالفت کی طرف) لوٹے تو ہم بھی (سزا اور
انتقام کی طرف) لوٹیں گے۔
پس عبداللہ بن سلام ‘ شاہ نجاشی ‘ کعب احبار اور ان جیسے دوسرے اہل کتاب جب رسول اللہ : ﷺ پر ایمان لے آئے تو اللہ نے ان پر رحمت نازل فرما دی ‘ ان کی ثنا کی اور فرمایا : مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآءِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰہِ اٰنَآء…
Read the full tafseer →(8) عجب نہیں کہ (اگر تم شریعت محمدیہ کی پیروی کرو) تو تمہارا پروردگار اس کے بعد تم رحم فرمائے، اور اگر تم پھر وہی شرارت کرو گے تو ہم بھی پھر وہی سزا کا برتاؤ کریں گے اور اگر تم نیکیاں کرو گے تو ہم بھی رحمتیں نازل فرمائیں گے اور ہم نے جہنم کو ایسے کافروں کا جیل خانہ بنا رکھا ہے۔
Read the full tafseer →عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ : یہ اللہ کی رحمت کا بیان ہے کہ اتنی سرکشی اور سزا کے بعد بھی اگر تم واپس پلٹ آؤ اور حد سے بڑھی ہوئی اس دوسری سرکشی اور اس کی وجہ سے ناقابل بیان تباہی سے دو چار ہونے کے بعد بھی تورات و انجیل میں مذکور نبی محمد ﷺ کی پیروی اختیار کرو تو پوری امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف کی آیات (156، 157) میں فرمایا کہ میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو اس رسول کی پیروی کریں گے جو امی نبی ہے، جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ چناچہ اس بشارت کے مطابق جو اسرائیلی،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 8
قولہ تعالیٰ : عسٰی ربکم ان ہر حمکم اور یہ (خبر) ان میں سے ہے جس کے بارے انہیں ان کی کتاب میں خبر دی گئی ہے اور عسیٰ اللہ تعالیٰ لی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ ان سے (اس تکلیف اور غم کو) دور فرمادے گا، اور عسی کا لفظ اللہ تعالیٰ سے واجب (اور ثابت) ہونے کے معنی میں ہوتا ہے۔ ان ترحمکم کہ تیرا رب تم سے اپنا انتقام لینے کے بعد تم پر رحم فرمائے گا، اور پھر اسی طرح ہوا، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد کو پڑھادیا اور ان سے کئی بادشاہ بنائے۔ وان عدتم عدنا حضرت قتادہ نے بیان کیا ہے : پس وہ دربارہ (فسق وفجور کی طرف) لوٹ آئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کو غالب فرمادیا۔ اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
بنی اسرائیل کا زمین میں دو مرتبہ فساد پھیلانا :
160:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تو رات میں یہ عہد لیا کہ (آیت) ” لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیر “ (کہ تم ضرور فساد کروگے زمین میں دو مرتبہ) ان کا پہلا فساد یہ تھا کہ انہوں نے زکریا (علیہ السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نبط بادشادہ کو مسلط کردیا پھر اس نے لشکر بھیجے اور اس کے ایک ہزار شہسوار تیر انداز تھے فرمایا (آیت) ” فھم اولی باس ‘ یعنی بنی اسرائیل قلعہ بند ہوگئے اور ان میں بخت نصر یتیم بن کر نکلا اور وہ کھانا مانگنے نکلا اور اس نے نرم گفتگو کی یہاں تک کہ وہ شہر میں داخل ہوگیا وہ…
Read the full tafseer →[عَسٰي : بعید نہیں ] [رَبُّكُمْ : تمہارے رب سے ] [ان : کہ ] [يَّرْحَمَكُمْ : وہ رحم کرے تم پر ] [وَان : اور اگر ] [ عُدْتم : تم واپس ہوئے (گناہ کی طرف)] [عُدْنَا : تو ہم واپس ہوں گے (سزا کی طرف)] [وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [جَهَنَّمَ : جہنم کو ] [لِلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لئے ] [حَصِيْرًا : ایک قید خانہ ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (وَ جَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا) (اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے حصیر بنا دیا) حصیر کا ترجمہ بعض حضرات نے سجن یعنی جیل خانہ کیا ہے کیونکہ یہ حصر یحصر سے ماخوذ ہے جو روکنے کے معنی میں آتا ہے اور حضرت حسن نے فرمایا کہ اس سے فراش یعنی بچھونا مراد ہے حصیر چٹائی کو کہتے ہیں اسی نسبت سے انہوں نے اس کا یہ معنی لیا ہے آیت کریمہ (لَھُمْ مِّنْ جَھَنَّمَ مِھَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِھِمْ غَوَاشٍ ) سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ذکر انجام مخالفت و معصیت برائے ترہیب عبرت
ال اللہ تعالیٰ : وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتاب .... الیٰ .... وجعلنا جھنم للکفرین حصیرا۔
(ربط) گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے انعام کا ذکر فرمایا کہ ان کی ہدایت کیلئے توریت نازل کی مگر وہ بجائے رشد و ہدایت کے فتنہ و فساد میں جاگرے جس کا نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ دنیا ہی میں طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوئے۔ اب ان آیات میں احکام خداوندی کی مخالفت کرنے والوں کے برے انجام کو بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ عبرت پکڑیں کہ جو شخص اللہ سے باغی ہوجاتا ہے اللہ دنیا ہی میں اس کے دشمن کو اس پر مسلط کردیتا ہے۔ ان آیات میں اجمالا دو واقعوں…
Read the full tafseer →11:۔ اس کے بعد اگر تم ٹھیک راہ پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی فرمائے گا اور تمہیں دنیا میں اقتدار اور غلبہ دے گا لیکن اگر پھر تم نے راہ فساد اختیار کی تو پھر دنیا میں ویسا ہی عذاب دیں گے اور آخرت میں جہنم میں قید کیے جاؤ گے۔ یہ یہودی کب باز آنے والے تھے چناچہ اس کے بعد حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کی، آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، آپ پر جادو کرنے کی کوشش کی اور کھانے میں آپ کو زہر دیا تو دنیا میں یہ سزا ملی کہ کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور باقیوں نے ذلت سے جزیہ دینا قبول کیا۔ وعاد بنو قریظۃ و بنو النضیر و اشباھہم فارادوا قتل النبی ﷺ وسحروہ و جعلوا السلم فی طعامہ و حاربہ فعاد اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کا ذکر ہوا ، پھر دوسری آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کرنے کا ذکر ہوا جسے اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے سامان ہدایت بنایا ، پھر اللہ نے تمام کتب سماویہ مع تورات کی غرض وغایب یہ بیان فرمائی کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا ، اور میرے ساتھ کسی طرح بھی شرک نہ کرنا ، پھر بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائیں اور فرمایا ، دیکھو ! تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) اللہ کے شکر گزار بندے تھے ، اللہ نے ان کو شکر گزاری کی وجہ سے طوفان سے محفوظ رکھا اور…
Read the full tafseer →عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا
عسی
عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین
( ع س ی ) عسیٰ
کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین سے کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →2 ؎ عسٰی ربکم کا اشارہ یا تو آنحضرت ﷺ کے عہد کے یہود کی طرف ہے کہ اب بھی وقت ہے اگر تم نے نبی آخر الزماں (علیہ السلام) کی اطاعت کرلی تو خدا پھر تم پر رحم کرے گا تمہارا برگشتہ زمانہ جا کر پہلے دن آجائیں گے اور اگر پھر بھی وہی شرارت کرو گے تو دنیا میں ہم تم پر کوئی تازہ آفت لائیں گے اور آخرت۔ تو جہنم منکروں کا جیل خانہ تیار ہے یہود نے آنحضرت ﷺ سے شرارت کی اور رہی سہی عزت جاتی رہی دنیا بھر میں ایک انچ زمین کے بھی حاکم نہیں جہاں کہیں ہیں محکوم و ذلیل ہیں یا یہ اسی وقت کے یہود کی طرف اشارہ تھا جس کو حکایت کیا جاتا ہے چناچہ یہود بخت نصر کے حادثہ کے بعد کچھ نیکی کی طرف آئے، شان و شوکت بھی عود کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا م وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ خَصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 8)
(ممکن ہے تمہارا رب تم پر رحم کرے لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی اپنی سزا کا اعادہ کریں گے اور کافرِنعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قیدخانہ بنا رکھا ہے۔ )
بنی اسرائیل کے لیے آخری موقعہ
اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت تمہارے لیے ایک آخری موقع ہے۔ اگر تم نے اس سے فائدہ اٹھایا تو عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے، لیکن اگر تم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا یعنی اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
فہم القرآن
ربط کلام : بائبل کے مجموعۂ کتب مقدسہ میں یہ تنبیہات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ پہلے فساد اور اس کے برے نتائج پر بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا۔ دوسرے فساد اور اس کی سخت سزا کی پیشین گوئی حضرت مسیح (علیہ السلام) نے کی ہے جو متٰی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ ذیل میں ہم ان کتابوں کی متعلقہ عبارتیں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے اس بیان کی تصدیق ہوجائے۔
پہلے فساد پر اولین تنبیہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کی تھی جس کے الفاظ یہ ہیں :
” انہوں نے ان قوموں کو ہلاک نہ کیا جیسا خداوند نے ان کو حکم دیا تھا بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان جیسے کام سیکھ لیے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو…
Read the full tafseer →گنجائش توبہ :
8: عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ( عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے) دوسری مرتبہ کے بعد۔ اگر تم دوسری مرتبہ توبہ کرلو اور معاصی سے باز آگئے۔ وَاِنْ عُدْتُّّمْ عُدْنَا (اگر تم نے پھر وہی کیا تو ہم بھی پھر وہی کریں گے) تیسری مرتبہ تمہاری سزا کی طرف لوٹیں گے انہوں نے معاصی کی طرف جھکائو اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اکاسرہ کو ان پر مسلط کردیا۔ اور ان پر خراج مقرر کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قیامت تک مسلمانوں کو ان پر مسلط کردیا۔ وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا (اور ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنایا) حَصِیْرًا کا معنی قیدخانہ۔ اس کے مُحْصِر،…
Read the full tafseer →تفسیر 8۔” عسیٰ ربکم “ اے بنی اسرائیل ” ان یرحکم “ تمہارے انتقام لینے کے بعد تمہیں تمہاری بادشاہت واپس لوٹا دی جائیگی ۔ ” وان عدتم عدنا “ یعنی اگر تم واپس معصیت کی طرف لوٹو گے تو ہم بھی تمہیں سزا دینے کی طرف رخ کریں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ پھر وہ لوٹ آئے ہم نے ان میں حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا جو ان لوگوں سے جزیہ لیتے تھے ۔ ” وجعلنا جھنم اللکافرین حصیراً “ اس جہنم کو ان کے لیے قید خانہ بنادیا ہے وہ اس سے کبھی نکل نہ سکیں گے ۔ حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ ” حصیرا ً “ سے مراد فرش ہے ، ہم کافروں کیلئے جہنم کو بچھونا کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
4۔ 8:۔ اللہ پاک نے بنی اسرائیل کے حال سے آنحضرت ﷺ کو خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں اس بات کی خبر بنی اسرائیل کو دیدی تھی کہ وہ دو بار دنیا میں فساد برپا کریں گے اور دونوں دفعہ ذلیل و خوار ہوں گے اور ویسا ہی ہوا۔ ایک دفعہ انہوں نے توریت کی مخالفت کی اور ذکریا (علیہ السلام) کو ان لوگوں نے قتل کیا اللہ پاک نے اپنے قوی اور زور آور بندوں کو ان پر مقرر اور مسلط کردیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جالوت اور اس کا لشکر تھا اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو آگ میں جلا دیا اور مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرنا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
آیت نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوی محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ اس لئے یہاں فرمایا : (و اتینا موسیٰ الکتب) ، ، اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، ، یعنی تورات (وجعلنہ ھدیً لبنیٰ اسرائیل) ، ، اور کیا اس کو ہدایت واسطے نبی اسرائیل کے ، ، یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لئے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا (الا تتخذو من دونی وکیلا) ، ، تم میرے سوا کسی کو کار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
قول باری ہے (وان اساتم فلھا) اور اگر تم نے برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے برائی ثابت ہوئی) ایک قول کے مطابق فلھا بمعنی فالیھا ہے جس طرح کہا جاتا ہے ” احسن الی نفسہ اس نے اپنے ساتھ بھلائی کی) یا اساء الی انفسہ (اس نے اپنے ساتھ برائی کی) حرف اضافت جب معنی کے لحاظ سے متقارب ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتے ہیں۔ قول باری ہے (بان ربک اوحی لھا اس لئے کہ تمہارے پروردگار کا حکم اسے یہی ہوگا) معنی کے لحاظ سے (اوحی لھا) اوحی الیھا ہے۔
Read the full tafseer →16۔ بنی اسرائیل سے آئندہ کیلئے رحمت کا وعدہ اور انکو حق کی دعوت :۔
ہوسکتا ہے تمہارا رب رحم فرما دے تم لوگوں پر اگر تم نے اپنی اصلاح کرلی اور اپنی روش کو درست رکھا تو “ (عسی) کا لفظ یہاں پر وعدہ و یقین کے معنی میں ہے کہ یہ شاہانہ کلام کا ایک خاص اسلوب و اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں پر وعدہ و یقین کو عام طور پر ” عیسیٰ “ اور ” لعل “ جیسے الفاظ امید وترجی سے ہی ادا کیا جاتا ہے۔ (کبیر، صفوۃ وغیرہ) اور یہاں تو یہ باشاہ حقیقی اور احکم الحاکمین کے کلام صدق ترجمان میں ذکر ہوا ہے۔ تو پھر اس کے کہنے ہی کیا۔ سو اس میں بگڑے بھٹکے لوگوں کیلئے امید و رحمت کا پیغام ہے کہ تم لوگ اپنی اصلاح کرلو تو رحمت حق تم کو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
عبرت کے لیے بنی اسرائیل کا ذکر
تشریح : یہاں معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اچانک بنی اسرائیل کا ذکر یوں آگیا کہ اہل مکہ کو خبردار کردیا جائے کہ یہ پیغمبر جو تم سے مخاطب ہے کوئی معمولی انسان نہیں بلکہ انسانیت کی بلندیوں سے ہو کر آرہا ہے یہ عظیم الشان اور بہترین انسان حقیقت میں ایک سچا اور مقبول الٰہی نبی ہے اگر اس پر یقین نہ کرو گے ایمان نہ لائو گے تو پھر بنی اسرائیل کا حال تمہارے سامنے ہے کہ جو قومیں کتاب الٰہی پانے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتیں، نبیوں کو قتل کرتی ہیں، نافرمان اور سرکش ہوتی ہیں، تو ان کو ضرور دردناک سزا دی جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة بنی اسرائیل :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی قتل اور قید ہوگئے اور جلا وطنی یا جزیہ کی ذلت برداشت کرنا پڑیگی۔ چناچہ بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو مسلسلمانوں کے ہاتھوں میں سزا ملی۔
Read the full tafseer →(17:8) عسی ربکم ان یرحمکم۔ (عجب نہیں کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے) یہ خطاب ان اسرائیلیوں سے ہے جو قرآن کے معاصر اور براہ راست مخاطب تھے۔
اس سے قبل ان تبتم عن المعاصی وتؤمنوا باللہ وبرسولہ (محمد ﷺ ) محذوف ہے یہ اس جملہ شرطیہ کا جواب ہے عسی ربکم ان یرحمکم۔
ان عدتم۔ یہ جملہ شرطیہ ہے اگر تم سرکشی کی طرف دوبارہ پھرے۔
عدنا۔ جوابِ شرط۔ تو (اس کی سزا و عذاب دینے کے لئے) ہم بھی دوبارہ (ایسا ہی) کریں گے (جیسا کہ پہلے تمہیں سزا دی تھی) عاد یعود عود (باب نصر) پھر آنا۔ پھر کرنا۔ کسی چیز سے ہٹ جانے کے بعد پھر اس کی طرف لوٹنا۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل ہے۔ یعنی اگر تم سرکشی کی طرف دوبارہ پھر تو پھر ہم بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 10
قضینا صاف صاف بتا دیا۔ مرتین دو مرتبہ تعلن تم ضرور ظلم / تکبر/سرکشی کرو گے۔ اولیٰ پہلا۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اولی باس لڑنے والے۔ جاسوا وہ گھس گئے۔ وہ پھیل گئے۔ الدیار (دیر) گھر، آبادیاں، شہر۔ مفعولاً کیا جانے اولا۔ رددنا ہم نے لوٹایا۔ کرۃ بار بار۔ نفیر لوگ۔ مددگار۔ احسنتم تم نے اچھا کیا۔ اساتم تم نے برا کیا۔ لیسوء تاکہ وہ بگاڑ دیں۔ لیتبروا تاکہ وہ تباہ کردیں گے۔ عدتم تم پلٹے۔ حصیر گھیر لے، روک لے، قید خانہ۔ یھدی رہنمائی کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ اقوم بالکل سیدھا، سب سے بہتر ۔
تشریح :- آیت نمبر 4 تا 10
تاریخ کے دھارے، دنیا کے حالات، رنگ ڈھنگ اور طرز فکر و عمل بدلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بنی اسرائیل کی بربادی
اس آیت میں ارشاد ہے کہ پہلی دفعہ انہوں نے احکام توریت کی مخالفت کی اور حضرت ارمیا کو قتل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جالوت لو مسلط کیا۔ اس نے یہود کے علماء کو چن چن کر قتل کر ڈالا اور توریت کو جلادیا۔ مسجد اور گھروں میں گھس گھس کر لوگوں کو قتل و غارت کرتا شروع کیا اور ستر ہزار آدمی انہوں نے قید کر لئے۔ یہ وعدہ اللہ پاک کا ضرور ہونے والا تھا۔ جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور تکبر و فساد سے باز آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت اور قوت دی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ سے جالوت قوم کے ہلاک کیا اور ان کو مسلط کیا لیکن ان کو یہ بات جتلا دی تھی کہ دیکھو یاد رکھو اب بھی اگر ٹھیک راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
[10] خطاب اب ان اسرائیلیوں سے ہے جو قرآن کے معاصر اور براہ راست مخاطب تھے۔ ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ پچھلی تباہیاں جو آنا تھیں آچکیں۔ اب بھی کچھ نہیں گیا ہے۔ خاتم النبین پر اگر آج ایمان لے آؤ تو اب بھی یہ ادبار ٹل سکتا ہے۔
[11] یعنی تم نے بھی اگر سرکشی و مخالفت حق کی راہ ترک نہ کی تو پھر وہی ہلاکت و بربادی اب بھی تمہارے لئے موجود ہے۔ بدنصیب یہود عرب نے اس آخری تنبیہہ کو نہ سنا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے سارے طاقت ور قبیلے ایک ایک کر کے قلیل ہی مدت کے اندر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
بنی اسرائیل کی تباہی :
(ف 1) اللہ کا قانون ہے کہ جب قوموں کا اخلاق بگڑ جائے ، فواحش کا ارتکاب کھلم کھلا ہونے لگے ، دین کا اعزاز واحترام دلوں سے اٹھ جائے شہوت کا زور ہو ، تو اس قوم کی ذلت کے سامان پیدا کردیتا ہے ، رسوائی کو قریب کردیتا ہے ، اور کسی دوسری زبردست قوم کو ان پر مسلط کردیتا ہے تاکہ غلامی کی صعوبتوں سے دوچار ہوں اور انہیں آزادی کے ناجائز استفادہ کا نتیجہ معلوم ہو ، تاکہ وہ یہ جائیں کہ اللہ سے بےاعتنائی ناقابل عفو جرم ہے ۔
حل لغات : سبحن : تقدس کے لئے ہے یعنی معراج کے سلسلہ میں جس قدر اعتراضات عقل کی ماندگیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اللہ ان سے اعلی اور بلند ہے ۔
بنی اسرائیل نے جب حق…
Read the full tafseer →-8 عجب نہیں کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم فرمائے اور اگر تم پھر ان شرارتوں کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی قسم کی سزا کا اعادہ کریں گے اور آخرت میں تو ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنا ہی رکھا ہے۔ یعنی اس کے نافرمانوں کو دنیا میں بھی سزا دی جائے گی اور آخرت میں تو بہرحال جہنم کا قید خانہ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے بنا ہی رکھا ہے۔ مفسرین نے حملہ آوروں کی تعین میں بہت سے اقوال نقل کئے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں تو رات میں کہہ دیا تھا کہ دو بار بنی اسرائیل شرارت ریں گے اس کی جزا میں دشمن ان کے ملک میں غالب ہوں گے اسی طرح ہوا ہے ایک بار جالوت غالب ہوا ہے پھر حق تعالیٰ نے اس کو حضرت دائود (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 4۔ چناچہ حضور کے وقت میں انہوں نے آپ کی مخالفت کی، پھر قتل اور قید اور ذلیل ہوئے۔
Read the full tafseer →جزائے عمل کے متعلق جو کچھ کہا جاسکتا ہے اس آیت میں کہہ دیا گیا ہے :
11۔ زیر نظر آیت کے مختصر الفاظ میں وہ سب کچھ کہہ دیا گیا جو جزائے عمل کے بارے میں کہا جاسکتا ہے فرمایا (آیت) ” ان عدتم عدنا “۔ اگر تم دوبارہ انہی شرارتوں کی طرف لوٹے تو ہم بھی لوٹیں گے ، بلاشبہ بظاہر خطاب یہود ہی سے ہے کیونکہ ان ہی کی حالت کا بیان اس جگہ ہورہا ہے تاہم اصول سارے انسانوں کے لئے ہے جو اس دھرتی کے منہ پر بستے ہیں ان الفاظ سے قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ مطلب بالکل واضح ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی انسان بدعملیوں کی طرف لوٹیں گے تو اللہ کا قانون مکافات بھی پاداش و عقوبت کی طرف لوٹے گا ، جونہی…
Read the full tafseer →After having mentioned these two events, Allah Ta’ ala declared His Law in such matters by saying: إِنْ عُدتُّمْ عُدْنَا (If you do this again, We shall do that again - 8). This law which means - if you return to disobedience and contumacy, We shall, once again, make a similar penalty and punishment zoom back upon you' - has been declared as valid right through the last day of Qiyamah. That its addressees were the people of Bani Isra'il who were present during the blessed time of the Holy Prophet ﷺ serves as a reminder to them. It is being pointed out to them that they should not forget that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
10. Though this admonition has been given as a parenthesis at the end of the address to the children of Israel, it does not mean that this and the address itself are solely meant for them. As a matter of fact, the whole address is really directed towards the disbelievers of Makkah but, instead of addressing them directly, some important historical events from the history of the children of Israel have been cited in order to serve as admonition for them.
Read the full tafseer →