Explained with ayahs 9–10
بہترین راہنما قرآن حکیم ہے
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی کتاب کی تعریف میں فرماتا ہے کہ یہ قرآن بہترین راہ کی طرف رہبری کرتا ہے۔ ایماندار جو ایمان کے مطابق فرمان نبوی پر عمل بھی کریں انہیں یہ بشارتیں سناتا ہے کہ ان کے لئے اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے انہیں بیشمار ثواب ملے گا۔ اور جو ایمان سے خالی ہیں انہیں یہ قرآن قیامت کے دن کے دردناک عذابوں کی خبر دیتا ہے جیسے فرمان ہے آیت (فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 24 ۙ) 84۔ الانشقاق :24) انہیں المناک عذابوں کی خبر پہنچا دے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 10
اس سے یہ شبہہ نہ ہونا چاہیے کہ اس پوری تقریر کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں۔ مخاطب تو کفار مکہ ہی ہیں، مگر چونکہ ان کو متنبہ کرنے کے لیے یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے چند عبرتناک شواہد پیش کیے گئے تھے، اس لیے بطور ایک جملہ معترضہ کے یہ فقرے بنی اسرائیل کو خطاب کر کے فرما دیا گیا تاکہ ان اصلاحی تقریروں کے لیے تمہید کا کام دے جن کی نوبت ایک ہی سال بعد مدینے میں آنے والی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ربط آیات
شروع سورت میں معجزہ معراج سے رسول کریم ﷺ کی شان رسالت کا بیان تھا ان آیات میں معجزہ قرآن سے اس کا اثبات ہے۔
خلاصہ تفسیر
بلاشبہ یہ قرآن ایسے طریقہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے (یعنی اسلام) اور (اس طریقہ کے ماننے اور نہ ماننے والوں کی جزاء وسزا بھی بتلاتا ہے کہ) ان ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کو بڑا بھاری ثواب ملے گا اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لئے ایک درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے اور (بعض) انسان (جیسے کفار ہیں) برائی (یعنی عذاب) کی ایسی دعا کرتا ہے جس طرح بھلائی کی دعاء (کی جاتی ہے) اور انسان کچھ (کچھ طبعاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آگے کا مضمون۔ آیات 9 تا 21: آگے کی آیات میں مشرکین قریش اور یہود دونوں کو اس قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے جو فطرت کی اسی صراط مستقیم کی دعوت دے رہا ہے جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی ہے۔ اس دعوت پر ایمان لانے والوں اور اس کی تکذیب کرنے والو، دونوں کا انجام واضح فرما دیا گیا ہے اور ان لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو آفاق میں پھیلی ہوئی نشانیوں اور قرآن کی واضح آیات سے آنکھیں بند کیے ہوئے عذاب کی نشانیوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اسی ذیل میں بالاجمال اس سنت الٰہی کو وضاحت کردی گئی ہے جو قوموں کو عذاب دینے کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے اختیار فرمائی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
تفسیر آیات 9۔ 10: اِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8۔ 1 یہ انھیں تنبیہ کی کہ اگر تم نے اصلاح کرلی تو اللہ کی رحمت کے مستحق ہو گے۔ جس کا مطلب دنیا وآخرت کی سرخ روئی اور کامیابی ہے اور اگر دوبارہ اللہ کی نافرمانی کا راستہ اختیار کر کے تم نے فساد فی الارض کا ارتکاب کیا تو ہم پھر تمہیں اسی طرح ذلت و رسوائی سے دو چار کردیں گے۔ جیسے اس سے قبل دو مرتبہ ہم تمہارے ساتھ یہ معاملہ کرچکے ہیں چناچہ ایسا ہی ہوا یہ یہود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے اور وہی کردار رسالت محمدیہ کے بارے میں دہرایا جو رسالت موسوی اور رسالت عیسوی میں ادا کرچکے تھے جس کے نتیجے میں یہ یہودی تیسری مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل وخوار ہوئے اور بصد رسوائی انھیں مدینے اور خیبر سے نکلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
5: بعض حضرات نے تو کہا ہے کہ اس دوسرے دشمن سے مراد انتیو کس ایپی فانیوس ہے جس نے حضرت عیسیٰ ؑ کی تشریف آوری سے کچھ پہلے دوبارہ بیت المقدس پر حملہ کرکے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ ؑ کے رفع آسمانی کے بعد روم کے شاہ طیطوس کا حملہ ہے، اگرچہ بنی اسرائیل پر مختلف زمانوں میں بہت سے دشمن مسلط رہے ہیں، لیکن ان دو دشمنوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس لئے فرمایا ہے کہ ان کے حملوں میں انہیں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، اور ان میں سے پہلا دشمن یعنی بخت نصر ان پر اس وقت مسلط کیا گیا جب انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کی خلاف ورزی کی، اور دوسرا دشمن اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یہ قرآن راہ راست دکھاتا ہے۔ یہ ہر قسم کی ہدایت کا سرچشمہ ہے اور ہر کسی کے لئے منبع ہدایت ہے۔ بغیر کسی حدود وقیود کے۔ انسانوں کی راہنمائی کے لئے جس ہدایت ، جس نظام کی ضرورت ہے وہ اس میں موجود ہے۔ ہر دور اور ہر قسم کے معاشرے میں۔
انسانی ضمیر و شعور کو یہ ایک واضح عقیدہ اور صاف و سادہ خیالات عطا کرتا ہے ، ایسے عقائد و تصورات جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ خیالات انسانی شعور کو وہم و گمان ، اوہام و خرافات سے پاک کرکے اس کی سوچ کو قوانین قدرت اور ۔۔۔۔ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔
پھر یہ قرآن انسان کے ظاہر و باطن کو باہم مربوط کرتا ہے۔ انسانی سوچ اور عمل کو باہم یکساں کرتا ہے اور انسانی…
Read the full tafseer →4 یعنی یوں تو " تورات " بھی بنی اسرائیل کو راہ بتانے والی تھی جیسا کہ پہلے فرمایا " ہُدًی لِّبَنِی اِسْرَائِیْلَ " لیکن یہ قرآن ساری دنیا کو سب سے زیادہ اچھی، سیدھی اور مضبوط راہ بتاتا ہے۔ تمام " قویم راہیں " اس " اقوم " کے تحت میں مندرج ہوگئی ہیں۔ لہذا اگر کامیابی اور نجات چاہتے ہو تو خاتم الانبیاء کی پیروی میں اسی سیدھی سڑک پر چلو۔ جو لوگ قلب وجوارح یعنی ایمان و عمل صالح سے اس صاف و کشادہ راہ پر چلیں گے قرآن ان کو دنیا میں حیات طیبہ کی اور آخرت میں جنت کی عظیم الشان بشارت سناتا ہے۔ باقی جنہیں انجام کا کچھ خیال نہیں۔ اندھا دھند دنیا کی لذات و شہوات میں غرق ہیں۔ آخرت کی اصلاً فکر نہیں رکھتے،…
Read the full tafseer →آیت 9 اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ
یاد رکھو ! اب راہ ہدایت وہی ہوگی جس کی نشان دہی یہ کتاب کرے گی جسے ہم اپنے آخری رسول پر نازل کر رہے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ کے قصر رحمت میں داخل ہونے کا ”شاہدرہ“ ایک ہی ہے اور وہ ہے یہ قرآن۔ اب اگر تم اللہ کے دامن رحمت میں پناہ لینا چاہتے ہو تو اس قرآن کے راستے سے ہو کر آؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو اللہ کی رحمت کے دروازے ایک بار پھر تمہارے لیے کھل جائیں گے اور جو رفعتیں اور برکتیں اس آخری نبی کی امت کے لیے لکھی گئی ہیں تم بھی ان میں حصہ دار بن جاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ الف اس سے پہلے تورات کا ذکر ہو رہا تھا جس پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل پر متعدد بار دینی اور دنیوی مصائب نازل ہوئے۔ درآنحالیکہ انھیں پہلے سے ہی متنبہ کردیا گیا تھا کہ اگر تم اس پر عمل نہ کرو گے تو تمہارا ایسا انجام ہوگا اس کے بعد قرآن مجید کے متعلق دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک یہ کہ تمام دینی اور دنیاوی معاملات میں جو کچھ بھی اچھے سے اچھے دستور اور منزل مقصود کا جو راستہ سب سے سیدھا ہے اسی کی طرف یہ قرآن رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن نے انسان کی ہدایت پھر اس کی سعادت اور شقاوت سے متعلق کوئی بات نہیں چھوڑی۔ دوسرے یہ کہ اچھے اور برے کاموں کے انجام سے بھی پوری تفصیل سے آگاہ کرتا ہے جس کا…
Read the full tafseer →17۔ صلاح و فلاح دارین، دنیوی واخروی فوز و کامرانی کی راہیں اسی کتاب حقیقت ترجمان سے وابستہ ہیں، ذرا اس پر عمل کرکے دیکھو تو۔ (آیت) ” اقوم “۔ سے ادھر اشارہ ہوگیا کہ سابق کتب آسمانی کی بتائی ہوئی راہیں بھی اپنی اپنی جگہ سیدھی ہیں لیکن یہ قرآن والی شاہراہ سب سے بڑھ کر اور سب کی جامع ہے۔ اے اقوم الطرق واسدھا (روح) (آیت) ” ھذا القران “۔ اشارۂ ھذا تعظیم قرآن کے لئے ہے۔ وفی الاشارۃ بھذا تعظیم لماجآء بہ النبی ﷺ (روح) (آیت) ” یھدی “۔ اس کا مفعول عام ہے۔ یعنی یہ ہدایت سب ہی کو کرتا ہے۔ کسی مخصوص فرقہ کو نہیں، اے الناس کافۃ لافرقۃ مخصوصۃ (روح) (آیت) ” للتی “۔ یہاں الطریقۃ محذوف ہے۔ اے للطریقۃ التی (روح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیات نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے محمد ﷺ کو لیلاً ظرفیت کی وجہ سے منصوب ہے، اور اسراء رات کے سفر کو کہتے ہیں، اور لَیْل کو ذکر کرنے کا فائدہ لیل کی تنکیر سے مدت سیر کی قلت کی طرف اشارہ ہے مسجد حرام یعنی مکہ سے مسجد اقصیٰ (یعنی) بیت المقدس تک (بیت المقدس کا نام مسجد اقصی) اس کے مسجد حرام سے دور ہونے کی وجہ سے ہے جس کے اطراف میں ہم نے پھلوں اور نہروں کے ذریعہ برکت رکھی ہے تاکہ ہم محمد ﷺ کو اپنی قدرت کے عجائبات دکھائیں بلاشبہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے یعنی وہ نبی ﷺ کے اقوال و افعال سے واقف…
Read the full tafseer →اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَم بیشک یہ قرآن وہ بات یا وہ راہ بتاتا ہے جو تمام باتوں اور تمام
راہوں سے زیادہ درست اور سیدھی ہے یا وہ کلمہ بتاتا ہے جو تمام کلمات سے زیادہ صحیح ہے اس وقت کلمہ سے مراد ہوگی لا الہ الا اللہ کی شہادت۔
وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًا
اور ان مؤمنوں کو جو نیک کام کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر یعنی جنت ہے۔ اجر کبیر سے مراد جنت ہے۔
Read the full tafseer →(9) یہ قرآن حکیم ایسے طریقے کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے یعنی شہادت۔ (آیت) ”ان لا الہ اللہ وان محمد رسول اللہ“۔ اور ان بااخلاص مومنوں کو جو کہ اعمال صالحہ کرتے ہیں جنت میں کامل عظیم الشان ثواب ملنے کی خوشخبری دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ۔۔ : یعنی یہ قرآن تمام دینی اور دنیوی معاملات میں سب سے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم رکھنے کا وہ طریقہ سکھایا گیا ہے جس سے اچھا کوئی طریقہ نہیں، مگر ترک دنیا اور رہبانیت اختیار کرنے اور انسانی فطرت کے تقاضوں کو پامال کرنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے، بلکہ اس کے بجائے دنیا میں باعزت اور غالب ہو کر رہنے کا اور انسان کے فطری تقاضوں اور دنیا کی آسائشوں سے بہرہ ور ہونے کا بھی ایسا عمدہ طریقہ سکھایا گیا ہے جو ہر قسم کی زیادتی، سرکشی اور ہوس پرستی سے پاک ہے اور دنیا میں ہر مسلم اور غیر مسلم کے لیے امن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت نمبر 9 تا 10
قولہ تعالیٰ : ان ھٰذا القراٰن یھدی للتی ھی اقوم جب اللہ تعالیٰ نے معراج کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ بنی اسرائیل کے بارے جو وعدہ اور فیصلہ کیا اس کا ذکر کیا، اور یہ حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ق کی نبوت پر دلیل ہے، پھر یہ بیان فرمایا کہ وہ کتاب جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی وہ ہدایت پانے کا سبب اور ذریعہ ہے۔ اور للتی ھی اقوم کا معنی ہے الطریقۃ التی ھی اسدوأعدل وأصوب۔ یعنی یہی وہ راہ ہے جو زیادہ سیدھی، موزوں اور صحیح ہے، پس التی موصوف محذوف کی صفت ہے یعنی الطریقۃ التی اقوم اور زجاج نے کہا ہے : یہی وہ حال ہے جو تمام حالات سے زیادہ صحیح اور موزوں ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
1:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذا القران یھدی للتیھی اقوم “ میں اقوم کا معنی اصواب (یعنی جو زیادہ درست ہے)
برائیوں کا علاج استغفار ہے :
2:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قرآن تم کو تمہاری برائیوں اور تمہاری دوائیوں کے بارے میں بتاتا ہے تمہاری برائیاں بڑے اور جھوٹے گناہ ہیں اور تمہاری دوائیں استغفا رہے یعنی اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنا۔
3:۔ حاکم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس (آیت) ” ان ھذا القران یھدی للتیھی اقوم ویبشر المومنین “ میں یبشر “ کو اکثر تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے۔
4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[ان : یقینا ] [هٰذَا الْقُرْاٰنَ : یہ قرآن ] [يَهْدِيْ : ہدایت دیتا ہے ] [لِلَّتِيْ : اس کے لئے جو کہ ] [ھِيَ : وہ ہی ] [اَقْوَمُ : سب سے سیدھی (راہ) ہے ] [وَيُبَشِّرُ : اور وہ بشارت دیتا ہے ] [الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِينَ : ان ایمان لانے والوں کو جو ] [يَعْمَلُوْنَ : عمل کرتے ہیں ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [ان : کہ ] [لَهُمْ : ان کے لئے ہے ] [اَجْرًا كَبِيْرًا : ایک بڑا اجر ]
(آیت۔ 9) لِلَّتِیْ ھِیَ کے بعد اَقْوَمُ مذکر کا استعمال بتارہا ہے کہ اس کا مضاف الیہ محذوف ہے جو کہ اَلسُّبُلِ ہوسکتا ہے اور یہ تفضیل کل ہے۔ (دیکھیں آسان عربی گرامر، پیراگراف۔ 7:62)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
قرآن سیدھے راستہ کی ہدایت دیتا ہے، اہل ایمان کو بشارت اور اہل کفر کو عذاب الیم کی خبر دیتا ہے
ان دونوں آیتوں میں اول تو یہ بتایا کہ قرآن جو راستہ بتاتا ہے وہ بالکل سیدھا راستہ ہے اس میں کوئی کجی نہیں، خیر ہی خیر ہے، دنیا میں اور آخرت میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کے انعامات ملتے ہیں، اہل ایمان جو اعمال صالحہ کرتے ہیں قرآن مجید انہیں خوشخبری دیتا ہے کہ موت کے بعد تمہارے لیے خیر ہی خیر ہے بہت بڑا اجر ہے نیز قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے درد ناک عذاب تیار فرمایا ہے، جو لوگ توحید اور رسالت کے قائل ہیں آخرت کو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ذکر فضیلت قرآن کریم
قال اللہ تعالیٰ : ان ھذا القران یھدی للری ہی .... الیٰ .... لہم عذابا الیما۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب ہدایت کا ذکر تھا اور اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان پر دینی اور دنیوی مصیبتیں آئیں اب اس آیت میں قرآن مجید کا ذکر فرماتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے لوگوں کو چاہئے کہ اس کی حفاظت سے ڈریں کہ بنی اسرائیل کی طرح ان پر مصیبتیں نازل نہ ہوں اور قرآن مجید توریت سے بڑھ کر کتاب ہدایت ہے اس لیے کہ توریت کی ہدایت، ہدایت خاصہ تھی بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص تھی اور قرآن کی ہدایت، ہدایت عامہ ہے تمام عالم کے لئے قیامت تک کے لئے ہدایت ہے۔ لہٰذا اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
12:۔ یہ دوسری آیت مجزہ ہے معجزہ اسراء کی طرح یہ قرآن بھی ایک معجزہ ہے جو آنحضرت ﷺ کو دیا گیا اور اس میں وہی مسئلہ توحید کھول کر بیان کیا گیا جس کی خاطر معجزہ اسراء دکھایا گیا۔ لہذا اب مسئلہ توحید پر ایمان نہیں لاؤ گے تو سخت ترین عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے اور اگر مان لو گے اور اس کے مطابق عمل بھی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہت بڑا اجر دے گا۔ اس طرح یہ آیت دعوی توحید کو ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی اور دعوی توحید کا انکار کرنے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” ویبشر المومنین “ بشارت اور ” و ان الذین لا یومنون الخ “ تخویف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ربط آیات :
سورة ہذا کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے معراج جیسی عظیم نعمت کا ذکر کیا جو اس نے اپنے مقرب بندے اور آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر کی ، پھر اللہ نے یہ احسان بھی جتلا یا کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی ، پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کی شکر گزاری ہی کا ذکر کیا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو نجات دی ، اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں اور ناشکر گزاروں پر آنے والے مصائب وآلام کا تذکرہ بھی اشارۃ کیا ، نوح (علیہ السلام) کی قوم انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت ، کفر وشرک پر اصرار اور قیامت کے انکار کی وجہ سے ہلاک کی…
Read the full tafseer →اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًا ۙ
قرآن
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
ترکیب : للتی ای للحالۃ اوالطریقۃ التی ہے اقوم الحالات اوالطرق۔ یہ یہدی کا مفعول ثانی ہے ان ای بان مفعول یبشر کا یا اس کی تفسیر۔ دعاء ہ ای یدعوا بالشر دعاء مثل دعائیہ بالخیر والمصدر رمضاف الی الفاعل والتقدیر یطلب الشرفالباء للحال اوبمعنی السبب وکل شیئٍ فصلنا محذوف کا مفعول ہے جس کی تفسیر یہ فصلنا کر رہا ہے اور حال بھی ہے، کل انسان کا۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا وآتینا موسیٰ الکتاب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت دی تھی اس کے بعد حصیرًا تک تورات کے اوپر عمل نہ کرنے سے جو کچھ بنی اسرائیل پر دینی و دنیاوی مصیبتیں آئیں ان کا ذکر فرمایا کہ بطور پیشین گوئی کہ ان کو مطلع کردیا تھا کہ تم ایسا کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ وَیُبَشِّرُالْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا۔ وَّاَنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَالَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 9۔ 10)
(حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ اور وہ بشارت دیتا ہے ان ایمان لانے والوں کو جو صالح اعمال کرے، بیشک ان کے لیے بڑا اجر ہے۔ اور بیشک جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انھیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ )
امتِ مسلمہ کی قسمت قرآن کریم سے وابستہ ہے
امتِ مسلمہ سے پہلے وہ امت جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے تورات، انجیل اور زبور نازل کی گئیں۔ مگر انہوں نے ان کی رہنمائی میں زندگی گزارنے کی بجائے من مرضی سے کام لیا۔ جس کی بناء پر دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اگر یہ لوگ دنیا کی ذلت اور جہنم کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو ان کو قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔ جو تابناک مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔
قرآن مجید کے بیشمار اوصاف اور ان گنت فوائد ہیں۔ جن میں سے یہاں دو اوصاف اور فوائد ذکر کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید سیدھی راہ بتلانے اور خوشخبری سنانے والا ہے۔ یہاں ہدایت کے لیے ” اَقْوَمُ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس…
Read the full tafseer →قرآنی دوست و راہنما :
9: اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ (بیشک یہ قرآن اس راستہ کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو بالکل سیدھا ہے) اس حالت کیلئے جو حالات میں سب سے زیادہ درست و صحیح ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں پر ایمان اس کی طاعات پر عمل ہے۔ نمبر 2۔ ملت کیلئے۔ نمبر 3۔ راستہ کیلئے۔ وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ (اور ان ایمان والوں کو خوشخبری دیتا ہے جو نیک عمل کیا کرتے ہیں) ۔
قراءت : حمزہ، علی نے یبشر پڑھا ہے۔ اَنَّ لَھُمْ ای بِاَنَّ لَہُمْ کہ ان کے لئے اَجْرًا کَبِیْرًا (بہت بڑا اجر ہے) وہ جنت ہے۔
Read the full tafseer →9۔” ان ھذ ا القرآن یھدی للتیھی اقوم “ ایسے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو درست ہوتا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے وہ کلمہ مراد ہے جو تمام کلمات سے زیادہ صحیح ہے۔ اس وقت کلمہ سے مراد ہوگی ” لا الہ الا اللہ “ کی شہادت دینا ۔” ویشر “ اور اس قرآن کے ذریعے خوشخبری دو ۔ ” المومن الذین یعلمون الصالحات ان لھم “ ان کے لیے ہے۔ ” اجر کبیرا ً “ اس سے مراد جنت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 10:۔ بنی اسرائیل کے فساد اور پھر ان کی سزا کا ذکر کرکے اللہ پاک نے قرآن کی ثنا وصفت بیان فرمائی کہ یہ قرآن جو آنحضرت ﷺ پر نازل کیا گیا ہے یہ سراپا ہدایت ہے اور ایسی حالت اور طریقہ کی طرف اس سے ہدایت ہوتی ہے جو دین اسلام اور توحید خالص اور رسولوں پر ایمان لانا اور خدا کی کل کتابیں جو نازل ہوئی ہیں اول سے آخر تک سب پر یقین کرنا اس قرآن مجید کی تعلیم ہے پھر اللہ پاک نے اپنے ایماندار لوگوں کو بشارت سنائی کہ اس کتاب سے خدا اور رسول پر ایمان لانے والے لوگ مردہ پاتے ہیں جو اچھے اچھے کام دنیا میں کرتے ہیں اور خدا اور رسول کے امر کی تعمیل کرکے مناہی کی باتوں سے بچتے رہتے ہیں انہیں دین ودنیا میں بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت نمبر 9
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے شرف اور اس کی جلالت شان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور یہ کہ وہ (یھدی للتیھی اقوم) ، ، بتلاتا ہے وہ راستہ جو سب سے زیادہ سیدھا ہے، ، یعنی عقائد اعمال اور اخلاق کے بارے میں زیادہ معتدل اور بلند موقف کا حامل ہے، لہٰذا جو کوئی ان امور سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جن کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے تو وہ تمام امور میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، سب سے زیادہ درست اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ (ویبشر المومنین الذین یعملون الصلحٰت) ، ، اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں، ، یعنی واجبات و سنن ادا کرتے ہیں۔ (ان لھم اجراً کبیراً ) ، ، کہ ان کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
قول باری ہے (وان اساتم فلھا) اور اگر تم نے برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے برائی ثابت ہوئی) ایک قول کے مطابق فلھا بمعنی فالیھا ہے جس طرح کہا جاتا ہے ” احسن الی نفسہ اس نے اپنے ساتھ بھلائی کی) یا اساء الی انفسہ (اس نے اپنے ساتھ برائی کی) حرف اضافت جب معنی کے لحاظ سے متقارب ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتے ہیں۔ قول باری ہے (بان ربک اوحی لھا اس لئے کہ تمہارے پروردگار کا حکم اسے یہی ہوگا) معنی کے لحاظ سے (اوحی لھا) اوحی الیھا ہے۔
Read the full tafseer →19۔ قرآن کی راہنمائی سب سے زیادہ سیدھے راستے کی طرف :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک یہ قرآن اس راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا اور ہر لحاظ سے درست راستہ ہے۔ جس میں نہ کوئی کجی ہے نہ غموض۔ اور جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اور دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا کفیل وضامن ہے۔ اور جو عبارت ہے اس دین قیم اور ملت حنیفیہ سے۔ اور جو مقتضی ہے عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا اور جو مفاد ہے قرآن وسنت کی تعلیمات مقدسہ کا۔ اور جس کا حاصل ونچوڑ اور خلاصہ ہے انابت ورجوع الی اللہ۔ اور یہ اعتقاد کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
باعث ہدایت کتاب اور انسانی فطرت
تشریح : اللہ تعالیٰ فصاحت و بلاغت بھرے انداز میں فرما رہے ہیں کہ قرآن رحمت ہے، برکت ہے، کیونکہ اس میں بہترین زندگی گزارنے کے وہ تمام اصول بتا دیے گئے ہیں جو انسان کو اجر عظیم کا حق دار بنائیں گے اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ جو ایمان نہیں لاتے وہ بچ نہ سکیں گے ان کو درد ناک عذاب ضرور دیا جائے گا۔ پھر انسانی فطرت کا ذکر اس طرح کیا کہ انسان بڑا جلد باز ہے، جیسے بھلائیوں کے لیے دعائیں کرتا ہے اسی طرح تکلیف پہنچنے پر بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لیے بددعا کرنے لگتا ہے یہ تو اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ وہ انسان کی اس حماقت کو سمجھتے ہوئے اس کی بددعا قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
سورة بنی اسرائیل :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
یہ سورة بھی نزول کے اعتبار سے مکی ہے ، دعوت کی اہمیت بیان کرنے کے بعد داعی کی عظمت اور علو مرتبت کے تذکرہ سے شروع ہو کر بنی اسرائیل کے مختلف ادوار کو بطور نتائج زیر بحث لاتی ہے کہ زمانہ قریب میں بنی اسرائیل ہی بہترین مثال ہے ، جب انہوں نے دعوت الی اللہ قبول کی تو کیا اثرات مرتب ہوئے اور جب اس سے منہ پھیرا تو کیا نتیجہ سامنے آیا سب سے پہلے عظمت نبوی ﷺ کا ایک انوکھا واقعہ بیان ہوتا ہے ، انوکھا اس اعتبار سے بھی ہے کہ تمام انبیاء ورسل پر اللہ جل جلالہ کا پیغام بذریعہ وحی زمین پر ہی نازل ہوا یا اللہ جل جلالہ کے ذاتی کلام سے نوازے گئے تو بھی زمین پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 3 یعنی اپنے لئے یا اپنی اولاد اور گھر والوں کیلئے
4 اس لئے جو منہ میں آتا ہے اپنے رب سے مانگن یلگتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا اس پر بڑا فضل و کرم ہے جو اس کی بد دعا کو فوراً قبول نہیں کرتا اور اگر کہیں قبول کرے تو تو وہ تباہ و برباد ہوجائے۔ (رازی)
Read the full tafseer →(17:9) للتیھی اقوم۔ ای الی الطریقۃ التیھی اصوب (بیشک یہ قرآن رہنمائی کرتا ہے) اس راستہ کی جو صائب ترین ہے یا الی الکلمۃ التیھی اعدل۔ یا (رہنمائی کرتا ہے) اس کلمہ کی طرف (لا الہ الا اللہ) جو موزوں ترین ہے۔
یبشر۔ بشارت دیتا ہے۔ خوشخبری دیتا ہے تبشیر (تفعیل) سے اس کا فاعل القرآن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 10
قضینا صاف صاف بتا دیا۔ مرتین دو مرتبہ تعلن تم ضرور ظلم / تکبر/سرکشی کرو گے۔ اولیٰ پہلا۔ بعثنا ہم نے بھیجا۔ اولی باس لڑنے والے۔ جاسوا وہ گھس گئے۔ وہ پھیل گئے۔ الدیار (دیر) گھر، آبادیاں، شہر۔ مفعولاً کیا جانے اولا۔ رددنا ہم نے لوٹایا۔ کرۃ بار بار۔ نفیر لوگ۔ مددگار۔ احسنتم تم نے اچھا کیا۔ اساتم تم نے برا کیا۔ لیسوء تاکہ وہ بگاڑ دیں۔ لیتبروا تاکہ وہ تباہ کردیں گے۔ عدتم تم پلٹے۔ حصیر گھیر لے، روک لے، قید خانہ۔ یھدی رہنمائی کرتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ اقوم بالکل سیدھا، سب سے بہتر ۔
تشریح :- آیت نمبر 4 تا 10
تاریخ کے دھارے، دنیا کے حالات، رنگ ڈھنگ اور طرز فکر و عمل بدلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
توحید کا بیان : اس آیت میں فرمایا کہ یہ قرآن جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا ہے یہ سراپا ہدایت ہے۔ جو دین اسلام اور توحید خالص اور رسولوں پر ایمان لانا اور خدا کی کل کتابیں جو نازل ہوئی ہیں، اول سے آخر تک سب پر یقین کرنا اس قرآن مجید کی تعلیم ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ایماندار لوگوں کو بشارت سنائی کہ اس کتاب سے خدا اور رسول پر ایمان لانے والے لوگ مژدہ پاتے ہیں۔ جو اچھے اچھے دنیا میں کام کرتے ہیں، انہیں دین ودنیا میں بہت ہی بڑا فائدہ اور اجر ملے گا۔ جنت خاص انہیں لوگوں کے واسطے خدا نے بنا رکھی ہے۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ خدا اور رسول اور قیامت کے دن پر ایمان ویقین نہیں رکھتے ان کے لئے سخت عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
[10] خطاب اب ان اسرائیلیوں سے ہے جو قرآن کے معاصر اور براہ راست مخاطب تھے۔ ان سے ارشاد ہو رہا ہے کہ پچھلی تباہیاں جو آنا تھیں آچکیں۔ اب بھی کچھ نہیں گیا ہے۔ خاتم النبین پر اگر آج ایمان لے آؤ تو اب بھی یہ ادبار ٹل سکتا ہے۔
[11] یعنی تم نے بھی اگر سرکشی و مخالفت حق کی راہ ترک نہ کی تو پھر وہی ہلاکت و بربادی اب بھی تمہارے لئے موجود ہے۔ بدنصیب یہود عرب نے اس آخری تنبیہہ کو نہ سنا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے سارے طاقت ور قبیلے ایک ایک کر کے قلیل ہی مدت کے اندر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 1) یعنی قرآن حکیم جس مسلک کی دعوت دیتا ہے وہ قدیم ہے عقل و دانش کے قرین اور موافق ہے ، سعادت انسانی کی تمام راہیں اس میں مذکور ہیں ، انسانی بقاء و دوام کا راز اس میں مضمر ہے ، اس کی تعلیمات ایسی ہیں جو سب کے لئے قابل عمل ہیں ، سب کے لئے مفید ہیں اس کی تعلیم چھوٹے بڑے سب کے لئے یکساں قابل عمل ہے یہ شک وشبہ سے بالا ہے ، مگر بشارت و خوشخبری ان کے لئے ہے جو مومن ہیں ، جن کے دلوں میں ایمان وتیقن کا اجالا ہے ، متعصب نہیں ، اور جو آنکھوں اور دلوں کو ہمیشہ کھلا رکھتے ہیں ۔
حل لغات :
حصیرا : حصر کے معنی احاملہ کرنے اور تنگی کرنے کے ہیں واحصروھم ۔ الی ضیقوا ، علیہم یہاں قید خانہ اور تکلیف ومقام کے…
Read the full tafseer →-9 بلاشبہ یہ قرآن کریم اس راستے اور طریقے کی رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ایسی راہ بتاتا ہے جو سب سے سیدھی راہ ہے اور ان ایمان والوں کو جو نیک اعمال کے پابند ہیں اس بات کی بشارت اور خوش خبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر وثواب ہے۔
سب سے سیدھی راہ یعنی اسلام جو ہر قسم کی افراط وتفریط سے مبرا ہے اور ان اہل ایمان کو جو نیک عمل کرتے ہیں یہ بشارت سناتا ہے کہ ان کو بڑا اجر وثواب حاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
ف 4۔ چناچہ حضور کے وقت میں انہوں نے آپ کی مخالفت کی، پھر قتل اور قید اور ذلیل ہوئے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کی ہدایت ہی صاف اور سیدھی ہدایت ہے بشرطیکہ کوئی حاصل کرنا چاہئے :
12۔ گزشتہ آیت میں فرمایا تھا کہ عجب نہیں پروردگار عالم تم پر رحم فرمائے اگر سرکشی و فساد سے باز آجاؤ اور دعوت حق پر لبیک کہو اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” قرآن کریم ہدایت کی ایسی راہ دکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی راہ ہے اور ان لوگوں کے لئے جو اس راہ پر چلیں ہر طرح کی کامیابیوں کی بشارت ہے ۔ “ قرآن کریم نے اپنے جس قدر اوصاف بیان کئے ہیں ان سب میں جامع ترین وصف یہی ہے کہ زندگی اور سعادت کے ہر گوشہ میں اس کی راہنمائی سیدھی بات کے لئے ہے ۔ کسی طرح کی کجی ‘ کسی طرح کا پیچ وخم کسی طرح کا الجھاؤ ‘ کسی طرح کی افراط وتفریط اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
Sequence
At the beginning of the Sarah, the majesty of the prophet-hood of the Messenger of Allah was described through the miracle of al-Mi` raj. The present verses cite the miracle of Qur'an as its confirmation.
Commentary
The most upright way
The way to which the Qur'an guides has been called 'aqwam,' the most upright. 'Aqwam' can be explained by saying that it is a way that is closer to the destination, is easy and free of dangers at the same time. (Qurtubi) This tells us that the rules set for human life by the Holy Qur'an are a combination of all three features mentioned above.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
10. Though this admonition has been given as a parenthesis at the end of the address to the children of Israel, it does not mean that this and the address itself are solely meant for them. As a matter of fact, the whole address is really directed towards the disbelievers of Makkah but, instead of addressing them directly, some important historical events from the history of the children of Israel have been cited in order to serve as admonition for them.
Read the full tafseer →