17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام (یعنی خانہ کعبہ) سے مسجد اقصی (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں، بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

آیت نمبر 1 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ذات مقدس کی تنزیہ و تعظیم بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے افعال بہت عظیم اور اس کے احسانات بہت جسیم ہیں۔ اس کے جملہ افعال و احسانات میں سے ایک یہ ہے۔ (اسریٰ بعبدہ لیلاً ) ، ، وہ رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو لے گیا۔ ، ، یعنی وہ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو راتوں رات لے گیا (من المسجد الحرام) ، ، مسجد حرام سے ، ، جو علی الاطلاق تمام مساجد میں جلیل ترین مسجد ہے۔ (الی المسجد الاقصا) ، ، مسجد اقصیٰ تک ، ، جو فضیلت والی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے اور وہ انبیاء کرام کی سر زمین ہے۔ جناب نبی مجتبیٰ ﷺ کو ایک ہی رات میں بہت دور مسافت تک لے جا یا گیا پھر اسی رات واپس لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانیاں دکھائیں جن سے ہدایت، بصیرت، ثبات اور قوت تفریق و امتیاز میں اضافہ ہوا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی آپ پر عنایت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے تمام امور میں آپ کے لئے بھلائی کو آسان فرما دیا اور آپ کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا جن کی بناء پر آپ نے تمام اولین و آخرین پر فوقیت حاصل کی۔ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ، ، اسراء، ، کا یہ واقعہ رات کے ابتدائی حصے میں پیش آیا اور سفر مسجد حرام سے شروع ہوا مگر صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آپ کو حضرت ام ہانی ؓ کے گھر سے رات کے اس سفر پر لے جایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مسجد حرام کو جو فضیلت حاصل ہے، وہ تمام حرم کے لئے ہے۔ حرم میں عبادات کا ثواب اسی طرح کئی گنا بڑھ جاتا ہے جس طرح مسجد حرام میں عبادت کا ثواب کئی گنا ہوجاتا ہے ، ، نیز یہ ، ، اسراء، ، (معراج) کا واقعہ آپ کو بیک وقت جسم اور روح کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اگر آپ کو معراج جسم اور روح کے ساتھ نہ ہوئی ہوتی تو اس میں ، ، آیت کبریٰ ، ، کا کوئی مفہوم ہے نہ کسی بڑی منقبت کا کوئی پہلو ہے۔ معراج کے واقعہ میں بی اکرم ﷺ سے بہت سی صحیح احادیث منقول ہیں ان میں ان تمام امور کی تفاصیل مذکور ہیں جن کا آپ نے مشاہدہ کیا۔ آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا حتیٰ کہ آپ تمام آسمانوں کے اوپر چلے گئے۔ وہاں آپ نے جنت، جہنم اور تمام انبیاء کرام کو ان کے مراتب کے مطابق دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر پچاس نمازیں فرض کیں، پھر آپ موسیٰ علیہ اسلام کے مشورے سے بار بار اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے رہے حتیٰ کہ وہ بالفعل پانچ ہوگئیں مگر ان کا ثواب، پچاس نمازوں کا ہے۔ اس رات آپ کو اور آپ کی امت کو بہت سے مفاخر عطا کئے گئے جن کی مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں، قرآن مجید کو نازل کرنے کے ذکر کے مقام پر ( سورة فرقان میں) اور جہاں قرآن کی بابت چیلنج کیا گیا، ( سورة بقرہ میں) ان تینوں مقامات میں نبی ﷺ کی صفت عبودیت (آپ کے بندے ہونے کی خوبی) کو بیان فرمایا، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ مقامات بلند اپنے رب کی عبودیت کی تکمیل کی وجہ ہی سے حاصل کئے ہیں۔ (الذی برکنا حولہ) ، ، وہ جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے ، ، یعنی درختوں، دریاؤں اور سدا بہار شادابی کے ذریعے سے برکت عطا کی اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی برکت ہی ہے کہ مسجد اقصیٰ کو مسجد حرام اور مسجد نبوی کے سوا دیگر تمام مسجدوں پر فضیلت عطا کی گئی، نیز مسجد قصیٰ میں عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے دور سے سفر کر کے جانا مطلوب ہے اور اللہ تعلیٰ نے اس سر زمین کو اپنے نبیوں اور چنے ہوئے بندوں کے رہنے کے لئے مختص فرمایا۔
Ayahs 17:2–8

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا، بیشک نوح (ہمارے) شکر گذار بندے تھے

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ تم زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پس جب پہلے (وعدے) کا وقت آیا تو ہم نے اپنے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسری بار تم کو ان پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی اور تم کو جماعت کثیر بنایا

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم نیکو کاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے اور اگر اعمال بد کرو گے تو (ان کا) وبال بھی تمہاری جانوں پر ہوگا، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی وہی (پہلا سا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے

آیت نمبر 2 اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوی محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں۔ اس لئے یہاں فرمایا : (و اتینا موسیٰ الکتب) ، ، اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، ، یعنی تورات (وجعلنہ ھدیً لبنیٰ اسرائیل) ، ، اور کیا اس کو ہدایت واسطے نبی اسرائیل کے ، ، یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لئے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا (الا تتخذو من دونی وکیلا) ، ، تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا، ، اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کار ساز اور مدبر بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کا کوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انہیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔ (ذریۃ من حملنا مع نوح) ، ، اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سور کیا۔ ، ، یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ (انا کان عبداً شکوراً ) ، ، بلا شبہ وہ شکر گزار بندہ تھا، ، اس میں نوح علیہ اسلام کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوح علیہ اسلام کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انہیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کردیا۔ (وقضینا الی ٰ بنی اسرائیل) ، ، اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو، ، یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انہیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدر کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کردیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لئے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں۔ (فاذا جاء وعد اولٰھما) ، ، پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔ ، ، یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آگیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا (بعثنا علیکم) ، ، تو ہم نے تم پر مسلط کردیئے۔ ، ، یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کردیئے (عباداً لنا اولیٰ باس شدید) ، ، اپنے بندے سخت لڑائی والے، ، بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انہوں نے تمہیں قتل کیا، تمہاری اولاد کو غلام بنایا اور تمہارے مال و متاع کو لوٹا۔ (فجاسو خلل الدیار) ، ، پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ ، ، یعنی وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے اور انہیں کو تہس نہس کردیا۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو برباد کردیا۔ (وکان وعداً مفعولاً ) ، ، اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا، ، چونکہ انہوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کردیئے تھے، لہٰذا اس وعدے کو پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ اس بتا پر سب متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جذیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کردیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں، انہوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انہوں نے زمین میں سرکشی اختیار کرلی تھی۔ (ثمہ رددنا لکم الکرۃ علیھم) ، ، پھر ہم نے پھیر دی تمہاری باری ان پر ، ، یعنی پھر ہم نے تمہیں اس متغلب کا فرقوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انہیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا۔ (و امددنکم باموال وبنین) ، ، اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے ، ، یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمہیں رزق عطا کیا، تمہاری تعداد کو زیادہ کردیا اور تمہیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنادیا۔ (وجعلنکم اکثرا نفیراً ) ، ، اور تمہاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا، ، اور اس کا سبب تمہارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمہارا خشوع و خضوع تھا۔ (ان احسنتم احسنتم لانفسکم) ، ، اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لئے، ، یعنی تمہاری نیکی کا فائدہ تمہاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمہیں ہی فائدہ ہوگا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کرلیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ (و ان اساتم فلھا) ، ، اور اگر برائی کی تو اپنے لئے، ، یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمہاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بد اعمالیوں کی پاداش میں تمہارے دشمنوں کو تم پر مسلط کردیا تھا۔ (فاذا جاء وعد الاخراۃ) ، ، پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا، ، جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد ربپا کرو گے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کردیا۔ (لیسوء وجوھکم) ، ، تاکہ وہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں۔ ، ، یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمہیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں۔ (ولید خلو المسجد کما دخلوہ اولا مرۃ) ، ، اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار، ، یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے (ولیتبرو) ، ، اور خراب کردیں، ، یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کردیں (ماعلو) ، ، جس جگہ پر وہ غالب آجائیں۔ ، ، (تتبیراً ) ، ، پوری طرح خراب کرنا، ، پس وہ تمہارے گھروں، تمہاری عبادت گاہوں اور تمہارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں۔ (عسیٰ ربکم ان یرحمکم) ، ، بعید نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے، ، یعنی ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انہیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انہیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا : (وان عدتم) ، ، اور اگر تم پھر وہی کرو گے، ، یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے (عدنا) ، ، تو ہم پھر وہی کریں گے، ، ہم بھی تمہیں دو بارہ سزا دیں گے۔ پس انہوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو مسلط کردیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس نے فرمایا : (وجعلنا جھنمہ للکفرین حصیراً ) ، ، اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ، ، جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ ان سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لئے تحذیرو تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو نبی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غور و فکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہوئے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انہیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔
Ayahs 17:9–10

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

آیت نمبر 9 اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے شرف اور اس کی جلالت شان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور یہ کہ وہ (یھدی للتیھی اقوم) ، ، بتلاتا ہے وہ راستہ جو سب سے زیادہ سیدھا ہے، ، یعنی عقائد اعمال اور اخلاق کے بارے میں زیادہ معتدل اور بلند موقف کا حامل ہے، لہٰذا جو کوئی ان امور سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جن کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے تو وہ تمام امور میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، سب سے زیادہ درست اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ (ویبشر المومنین الذین یعملون الصلحٰت) ، ، اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں، ، یعنی واجبات و سنن ادا کرتے ہیں۔ (ان لھم اجراً کبیراً ) ، ، کہ ان کے لئے ہے بڑا ثواب، ، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عزت والے گھر میں تیار کر رکھا ہے جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا (و انا الذین لا یومنون بالآخرۃ اعتدنا لھم عذاباً الیماً ) ، ، اور یہ کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔ ، ، قرآن کریم تبشیر و انذار پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب ذکر فرما دیئے ہیں جن کی بنا پر بشارت ملتی ہے اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح اور ان اسباب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو انذار کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح کے متضاد امور۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے

آیت نمبر 11 یہ انسان کی جہالت اور عجلت پسندی ہے کہ وہ غیظ و غضب کے وقت اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے بد دعا کرنے میں جلدی کرتا ہے جس طرح اچھی دعا کرنے میں جلدی کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ وہ اس کی اچھی دعا کو تو قبول کرلیتا ہے اور بد دعا کو قبول نہیں کرتا۔ (آیت) (یونس : 11/10) ، ، اگر اللہ ان کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں اتنی ہی جلدی کرتا جیسے کہ وہ جلدی خیر مانگتے ہیں تو ان کی مدت مقررہ کے خاتمے کا فیصلہ کردیا جاتا۔ ، ،
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے، رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن، تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو، اور ہم نے ہر چیز کی (بخوبی) تفصیل کردی ہے

آیت نمبر 12 (وجعلنا الیل والنھار ایتین) ، ، اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا۔ ، ، یعنی یہ دن رات اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بےپایاں رحمت پر دلالت کرتے ہیں، نیز یہ کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ (فمحونا ایتہ الیل) ، ، پھر مٹا دیا ہم نے رات کی نشانی کو، ، یعنی ہم نے رات کو تاریک بنایا تاکہ لوگ اس میں سکون اور راحت حاصل کریں۔ (وجعلنا ایتہ النھار مبصرۃ) ، ، اور بنایا دن کی نشانی کو دکھلانے والی، ، یعنی روشن (لتبتغو فضلاً من ربکم) ، ، تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔ ، ، اپنی معاش، اپنی صنعت و حرفت، اپنی تجارت اور اپنے سفر میں اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (لتعلمو) ، ، اور تاکہ تم جان لو، ، رات اور دن کے پے در پے آنے جانے اور چاند کے گھٹنے بڑھنے سے (عدہ السنین والحساب) ، ، برسوں کا شمار اور حساب ، ، پس تم جیسے چاہتے ہو دنوں کے اس حساب و کتاب پر اپنے مصالح کی بنیاد رکھتے ہو۔ (وکل شیء فصلنہ تفصیلاً ) ، ، اور ہر چیز کو ہم نے کھول کر بیان کردیا ہے، ، یعنی ہم نے آیات کو واضح کر کے ان کو مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے تاکہ چیز ایک دوسرے سے ممتاز ہوں اور باطل میں سے حق نمایاں اور واضح ہوجائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا تا ہے : (ما فرطنا فی الکتب من شیء) (الانعام : 38/6) ، ، ہم نے نوشتہء تقدیر میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ، ،
Ayahs 17:13–14

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو (بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

(کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے،

آیت نمبر 13 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے عدل کامل کے بارے میں خبر ہے، نیز یہ کہ ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا ہوا ہے، یعنی بندہ جو اچھایا برا کام سر انجام دیتا ہے وہ اسی کے ساتھ لازم ہوتا ہے وہ کسی دوسرے کی طرف متعدی نہیں ہوتا اور کسی دوسرے کے عمل کا حساب اس سے لیا جائے گا نہ اس کا حساب کسی اور سے لیا جائے گا۔ (ونخرج لہ یوم القیمتہ کتباً یلقہ منشوراً ) ، ، اور نکال دکھائیں گے ہم اس کو قیامت کے دن ایک کتاب، وہ دیکھے گا اس کو کھلی ہوئی، ، اس کتاب میں اس کے تمام اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال موجود ہوں گے اس سے کہا جائے گا : (اقراء کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً ) ، ، پڑھ لے اپنی کتاب، تو ہی کفی ہے آج کے دن اپنا حساب لینے والا، ، یہ سب سے بڑا عدل و انصاف ہے کہ بندے سے کہا جائے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس کے ذمہ کون کون سے حقوق ہیں جو سزا کے موجب ہیں۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

آیت نمبر 15 یعنی ہر نفس کی ہدایت اور گمراہی خود اس کے لئے ہے کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور نہ ذرہ بھر تکلیف اس سے دور ہٹا سکے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سب سے بڑا عادل ہے وہ اس وقت تک کسی کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ اس پر رسالت کی حجت قائم نہ ہوجائے اور یہ ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے اس حجت کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا۔ رہا وہ شخص جس نے رسالت کی اس حجت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا، یا اس کے پاس حجت پہنچی ہی نہیں، تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل فترات (یعنی اس زمانے یا علاقے کے لوگ جن تک نبوت نہیں پہنچی) اور مشرکین کے بچوں کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ ان کی طرف رسول نہ بھیج لے کیونکہ وہ ظلم سے پاک اور منزہ ہے۔
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش) پر مامور کردیا، تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے، پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا

آیت نمبر 16 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جب کبھی وہ کسی ظالم بستی کو ہلاک کرنا اور عذاب کے ذریعے سے اس کا استیصال کرنا چاہتا ہے تو وہ اس میں رہنے والے خوشحال لوگوں کو حکم دیتا ہے۔۔۔ یعنی کوئی و قدرتی حکم۔۔۔ وہ اس میں نافرمانیاں کرتے ہیں اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے۔ (فحق علیھا القول) ، ، تب ثابت ہوجاتی ہے ان پر بات ، ، یعنی کلمہ، عذاب، جسے کوئی نہیں ٹال سکتا۔ (فد مرنھا تدمیراً ) ، ، پس اس بستی کو ہم ہلاک کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ، ، نوح علیہ اسلام کی قوم کے بعد بہت سی قوموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا، مثلاً عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ یہ وہ قومیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سزا دی کیونکہ جب ان کی بغاوت بہت زیادہ ہوگئی اور ان کا کفر بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا بڑا عذاب نازل کردیا۔ (کفیٰ بربک بذنوب عبادہ خبیراً بصیراً ) ، ، اور کافی ہے آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے والا دیکھنے والا۔ ، ، پس بندوں کو اس کی طرف سے کسی ظلم کا خوف نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف ان کے اپنے اعمال کی سزا دیتا ہے۔
Ayahs 17:17–21

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی امتوں کو ہلاک کر ڈالا اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں، پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے، جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہو اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم ان کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں، اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے، اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

آیت نمبر 17 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ (من کان یرید العاجلتہ) ، ، جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔ ، ، یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہوجانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لئے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدایا انتہا کو فراموش کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کردیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ پھر آخرت میں اس کے لئے (جھنمہ یصلھا) ، ، جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا، ، یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ (مذموماً مدحوراً ) ، ، مذموم اور راندہ ہو کر۔ ، ، یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے مذمت، رسوائی اور فضیحت کی حالت میں ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت دور ہوگا، اس کے لئے رسوائی اور عذاب کو جمع کردیا جائے گا۔ (ومن اراد الاخرۃ) ، ، جو آخرت چاہتا ہے، ، اس پر راضی ہے اور اسے دنیا کے مال و متاع پر ترجیح دیتا ہے۔ (وسعیٰ لھا سعیھا) ، ، اور اس کے لیے اتنی کوشش کرتا ہے جتنی اسے لائق ہے۔ ، ، یعنی جس کی طرف تمام کتب سماوی اور آثار نبوت نے دعوت دی ہے اور امکان بھر اس کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔ (وھو مومن) ، ، اور وہ مومن بھی ہے۔ ، ، یعنی وہ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ (فاولئیک کانا سعیھم مشکوراً ) ، ، پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہے۔ ، ، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نشو نما پا کر جمع ہوتی رہے گی۔ ان کا اجر وثواب ان کے رب کے پاس ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے حصے سے بھی محروم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سامان زیست عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی عطا اور اس کا فضل و احسان ہے۔ (وما کانا عطاء ربک محظوراً ) ، ، اور تیرے تب کی عطاء و بخشش رکی ہوئی نہیں۔ ، ، یعنی اللہ کی عطا کسی کے لئے ممنوع نہیں بلکہ تمام مخلوق اس کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ (انظر کیف فضلنا بعضھم علی بعض) ، ، دیکھو، کیسے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی، ، یعنی کیسے ہم نے ان کو دنیا میں رزق کی کشادگی اور کمی، آسانی اور تنگی، علم اور جہالت، عقل اور سفاہت وغیرہ امور میں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ (ولآخرۃ اکبرڑ درجت واکبر تفضیلاً ) ، ، اور آخرت کے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت ، ، دنیا کی لذتوں اور نعمتوں کو آخرت سے کسی لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ کتنے ہی لوگ بلند وبالا محلوں، مختلف انواع کی لذتوں، فرحتوں، خوبصورت چیزوں سے حظ اٹھتاے ہوں گے اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں جھونک دیا گیا ہوگا، وہاں وہ درد ناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور رب رحیم کی سخت ناراضی ان پر نازل ہوگی اور دنیا و آخرت کے لوگوں میں اس قدر تفاوت ہے کہ کسی کے لئے اس کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اور) خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بیکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے

آیت نمبر 22 یعنی، یہ اعتقاد نہ رکھ کر مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا کیونکہ شرک مذمت اور خذ لان کو دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں نے شرک سے روکا ہے اور مشرک کی سخت مذمت کی ہے اور اسے اس شرک کی بنا پر انتہائی مذموم ناموں سے موسوم اور قبیح اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ جو اس شرک کا مرتکب ہے، وہ بدترین اوصاف اور قبیح ترین صفات سے متصف ہے۔ وہ جتنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو ترک کرتا ہے، اس کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کے دینی اور دنیاوی معاملات میں اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہوجاتا ہے۔ پس جو کوئی اس کے سوا کسی اور سے تعلق قائم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے علیحدہ ہوجاتا ہے اور اسی کو اسی کے سپرد کردیتا ہے جس کے ساتھ وہ تعلق جوڑتا ہے اور مخلوق میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لیتا ہے وہ مذمت و کذ لان کا مستحق ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو ایک گردانتا ہے، اس کے لئے اپنے دین کو خالص کرتا ہے اور دوسروں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق جوڑتا ہے وہ قابل ستائش ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کی دست گیری کی جاتی ہے۔
Ayahs 17:23–24

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سواء کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی (کرتے رہو) ، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف تک نہ کہنا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار ! جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت) سے پرورش کیا ہے تو بھی ان (کے حال) پر رحمت فرما

آیت نمبر 23 اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک سے منع کرنے کے بعد توحید کا حکم دیا ہے، چناچہ فرمایا : (وقضیٰ ربک) ، ، آپ کے رب نے (دینی) فیصلہ کردیا، ور شرعی حکم دے دیا ہے۔ (الا تعبدو) ، ، کہ تم عبادت نہ کرو۔ ، ، یعنی زمین اور آسمان کے رہنے والوں، زندوں یا مردوں میں سے کسی کی عبادت نہ کرو۔ (الا ایاہ) ، ، مگر صرف اس کی، ، کیونکہ وہ واحد اور یکتا، فرد اور بےنیاز ہے۔ جو ہر صفت کمال کا مالک ہے۔ اس کی ہر صفت کامل ترین ہے اور مخلوق میں کوئی ہستی اس کی کسی صفت میں کسی بھی پہلو سے مشابہت نہیں کرسکتی وہ منعم ہے ظاہری اور باطنی نعمتوں سے وہی نوازتا ہے وہی تمام تکالیف کو دور کرتا ہے، وہ خالق رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔ وہ ان تمام اوصاف میں منفرد اور یکتا ہے اس کے سوا کوئی دوسری ہستی اوصاف میں سے کسی چیز کی بھی مالک نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد والدین کے حقوق کو قائم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (و بالوالدین احساناً ) ، ، اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ، ، یعنی قول و فعل، ہر لحاظ سے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ کیونکہ والدین ہی بندے کے وجود میں آنے کا سبب ہیں، وہ اولاد کے لئے محبت رکھتے ہیں، اولاد کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اور اولاد کو قریب رکھتے ہیں، یہ امور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے حق کی تاکید اور ان کے ساتھ بھلائی کے وجوب کا تقاضا کرتے ہیں۔ (اما یبلغن عندک الکبرا احدھما او کلھما) ، ، اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو، ان میں سے ایک یا دونوں، یعنی جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں جس میں ان کے قوی کمزور پڑجاتے ہیں اور وہ نرمی اور حسن سلوک کے معروف طریقے سے محتاج ہوتے ہیں۔ (فلا تقل لھما اف) ، ، تو تو ان کو ہوں بھی نہ کہہ، ، یہ اذیت کا ادنی مرتبہ ہے اس کے ذریعے سے اذیت کی دیگر انواع پر تنبیہ کی ہے۔ معنیٰ یہ ہے کہ ان کو ادنیٰ اذیت بھی نہ پہنچاؤ۔ (والا تنھرھما) ، ، اور ان کو جھڑکو، ، اور نہ ان سے سخت کلامی کرو۔ (وقل لھما قولاً کریماً ) ، ، اور کہہ ان سے بات ادب کی، ، ان کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرو جن کو وہ پسند کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ نہایت ادب اور مہربانی سے پیش آؤ۔ انتہائی نرمی اور اچھے پیرائے میں بات کرو جس سے ان کے دل لذت محسوس کریں اور ان کو اطمینان حاصل ہو۔ یہ حسن سلوک احوال و عادات اور زمانے کے اختلاف کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ (واخفض لھما جناح الذل من الرحمتہ) ، ، اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کے، نیاز مندی سے، ، یعنی ان کے سامنے تواضع، انکساری اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے جھک کر رہو۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید پر ہو نہ کہ ان سے ڈر کی بنا پر یا ان کے مال وغیرہ کے لالچ کی وجہ سے یا اس قسم کے دیگر مقاصد کی بنا پر جن پر بندے کو اجر نہیں ملتا۔ (وقل رب ارحمھما) ، ، اور کہہ، اے رب ان پر رحم فرما، ، یعنی ان کی زندگی میں اور ان کے وفات پا جانے کے بعد ان کے لئے رحمت کی دعا کرو۔ انہوں نے بچپن میں تمہاری جو تربیت کی ہے یہ اس کا بدلہ ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تربیت جتنی زیادہ ہوگی والدین کا حق بھی اتنا ہی زیادہ ہوجائے گا یہ اس کا بدلہ ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تربیت جتنی زیادہ ہوگی والدین کا حق بھی اتنا ہی زیادہ ہوجائے گا۔ اسی طرح والدین کے سوا کوئی شخص دینی اور دنیاوی امور میں کسی کی نیت تربیت کرتا ہے تو تربیت کرنے والے شخص کا اس شخص پر حق ہے جس کی اس نے تربیت کی ہے۔
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے، اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے

آیت نمبر 25 یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے اچھے اور برے چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا ہے۔ وہ تمہارے اعمال اور ابدان کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور ان کے اندر چھپے ہوئے خیر و شر پر نظر رکھتا ہے۔ (ان تکونو صالحین) ، ، اگر تم نیک ہو گے، ، یعنی اگر تمہارے ارادے اور مقاصد اللہ تعالیٰ کی رضا کے دائرے میں اور تمہاری رغبت صرف انہی امور پر مرتکز رہے جو اللہ کے تقرب کا ذریعہ ہیں اور تمہارے دلوں میں غیر اللہ کے ارادے براجمان نہ ہوں۔ (فانہ کانا لاوابین) ، ، تو وہ رجوع کرنے والوں کو۔ ، ، یعنی وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والوں کے لئے (غفوراً ) ، ، بخشنے والا ہے۔ ، ، پس اللہ تعالیٰ جس کے دل میں جھانکتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اس دل میں، اللہ تعالیٰ کی طرف انابت، اس کی محبت اور ان امور کی محبت جو قرب الٰہی کا ذریعہ ہیں کے سوا کچھ بھی نہیں، تب اگر اس بندے سے طبائع بشری کے تقاضے کے مطابق کوئی گناہ سر زد ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان عارضی گناہوں کو بخش دیتا ہے، جو مستقل طور پر جز نہیں پکڑتے۔
Ayahs 17:26–30

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی سے مال نہ اڑاؤ

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفران کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تم اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو تو ان سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کو کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل ہی کھول دو (کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور انجام یہ ہو کہ) ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے، وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

آیت نمبر 26 (وات ذالقربیٰ حقہ) ، ، اور دے رشتے دار کو اس کا حق ، ، یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زبان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ (والمسکین) ، ، اور مسکین کو، ، یعنی زکوٰۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہوجائے۔ (وابن السمیل) ، ، اور مسافر کو ، ، اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے۔ جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ (ولا تبذیر تبذیراً ) ، ، اور بےجامت اڑا، ، پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زئا دہو جو دی جانی چاہیے ورنہ یہ اسراف و تبذیر کے زمرے میں آئے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور بتلایا ہے کہ (ان المبذرین کانو اخوان الشیطین) ، ، بےجا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، ، کیونکہ شیطان ہمیشہ ہر قسم کی مذموم خصلت ہی کی طرف دعوت دیتا ہے، وہ انسان کو بخل اور مال روک رکھنے کی طرف دعوت دیتا ہے اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو وہ اسے اسراف اور تبذیر کی راہ پر لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ معتدل اور مبنی برعدل رویے کا حکم دیتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرماتا ہے : (والذین اذا انفقو لم یسرفو ولم یقترو وکانا بین ذالک قواماً ) (الفرقان : 67/25) ، ، رحمن کے بندے وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچ کرتے ہیں نہ بخل سے کام لیتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ، ، اور یہاں فرمایا : (ولا تجعل یدک مغلولاۃ الا عنقک) ، ، اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ، ، یہ بخل اور خرچ نہ کرنے کے لئے کنا یہ ہے۔ (ولا تبسطھا کلا البسط) ، ، اور نہ کھول اسے بالکل کھول دینا، ، ایسا نہ ہو کہ تم ان معاملات میں خرچ کرنے لگو جہاں خرچ کرنا مناسب نہیں یا جتنا خرچ کرنا ہو اس سے زیادہ خرچ کرنے لگو۔ (فتقعد) ، ، پس تو بیٹھ رہے گا، ، اگر تو نے یہ کام کیا (ملوماً ) ، ، الزام کھایا ہوا، ، یعنی اپنے کئے پر ملامت زدہ ہو کر (محسوراً ) ، ، ہارا ہوا، ، یعنی تم خالی ہاتھ ہو کر رہ جاؤ گے، تمہارے ہاتھ میں مال باقی بچے گا نہ اس کے پیچھے مدح وثناء۔۔۔ اور رشتہ دروں کو عطا کرنے کا یہ حکم صرف قدرت اور غنا کی صورت میں ہے۔ رہی تنگدستی اور اخراجات میں عدم گنجائش، تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کو نہایت اچھے طریقے سے جواب دیا جائے، پس فرمایا : (واما تعرضن عنھم ابتغاء رحمتہ من ربک ترجوھا) ، ، اگر تو اعراض کرے ان سے اپنے رب کی مہربانی کے انتظار میں جس کی تجھ کو امید ہے، ، یعنی اگر تم ان کو عطا نہیں کرتے اور تم اس کو کسی ایسے وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہو جب اللہ تمہیں خوشحالی عطا کرے۔ (فقل لھم قولاً میسوراً ) ، ، تو کہہ ان کو نرم بات، ، یعنی ان سے نرم لہجے میں بات کرو اور اچھا وعدہ کہ جب بھی گنجائش ہوئی تو ان کو عطا کیا جائے گا اور اس وقت عطا کرنا ممکن نہ ہونے پر ان سے معذرت کرے تاکہ جب وہ تمہارے پاس سے واپس جائیں تو ان کے دل مطمئن ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قول معروف و مغفرۃ خیر من صدقتہ یتبعھا اذی) (البقرۃ : 263/2) ، ، صدقہ دینے کے بعد ایذا پہنچانے سے تو یہ بہتر ہے کہ نرم بات کہہ دی جائے اور کسی ناگوار بات پر چشم پوشی کی جائے۔ ، ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو رحمت اور رزق کا انتظار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ انتظار عبادت ہے۔ اسی طرح ضرورت مندوں کے ساتھ گنجائش اور فراخدستی کے وقت عطا کرنے کا وعدہ کرنا بھی عبادت ہے کیونکہ نیک کام کا ارادہ بھی نیکی ہے۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ مقدور بھر نیکی کرتا رہے اور جس نیک کام پر اسے قدرت نہیں اسے کرنے کی نیت رکھے تاکہ اسے ثواب ملتا رہے اور شاید اللہ تعالیٰ اس کی امید کے سبب سے اس کے لئے آسانی پیدا کر دے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان ربک یبسط الرزق لمن یشاء) ، ، بیشک آپ کا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی کشادہ کردیتا ہے، ، (ویقدر) اور جس کے لئے چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے۔ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ (انہ کانا بعبادہ خبیراً بصیراً ) ، ، وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا دیکھنے والا ہے۔ ، ، پس جو اس کے علم کے مطابق ان کے لئے درست ہے، اس پر انہیں جزا دے گا اور اپنے لطف و کرم سے ان کی تدبیر کرے گا۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف قتل نہ کرنا (کیوں کہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں، کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

آیت نمبر 31 یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بےپایاں رحمت ہے۔ وہ اپنے بندوں پر ان کے ماں باپ سے بھی زیادہ مہربانی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے والدین کو بھوک اور فقر کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا اور سب کی کفالت کا ذمہ لیا ہے اور آگاہ فرمایا ہے کہ اولاد کو قتل کرنا، بہت بڑی خطا اور کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور اس کا سبب دل کا شفقت سے خالی ہونا اور بچوں کے قتل کی جسارت ہے جن سے کوئی گناہ اور معصیت سر زد نہیں ہوئی۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس بھی نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

آیت نمبر 32 زنا کے قریب جانے کی ممانعت، زنا کے مجرو فعل کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے، اس لیے زنا کے قریب جانے کی ممانعت، زنا کے تمام مقدمات اور اس کے اسباب کو شامل ہے کیونکہ اگر کوئی بادشاہ کی مخصوص چراگاہ کے آس پاس پھرتا ہے تو ہوسکتا ہے وہ چراگاہ میں جاداخل ہو۔ خاص طور پر جب کہ بات یہ ہے کہ اکثر نفوس کے اندر زنا کا قوی ترین داعیہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے زنا کی برائیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا : (کان فاحشتہ) ، ، وہ بےحیائی، ، یعنی زنا عقل، شریعت اور فطرت انسانی کے نزدیک بہت بڑی برائی ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ، عورت، اس کے گھر والوں اور اس کے شوہر کے حق میں ہتک حرمت، شوہر کے بستر کو خراب کرنے اور انساب وغیرہ کے اختلاط اور دیگر مفاسد کو متضمن ہے۔ (وساء سبیلاً ) ، ، اور بری راہ ہے۔ ، ، یعنی جو کوئی اس گناہ عظیم کے ارتکاب کی جرات کرتا ہے اس کا یہ راستہ بہت ہی برا راستہ ہے۔
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بہ فتوی شریعت) اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا (کہ ظالم قاتل سے بدلا لے) تو اس کو چاہیے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصور و فتحیاب ہے۔

آیت نمبر 33 اس آیت کریمہ کا حکم ہر اس جان کو شامل ہے جس کے قتل کو (حراما اللہ) ، ، اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، ، وہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام اور مسلم ہو یا کافر معاہد (الا بالحق) ، ، سوائے اس (قتل) کے جو برحق ہو، ، مثلاً مقتول کے قصاص میں قاتل کو قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو قتل کرنا، مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے والے مرتد کو قتل کرنا اور باغی کو بغاوت کی حالت میں قتل کرنا جبکہ اس کو قتل کئے بغیر بغاوت پر قابو نہ پایا جاسکتا ہو۔ (و من قتل مظلوماً ) ، ، اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے۔ ، ، یعنی جسے ناحق قتل کیا گیا ہو۔ (فقد جعلنا لولیہ) ، ، تو کی ہم نے اس کے ولی کے لئے، ، یہاں، ، ولی ، ، سے مراد وہ شخص ہے جو مقتول کے ورثاء اور عصبہ میں سے اس کے سب سے زیادہ قریب ہو۔ (سلطناً ) ، ، دلیل، ، یعنی ہم نے مقتول کے ولی کے لئے قاتل سے قصاص لینے کی ظاہری دلیل فراہم کردی، نیز اسے قدری طور پر بھی قاتل پر اختیار عطا کردیا ہے مگر یہ اس وقت ہے جب قصاص کی موجب تمام شرائط یکجاء ہوں، مثلاً ارادہ اور تعدادی کے ساتھ قتل کرن اور مقتول اور قاتل میں برابری وغیرہ۔ (فلا یسرف فی القتل) ، ، پس وہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے۔ ، ، یعنی ولی قاتل کے قتل میں اسراف سے کام نہ لے۔ یہاں ، ، اسراف، ، سے مراد یہ ہے کہ مقتول کا ولی قاتل کو قتل کرنے میں حد سے تجاوز کرے۔ (اس اسراف کی تین صورتیں ہیں۔ ) (1) ولی قاتل کا مثلہ کرے۔ (یعنی اسے ایزا دے دے کر مارے، ناک کاٹے، کان کاٹے، وغیرہ وغیرہ) (2) ولی قاتل کو کسی ایسی چیز کے ذریعے سے قتل کرے جس کے ذریعے سے مقتول کو قتل نہ کیا گیا ہو۔ (3) قاتل کو چھوڑ کر کسی اور کو قتل کردیا جائے۔ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ صرف ولی کو قصاص لینے کا حق ہے اور ولی کی اجازت کے بغیر قصاص نہیں لیا جاسکتا۔ اگر ولی قاتل کو معاف کر دے تو قصاص ساقط ہوجاتا ہے، نیز اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ قاتل اور اس کے مددگاروں کے مقابلے میں مقتول کے ولی کی مدد کرتا ہے۔
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے، اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔

آیت نمبر 34 یہ اللہ تعالیٰ کا اس یتیم پر اپنی رحمت اور لطف کرم کا اظہار ہے۔ جس کا باپ اس کی چھوٹی عمر میں فوت ہوجائے اور وہ ابھی اپنے مفادات کی معرفت رکھتا ہو نہ ان کا انتظام کرسکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یتیم کے سرپرستوں کو حکم دیا ہے کہ وہ یتیم اور اس کے مال کی حفاظت کریں اور اس کے مال کی اصلاح کریں اور یہ کہ اس کے قریب بھی نہ جائیں (الا بالتیھی احسن) ، ، مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو، ، یعنی تم اس کے مال کی تجارت میں لگاؤ، اس کو اتلاف کے خطرے میں نہ ڈالو اور اس میں اضافے اور نشونما کی خواہش رکھو اور یہ صورت حال اس وقت تک رہے یہاں تک کہ (یبلغ اشدہ) ، ، وہ (یتیم) جوانی کو پہنچ جائے۔ ، ، یعنی بلوغت اور عقل و رشد کی عمر کو پہنچ جائے۔ پس جب وہ بالغ و عاقل ہوجائے تو اس سے سرپرستی زائل ہوجائے گی اور وہ اپنے معاملات کا خود سرپرست بن جائے گا اور اس کا مال اس کے حوالے کردیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (فان انستم منھم رشداً فادفعو الیھم اموالھم) (النساء : 6/4) ، ، پس اگر تم ان میں عقل کی پختگی پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ ، ، (واوفو بالعھد) ، ، اور عہد کو پورا کرو، ، جو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ باندھا ہے، نیز اس عہد کو پورا کرو جو تم نے مخلوق کے ساتھ کیا ہے۔ (ان العھد کانا مسؤلاً ) ، ، عہد کے بارے میں ضرور باز پرس ہوگی۔ ، ، یعنی ایفائے عہد کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا اگر تم نے عہد پورا کیا تو تمہارے لئے بہت بڑا ثواب ہے اور اگر تم نے عہد کو پورا نہ کیا تو تم پر بہت بڑا گناہ ہے۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب (کوئی چیز) ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کردو) تو ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔

آیت نمبر 35 اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عدل اور ناپ تول کو بغیر کسی کمی کے انصاف کے ساتھ پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کے عمومی معنی سے دھوکہ دہی، اندازے سے قیمت لگانے، کسی چیز کی قیمت طے ہونے کے بعد کسی دوسرے شخص کی طرف سے قیمت لگانے کی ممانعت اور معاملات میں خیر خواہی اور صداقت مستنبط ہوتی ہے۔ (ذالک خیر) ، ، یہ بہتر ہے، ، اس کے نہ ہونے سے (واحسن تاویلا) ، ، اور اس کا انجام اچھا ہے، ، یعنی یہ عدل انجام کے اعتبار سے بہتر ہے، بندہ تاوان اور نقصان سے محفوظ رہتا ہے اور عدل و انصاف اور ناپ تول پورا کرنے سے برکت نازل ہوتی ہے۔
Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔

آیت نمبر 36 یعنی اس چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہیں بلکہ تم جو کچھ کہتے یا کرتے ہو، اس کے بارے میں پوری تحقیق کرلیا کرو اور یہ خیال نہ کرو کہ تمہارا قول و فعل یوں ہی ختم ہوجائے گا، تمہیں اس کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوگا۔ (ان السمع والبصر والفواد کل اولئیک کانا عنہ مسؤلاً ) ، ، بیشک کان، آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہوگی ، ، پس جو بندہ یہ جانتا ہے کہ اس سے اس کے قول و فعل کے بارے میں پوچھا جائے گا اور اس بارے میں اسے جواب دہی کرنی ہوگی کہ اس نے اپنے ان اعضاء کو کہاں کہاں استعمال کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔۔۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اس سوال کا جواب تیار کرلے۔ ان امور کا جواب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس نے ان اعضاء کو اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں استعمال نہ کیا ہو، دین کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص نہ کیا ہو اور ان باتوں سے باز نہ رہا ہو جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔
Ayahs 17:37–39

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچ جائے گا۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔

آیت نمبر 37 (ولا تمش فی الارض مرحاً ) ، ، اور زمین میں اتراتا ہوا مت چل ، ، یعنی تکبر، غرور، اتراہٹ، حق کے سامنے استکبار اور تکبر کے ساتھ مخلوق سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے زمین پر مت چلو۔ (انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولاً ) ، ، بیشک تو پھاڑ نہ ڈالی گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں کو لمبا ہو کر، ، بلکہ اس کے برعکس تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بہت حقیر ہوگا اور مخلوق کے نزدیک بہت ذلیل، ناپسندیدہ اور مذموم ہوگا۔ بلا شبہ جن چیزوں کا تو نے قصد کیا ہے ان میں بغیر سوچے سمجھے تو نے بدترین اور ذیل ترین اخلاق کا اکتساب کیا ہے۔ (کل ذالک) مذکورہ تمام امور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے جن کا ذکر گذشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (ولا تجعل مع اللہ الھاً اخرا) میں گزر چکا ہے، نیز والدین کی نافرمانی وغیرہ۔ (کانا سیہ عند ربک مکروھاً ) ، ، اس کی برائی آپ کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے، ، یعنی ان میں سے ہر برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ یہ برائی براسلوک کرے گی اور ان کو نقصان پہنچائے گی اور اللہ تعالیٰ اس برائی کو ناپسند کرتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ (ذلک) ، ، یہ ہے، ، یعنی یہ احکام جلیلہ جن کو ہم نے واضح کر کے بیان کردیا ہے۔ (مما اوحیٰ الیک ربک من الحکمۃ) ، ، ان باتوں میں سے ہیں جو وحی بھیجی آپ کے رب نے آپ کی طرف حکمت کے کاموں سے، ، اور حکمت محاسن اعمال، مکارم اخلاق کے حکم اور اخلاق رذیلہ اور اعمال قبیحہ سے ممانعت کا نام ہے اور یہ اعمال جو ان آیات کریمہ میں مذکور ہیں، حکمت عالیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کو رب کائنات نے، افضل ترین کتاب، قرآن کریم میں سید المرسلین ﷺ کی طرف وحی کیا تاکہ آپ بہترین امت کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیں اور جسے یہ حکمت عطا کردی گئی اسے خیر کثیر عطا کردی گئی۔ پھر آیت کریمہ کو غیر اللہ کو عبادت کی ممانعت پر ختم کیا جیسا کہ غیر اللہ کی عبادت کی ممانعت سے اس کی ابتداء کی تھی۔ فرمایا : (ولا تجعل مع اللہ الٰھاً اخرا فتلقی فی جھنمہ) ، ، اور نہ ٹھہرا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود، پھر پڑے گا تو جہنم میں ، ، یعنی ابدالا آباد تک جہنم میں رہے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کردیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ (ملوماً مدحوراً ) ، ، ملامت زدہ دھتکارا ہوا، یعنی تیرے لئے ملامت اور لعنت ہوگی اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہار پروردگار نے تم کو تو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول) بات کہتے ہو۔

آیت نمبر 40 یہ اس شخص پر نہایت شدت سے نکیر ہے جس کا نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ہستیوں کو اپنی بیٹیناں بنا لیا ہے بنا بریں فرمایا : (افا صفکم ربکم بالبنین) ، ، کیا تمہرے رب نے تم کو لڑکے دیے۔ ، ، یعنی اللہ تعالیٰ نے چن کر تمہارے لئے کامل ترین حصہ مقرر کردیا اور خود فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا۔۔۔ کیونکہ مشرکین کا یہ خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ (انکم لتقولون قولاً عظیماً ) ، ، بیشک تم کہتے ہو بھاری بات۔ ، ، تمہارا یہ قول اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت ہے کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کردی۔ تمہارا قول اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ محتاج ہے اور اس کی کچھ مخلوق اس سے بےنیاز ہے اور تم نے اللہ تعالیٰ کے حق میں اولاد کی دونوں قسموں میں سے زیادہ ردی قسم کا فیصلہ کیا یعنی تم نے اس کی طرف بیٹیوں کو منسوب کردیا، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں بیٹے عطا کئے۔ پس بہت بلند ہے اللہ تعالیٰ اس بات سے جو یہ ظالم کہتے ہیں۔