Explained with ayahs 126–128
قصاص اور حصول قصاص
قصاص میں اور حق کے حاصل کرنے میں برابری اور انصاف کا حکم ہو رہا ہے۔ امام ابن سیرین ؒ وغیرہ فرماتے ہیں اگر کوئی تم سے کوئی چیز لے لے تو تم بھی اس سے اسی جیسی لے لو۔ ابن زید ؒ فرماتے ہیں کہ پہلے تو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم تھا۔ جب ذرا حیثیت دار لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کی طرف سے بدلے کی رخصت ہوجائے تو ہم بھی ان کتوں سے نبڑ لیا کریں اس پر یہ آیت اتری آخر یہ بھی جہاد سے منسوخ ہوگئی۔ حضرت عطا بن یسار ؒ فرماتے ہیں سورة نحل پوری مکہ شریف میں اتری ہے مگر اس کی تین آخری آیتیں مدینے شریف میں اتری ہیں۔ جب کہ جنگ احد میں حضرت حمزہ ؓ شہید کر دئے گئے اور آپ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
سورة النَّحْل 122
یعنی دعوت میں دو چیزیں ملحوظ رہنی چاہیں۔ ایک حکمت۔ دوسرے عمدہ نصیحت۔
حکمت کا مطلب یہ ہے کہ بیوقوفوں کی طرح اندھا دھند تبلیغ نہ کی جائے، بلکہ دانائی کے ساتھ مخاطب کی ذہنیت استعداد اور حالات کو سمجھ کر، نیز موقع و محل کو دیکھ کر بات کی جائے۔ ہر طرح کے لوگوں کو ایک ہی لکڑی سے ہانکا جائے، جس شخص یا گروہ سے سابقہ پیش آئے، پہلے اس کے مرض کی تشخیص کی جائے، پھر ایسے دلائل سے اس کا علاج کیا جائے جو اس کے دل و دماغ کی گہرائیوں سے اس کے مرض کی جڑ نکال سکتے ہوں۔
عمدہ نصیحت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ مخاطب کو صرف دلائل ہی سے مطمئن کرنے پر اکتفاء کیا جائے بلکہ اس کے جذبات کو بھی اپیل کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
داعی حق کو کوئی ایذاء پہونچائے تو بدلہ لینا بھی جائز ہے مگر صبر بہتر ہے
اس کے بعد کی تین آیتوں میں داعیان حق کے لئے ایک اور اہم ہدایت ہے وہ یہ کہ بعض اوقات ایسے سخت دل جاہلوں سے سابقہ پڑتا ہے کہ ان کو کتنی ہی نرمی اور خیرخواہی سے بات سمجھائی جائے وہ اس پر بھی مشتعل ہوجاتے ہیں زبان درازی کر کے ایذاء پہونچاتے ہیں اور بعض اوقات اس سے بھی تجاوز کر کے ان کو جسمانی تکلیف پہونچانے بلکہ قتل تک سے بھی گریز نہیں کرتے ایسے حالات میں دعوت حق دینے والوں کو کیا کرنا چاہئے۔
اس کے لئے وَاِنْ عَاقَبْتُمْ الخ میں ایک تو ان حضرات کو قانونی حق دیا گیا کہ جو آپ پر ظلم کرے آپ کو بھی اس سے اپنا بدلہ لینا جائز ہے…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ۔
صبر کی ہدایت اور حصول صبر کی تدبیر : خطاب اگرچہ لفظا پیغمبر ﷺ سے ہے لیکن معنا، جیسا کہ اوپر والی آیت میں واضح ہوچکا ہے، تمام مسلمانوں سے ہے، گویا آپ کے واسطہ سے یہ تمام مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے۔ ہی صبر کی ہدایت بھی ہے اور حصول صبر کی تدبیر بھی۔ فرمایا وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ یعنی صبر نہیں حاصل ہوسکتا مگر اللہ کے تعلق سے۔ جو صبر کا مقام حاصل کرنا چاہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو زیادہ سے زیادہ بڑھائے۔ خدا کے ساتھ تعلق کا واسطہ اس کا ذکر ہے اور ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
127۔ 1 اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے مکروں کے مقابلے میں اہل ایمان وتقویٰ اور محسنین کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے اہل دنیا کی سازشیں نقصان نہیں پہنچا سکتیں، جیسا کہ ما بعد کی آیت میں ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
52: یہ ایک دوسرا استثنا ہے جس میں یہودیوں کے لیے بعض وہ چیزیں ممنوع کردی گئی تھیں جو حضرت ابراہیم ؑ کی شریعت میں جائز تھیں۔ اور وہ یہ کہ یہودیوں کے لیے سنیچر کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع کردی گئی تھیں۔ پھر ان میں بھی اختلاف رہا کہ کچھ لوگوں نے اس پابندی پر عمل کیا اور کچھ نے نہیں کیا۔ بہر حال ! یہ بھی ایک استثنائی حکم تھا جو صرف یہودیوں کو دیا گیا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کی شریعت اس سے خالی تھی۔ لہذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام قرار دیدے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبئتم بہ (61 : 621) ” اگر تم بدلہ لو تو اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی “۔ یہ دعوت اسلامی کے طریقہ کار سے باہر کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے اندر داخل ہے۔ دعوت اسلامی کا دفاع کرنا اور اس معاملے میں اعتدال کا رویہ اپنانا ، یہ تحریک اسلامی کے وقار اور عزت کا باعث ہوگا۔ لوگوں کے دلوں میں یہ کوئی بےوقعت دعوت نہ ہوگی۔ کوئی ایسی دعوت جس کا وقار نہ ہو ، لوگ اسے ہرگز قبول نہیں کرتے۔ نہ لوگوں کو یہ یقین آتا ہے کہ یہ دعوت دین ہے۔ نیز اللہ کا یہ منشا نہیں ہے کہ وہ دعوت اسلامی کو یوں بےوقار اور لاچار چھوڑ دے جو اپنے عزت و وقار کا دفاع نہ کرسکتی ہو۔ اس لئے اہل ایمان…
Read the full tafseer →9 یعنی مظالم و شدائد پر صبر کرنا، سہل کام نہیں۔ خدا ہی مدد فرمائے تو ہوسکتا ہے کہ آدمی ظلم سہتا رہے اور اف نہ کرے۔
Read the full tafseer →آیت 127 وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا باللّٰهِ
یہ حکم براہ راست رسول اللہ کے لیے ہے اور آپ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کے لیے بھی۔ اس سلسلے میں حقیقت یہ ہے کہ اللہ پر جس قدر اعتماد ہوگا جیسا اس پر توکل ہوگا جتنا پختہ اس کے وعدوں پر یقین ہوگا اسی انداز میں انسان صبر بھی کرسکے گا۔
وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ
یہ لوگ اپنے کرتوتوں کے سبب عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ چناچہ آپ ان کے انجام کے بارے میں بالکل رنجیدہ اور فکر مند نہ ہوں اور نہ ہی ان کی سازشوں اور گھٹیا معاندانہ سرگرمیوں کے بارے میں سوچ کر آپ اپنا دل میلا کریں۔
Read the full tafseer →130 مخالفین حق کے مظالم و شدائد کو ٹھنڈے دل سے برداشت کیے جانا کوئی سہل کام نہیں۔ اللہ ہی اس کی توفیق عطا فرمائے تو ہوسکتا ہے تاہم آپ ان کی معاندانہ سرگرمیوں سے دل میں گھٹن محسوس نہ کیجئے۔ اللہ یقیناً آپ کو صبر کی توفیق دے گا۔
Read the full tafseer →192۔ (جیسا کہ ہر شخص کا بھی صبر توفیق الہی ہی سے ہوتا ہے) مفسرتھانوی (رح) نے کہا ہے کہ بدون توفیق الہی کوئی شخص نہ صبر کرسکتا ہے اور کوئی طاعت یا حسنہ لیکن توفیق کے مراتب بھی مختلف ہوتے ہیں، گونفس توفیق مشترک رہتی ہے، انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ یہ توفیق الہی خاص اور زاید ہوتی ہے، اور ان کے اعمال میں مؤثر رہتی ہے، (آیت) ” واصبر “ یعنی آپ صبر کیے رہیے، جیسا کہ اب تک بھی کیے رہے ہیں۔ اور آپ کیوں نہ کرتے، آپ تو عزیمت کے بلند ترین مقام پر سرفراز تھے، باللہ یعنی اللہ کے لطف وتوفیق سے، اے بعون اللہ و توفیقہ (عکبری) وقال غیر واحد اے الا بتوفیقہ ومعونتہ (روح)
193۔ (اور یقین رکھیے کہ ان کی یہ بڑی سی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
آیت نمبر 120 تا 128
ترجمہ : بیشک ابراہیم (علیہ السلام) امام، پیشوا تھے کہ جو تمام اچھی خصلتوں کے جامع تھے اللہ کے فرمانبردار دین قیم کی طرف رخ کرنے والے تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گذار تھے اللہ نے ان کو برگزیدہ بنایا تھا اور انھیں راہ راست سمجھا دی تھی، اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور ہر مذہب (وملت) کے لوگوں میں ان کا ذکر جمیل ہے، اس میں غیبت سے (تکلم) کی جانب التفات ہے اور وہ آخرت میں بھی نیکوں کاروں میں ہوں گے ایسے لوگوں میں کہ ان کے لئے بلند درجات ہوں گے پھر اے محمد ﷺ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پر وی کریں اور ابراہیم…
Read the full tafseer →واصبر وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیھم ولا تک فی ضیق مما یمکرون اور آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر کرنا خاص اللہ کی توفیق سے ہے اور ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ وہ تدبیر کرتے ہیں ‘ ان سے دل تنگ نہ ہو جیے۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ کا علم اور اللہ پر اعتماد سب سے زیادہ تھا ‘ اسلئے خصوصیت کے ساتھ آپ ﷺ کو اس آیت میں خطاب فرمایا۔
وَاصْبِرْ یعنی کفار کی طرف سے جو ایذاء پہنچے ‘ اس پر صبر کرو۔ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ یعنی اللہ کی توفیق اور اس کی مدد سے ہی آپ کا صبر ہوسکتا ہے۔
وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ اور ان پر یعنی کافروں پر یا مؤمنوں پر اور مؤمنوں کو پہنچی ہوئی اذیت پر رنج نہ کرو۔
وَلاَ تَکَ فِیْ…
Read the full tafseer →(127) اور اے محمد ﷺ آپ کفار کی تکالیف پر صبر کیجیے اور آپ کا صبر کرنا خاص اللہ ہی کی توفیق خاص سے ہے اور ان مذاق اڑانے والوں کی ہلاکت پر غم نہ کیجیے اور جو کچھ یہ تدبیریں کیا کرتے ہیں اس سے دل چھوٹا نہ کیجیے۔
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا باللّٰهِ : آخر میں پھر صبر کا حکم دیا، ساتھ ہی متنبہ فرمایا کہ اگر صبر جیسا مشکل اور عظیم کام کرلو تو اسے اپنا کمال مت سمجھنا، بلکہ یقین رکھنا کہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ممکن ہوا، تمہیں اس کا فائدہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نعمت سے غافل نہ ہو، اس کے سامنے عاجز و منکسر رہو اور ہر وقت اس سے دعا کرتے رہو۔
وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ۔۔ : نبی کریم ﷺ کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے پر اتنا غم ہوتا کہ شاید اپنی جان گھلا لیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ نہ آپ ان پر غم کریں اور نہ ان کی سازشوں سے دل تنگ ہوں۔ ”ضَيْقٍ“ اور ”ضِیْقٌ“ دونوں کا ایک ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
آیت نمبر 127 تا 128
اس میں ایک مسئلہ ہے :
مسئلہ نمبر 1: ابن زید نے کہا ہے : یہ آیت آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے۔ اور جمہور لوگ اس پر ہیں کہ یہ محکم ہے، یعنی آپ اس کی مثل سزا دینے سے عفو و درگزر کے ساتھ صبر کیجئے جیسی انہوں نے مثلہ وغیرہ کے ساتھ سزا دی۔ ولا تحزن علیھم یعنی آپ شہدائے احد پر رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں پہنچ چکے ہیں۔ ولاتک فی ضیق، ضیق ضیقۃ کی جمع ہے، جیسا کہ شاعر کا قول ہے :
کشف الضیقۃ عنا وفسح
(اس نے ہم سے تنگی دور کردی اور وسعت و خوشحالی عطا کردی)
اور جمہور کی قرأت ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہے، ابن کثیر نے ضاد کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور اسے نافع سے روایت کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
1:۔ ترمذی (ترمذی نے تحسین بھی کی ہے) عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں نسائی ابن منذر ابن ابی حاتم ابن حبان ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے دلائل میں (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ احد کی جنگ میں 64 انصار اور چھ مہاجر شہید ہوئے مہاجرین شہداء میں حضرت حمزہ بھی شامل تھے ان سب کو کافروں نے مثلہ کردیا تھا (یعنی شہیدوں کے ناک کان بھی کاٹ لئے تھے) انصار نے کہا اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر ہم کو غلبہ دیا تو ہم بھی ان سے بڑھ کر مثلہ کریں گے کچھ مدت کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیرللصبرین “ (اس آیت کے نازل ہونے…
Read the full tafseer →[وَاصْبِرْ : اور آپ ﷺ صبر کریں ] [ وَمَا صَبْرُكَ : اور آپ ؐ کا صبر نہیں ہے ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِاللّٰهِ : اللہ (کی توفیق) سے ] [ وَلَا تَحْزَنْ : اور آپ ﷺ غمگین مت ہوں ] [ عَلَيْهِمْ؛ان لوگوں پر ] [ وَلَا تَكُ : اور آپ ﷺ مت ہوں ] [ فِيْ ضَيْقٍ : کسی تنگی میں ] [ مِّمَا : اس سے جو ] [ يَمْكُرُوْنَ : یہ لوگ چالبازی کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُکَ اِلَّا باللّٰہِ ) (اور آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر کرنا صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے) (وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ ) (اور مخالفت کرنے والوں پر غم نہ کیجیے) (وَ لَا تَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ) (اور یہ لوگ جو تدبیریں کرتے ہیں ان کے بارے میں تنگ دل نہ ہوجائیے) آپ اپنا کام جاری رکھیں ان کی تدبیریں دھری رہ جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
آداب دعوت و تبلیغ
قال اللہ تعالیٰ : ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ .... الیٰ .... والذین ہم محسنون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ملت ابراہیمی کے اتباع کا حکم تھا اور اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت ملت ابراہیمی کا مقصود اصل اور اولیٰ تھا۔ اب ان آیات میں دعوت اسلام اور تبلیغ کے آداب بتلاتے ہیں کہ وعظ و نصیحت اور تبلیغ و دعوت میں کن امور کو ملحوظ رکھنا چاہئے یعنی حکمت اور موعظت اور مجادلہ حسنہ کو ملحوظ رکھیں اور اگر کفار کی طرف سے کوئی اذیت اور تکلیف پہنچے تو اگرچہ انتقام جائز ہے لیکن اگر صبر اور تقویٰ سے کام لیں تو بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے متقین اور محسنین سے اپنی معیت خاصہ کا وعدہ فرمایا ہے اور صبر اور تقویٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
104:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تین طرح سے تسلی ہے۔ یعنی آپ صبر سے کام لیں اور مشرکین کے ایمان نہ لانے اور ان کے ضد وعناد پر ڈٹے رہنے سے آپ غمین اور دل برداشتہ نہ ہوں اور نہ ان کے مکر و فریب سے پریشان ہوں ” ان اللہ مع الذین اتقوا الخ “ جملہ ماقبل کے لیے تعلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان لوگوں کا ساتھ دیتا اور ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو تمام برائیوں سے اجتناب کریں اور اعمال صالحہ بجا لائیں یا محسنین سے مخلصین مراد ہے یعنی ان کا ہر کام اخلاص نیت سے ہو اور ان کی زندگی کی تمام تگ و دو محض رضائے الٰہی کے لیے ہو۔ ای ھو و لی الذین اجتنبوا السیئات و ولی العاملین بالطاعات قیل من اتقی فی افعالہ واحسن فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
(زمانہ نزول)
سورة النحل کی ان آخری تین آیات کے زمانہ نزول کے متعلق مفسرین کی دو رائیں ہیں ، امام ابوحنیفہ (رح) کے استاد ، مکہ کے استاد الحدیث حضرت عطاء (رح) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة ہذا کی ان تین آیات کے سوا باقی ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی جب کہ یہ آیات مدنی زندگی میں نازل ہوئیں اور ان کا زمانہ نزول فتح مکہ کے قریب ہے ، دوسری روایت یہ ہے کہ یہ ساری کی ساری سورة مکی ہے اور ان آیات میں بیان کردہ انتقامی کاروائی کا قانون غزوہ احد کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہر مکان وزمان کے لیے نافذ العمل ہے ، اس لحاظ سے غزوہ احد کے موقع پر پیش آمدہ حالات پر بھی اس قانون کا اطلاق ہوتا ہے ۔
(شان…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ 127
حزن
الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153]
( ح ز ن ) الحزن والحزن
کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
جب آنحضرت ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کی مسند نبوت پر بیٹھے اور ان سے بھی بڑھ گئے تو ان کو حج کے لیے لوگوں میں منادی کا حکم ہوا تھا واذن فی الناس بالحج تو آپ کو تمام عالم کی دعوت کا حکم ہوا کہ سب کو راہ راست کی طرف بلائیں فقال ادع الی سبیل ربک مگر دنیا میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ اول اعلیٰ درجہ کے حکماؤ کملاء جن کا مقصود اصلی یقینات کا دلائلِ قطعیہ سے حاصل کرنا ہے سو ان کی دعوت بالحکمہ ہوتی ہے دلائلِ قطیعہ یقینیہ کے ساتھ ان کے دل میں عقائد و اعمال صالحہ کی رغبت پیدا کرنا۔ اب یہ کچھ ضرور نہیں کہ یہ دلائل قواعد منطقیہ پر مبنی ہوں یا نہ ہوں بلکہ ان کے فہم و استعداد کے موافق، دوم اوسط درجہ کے لوگ ان کے…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلاَّ بِاللّٰہِ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ وَلاَ تَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 127)
(اور آپ ﷺ صبر کیجیے اور نہیں ہے آپ ﷺ کا صبر مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، آپ ﷺ نہ تو ان پر رنجیدہ ہوں اور نہ ان کی چالوں سے جو یہ چلتے رہتے ہیں، پریشانی میں مبتلا ہوں۔ )
صبر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے
اس آیت میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن روئے سخن عام مسلمانوں کی طرف ہے۔ مکہ معظمہ کی صورتحال کے پیش نظر یقینا آپ ﷺ کے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہرحال میں اور ہر اذیت پر صبر کرنا بعض دفعہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ عزت نفس، ضمیر کی آواز، بےبسی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
فہم القرآن
ربط کلام : مبلغ کو ہر حال میں حکمت اور حوصلہ سے کام لینا چاہیے اگر وہ انتہائی ظلم پر صبر و حوصلہ نہیں کرسکتا تو اسے ظلم سے بڑھ کر بدلہ لینے کی اجازت نہیں۔
مفسرین کا خیال ہے سورة النحل کی آخری تین آیات مدنی دور میں نازل ہوئیں جبکہ باقی پوری کی پوری سورة مکی دور میں نازل ہوئی تھی۔ آخری آیات کا شان نزول بیان کرتے ہوئے حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ احد کے موقع پر انصار کے چونسٹھ اور مہاجرین کے چھ آدمی شہید ہوئے تھے۔ ان میں سید الشّہداء حضرت حمزہ ؓ بھی شہید ہوئے تھے۔ جن کے جسد اطہر کی بےحرمتی کرتے ہوئے کفار نے ان کے کان، ہونٹ، ناک کاٹنے کے ساتھ آنکھیں نکال دیں جس پر مسلمانوں نے ردّ…
Read the full tafseer →تلقین صبر :
127: وَاصْبِرْ (اور آپ صبر کریں) آپ صبر کریں اس میں صبر پر آمادہ کیا۔ وَمَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ (اور آپکا صبر کرنا خاص اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہے) اور اس کی توفیق اور تثبت سے ہے۔ وَلَاتَحْزَنْ عَلَیْھِمْ (اور ان پر غم نہ کھائیں) ۔ یعنی کفار پر اگر وہ ایمان نہ لائیں۔ اور ایمان والوں پر اور جو سلوک کفار ان کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس لئے کہ مسلمان اپنے مقصود تک پہنچ گئے۔ وَلَاتَکُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّایَمْکُرُوْنَ (اور اس سے تنگ نہ پڑیں جو تدابیر یہ کرتے ہیں)
قراءت : مکی نے ضادؔ کے کسرہ سے ضِیْق پڑھا۔ اور ضِیْق یہ الضیِّق کی تخفیف ہی ہے۔ یعنی تنگی والی بات میں اور یہ بھی درست ہے کہ…
Read the full tafseer →(127)” واصبر وماصبرک الا باللہ “ اس کی مدد دتوفق سے ” ولا تحزن علیھم “ ان کے اعراض کرنے کی وجہ سے ان سے رنج نہ کرو ۔” ولا تک فی ضیق مما یمکرون “ وہ کافر جو مؤمنوں کے خلاف مکاریاں کرتے ہیں ۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ۔ یہاں ابن کثیر نے اسی طرح پڑھا ہے اور نمل میں ضاد کے کسرہ ” ضیق “ کے ساتھ پڑ ھا ہے اور دوسرے قراء نے ضاد کے فتحہ کیساتھ پڑھا ہے ۔ اہل کوفہ کا قول ہے کہ اس میں دونوں لغتیں ہیں ۔ مثل رطل ، رطل کے اور ابو عمر نے کہا کہ ضیق ضاد کے فتحہ کے ساتھ ہو تو غم کو کہتے ہیں اور کسرہ کے ساتھ ہو تو سختی کو کہتے ہیں اور ابو عبید ہ کا قول ہے کہ ضیق ضاد کے کسرہ کے ساتھ قلت معایش کو کہتے ہیں اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
127۔ 128۔ اس سے اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے مومنوں کو خطاب کیا تھا کہ جب کوئی تم پر ظلم کرے اور تم کسی وقت اس پر قابو پا کر بدلہ لینا چاہو تو اسی قدر بدلہ لو جتنا اس نے ظلم کیا تھا ایسا نہ ہو کہ اس سے تجاوز کرو بلکہ بہتر تو یہ ہے کہ صبر کرو اس آیت میں خاص کر سرور کائنات حضرت رسول مقبول ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ صبر اختیار کریں اور اس کی تاکید فرمائی اور اس بات کی خبر دی کہ خداوند جل جلالہ کی مدد کے بغیر صبر ہاتھ نہیں آتا آپ اگر صبر کریں گے تو خدا ہی کی مدد سے کرسکیں گے اور پھر آپ کو اس بات سے منع فرمایا کہ جو شخص آپ کے خلاف کرے تو اس سے رنجیدہ ہوجاویں کیونکہ یہ بھی خدا ہی کی طرف سے مقدر ہوچکا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
آیت : (126-128)
اللہ تبارک و تعالیٰ عدل کو مباح کرتے ہوئے فضل اور احسان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (وان عاقبتم) ” اور اگر تم بدلہ لو “ اگر تم اس شخص کا مواخذہ کرنا چاہو جس نے تمہیں قول و فعل کے ذریعے سے برے سلوک کا نشانہ بنایا ہے (فعاقبوابمثل ما عوقبتم بہ) ” تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کہ تم کو تکلیف پہنچائی گئی “ یعنی تمہارے ساتھ جو معاملہ کیا گیا ہے ‘ بدلہ لیتے وقت تمہاری طرف سے اس میں زیادتی نہ ہو۔ (ولئن صبرتم) ” اور اگر تم صبر کرلو “ یعنی دلہ نہ لو اور ان کا جرم معاف کردو تو (لھو خیر اللصبرین) ” وہ صبر کنے والوں کے لئے بہتر ہے۔ “ یعنی یہ بدلہ لینے سے بہتر ہے اور جو اجر وثواب اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–128
ظلم و زیادتی کا بدلہ کتنا لیا جائے ؟
قول باری ہے (وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتھم لھو خیر للصابرین اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے) شعبی، قتادہ اور عطاء بن یسار سے مروی ہے رجب مشرکین نے احد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کا مثلہ کیا تو مسلمانوں نے یہ کہا اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ان مشرکین پر غلبہ عطا کرے گا تو ہم اس سے بڑھ کر ان کا مثلہ کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مجاہد اور ابن سیرین کا قول ہے کہ آیت ہر اس شخص کے بارے میں ہے جو غصے کی حالت میں یا کسی اور…
Read the full tafseer →271۔ صبر کی تلقین اور حصول صبر کے ذریعے کی تعلیم :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور آپ تنگی میں نہ پڑیں ان چالبازیوں کی بناء پر جو یہ لوگ کررہے ہیں “ کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی چالبازیاں اور شرانگیزیاں آپ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گی کہ آپ کا محافظ خود اللہ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جو آپ کو کبھی ساحرکہتے ہیں اور کبھی شاعر۔ کبھی کاہن اور کبھی مجنون وغیرہ۔ تو آپ اس کی پرواہ نہ کریں اور ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے کریں۔ وہ ان سے خود ہی نمٹ لے گا اور عدل وانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق نمٹے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ (مراغی اور معارف وغیرہ) اور حصول صبر کے ذریعے کی تعلیم کے لئے ارشاد فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
یہود کا انجام، اصلاح و تبلیغ کا بہترین طریقہ
تشریح : یہاں سب سے پہلے یہود کا ذکر کیا گیا ہے وہ بھی دین ابراہیمی ہی کے تابع کہلاتے تھے، حالانکہ وہ ایسے نہ تھے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خاصیت ہی یہ تھی کہ وہ ایک ہی طرف کے چلنے والے تھے، یعنی صرف اور صرف اللہ کی وحدانیت کو ماننے والے پکے مسلم (فرمانبردار) تھے جبکہ یہود تو انتہائی ضدی اور نافرمان قوم تھی۔ ان کو فرمانبرداری سکھانے کے لیے ہفتے کا دن مقدس دن مقرر کیا گیا مگر وہ دو فرقوں میں بٹ گئے کچھ نے مانا اور کچھ نے نہ مانا۔ نہ ماننے والوں کو دنیاوی عذاب کی صورت میں سور اور بندر بنا دیا گیا اور آخرت کا عذاب تو خیر ان کو ضرور ہی ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
(رکوع نمبر 16)
اسرارومعارف
مشرکین عرب ہوں یا یہود ونصاری ان کا خود کو ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع قرار دینا اور ان عقائد و اعمال کے ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ تو بلاشبہ ایک بہت عظیم پیشوا اور اللہ کریم کے اطاعت گذار بندے تھے ان کا تو کوئی عقیدہ یا عمل خود ساختہ نہ تھا جبکہ تمہارا سارا مذہب ایجاد بندہ ہے اور وہ تو ہرگز شرک نہیں کرتے تھے جس پر تمہارے مذاہب کی بنیاد ہے نیز وہ اللہ کے انعامات پر اس کا شکر ادا کرنے والے تھے اور اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے ، کہ ساری عمر معاشرے حکومت اور ہر طاغوت سے ٹکر لی مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت کا دامن نہ چھوڑا ، اولاد وازواج اور گھر بار کی محبت انہیں اللہ…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی کافروں کی گمراہی اور بری حرکات کا
Read the full tafseer →(16:127) وما صبرک الا باللہ اور آپ کا صبر بدوں توفیق من اللہ نہیں ہے ۔ یعنی صبر کی توفیق بھی خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔
ولاتک۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ کون مصدر۔ تو نہ ہو ۔ تو مت ہو۔
ضیق۔ ضیق۔ سعۃ (وسعت و کشادگی) کی ضد ہے۔ اور ضیق بھی بولا جاتا ہے۔ ضبقۃ کا استعمال فقر۔ بخل۔ غم اور اسی قسم کے معنوں میں ہوتا ہے مثلاً آیۃ ہذا ولاتک فی ضیق تو تنگ دل مت ہو۔ تو غم نہ کھا ۔ ضاق یضیق تنگ ہونا۔
یمکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب مکر سے ۔ وہ چالیں چلتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
لغات القرآن آیت نمبر 125 تا 128
ادع بلا، پکارا۔ سبیل راستہ۔ الحکمۃ سمجھ، دانئای۔ الموعظۃ نصیحت۔ جادل بحث کرو۔ احسن زیادہ بہتر ہے ۔ اعلم بہت زیادہ جانتا ہے ۔ ضل بھٹک گیا۔ عاقبتم تم نے بدلہ لیا۔ غو قبتم تمہیں تکلیف دی گئی۔ لاتخزن رنجیدہ نہ ہو۔ ضیق دل میں تنگی محسوس کرنا۔ یمکرون وہ مکرو فریب کر رہے ہیں۔
محسنون نیکی کرنے والے۔
تشریح آیت نمبر 125 تا 128
سورۃ النحل میں بہت سے بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گی ہے۔ اس سورت کو جن آیات پر ختم فرمایا گیا ہے اس میں اس بات کی نصیحت کی جا رہی ہے کہ کائنات کی سچائیاں وہی ہیں جو اس سورت میں اور اس سے پہلی سورتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ ان کو سمجھانا اور ہر شخص کے دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
صبر کا ذکر : اس آیت میں خاص کر آنحضرت ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ صبر اختیار کریں اور اس کی تاکید فرمائی اور اس بات کی خبر دی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر صبر ہاتھ نہیں آتا۔ آپ اگر صبر کریں گے تو خدا ہی کی مدد سے کریں گے اور پھر آپ کو اس بات سے منع فرمایا کہ جو شخص آپ کے خلاف کرے تو اس سے رنجیدہ نہ ہوجاویں۔ کیونکہ یہ بھی خدا ہی کی طرف سے مقرر ہوچکا تھا جو کچھ احد کی لڑائی میں ہوا اور پھر کفار کے مکروفریب کرنے سے غمگین ہونے کو منع فرمایا کہ اگر یہ مکروفریب کرتے ہیں تو کرنے دو خدا تو تمہارے ساتھ ہے، ان کے مکروفریب سے تمہیں کیا نقصان ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :" تکلیف کے وقت جو شخص صبر کرتا ہے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
[73] اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعوت حق کا طریقہ حکمت و دانائی اور موعظہ حسنہ کا طریقہ ہے اور بحث و نزاع کی اجازت صرف اس صورت میں ہے جو احسن طریقے پر ہو۔ احسن طریقے سے مراد یہ ہے کہ ایسا اسلوب، ایسا لب و لہجہ اور اس طرح کے الفاظ اختیار نہ کئے جائیں جو مخالف کے دل کو دکھ پہنچانے والے ہوں یا اسے سننے والوں کی نظر میں ذلیل و رسوا کرنے والے ہوں۔ کیونکہ اگر بحث سے مقصود دعوت حق ہے تو مخاطب کے دل کو نرمی و محبت سے حق کی طرف متوجہ کرنا چاہئے نہ یہ کہ صدمہ پہنچانا، ضد میں لانا اور جوش نفرت سے بھر دینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
(ف 2) اس میں حضور ﷺ کی شفقت وہمدردی کا ذکر ہے ، اور آپ سے کہا گیا ہے کہ ان کی بدبختی پر غم نہ کھاؤ ، جی تھوڑا نہ کرو ، ان کو آزاد چھوڑ دو یہ تمام باطل تدبیروں کو آزما دیکھیں تمہارے خلاف سازشیں کرلیں اللہ انہیں ناکام رکھے گا اور یہ اپنے مقصد میں ذلیل و خوار ہوں گے ۔
Read the full tafseer →127 ۔ آگے نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا اور پیغمبر آپ تو بجائے انتقام کے صبر ہی کیجئے اور آپ کا صبر کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اسی کی مدد سے ہوسکتا ہے اور آپ ان کی مخالفت پر غم نہ کیجئے اور غمگین نہ ہو جئے اور یہ لوگ جو آپ کی مخالفت میں فریب آمیزیں تدبیریں کرتے رہتے ہیں ان سے آپ تنگ دل نہ ہوا کیجئے۔ پہلے لوگوں کی تین قسمیں بیان کی گئیں کیونکہ کچھ اہل علم اور سمجھدار ہیں کچھ عوام ہیں اور کچھ ضدی اور ہٹ دھرم ہیں۔ پہلے گروہ کے لئے حکمت دوسرے کے لئے مواعظہ حسنہ اور تیسرے گروہ کے لئے مناظرہ اور مجادلہ۔
ان طرف تبلیغ کے بعد زیادتی کرنے والوں کے ساتھ برتائو کا طریقہ بتایا اس میں رخصت بھی بتائی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
ف 3۔ اس لیے آپ تسلی رکھیں کہ صبر میں آپ کو دشواری نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! صبر کرو اور آپ ﷺ کا صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہوسکتا ہے :
(141) ۔ صبر کی حقیقت پر عوام کی غلط فہمی نے تدبر پر تو پردے ڈال رکھے ہیں ، وہ ان کے نزدیک بےبسی وبے کسی کی تصویر ہے اور اس کے معنی اپنے دشمن سے کسی مجبوری کے باعث انتقام نہ لے سکنا کے کئے جاتے ہیں لیکن کیا واقعہ یہی ہے ؟ یاد رہے کہ صبر کے لغوی معنی ” روکنے “ اور ” سہارنے “ کے ہیں یعنی اپنے نفس کو اضطراب اور گھبراہٹ سے روکنا اور اس کو اپنی جگہ ثابت قدم رکھنا اور یہی صبر کی معنوی حقیقت بھی ہے یعنی اس کے معنی بےاختیاری کی خاموشی اور انتقام نہ لے سکنے کی مجبوری کے نہیں بلکہ پامردی ‘ دل کی مضبوطی ‘ اخلاقی جرات اور ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
Causing Pain to a Man of Da'wah: Revenge is Permissible, but Patience is Better.
The next three verses (126, 127, 128) carry another important instruction for those who present the message of Truth before people. It tells them about what they have to do in unusual conditions. There are occasions when they have to face people who are hard-hearted and very ignorant. No matter how softly and politely one explains things to them and no matter how much goodwill one has for them in his heart, they would, even then, go in a fit of anger, use bad language and cause pain. There are times when they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
122. This instruction is very important for those who are engaged in the propagation of Islam. They should always keep in view two things, wisdom and excellent admonition. Wisdom implies that one should use discretion in the work of propagation and should not do this blindly like foolish people. Wisdom demands that one should keep in view the intelligence, capability and circumstances of the addressees and convey the message in accordance with the requirements of the occasion. Moreover, one should refrain from applying one and the same method to each and every person or group but should first…
Read the full tafseer →