جمعہ کا دن
ہر امت کے لئے ہفتے میں ایک دن اللہ تعالیٰ نے ایسا مقرر کیا ہے جس میں وہ جمع ہو کر اللہ کی عبادت کی خوشی منائیں۔ اس امت کے لئے وہ دن جمعہ کا دن ہے، اس لئے کہ وہ چھٹا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کا کمال کیا۔ اور ساری مخلوق پیدا ہوچکی اور اپنے بندوں کو ان کی ضرورت کی اپنی پوری نعمت عطا فرما دی۔ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی زبانی یہی دن بنی اسرائیل کے لئے مقرر فرمایا گیا تھا لیکن وہ اس سے ہٹ کر ہفتے کے دن کو لے بیٹھے، یہ سمجھے کہ جمعہ کو مخلوق پوری ہوگئی، ہفتہ کے دن اللہ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ پس تورات جب اتری ان پر وہی ہفتے کا دن مقرر ہوا اور انہیں حکم ملا کہ اسے مضبوطی سے…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 121
یہ کفار مکہ کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے۔ اس میں یہ بیان کرنے کی حاجت نہ تھی کہ سبت بھی یہودیوں کے لیے مخصوص تھا اور ملت ابراہیمی میں حرمت سبت کا کوئی وجود نہ تھا، کیونکہ اس بات کو خود کفار مکہ بھی جانتے تھے۔ اس لیے صرف اتنا ہی اشارہ کرنے پر اکتفا کیا گیا کہ یہودیوں کے ہاں سبت کے قانون میں جو سختیاں تم پاتے ہو یہ ابتدائی حکم میں نہ تھیں بلکہ یہ بعد میں یہودیوں کی شرارتوں اور احکام کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ان پر عائد کی گئی تھیں۔ قرآن مجید کے اس اشارے کو آدمی اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا جب تک کہ وہ ایک طرف بائیبل کے ان مقامات کو نہ دیکھے جہاں سبت کے احکام بیان ہوئے ہیں (مثلاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
نبی کریم ﷺ کے لئے ملت ابراہیمی کا اتباع
حق تعالیٰ نے جو شریعت و احکام حضرت ابراہیم ؑ کو عطا فرمائے تھے خاتم الانبیاء ﷺ کی شریعت بھی بعض خاص احکام کے علاوہ اس کے مطابق رکھی گئ اور اگرچہ رسول کریم ﷺ تمام انبیاء ورسل (علیہم السلام) سے افضل ہیں مگر یہاں افضل کو مفضول کے اتباع کا حکم دینے میں دو حکمتیں ہیں۔
اول تو یہ کہ وہ شریعت پہلے دنیا میں آ چکی ہے اور معلوم و معروف ہوچکی ہے آخری شریعت بھی چونکہ اس کے مطابق ہونے والی تھی اس لئے اس کو اتباع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے دوسرے بقول علامہ زمخشری یہ حکم اتباع بھی منجملہ اکرام و اعزاز خلیل اللہ کے ایک خاص اعزاز ہے اور اس کی خصوصیت کی طرف لفظ ثم سے…
Read the full tafseer →اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِـيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ
یہ یہود کے ایک اعتراض کا جواب ہے یہود نبی اور مسلمانوں پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ یہ لوگ سبت کا احترام نہیں کرتے قرآن نے اس کا یہ جواب دیا کہ سبت کا احترام ملت ابراہیم کا کوئی جزو نہیں ہے بلکہ سبت یہود کے لیے مشروع ہوا تھا اور انہوں نے بھی اس کے باب میں اختلاف پیدا کرکے اس کی حرمت برباد کردی۔ اب ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے روز ہگا۔ سبت کے آداب و احکام کے بارے میں ان کے ہاں جو اختلافات ہیں ان کی تفصیل بڑی طولانی ہے ہمارے لیے…
Read the full tafseer →124۔ 1 اس اختلاف کی نیت کیا ہے ؟ اس کی تفصیل میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ نے ان کے لئے جمعہ کا دن مقرر فرمایا تھا، لیکن بنو اسرائیل نے اختلاف کیا اور ہفتے کا دن تعظیم و عبادت کے لئے پسند کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسیٰ ! انہوں نے جو دن پسند کیا ہے، وہی دن رہنے دو ، بعض کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا تھا تعظیم کے لئے ہفتے میں کوئی ایک دن متعین کرلو۔ جس کے تعین میں ان کے درمیان اختلاف ہوا۔ پس یہود نے اپنے مذہبی قیاس کی بنیاد پر ہفتے کا دن اور نصاریٰ نے اتوار کا دن یہودیوں کی مخالفت کے جذبے سے اپنے لئے مقرر کیا تھا، اسی طرح عبادت کے لئے انہوں نے اپنے کو یہودیوں سے الگ رکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
52: یہ ایک دوسرا استثنا ہے جس میں یہودیوں کے لیے بعض وہ چیزیں ممنوع کردی گئی تھیں جو حضرت ابراہیم ؑ کی شریعت میں جائز تھیں۔ اور وہ یہ کہ یہودیوں کے لیے سنیچر کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع کردی گئی تھیں۔ پھر ان میں بھی اختلاف رہا کہ کچھ لوگوں نے اس پابندی پر عمل کیا اور کچھ نے نہیں کیا۔ بہر حال ! یہ بھی ایک استثنائی حکم تھا جو صرف یہودیوں کو دیا گیا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کی شریعت اس سے خالی تھی۔ لہذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام قرار دیدے۔
Read the full tafseer →انما جعل الشبت علی الذین اختلفوا فیہ (61 : 421) ” رہا سبت تو وہ ہم نے ان لوگوں پر مسلط کیا تھا جنوہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا “۔ اور اس کا فیصلہ بھی اللہ کے حوالے ہے۔
وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون (61 : 421) ” اور یقینا تیرا رب قیامت کے روز ان سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں “۔
یہاں تک دین جدید اور خالص عقیدہ توحید اور دین ابراہیم اور ان کے عقیدہ توحید کے باہم تعلق اور ان دونوں اور مشرکین و یہود کے منحرف عقائد کے درمیان فرق و امتیاز کی بات تھی۔ قرآن مجید کے مقاصد میں سے یہ ایک اہم مقصد بھی تھا۔ اب آخر میں رسول اللہ ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →5 یعنی اصل ملت ابراہیمی میں ہفتہ کا حکم نہ تھا، اس امت پر بھی نہیں ہے۔ البتہ درمیان میں " یہود " نے اپنے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات سے اختلاف کر کے جب اپنے لیے یہ دن انتخاب کیا تو حکم ہوا کہ اچھا اسی کی تعظیم کرو اور مچھلی کا شکار اس روز مت کرو ! یہ حکم کسی نے مانا کسی نے نہ مانا۔ نہ ماننے والے دنیا میں بندر اور سور بنائے گئے اور آخرت میں جو فیصلہ ہوگا وہ الگ رہا۔ ایک اسی پر کیا منحصر ہے وہاں تو سارے اختلافات اور جھگڑے چکا دیے جائیں گے۔ مثلاً حضرت ابراہیم کی نسبت کوئی " یہودی " بتلاتا تھا کوئی " نصرانی " حالانکہ حق تعالیٰ نے آگاہ کردیا کہ وہ " حنیف مسلم " تھے۔ بہرحال آخرت میں سب…
Read the full tafseer →آیت 124 اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ
دراصل بنی اسرائیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لیے جمعہ کا دن ہی مقرر فرمایا تھا مگر انہوں نے اپنی شرارت کی وجہ سے اس کی ناقدری کی اور اسے چھوڑ کر ہفتہ کا دن اختیار کرلیا۔ چناچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس حیثیت میں ہفتہ کا دن ہی مقرر کردیا۔
Read the full tafseer →126 ہفتہ کی چھٹی یہود کے اصرار پر مقرر کی گئی :۔ ہفتہ کے دن کی تعظیم کا بھی ملت ابراہیمی میں کوئی حکم نہ تھا بلکہ جمعہ کا دن ہی مقرر کیا گیا تھا اور مسلمان بھی جمعہ ہی کی تعظیم کرتے ہیں۔ اور ہفتہ کا دن یہودیوں پر یوں مسلط کیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں جمعہ کی تعظیم کے لیے کہا تو کہنے لگے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔ وہ جمعہ کے دن فارغ ہوا اور ساتویں (ہفتہ) کے دن آرام کیا تو ہم بھی ہفتہ کے دن چھٹی کیا کریں گے اللہ کے آرام کے متعلق یہود کا یہ تصور انتہائی غلط تھا۔ تاہم ان کی اپنے نبی سے ضد کے نتیجہ میں ان پر ہفتہ کا دن مقرر کیا گیا اور سختی یہ کی گئی کہ وہ ہفتہ کے دن…
Read the full tafseer →186۔ (اپنے پیغمبروں کی ہدایات و احکام سے) (آیت) ” جعل السبت “۔ یعنی ان لوگوں پر اس روز کا تعطل توبہ ظور سزا عاید کیا گیا تھا۔ اصل دین ابراہیمی میں نہ تھا۔ (آیت) ’ ’ ہفتہ کا ساتواں دن، سنیچر، شنبہ، جو شریعت یہود میں ایک مقدس دن تھا، جس میں ہر دنیوی مشغولیت سے احتراز واجب تھا، اس پر حاشیے پہلے گزر چکے۔ (آیت) ” فیہ “۔ یعنی احکام حرمت سبت کے بارہ میں۔
187۔ یہ اختلافات خواہ آپس کے ہوں یا اپنے پیغمبروں اور ہادیوں کی ہدایات سے۔ (آیت) ” لیحکم “۔ اس فیصلہ سے فیصلہ عملی ومشاہد یعنی ترتب اجرو عذاب مراد ہے، ورنہ دلائل و شواہد کے لحاظ سے تو فیصلہ آج بھی موجود ہے۔ والمعنی انہ تعالیٰ لیحکم یوم القیمۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
آیت نمبر 120 تا 128
ترجمہ : بیشک ابراہیم (علیہ السلام) امام، پیشوا تھے کہ جو تمام اچھی خصلتوں کے جامع تھے اللہ کے فرمانبردار دین قیم کی طرف رخ کرنے والے تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گذار تھے اللہ نے ان کو برگزیدہ بنایا تھا اور انھیں راہ راست سمجھا دی تھی، اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور ہر مذہب (وملت) کے لوگوں میں ان کا ذکر جمیل ہے، اس میں غیبت سے (تکلم) کی جانب التفات ہے اور وہ آخرت میں بھی نیکوں کاروں میں ہوں گے ایسے لوگوں میں کہ ان کے لئے بلند درجات ہوں گے پھر اے محمد ﷺ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پر وی کریں اور ابراہیم…
Read the full tafseer →انما جعل الست علی الذین اختلفوا فیہ وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون ہفتہ (کے دن کی تعظیم و عبادت و حرمت کا پاس) تو صرف ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں خلاف کیا تھا اور آپ کا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس بات کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
جُعِلَ السَّبْتُ یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم اور دنیا کے تمام مشاغل کی حرمت اور محض عبادت لازم کردی گئی تھی۔
اخْتَلَفُوْا فِیْہ ط یعنی سنیچر کے معاملہ میں انہوں نے اپنے پیغمبر کی مخالفت کی۔ کلبی کا بیان ہے : بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ نے حکم دیا تھا کہ ہر سات دن میں ایک روز یعنی جمعہ کے دن کوئی کام اور پیشہ نہ…
Read the full tafseer →(124) اور ہفتہ تعظیم تو ان ہی لوگوں پر لازم کی گئی تھی، جنہوں نے جمعہ کی تعظیم میں اختلاف کیا تھا اور آپ کا پروردگار قیامت کے دن یہودی ونصاری کے درمیان فیصلہ کردے گا جس دین میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ۔۔ : یعنی ہفتے کے دن کی تعظیم جیسے ملت اسلام میں نہیں ہے، ابراہیم ؑ کی شریعت میں بھی نہ تھی۔ یہ دن تو بعد میں صرف ان لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا جنھوں نے اس میں اختلاف کیا تھا، اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے ان پر جمعہ کے دن کی تعظیم واجب کی تھی، مگر انھوں نے اس میں اختلاف کرکے ہفتے کا دن مقرر کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی دن کی تعظیم فرض کردی کہ اس میں شکار مت کرو۔ اس کی تائید ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، بَیْدَ أَنَّھُمْ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، ثُمَّ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 124
قولہ تعالیٰ : انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ یعنی (یہ پابندی) نہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں تھی اور نہ ان کے دین میں، بلکہ وہ تو بڑا وسیع تھا اس میں کوئی مشکل اور سختی نہ تھی۔ اور سنیچر کی پابندی اور سختی یہودیوں پر تھی اس لئے کہ کاروبار چھوڑنے اور معاش میں پھیلاؤ ترک کرنے کے بارے میں اس میں ان کے درمیان اختلاف واقع ہوا (اسی سبب سے ان پر سنیچر کی پانبدی عائد کردی گئی) ، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جمعہ کے دن کے ساتھ آئے اور فرمایا : ہر سات دنوں میں سے ایک دن عبادت کیلئے فارغ رہو۔ تو انہوں نے کہا : ہم نہیں چاہتے کہ ان کی عید ہماری عید کے بعد ہو، پس انہوں نے…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق، ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ “ سے مراد ہے کہ جس دن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا وہ جمعہ کا دن تھا لیکن ان لوگوں نے اس کے بجائے ہفتہ (کے دن) کو عبادت کا دن بنایا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر جمعہ کے دن عبادت فرض کی تھی انہوں نے انکار کیا اور کہا اے موسیٰ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن کچھ بھی پیدا نہیں فرمایا اس لئے ہمارے لئے ہفتہ کے دن کو مقرر کردیجئے جب ان پر ہفتہ کا دن مقرر کردیا گیا تو انہوں نے اس دن…
Read the full tafseer →[انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ جُعِلَ : مقرر کیا گیا ] [ السَّبْتُ : ہفتہ کا دن ] [ عَلَي الَّذِينَ : ان پر جنھوں نے ] [ اخْتَلَفُوْا : اختلاف کیا ] [ فِيْهِ ۭ: اس میں ] [ وَان : اور بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لَيَحْكُمُ : یقینا فیصلہ کرے گا ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے مابین ] [ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [ فِـيْمَا : جس میں (کہ)] [ كَانوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ : وہ لوگ اختلاف کرتے تھے ]
Read the full tafseer →سنیچر کے دن کی تعظیم یہودیوں پر لازم تھی
دنیا میں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا اور آخرت میں جو ان کا مرتبہ ہوگا اس کا ذکر کرنے کے بعد (اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ ) فرمایا سبت سنیچر کے دن کو کہتے ہیں بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ سنیچر کے دن کی تعظیم کریں اس دن انہیں مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت تھی، انہوں نے خلاف ورزی کی اور مچھلیوں کا شکار کیا اور کچھ حیلے تراش لیے جس پر وہ بندر بنا دئیے گئے جس کا ذکر سورة بقرہ (رکوع آٹھ میں) اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ یہودیوں پر یہ جہالت سوار تھی کہ وہ جس دین پر چلتے تھے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–124
بیان حقیقت ملت ابراہیمیہ برائے ترغیب اتباع ملت محمویہ
قال اللہ تعالیٰ : ان ابراہیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا .... الیٰ .... فیما کانوا فیہ یختلفون۔
(ربط) ابتداء سورت سے یہاں تک مشرکین کی شرکیات اور کفریات کا ابطال فرمایا اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ مشرکین عرب چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے تھے ان کی ملت اور شریعت کے اتباع کو واجب سمجھتے تھے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) خدا کے کیسے موحد اور شکر گزار اور فرمانبردار بندہ تھے۔ سرتاپا توحید و تفرید میں غرق تھے۔ معاذ اللہ مشرک نہ تھے لہٰذا مشرکین عرب اور اہل کتاب کا یہ سمجھنا کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں…
Read the full tafseer →101:۔ یہ مشرکین کے ایک سوال کا جواب ہے کہ اگر محمد ﷺ ملت ابراہیمی کے تابع ہوتے تو جمعہ کے بجائے سبت (ہفتہ) کی تعظیم کرتے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) سبت کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ تو جواب دیا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) سبت کی نہیں بلکہ جمعہ کی تعظیم کیا کرتے تھے اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جمعہ کی تعظیم کرنے کا حکم دیا گیا مگر قوم نے ان کے بعد اپنے کسی پیغمبر سے جھگڑا شروع کردیا کہ ہم جمعہ کی نہیں بلکہ ہفت کی تعظیم کریں گے چناچہ ہم نے ان پر ہفت کی تعظیم فرض کردی اور آخر الزمان پیغمبر ﷺ کو اسی دن کی تعظیم کا حکم دیا جس کی تعظیم ابراہیم (علیہ السلام) بجا لاتے تھے یعنی جمعہ کا دن۔ اختلفوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل و کمالات بیان فرمائے ، ان کی ملت کا ذکر کیا اور ان کی پیروی کا حکم دیا خود حضور ﷺ بھی ملت ابراہیمی کو پیروی کا حکم دیتے تھے ، مشرکین عرب اگرچہ نسلی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے مگر وہ آپ کا طریقہ چھوڑ چکے تھے ، ابراہیم (علیہ السلام) تو حنیف اور مؤحد تھے اور شرک سے قطعی طور پر بیزار تھے ، مگر عرب کے لوگ شرک میں ملوث ہوچکے تھے ، ان کی اکثریت کفریہ اور شرکیہ رسوم ہی میں پھنس کر رہ گئی تھی اور اصل دین بھول چکی تھی عرب میں کوئی جگہ بت پرستی سے خالی نہ تھی حتی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا تعمیر کردہ…
Read the full tafseer →اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَي الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِـيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ 124
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
سبت
أصل السَّبْتُ : القطع، ومنه سبت السّير :
قطعه، وسَبَتَ شعره : حلقه، وأنفه : اصطلمه، وقیل : سمّي يوم السَّبْت، لأنّ اللہ تعالیٰ ابتدأ بخلق السموات والأرض يوم الأحد، فخلقها في ستّة أيّام کما ذكره، فقطع عمله يوم السّبت فسمّي بذلک، وسَبَتَ فلان : صار في السّبت…
Read the full tafseer →یہود آنحضرت ﷺ پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ آپ طریقہ ابراہیم کے کیونکر پابند ہوسکتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں یوم السبت 1 ؎ یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم خاص تھی وہ آپ نے ترک کر کے اس کی جگہ جمعہ کا دن مقرر کیا۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ کہ سبت کا دن ابراہیم (علیہ السلام) پر مقرر نہ ہوا تھا بلکہ انہیں یہود پر موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں کہ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا یعنی اس کی تعظیم بجا نہ لائے بہت نے ان کے بزرگوں میں سے اس کی بےحرمتی کی اس دن میں کاروبار و شکار کیا جس پر مبتلائے بلا ہوئے۔ اختلفوا فیہ میں ایک قسم کی تعریض ہے کہ یہ جو آج اس کی…
Read the full tafseer →اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ ط وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَحْکُمُ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 124)
(بلاشبہ سبت انھی لوگوں پر عائد کیا گیا تھا جنھوں نے اس کے باب میں اختلاف کیا، اور بیشک تمہارا رب ان چیزوں کے باب میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ )
سبت کا ملت ابراہیم ( علیہ السلام) سے کوئی تعلق نہیں
اس آیت کریمہ میں یہود کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ وہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں پر یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ آپ لوگ ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کے داعی ہیں جبکہ یہودیت ملت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہودی بڑی شد و مد کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مذہب اور نسب کے اعتبار سے ابراہیم (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ قرآن مجید دو ٹوک انداز میں اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ چناچہ ارشاد ہوا :
” اے اہل کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کس بنیاد پر جھگڑا کرتے ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل ابراہیم کے بعد نازل کی گئی ہیں کیا تم پھر بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں ؟ تم وہ لوگ ہو جو ایسی باتوں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم ہے مگر ایسی باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے…
Read the full tafseer →سبت ملت ابراہیمی میں نہیں :
124: اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ (ہفتہ کے دن ( کا پاس و حرمت) ان لوگوں پر فرض کیا گیا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا) یعنی ہفتے کے دن کی تعظیم ان پر فرض کی اور اس دن مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت کی۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَحْکُمُ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَاکَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (بیشک آپکا رب ان کے درمیان ان باتوں میں قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا۔ جن میں
وہ اختلاف کرتے تھے) روایت تفسیر میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ وہ ہر سات دن میں ایک دن عبادت کا مقرر کرلیں۔ اور وہ جمعہ کا دن ہو۔ مگر انہوں نے انکار کردیا۔…
Read the full tafseer →ہفتہ کی تعظیم نہ کرنے کی وجہ سے یہودیوں پر اللہ کی لعنت پڑی :
تفسیر :( 124)” انما جعل السبت علی الذین اخلتفو افیہ “ انہوں نے اس میں اختلاف کیا ۔ بعض نے اس کا معنی یہ کیا ہے کہ جن لوگوں نے ہفتہ کے دن میں اختلاف کیا ان پر لعنت ہے ۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ نے ہفتہ کے دن کی تعظیم اور حرمت صرف ان لوگوں کے لئے لازمی کی تھی جنہوں نے اس کے سلسلہ میں اختلاف کیا تھا یعنی یہودیوں پر ہفتہ کے دن کی تعظیم لازم کی تھی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہفتہ کا دن سب سے زیاد ہ عظمت والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کو پیدا کر کے جمعہ کے دن فارغ ہوگیا اور سینچر کے دن آرام کیا ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے…
Read the full tafseer →124۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو ملت ابراہیمی (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم دیا تھا کہ ابراہیم کے طریقہ کی آپ پیروی کریں کیوں کہ ان کا طریقہ خالص توحید کا ہے اس میں شرک کا ذرا بھی لگاؤ نہیں۔ اب یہود کو ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھ کر مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہود بھی اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند بتلاتے ہیں اور شرع محمدی کو بھی ملت ابراہیمی کے موافق کہا جاتا ہے پھر شرع محمدی میں ہفتہ کی تعظیم کی جگہ جمعہ کی تعظیم کیوں ہے اسی کو فرمایا کہ ہفتہ کا دن یہود نے آپ اپنی رائے سے اور اپنے باہمی اختلاف سے مقرر کرلیا ہے دین ابراہیمی میں ہفتہ کے دن کی تعظیم کا ذکر نہیں ہے بلکہ موسیٰ…
Read the full tafseer →آیت : (124)
(انما جعل السبت) ہفتے کا دن فرض کیا گیا (علی الذین اختلفوافیہ) ” صرف انہی پر جو اس میں اختلاف کرتے تھے “ یعنی جب وہ جمعہ کے دن کے بارے میں بھٹک گئے۔۔۔۔۔ مراد یہود ہیں۔۔۔۔۔ ان کا اختلاف اس بات کا سبب بنا کہ اللہ ہفتے کے دن کا احترام اعر تعظیم ان پر واجب کر دے ورنہ حقیقی فضیلت تو جمعہ کے دن ہی کو حاصل ہے۔ جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس امت کی راہنمائی فرمائی۔ (وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون) ” بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے “ پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے سامنے حق پسند اور باطل پسند کے درمیان فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →265۔ حکم سبت ملت ابراہیمی کا جزء نہیں تھا :۔
بلکہ یہ یہودیوں کی اپنی اختراع تھی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” سوائے اس کے نہیں کہ ہفتے کا دن تو انہی لوگوں پر مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا “ یعنی یہود پر۔ جنہوں نے جمعہ کی بجائے ہفتہ کے دن کی تعظیم و تقدیس کا مطالبہ کیا۔ تو ان پر تغلیظ وتشدید کے طور پر اسی دن کی تعظیم لازم کردی گئی۔ ورنہ ملت ابراہیمی میں تعظیم جمعہ کے دن ہی کی تھی۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، فتح القدیر وغیرہ) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی ان پر اپنی امت کو جمعہ کے دن ہی کی تعظیم کا حکم دیا مگر یہود نے نہ مانا اور ہفتے کے دن کی تعظیم ہی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
یہود کا انجام، اصلاح و تبلیغ کا بہترین طریقہ
تشریح : یہاں سب سے پہلے یہود کا ذکر کیا گیا ہے وہ بھی دین ابراہیمی ہی کے تابع کہلاتے تھے، حالانکہ وہ ایسے نہ تھے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خاصیت ہی یہ تھی کہ وہ ایک ہی طرف کے چلنے والے تھے، یعنی صرف اور صرف اللہ کی وحدانیت کو ماننے والے پکے مسلم (فرمانبردار) تھے جبکہ یہود تو انتہائی ضدی اور نافرمان قوم تھی۔ ان کو فرمانبرداری سکھانے کے لیے ہفتے کا دن مقدس دن مقرر کیا گیا مگر وہ دو فرقوں میں بٹ گئے کچھ نے مانا اور کچھ نے نہ مانا۔ نہ ماننے والوں کو دنیاوی عذاب کی صورت میں سور اور بندر بنا دیا گیا اور آخرت کا عذاب تو خیر ان کو ضرور ہی ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
(رکوع نمبر 16)
اسرارومعارف
مشرکین عرب ہوں یا یہود ونصاری ان کا خود کو ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع قرار دینا اور ان عقائد و اعمال کے ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ تو بلاشبہ ایک بہت عظیم پیشوا اور اللہ کریم کے اطاعت گذار بندے تھے ان کا تو کوئی عقیدہ یا عمل خود ساختہ نہ تھا جبکہ تمہارا سارا مذہب ایجاد بندہ ہے اور وہ تو ہرگز شرک نہیں کرتے تھے جس پر تمہارے مذاہب کی بنیاد ہے نیز وہ اللہ کے انعامات پر اس کا شکر ادا کرنے والے تھے اور اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے ، کہ ساری عمر معاشرے حکومت اور ہر طاغوت سے ٹکر لی مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت کا دامن نہ چھوڑا ، اولاد وازواج اور گھر بار کی محبت انہیں اللہ…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی ہفتہ کے دن کی تعظیم جیسے ملت اسلام میں نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم کی شریعت میں بھی نہ تھی یہ دن تو بعد میں صرف ان لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔ اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے ان پر جمعہ کے دن کی تعظیم واجب کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کر کے ہفتہ کا دن مقرر کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی دن کی تعظیم ہی فرض کردی کہ اس میں شکار نہ کرو۔ اس کی تائید حضرت ابوہریرہ کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ ہم سب امتوں سے زمانہ میں آخر ہیں مگر قیامت کے روز سب سے پہلے ہونگے۔ بات اتنی ہے کہ انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں کتاب بعد میں ملی پھر ان پر…
Read the full tafseer →(16:124) جعل۔ جعل سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ مقرر کیا گیا۔ ٹھہرایا گیا۔ لازم کیا گیا۔
السبت۔ اس کے اصل معنی ہیں قطع کرنا۔ سبت کام کاج سے قطع تعلق کرلینا۔ ہفتہ کا دن۔ سینچر کی تعظیم کرنا۔ پہلے معنی کے اعتبار سے مصدر ہے یعنی کام کاج چھوڑ دینا۔ سینچر کی تعظیم کرنا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے (کہ سبت بمعنی سینچر کا دن ہے) اسم ہے جس کی جمع اسبت اور سبوت ہے۔
اختلفوا فیہ۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔ یعنی حرمت سبت کے احکام کے بارہ میں اختلاف کیا تھا۔
لیحکم۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ یحکم مضارع واحد مذکر غائب ھکم سے۔ وہ ضرور فیصلہ کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–124
لغات القرآن آیت نمبر 120 تا 124
امۃ پیشوا، رہنما، مقتدا۔ قانت فرماں بردار۔ حنیفا سب سے کٹ کر ایک اللہ کا ہونے والا۔ لم یک نہ تھا۔ شاکر شکر کرنے والا۔ انعمہ اس کی نعمتوں کا۔ اجتبی اس نے منتخب کیا۔ اوحینا ہم نے وحی کی۔ اتبع پیروی کیجیے، پیچھے چلیے۔ ملۃ ملت ، دینی طریقہ۔ جعل مقرر کیا گیا ہے۔ السبت ہفتہ کا دن۔
تشریح :- آیت نمبر 120 تا 124
اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں ہے کہ جو قوم ، سست، کاہل اور بےعمل ہوجاتی ہے اس میں بعض ایسی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں جو ان کو دوسروں کی نظروں میں حقیر و ذلیل کردیتی ہیں مثلاً
(1) بات بات پر بحث و مباحثہ، کٹ حجتی ، کج بحثی کرنا۔
(2) اور اپنے بزرگوں اور محترم…
Read the full tafseer →یہود کا ذکر
مطلب یہ ہے کہ اختلاف کرنے والوں پر ہم نے ہفتہ کے روز تعظیم کرنا اور شکار کرنا فرض کردیا تھا۔ تعطیم یہ تھی کہ اس دن کمائی نہ کیا کریں، کسی کام میں مشغول نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کے سوا اور کچھ نہ کریں ۔ اختلاف والے صبر نہ کرسکے انہوں نے ہفتہ کو شکار کئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مسخ کئے گئے۔ یہ قصہ سورة اعراف میں مفصل آچکا ہے۔ پھر فرمایا کہ بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان کے اختلاف کی سزا دے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو جمعہ کے دن عبادت کرنے کا حکم دیا مگر ان کی امت نے اس میں اختلاف کر کے دوسرا دن بدلا۔ ہمیں اللہ نے توفیق دی کہ ہم نے جمعہ اختیار کیا۔
Read the full tafseer →[72] یہ کفار مکہ کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں سبت کا جو قانون تھا اس کو بھی تم نے ختم کردیا ہے۔ یہاں یہ بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی کہ سبت بھی یہودیوں کے لئے مخصوص تھا اور ملت ابراہیمی میں اس کے بارے میں کوئی حکم نہ تھا۔
Read the full tafseer →جمعہ کا احترام :
(ف 1) اسلام اور دیگر ادیان میں اصولا کوئی اختلاف نہیں البتہ بعض لوگوں نے اپنی خواہشات نفس کی اطاعت میں اللہ کے حکموں میں اختلاف وتشتت پیدا کرلیا ۔
جمعہ کا دن ہمیشہ سے دینی فرائض کے لئے مختص رہا ہے ، مگر یہود ونصاری نے اس میں اختلاف کیا ،
چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے ہم سے پہلی قوموں پر بھی جمعہ کا احترام واجب تھا ، مگر انہوں نے از راہ ضد اس میں اختلاف کیا ، اور اللہ نے اس معاملہ میں ہماری صحیح راہنمائی فرمائی ہمیں توفیق مرحمت کی کہ جمعہ کے احترام کو قائم رکھیں اس صورت میں ” اختلفوا “ کے معنے یہ ہوں گے کہ انہوں نے نبی کی تعلیمات میں اختلاف پیدا کیا…
Read the full tafseer →124 ۔ سوائے اسکے نہیں کہ ہفتہ کے دن کی تعظیم تو صرف ان ہی لوگوں پر مقرر کی گئی تھی جنہوں نے آخر کار اس دن میں اختلاف کیا اور بلا شبہ آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان لوگوں کے مابین ان باتوں کا قطعی فیصلہ کر دے گا جن باتوں میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ یعنی ملت ابراہیمی میں ہفتہ کے دن تعظیم کا حکم نہ تھا ۔ اسی طرح نبی آخر الزماں ﷺ کی ملت میں بھی نہیں ہے۔ البتہ جن لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رائے سے اختلاف کر کے ہفتہ کے دن کو پسند کیا تھا انہی پر اس کی تعظیم فرض کی گئی اور ان کو اس دن مچھلی کے شکار کی ممانعت کی گئی اور جو لوگ اس آزمائش پر پورے نہ اترے ان کو دنیا میں سزائیں دی گئیں اور آخرت…
Read the full tafseer →ف 4۔ مراد اس سے یہود ہیں یعنی تحریم طیبات کی یہ صورت مثل دوسری صورتوں کے صرف یہود کے مخصوص تھی ملت ابراہیمی میں نہ تھی۔
5۔ اوپر ثم اوحینا۔ الخ۔ میں حضور ﷺ کی رسالت کے اثبات سے یہ مقصود تھا کہ مرسل علیھم اس رسالت کے حقوق ادا کریں یعنی تصدیق اواتباع کریں آگے خود رسول اللہ کو ادائے رسالت کے حقوق وآداب کی تعلیم ہے جن میں سے مراعاة عدل فی النتقام میں حضور ﷺ کے تابعین کو بھی خطاب ہے کیونکہ انتقام میں عادة تابعین کا اشتراک ضروری ہے بخلاف تبلیغ وبقیہ احکام مذکورہ آیت کے کہ نبی سے بالانفراد بھی اس کا صدور ہوسکتا ہے اس لیے اس میں خطاب خاص ہے۔
Read the full tafseer →سبت میں اختلاف کرنے والوں کا فیصلہ اب قیامت کے روز ہی ہوگا :
138۔ سبت والوں سے مراد کیا ہے ؟ اس سے مراد یہود ہیں اور اس امر کی وضاحت خود قرآن کریم نے دوسری جگہ کردی ہے تفصیل اس کی سورة الاعراف کی آیت 163 میں ہے اگرچہ اس کا مختصر بیان سورة البقرہ کی آیت 65 میں اور سورة النساء کی آیت 48 اور 154 میں اور سورة الاعراف کی آیت 163 میں اور زیر نظر آیت میں موجود ہے ۔ (السبت) سبت کے اصل معنی قطع عمل کے ہیں اور امام راغب نے یہی مراد لئے ہیں کہ ترک العمل فیہ ” اس دن کام کا ترک کرنا “ اور پھر اس کے معنی مدت یا زمانہ کے بھی لئے گئے ہیں خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ۔
اس جگہ اس کے ذکر کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
The Holy Prophet being on the way of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) : Understanding the Chemistry of Adherence
When Sayyidna Ibrahim I appeared, Allah Ta’ ala blessed him with a Shari'ah and its Injunctions. When the Last of the Prophets ﷺ appeared, his Shari'ah too - with the exception of some particular Injunctions - was laid out in accordance with it. Though, the Holy Prophet ﷺ is preferred as more distinguished (afdal) of all blessed prophets and messengers, but at this place, there are two wise considerations in asking the preferred (afdal) to follow the one not so preferred (mafdul) in…
Read the full tafseer →121. This is the answer to their second objection. Obviously, there was no need to state that the restrictions about the Sabbath applied only to the Jews and had nothing to do with the law of Prophet Abraham (peace be upon him), because they themselves knew it. The restrictions were imposed upon the Jews because of their mischief and violations of the law. In order to understand fully the significance of this reference one is requested to read those passages of the Bible in which commandments about the Sabbath have been stated, e.g., Exodus 20: 8-11, 23: 12-13,31: 1-17, 35: 23, and Numbers…
Read the full tafseer →