حکمت سے مراد کتاب اللہ اور حدیث رسول ﷺ ہے
اللہ تعالیٰ رب العالمین اپنے رسول حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ آپ اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں۔ حکمت سے مراد بقول امام ابن جریر ؒ کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ ﷺ ہے۔ اور اچھے وعظ سے مراد جس میں ڈر اور دھمکی بھی ہو کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اور اللہ کے عذابوں سے بچاؤ طلب کریں۔ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ اگر کسی سے مناظرے کی ضرورت پڑجائے تو وہ نرمی اور خوش لفظی سے ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ ڰ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
سورة النَّحْل 122
یعنی دعوت میں دو چیزیں ملحوظ رہنی چاہیں۔ ایک حکمت۔ دوسرے عمدہ نصیحت۔
حکمت کا مطلب یہ ہے کہ بیوقوفوں کی طرح اندھا دھند تبلیغ نہ کی جائے، بلکہ دانائی کے ساتھ مخاطب کی ذہنیت استعداد اور حالات کو سمجھ کر، نیز موقع و محل کو دیکھ کر بات کی جائے۔ ہر طرح کے لوگوں کو ایک ہی لکڑی سے ہانکا جائے، جس شخص یا گروہ سے سابقہ پیش آئے، پہلے اس کے مرض کی تشخیص کی جائے، پھر ایسے دلائل سے اس کا علاج کیا جائے جو اس کے دل و دماغ کی گہرائیوں سے اس کے مرض کی جڑ نکال سکتے ہوں۔
عمدہ نصیحت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ مخاطب کو صرف دلائل ہی سے مطمئن کرنے پر اکتفاء کیا جائے بلکہ اس کے جذبات کو بھی اپیل کیا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ربط آیات
سابقہ آیات میں رسول کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کے اثبات سے مقصود یہ تھا کہ امت آپ کے احکام کی تعمیل کر کے رسالت کے حقوق ادا کریں مذکورہ آیات میں خود رسول کریم ﷺ کو ادائے رسالت کے حقوق اور آداب کی تعلیم ہے جس کے غموم میں تمام مؤمنین شریک ہیں مختصر تفسیر یہ ہے
آپ اپنے رب کی راہ (یعنی دین اسلام) کی طرف (لوگوں کو) حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ بلائیے (حکمت سے وہ طریقہ دعوت مراد ہے جس میں مخاطب کے احوال کی رعایت سے ایسی تدبیر اختیار کی گئی ہو جو مخاطب کے دل پر اثر انداز ہو سکے اور نصیحت سے مراد یہ ہے کہ خیرخواہی و ہمدردی کے جذبہ سے بات کہی جائے اور اچھی نصیحت سے مراد یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 125 تا 128:۔ خاتمۂ سورة : آگے کی آیات خاتمۂ سورة کی حیثیت رکھتی ہیں جس میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو اللہ کے دین کی دعوت پر جمے رہنے اور مشکلاتِ راہ کا صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ساتھ ہی حصول صبر کا طریقہ بتایا گیا ہے اور یہ بشارت دی گئی ہے کہ اللہ کی معیت اس کے متقی بندوں ہی کو حاصل ہوگی ہے اور انجام کی کامیابی انہی کا حصہ ہے۔ آیات کی تلاوت کیجیے
حکمت اور موعظت حسنہ : اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ…
Read the full tafseer →125۔ 1 اس میں تبلیغ ودعوت کے اصول بیان کئے گئے ہیں جو حکمت، اصلاحات کی مناسبت پر مبنی ہیں۔ جدال بالأحسن، درشتی اور تلخی سے بچتے ہوئے نرم ومشفقانہ لب و لہجہ اختیار کرنا ہے۔
125۔ 2 یعنی آپ کا کام مذکورہ اصولوں کے مطابق وعظ و تبلیغ ہے، ہدایت کے راستے پر چلا دینا، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اور وہ جانتا ہے کہ ہدایت قبول کرنے والا کون ہے اور کون نہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
52: یہ ایک دوسرا استثنا ہے جس میں یہودیوں کے لیے بعض وہ چیزیں ممنوع کردی گئی تھیں جو حضرت ابراہیم ؑ کی شریعت میں جائز تھیں۔ اور وہ یہ کہ یہودیوں کے لیے سنیچر کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع کردی گئی تھیں۔ پھر ان میں بھی اختلاف رہا کہ کچھ لوگوں نے اس پابندی پر عمل کیا اور کچھ نے نہیں کیا۔ بہر حال ! یہ بھی ایک استثنائی حکم تھا جو صرف یہودیوں کو دیا گیا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کی شریعت اس سے خالی تھی۔ لہذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام قرار دیدے۔
Read the full tafseer →یہ ہیں دعوت اسلامی کی بنیادیں اور یہ ہیں تحریک اسلام کے کام کے اصول و قواعد اور یہ طریقہ کار خود نبی کریم ﷺ کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ نیز آپ ﷺ کے بعد آنے والے تمام اور داعیان حق کے لئے یہی دستور العمل ہے اور یہی منہاج دعوت ہے۔
سب سے پہلے یہ کہ یہ دعوت الی اللہ ہے۔ اللہ کے راستے اور اللہ کے نظام کی طرف دعوت کسی شخصیت یا کسی قوم کی طرف نہیں ہے۔ اس میں داعی کا کردار صرف یہ ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ اس لئے دعوت دینا اس کا کوئی احسان نہیں ہے کہ وہ جتلاتا پھرے نہ دعوت اسلامی پر احسان ہے اور ان لوگوں پر احسان ہے جو داعی کے پیروکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس کا اجر بھی اللہ پر ہے۔
دعوت حکمت اور حسن تدبیر…
Read the full tafseer →6 اوپر کی آیتوں میں مخاطبین کو آگاہ کرنا تھا کہ یہ پیغمبر اصل ملت ابراہیمی لے کر آئے ہیں، اگر کامیابی چاہتے ہو اور " حنیف " ہونے کے دعوے میں سچے ہو تو اس راستہ پر چل پڑو۔ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ الخ سے خود پیغمبر ﷺ کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ لوگوں کو راستہ پر کس طرح لانا چاہیے، اس کے تین طریقے بتلائے۔ حکمت، موعظت، حسنہ، جدال بالتی ہی احسن " حکمت " سے مراد یہ ہے کہ نہایت پختہ اور اٹل مضامین مضبوط دلائل وبراہین کی روشنی میں حکیمانہ انداز سے پیش کیے جائیں۔ جن کو سن کر فہم و ادراک اور علمی ذوق رکھنے والا طبقہ گردن جھکا سکے۔ دنیا کے خیالی فلسفے ان کے سامنے ماند پڑجائیں اور کسی قسم کی علمی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
آیت 125 اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
یہ دعوت الی الحق کا طریقہ اور اس کے آداب کا ذکر ہے جیسا کہ سورة یوسف ‘ آیت 108 میں فرمایا گیا : قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِقف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ” اے نبی ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ میں خود بھی اور میرے پیروکار بھی اس راستے پر گامزن ہیں۔“
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ
اپنے موضوع کے حوالے سے یہ بہت عظیم آیت ہے۔ اس میں انسانی معاشرے کے اندر انسانوں کی تین…
Read the full tafseer →128 تبلیغ کے لئے داعی کو تین ہدایات :۔ یہاں سے خطاب رسول اللہ کی طرف ہے۔ اور اس آیت میں تبلیغ دین کے متعلق تین ہدایات دی گئی ہیں۔ پہلی ہدایت حکمت ہے حکمت کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو موقع محل دیکھ کر دعوت دی جائے۔ یعنی اس وقت دعوت دی جائے جب مخاطب کے دل میں سننے کی خواہش ہو اور وہ سننے کو تیار ہو اور دوسرے جو بات کہی جائے وہ مخاطب کے عقل و فہم کو ملحوظ رکھ کر کی جائے۔ عمدہ نصیحت سے مراد یہ ہے کہ جو بات آپ کہیں میٹھے اور دلنشیں انداز میں کہیں جو مخاطب کے دل میں اتر جائے۔ عقلی دلیل کے ساتھ ترغیب و ترہیب اور جذبات کو اپیل کرنے والی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائیں آپ کے دل میں اس کے لیے تڑپ ہونی چاہیے۔…
Read the full tafseer →188۔ (جس میں شدت وخشونت نہ ہو) (آیت) ’ بالحکمۃ “۔ یعنی دلائل عملی کے ساتھ۔ (آیت) ” الموعظۃ الحسنۃ “ یعنی ترغیب وترہیب سے ان کے جذبات اعلی ابھار کے۔ (آیت) ” وجادلھم بالتیھی احسن “۔ یعنی جب بحث آہی پڑے تو شائستہ عنوان سے گفتگو کیجئے۔
189۔ (سوکس نے مانا اور کس نے نہ مانا، اس کا فیصلہ اللہ ہی پر چھوڑ دیجئے۔ آپ اس تحقیق میں نہ پڑیئے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
آیت نمبر 120 تا 128
ترجمہ : بیشک ابراہیم (علیہ السلام) امام، پیشوا تھے کہ جو تمام اچھی خصلتوں کے جامع تھے اللہ کے فرمانبردار دین قیم کی طرف رخ کرنے والے تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گذار تھے اللہ نے ان کو برگزیدہ بنایا تھا اور انھیں راہ راست سمجھا دی تھی، اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور ہر مذہب (وملت) کے لوگوں میں ان کا ذکر جمیل ہے، اس میں غیبت سے (تکلم) کی جانب التفات ہے اور وہ آخرت میں بھی نیکوں کاروں میں ہوں گے ایسے لوگوں میں کہ ان کے لئے بلند درجات ہوں گے پھر اے محمد ﷺ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پر وی کریں اور ابراہیم…
Read the full tafseer →ادع الی سبیل ربکبالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتیھی احسن آپ اپنے رب کی راہ کی طرف علم کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعہ سے بلائیں اور (اگر بحث آپڑے تو) ان کے ساتھ اچھی طرح سے بحث کریں (کہ تنک مزاجی اور سخت کلامی نہ ہو) یعنی اے محمد ﷺ ! آپ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ الْحِکْمَۃ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن ایک محکم ‘ مضبوط ‘ اٹل کلام ہے جس پر کوئی نکتہ چینی نہیں کی جاسکتی (گویا حکمۃ بمعنی محکم کے ہے اور اس سے مراد قرآن ہے) اور الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ سے مراد معارضہ ہے۔ معارضہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں جس سے حق واضح ہوجائے اور شبہات دور ہوجائیں۔ اس کا حسن یہ ہے کہ دلیل کے ساتھ ترہیب اور ترغیب…
Read the full tafseer →(125) اور آپ اپنے پروردگار کے دین کی طرف قرآن حکیم اور قرآن حکیم کی نصیحت آمیز آیتوں کے ذریعے سے لوگوں کو بلائیے اور ان کے ساتھ قرآن کریم اور کلمہ لا الہ الا اللہ“۔ کے طریقہ سے بحث کیجیے آپ کا رب اس شخص کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو اس کے دین سے گمراہ ہوا اور وہی اپنے دین پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ : ”اُدْعُ“ کا مفعول یہاں مذکور نہیں کہ کسے دعوت دے، اس لیے مراد عام ہوگا، یعنی غیر مسلم اور مسلم سب کو دعوت دے۔ یا اسے فعل لازم کے قائم مقام قرار دیا جائے، اس وقت مراد یہ ہوگی کہ ہمیشہ دعوت دیتا رہ۔ رب کے راستے سے مراد اسلام اور اس کی تفصیلات ہیں۔ ”بِالْحِكْمَةِ“ ”حِکْمَۃٌ“ کا لفظ موقع کے مطابق کئی چیزوں پر بولا جاتا ہے، چناچہ قاموس میں اس کے یہ معانی لکھے ہیں :”اَلْعَدْلُ وَالْعِلْمُ وَالْحِلْمُ وَالنُّبُوَّۃُ وَالْقُرْآنُ وَالإِْنْجِیْلُ“ اور لکھا ہے کہ ”أَحْکَمَہُ“ کا معنی ”أَتْقَنَہُ“ ہے، یعنی اس نے اسے خوب پختہ اور مضبوط کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 125
اس میں ایک مسئلہ ہے :
مسئلہ نمبر 1: یہ آیت مکہ مکرمہ میں قریش کی صلح کے بارے معاملات کرنے کے وقت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ انہیں اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی شریعت کی طرف بڑی شفقت اور نرمی کے ساتھ دعوت دیں نہ کہ درشتی اور سختی کے ساتھ، اور اسی طرح قیامت کے دن تک مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرنی چاہئے۔ پس یہ آیت موحدین میں سے گنہگاروں اور نافرمانوں کے اعتبار سے محکم ہے، اور کافروں کے حق میں قتال کرنے کے بارے منسوخ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک وہ جسے یہ احوال کفار میں سے کسی پر قدرت دیں اور بغیر قتال کے اس کے ایمان کی امید کی جاسکتی ہو تو یہ آیت اس کے بارے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن مردویہ نے ابو لیلی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے آئمہ کی اطاعت کو لازم پکڑو اور ان کی مخالفت نہ کرو کیونکہ ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے میں اس کے راست کی طرف بلاتا رہوں اور اچھی نصیحت کے ساتھ سو جو شخص اس کام میں میری مخالفت کرے گا تو وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہوگا اور اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ بری ہوجائے گا اور جو آدمی تمہارے کسی امر کا والی بنا اور اس کے خلاف عمل کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور…
Read the full tafseer →[اُدْعُ : آپ ﷺ دعوت دیں ] [ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِكَ : اپنے رب کے راستے کی طرف ] [ بِالْحِكْمَةِ : دانائی کے ساتھ ] [ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ : اور بھلی نصیحت کے ساتھ ] [ وَجَادِلْهُمْ : اور آپ ﷺ بحث کریں ان سے ] [ بِالَّتِيْ : اس کے ساتھ جو کہ ] [ هِىَ : وہ ہی ] [ اَحْسَنُ ۭ: سب سے خوبصورت ہو ] [ ان : بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ هُوَ اَعْلَمُ : ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [ بِمَنْ : اس کو جو ] [ ضَلَّ : گمراہ ہوا ] [ عَنْ سَـبِيْلِهٖ : اس کے راستے سے ] [ وَهُوَ : اور وہ ہی ] [ اَعْلَمُ : سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [ بِالْمُهْتَدِيْنَ : ہدایت پانے والوں کو ]
نوٹ۔ 1: تفسیر قرطبی…
Read the full tafseer →دعوت و ارشاد اور اس کے آداب
اس آیت میں دعوت الی اللہ کا طریقہ بتایا ارشاد فرمایا (اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بالْحِکْمَۃِ ) (آپ اپنے رب کی طرف حکمت کے ذریعہ بلائیے) (وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ ) (اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ) (وَ جَادِلْھُمْ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) (اور ان سے ایسے طریقہ پر بحث کیجیے جو بہت اچھا طریقہ ہو) اس میں تین چیزوں کی رعایت رکھنے کا حکم فرمایا اول حکمت دوسرے موعظہ حسنہ تیسرے اچھے طریقے پر بحث کرنا حکم تو رسول اللہ ﷺ کو ہے لیکن آپ کے توسط سے ساری امت کو اس کا حکم فرما دیا ہے حکمت، موعظہ حسنہ، مجادلہ بطریق احسن یہ تینوں چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے ذریعہ دعوت دی جائے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
آداب دعوت و تبلیغ
قال اللہ تعالیٰ : ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ .... الیٰ .... والذین ہم محسنون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ملت ابراہیمی کے اتباع کا حکم تھا اور اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت ملت ابراہیمی کا مقصود اصل اور اولیٰ تھا۔ اب ان آیات میں دعوت اسلام اور تبلیغ کے آداب بتلاتے ہیں کہ وعظ و نصیحت اور تبلیغ و دعوت میں کن امور کو ملحوظ رکھنا چاہئے یعنی حکمت اور موعظت اور مجادلہ حسنہ کو ملحوظ رکھیں اور اگر کفار کی طرف سے کوئی اذیت اور تکلیف پہنچے تو اگرچہ انتقام جائز ہے لیکن اگر صبر اور تقویٰ سے کام لیں تو بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے متقین اور محسنین سے اپنی معیت خاصہ کا وعدہ فرمایا ہے اور صبر اور تقویٰ…
Read the full tafseer →102:۔ نفی شرک فی التصرف اور نفی شرک فعلی کو عقل و نقل اور وحی کے دلائل سے مدلل و مفصل کرنے کے بعد طریق تبلیغ بیان کیا گیا۔ الحکمۃ دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ و محکمہ جن سے دعوی خوب واضح ہوجائے اور تمام شبہات دور ہوجائیں۔ ” الموعظۃ الحسنۃ “ خیر خواہی اور شفقت کے جذبہ کے ساتھ یا مطلب یہ ہے کہ تخویف و انذار کے ساتھ ترغیب وتبشیر بھی ہو۔ ” التیھی احسن “ یعنی گفتگو کرنے کا سب سے اچھا طریقہ اختیار کریں جس میں نرمی بھی ہو متانت اور شائستگی بھی (روح و مدارک) آپ دلائل وبراہین کے ساتھ نصح و شفقت کے جذبہ کے تحت، نرم لہجہ، شائستہ انداز گفتگو سے دعوت توحید پیش کرتے رہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس کی آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–125
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل و کمالات بیان فرمائے ، ان کی ملت کا ذکر کیا اور ان کی پیروی کا حکم دیا خود حضور ﷺ بھی ملت ابراہیمی کو پیروی کا حکم دیتے تھے ، مشرکین عرب اگرچہ نسلی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے مگر وہ آپ کا طریقہ چھوڑ چکے تھے ، ابراہیم (علیہ السلام) تو حنیف اور مؤحد تھے اور شرک سے قطعی طور پر بیزار تھے ، مگر عرب کے لوگ شرک میں ملوث ہوچکے تھے ، ان کی اکثریت کفریہ اور شرکیہ رسوم ہی میں پھنس کر رہ گئی تھی اور اصل دین بھول چکی تھی عرب میں کوئی جگہ بت پرستی سے خالی نہ تھی حتی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا تعمیر کردہ…
Read the full tafseer →اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ 125
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
جب آنحضرت ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کی مسند نبوت پر بیٹھے اور ان سے بھی بڑھ گئے تو ان کو حج کے لیے لوگوں میں منادی کا حکم ہوا تھا واذن فی الناس بالحج تو آپ کو تمام عالم کی دعوت کا حکم ہوا کہ سب کو راہ راست کی طرف بلائیں فقال ادع الی سبیل ربک مگر دنیا میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ اول اعلیٰ درجہ کے حکماؤ کملاء جن کا مقصود اصلی یقینات کا دلائلِ قطعیہ سے حاصل کرنا ہے سو ان کی دعوت بالحکمہ ہوتی ہے دلائلِ قطیعہ یقینیہ کے ساتھ ان کے دل میں عقائد و اعمال صالحہ کی رغبت پیدا کرنا۔ اب یہ کچھ ضرور نہیں کہ یہ دلائل قواعد منطقیہ پر مبنی ہوں یا نہ ہوں بلکہ ان کے فہم و استعداد کے موافق، دوم اوسط درجہ کے لوگ ان کے…
Read the full tafseer →اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوَا اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 125)
(دعوت دو اپنی رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ، اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو پسندیدہ ہو، بیشک آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت پانے والے ہیں۔ )
اس آیت کا پس منظر
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اور اس کے بعد کی آیات اس وقت نازل ہوئی ہیں جب حالات میں دو تبدیلیاں محسوس کی جارہی تھیں، ایک یہ کہ قریش…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بیشک کسی کا دعویٰ اور موقف کتنا ہی جھوٹا ہو اس کے باوجود اسے دین کی دعوت حکمت کے اور خیر خواہی کے ساتھ دینا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو طبعًا اور فطرتًا نرم خو اور ہمدرد پیدا فرمایا تھا۔ آپ مشکلات پر صبر کرنے والے، مخالفوں کی مخالفت کا جواب خندہ روئی کے ساتھ دینے والے، اور بدترین دشمن کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے والے تھے۔ آپ ﷺ نے زندگی بھر کسی کو برائی کا جواب برائی سے نہیں دیا آپ کے اعلیٰ اخلاق کی قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یوں تعریف کی گئی ہے :
” لوگو ! تمہارے پاس تمہیں میں سے ایک رسول آیا ہے تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اسے نہایت ہی گراں گزرتی ہے وہ…
Read the full tafseer →طریق دعوت :
125: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ (تم اپنے رب کے راستہ کی طرف دعوت دو ) سبیل سے اسلام مراد ہے۔ بِالْحِکْمَۃِ (حکمت کے ساتھ) ۔ مضبوط اور صحیح بات کے ساتھ۔ اور وہ حق کو واضح کرنے والی اور شبہ کو دور کرنے والی دلیل ہے۔ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (اور اچھی نصیحت کے ساتھ) اور وہ وہی ہے جس میں مخاطب کو بھی معلوم ہوجائے کہ تم ان کی خیر خواہی چاہتے ہو۔ اور ان کے نفع کے طالب ہو۔ نمبر 2۔ موعظہ حسنہ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی ان کو اس کتاب سے نصیحت کرو جو کہ اچھی نصیحت اور حکمت ہے۔ نمبر 3۔ الحکمت افعال کے مراتب کو پہچاننا۔ الموعظۃ الحسنہ۔ کہ جب رغبت خوف سے جاملے اور انذار بشارت سے مل…
Read the full tafseer →(125)” ادع الی سبیل ربکم بالحکمۃ “ اس سے مراد قرآن ہے ۔” والموعظمۃ الحسنۃ “ اس سے مراد قرآن کی نصیحتیں ہیں اور بعض نے کہا کہ ” موعظۃ حسنۃ “ سے مراد دعا ہے جس میں ترغیب اور ترہیب بھی ہو ۔ بعض علماء نے کہا کہ ” موعظۃ حسنۃ “ سے مراد ایسا نرم کلام ہے جس میں درشتی اور چڑ چڑا پن نہ ہو ۔ ” وجادلھم بالتیھی احسن “ ان کے ساتھ مناظرہ یا جھگڑا احسن انداز سے کرو ، ان کو اذیت دینے سے بچو اور رسالت کی تبلیغ میں اور حق کی طرف بلانے میں کوئی کمی نہ کرو ۔ یہ آیت قتال سے منسوب ہوگئی ہے ۔ ” ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعنم بالمھتدین “
Read the full tafseer →125۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حضرت موسیٰ کو حکم فرمایا کہ آپ لوگوں کو اسلام کی نصیحت کریں تو نہایت ہی نرمی سے گفتگو کریں۔ اس طرح اللہ پاک نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے پاس جانے کا ارشاد فرمایا تو یہ بھی حکم دے دیا تھا کہ فقولا لہ قولا لینا جس کا مطلب یہ ہے کہ سختی سے اس کے ساتھ کلام نہ کیا جائے۔ اس واسطے اہل اسلام کو بھی زیبا ہے کہ جب کسی مخالف فرقہ سے مناظرہ کریں تو یہی شیوہ اختیار کریں خواہ وہ راہ راست پر آویں یا نہ آویں چناچہ اسی بات کا آنحضرت ﷺ کو بھی حکم ہوا کہ آپ اس بات کی حرص نہ کریں کہ سب کے سب آپ کی نصیحت سے راہ راست ہی پر آجاویں کیونکہ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے وہ جس کو چاہے ہدایت دے…
Read the full tafseer →آیت : (125)
یعنی تمام مخلوق کو ‘ خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر ‘ آُ کی اپنے رب کے سیدھے راستے کی طرف دعوت ‘ علم نافع اور عمل صالح پر مشتمل ہونی چاہیے (بالحکمۃ) ” حکمت کے ساتھ “ یعنی ہر ایک کو اس کے حال ‘ اس کی فہم اور اس کے اندر قبولیت اور اطاعت کے مادے کے مطابق دعوت دیجئے۔ حکمت یہ ہے کہ جہل کی بجائے علم کے ذریعے سے دعوت دی جائے اور اس چیز سے ابتدا کی جائے جو سب سے زیادہ اہم ‘ عقل اور فہم کے سبب سے زیادہ قریب ہو اور ایسے نرم طریقے سے دعوت دی جائے کہ اسے کامل طور پر قبول کرلیا جائے۔ اگر حکمت کے ساتھ دی گئی دعوت کے سامنے سر تسلیم خر کر دے تو ٹھیک ورنہ اچھی نصیحت کے ذریعے سے دعوت کی طرف منتقل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
267۔ دعوت حق کا حکم وارشاد اور اس کے اہم آداب کی تعلیم و تلقین :۔
سو ارشاد فرمایا گیا “ اور بلاتے رہو آپ اے پیغمبر اپنے رب کی راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ “ جس میں نیت بھی خالص ہمدردی و اصلاح کی ہو اور تعبیر واداء بھی درست اور معقول ہو کہ آپ کا کام اور منصب رب کے راستے کی طرف بلانا اور دعوت دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے لوگوں کو راہ راست پر لے آنا اور حق بات ان سے منوا لینا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ البتہ آپ کی یہ دعوت حکمت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یعنی ایسے دلائل وبراہین پر مبنی ہو جو کہ حق کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ دل کو لگنے والے اور عقل کو اپیل کرنے والے ہوں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–128
یہود کا انجام، اصلاح و تبلیغ کا بہترین طریقہ
تشریح : یہاں سب سے پہلے یہود کا ذکر کیا گیا ہے وہ بھی دین ابراہیمی ہی کے تابع کہلاتے تھے، حالانکہ وہ ایسے نہ تھے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خاصیت ہی یہ تھی کہ وہ ایک ہی طرف کے چلنے والے تھے، یعنی صرف اور صرف اللہ کی وحدانیت کو ماننے والے پکے مسلم (فرمانبردار) تھے جبکہ یہود تو انتہائی ضدی اور نافرمان قوم تھی۔ ان کو فرمانبرداری سکھانے کے لیے ہفتے کا دن مقدس دن مقرر کیا گیا مگر وہ دو فرقوں میں بٹ گئے کچھ نے مانا اور کچھ نے نہ مانا۔ نہ ماننے والوں کو دنیاوی عذاب کی صورت میں سور اور بندر بنا دیا گیا اور آخرت کا عذاب تو خیر ان کو ضرور ہی ملے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
(رکوع نمبر 16)
اسرارومعارف
مشرکین عرب ہوں یا یہود ونصاری ان کا خود کو ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع قرار دینا اور ان عقائد و اعمال کے ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ تو بلاشبہ ایک بہت عظیم پیشوا اور اللہ کریم کے اطاعت گذار بندے تھے ان کا تو کوئی عقیدہ یا عمل خود ساختہ نہ تھا جبکہ تمہارا سارا مذہب ایجاد بندہ ہے اور وہ تو ہرگز شرک نہیں کرتے تھے جس پر تمہارے مذاہب کی بنیاد ہے نیز وہ اللہ کے انعامات پر اس کا شکر ادا کرنے والے تھے اور اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے ، کہ ساری عمر معاشرے حکومت اور ہر طاغوت سے ٹکر لی مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت کا دامن نہ چھوڑا ، اولاد وازواج اور گھر بار کی محبت انہیں اللہ…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی دعوت میں صرف ان چیزوں کا خیال رکھا جائے ایک حکمت اور دوسری اچھی نصیحت حکمت کا مطلب یہ ہے کہ نہایت سنجیدہ طریقہ سے مخاطب کی ذہنیت کا لحاظ کرتے ہوئے بات پیش کی جائے اور اچھی نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ نہایت نرمی اور دلسوزی سے کی جائے تاکہ مخاطب سن کر متاثر ہو اور سمجھے کہ میری ہی فائدہ کی خاطر یہ بات کہی جا رہی ہے۔
5 یعنی نہایت نرمی اور محبت سے اخلاق و تہذیب کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے نہ کہ جھڑک کر اور آرام سے باتیں بنا کر۔
6 یعنی دعوت و تبلیغ میں اصل چیز اپنے دین کے اصولوں اور اس کی تعلیمات پر کار بند ر ہنا ہے نہ کہ سچ یا جھوٹ، یا جس طر بھی ممکن ہو اپنی بات کا قائل کرلینا۔ لہٰذا یہ فکر…
Read the full tafseer →(16:125) ادع۔ دعا یدعوا دعاء ودعوۃ (ناقص وادی) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر (باب نصر) تو دعوت دے۔ تو پلا۔ تو دعا کر
جادلہم۔ جادل امر واحد مذکر حاضر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ جادل یجادل مجادلۃ (مفاعلۃ) باہم مناظرہ کرنا۔ باہم جھگڑنا۔ تو ان سے مناظرہ و مباحثہ کر۔
ان عاقبتم۔ اگر تم (انہیں) سزا دینا چاہو۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ عاقب یعاقب معاقبۃ بمعنی عقوبت کرنا۔ سزا دینا۔
العقب والعقب پائوں کا پچھلا حصہ یعنی ایڑی۔ اس کی جمع اعقاب ہے بطور استعارہ عقب کا لفظ بیٹے پوتے پر بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ وجعلھا کلمۃ بافیۃ فی عقبہ (43:28) اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے۔
عاقبۃ بمعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
لغات القرآن آیت نمبر 125 تا 128
ادع بلا، پکارا۔ سبیل راستہ۔ الحکمۃ سمجھ، دانئای۔ الموعظۃ نصیحت۔ جادل بحث کرو۔ احسن زیادہ بہتر ہے ۔ اعلم بہت زیادہ جانتا ہے ۔ ضل بھٹک گیا۔ عاقبتم تم نے بدلہ لیا۔ غو قبتم تمہیں تکلیف دی گئی۔ لاتخزن رنجیدہ نہ ہو۔ ضیق دل میں تنگی محسوس کرنا۔ یمکرون وہ مکرو فریب کر رہے ہیں۔
محسنون نیکی کرنے والے۔
تشریح آیت نمبر 125 تا 128
سورۃ النحل میں بہت سے بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گی ہے۔ اس سورت کو جن آیات پر ختم فرمایا گیا ہے اس میں اس بات کی نصیحت کی جا رہی ہے کہ کائنات کی سچائیاں وہی ہیں جو اس سورت میں اور اس سے پہلی سورتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ ان کو سمجھانا اور ہر شخص کے دل…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کو حکم ہوا کہ اسلام کی نصیحت کریں
اس آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ لوگوں کو اسلام کی نصیحت کریں تو نہایت نرمی سے گفتگو کریں اور یہ بھی حکم ہوا کہ آپ اس بات کی حرص نہ کریں کہ سب کے سب آپ کی نصیحت سے راہ راست پر آجاویں، کیونکہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے نہ دے۔ وہ ہدایت پانے والے کو خوب جانتا ہے اور جو لوگ ہدایت نہیں پانے والے انہیں بھی وہ جان چکا ہے مگر جزا وسزا کا دراومدار اس نے اپنے علم پر نہیں رکھا ہے۔ اس لئے اتمام حجت کے طور پر اس نے اپنے رسول مخلوق میں بھیج دیئے تاکہ کسی کو اس بات کے کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہمیں کوئی راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–128
[73] اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعوت حق کا طریقہ حکمت و دانائی اور موعظہ حسنہ کا طریقہ ہے اور بحث و نزاع کی اجازت صرف اس صورت میں ہے جو احسن طریقے پر ہو۔ احسن طریقے سے مراد یہ ہے کہ ایسا اسلوب، ایسا لب و لہجہ اور اس طرح کے الفاظ اختیار نہ کئے جائیں جو مخالف کے دل کو دکھ پہنچانے والے ہوں یا اسے سننے والوں کی نظر میں ذلیل و رسوا کرنے والے ہوں۔ کیونکہ اگر بحث سے مقصود دعوت حق ہے تو مخاطب کے دل کو نرمی و محبت سے حق کی طرف متوجہ کرنا چاہئے نہ یہ کہ صدمہ پہنچانا، ضد میں لانا اور جوش نفرت سے بھر دینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
(ف 1) دعوت وبشارت کا صحیح ترین اصول بتایا ہے یعنی جب خدا کے دین کی طرف لوگوں کو بلایا جائے تو نہایت حکیمانہ انداز میں موعظت اور پند کے طریق پر صلح جوئی اور رواداری کے ساتھ اگر اختلاف کا موقع آئے تو احسن طریق سے اس کو نبھایا جائے مقصد جدل وتعصب نہ ہو ۔
حضور ﷺ کا یہی طریق دعوت وتبلیغ تھا ، یہی وجہ تھی ، لوگ کھچے ہوئے اسلام کی قریب آتے ، اور اسے قبول کرلیتے حضور جب مخالف کو سمجھاتے تو ایسے جاذب طریق سے کہ دل میں اتر جائے ۔
آج حضرات علماء کے اخلاق بگڑ چکے ہیں وہ تبلیغ و اشاعت کی نفسیات سے آگاہ نہیں ، وہ نہیں جانتے قول بیع کیا ہے کس طریق سے لوگوں کو حق وصداقت کی طرف بلانا چاہئے قاعدہ ہے کہ اچھی…
Read the full tafseer →125 ۔ اے پیغمبر آپ اپنے پروردگار کے راستے کی طرف لوگوں کو علم و حکمت کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعہ سے دعوت دیجئے اور بلایئے اگر بحث و مباحثہ کی نوبت آجائے تو ان سے بہتر طریقہ کے ساتھ بحث کیجئے۔ بلا شبہ آپ کا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہی ان کو بھی جانتا ہے جو راہ پر چلنے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ۔ حرام و حلال کی بحث کے بعد حضرت حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو تبلیغ کا حکم فرمایا ، علم کی باتیں یا پکی باتیں یعنی جن سے مدغا ثابت کیا جاسکے اور دلائل وبراہین کے ذریعہ دین حق کی حقانیت کو ثابت کیا جائے یہ طریقہ خواص کو دعوت دینے اور دین کی طرف بلانے کا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–126
ف 1۔ یعنی دین۔
2۔ بس اتنا کام آپ کا ہے پھر آپ اس تحقیق میں نہ پڑئیے کہ کس نے مانا کس نے نہیں مانا کیونکہ یہ کام خدا کا ہے۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام کو ہدایت کہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف دعوت دو :
139۔ اے پیغمبر اسلام ! لوگوں کو دلائل علمی وعقلی کے ساتھ دعوت دو ‘ گویا آیت زیر نظر میں واضح کیا ہے کہ دعوت الی الحق کا طریقہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ سرتاسر حکمت اور (موعظۃ حسنۃ) ہے ” حکمت “ یعنی دانائی کی باتیں (موعظۃ حسنۃ) یعنی پند ونصیحت کی باتیں جو حسن و خوبی کے ساتھ کی جائیں اور اس کے بعد فرمایا (وجادلھم بالتیھی احسن) اور اگر بحث ونزاع کرنی پڑے تو کرسکتے ہو لیکن ایسی ہی بحث ونزاع جو نہایت اچھے طریقہ پر ہو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعوت حق کا طریقہ حکمت اور (موعظۃ حسنۃ) کا طریقہ ہے اور بحث ونزاع کی اجازت صرف اس صورت میں ہے کہ وہ احسن…
Read the full tafseer →Sequence of Verses
In the previous verses, by attesting to the veracity of the Holy Prophet ﷺ as prophet and messenger of Allah, the purpose was to induce his people to follow what he commanded them with and thus do their bounden duty towards their Divinely ordained rasul. In the verses cited above, the Holy Prophet ﷺ himself is being taught how to fulfill the rights of his mission as a messenger of Allah and how to observe the related etiquette as due - the generality of which includes and covers all true believers.
Commentary
Da'wah and Tabligh: Principles and Curriculum
Embedded in this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
122. This instruction is very important for those who are engaged in the propagation of Islam. They should always keep in view two things, wisdom and excellent admonition. Wisdom implies that one should use discretion in the work of propagation and should not do this blindly like foolish people. Wisdom demands that one should keep in view the intelligence, capability and circumstances of the addressees and convey the message in accordance with the requirements of the occasion. Moreover, one should refrain from applying one and the same method to each and every person or group but should first…
Read the full tafseer →