Explained with ayahs 120–123
جد از انبیاء حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) ہدیات کے امام
امام حنفا، والد انبیاء، خلیل الرحمان، رسول جل وعلا، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تعریف بیان ہو رہی ہے اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں سے انہیں علیحدہ کیا جا رہا ہے۔ امتہ کے معنی امام کے ہیں جن کی اقتدا کی جائے قانت کہتے ہیں اطاعت گزار فرماں بردار کو، حنیف کے معنی ہیں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف آجانے والا۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ مشرکوں سے بیزار تھا۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے جب امت قانت کے معنی دریافت کئے گئے تو فرمایا لوگوں کو بھلائی سکھانے والا اور اللہ اور رسول ﷺ کی ماتحتی کرنے والا۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں امت کے معنی ہیں لوگوں کے…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 120
یہ معترضین کے پہلے اعتراض کا مکمل جواب ہے۔ اس جواب کے دو اجزا ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی شریعت میں تضاد نہیں ہے، جیسا کہ تم نے یہودیوں کے مذہبی قانون اور شریعت محمدی ﷺ کے ظاہری فرق کو دیکھ کر گمان کیا ہے، بلکہ دراصل یہودیوں کو خاص طور پر ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں چند نعمتوں سے محروم کیا گیا تھا جن سے دوسروں کو محروم کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ دوسرا جزء یہ ہے کہ محمد ﷺ کو جس طریقے کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے وہ ابراہیم ؑ کا طریقہ ہے اور تمہیں معلوم ہے کہ ملت ابراہیمی میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو یہودیوں کے ہاں حرام ہیں۔ مثلا یہودی اونٹ نہیں کھاتے، مگر مِلّتِ ابراہیمی میں وہ حلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
نبی کریم ﷺ کے لئے ملت ابراہیمی کا اتباع
حق تعالیٰ نے جو شریعت و احکام حضرت ابراہیم ؑ کو عطا فرمائے تھے خاتم الانبیاء ﷺ کی شریعت بھی بعض خاص احکام کے علاوہ اس کے مطابق رکھی گئ اور اگرچہ رسول کریم ﷺ تمام انبیاء ورسل (علیہم السلام) سے افضل ہیں مگر یہاں افضل کو مفضول کے اتباع کا حکم دینے میں دو حکمتیں ہیں۔
اول تو یہ کہ وہ شریعت پہلے دنیا میں آ چکی ہے اور معلوم و معروف ہوچکی ہے آخری شریعت بھی چونکہ اس کے مطابق ہونے والی تھی اس لئے اس کو اتباع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے دوسرے بقول علامہ زمخشری یہ حکم اتباع بھی منجملہ اکرام و اعزاز خلیل اللہ کے ایک خاص اعزاز ہے اور اس کی خصوصیت کی طرف لفظ ثم سے…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ
یعنی ملت ابراہمی کی پیروی کے یہ سارے مدعی، یہود، نصری اور مشرکین، تو بالکل جھوٹے ہیں ہاں ہم نے تمہاری طرف البتہ یہ وحی کی کہ تم ملت ابراہیم کی پیروی کرو چناچہ تمہاری ملت ابراہیم کی ملت ہے۔
Read the full tafseer →123۔ 1 مِلَّۃَ کے معنی ایسا دین جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی نبی کے ذریعے لوگوں کے لئے شروع کے موافق اور ضروری قرار دیا ہے۔ نبی ﷺ باوجود اس بات کے کہ آپ تمام انبیاء سمیت اولاد آدم کے سردار ہیں، آپ کو ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، جس سے حضرت ابراہیم ؑ کی امتیازی اور خصوصی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ ایسے اصول میں تمام انبیاء کی شریعت اور ملت ایک ہی رہی جس میں رسالت کے ساتھ توحید وعقبیٰ و بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
51: بتلانا یہ مقصود ہے کہ کفار مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم ؑ کے دین کا پیرو کہتے تھے، حالانکہ جن حلال چیزوں کو ان مشرکین نے حرام کر رکھا تھا۔ وہ حضرت ابراہیم ؑ کے وقت ہی سے حلال چلی آتی تھیں۔ البتہ ان میں سے صرف چند چیزوں کو یہودیوں پر بطور سزا حرام کردیا گیا تھا۔ جیسا کہ سورة نساء آیت 16 میں گذر چکا ہے۔ باقی سب چیزیں اس وقت سے آج تک حلال ہی چلی آتی ہیں۔
Read the full tafseer →ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابرھیم حنیفا وما کان من المشرکین (61 : 321) ” اور پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھا “۔ پس ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حقیقی رابطہ اس دین جدید کا ہے۔ رہا یہ سوال کہ سبت کی تحریم یعنی ہفتے کے دن دنیاوی کاموں کی ممانعت تو یہ صرف یہودیوں کے ساتھ مخصوص معاملہ تھا۔ اس میں بھی انہوں نے اختلافات کیے۔ سبت کی تحریم کا بھی دین ابراہیم سے تعلق نہیں ہے لہذا سبت کی تحریم دین محمد میں بھی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →4 اس کا بیان (دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :161) کے تحت میں گزر چکا وہاں ملاحظہ کیا جائے مقصد یہ ہے کہ حلال و حرام اور دین کی باتوں میں اصل ملت ابراہیم ہے۔ درمیان میں یہود و نصاریٰ کو ان کے حالات کے مناسب بعض مخصوص احکام دیے گئے۔ آخر آپ کو خاتم الانبیاء بنا کر بھیجا، تاکہ اصل ملت ابراہیمی کو جو غفلت اور تحریف و تصرف بیجا کی دستبرد سے ضائع ہوچکی تھی۔ از سر نو زندہ اور روشن کیا جائے، اور شرک کی تمام رگیں کاٹ دی جائیں حدیث میں ہے۔ " بُعِثْتُ بالسَّمْحَۃِ الْحَنَفِیَّۃِ الْبَیْضَآء " اس کی پوری شرح و تفصیل حضرت شاہ ولی اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
آیت 120 اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ
اَمَّ یَوُمُّ کے لغوی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ سورة یوسف آیت 45 میں اُمَّۃ کا لفظ وقت اور مدت کے لیے بھی استعمال ہوا ہے وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ ۔ وقت اور زمانے کے بھی ہم پیچھے چلتے ہیں تو گویا اس کا قصد کرتے ہیں۔ اسی طرح راستے پر چلتے ہوئے بھی انسان اس کا قصد کرتا ہے۔ اس حوالے سے لفظ اُمَّۃ وقت اور راستے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح جب بہت سے لوگ ایک نظریے کا قصد کر کے اکٹھے ہوجائیں تو انہیں بھی اُمَّۃ کہا جاتا ہے ‘ یعنی ہم مقصد لوگوں کی جماعت۔ چناچہ اسی معنی میں سورة البقرۃ کی آیت…
Read the full tafseer →125 چار بنیادی اشیاء ہی سیدنا ابراہیم کی شریعت میں حرام تھیں :۔ یعنی اگر آج کوئی ملت ابراہیمی کا پیرو کار موجود ہے تو وہ صرف یہ نبی آخر الزمان ہے جسے ہم نے ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ نہ مشرکین مکہ سیدنا ابراہیم کے پیرو کار ہیں اور نہ یہود اور نہ نصاریٰ حالانکہ یہ سب اپنا سلسلہ سیدنا ابراہیم سے ملانا چاہتے ہیں اور اسے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ مشرک ہیں اور سیدنا ابراہیم مشرک نہ تھے۔ مشرکین مکہ کا شرک تو واضح ہے۔ یہود کا شرک یہ تھا کہ انہوں نے سیدنا عزیر کو اللہ کا بیٹا بنایا۔ نیز کئی حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا جس کی پاداش میں اللہ نے بھی وہ چیزیں ان…
Read the full tafseer →185۔ (تو پھر اے مشرکو، تم اپنے کو طریق ابراہیمی کا پیروکس منہ سے کہتے ہو ؟ ) (آیت) ” ثم اوحینا “۔ الخ۔ ثم یہاں اظہار فضیلت کے لیے ہے۔ یعنی علاوہ ان فضائل کے، سب سے بڑی فضیلت انہیں ہم نے یہ دی کہ خود محمد مصطفیٰ ﷺ کو ان کے طریقہ پر چلنے کا حکم دیا۔ فی ثم ھذہ مافیھا من تعظیم منزلۃ رسول اللہ ﷺ واجلال محلہ والایذان بان اشرف مااوتی خلیل اللہ ابراھیم من الکرامۃ واجل مااولی من النعمۃ اتباع رسول اللہ ﷺ ملتہ (کشاف) (آیت) ” ان اتبع ملۃ ابرھیم حنیفا “۔ اور وہ طریقہ ابراہیم (علیہ السلام) حنیف توحید کا مل کا تھا، چناچہ اب وہ طریقہ ابراہیمی طریقہ محمدی میں منحصر اور اسی کے مرادف ہو کر رہ گیا ہے۔ والمراد من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
آیت نمبر 120 تا 128
ترجمہ : بیشک ابراہیم (علیہ السلام) امام، پیشوا تھے کہ جو تمام اچھی خصلتوں کے جامع تھے اللہ کے فرمانبردار دین قیم کی طرف رخ کرنے والے تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گذار تھے اللہ نے ان کو برگزیدہ بنایا تھا اور انھیں راہ راست سمجھا دی تھی، اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور ہر مذہب (وملت) کے لوگوں میں ان کا ذکر جمیل ہے، اس میں غیبت سے (تکلم) کی جانب التفات ہے اور وہ آخرت میں بھی نیکوں کاروں میں ہوں گے ایسے لوگوں میں کہ ان کے لئے بلند درجات ہوں گے پھر اے محمد ﷺ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پر وی کریں اور ابراہیم…
Read the full tafseer →ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا وما کان من المشرکین پھر ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی کہ آپ ابراہیم کے طریقہ پر چلیں جو (ا اللہ ہی کی طرف) یکسو ہوگئے تھے اور شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔
یعنی توحید میں نرمی کے ساتھ اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے میں ‘ پے در پے دلیلیں پیش کرنے میں ‘ ہر شخص سے اس کی سمجھ کے مطابق مناظرہ کرنے میں ‘ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں ‘ دین ابراہیمی کے اصول و شرائع اختیار کرنے میں ‘ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چلو۔ یہ تمام چیزیں وہ نعمتیں تھیں جو اللہ نے حضرت ابراہیم کو عطا فرمائی تھیں اور حضرت ابراہیم نے اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کیا تھا۔ اسی طرح رسول اللہ…
Read the full tafseer →(123) اے محمد ﷺ پھر ہم نے آپ کو حکم دیا کہ آپ دین ابراہیمی پر قائم رہیے جو کہ سچے مسلمان تھے اور وہ مشرکین کے دین پر نہیں تھے۔
Read the full tafseer →ثُمَّ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ۔۔ : یعنی حلال و حرام اور دین سے متعلق تمام معاملات میں اصل نہ یہودیت ہے، نہ نصرانیت ہے اور نہ شرک کہ جس کا ارتکاب یہ کفار مکہ کر رہے ہیں، بلکہ اصل ابراہیم ؑ کی ملت ہے جو خالص توحید سے عبارت تھی اور اس میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو بعد میں یہودیوں پر ان کی شرارت کی وجہ سے حرام کردی گئیں، اس لیے آپ کے لیے پیروی کے لائق اگر کوئی ملت ہے تو وہ صرف ملت ابراہیمی ہے۔ (ابن کثیر)
لفظ ”ثُمَّ“ یہاں حقیقی ترتیب کے لیے نہیں بلکہ ترتیب ذکری کے لیے ہے اور آخر میں ابراہیم ؑ کے فضائل میں سے یہ ایک بہت بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، یعنی ان فضائل کے ساتھ پھر ابراہیم ؑ کی اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 123
حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : آپ ﷺ کو مناسک حج میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سکھائے۔ اور علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : آپ ﷺ کو بتوں سے برأت اختیار کرنے اور اسلام سے آراستہ اور مزین ہونے میں آپ (علیہ السلام) کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : آپ ﷺ کو پورے دین میں آپ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے سوائے ان احکام کے جنہیں چھوڑنے کا آپ کو حکم دیا گیا : یہی بعض اصحاب شافعی (رح) نے کہا ہے، جیسا کہ ماوردی نے اسے بیان کیا ہے۔ اور صحیح یہ ہے کہ عقائد شرع میں اتباع کا حکم ہے نہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
1:۔ عبدالرزاق، فریابی، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ (آیت) ” امۃ “ کیا چیز ہے ؟ فرمایا جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہے۔ اور عرض کیا ” القانت “ کیا چیز ہے ؟ فرمایا جو اطاعت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان براہیم کان امۃ قانتا “ کے بارے میں فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اسلام پر تھے اور ان کے زمانہ میں ان کی قوم میں سے کوئی ایک بھی اسلام پر نہیں تھا ان کے علاوہ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کان امۃ قانتا “۔
3:۔ ابن…
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر ] [ اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ ان : کہ ] [ اتَّبِعْ : آپ ﷺ پیروی کریں ] [ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی ] [ حَنِيْفًا ۭ: یکسو ہوتے ہوئے ] [ وَمَا كَان : اور وہ (علیہ السلام) نہیں تھے ] [ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : شرک کرنے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
پھر فرمایا (وَاٰتَیْنٰہُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً ) (اور ہم نے ان کو دنیا میں حسنہ سے نوازا) حسنہ اچھی حالت اچھی خصلت کو کہا جاتا ہے بعض حضرات نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبیاں عطا فرمائیں، اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے اچھی اولاد مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نبوت سے سرفراز فرمانا مراد ہے بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے ان کی دعاء کی مقبولیت مراد ہے، انہوں نے یوں دعا کی تھی۔ (وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ) (اور میرے لیے آئندہ آنے والوں میں اچھا ذکر جاری رکھئے) دنیا میں جتنے بھی ادیان ہیں سب کے ماننے والے حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–124
بیان حقیقت ملت ابراہیمیہ برائے ترغیب اتباع ملت محمویہ
قال اللہ تعالیٰ : ان ابراہیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا .... الیٰ .... فیما کانوا فیہ یختلفون۔
(ربط) ابتداء سورت سے یہاں تک مشرکین کی شرکیات اور کفریات کا ابطال فرمایا اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ مشرکین عرب چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے تھے ان کی ملت اور شریعت کے اتباع کو واجب سمجھتے تھے اس لیے ارشاد ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) خدا کے کیسے موحد اور شکر گزار اور فرمانبردار بندہ تھے۔ سرتاپا توحید و تفرید میں غرق تھے۔ معاذ اللہ مشرک نہ تھے لہٰذا مشرکین عرب اور اہل کتاب کا یہ سمجھنا کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں…
Read the full tafseer →100:۔ دلیل نقلی کے بعد ہر دو مضمونوں پر دلیل وحی کا ذکر کیا گیا کہ اے پیغمبر ﷺ ۔ اب آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کریں جو ہر قسم کے شرک سے بیزار تھے۔ اے مشرکین مکہ ! خوب سن لو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جنہیں تم اپنا پیشوا مانتے ہو وہ شرک فی التصرف اور شرک فعلی سے بیزار تھے اور مجھے بھی حکم ہوا ہے کہ ملت ابراہیمی کی پیروی کروں اس لیے میرا یہ دعوی سراپا درست اور حق ہے۔ اسے مان لو۔ غیر اللہ کو پکارنا بھی چھوڑ دو اور غیر اللہ کی نذریں نیازیں دینے سے بھی باز آجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
ربط آیات :
اس سورة میں شرک کی مختلف قسمیں بیان ہوچکی ہیں ، منکرین کی طرف سے توحید و رسالت اور قیامت کے انکار کا ذکر بھی ہوچکا ہے ، مشرکین کی طرف سے حلال و حرام میں داخل اندازی کا تذکرہ بھی ہوگیا ہے ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ان آیات کا ربط گذشتہ سے پیوستہ درس کے ساتھ ہے ، وہاں اللہ تعالیٰ نے ایک خوشحال اور امن والی بستی کا ذکر فرمایا تھا جس کے باشندوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان پر بھوک اور خوف کو مسلط کردیا ، اس بستی سے مراد مکہ مکرمہ کی بستی ہے جس کی ابتدا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کرکے کردی تھی اور…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 123
وحی
أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی،
( و ح ی ) الوحی
کے اصل معنی جلدی سے…
Read the full tafseer →ترکیب : ان اتبع اوحینا کی تفسیر ہے بالتی ای بالمجادلۃ التی۔ عاقبتم جمہور کے نزدیک الف تخفیف کے ساتھ ہے اور بعض نے بغیر الف کے تشدید کے ساتھ بھی پڑھا ہے۔ عقبتھم ای تبتعتم۔ بمثل ماب زائدہ ہے بعض کہتے ہیں نہیں بلکہ تقدیریہ ہے بسبب مماثل لماعوقبتم لھو ضمیر صبر یا عفو کی طرف پھرتی ہے دونوں پر کلام دال ہے۔ ضیق مصدر ہے ضاق کا جیسا کہ سارا سیرایا ضیق کا مخفف جیسا کہ میئت میت کا الا باللہ ای بتوفیقہ۔
تفسیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اوصاف مذکورہ میں مشرکین و یہود پر تعریض ہے کہ تم کو بھی ابراہیم (علیہ السلام) کا اتباع ضرور ہے تم تو ان کے برخلاف کام کرتے ہو اس کے بعد ان پر ایک اور تعریض کرتا ہے کہ…
Read the full tafseer →ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا طوَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔
(سورۃ النحل : 123)
(پھر ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیروی کیجیے جو بالکل یکسو تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ )
یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا غالباً سب سے بڑا اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدالمرسلین ﷺ کو آپ ( علیہ السلام) کی ملت کے اتباع کا حکم دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور غیر اللہ سے یکسر لاتعلقی کا اعلیٰ معیار جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قائم کیا تھا اسے اگر آگے بڑھانا تھا تو یقینا اس کے لیے آنحضرت ﷺ کی ذات عزیز اور آپ ﷺ کی عظیم امت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ اور ان کا مرتبہ ومقام ذکر کرنے کے بعد ان کی ملت کی اتباع کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے ہر پیغمبر کو ظاہری اور جوہری صلاحیتیوں کے اعتبار سے منفرد پیدا کیا تھا۔ ہر پیغمبر اپنے دور کے انسانوں میں سیرت اور صورت کے حوالے سے بھی ممتاز ہوتا تھا۔ ان اوصاف کے ساتھ ہر رسول میں کچھ ایسی خوبیاں ودیعت کی جاتی تھیں۔ جن کی بنا پر ہر رسول دوسرے سے منفرد ہوتا تھا۔ جس کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے :
” یہ رسول ہیں ہم نے انہیں ایک ایک دوسرے پر فضیلت دی ان میں کچھ ایسے تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا اور کچھ وہ تھے جن کے درجات بلند کیے اور حضرت عیسیٰ بن مریم…
Read the full tafseer →123: ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی تم ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ جو سب سے یکسو ہونے والے تھے۔ اور مشرکین میں سے نہ تھے) ثمؔ لاکر ہمارے پیغمبر ﷺ کا مرتبہ اور مقام اور مرتبے کا احترام بتلایا۔ اور یہ بتلادیا کہ خلیل اللہ کو اشرف ترین عظمت جو عنایت فرمائی وہ یہ ہے کہ ہمارے رسول کو ان کی اتباع کا حکم دیا۔
Read the full tafseer →(123)” لم اوحینا الیک “ اے محمد ! (ﷺ ) ہم نے آپ کی طرف وحی کی ۔” ان اتبع ملۃ ابراھیم حیفا ‘ ‘ حج کرنے میں اور اسلام لانے میں ” وما کان من المشرکین “ اہل اصول کا قول ہے کہ نبی کریم ﷺ ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت پر مامور تھے مگر وہ امور جو اس شریعت میں منسوخ اور جو منسوخ نہیں ہوئے وہ ہمارے شریعت میں برقرار ہیں ۔ اس کی پابندی رسول اللہ ﷺ پر لازم تھی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
120۔ 123۔ عرب اپنے کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی نو صفتیں بیان فرمائیں تاکہ مشرکین مکہ قائل ہوں کہ ان میں ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی بھی صفت نہیں ہے پہلی صفت ابر اہیم (علیہ السلام) کی یہ ہے کہ ابراہیم اپنے اکیلے دم سے بجائے ایک امت کے تھے ان کے زمانہ میں سارے لوگ کافر تھے صرف ابراہیم (علیہ السلام) حق پرست تھے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے وقت میں اکیلے آپ ہی مومن تھے۔ اس لئے اللہ پاک نے ان کے حق میں یہ فرمایا کہ ابراہیم اپنے دم سے خود ایک امت تھے دوسری صفت ابر اہیم (علیہ السلام) کی اللہ پاک نے یہ بیان کی کہ قانت تھے جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
آیت : (120-123)
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کو فضیلت بخشی اور انہیں فضائل عالیہ اور مناقب کاملہ سے مختص کیا۔ فرمایا : (ان ابراھیم کان امۃ) ” بیشک ابراھیم ایک امت تھے “ یعنی امام ‘ بھلائی کے خصائل کے جامع ‘ ہدایت یافتہ اور راہنما تھے۔ (قانت اللہ) ” اللہ کے فرماں بردار “ اپنے رب کے دائمی مطیع اور اس کے لئے دین کو خالص کرنے والے۔ (حنیفا) ” سب سے ایک طرف ہو کر “ یعنی محبت ‘ انابت اور عبودیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے والے اور ماسوا سے منہ موڑنے والے : (ولم یک من المشرکین) ” اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے “ اپنے قول و عمل اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →264۔ حضرت امام الانبیاء کو بھی ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم وارشاد :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور آپ بھی (اے پیغمبر ! ) پیروی کرو ملت ابراہیم کی جو کہ یکسو تھا (ہرباطل سے) “ یعنی آپ کی عظمت شان اور جلالت قدر کے باوجود آپ ﷺ کو بھی ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا جاتا ہے۔ سو اس طرح یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت شان کا ایک اور بڑا ثبوت ہے کہ حضرت امام الانبیاء (علیہ الصلوۃ والسلام) کو بھی آنجناب کی ملت کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے لیکن یاد رہے کہ یہاں اتباع سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا دین اصول و عقائد میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے ساتھ متفق ہے کہ بنیادی اصول دونوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
دین ابراہیمی
تشریح : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بذات خود ایک امت کا درجہ رکھتے تھے کیونکہ وہ تن تنہا، توحید کا پیغام لے کر کھڑے ہوئے اور اس کامیابی سے دین حنیف کی بنیاد رکھی کہ یہود و نصاریٰ بلکہ کفار اور مشرکین بھی اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے، مگر ان کی تعلیمات میں بہت کچھ کمی بیشی کردی گئی جس کو پورا کرنے کے لیے حضرت محمد ﷺ کو انہی کی شریعت دے کر بھیجا گیا اور تاکید کی گئی کہ اسی دین ابراہیمی کی اتباع کی جائے۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیا گیا کہ آخری نبی ﷺ کو بھی حضرت ابراہیم کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا۔ آپ نے یہ اعزاز بہت بڑی آزمائشوں ریاضتوں اور عبادتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–128
(رکوع نمبر 16)
اسرارومعارف
مشرکین عرب ہوں یا یہود ونصاری ان کا خود کو ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع قرار دینا اور ان عقائد و اعمال کے ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ تو بلاشبہ ایک بہت عظیم پیشوا اور اللہ کریم کے اطاعت گذار بندے تھے ان کا تو کوئی عقیدہ یا عمل خود ساختہ نہ تھا جبکہ تمہارا سارا مذہب ایجاد بندہ ہے اور وہ تو ہرگز شرک نہیں کرتے تھے جس پر تمہارے مذاہب کی بنیاد ہے نیز وہ اللہ کے انعامات پر اس کا شکر ادا کرنے والے تھے اور اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے ، کہ ساری عمر معاشرے حکومت اور ہر طاغوت سے ٹکر لی مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت کا دامن نہ چھوڑا ، اولاد وازواج اور گھر بار کی محبت انہیں اللہ…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی حلال و حرام اور دین سے متعلق تمام معاملات میں اصل چیز نہ یہودیت و نصرانیت ہے اور نہ شرک جس کا ارتکاب یہ کفار مکہ کر رہے ہیں۔ بلکہ اصل حضرت ابراہیم کی ملت ہے جو خلاص توحید سے عبارت تھی اور اس میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو بعد میں یہودیوں پر ان کی شرارت کے بدولت حرام قرار دی گئیں۔ اس لئے آپ کے لئے پیروی کے لائق اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف ملت ابراہیم ہے۔ (کذافی ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
(16:122) اتینہ۔ ماضی جمع متکلم۔ ایتاء (افعال) سے ہُ ضمیر واحد مذکر غائب ہم نے اس کو دیا۔ اتی مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–124
لغات القرآن آیت نمبر 120 تا 124
امۃ پیشوا، رہنما، مقتدا۔ قانت فرماں بردار۔ حنیفا سب سے کٹ کر ایک اللہ کا ہونے والا۔ لم یک نہ تھا۔ شاکر شکر کرنے والا۔ انعمہ اس کی نعمتوں کا۔ اجتبی اس نے منتخب کیا۔ اوحینا ہم نے وحی کی۔ اتبع پیروی کیجیے، پیچھے چلیے۔ ملۃ ملت ، دینی طریقہ۔ جعل مقرر کیا گیا ہے۔ السبت ہفتہ کا دن۔
تشریح :- آیت نمبر 120 تا 124
اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں ہے کہ جو قوم ، سست، کاہل اور بےعمل ہوجاتی ہے اس میں بعض ایسی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں جو ان کو دوسروں کی نظروں میں حقیر و ذلیل کردیتی ہیں مثلاً
(1) بات بات پر بحث و مباحثہ، کٹ حجتی ، کج بحثی کرنا۔
(2) اور اپنے بزرگوں اور محترم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر
مطلب ان آیات کا یہ ہے کہ مکہ کے مشرک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے تھے اور اپنے تمام طریقوں کو ان کی سنت اور ان کی شریعت خیال کرتے تھے۔ لہٰذا ارشاد ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو ہمارا شکر گزار بندہ تھا وہ ہرگز مشرک نہ تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نو صفتیں بیان فرمائیں تاکہ مشرکین مکہ قائل ہوں کہ ان میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی بھی صفت نہیں ہے : (1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اکیلے دم سے تھے۔ ان کے زمانہ میں سارے لوگ کافر تھے یعنی اکیلے آپ ہی مومن تھے۔ (2) خدا کے پکے فرمانبردار۔ (3) ان کی ذات میں کوٹ کوٹ کر توحید بھری ہوئی تھی۔ (4) اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
[71] مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرنے اور ان کی نسل میں ہونے کے مدعی تھے۔ یہاں مشرکین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ ملت ابراہیمی میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو یہودیوں کے ہاں حرام ہیں۔ مثلاً اونٹ کہ یہودی اونٹ کا گوشت نہیں کھاتے جب کہ شریعت ابراہیمی میں وہ حلال تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–123
کون کون سی چیزیں حرام ہیں ؟ :
(ف 1) قرآن حکیم ایک مکمل شریعت ہے اس میں توحید و تفرید کے معارف بھی ہیں ، اور ضروری آداب وعوائد بھی ،
کامل نظام مذہب کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس میں ضروریات انسانی کی ہر چیز موجود ہو ، چناچہ قرآن سب باتوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتا ہے ۔
کھانا پینا بھی چونکہ تہذیب انسانی کا ایک ضروری جزو ہے اس لئے قرآن اس کے متعلق بھی ضروری ہدایات سے مشرف کرتا ہے ،
قرآن کہتا ہے پاکیزہ چیزیں بلا تکلف کھاؤ جن میں مضرت نہ ہو ، جو ناپاک نہ ہوں ، جن کو ذوق سلیم گوارا کرلے ، جن کے کھانے سے اخلاقی ومذہبی مضرتیں نہ پیدا ہوں ، اور جو چیزیں ان صفات سے عاری ہوں ، وہ غذا کے قابل نہیں وہ حرام…
Read the full tafseer →123 ۔ پھر اے پیغمبرہم نے آپ کی جانب یہ وحی بھیجی کہ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور ان کی ملت پر چلئے جو سب سے کٹ کر یکسو ہوچکا تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ چونکہ نبی کریم ﷺ کی ملت ملت ابراہیمی تھی اس لئے اس پر چلنے کا حکم دیا گیا ۔
ملت اور شریعت کا فرق ہم پوری تفصیل کے ساتھ پہلے پارے کی تیسیر میں عرض کرچکے ہیں وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔ یہاں مطلب ی ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ نہ یہودی ہیں نہ نصرانی اور نہ مشرک ہیں بلکہ اپنے داد ا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پر ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی درمیان میں یہود و نصاریٰ مو افق ان کے حال کے اور حکم بھی ہوئے آخری پیغمبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
ف 3۔ پس ایسے مقبول کا جو طریقہ ہوگا وہ بالکل مقبول ہوا اسکو اختیار کرنا چاہیے اور وہ اب منحصر ہے طریقہ محمدیہ میں۔
Read the full tafseer →نبی اعظم وآخر ﷺ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کا حکم دیا گیا :
137۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ وہ کام کریں جو ابراہیم (علیہ السلام) کیا کرتے تھے اور امت مسلمہ کو بھی اس بات کی تعلیم دو اور تم بھی اسی طرح شرک کی بیخ کنی کرو جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے کی تھی کیونکہ ملت ابراہیمی کا اصل الاصول مشرکوں کی بیخ کنی ہی تھا اور وہ اس نے پوری زندگی خوب کی اور آپ کی زندگی کے واقعات کا مطالعہ کرو تو ایک سے ایک بڑھ کر ہیں اور ہر واقعہ میں شرک کا سر کو ٹنے میں ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے اور ہر طریقہ ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی وہ برکت عطا فرمائی ہے کہ آپ کی قوم کو ملکوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
The Holy Prophet being on the way of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) : Understanding the Chemistry of Adherence
When Sayyidna Ibrahim I appeared, Allah Ta’ ala blessed him with a Shari'ah and its Injunctions. When the Last of the Prophets ﷺ appeared, his Shari'ah too - with the exception of some particular Injunctions - was laid out in accordance with it. Though, the Holy Prophet ﷺ is preferred as more distinguished (afdal) of all blessed prophets and messengers, but at this place, there are two wise considerations in asking the preferred (afdal) to follow the one not so preferred (mafdul) in…
Read the full tafseer →120. This is the complete answer to the first objection (E.N. 117) raised by the disbelievers. This has two parts.
(1) There is no contradiction in the divine law as you seem to presume on the apparent variance in the Jewish and the Islamic Law. As a matter of fact a few things had been made unlawful especially for the Jews as punishment to them because of their disobedience; therefore, there was no reason why others should be deprived of those good things.
(2) Prophet Muhammad (peace be upon him) was commanded to follow the way of Abraham and not the way of the Jews, and they themselves knew…
Read the full tafseer →