Explained with ayahs 118–119
دوسروں سے منسوب ہر چیز حرام ہے
اوپر بیان گزرا کہ اس امت پر مردار، خون، لحم، خنزیر اور اللہ کے سوا دوسروں کے نام سے منسوب کردہ چیزیں حرام ہیں۔ پھر جو رخصت اس بارے میں تھی اسے ظاہر فرما کر جو آسانی اس امت پر کی گئی ہے اسے بیان فرمایا۔ یہودیوں پر ان کی شریعت میں جو حرام تھا اور جو تنگ اور حرج ان پر تھا اسے بیان فرما رہا ہے کہ ہم نے ان کی حرمت کی چیزوں کو پہلے ہی سے تجھے بتادیا ہے۔ سورة انعام کی آیت (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ01108) 16۔ النحل :118) میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہوچکا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
سورة النَّحْل 118
اشارہ ہے سورة انعام کی آیت وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْ ا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرِ ، الاٰ یَۃ (آیت نمبر 146) کی طرف، جس میں بتایا گیا ہے کہ یہودیوں پر ان کی نافرمانیوں کے باعث خصوصیت کے ساتھ کون کون سی چیزیں حرام کی گئی تھیں۔
اس جگہ ایک اشکال پیش آتا ہے۔ سورة نحل کی اس آیت میں سورة انعام کی ایک آیت کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة انعام اس سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ لیکن ایک مقام پر سورة انعام میں ارشاد ہوا ہے کہ وَمَالَکُمْ اَلَّا تَاْ کُلُوْ ا مِمَّا ذَکِرَ الْمُ اللہِ عَلَیْہ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّ مَ عَلَیْکُمْ (آیت نمبر 119)۔ اس میں سورة نحل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
معارف و مسائل
محرمات مذکورہ میں حصر اضافی ہے حقیقی نہیں
اس آیت میں لفظ انما سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام چیزیں صرف یہی چار ہیں جو آیت میں مذکور ہیں اور اس سے زیادہ صریح طور پر (آیت) قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا الایۃ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کے سوا کوئی چیز حرام نہیں حالانکہ قرآن وسنت کی تصریحات کے مطابق باجماع امت اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں اس اشکال کا جواب خود انہی آیات کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس جگہ عام حرام و حلال کا بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ مشرکین جاہلیت نے جو بہت سی چیزوں کو اپنی طرف سے حرام کرلیا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو…
Read the full tafseer →وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ
یعنی اصلا یہودی پر بھی وہی چیزیں حرام تھہرائی گئی تھیں جو اوپر آیات 115 میں مذکور ہوئیں لیکن پھر انہوں نے خود اپنے جی سے کچھ چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں جوان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر حرام کردی گئیں۔ خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس کی وضاحت نساء کی ٓیت 160 کے تحت گزرچکی ہے تفصیل کے طالب اس پر ایک نظر ڈالیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
118۔ 1 دیکھئے سورة الا نعام، (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَآ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَآ اَوِ الْحَوَايَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۭذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ ڮ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ) 6۔ الانعام :146) کا حاشیہ، نیز سورة نساء۔ (فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا) 4۔ النساء :160) میں بھی اس کا ذکر ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
51: بتلانا یہ مقصود ہے کہ کفار مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم ؑ کے دین کا پیرو کہتے تھے، حالانکہ جن حلال چیزوں کو ان مشرکین نے حرام کر رکھا تھا۔ وہ حضرت ابراہیم ؑ کے وقت ہی سے حلال چلی آتی تھیں۔ البتہ ان میں سے صرف چند چیزوں کو یہودیوں پر بطور سزا حرام کردیا گیا تھا۔ جیسا کہ سورة نساء آیت 16 میں گذر چکا ہے۔ باقی سب چیزیں اس وقت سے آج تک حلال ہی چلی آتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
بنی اسرائیل پر یہ چیزین اس لئے حرام کی گئی تھیں کہ وہ مسلسل نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرتے تھے اور یہ ان کی جانب سے خود پنے آپ پر ظلم تھا۔ اب اگر کسی نے برے کام پر اصرار نہ کیا اور جہالت سے سچے دل سے تائب ہوگیا تو اللہ غفور الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ آیت عام ہے یہودیوں کے لئے بھی تھی اور ان کے بعد آج مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ نیز آج یہودی اور غیر یہودی کافر اگر تائب ہوجائیں تو ان کے بھی تمام گناہ بخشے جائیں گے۔
اس مناسبت سے کہ بعض چیزیں یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں اور یہ کہ اہل مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور جن چیزوں کو انہوں نے اپنے الہوں کے نام پر حرام…
Read the full tafseer →4 سورة " انعام " آیت (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَآ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَآ اَوِ الْحَوَايَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۭذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ ڮ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :146) کے فوائد میں اس کا بیان گزر چکا، ملاحظہ کرلیا جائے یہاں مقصد یہ ہے کہ جو چیز خدا تعالیٰ نے سب کے لیے یا کسی خاص قوم کے لیے معین وقت تک حرام کی ہے، عین حکمت ہے کسی بشر کو حق نہیں کہ اس میں تصرف کر کے حرام کو حلال یا حلال کو حرام بنائے۔
Read the full tafseer →آیت 118 وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ
اس بارے میں تفصیل سورة آل عمران : 93 ‘ النساء : 140 اور الانعام : 146 میں گزر چکی ہے۔ حضرت یعقوب نے اپنی مرضی سے اپنے اوپر اونٹ کا گوشت حرام کرلیا تھا ‘ جس کی تعمیل بعد میں وہ پوری قوم کرتی رہی۔ اس کے علاوہ مختلف حیوانات کی چربی بھی بنی اسرائیل پر حرام کردی گئی تھی۔
Read the full tafseer →121 اصلا چار ہی چیزیں حرام ہیں :۔ یہاں سورة انعام کی آیت نمبر 146 کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو سورة نحل سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ ترتیب نزولی کے لحاظ سے سورة انعام کا نمبر 55 ہے جبکہ اس سورة نحل کا نمبر 70 ہے۔ کفار مکہ کا اعتراض یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں تو ان چار چیزوں کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں حرام ہیں جنہیں تم مسلمانوں نے حلال کر رکھا ہے۔ اگر موسوی شریعت بھی اللہ کی طرف سے ہے تو تم اس کی خلاف ورزی کیوں کر رہے ہو ؟ اور اگر موسوی شریعت اور تمہاری شریعت دونوں ہی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں تو ان میں تضاد کیوں ہے ؟ اسی اعتراض کا یہاں جواب دیا جارہا ہے جو یہ ہے کہ بنیادی طور پر جو…
Read the full tafseer →180۔ یعنی جو ماکولات یہود پر بہ طور سزا حرام کردیئے گئے ان کے باب میں بھی حقیقۃ سارا قصورا انہی کا تھا۔ زیادتی ہماری طرف سے ذرا بھی نہیں ہوئی، یہاں تک کہ صورۃ بھی۔ (آیت) ” ماقصصنا علیک من قبل “۔ ملاحظہ ہوں سورة الانعام، آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر کے حاشیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
آیت نمبر 111 تا 119
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی…
Read the full tafseer →وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل وما ظلمنھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون اور صرف یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا بیان ہم آپ سے اس سے پہلے کرچکے ہیں
اور ہم نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر زیادتی کیا کرتے تھے۔ سورة انعام میں پہلے اللہ بیان کرچکا تھا : وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذیْ ظُفُرِ الخ۔
مَا ظَلَمْنَاھُمْ یعنی بعض حلال چیزوں کو یہودیوں کیلئے ہم نے حرام کر کے ان پر زیادتی نہیں کی تھی بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر زیادتی کی تھی ‘ اس کی سزا کیلئے بعض حلال چیزیں حرام کردی گئی تھیں۔
آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ کسی چیز کی حرمت کبھی تو…
Read the full tafseer →(118) صرف یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردیں تھیں جس کا بیان ہم آپ سے اس سورت سے پہلے سورة انعام میں کرچکے ہیں، چربیاں اور گوشت جو چیزیں ہم نے ان حرام کی تھیں ان کو حرام کرکے ہم نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی تھی لیکن انہوں نے گناہ کر کے خود ہی اپنے آپ کو نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام فرمائیں۔
Read the full tafseer →وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا۔۔ : حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے جب مسلمان پر حرام کردہ چیزوں مردار اور خون وغیرہ کا ذکر فرمایا اور صرف مجبوری کے وقت انھیں جائز قرار دینے کا ذکر فرمایا، تاکہ امت پر آسانی رہے تو اس کے بعد یہودیوں پر ان چیزوں کے حرام کرنے کا ذکر فرمایا، جن کا ذکر پہلے سورة نساء (160) اور سورة انعام (146) میں گزر چکا ہے، جو پاکیزہ اور حلال ہونے کے باوجود ان کی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے ان پر حرام کی گئی تھیں اور اس اصر و اغلال میں شامل تھیں جو ان کی سرکشی کی وجہ سے ان پر لادے گئے تھے۔ پھر ہمارے نبی کریم ﷺ کے آنے پر ان کی حرمت ختم ہوئی اور صرف وہ چیزیں حرام کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 118
قولہ تعالیٰ : وعلی الذین ھادوا بیان فرمایا کہ چوپائے اور کھیتی اس امت کے لئے حلال ہے، اور رہے یہودی تو ان پر ان میں سے کچھ چیزیں حرام ہیں۔ حرمنا قصصنا علیک من قبل یعنی سورة الانعام میں ہم ان کا ذکر آپ سے کرچکے ہیں۔ وما ظلمنھم اور جو چیزیں ہم نے ان پر حرام کرنے کے ساتھ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے پس ہم نے بطور سزا ان پر وہ چیزیں حرام کردیں، جیسا کہ سورة النساء میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سورة انعام ہیں ہے۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیان فرمایا اس کا ذکر سورة انعام میں ہے جیسے کہ فرماتے ہیں (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمناکل ذی ظفر “ سے لے کر ” وانا لصدقون “ تک۔
Read the full tafseer →[وَعَلَي الَّذِينَ : اور ان پر جو ] [ هَادُوْا : یہودی ہوئے ] [ حَرَّمْنَا : ہم نے حرام کیا ] [ مَا : اس کو جو ] [ قَصَصْنَا : ہم نے بیان کیا ] [ عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ] [ مِنْ قَبْلُ ۚ: اس سے پہلے ] [ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ : اور ہم نے ظلم نہیں کیا ان پر ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ كَانوْٓا انفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ : وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 118 ۔ کے الفاظ مَاقَصَصْنَا عَلَیْکَ میں سورة انعام کی آیت۔ 146 کی طرف اشارہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہودیوں پر ان کی نافرمانیوں کے باعث کون کون سی چیزیں حرام کی گئی تھیں۔ (تفہیم القرآن) ۔ یہود اپنی سرکشی کے باعث ان چیزوں سے محروم کئے گئے…
Read the full tafseer →اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَ عَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ ) (اور ہم نے یہودیوں پر وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا بیان ہم پہلے آپ سے کرچکے ہیں) سورة انعام کے رکوع نمبر 18 میں اس کا ذکر ہے آیت شریفہ (وَ عَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ) کا مطالعہ کرلیا جائے، چونکہ ان کی شرارتیں اور معصیتیں بہت زیادہ تھیں اور ظلم کرتے تھے اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور سود کھاتے تھے اس لیے پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردی گئی تھیں جس کا ذکر سورة النساء کے رکوع نمبر 22 میں فرمایا ہے آیت کریمہ (فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا) کی تفسیر ملاحظہ کرلی جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–119
تہدید بآفات ونیویہ برمعصیت و کفران نعمت
قال اللہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفر اور معصیت پر عذاب اخروی کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ بعض مرتبہ دنیا میں بھی کفر اور معصیت اور کفران نعمت پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط سالی اور عام بیماری اور بسا اوقات کفر اور کفران نعمت دنیا ہی میں زوال نعمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے لوگ سات سال تک شدید قحط میں رہے یہاں تک کہ مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں کھانے لگے اور ضعف اور ناطاقتی سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا بالآخر مجبور ہو کر سرداران قریش نے آنحضرت ﷺ سے…
Read the full tafseer →97:۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر یہ چیزیں حلال ہیں تو پھر یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں۔ یہود پر اونٹ کا گوشت حرام تھا اور یہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام سب اونٹ ہی کی قسمیں ہیں۔ تو اس کا جواب دیا گیا کہ یہ چیزیں اصل میں تھیں تو حلال مگر ہم نے یہود کو ان کی سرکشی کی سزا دینے کے لیے یہ جانور ان پر حرام کردئیے۔ ” ما قصصنا علیک من قبل “ سے سورة انعام کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔ ” و علی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر الایۃ “ (انعام رکوع 18) ۔ ” و ما طلمناھم الخ “ اور یہ حلال چیزیں ان پر حرام کر کے ہم نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ یہ ان کی سرکشی اور بغاوت کی سزا ہے جیسا کہ سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–119
(چاروں چیزیں)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوچکا ہے کہ حلال اور طیب چیزیں کھاؤ ، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے چار قطعی حرام چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، حلت و حرمت کا یہ قانون اس سے پہلے سورة بقرہ سورة مائدہ اور سورة انعام میں بھی بیان ہوچکا ہے ، یہ بڑا اہم مسئلہ ہے جس کی پابندی اہل ایمان کے لیے نہایت ضروری ہے ان محرمات میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ماکولات میں شمار ہیں اور لوگوں کا اکثر وبیشتر ان اشیاء سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ، یہ مسئلہ بیان کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر مشرک مذکورہ محرمات کو برا…
Read the full tafseer →وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ 118
قصص
الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِقُصِّيهِ [ القصص/ 11]
( ق ص ص ) القص
کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔ وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–122
ترکیب : علٰی حرمنا سے متعلق ہے من قبل قصصنا سے۔ انفسہم یظلمون کا مفعول بجہالہ عملوا سے متعلق۔ کان جملہ ان کی خبر۔ امۃ اماماً کان کی خبر اول قانتا خبر ثانی اسی طرح حنیفًا بھی خبر ہے ولم یک جملہ معطوف ہے کان پر اسی طرح شاکرًا بھی خبر کان۔
تفسیر : یہاں سے وہ تحریم بیان کی جاتی ہے جو اگلے لوگوں پر ان کی سرکشی سے واقع ہوئی تھی فرماتا ہے وعلٰی الذین ھادوا حرمنا یعنی یہود پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا ذکر اے نبی ! ہم نے پہلے آپ سے سورة انعام وغیرہ میں کیا ہے جیسا کہ فرمایا تھا حرمنا علیہم کل ذی ظفر و من البقرو الغنم حرمنا علیہم شحومہما کہ ہم نے یہودیوں پر کھروالا جانور حرام کردیا تھا ‘ گائے…
Read the full tafseer →وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا مَاقَصَصْنَا عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ ج وَمَا ظَلَمْنٰـھُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 118)
(اور جو یہودی ہوئے ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کی ہیں جو ہم اس سے پہلے آپ ﷺ کے سامنے بیان کرچکے ہیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔ )
اعتراض کا جواب
اس آیت کریمہ میں ان اعتراضات کا جواب دیا جارہا ہے جو سابقہ آیات میں بیان کردہ حلال و حرام کے حوالے سے بنی اسرائیل کی شریعت کی نسبت سے کیے جارہے تھے کہ تم کہتے ہو کہ ملت ابراہیمی میں صرف یہی چیزیں حرام تھیں جن کا ذکر محولہ بالا آیات میں ہوا جبکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
فہم القرآن
ربط کلام : حرام کے بارے میں مزید احکامات اور یہودیوں کے کردار پر تبصرہ۔
اہل کتاب نے بالخصوص یہودیوں کے علما نے پیٹ پوجا اور معاشرے کے بڑے لوگوں کی خوشنودی کے لیے بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کرلیا تھا۔ جب اس جرم کی نشاندہی کی جاتی تو ان کے علما اس قدر مردہ ضمیر ہوگئے کہ اپنی حرام خوری پر پردہ ڈالنے کے لیے سرعام یہ بات کہتے کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہی حرام اور حلال قرار دی ہیں۔ اس سے منع کرتے ہوئے انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ اپنی مرضی سے حرام و حلال کی فہرست تیار کر کے اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ لگاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ پر صریح جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ جو لوگ اپنی مرضی سے حرام…
Read the full tafseer →یہود پر تحریم سزا کے طور پر تھی :
118: وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا مَاقَصَصْنَاعَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ (اور یہود پر ہم نے حرام کیا جو ہم نے تمہیں اس سے قبل بیان کردیا) ۔ سورة انعام میں جو اس آیت میں ہے وعلی الذین ھادواحر منا کل ذی ظفر الا یۃ ؛ 146 : وَمَا ظَلَمْنٰھُمْ (اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا) ان کو حرام قرار دیکر وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (لیکن وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے) ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش کے طور پر یہ چیزیں ان پر حرام کیں۔
Read the full tafseer →تفسیر :( 118)” وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیکم من قبل “ سورة انعام میں اس کا ذکر ہوچکا ہے ” وعلی الذین ھادواحرمنا کل ذی ظفر “ …” وما ظلمنا ھم “ ان چیزوں کے حرام کرنے کی وجہ سے ہم نے ان پر زیادتی نہیں کی ۔ ” ولکن کانوانفسھم یظلمن “ ان کی سرکشی کی وجہ سے ان پر کچھ اشیاء حرام کردی گئی تھیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
118۔ 119۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہود کے حال کا بیان فرمایا کہ ان پر جو جو چیزیں حرام اور جو جو چیزیں حلال کی گئیں تھیں ان کا ذکر پہلے سورت انعام کی آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر و الفنم حرمنا علیھم شحومہما الا ماحملت ظھورھما (6: 46) میں گزر چکا ہے پھر فرمایا کہ یہ بات اللہ کی طرف سے بطور ظلم کے نہیں تھی بلکہ ان ہی یہود کی بغاوت اور ظلم کا نتیجہ تھا کہ بطور عذاب کے بہت سی چیزیں ان پر حرام کردی گئیں تھیں کیونکہ خدا ظالم نہیں ہے جو ناحق کسی پر حلال شئے کو حرام کرتا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
آیت : (114-118)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات ‘ غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں۔ (حللا طیبا) ” حلال اور پاکیزہ “ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائی کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ ہو رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ (واشکروانعمت اللہ) ” اور اللہ کی نعمت کا شکرا دا کرو “ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے ‘ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمت وثناء کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →254۔ یہودیوں پر بعض پاکیزہ چیزوں کی حرمت :۔
سو فرمایا گیا کہ ان پر ان چیزوں کو حرام کیا گیا جن کا ذکر اس سے پہلے دوسرے مقامات پر کرچکے ہیں۔ جیسا کہ سورة انعام میں فرمایا گیا (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر) ۔ (الانعام : 147) سو یہودیوں پر انکے ظلم وعدوان اور انکے عناد و سرکشی کی بناء پر بعض ایسی پاکیزہ چیزوں کو بھی حرام کردیا گیا تھا جو کہ ان کیلئے حلال تھیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیہم طیبات احلت لہم ) ۔ (النساء : 160) سو یہودیوں پر ان پاکیزہ چیزوں کی حرمت ان کی بغاوت و سرکشی کی بناء پر تھی۔ جیسا کہ اوپر ارشاد فرمایا گیا۔ جبکہ اہل ایمان پر انہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–119
حرام چیزیں اور اللہ کے احکامات
تشریح : حرام حلال کو بڑی وضاحت سے سورة بقرہ، المائدہ اور سورة الانعام میں بیان کیا جا چکا ہے۔ خاص نکات دہرا دیے جاتے ہیں۔
(1) مجبوری میں معافی مل سکتی ہے۔
(2) اللہ کے بنائے ہوئے احکامات میں دخل اندازی کی سخت ممانعت ہے۔
(3) اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھنا بڑے سخت عذاب کا سبب بنے گا۔
(4) یہودیوں پر بہت سی چیزیں صرف اس لیے حرام کردی گئی تھیں کیونکہ انہوں نے اللہ کے احکامات کے بارے میں بڑے سوال کیے، لہٰذا اللہ کے احکامات کے بارے میں زیادہ سوال کرنا خود اپنے اوپر ظلم کرنے کے برابر ہے۔
(5) سچی توبہ پوری شرائط کے ساتھ قبول ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بخش دینا اور رحم کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
(رکوع نمبر 15)
اسرارومعارف
قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
ف 5 مطلب یہ ہے کہ اسلامی شریعت سے زائد یہودیوں کی شریعت میں جو چیزیں حرام پائی جاتی ہیں ان سے کوئی یہ نہ مجھے کہ یہ چیزیں ہمیشہ کے لئے بلکہ یہ تو وقتی طور پر یہودیوں کی اپنی شرارت اور سرکشی کی بدولت ان پر حرام کی گئی تھیں ورنہ ان کی حرمت ابدی نہیں ہے۔ (کذافی شوکانی دیکھئے سورة انعام)
Read the full tafseer →(16:118) وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل کا اشارہ سورة الانعام کی آیت 146 کی طرف ہے۔ جہاں ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔
وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر والغنم حرمنا علیہم شحومھما الا ما حملت ظہورھما او الحوایا او ما اختلط بعظم ذلک جزینہم ببغیہم انا لصدقون۔ (6:146) اور جو لوگ کہ یہودی ہوئے ان پر ہم نے سب کھر والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر ان دونوں کی چربیاں حرام کی تھی بجز اس (چربی) کے جو ان کی پشتوں پر یا ان کی انتڑیوں میں لگی ہوئی ہو یا جو ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو۔ ہم نے یہ سزا ان کو ان کی شرارت پر دی تھی اور ہم ہی یقینا سچے ہیں۔
من قبل یا حرمنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–119
لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 119
کلوا کھاؤ۔ رزق اس نے رزق دیا۔ ایاہ اس کی۔ تعبدون تم عبادت کرتے ہو۔ حرم حرام کردیا، روک دیا۔ المیتۃ مردار۔ الدم خون۔ الحم الخنزیر خنزیر کا گوشت۔ اھل پکارا گیا۔ اضطر مجبور کردیا گیا، مجبور ہوگیا۔ غیر باغ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔ لاعاد نہ زیادتی کا ارادہ ہو۔ لاتقولوا تم نہ کہو۔ تصف بنا لی ہے۔ قصصنا ہم نے بتایا، بیان کیا۔ یظلمون وہ ظلم کرتے ہیں۔ بجھالۃ نادانی۔ تابو توبہ کرلی۔ اصلحوا اصلاح کرلی۔
تشریح : آیت نمبر 114 تا 119
جس شخص کو بات بات پر اعتراض اور کج بخشی کرنے کی عادت پڑجاتی ہے اس کے سامنے کتنی ہی معقول سے معقول حقیقت کو پیش کردیا جائے تب بھی وہ اس میں کوئی نہ…
Read the full tafseer →توبہ کا ذکر
اس آیت میں اللہ پاک نے یہود کا حال بیان فرمایا کہ ان پر جو چیزیں حرام کی گئیں تھیں ان کا ذکر پہلے سورة انعام میں گزر چکا ہے۔ پر فرمایا کہ ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا لیکن انہوں نے ہی اپنی جانوں پر طلم کیا، یہاں تک کہ وہ مستحق عذاب ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
[69] اشارہ ہے سورة انعام کی آیت 146 کی طرف۔ یہاں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو مشرکین مکہ نے مذکورہ بالا حکم پر کیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں جو چیزیں حرام تھیں تم نے انھیں حلال کر رکھا ہے۔ اگر ان کی شریعت اللہ کی طرف سے تھی اور تمہاری شریعت بھی اللہ کی طرف سے ہے تو پھر دونوں شریعتوں میں اختلاف کیسا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–123
کون کون سی چیزیں حرام ہیں ؟ :
(ف 1) قرآن حکیم ایک مکمل شریعت ہے اس میں توحید و تفرید کے معارف بھی ہیں ، اور ضروری آداب وعوائد بھی ،
کامل نظام مذہب کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس میں ضروریات انسانی کی ہر چیز موجود ہو ، چناچہ قرآن سب باتوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتا ہے ۔
کھانا پینا بھی چونکہ تہذیب انسانی کا ایک ضروری جزو ہے اس لئے قرآن اس کے متعلق بھی ضروری ہدایات سے مشرف کرتا ہے ،
قرآن کہتا ہے پاکیزہ چیزیں بلا تکلف کھاؤ جن میں مضرت نہ ہو ، جو ناپاک نہ ہوں ، جن کو ذوق سلیم گوارا کرلے ، جن کے کھانے سے اخلاقی ومذہبی مضرتیں نہ پیدا ہوں ، اور جو چیزیں ان صفات سے عاری ہوں ، وہ غذا کے قابل نہیں وہ حرام…
Read the full tafseer →118 ۔ اور اے پیغمبر ہم نے صرف ان لوگوں پر جو یہودی تھے یہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا ذکر ہم اس سے پہلے یعنی سورة انعام میں آپ سے کرچکے ہیں اور ہم نے ان یہود کے ساتھ کوئی زیادتی اور ناانصافی نہیں کی بلکہ وہی خود اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے ۔ یعنی یہی لوگ ملت ابراہیمی کی مخالفت کی وجہ سے اپنے اوپر ظلم کیا کرتے تھے ۔ ان کی اس مخالفت کے باعث ہم نے ان پر بعض چیزیں حرام کردی تھیں۔
فبظلم من الذین ھادو احرمنا علیھم طیبات احلت لھم
یہی ان کا ظلم تھا کہ وہ انبیاء سابقین کی مخالفت کیا کرتے تھے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہود پر جو بعض چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ تحریم ہماری جانب سے تھی اور کفار مکہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–118
ف 4۔ یعنی خدا کے ساتھ کفران کیا۔
Read the full tafseer →یہود پر جو کچھ حرام کیا گیا وہ ان کے ظلم کے باعث تھا جو گویا ان کی سزا تھی :
132۔ کفار مکہ کو یہ اعتراض تھا کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں تو بہت سی چیزیں حرام ہیں جن کو تم نے حلال کر رکھا ہے ، اگر وہ شریعت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی اور تمہاری شریعت بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے تو دونوں میں یہ اختلاف کیوں ہے ؟ اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ یہود پر جو کچھ ہم نے حلال و حرام کیا تھا وہ تو بالکل وہی ہے جو ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کے حلال و حرام ٹھہرایا ہاں ! یہود نے حلت و حرمت میں بداعتدالیاں کیں اور ان کو انکی بداعتدالیوں کی سزا کے طور پر بعض چیزیں حرام کی گئی تھیں اور جو کچھ کسی قوم کی سزا کے لئے کیا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
Commentary
Nature of Prohibitions: The Correct View
The restrictive particle: اَنَّمَا (innama: only) appearing in verse 115 seems to give the impression that things Haram are no more than the four mentioned in the verse. This impression emerges more clearly in another verse: قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا (Say, I do not find, in what has been revealed to me, anything prohibited... - Surah a1-An` am, 6:145). It seems to be suggestive of nothing being Haram other than the things mentioned in the verse while the fact is that according to clarifications of the Qur'an and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
118. This refers to:“And We prohibited all animals with claws to those people who had adopted Judaism.”(Surah Al-Anaam, Ayat 146). In this (verse 118) Allah has stated that certain things were made unlawful because of the disobedience of the Jews.
Here a question arises. Which of the two Surahs, Al-Anaam or An-Nahl, was first revealed? This is because in (verse 118), a reference has been made to (verse 146 of Al-Anaam). Also in (verse 119 of Al-Anaam):“And why should you not eat that thing over which Allah’s name has been mentioned, when He has already given you a detail of those things that…
Read the full tafseer →