Explained with ayahs 114–117
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لئے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کردی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بےبس، لاچار، عاجز، محتاج، بےقرار ہوجائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورة بقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 117
یہ پورا پیراگراف ان اعتراضات کے جواب میں ہے جو مذکورہ بالا حکم پر کیے جا رہے تھے۔ کفار مکہ کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں تو اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں جن کو تم نے حلال کر رکھا ہے۔ اگر وہ شریعت خدا کی طرف سے تھی تو تم خود اس کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔ اور اگر وہ بھی خدا کی طرف سے تھی اور یہ تمہاری شریعت بھی خدا کی طرف سے ہے تو دونوں میں یہ اختلاف کیسا ہے ؟ دوسرا اعتراض یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں سبت کی حرمت کا جو قانون تھا اس کو بھی تم نے اڑا دیا ہے۔ یہ تمہارا اپنا خود مختارانہ فعل ہے یا اللہ ہی نے اپنی دو شریعتوں میں دو متضاد حکم دے رکھے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
معارف و مسائل
محرمات مذکورہ میں حصر اضافی ہے حقیقی نہیں
اس آیت میں لفظ انما سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام چیزیں صرف یہی چار ہیں جو آیت میں مذکور ہیں اور اس سے زیادہ صریح طور پر (آیت) قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا الایۃ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کے سوا کوئی چیز حرام نہیں حالانکہ قرآن وسنت کی تصریحات کے مطابق باجماع امت اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں اس اشکال کا جواب خود انہی آیات کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس جگہ عام حرام و حلال کا بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ مشرکین جاہلیت نے جو بہت سی چیزوں کو اپنی طرف سے حرام کرلیا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو…
Read the full tafseer →مَتَاعٌ قَلِيْلٌ ۠ وَّلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
یہ لایفلحون کی وضاحت ہے یعنی اللہ پر افترا کرنے والوں کے لیے بس اس دنی ا کی چند روزہ زندگی اور اس کا عیش و آرام ہے اس کے بعد ان کے لیے ایک ابدی عذاب الیم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
116۔ 1 یہ اشارہ ہے ان جانوروں کی طرف جو وہ بتوں کے نام وقف کر کے ان کو اپنے لئے حرام کرلیتے تھے، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔ (دیکھئے (مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ) 5۔ المائدہ :13) اور الا نعام (وَقَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓي اَزْوَاجِنَا ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مَّيْتَةً فَهُمْ فِيْهِ شُرَكَاۗءُ ۭ سَيَجْزِيْهِمْ وَصْفَهُمْ ۭاِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 139 قَدْ خَسِرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
50: اس کی تفصیل سورة مائدہ آیت 3 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →یہاں سورة انعام کی ایک آیت کے مضمون کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ ان میں بعض مزید چیزیں بھی یہودیوں پر حرام کی گئی تھیں۔ ایک یہ ہے۔
وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر الغنم حرمنا علیھم شحومھما الا ما حملت ظھور ھما او الحوایا او ما اختلط بعظم (6 : 741) ” اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے ، ان پر ہم نے ہر ناخن والی چیز کو حرام کیا تھا اور گائے اور بھیڑ بکری سے ہم نے ان پر چربی حرام کردی تھی ماسوائے اس کے جو ان کی پیٹھ پر یا آنتوں کے ساتھ یا ہڈیوں سے مخلوط ہو “ تو بتایا جاتا ہے کہ یہ چیزیں ان پر بطور سزا حرام ہوئی تھیں۔
Read the full tafseer →3 یعنی مشرکین مکہ جو حضور کو معاذ اللہ مفتری کہتے تھے یاد رکھیں کہ وہ خود مفتری ہیں۔ از راہ کذب و افتراء جس چیز کو چاہیں حلال یا حرام کہہ کر خدا کی طرف منسوب کردیتے ہیں ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ یہ روش اختیار کر کے کسی بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے۔ تھوڑے دن اور دنیا کا مزہ اڑا لیں، پھر دائمی جیل خانہ تیار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
آیت 116 وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ
حلال اور حرام کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس لیے اس بارے میں غیر محتاط رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ بغیر علم دلیل اور سند کے جو منہ میں آیا کہہ دیا۔
Read the full tafseer →120 حلال وحرام بنانے والے خود اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں :۔ یعنی مشرکوں کا بعض جانوروں کو بتوں کے نام پر آزاد چھوڑنا، اپنی کھیتی اور مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام پر اور کچھ بتوں کے نام پر وقف کرنا پھر اللہ کے حصہ میں سے معبودوں کے حصہ کی کمی کو پورا کردینا وغیرہ ایسے سب افعال کا ذکر سورة انعام کی آیت نمبر 135 کے تحت گذر چکا ہے۔ اور ایسے سب افعال کا فائدہ بالواسطہ یا بلاواسطہ آستانوں کے مجاوروں یا مہنتوں کو پہنچتا تھا۔ وہی ایسی شرکیہ باتوں کو گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے اور اس طرح دنیوی فائدے حاصل کرتے تھے اور اپنے چند روزہ دنیوی مفاد کی خاطر بہت سی خلقت کو شرک میں مبتلا کر رکھا تھا…
Read the full tafseer →179۔ ایسے مجرموں کو حقیقۃ فلاح و عافیت کہاں نصیب ؟ یہ عیش جو انہیں بظاہر نصیب ہورہا ہے۔ تمامتر عارضی وفانی ہے، پلک جھپکتے آنکھ کھل جائے گی، اس وقت حقیقت معلوم ہوگی :۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
آیت نمبر 111 تا 119
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی…
Read the full tafseer →متاع قلیل ولھم عذاب الیم (دنیا میں ان کیلئے یہ) چندہ روزہ عیش ہے اور (آخرت میں) دردناک سزا ہے۔ یعنی جس عیش کیلئے یہ افتراء بندی کرتے ہیں ‘ وہ بہت ہی حقیر اور زوال پذیر ہے ‘ عنقریب فنا ہوجائے گا اور اس افتراء بندی کی سزا مرنے کے بعد بڑی دردناک ہوگی۔
Read the full tafseer →(117) ان کی دنیا میں یہ عیش چند روزہ ہے اور پھر آخرت میں درد ناک سزا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ۔۔ : ”اَلْسِنَۃٌ“ ”لِسَانٌ“ کی جمع ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال و حرام کو خود واضح فرما دیا ہے تو اب اسی کے پابند رہو اور یہ جرأت مت کرو کہ تمہاری زبانیں جسے جھوٹ سے حلال کہہ دیں اسے حلال اور جسے حرام کہہ دیں اسے حرام قرار دے لو، اگر ایسا کرو گے تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہوگا اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے، اگر اس کے بدلے انھیں دنیا میں کچھ فائدہ حاصل بھی ہوجائے، خواہ پوری دنیا مل جائے، وہ بہت ہی تھوڑا سامان ہے، کیونکہ یہ سامان ہر حال میں ختم ہوجانے والا ہے، پھر ان کا ہمیشہ کا ٹھکانا جہنم ہے۔ مشرکین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
آیت نمبر 116 تا 117
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ لما تصف یہاں ما مصدر یہ ہے، ای لوصف (السنتکم) (تمہاری زبانوں کے بیان کی وجہ سے) اور کہا گیا ہے کہ یہ لام لام سببیہ اور اجلیہ ہے، یعنی تم نہ کہو اپنے بیان کی وجہ سے الکذب (جھوٹ) یہ حرف جر کے حذف کے سبب منصوب ہے، یعنی لما تصف السنتکم من الکذب اور اسے الکذب کاف، ذال اور با کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اور یہ السنۃ کی صفت ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور حسن نے یہاں خاص طور پر الکذب کاف کے فتحہ اور ذال اور با کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ لما کی صفت ہے، تقدیر کلام ہے : ولا تقولوا الوصف ألسنتکم الکذب۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقولولما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام “ سے مراد ہے بحیرہ اور سائبہ جانورجن کو مشرکین اپنی خواہش پر حرام قرار دیتے تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو نضرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت سورة نحل میں پڑھی (آیت) ” ولا تقولولما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام “ آیت کے آخر تک تو میں آج تک فتوی دینے سے ڈرتا ہوں۔
3:۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آدمی یوں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے اور اس سے روکا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے فرماتے ہیں کہ تو نے جھوٹ بولا اور وہ کہے گا کہ…
Read the full tafseer →[ مَتَاعٌ قَلِيْلٌ ۠: (یہ) تھوڑا سا سامان ہے ] [ وَّلَهُمْ : اور ان کے لئے ] [ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ایک دردناک عذاب ہے ]
(آیت۔ 117) مَتَاعٌ قَلِیْلٌ خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھٰذَا محذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
تحلیل اور تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے
مشرکین مکہ کا طریقہ تھا کہ انہوں نے اپنے پاس سے اشیاء کی حلت و حرمت تجویز کر رکھی تھی۔ جانوروں کی تحلیل و تحریم کے بارے میں بہت سی باتیں ان کی خود تراشیدہ تھیں جس کا ذکر سورة انعام کے رکوع نمبر 16 میں اور سورة مائدہ کے رکوع نمبر 14 میں بیان فرمایا ہے یہاں اس پر تنبیہ فرمائی کہ جن چیزوں کو تم نے خود سے حلال قرار دے رکھا ہے ان کے بارے میں اپنے پاس سے حلال و حرام مت کہو، حلال و حرام قرار دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس کے اختیار کو اپنے لیے استعمال کرو گے تو یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنا ہوگا کسی شرعی دلیل ہی سے اللہ کی پیدا فرمودہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–119
تہدید بآفات ونیویہ برمعصیت و کفران نعمت
قال اللہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفر اور معصیت پر عذاب اخروی کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ بعض مرتبہ دنیا میں بھی کفر اور معصیت اور کفران نعمت پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط سالی اور عام بیماری اور بسا اوقات کفر اور کفران نعمت دنیا ہی میں زوال نعمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے لوگ سات سال تک شدید قحط میں رہے یہاں تک کہ مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں کھانے لگے اور ضعف اور ناطاقتی سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا بالآخر مجبور ہو کر سرداران قریش نے آنحضرت ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
95:۔ یہ ماقبل پر متفرع ہے بطور لف و نشر غیر مرتب۔ ” ھٰذَا حَلٰلٌ“ یہ نذر غیر اللہ پر اور ” ھٰذَا حَرَامٌ“ تحریمات غیر اللہ پر متفرع ہے یعنی یہ جو تم اپنی طرف سے تحریم و تحلیل کرتے ہو یہ محض تمہاری کذب بیانی اور اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے کیونکہ تحلیل و تحریم کا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور کسی کو نہیں ان التحلیل والتحریم انما ھو للہ عز و جل ولیس لاحد ان یقول او یصرح بہذا فی عین من الاعیان الا ان یکون الباری تعالیٰ یخبر بذلک عنہ (قرطبی ج 10 ص 196) ۔ لہذا جو شخص کسی چیز کو حلال یا حرام بتاتا ہے گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال یا حرام کیا ہے۔ مشرکین نے اپنی طرف سے محرمات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–119
(چاروں چیزیں)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوچکا ہے کہ حلال اور طیب چیزیں کھاؤ ، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے چار قطعی حرام چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، حلت و حرمت کا یہ قانون اس سے پہلے سورة بقرہ سورة مائدہ اور سورة انعام میں بھی بیان ہوچکا ہے ، یہ بڑا اہم مسئلہ ہے جس کی پابندی اہل ایمان کے لیے نہایت ضروری ہے ان محرمات میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ماکولات میں شمار ہیں اور لوگوں کا اکثر وبیشتر ان اشیاء سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ، یہ مسئلہ بیان کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر مشرک مذکورہ محرمات کو برا…
Read the full tafseer →مَتَاعٌ قَلِيْلٌ ۠ وَّلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 117
متع
الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی:
وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ،
( م ت ع ) المتوع
کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
انما حرم علیکم الخ کہ مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ چیز جو غیر اللہ کے نام سے پکاری جائے یا وقت ذبح غیر کا نام اس پر لیا جائے پھر یہ چیزیں بھی بحالت اضطرار درست ہیں۔ انما حصر کا کلمہ ہے خدا نے حرام چیزوں کا انحصار ماکولات 1 ؎ میں سے انہیں چار چیزوں پر کیا ہے یہاں بھی اور سورة انعام میں بھی بقولہ قل لا اجد فیما اوحی الی محرما علی طاعم اور یہ دونوں سورتیں مکیہ ہیں پھر سورة بقرہ میں بھی انہیں الفاظ کے ساتھ حصر ہے اور سورة مائدہ میں احلت لکم بہیمۃ الانعام الا ما یتلٰی علیکم سے اور ما یتلی علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وا ما اھل بہ لغیر اللہ میں کھول دیا اور یہ دونوں سورتیں مدنیہ ہیں۔ پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُوْن۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ص وَّلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 116۔ 117)
(اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائو، جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائیں گے وہ ہرگز فلاح نہیں پلائیں گے۔ ان کے لیے چند روزہ عیش اور دردناک عذاب ہے۔ )
تحلیل و تحریم کا حق صرف خدا کا ہے
گزشتہ آیات میں ہم تفصیل سے دیکھ چکے ہیں کہ تحلیل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
فہم القرآن
ربط کلام : حرام کے بارے میں مزید احکامات اور یہودیوں کے کردار پر تبصرہ۔
اہل کتاب نے بالخصوص یہودیوں کے علما نے پیٹ پوجا اور معاشرے کے بڑے لوگوں کی خوشنودی کے لیے بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کرلیا تھا۔ جب اس جرم کی نشاندہی کی جاتی تو ان کے علما اس قدر مردہ ضمیر ہوگئے کہ اپنی حرام خوری پر پردہ ڈالنے کے لیے سرعام یہ بات کہتے کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہی حرام اور حلال قرار دی ہیں۔ اس سے منع کرتے ہوئے انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ اپنی مرضی سے حرام و حلال کی فہرست تیار کر کے اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ لگاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ پر صریح جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ جو لوگ اپنی مرضی سے حرام…
Read the full tafseer →117: متَاعٌ قَلِیْلٌ وَّلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (تھوڑا نفع اٹھانا ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے) یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ یعنی انکا افعال جاہلیت میں فائدہ معمولی ہے۔ اور ان کی سزا بہت بڑی ہے۔ (اعاذنا اللّٰہ منہا)
Read the full tafseer →(117)” متاع قلیل “ جو ان کے پاس تھوڑا سا سامان ہے یا ان کے لئے دنیا میں تھوڑا سا سامان بطور فائدے کے لئے تھا ۔ ” ولھم عذاب الیم “ آخرت میں ۔
Read the full tafseer →117۔ اوپر ذکر تھا کہ حرام حلال میں خاص اللہ تعالیٰ کا حکم درکار ہے بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کے کسی چیز کو حرام یا حلال ٹھہرانا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والے لوگ کبھی فلاح اور بہبودی کو نہیں پہنچ سکتے۔ اب فرمایا ایسے لوگ اپنی حلال حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کی چند روز تائید کرلیں مگر آخرت میں عذاب الیم سے انہیں رہائی نہیں ہوگی وہاں ان کے کردار کی سخت باز پرس ہو کر اس کی سزا پائیں گے اور سزا بھی ایسی جو نہایت ہی درد ناک ہوگی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے مستورد بن شداد کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آخرت کی ہمیشہ کی زندگی مانند ایک دریا کے ہے اور اس کے مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
آیت : (114-118)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات ‘ غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں۔ (حللا طیبا) ” حلال اور پاکیزہ “ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائی کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ ہو رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ (واشکروانعمت اللہ) ” اور اللہ کی نعمت کا شکرا دا کرو “ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے ‘ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمت وثناء کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →253۔ افتراء پردازوں کیلئے چند روز دنیا کے فائدے اور بس :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے دنیا میں چند روزہ فائدے کا کچھ سامان ہے اور بس۔ جو تھوڑا اور اتنا تھوڑا اور اس قدر قلیل ہے کہ اس کی حیثیت ایک ” ظل ظلیل “ یعنی ڈھلتے اور مٹتے سائے کی سی ہے۔ اور جب اس کے بعد آخرت کی حیات ابدی میں عذاب الیم ملنے والا ہوتا پھر اس متاع دنیا کا وجود نہ ہونے کے برابر بلکہ اس سے بھی کہیں برا ہے کہ اس میں کھو کر اور مست ہو کر محروم انسان نے اتنے برے خسارے کا سودا کیا اور وہ اپنی آخرت اور انجام کو بھول کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر ہمیشہ کے خسارے کے انتہائی ہولناک گڑھے میں جاگرا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–119
حرام چیزیں اور اللہ کے احکامات
تشریح : حرام حلال کو بڑی وضاحت سے سورة بقرہ، المائدہ اور سورة الانعام میں بیان کیا جا چکا ہے۔ خاص نکات دہرا دیے جاتے ہیں۔
(1) مجبوری میں معافی مل سکتی ہے۔
(2) اللہ کے بنائے ہوئے احکامات میں دخل اندازی کی سخت ممانعت ہے۔
(3) اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھنا بڑے سخت عذاب کا سبب بنے گا۔
(4) یہودیوں پر بہت سی چیزیں صرف اس لیے حرام کردی گئی تھیں کیونکہ انہوں نے اللہ کے احکامات کے بارے میں بڑے سوال کیے، لہٰذا اللہ کے احکامات کے بارے میں زیادہ سوال کرنا خود اپنے اوپر ظلم کرنے کے برابر ہے۔
(5) سچی توبہ پوری شرائط کے ساتھ قبول ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بخش دینا اور رحم کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
(رکوع نمبر 15)
اسرارومعارف
قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
ف 5 مطلب یہ ہے کہ اسلامی شریعت سے زائد یہودیوں کی شریعت میں جو چیزیں حرام پائی جاتی ہیں ان سے کوئی یہ نہ مجھے کہ یہ چیزیں ہمیشہ کے لئے بلکہ یہ تو وقتی طور پر یہودیوں کی اپنی شرارت اور سرکشی کی بدولت ان پر حرام کی گئی تھیں ورنہ ان کی حرمت ابدی نہیں ہے۔ (کذافی شوکانی دیکھئے سورة انعام)
Read the full tafseer →(16:117) متاع قلیل۔ ذک (محذوف) مبتدائ۔ متاع خبر۔ قلیل صفت خبر۔ یہ قلیل اور چند روزہ منفعت ہے۔ ای منفعۃ قلیلۃ منقطعۃ عن قریب۔ یعنی قلیل عیش ومنفعت جو کہ عنقریب ختم ہوجانے والی ہے۔ مطلب یہ کہ اس افتراء سے ان کو کوئی طویل المدت نفع کثیر حاصل نہیں ہوگا بلکہ قلیل المدت وقلیل المقدار فائدہ ہو تو ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–119
لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 119
کلوا کھاؤ۔ رزق اس نے رزق دیا۔ ایاہ اس کی۔ تعبدون تم عبادت کرتے ہو۔ حرم حرام کردیا، روک دیا۔ المیتۃ مردار۔ الدم خون۔ الحم الخنزیر خنزیر کا گوشت۔ اھل پکارا گیا۔ اضطر مجبور کردیا گیا، مجبور ہوگیا۔ غیر باغ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔ لاعاد نہ زیادتی کا ارادہ ہو۔ لاتقولوا تم نہ کہو۔ تصف بنا لی ہے۔ قصصنا ہم نے بتایا، بیان کیا۔ یظلمون وہ ظلم کرتے ہیں۔ بجھالۃ نادانی۔ تابو توبہ کرلی۔ اصلحوا اصلاح کرلی۔
تشریح : آیت نمبر 114 تا 119
جس شخص کو بات بات پر اعتراض اور کج بخشی کرنے کی عادت پڑجاتی ہے اس کے سامنے کتنی ہی معقول سے معقول حقیقت کو پیش کردیا جائے تب بھی وہ اس میں کوئی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
شریعت کے موافق چلنے کا حکم
حاصل آیت کے یہ ہیں کہ شریعت اللہ کے حکم کا نام ہے۔ اس لئے جب تک اللہ یا رسول وقت جو اللہ کی طرف سے پیغام ہدایت لے کر آئے ہیں کسی چیز کو حرام یا حلال یا جائز ناجائز بیان نہ کریں امت میں سے کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا ہے کہ اپنی طرف سے کسی جیز کو حرام یا حلال ٹھہرادے۔ جیسے ایصال ثواب کی چیزیں جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی ناجائز بتاتے ہیں۔ انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہیے ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعاً حرام ہیں اللہ پر افترا کرنا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی باتیں لگاتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے ہیں۔ ترمذی، نسائی، ابو داؤد اور ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
[68] یعنی اپنی زبانوں کو کذب سرائی کے لئے بےلگام نہ چھوڑ دو کہ جس چیز کو چاہا اپنی رائے اور قیاس سے حرام ٹھہرا دیا اور جس کو چاہا حلال کہہ دیا۔ حلال و حرام ٹھہرانے کا حق اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–123
کون کون سی چیزیں حرام ہیں ؟ :
(ف 1) قرآن حکیم ایک مکمل شریعت ہے اس میں توحید و تفرید کے معارف بھی ہیں ، اور ضروری آداب وعوائد بھی ،
کامل نظام مذہب کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس میں ضروریات انسانی کی ہر چیز موجود ہو ، چناچہ قرآن سب باتوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتا ہے ۔
کھانا پینا بھی چونکہ تہذیب انسانی کا ایک ضروری جزو ہے اس لئے قرآن اس کے متعلق بھی ضروری ہدایات سے مشرف کرتا ہے ،
قرآن کہتا ہے پاکیزہ چیزیں بلا تکلف کھاؤ جن میں مضرت نہ ہو ، جو ناپاک نہ ہوں ، جن کو ذوق سلیم گوارا کرلے ، جن کے کھانے سے اخلاقی ومذہبی مضرتیں نہ پیدا ہوں ، اور جو چیزیں ان صفات سے عاری ہوں ، وہ غذا کے قابل نہیں وہ حرام…
Read the full tafseer →117 ۔ یہ تھوڑا سا فائدہ اور دنیا کا چند روزہ عیش ہے اور آئندہ آخرت میں ان کے لئے درد ناک سزا اور عذاب ہے۔ یعنی جن چیزوں کا یہ منکر ارتکاب کر رہے ہیں یہ دنیا کا چند روزہ فائدہ ہے باقی آخرت میں ان کے لئے سوائے عذاب کے اور کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–118
ف 4۔ یعنی خدا کے ساتھ کفران کیا۔
Read the full tafseer →تھورا فائدہ ہے جو اٹھا رہے ہیں اور عذاب میں یہ لوگ پڑنے والے ہیں :
131۔ دنیا کی زندگی آخر چیز ہی کیا ہے ؟ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے ۔ اور اس کا فائدہ بھی کتنا ہی تھوڑا ہے گویا نہ ہونے کے برابر ‘ نہ آنے کا پتہ نہ جانے کا کوئی صحیح علم اور نہ ہی قیام کے وقت کا کوئی تعین یہ چار دن کی مستعار زندگی ہی تو ہے جس کے دو دن آنے اور جانے میں لگ گئے اور دو دن انتظار میں کٹ گئے ، زندگی کیا ہے ؟ ایک حباب ہی تو ہے اور پھر ؟ فرمایا حلت و حرمت میں مرضی چلانے والوں اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں اور جھوٹ گھڑنے والوں کے لئے فلاح و کامیابی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ان کے لئے تو بس ایک دردناک عذاب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
Commentary
Nature of Prohibitions: The Correct View
The restrictive particle: اَنَّمَا (innama: only) appearing in verse 115 seems to give the impression that things Haram are no more than the four mentioned in the verse. This impression emerges more clearly in another verse: قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا (Say, I do not find, in what has been revealed to me, anything prohibited... - Surah a1-An` am, 6:145). It seems to be suggestive of nothing being Haram other than the things mentioned in the verse while the fact is that according to clarifications of the Qur'an and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
116. This verse clearly shows that none but Allah has the right to declare a thing to be lawful or unlawful. Or, in other words, the right of making laws exclusively rests with Allah. Therefore, any person who will dare to decide about the lawful and the unlawful will transgress his powers. Of course, a person, who acknowledges the divine law as the final authority, may deduce from it whether a certain thing or action is lawful or unlawful.
The arrogation of the right of determining the lawful and the unlawful has been declared to be a falsehood on Allah for two reasons:
(1) Such a person, so…
Read the full tafseer →