Explained with ayahs 114–117
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لئے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کردی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بےبس، لاچار، عاجز، محتاج، بےقرار ہوجائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورة بقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 116
یہ آیت صاف تصریح کرتی ہے کہ خدا کے سوا تحلیل و تحریم کا حق کسی کو بھی نہیں، یا بالفاظ دیگر قانون ساز صرف اللہ ہے۔ دوسرا جو شخص بھی جائز اور ناجائز کا فیصلہ کرنے کی جرأت کرے گا وہ اپنے حد سے تجاوز کرے گا، الا یہ کہ وہ قانون الہی کو سند مان کر اس کے فرامین سے استنباط کرتے ہوئے یہ کہے کہ فلاں چیز یا فلاں فعل جائز ہے اور فلاں ناجائز۔
اس خود مختارانہ تحلیل و تحریم کو اللہ پر جھوٹ اور افترا اس لیے فرمایا گیا کہ جو شخص اس طرح کے احکام لگاتا ہے اس کا یہ فعل دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا وہ اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ جسے وہ کتاب الہی کی سند سے بےنیاز ہو کر جائز یا ناجائز کہہ رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
معارف و مسائل
محرمات مذکورہ میں حصر اضافی ہے حقیقی نہیں
اس آیت میں لفظ انما سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام چیزیں صرف یہی چار ہیں جو آیت میں مذکور ہیں اور اس سے زیادہ صریح طور پر (آیت) قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا الایۃ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کے سوا کوئی چیز حرام نہیں حالانکہ قرآن وسنت کی تصریحات کے مطابق باجماع امت اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں اس اشکال کا جواب خود انہی آیات کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس جگہ عام حرام و حلال کا بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ مشرکین جاہلیت نے جو بہت سی چیزوں کو اپنی طرف سے حرام کرلیا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو…
Read the full tafseer →وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ
یعنی حلال و حرام کرنے کا حق صرف اللہ ہی کو ہے کسی دوسرے کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بغیر کسی خدائی سند کے محض اپنے مزعومات کی بنیاد پر کسی چیز کو حلال اور کسی چیز کو حرام قرار دینا شروع کردے یہ اللہ پر جھوٹا افترا ہے کیونکہ جو بات اس نے نہیں فرمائی وہ تم اس کی طرف منسوب کرتے ہو اور یاد رکھو خدا پر جھوٹا افترا کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ۔ یعنی جن کے باب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
116۔ 1 یہ اشارہ ہے ان جانوروں کی طرف جو وہ بتوں کے نام وقف کر کے ان کو اپنے لئے حرام کرلیتے تھے، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔ (دیکھئے (مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِيْرَةٍ وَّلَا سَاۗىِٕبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ) 5۔ المائدہ :13) اور الا نعام (وَقَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓي اَزْوَاجِنَا ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مَّيْتَةً فَهُمْ فِيْهِ شُرَكَاۗءُ ۭ سَيَجْزِيْهِمْ وَصْفَهُمْ ۭاِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 139 قَدْ خَسِرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
50: اس کی تفصیل سورة مائدہ آیت 3 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →یہ تمہاری زبانیں جو جھوٹے طور پر بعض چیزوں کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ حرام ہے اور یہ حلال ہے ان کو حلال و حرام نہ سمجھو۔ یہ افتراء علی اللہ ہے۔ نیز تم جو ایسا کہتے ہو کہ یہ حرام ہے اور یہ حلال ہے بغیر دلیل شرعی کے جھوٹ بھی ہے۔ ایسے لوگ ظٓہر ہے کہ دنیا کے چند روزہ زندگی میں ضرورعیش و عشرت کرلیں گے لیکن آخرت میں ان کے لئے عذاب ہے اور یہ لوگ سخت گھاٹے میں ہوں گے۔
ان آیات کے باوجود ، بعض لوگ اسلامی ممالک میں قانون سازی کا کام کرتے ہیں اور ایسی قانون سازی کرتے ہیں جو قرآن و سنت کے صریح خلاف ہوتی ہے اور پھر بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی ہوگی بلکہ عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے۔
Read the full tafseer →2 یعنی بدون کسی سند شرعی کے کسی چیز کے متعلق منہ اٹھا کر کہہ دینا کہ حلال ہے یا حرام بڑی سخت جسارت اور کذب و افتراء ہے۔ حلال و حرام تو وہ ہی ہوسکتا ہے جسے خدا تعالیٰ نے حلال یا حرام کہا ہو۔ اگر کوئی شخص محض اپنی رائے سے کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہراتا ہے اور خدا کی طرف اس کی نسبت کرتا ہے، جیسے مشرکین مکہ کرتے تھے، جس کا ذکر سورة " انعام " میں گزر چکا وہ فی الحقیقت خدا پر بہتان باندھتا ہے۔ مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ کبھی ایسا رویہ اختیار نہ کریں۔ جس چیز کو خدا نے حلال اور جس کو حرام کیا حرام سمجھیں۔ بدون ماخذ شرعی کے حلت و حرمت کا حکم نہ لگائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
آیت 116 وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ
حلال اور حرام کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس لیے اس بارے میں غیر محتاط رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ بغیر علم دلیل اور سند کے جو منہ میں آیا کہہ دیا۔
Read the full tafseer →119 حلت وحرمت کا اختیار سنبھالنا بھی شرک ہے :۔ ان آیات میں بتایا یہ گیا ہے کہ اشیاء کو حرام یا حلال قرار دینے کا اختیار کلیتاً اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیز کو حلال یا جائز قرار دے لے یا اس کی حلال کردہ چیزوں کو حرام بنا دے۔ اور جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ جھوٹ بکتے ہیں۔ پہلے وہ اس قسم کے جھوٹ اختراع کرتے ہیں پھر انھیں اللہ کے ذمہ لگا کر یا اس کی طرف منسوب کرکے اپنے ایسے عقیدوں کو مذہبی تقدس کا جامہ پہنا دیتے ہیں۔ وہ حقیقتاً خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے کر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی اخروی نجات کی کوئی صورت نہیں۔
Read the full tafseer →178۔ یعنی جب خدائی شریعت میں وہ مضمون ہے ہی نہیں جو تم بتا رہے ہو، تو تمہارا اس کو خدائی شریعت کی جانب منسوب کرنا، اسے خدا پر گڑھنا ہی تو ہوا۔ (آیت) ” لما تصف السنتکم “۔ یعنی اس پر کوئی دلیل صحیح تو قائم ہے نہیں۔ محض تمہارے زبانی دعوے ہی ہیں۔ (آیت) ” لتفترو “۔ میں ل عاقبت کا ہے، یعنی تمہارے اس قول کا حاصل یہی افتراء علی اللہ ہے۔ واللام من التعلیل الذی لایتضمن معنی الغرض (کشاف) واظن ان ھذا اللام لیس لام الغرض بل کان لام العاقبۃ (کبیر) اللام لام العاقبۃ والصیرورۃ (روح) (آیت) ” ولا تقولوا۔۔۔ حرام “۔ ترجمہ متن میں جو ترکیب اختیار کی گئی ہے، وہ کسائی لغوی اور زجاج نحوی کے قول کے مطابق ہے، اور بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
آیت نمبر 111 تا 119
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی…
Read the full tafseer →ولا تقولوا لما تصف السنتکم الذکب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون : اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا جھوٹا زبانی دعویٰ ہے ‘ ان کی نسبت یوں مت کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت باندھو گے۔ بلاشبہ جو لوگ اللہ پر خودتراشیدہ دروغ بندی کرتے ہیں ‘ وہ فلاح نہ پائیں گے۔
کفار از خود بعض چیزوں کو حلال اور بعض کو حرام کہتے تھے ‘ مثلاً کہتے تھے : مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذَہِ الْاَنْعَام خالِصَۃٌ لِّذُکُوُرِنَاالخ یہ پیٹ کے اندر کے بچے صرف ہمارے مردوں کیلئے حلال ہیں الخیا بحیرہ اور سائبہ (جیسے بجاروں اور…
Read the full tafseer →(116) اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا زبانی جھوٹا دعوی ہے ان کے بارے میں مت کہہ دیا کرو کہ مثلا یہ کھیتی اور جانور مردوں پر حلال ہیں اور عورتوں پر حرام ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر محض بہتان لگا دو گے۔
جو لوگ اللہ پر بہتان لگاتے ہیں وہ عذاب الہی سے فلاح اور نجات نہیں پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ۔۔ : ”اَلْسِنَۃٌ“ ”لِسَانٌ“ کی جمع ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال و حرام کو خود واضح فرما دیا ہے تو اب اسی کے پابند رہو اور یہ جرأت مت کرو کہ تمہاری زبانیں جسے جھوٹ سے حلال کہہ دیں اسے حلال اور جسے حرام کہہ دیں اسے حرام قرار دے لو، اگر ایسا کرو گے تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہوگا اور یہ بات یقینی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے، اگر اس کے بدلے انھیں دنیا میں کچھ فائدہ حاصل بھی ہوجائے، خواہ پوری دنیا مل جائے، وہ بہت ہی تھوڑا سامان ہے، کیونکہ یہ سامان ہر حال میں ختم ہوجانے والا ہے، پھر ان کا ہمیشہ کا ٹھکانا جہنم ہے۔ مشرکین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
آیت نمبر 116 تا 117
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ لما تصف یہاں ما مصدر یہ ہے، ای لوصف (السنتکم) (تمہاری زبانوں کے بیان کی وجہ سے) اور کہا گیا ہے کہ یہ لام لام سببیہ اور اجلیہ ہے، یعنی تم نہ کہو اپنے بیان کی وجہ سے الکذب (جھوٹ) یہ حرف جر کے حذف کے سبب منصوب ہے، یعنی لما تصف السنتکم من الکذب اور اسے الکذب کاف، ذال اور با کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اور یہ السنۃ کی صفت ہے۔ اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور حسن نے یہاں خاص طور پر الکذب کاف کے فتحہ اور ذال اور با کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ لما کی صفت ہے، تقدیر کلام ہے : ولا تقولوا الوصف ألسنتکم الکذب۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقولولما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام “ سے مراد ہے بحیرہ اور سائبہ جانورجن کو مشرکین اپنی خواہش پر حرام قرار دیتے تھے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو نضرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت سورة نحل میں پڑھی (آیت) ” ولا تقولولما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام “ آیت کے آخر تک تو میں آج تک فتوی دینے سے ڈرتا ہوں۔
3:۔ طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آدمی یوں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا ہے اور اس سے روکا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے فرماتے ہیں کہ تو نے جھوٹ بولا اور وہ کہے گا کہ…
Read the full tafseer →[ وَلَا تَــقُوْلُوْا : اور تم لوگ مت کہو ] [ لِمَا؛اس کو جو ] [ تَصِفُ؛صفت بیان کرتی ہیں ] [ اَلْسِنَتُكُمُ : تمہاری زبانیں ] [ الْكَذِبَ : جو جھوٹ ہے ] [ ھٰذَا : (کہ) یہ ] [ حَلٰلٌ؛حلال ہے ] [ وَّھٰذَا : اور یہ ] [ حَرَامٌ: حرام ہے ] [ لِتَفْتَرُوْا؛نتیجتاً تم لوگ گھڑو گے ] [ عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [ الْكَذِبَ ۭ: جھوٹ ] [ ان : بیشک ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ يَفْتَرُوْنَ؛گھڑتے ہیں ] [ عَلَي اللّٰهِ؛اللہ پر ] [ الْكَذِبَ : جھوٹ ] [ لَا يُفْلِحُوْنَ؛وہ لوگ فلاح نہیں پائیں گے ]
ترکیب : (آیت۔ 116) تَقُوْلُوْا کا مفعول لِمَا ہے اور محلًّا منصوب ہے۔ اور لِمَا کا بدل ہونے کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
تحلیل اور تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے
مشرکین مکہ کا طریقہ تھا کہ انہوں نے اپنے پاس سے اشیاء کی حلت و حرمت تجویز کر رکھی تھی۔ جانوروں کی تحلیل و تحریم کے بارے میں بہت سی باتیں ان کی خود تراشیدہ تھیں جس کا ذکر سورة انعام کے رکوع نمبر 16 میں اور سورة مائدہ کے رکوع نمبر 14 میں بیان فرمایا ہے یہاں اس پر تنبیہ فرمائی کہ جن چیزوں کو تم نے خود سے حلال قرار دے رکھا ہے ان کے بارے میں اپنے پاس سے حلال و حرام مت کہو، حلال و حرام قرار دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس کے اختیار کو اپنے لیے استعمال کرو گے تو یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنا ہوگا کسی شرعی دلیل ہی سے اللہ کی پیدا فرمودہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–119
تہدید بآفات ونیویہ برمعصیت و کفران نعمت
قال اللہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفر اور معصیت پر عذاب اخروی کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ بعض مرتبہ دنیا میں بھی کفر اور معصیت اور کفران نعمت پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط سالی اور عام بیماری اور بسا اوقات کفر اور کفران نعمت دنیا ہی میں زوال نعمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے لوگ سات سال تک شدید قحط میں رہے یہاں تک کہ مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں کھانے لگے اور ضعف اور ناطاقتی سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا بالآخر مجبور ہو کر سرداران قریش نے آنحضرت ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
95:۔ یہ ماقبل پر متفرع ہے بطور لف و نشر غیر مرتب۔ ” ھٰذَا حَلٰلٌ“ یہ نذر غیر اللہ پر اور ” ھٰذَا حَرَامٌ“ تحریمات غیر اللہ پر متفرع ہے یعنی یہ جو تم اپنی طرف سے تحریم و تحلیل کرتے ہو یہ محض تمہاری کذب بیانی اور اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے کیونکہ تحلیل و تحریم کا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور کسی کو نہیں ان التحلیل والتحریم انما ھو للہ عز و جل ولیس لاحد ان یقول او یصرح بہذا فی عین من الاعیان الا ان یکون الباری تعالیٰ یخبر بذلک عنہ (قرطبی ج 10 ص 196) ۔ لہذا جو شخص کسی چیز کو حلال یا حرام بتاتا ہے گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال یا حرام کیا ہے۔ مشرکین نے اپنی طرف سے محرمات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–119
(چاروں چیزیں)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوچکا ہے کہ حلال اور طیب چیزیں کھاؤ ، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے چار قطعی حرام چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، حلت و حرمت کا یہ قانون اس سے پہلے سورة بقرہ سورة مائدہ اور سورة انعام میں بھی بیان ہوچکا ہے ، یہ بڑا اہم مسئلہ ہے جس کی پابندی اہل ایمان کے لیے نہایت ضروری ہے ان محرمات میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ماکولات میں شمار ہیں اور لوگوں کا اکثر وبیشتر ان اشیاء سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ، یہ مسئلہ بیان کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر مشرک مذکورہ محرمات کو برا…
Read the full tafseer →وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ 116ۭ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
وصف
الوَصْفُ : ذكرُ الشیءِ بحلیته ونعته، والصِّفَةُ :
الحالة التي عليها الشیء من حلیته ونعته، کالزِّنَةِ التي هي قدر الشیء، والوَصْفُ قد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
انما حرم علیکم الخ کہ مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ چیز جو غیر اللہ کے نام سے پکاری جائے یا وقت ذبح غیر کا نام اس پر لیا جائے پھر یہ چیزیں بھی بحالت اضطرار درست ہیں۔ انما حصر کا کلمہ ہے خدا نے حرام چیزوں کا انحصار ماکولات 1 ؎ میں سے انہیں چار چیزوں پر کیا ہے یہاں بھی اور سورة انعام میں بھی بقولہ قل لا اجد فیما اوحی الی محرما علی طاعم اور یہ دونوں سورتیں مکیہ ہیں پھر سورة بقرہ میں بھی انہیں الفاظ کے ساتھ حصر ہے اور سورة مائدہ میں احلت لکم بہیمۃ الانعام الا ما یتلٰی علیکم سے اور ما یتلی علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وا ما اھل بہ لغیر اللہ میں کھول دیا اور یہ دونوں سورتیں مدنیہ ہیں۔ پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُوْن۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ ص وَّلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 116۔ 117)
(اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائو، جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائیں گے وہ ہرگز فلاح نہیں پلائیں گے۔ ان کے لیے چند روزہ عیش اور دردناک عذاب ہے۔ )
تحلیل و تحریم کا حق صرف خدا کا ہے
گزشتہ آیات میں ہم تفصیل سے دیکھ چکے ہیں کہ تحلیل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–118
فہم القرآن
ربط کلام : حرام کے بارے میں مزید احکامات اور یہودیوں کے کردار پر تبصرہ۔
اہل کتاب نے بالخصوص یہودیوں کے علما نے پیٹ پوجا اور معاشرے کے بڑے لوگوں کی خوشنودی کے لیے بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کرلیا تھا۔ جب اس جرم کی نشاندہی کی جاتی تو ان کے علما اس قدر مردہ ضمیر ہوگئے کہ اپنی حرام خوری پر پردہ ڈالنے کے لیے سرعام یہ بات کہتے کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے ہی حرام اور حلال قرار دی ہیں۔ اس سے منع کرتے ہوئے انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ اپنی مرضی سے حرام و حلال کی فہرست تیار کر کے اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ لگاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ پر صریح جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ جو لوگ اپنی مرضی سے حرام…
Read the full tafseer →خود تحریمات مت ایجاد کرو :
116: وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَاتَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ (اور نہ کہو ان چیزوں کو جن کے متعلق تمہارا جھوٹا زبانی دعویٰ ہے) الکذب یہ لَاتَقُوْلُوْاکی وجہ سے منصوب ہے یعنی ولا تقولوا الکذب لما تصفہ السنتکم من البھائم بالحل والحرمۃ فی قولکم مت وہ جھوٹ بولو جو تمہاری زبانوں سے چوپایوں کی حلت و حرمت کے متعلق نکلتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا۔ مافی
بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا ] الانعام : 139[ یہ بات بغیر وحی کے حوالہ کے وہ کرتے تھے۔ یا بغیر کسی صحیح قیاس کے حوالہ کے جس کی بنیاد قرآن وسنت سے استنباط پر ہو۔
اور لما میں لام اسی طرح ہے جیسا اس قول…
Read the full tafseer →(116)” ولا تقرلوا لما تصف السنتکم الکذب “ اور نہ کہوتم اپنی زبانوں کے ساتھ جھوٹ یا جھوٹ کے وصف کیساتھ کوئی بات زبان سے نہ نکالو ، از خود کسی کو حلال اور کسی کو حرام بناتے ہو ۔ یہ محض تمہار کذب کی وجہ سے ہے نہ کہ کسی اور وجہ سے ۔ ” ھذا حلال وھذا حرام “ بحیرہ اور سائیہ ” لتفتر واعلی اللہ الکاذب “ اور وہ اللہ پر دورغ بندی کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حکم اللہ نے دیا ہے ۔” ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون “ وہ اللہ کے عذاب سے نجات نہیں دلا سکتے ۔
Read the full tafseer →116۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور سلف نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ مشرکین مکہ نے سانڈ اور جانور اپنی طرف سے حرام جو ٹھہرا رکھے تھے جس کا ذکر سورت انعام میں گزر چکا ہے اصل آیت اس حکم میں نازل ہوئی ہے حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ شریعت اللہ کے حکم کا نام ہے اس لئے جب تک اللہ یا رسول وقت جو اللہ کی طرف سے پیغام ہدایت لے کر آتے ہیں کسی چیز کو حلال یا حرام یا جائز ناجائز بیان نہ کریں امت میں سے کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا کہ اپنی طرف سے کسی چیز کے حرام یا حلال ٹھہرادے۔ چناچہ مسند بزار اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابودرداء ؓ کی معتبر روایت اس باب میں اوپر گزر چکی ہے 1 ؎۔ اس صورت میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
آیت : (114-118)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات ‘ غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں۔ (حللا طیبا) ” حلال اور پاکیزہ “ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائی کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ ہو رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ (واشکروانعمت اللہ) ” اور اللہ کی نعمت کا شکرا دا کرو “ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے ‘ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمت وثناء کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →251۔ تحلیل وتحریم اللہ تعالیٰ ہی کی صفت وشان :۔
سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ خود اور اپنے طور پر کسی چیز کو حلال اور حرام مت قرار دو ۔ اس لئے کہ تحلیل وتحریم اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے کہ خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پس جو کئی از خود کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہراتا ہے وہ دراصل اللہ پاک کی طرف یہ بات منسوب کرتا ہے کہ یہ تحلیل وتحریم اللہ کی طرف سے ہے۔ جبکہ واقعتا ایسے ہے نہیں۔ اس لئے یہ ظلم اور افتراء علی اللہ ہے یا ایسا شخص درپردہ اس کا دعوی کرتا ہے کہ وہ بھی تحلیل وتحریم کا اختیار رکھتا ہے جو کہ دراصل اپنی خدائی کا دعوی کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دونوں صورتوں میں یہ اللہ تعالیٰ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–119
حرام چیزیں اور اللہ کے احکامات
تشریح : حرام حلال کو بڑی وضاحت سے سورة بقرہ، المائدہ اور سورة الانعام میں بیان کیا جا چکا ہے۔ خاص نکات دہرا دیے جاتے ہیں۔
(1) مجبوری میں معافی مل سکتی ہے۔
(2) اللہ کے بنائے ہوئے احکامات میں دخل اندازی کی سخت ممانعت ہے۔
(3) اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھنا بڑے سخت عذاب کا سبب بنے گا۔
(4) یہودیوں پر بہت سی چیزیں صرف اس لیے حرام کردی گئی تھیں کیونکہ انہوں نے اللہ کے احکامات کے بارے میں بڑے سوال کیے، لہٰذا اللہ کے احکامات کے بارے میں زیادہ سوال کرنا خود اپنے اوپر ظلم کرنے کے برابر ہے۔
(5) سچی توبہ پوری شرائط کے ساتھ قبول ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بخش دینا اور رحم کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
(رکوع نمبر 15)
اسرارومعارف
قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں…
Read the full tafseer →ف 3 دوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے اپنی زبانوں کے جھوٹ بنا لینے سے یہ مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے
4 اس سے ملوم ہوگا کہ تحلیل و تحریم کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے یا اس کے دیئے ہوئے اختیار کی بنا پر اس کے رسول کو کسی دوسرے کا اس حق کو استعمال کرنا اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے۔
Read the full tafseer →(16:116) ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام اس میں لام تعلیل کے لئے ہے ما مصدریہ ہے الکذب تصف کا مفعول۔ اور ھذا حلل وھذا حرام مقول القول یعنی ای لا تقولوا ھذا حلل وھذا حرام لاجل وصف السنتکم الکذب (روح المعانی)
لتفتروا۔ اس میں لام عاقبت کا ہے یعنی نتیجۃً تم (اللہ تعالیٰ پر) تہمت اور بہتان کا ارتکاب کرو گے۔ تفتروا۔ تم افتراء کرو۔ تم جھوٹ باندھ لو۔ افتراء (افتعال) سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی لام کی وجہ سے گرگیا ہے ۔
لا یفلحون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب افلاح (افعال) سے وہ کامیاب نہیں ہوں گے وہ فلاح نہیں پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–119
لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 119
کلوا کھاؤ۔ رزق اس نے رزق دیا۔ ایاہ اس کی۔ تعبدون تم عبادت کرتے ہو۔ حرم حرام کردیا، روک دیا۔ المیتۃ مردار۔ الدم خون۔ الحم الخنزیر خنزیر کا گوشت۔ اھل پکارا گیا۔ اضطر مجبور کردیا گیا، مجبور ہوگیا۔ غیر باغ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔ لاعاد نہ زیادتی کا ارادہ ہو۔ لاتقولوا تم نہ کہو۔ تصف بنا لی ہے۔ قصصنا ہم نے بتایا، بیان کیا۔ یظلمون وہ ظلم کرتے ہیں۔ بجھالۃ نادانی۔ تابو توبہ کرلی۔ اصلحوا اصلاح کرلی۔
تشریح : آیت نمبر 114 تا 119
جس شخص کو بات بات پر اعتراض اور کج بخشی کرنے کی عادت پڑجاتی ہے اس کے سامنے کتنی ہی معقول سے معقول حقیقت کو پیش کردیا جائے تب بھی وہ اس میں کوئی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
شریعت کے موافق چلنے کا حکم
حاصل آیت کے یہ ہیں کہ شریعت اللہ کے حکم کا نام ہے۔ اس لئے جب تک اللہ یا رسول وقت جو اللہ کی طرف سے پیغام ہدایت لے کر آئے ہیں کسی چیز کو حرام یا حلال یا جائز ناجائز بیان نہ کریں امت میں سے کسی شخص کو اللہ تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا ہے کہ اپنی طرف سے کسی جیز کو حرام یا حلال ٹھہرادے۔ جیسے ایصال ثواب کی چیزیں جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی ناجائز بتاتے ہیں۔ انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہیے ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعاً حرام ہیں اللہ پر افترا کرنا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی باتیں لگاتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے ہیں۔ ترمذی، نسائی، ابو داؤد اور ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
[68] یعنی اپنی زبانوں کو کذب سرائی کے لئے بےلگام نہ چھوڑ دو کہ جس چیز کو چاہا اپنی رائے اور قیاس سے حرام ٹھہرا دیا اور جس کو چاہا حلال کہہ دیا۔ حلال و حرام ٹھہرانے کا حق اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–123
کون کون سی چیزیں حرام ہیں ؟ :
(ف 1) قرآن حکیم ایک مکمل شریعت ہے اس میں توحید و تفرید کے معارف بھی ہیں ، اور ضروری آداب وعوائد بھی ،
کامل نظام مذہب کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس میں ضروریات انسانی کی ہر چیز موجود ہو ، چناچہ قرآن سب باتوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتا ہے ۔
کھانا پینا بھی چونکہ تہذیب انسانی کا ایک ضروری جزو ہے اس لئے قرآن اس کے متعلق بھی ضروری ہدایات سے مشرف کرتا ہے ،
قرآن کہتا ہے پاکیزہ چیزیں بلا تکلف کھاؤ جن میں مضرت نہ ہو ، جو ناپاک نہ ہوں ، جن کو ذوق سلیم گوارا کرلے ، جن کے کھانے سے اخلاقی ومذہبی مضرتیں نہ پیدا ہوں ، اور جو چیزیں ان صفات سے عاری ہوں ، وہ غذا کے قابل نہیں وہ حرام…
Read the full tafseer →116 ۔ اور جن چیزوں کے بارے میں تمہاری زبانیں بغیر کسی دلیل کے محض جھوٹے دعوے کیا کرتی ہیں تم ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے اس کہنے کا نتیجہ اور انجام یہ ہوگا کہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت اور جھوٹا بہتان لگا دو گے اور بلا شبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹی افترا پردازی کے مرتکب ہوتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے اور ان کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوتی ۔ مکہ کے کافر یہ اختراع کیا کرتے تھے کہ بہائم میں سے کسی کو حلال کرلیتے کسی کو حرا م کرلیتے ۔ جیسا کہ سورة انعام میں گزر چکا ہے اس کو منع فرمایا اور چونکہ کسی جانور کو حلال یا حرام کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–118
ف 4۔ یعنی خدا کے ساتھ کفران کیا۔
Read the full tafseer →حلت و حرمت میں چھوٹ نہ ہوجاؤ کہ اپنی مرضی سے حلال و حرام ٹھہرانے لگو :
130۔ فرمایا اپنی زبانوں کو کذب سرائی کے لئے بےلگام نہ چھوڑو کہ جس چیز کو چاہا اپنی رائے اور قیاس سے حرام ٹھہرا دیا جس کو چاہا حلال کہہ دیا ، حلال و حرام ٹھہرانے کا حق تو صرف وحی الہی کو ہے اور تمہارے پاس اپنے ادہام وآراء کے سوا ‘ کوئی وحی کی روشنی نہیں جو قرآن کریم کے خلاف پیش کرسکو ، یہ آیت ان لوگوں کے خلاف بیان دے رہی ہے جو محض اپنے گھڑے ہوئے قیاسوں کی بناء پر جس چیز کو چاہتے ہیں حرام ٹھہرا دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں حلال قرار دے لیتے ہیں اگرچہ کوئی نص قطعی موجود نہ ہو ۔ قرآنی اصل اس کے متعلق یہ ہے کہ اللہ کی تمام پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–118
Commentary
Nature of Prohibitions: The Correct View
The restrictive particle: اَنَّمَا (innama: only) appearing in verse 115 seems to give the impression that things Haram are no more than the four mentioned in the verse. This impression emerges more clearly in another verse: قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا (Say, I do not find, in what has been revealed to me, anything prohibited... - Surah a1-An` am, 6:145). It seems to be suggestive of nothing being Haram other than the things mentioned in the verse while the fact is that according to clarifications of the Qur'an and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–117
116. This verse clearly shows that none but Allah has the right to declare a thing to be lawful or unlawful. Or, in other words, the right of making laws exclusively rests with Allah. Therefore, any person who will dare to decide about the lawful and the unlawful will transgress his powers. Of course, a person, who acknowledges the divine law as the final authority, may deduce from it whether a certain thing or action is lawful or unlawful.
The arrogation of the right of determining the lawful and the unlawful has been declared to be a falsehood on Allah for two reasons:
(1) Such a person, so…
Read the full tafseer →