An-Nahl 16:115

An-Nahl · from ayah 115

16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ ۚ— فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةَ وَ الدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ‌ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He has only forbidden to you dead animals, blood, the flesh of swine, and that which has been dedicated to other than Allah. But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit] - then indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 15 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:115

اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے وہ ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو البتہ بھوک سے مجبور ہو کر اگر کوئی اِن چیزوں کو کھا لے، بغیر اس کے کہ وہ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو، یا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو، تو یقیناً اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے حرام ہیں، پھر اگر کوئی شخص بے بس کر دیا جائے نہ وه خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزرنے واﻻ ہو تو یقیناً اللہ بخشنے واﻻ رحم کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس نے تو تمہارے لیے بس مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ البتہ جو شخص بھوک سے بالکل بےتاب ہو، لذت حاصل کرنے کے لیے نہ کھائے، اور (ضرورت کی) حد سے آگے نہ بڑھے تو اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم پر تو یہی حرام کیا ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا پھر جو لاچار ہو نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ (جانور) جس پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو، حرام کیا ہے، پھر جو شخص حالتِ اضطرار (یعنی انتہائی مجبوری کی حالت) میں ہو، نہ (طلبِ لذت میں احکامِ الٰہی سے) سرکشی کرنے والا ہو اور نہ (مجبوری کی حد سے) تجاوز کرنے والا ہو، تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ چیزیں حرام کی ہیں جن پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے، پھر جو مجبور کردیا جائے، اس حال میں کہ نہ سرکش ہو اور نہ حد سے گزرنے والا، تو بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے وہ ہے مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام پر مشتہر کی گئی ہو۔ پھر وہ شخص (ان میں سے کوئی چیز کھانے پر) مجبور ہوجائے، بشرطیکہ وہ نہ تو شرعی قانون کا باغی ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ کھانے والا ہو، (تو ایسے شخص کو) اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے، پس جو کوئی مجبور ہوجائے، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے اس کے نہیں کہ اس نے حرام فرمایا تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشت، اور اس (نذرو نیاز) کو جس پر نام لیا گیا ہو اللہ کے سوا کسی اور کا، پھر جو کوئی مجبور ہوگیا (بھوک وغیرہ کی وجہ سے، اور اس نے ان چیزوں میں سے کچھ کھالیا) بشرطیکہ نہ تو وہ طالب لذت ہو اور نہ ہی حد ضرورت سے بڑھنے والا، (اس پر کوئی گناہ نہیں کہ) بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس چیز کو غیر اللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو حرام کیا ہے لیکن جو کوئی بےقرار ہوجائے نہ یہ کہ طالب لذت ہو اور نہ یہ کہ حد سے تجاوز کرنے والا ہو تو بیشک اللہ مغفرت والا ہے رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے تو بس حرام کیا ہے تم پر مردار خون خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی مجبور ہوجائے (لیکن) نہ وہ طالب ہو نہ حد سے بڑھنے والا تو اللہ یقیناً بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس نے تم پر مردار اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جو چیز اللہ کے سوا اور کسی کے نام پر پکار (ذبح) کردی جائے وہ بھی حرام ہے، ہاں ! اگر کوئی مجبور ہوجائے مگر گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ ہی حد سے نکلنے والا ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah has forbidden you only carrion, and blood, and the flesh of swine; also any animal over which the name of any other than Allah has been pronounced. But whoever eats of them under compelling necessity - neither desiring it nor exceeding the limit of absolute necessity - surely for such action Allah is Much Forgiving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He has but prohibited for you the carrion, the blood, the flesh of swine and what has been invoked upon with a name other than that of Allah. However, if anyone is compelled by necessity - neither seeking pleasure, nor crossing the limit (of necessity) - then, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

He has but prohibited for you the carrion, the blood, the flesh of swine and what has been invoked upon with a name other than that of Allah. However, if anyone is compelled by necessity - neither seeking pleasure, nor crossing the limit (of necessity) - then, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He has only forbidden dead flesh, blood, the flesh of swine, and any animal which is slaughtered as a sacrifice for other than Allah. But if one is forced by necessity, without willful disobedience, nor transgressing, then, Allah is Pardoning, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He hath forbidden for you only carrion and blood and swineflesh and that which hath been immolated in the name of any other than Allah; but he who is driven thereto, neither craving nor transgressing, lo! then Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He has only forbidden to you dead animals, blood, the flesh of swine, and that which has been dedicated to other than Allah. But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit] - then indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

The only things which are made unlawful for you are the flesh of dead animals, blood, pork and that which is not consecrated with the Name of God. But in an emergency, without the intention of transgression and rebellion, (it is not an offense for one to consume such things). God is certainly All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

He has only forbidden you what dies of itself and blood and flesh of swine and that over which any other name than that of Allah has been invoked, but whoever is driven to necessity, not desiring nor exceeding the limit, then surely Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

He hath only disallowed unto you the dead-meat and blood and swine-flesh and that over which is invoked the name of other than Allah. Then whosoever is driven by necessity, not alusting nor transgressing verily Allah Is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

He has only forbidden you dead meat, and blood, and the flesh of swine, and any (food) over which the name of other than Allah has been invoked. But if one is forced by necessity, without wilful disobedience, nor transgressing due limits,- then Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:115

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 114–117

حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لئے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کردی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بےبس، لاچار، عاجز، محتاج، بےقرار ہوجائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورة بقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 115 یہ حکم سورة بقرہ آیت نمبر 3، سورة مائدہ آیت نمبر 173 اور سورة انعام آیت نمبر 35 میں بھی گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 115–118

معارف و مسائل محرمات مذکورہ میں حصر اضافی ہے حقیقی نہیں اس آیت میں لفظ انما سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام چیزیں صرف یہی چار ہیں جو آیت میں مذکور ہیں اور اس سے زیادہ صریح طور پر (آیت) قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا الایۃ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کے سوا کوئی چیز حرام نہیں حالانکہ قرآن وسنت کی تصریحات کے مطابق باجماع امت اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں اس اشکال کا جواب خود انہی آیات کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس جگہ عام حرام و حلال کا بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ مشرکین جاہلیت نے جو بہت سی چیزوں کو اپنی طرف سے حرام کرلیا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ جانوروں میں سے تمہارے اوپر حرام صرف مردار اور کون، لحم خنزیر اور وہ جانور ہے جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور اسمیں بھی یہ رعایت ہے کہ اگر کسی شخص کو بھوک سے جان پر آبنی ہو توبقدر سدرمق وہ انمیں سے کسی چیز کو کھا کر اپنی جان بچاسکتا ہے ایسی حالت میں خدا اس کو معاف کردے گا اور اس پر رحم فرمائے گا۔ غیرباغ ولاعاد۔ بس یہ ایک شرط اسی کے ساتھ ہے نہ اس حرام کو دل سے چاہنے والا بنے اور نہ سدرمق کی حد سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

115۔ 1 یہ آیت اس سے قبل تین مرتبہ پہلے بھی گزر چکی ہے۔ (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) 2۔ البقرۃ :183)۔ (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۣ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بالْاَزْلَامِ ۭذٰلِكُمْ فِسْقٌ ۭ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ چیزیں مختلف وجوہات سے حرام کی گئی ہیں یا تو اس لئے کہ ان میں جسمانی مصرت ہے یا حسی مضرت ہے مثلاً مردار ، خون اور لحم لغنزیز میں یا نفسیاتی اور نظریاتی مضرت ہے مثلاً وہ ذبحیے جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔ آیت : فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان اللہ غفور رحیم۔ (521) ۔ ترجمہ :” البتہ بھوک سے مجبور اور بےقرار ہو کر اگر کوئی ان چیزوں کو کھانے ، بغیر اس کے کہ وہ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو یا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقینا اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے “۔ اس لئے کہ دین اسلام ایک سہل دین ہے اور اس میں کسی پر غیر ضروری سختی نہیں ہے۔ جس شخص کو موت کا ڈر ہو ، یا بھوک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 اس آیت کی تفسیر سورة " بقرہ " اور " انعام " وغیرہ میں گزر چکی وہاں دیکھ لی جائے، یہاں غرض یہ ہے کہ جس طرح پہلی آیت میں اشارہ تھا کہ حلال کو اپنے اوپر حرام نہ کرے، اس آیت میں تنبیہ کی گئی کہ حرام چیزوں کو حلال نہ ٹھہرائے۔ خلاصہ یہ کہ کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اسی کا حق ہے جس نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں۔ چناچہ آئندہ آیات میں نہایت وضاحت سے یہ مضمون بیان ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی انتہائی مجبوری کی حالت میں جان بچانے کے لیے وقتی طور پر بقدر ضرورت ان حرام اشیاء کو استعمال میں لا کر جان بچائی جاسکتی ہے مگر نہ تو دل میں ان کی طلب ہو نہ اللہ سے سرکشی کا ارادہ اور نہ ہی ایسی حالت میں وہ چیز ضرورت سے زیادہ کھائی جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

118 حرام اشیاء کون کون سی ہی ؟ اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ کی آیت نمبر 173 سورة مائدہ کی آیت نمبر 3 اور سورة انعام کی آیت نمبر 135 کے تحت گزر چکی ہے۔ وہ دیکھ لی جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

177۔ (خود اس نے اپنی انہی صفات غفر و رحمت کے تقاضہ سے اس اضطرار کی حالت میں حرام غذاؤں کو بھی بہ قدر ضرورت جائز کردیا ہے) (آیت) ” انما حرم علیکم “۔ الخ۔ یہاں ذکر انہی چیزوں کا ہے، جن کی حلت و حرمت مشرکین مکہ میں زیر بحث تھی۔ حدیث نبوی ﷺ سے جو دوسری چیزیں حرام ثابت ہوئی ہیں، وہ ان کے علاوہ ہیں۔ (آیت) ” انما “۔ کا حصر محض اضافی ہے۔ یعنی حرام وہ چیزیں نہیں جنہیں تم نے اپنے دل سے حرام ٹھیرالیا ہے۔ بلکہ حرام تو بس یہ چیزیں ہیں باقی جو چیزیں کسی دوسری دلیل شرعی سے حرام ٹھیرائی گئی ہیں، ان سے یہاں کوئی تعرض ہی نہیں، والحصر اضافی علی ماقال غیر واحد اے انما حرم اکل ھذہ الاشیاء دون ماتزعمون من البحائر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 111–119

آیت نمبر 111 تا 119 ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان اللہ غفور رحیم : تم پر تو صرف مردار کو حرام کیا ہے اور خون کو اور خنزیر کے گوشت (وغیرہ) کو اور اس چیز کو جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کیلئے نامزد کردی گئی ہو۔ اس حکم کے بعد اگر کوئی بہت ہی سخت مجبور ہو بشرطیکہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد (ضرورت) سے آگے بڑھنے والا ہو (اور اس حالت میں ان چیزوں میں سے کچھ کھالے) تو اللہ معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(115) تم پر تو صرف مردار کو حرام کیا ہے اور بہتے ہوئے خون کو اور خنزیر کے گوشت کو اور جو کہ غیر اللہ کے نام پر یا بتوں کے نام ذبح کیا جائے پھر جو شخص فاقے کی وجہ سے ان چیزوں کے کھانے پر جن کو اللہ تعالیٰ حرام کردیا ہے بالکل مجبور ہوجائے، بشرطیکہ مسلمانوں سے بغض نہ رکھتا ہو مطلب یہ ہے کہ مردار کے گوشت کو حلال نہ سمجھتا ہو اور نہ یہ کہ بغیر شدید ضرورت کے کھانے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس قدر شدید ضرورت کے وقت مردار کے کھانے کی اجازت دی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ : یعنی جس جانور کو بھی غیر اللہ کے نام کے ساتھ شہرت دی جائے، مثلاً گنج بخش کا بکرا، چشتی اجمیری کی گائے یا فلاں شاہ کا مرغا، تو یقیناً وہ جانور حرام ہوگیا اور ”اُهِلَّ“ کا لفظ ذبح کے علاوہ اس کو بھی شامل ہے، کیونکہ ”اُهِلَّ“ کا معنی آواز بلند کرنا ہے، لہٰذا جس پر غیر اللہ کا نام آگیا اس میں ایسی خباثت آگئی جو مردار میں بھی نہیں، کیونکہ مردار پر تو صرف اللہ کا نام نہیں لیا گیا مگر ”مَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ“ (جس پر غیر اللہ کا نام پکارا جائے) میں اس جانور کی روح اس کے خالق کے سوا دوسرے کے نام پر بھینٹ چڑھا دی گئی۔ یہ آیت شریفہ قرآن میں چار مرتبہ آئی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبدبن حمید، ابن حاتم اور ابن منذر نے قتادہ ؓ نے (آیت) ” انما حرم علیکم المیتۃ “ سے مراد ہے کہ اسلام پاکیزہ دین ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا ہے ہر گندگی سے اور اے آدم کے بیٹے اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے مجبوری کی حالت میں ان چیزوں کے استعمال کی گنجائش رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ حَرَّمَ : اس نے حرام کیا ] [ عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْمَيْتَةَ : مردار کو ] [ وَالدَّمَ : اور خون کو ] [ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ : اور سور کے گوشت کو ] [ وَمَآ : اور اس کو ] [ اُهِلَّ : پکارا گیا ] [ لِغَيْرِ اللّٰهِ : غیر اللہ کے لئے ] [ بِهٖ ۚ : جس کو ] [فَمَنِ : پس جو ] [ اضْطُرَّ : مجبور کیا گیا ] [ غَيْرَ بَاغٍ : بغاوت کرنے والا ہوئے بغیر ] [ وَّلَا عَادٍ : اور نہ حد سے گزرنے والا ہوتے ہوئے ] [ فَان : تو بیشک ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 114–115

اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ، اور اس کا شکر ادا کرو، حرام چیزوں سے بچو یہ دو آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حلال اور پاکیزہ رزق کے کھانے کی اجازت دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ (اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) (کیونکہ شکر بھی عبادت ہے اور کامل عبادت شکر کے بغیر نہیں ہوسکتی) دوسری آیت میں بعض ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کا کھانا حرام ہے اور ساتھ ہی مضطر کا حکم بھی بیان فرمایا، جو شخص مجبور اور مضطر ہو رہا ہو اور بھوک کی وجہ سے اس کی جان پر بن رہی ہو اور کھانے کے لیے حلال چیزوں میں سے کچھ بھی نہ ہو تو جان بچانے کے لیے اتنا سا کھالے جس سے جان بچ جائے اس سے آگے نہ بڑھے اور لذت کا طالب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 112–119

تہدید بآفات ونیویہ برمعصیت و کفران نعمت قال اللہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفر اور معصیت پر عذاب اخروی کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ بعض مرتبہ دنیا میں بھی کفر اور معصیت اور کفران نعمت پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط سالی اور عام بیماری اور بسا اوقات کفر اور کفران نعمت دنیا ہی میں زوال نعمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے لوگ سات سال تک شدید قحط میں رہے یہاں تک کہ مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں کھانے لگے اور ضعف اور ناطاقتی سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا بالآخر مجبور ہو کر سرداران قریش نے آنحضرت ﷺ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

94:۔ اس میں نذر غیر اللہ کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی جن چیزوں مثلاً بحیرہ، سائبہ وغیرہ کو تم حرام سمجھتے ہو اللہ نے تو ان کو حرام نہیں کیا وہ تو حلال ہیں اس لیے ان کو کھاؤ اللہ نے تو ان چیزوں کو حرام کیا ہے مردار، دم مسفوح (ذبح کے وقت بہنے والا خون) خنزیر اور نذر غیر اللہ یہ حرام ہیں ان کو مت کھاؤ اس کی تفسیر گذر چکی ہے ملاحطہ ہو تفسیر سورة بقرہ حاشیہ 314 ص 84 ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 115–119

(چاروں چیزیں) گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوچکا ہے کہ حلال اور طیب چیزیں کھاؤ ، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے چار قطعی حرام چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، حلت و حرمت کا یہ قانون اس سے پہلے سورة بقرہ سورة مائدہ اور سورة انعام میں بھی بیان ہوچکا ہے ، یہ بڑا اہم مسئلہ ہے جس کی پابندی اہل ایمان کے لیے نہایت ضروری ہے ان محرمات میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ماکولات میں شمار ہیں اور لوگوں کا اکثر وبیشتر ان اشیاء سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ، یہ مسئلہ بیان کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر مشرک مذکورہ محرمات کو برا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 115؁ حرم الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 115–117

انما حرم علیکم الخ کہ مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ چیز جو غیر اللہ کے نام سے پکاری جائے یا وقت ذبح غیر کا نام اس پر لیا جائے پھر یہ چیزیں بھی بحالت اضطرار درست ہیں۔ انما حصر کا کلمہ ہے خدا نے حرام چیزوں کا انحصار ماکولات 1 ؎ میں سے انہیں چار چیزوں پر کیا ہے یہاں بھی اور سورة انعام میں بھی بقولہ قل لا اجد فیما اوحی الی محرما علی طاعم اور یہ دونوں سورتیں مکیہ ہیں پھر سورة بقرہ میں بھی انہیں الفاظ کے ساتھ حصر ہے اور سورة مائدہ میں احلت لکم بہیمۃ الانعام الا ما یتلٰی علیکم سے اور ما یتلی علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وا ما اھل بہ لغیر اللہ میں کھول دیا اور یہ دونوں سورتیں مدنیہ ہیں۔ پس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِاللّٰہِ بِہٖ ج فَمَنِ اضْطُرَّغَیْرَبَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 115) (اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس نے تم پر حرام کیا ہے، مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، پھر جو کوئی مجبور ہوجائے اور وہ خواہش مند اور حد سے آگے بڑھنے والا نہ ہو تو اس کے لیے کوئی گناہ نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ ) اس آیت کریمہ کی تشریح میں ہم نے سورة البقرہ آیت 173 میں جو کچھ عرض کیا ہے، اسے یہاں نقل کررہے ہیں۔ ملتِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں حکم ہوا ہے کہ اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور پیوحرام خور آدمی اس فرمان سے غلط فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ حرام کی وضاحت کردی جائے۔ مذکورہ بالا وجہ کے ساتھ حرام کردہ چیزوں کی نشاندہی اس لیے کی جا رہی ہے کہ یہودیوں نے بہت سی اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنے اوپر حرام اور حرام کردہ چیزوں کو اپنے لیے حلال کرلیا تھا۔ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے یہودی رسول معظم ﷺ پر یہ بھی اعتراض کرتے تھے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جو چیزیں تورات اور انجیل میں حلال ہیں آپ اسے حرام کیوں قرار دیتے ہیں ؟ ان کا یہ الزام تھا کہ حرام و حلال کی فہرست میں آپ نے اپنی مرضی سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

محرمات سے بچو جو یہ ہیں : 115: اس کے بعد ان پر محرمات کو بیان کر کے اپنی طرف سے تحلیل و تحریم کی ممانعت کی پس فرمایا۔ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَ الدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (تم پر صرف مردار کو حرام کیا اور خون کو اور خنزیر کے گوشت کو اور اس چیز کو جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کیلئے نامزد کردی گئی ہو۔ پس جو شخص بہت ہی مجبور ہو بشرطیکہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد ( ضرورت) سے آگے بڑھے۔ (اور اس نے کھالیا) تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے) انماؔ کلمہ حصر ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 114–115

(114)” فکلو ا مما رزقکم اللہ …تا …ایاہ تعبدون “ (115)” انما حرم علیم المیتہ …تا …غفوررحیم “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 114–115

114۔ 115۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے مومن بندوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو جو چیزیں اللہ پاک نے تمہارے لئے حلال اور تمہاری روزی اس میں مقرر کی ہے بخوشی ورغبت وہ چیزیں کھاؤ اور اپنے خالق کا شکر بجا لاؤ اور ایسا نہ کرو کہ خدا کی حلال کی ہوئی چیزیں حرام اور حرام کو حلال بنا لو جس طرح مشرکوں کا قاعدہ ہے۔ مشرکوں کے اس قاعدہ کی تفصیل سورت انعام میں گزر چکی ہے۔ پھر فرمایا کہ خدا نے تم پر چند چیزیں حرام کی ہیں اور باقی اشیاء تمہارے لئے حلال طیب ہیں اپنی قوت بازو سے حاصل کرو اور کھاؤ جو چیزیں خداوند جل شانہ نے حرام ٹھہرا دی ہیں وہ یہ ہیں : مردار، اور خون، سور کا گوشت، اور جو جانور خدا کے سوا اور کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 114–118

آیت : (114-118) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات ‘ غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں۔ (حللا طیبا) ” حلال اور پاکیزہ “ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائی کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ ہو رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ (واشکروانعمت اللہ) ” اور اللہ کی نعمت کا شکرا دا کرو “ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے ‘ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمت وثناء کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 106–125

جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

248۔ تحریمات الہیہ کا ذکر وبیان :۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر صرف یہ چیزیں حرام فرمائی ہیں جن کو (انما) کے کلمہ حصر سے بیان فرمایا گیا ہے۔ سو وہی حرام ہیں نہ کہ ” بحرہ “ ،” سائبہ “ وغیرہ وہ چیزیں جن کو تم لوگوں نے از خود حرام قرار دے رکھا ہے۔ سو یہ حصر اضافی ہے نہ کہ حقیقی۔ کہ محرمات تو ان چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت ہیں۔ سو اس میں ان محرمات کا ذکر فرمایا گیا ہے جن کا تعلق کھانے پینے کی ان اشیاء اور مویشی جانوروں سے ہے جن کو ان لوگوں نے از خود حرام ٹھہرارکھا تھا۔ نہ کہ تمام اشیاء سے۔ سو تحریم وتحلیل اللہ تعالیٰ ہی کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ اس نے اپنے بندوں کیلئے ” طیبات “ یعنی پاکیزہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 115–119

حرام چیزیں اور اللہ کے احکامات تشریح : حرام حلال کو بڑی وضاحت سے سورة بقرہ، المائدہ اور سورة الانعام میں بیان کیا جا چکا ہے۔ خاص نکات دہرا دیے جاتے ہیں۔ (1) مجبوری میں معافی مل سکتی ہے۔ (2) اللہ کے بنائے ہوئے احکامات میں دخل اندازی کی سخت ممانعت ہے۔ (3) اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھنا بڑے سخت عذاب کا سبب بنے گا۔ (4) یہودیوں پر بہت سی چیزیں صرف اس لیے حرام کردی گئی تھیں کیونکہ انہوں نے اللہ کے احکامات کے بارے میں بڑے سوال کیے، لہٰذا اللہ کے احکامات کے بارے میں زیادہ سوال کرنا خود اپنے اوپر ظلم کرنے کے برابر ہے۔ (5) سچی توبہ پوری شرائط کے ساتھ قبول ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بخش دینا اور رحم کرنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 111–119

(رکوع نمبر 15) اسرارومعارف قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی جس جانور کو بھی غیر اللہ کے نام سے شہرت دی جائے۔ مثلاًً شیخ سدو کا بکراہ یا سید احمد کبیر کی گائے یا فلاں شاہ کا مرغا وغیرہ۔ ہرحال میں وہ جانور حرام ہوگیا اور اھل کا لفظ ذبح کے علاوہ اس کو بھی شامل ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے۔ ملعون من ذبح لغیر اللہ (سسن ابی دائود) لہٰذا جس پر غیر اللہ کا نام آگیا تو اس میں ایسی خباثت آگئی جو مردار ہیں بھی نہیں کیونکہ مردار پر تو صرف اللہ کا نام نہیں لیا گیا۔ مگر ” اھل لغین اللہ ہمیں اس جانوروں کی روح اس کے خالق کے سوا دوسرے کے نام پر بھینٹ چڑھا دی گئی اور یہ شرک ہے لہٰذا ایسا ذبیحہ حرام ہے یہ آیت شریفہ قرآن میں چار متربہ آئی ہے۔ اس کے معنی مارفع بہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(16:115) ما اھل لغیر اللہ بہ۔ الہلال سے ہے الہلالمہینے کی پہلی اور دوسری تاریخ کے چاند کو کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اسے قمر کہا جاتا ہے اس کی جمع اھلۃ ہے الاھلال کے معنی چاند نظر آنے پر آواز کرنے کے ہیں۔ پھر یہ لفظ عام آواز بلند کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اسی سے محاورہ ہے اہل الصبی ولادت کے وقت بچے نے رونے میں آواز بلند کی۔ اور حاجیوں کے بآواز بلند لبیک اللہم لبیک کہنے کو بھی اھلال کہا جاتا ہے۔ اسی طرح پکارنا۔ آواز لگانا۔ بلند آواز سے ذکر کرنا۔ نامزد کرنا۔ کسی چیز کو شہرت دینا سب کے معنی میں مستعمل ہے۔ اھل۔ اھلال سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس جملہ میں ما اسم موصول ہے اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 114–119

لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 119 کلوا کھاؤ۔ رزق اس نے رزق دیا۔ ایاہ اس کی۔ تعبدون تم عبادت کرتے ہو۔ حرم حرام کردیا، روک دیا۔ المیتۃ مردار۔ الدم خون۔ الحم الخنزیر خنزیر کا گوشت۔ اھل پکارا گیا۔ اضطر مجبور کردیا گیا، مجبور ہوگیا۔ غیر باغ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔ لاعاد نہ زیادتی کا ارادہ ہو۔ لاتقولوا تم نہ کہو۔ تصف بنا لی ہے۔ قصصنا ہم نے بتایا، بیان کیا۔ یظلمون وہ ظلم کرتے ہیں۔ بجھالۃ نادانی۔ تابو توبہ کرلی۔ اصلحوا اصلاح کرلی۔ تشریح : آیت نمبر 114 تا 119 جس شخص کو بات بات پر اعتراض اور کج بخشی کرنے کی عادت پڑجاتی ہے اس کے سامنے کتنی ہی معقول سے معقول حقیقت کو پیش کردیا جائے تب بھی وہ اس میں کوئی نہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حلال و حرام جانوروں کا ذکر پھر فرمایا کہ ایسا نہ کرو کہ خدا کی حلال کی ہوئی چیزیں حرام اور حرام کو حلال بنا لو، جس طرح مشرکوں کا قاعدہ ہے جس کی تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے۔ پھر فرمایا کہ خدا نے تم پر چند چیزیں حرام کی ہیں۔ اور باقی اشیاء تم پر حلال وطیب ہیں اپنی قوت بازو سے حاصل کرو اور کھاؤ۔ جو چیزیں خدائے تعالیٰ نے حرام ٹھہرائی ہیں وہ یہ ہیں۔ (1) مردار۔ (2) خون سور کا گوشت اور۔ (3) وہ جانور جس پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ہے۔ مگر وقت ضرورت کے اگر اس وقت جب جان پر آن بنے اور سوائے ان حرام اشیاء کے اور کوئی چیز کھانے کی میسر نہ آتی ہو تو بقدر جان بچانے کے کھا لینا جائز…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 115–123

کون کون سی چیزیں حرام ہیں ؟ : (ف 1) قرآن حکیم ایک مکمل شریعت ہے اس میں توحید و تفرید کے معارف بھی ہیں ، اور ضروری آداب وعوائد بھی ، کامل نظام مذہب کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس میں ضروریات انسانی کی ہر چیز موجود ہو ، چناچہ قرآن سب باتوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتا ہے ۔ کھانا پینا بھی چونکہ تہذیب انسانی کا ایک ضروری جزو ہے اس لئے قرآن اس کے متعلق بھی ضروری ہدایات سے مشرف کرتا ہے ، قرآن کہتا ہے پاکیزہ چیزیں بلا تکلف کھاؤ جن میں مضرت نہ ہو ، جو ناپاک نہ ہوں ، جن کو ذوق سلیم گوارا کرلے ، جن کے کھانے سے اخلاقی ومذہبی مضرتیں نہ پیدا ہوں ، اور جو چیزیں ان صفات سے عاری ہوں ، وہ غذا کے قابل نہیں وہ حرام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

115 ۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو تم پر جو چیزیں حرام کی ہیں وہ مرا ہواجانور ہے اور خون ہے اور سورکا گوشت ہے اور وہ چیزیں جس کو غیر اللہ کے نامزد کرد یا گیا ہو پھر جو شخص بھوک سے بالکل ہی بےقرار ہوجائے بشرطیکہ وہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہو تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی جن چیزوں میں تم گفتگو کرتے رہتے ہو ان میں تو صرف یہ چیزیں حرام ہیں مرا ہوا جانور ہے جو خود مرجائے اور دم مسفوح اور خزیر کا گوشت اور تقرب کی نیت سے جو غیر اللہ کے نام سے نامزد کردیا گیا ہو پھر اگر فاقہ ہو اور کوئی شخص بھوک سے مضطر اور بیقرار ہوجائے اور زندگی بچانے کے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حرام کی گئی چیزوں کی فہرست کہ وہ کیا کیا چیزیں ہیں جو اہل اسلام کے لئے حرام ہوئیں : 129۔ زیر نظر آیت اس سے قبل پیچھے تین بار گزر چکی سورة البقرہ کی آیت 173 ‘ سورة المائدہ کی آیت 3 اور سورة الانعام کی آیت 145 پھر تینوں جگہوں پر کی گئی تشریح کو پڑھ لینے کے بعد مزید کچھ بیان کرنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی اور ہمارے خیال میں کوئی پہلو تشنہ نہیں رہا جس کو اس جگہ بیان کردیا جائے تاکہ مضمون کی تکمیل ہوجائے ، اس لئے ہماری رائے میں اس آیت کی تفسیر کے لئے قارئین پیچھے ہی مراجعت کریں اور حوالہ دیئے گئے مقامات کی تفسیر اٹھا کر دیکھ لی جائے اور اگر ترتیب وار دیکھا جائے یعنی پہلے بقرہ 2 : 173 کو پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 115–118

Commentary Nature of Prohibitions: The Correct View The restrictive particle: اَنَّمَا (innama: only) appearing in verse 115 seems to give the impression that things Haram are no more than the four mentioned in the verse. This impression emerges more clearly in another verse: قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّ‌مًا (Say, I do not find, in what has been revealed to me, anything prohibited... - Surah a1-An` am, 6:145). It seems to be suggestive of nothing being Haram other than the things mentioned in the verse while the fact is that according to clarifications of the Qur'an and…

Read the full tafseer →