Explained with ayahs 114–117
حلال و حرام صرف اللہ کی طرف سے ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنی دی ہوئی پاک روزی حلال کرتا ہے اور شکر کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اس لئے کہ نعمتوں کا داتا وہی ہے، اسی لئے عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک ہے، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔ پھر ان چیزوں کا بیان فرما رہا ہے جو اس نے مسلمانوں پر حرام کردی ہیں جس میں ان کے دین کا نقصان بھی ہے اور ان کی دنیا کا نقصان بھی ہے جیسے از خود مرا ہوا جانور اور بوقت ذبح کیا جائے۔ لیکن جو شخص ان کے کھانے کی طرف بےبس، لاچار، عاجز، محتاج، بےقرار ہوجائے اور انہیں کھالے تو اللہ بخشش و رحمت سے کام لینے والا ہے۔ سورة بقرہ میں اسی جیسی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 113
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة کے نزول کے وقت وہ قحط ختم ہوچکا تھا جس کی طرف اوپر اشارہ گزر چکا ہے۔
سورة النَّحْل 114
یعنی اگر واقعی تم اللہ کی بندگی کے قائل ہو، جیسا کہ تمہارا دعوی ہے، تو حرام و حلال کے خود مختار نہ بنو۔ جس رزق کو اللہ نے حلال و طیب قرار دیا ہے اسے کھاؤ اور شکر کرو۔ اور جو کچھ اللہ کے قانون میں حرام و خبیث ہے اس سے پرہیز کرو۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر کفار کی ناشکری اور اس کے عذاب کا ذکر تھا مذکورہ آیات میں اول تو مسلمانوں کو اس کی ہدایت کی گئی کہ وہ ناشکری نہ کریں اللہ تعالیٰ نے جو حلال نعمتیں ان کو دی ہیں ان کو شکر کے ساتھ استعمال کریں اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ کفار و مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی ایک خاص صورت یہ بھی اختیار کر رکھی تھی کہ بہت سی چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال کیا تھا اپنی طرف سے ان کو حرام کہنے لگے اور بہت سی چیزیں جن کو اللہ نے حرام کہا تھا ان کو حلال کہنے لگے مسلمانوں کو اس پر تنبیہ فرمائی کہ وہ ایسا نہ کریں کسی چیز کا حلال یا حرام کرنا صرف…
Read the full tafseer →فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ۠ وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ
اہل مکہ کو اہل سبا کا انجام یاد دلا کر ان کو یاددہانی فرمائی کہ تمہیں بھی اللہ نے جو چیزیں حلال وطیب بخشی ہیں ان کو کھاؤ برتو اور اس کی نعمتوں پر اسی کا شکر ادا کرو اگر تم اس کی پرستش کرنے والے ہو یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اہل سبا اور اہل مکہ میں بڑی مماثلت تھی اوپر اہل سبا کے باب میں جو الفاظ وارد ہوئے ہیں ان کو پڑھیے پھر حرم مکہ کی شان میں یہ الفاظ، اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرات کل شئی رزقا من لدنا۔ قصص 57۔ پڑھیے تو دونوں کی مماثلت واضح ہوجائے گی جس طرح اہل سبا…
Read the full tafseer →114۔ 1 اس کا مطلب یہ ہوا کہ حلال وطیب چیزوں سے تجاوز کر کے حرام اور خبیث چیزوں کا استعمال اور اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا، یہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔
Read the full tafseer →49: جس ناشکری کے پیچھے مذمت کی گئی ہے اسی کی ایک صورت مشرکین عرب نے یہ اختیار کر رکھی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں کو من گھڑت طریقے سے حرام قرار دے رکھا تھا، جس کی تفصیل سورة انعام (139 تا 145) میں گذر چکی ہے۔ یہاں نا شکری کی اس خاص صورت سے منع کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →تشریح : اللہ تعالیٰ محرمات کی حد بندی فرما دیتے ہیں۔ محرمات کا شمار کردیا جاتا ہے کہ بس یہی ہیں اس کے سوا کوئی چیز حرام نہیں اور اس شمار میں وہ محرمات نہیں جو انہوں نے از خود اپنے اوپر حرام کر رکھے ہیں۔ مثلاً بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔
Read the full tafseer →10 یعنی جس کو خدا کی پرستش کا دعویٰ ہو اسے لائق ہے کہ خدا کی دی ہوئی حلال وطیب روزی سے تمتع کرے اور اس کا احسان مان کر شکر گزار بندہ بنے۔ حلال کو حرام نہ سمجھے اور نعمتوں سے منتفع ہوتے وقت منعم حقیقی کو نہ بھولے۔ بلکہ اس پر اور اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں پر ایمان لائے اور اسی کے احکام و ہدایت کی پابندی کرے۔
Read the full tafseer →وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ
نوٹ کیجیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر مختلف انداز میں اس سورت میں بار بار آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →117 اس آیت میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور انھیں سمجھایا یہ جارہا ہے کہ کفران نعمت اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کے بدلے اللہ اپنی نعمتیں بھی چھین لیتا ہے اور ایسے مجرموں پر عذاب بھی مسلط کردیتا ہے۔ لہذا اگر تم ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہا کرو۔ اسی کی بندگی کرو۔ اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو اور رزق حلال کی تلاش کرو۔ حرام اور گندی چیزوں سے پرہیز کرو۔
Read the full tafseer →176۔ یعنی اگر خدا پرست اور توحید کے قائل ہو، تو مشرکوں کی طرف اپنے دل سے فلاں فلاں چیز کو ناجائز و حرام مت ٹھیرالو، بلکہ جو چیزیں اللہ کی شریعت نے حلال کی ہیں، انہیں جائز ہی سمجھتے رہو انہیں اللہ کی نعمتیں سمجھ کر انہیں برتو، اور حق تعالیٰ کا شکر زبان سے اور عمل سے ادا کرتے رہو،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
آیت نمبر 111 تا 119
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی…
Read the full tafseer →فکلوا مما رزقکم اللہ حلالا طیبا واشکروا نعمت اللہ ان کنتم ایاہ تعبدون سو جو چیزیں اللہ نے تم کو حلال پاک کردی ہیں ‘ ان کو کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
کُلُوْا سے مسلمانوں کو خطاب ہے جن کو اللہ نے کفر سے نکالا اور اسلام کی ہدایت کی۔
نِعْمَتَ اللّٰہِ سے مراد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور دوسری دنیوی نعمتیں ہیں جو اللہ نے مؤمنوں کو عطا فرمائی ہیں۔ پہلے اللہ نے کفر پر توبیخ کی اور ایک ناشکری قوم کی مثال دے کر ان کا نتیجۂ بد اور ان پر عذاب نازل ہونے کا ذکر کیا تاکہ مشرک اعمال جاہلیت سے کنارہ کش ہوجائیں اور باطل مذاہب چھوڑ کر ایمان لے آئیں۔ اس آیت میں اہل ایمان کو…
Read the full tafseer →(114) سو کھیتیاں اور جانور اور نعمتیں کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو یعنی اگر تم کھیتیوں اور جانوروں کو خود اپنے اوپر حرام کرلینے میں اللہ کی عبادت سمجھتے ہو تو ان چیزوں کو اپنے اوپر حلال کرلو کیوں کہ اللہ کی عبادت ان کے حلال سمجھنے میں ہے۔
Read the full tafseer →فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا۔۔ : مشرکین نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اس کے ساتھ شریک بنائے تو اے ایمان والو ! اگر تم واقعی صرف اللہ کی بندگی کرتے ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو لازم ہے کہ اپنی عقل اور مصلحت کے بل بوتے پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہ دو ، جیسا کہ مشرکوں نے اپنے پاس سے بحیرہ اور سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دے رکھا ہے، حالانکہ یہ کہیں اللہ کا حکم نہیں اور مردار اور خون وغیرہ کو حلال کر رکھا ہے جنھیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ سو تم صرف انھی چیزوں کو کھاؤ جنھیں اللہ نے حلال اور طیب قرار دیا ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 114
قولہ تعالیٰ : فکلوا مما رزقکم اللہ یعنی اے مسلمانوں کے گروہ تم غنائم سے کھاؤ۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ خطاب مشرکین کو ہے، کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف ان پر شفقت اور نرمی کرتے ہوئے کھانا بھیجا، اور یہ اس وقت ہوا کہ جب وہ سات سال تک قحط میں مبتلا رہے اور اہل عرب نے حضور نبی مکرم ﷺ کے حکم سے ان سے ذخیرہ کی ہوائی خوراک روک لی، تو انہوں نے جلی ہوئی ہڈیاں، مردار، مردہ کتے، چمڑے اور خون میں لتھڑے ہوئے اونٹ کے بال تک کھائے، پھر سردار ان مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کی جس وقت خوب مشقت اور تکلیف میں مبتلا ہوئے اور کہنے لگے : یہ تو مردوں کا عذاب ہے اور عورتوں اور بچوں کا حال کیا ہوگا ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
1:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ مطمئنۃ “ سے مراد ہے مکہ مکرمہ۔
اہل مکہ نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی :
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا (آیت) ” ولقد جاء ہم رسول منہم فکذبوہ “۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، عبد ابن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قریۃ کانت امنۃ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو نہیں دیکھا (آیت) ” ولقد جآء ھم رسول منہم فکذبوہ فاخذھم العذاب “ فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →[فَكُلُوْا : پس تم لوگ کھائو ] [ مِمَا : اس میں سے جو ] [ رَزَقَكُمُ : عطا کیا تم کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ حَلٰلًا : حلال (کھانا)] [ طَيِّبًا ۠: پاک کھانا ] [ وَّاشْكُرُوْا : نِعْمَتَ اللّٰهِ : اللہ کی نعمت کا ] [ ان : اگر ] [ كُنْتم : تم لوگ ] [ اِيَّاهُ : اس کی ہی ] [ تَعْبُدُوْنَ : بندگی کرتے ہو ]
(آیت۔ 114) ۔ فَکُلُوْا کا مفعول محذوف ہے جو شَیْئًا یا اَکْلًا ہوسکتا ہے۔ حَلٰلاً اور طَیِّبًا فعل محذوف کی صفت ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ، اور اس کا شکر ادا کرو، حرام چیزوں سے بچو
یہ دو آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں حلال اور پاکیزہ رزق کے کھانے کی اجازت دی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ (اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) (کیونکہ شکر بھی عبادت ہے اور کامل عبادت شکر کے بغیر نہیں ہوسکتی) دوسری آیت میں بعض ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کا کھانا حرام ہے اور ساتھ ہی مضطر کا حکم بھی بیان فرمایا، جو شخص مجبور اور مضطر ہو رہا ہو اور بھوک کی وجہ سے اس کی جان پر بن رہی ہو اور کھانے کے لیے حلال چیزوں میں سے کچھ بھی نہ ہو تو جان بچانے کے لیے اتنا سا کھالے جس سے جان بچ جائے اس سے آگے نہ بڑھے اور لذت کا طالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–119
تہدید بآفات ونیویہ برمعصیت و کفران نعمت
قال اللہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفر اور معصیت پر عذاب اخروی کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ بعض مرتبہ دنیا میں بھی کفر اور معصیت اور کفران نعمت پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط سالی اور عام بیماری اور بسا اوقات کفر اور کفران نعمت دنیا ہی میں زوال نعمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے لوگ سات سال تک شدید قحط میں رہے یہاں تک کہ مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں کھانے لگے اور ضعف اور ناطاقتی سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا بالآخر مجبور ہو کر سرداران قریش نے آنحضرت ﷺ سے…
Read the full tafseer →93:۔ حصہ دوم۔ نفی شرک فعلی :۔ اس حصہ میں شرک فعلی کی دو شقوں کا رد کیا گیا ہے۔ تحریماتِ غیر اللہ اور نذر غیر اللہ۔ مشرکین مکہ پر عذاب اس لیے ڈالا گیا کہ وہ غیر اللہ کو کارساز سمجھ کر پکارتے اور غیر اللہ کے لیے تحریمات کرنے اور نذریں ماننے سے بھی باز آجاؤ۔ اس میں تحریمات غیر اللہ کی نفی کی گئی ہے۔ یعنی جو حلال و طیب رزق اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں میں سے کسی چیز کو اپنی طرف سے اپنے اوپر حرام نہ کرو۔ یعنی بحیرہ، سائبہ وغیرہ نہ بناؤ، اس کی تفصیل سورة مائدہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو حاشیہ، ص 127، ص 298 ۔ یہ ” ضرب اللہ مثلا الخ “ سے متعلق ہے۔ مشرکین مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
ربط آیات :
پہلے قرآن حکیم کی صداقت وحقانیت کا بیان ہوا ، فرمایا قرآن پاک کی خود ساختہ یا کسی عجمی شخص کا سکھلایا ہوا کہنے والے جھوٹے ہیں ، نیز یہ کہ جس نے اپنے اختیار اور ارادے سے اپنی زبان سے کفر کی بات نکالی وہ خدا کے غضب اور لعنت کانشانہ بنے گا ، ہاں ! اضطراری حالت میں جب کہ جان جانے یا کسی عضو کے کٹ جانے کا خطرہ ہو ، تو جان بچانے کے لیے کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ دل مطمئن ہو ، اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ، اس لیے وہ کفر کی بات زبان پر لاتے ہیں ایسے لوگوں کو محاسبہ اعمال کی کچھ فکر نہیں ، یہ عنادی لوگ ہیں جن…
Read the full tafseer →فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ۠ وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ 114
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔
حلَال
حَلَّ الشیء حلالًا، قال اللہ تعالی:…
Read the full tafseer →ترکیب : وما اھل بہ ای رفع الصوت لغیر اللہ بہ والا ہلال رفع الصوت عندرویۃ الہلال وبکاء الصبی والتلبیۃ۔ غیرباغ منصوب علی الحلال من فاعل اضطر۔ الکذب بفتح الکاف والباء وکسر الذال۔ یہ منصوب ہے تصف کی وجہ سے وما مصدریہ اور ممکن ہے کہ بمعنی الذی ہو اور عائد محذوف اور الکذب اس سے بدل اور بضم الکاف والذال و فتح الباء بھی آیا ہے یہ جمع ہے کذاب مخفف کی جیسا کہ کتاب و کتب اور بضم باء ‘ السنۃ کی صفت ہوگا۔
تفسیر : کفار کا کفران نعمت اور اس پر زوال نعمت اور نزول عذاب بیان فرما کر مسلمانوں کو اپنی نعمتوں کے کھانے کی اجازت دیتا ہے کہ تم ہماری نعمتوں کو شوق سے کھاؤ پیو مگر شکر کرو کیونکہ نزول عذاب نعمتوں کے…
Read the full tafseer →فَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّبًا ص وَّاشْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 114)
(تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو چیزیں جائز و پاکیزہ دے رکھی ہیں، ان میں سے کھائو اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرو، اگر تم اسی کی پرستش کرتے ہو۔ )
قریشِ مکہ سے فرمایا جارہا ہے کہ جن بستیوں کے رہنے والوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت تحلیل و تحریم پر قبضہ کرلیا اور قانون سازی میں اس کے شریک بن گئے اور ایک خانہ ساز شریعت بنا ڈالی ان کا انجام تم نے دیکھ لیا۔ ابھی چند سال جس طرح قحط سالی کے تم پر گزرے ہیں تمہیں یہ بات یاد دلانے کے لیے کافی تھے کہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مکہ والوں نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ناشکری کی جس کی بنا پر قحط سالی نے انہیں آلیا۔ اس لیے ہدایت کی جا رہی ہے کہ لوگو اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے متعدد فرامین میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے لوگو ! میرے سوا تمہیں کوئی رزق دینے والا نہیں۔ میں ہی اپنی حکمت کی بنا پر تمہارا رزق تنگ اور کشادہ کرتا ہوں۔ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید عنایت کروں گا۔ اگر کفر اور ناشکری کا راستہ اختیار کرو گے تو میر اعذاب نہایت سخت ہوا کرتا ہے۔ (ابراہیم : 7) اس بنا پر حکم ہے کہ جو پاک اور حلال رزق تمہیں عطا کیا جاتا ہے۔ اسے کھاؤ اور پیو۔ رزق کے…
Read the full tafseer →حلال و طیب کھائو :
114: روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اہل مکہ کی طرف قحط کے سالوں میں غلہ بھیجا جو ان میں تقسیم کردیا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ فَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ (پس تم کھائو اس کو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق دیا ہے) حضرت محمد ﷺ کے دست اقدس سے حَلٰلاً طَیِّبًا (حلال و پاکیزہ) اس کے بدلے جو تم حرام و خبیث کھاتے تھے۔ مثلاً لوٹ کے اموال ‘ غصب کی آمدنیاں، برے ذرائع سے حاصل شدہ محاصل وَّاشْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ (اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کرو اگر تم اسی ہی کی عبادت کرنے والے ہو) یہاں تعبد ون تطیعون کے معنی میں ہے۔ نمبر 2۔ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
(114)” فکلو ا مما رزقکم اللہ …تا …ایاہ تعبدون “ (115)” انما حرم علیم المیتہ …تا …غفوررحیم “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
114۔ 115۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے مومن بندوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو جو چیزیں اللہ پاک نے تمہارے لئے حلال اور تمہاری روزی اس میں مقرر کی ہے بخوشی ورغبت وہ چیزیں کھاؤ اور اپنے خالق کا شکر بجا لاؤ اور ایسا نہ کرو کہ خدا کی حلال کی ہوئی چیزیں حرام اور حرام کو حلال بنا لو جس طرح مشرکوں کا قاعدہ ہے۔ مشرکوں کے اس قاعدہ کی تفصیل سورت انعام میں گزر چکی ہے۔ پھر فرمایا کہ خدا نے تم پر چند چیزیں حرام کی ہیں اور باقی اشیاء تمہارے لئے حلال طیب ہیں اپنی قوت بازو سے حاصل کرو اور کھاؤ جو چیزیں خداوند جل شانہ نے حرام ٹھہرا دی ہیں وہ یہ ہیں : مردار، اور خون، سور کا گوشت، اور جو جانور خدا کے سوا اور کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
آیت : (114-118)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات ‘ غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں۔ (حللا طیبا) ” حلال اور پاکیزہ “ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائی کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ ہو رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ (واشکروانعمت اللہ) ” اور اللہ کی نعمت کا شکرا دا کرو “ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے ‘ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمت وثناء کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →246۔ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں سے استفاد ہے کا حکم وارشاد :۔
سو ارشاد فرمایا گیا پس تم کھاؤ پیو ان چیزوں سے جو تم کو اللہ نے بخشی ہیں۔ اور محض اپنے کرم سے اور بلاشرکت غیرے بخشی ہیں۔ اس لیے شکر بھی تنہا اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور جب یہ سب بخشی ہوئی اسی وحدہ لاشریک کی ہیں تو ان میں سے کسی بھی چیز کو از خورد حرام قرار دینے کا حق بھی کسی کو نہیں ہوسکتا۔ بلکہ حلال وہی ہے جس کو وہ حلال بتائے اور حرام وہ ہے جس کو وہ حرام فرمائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں سے استفادے کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے مگر دو شرطوں کے ساتھ۔ ایک یہ کہ وہ حلال ہو حرام نہ۔ پس ” میتہ “ ،” دم مسفوح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
کفار کے کرتوت اور ان کا انجام
تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔
سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
(رکوع نمبر 15)
اسرارومعارف
قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اگر تم واقعی اللہ ہی کی بندگی کرتے ہو جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو ضروری ہے کہ حلال و حرام کی تعیین اپنی عقل اور مصلحتوں کے بل بوتے پر اپنی مرضی سے نہ کرو بلکہ صرف انہی چیزوں کو کھائو جنہیں اللہ نے حلال اور طیب قرار دیا ہے۔ (شوکانی بتصرف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
(16:113) وہم ظلمون حال ہے فاخذہم العذاب سے۔ یعنی پس ان کو عذاب نے آلیا درآں حالیکہ وہ (اپنے ہی حق میں) ظلم کر رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–119
لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 119
کلوا کھاؤ۔ رزق اس نے رزق دیا۔ ایاہ اس کی۔ تعبدون تم عبادت کرتے ہو۔ حرم حرام کردیا، روک دیا۔ المیتۃ مردار۔ الدم خون۔ الحم الخنزیر خنزیر کا گوشت۔ اھل پکارا گیا۔ اضطر مجبور کردیا گیا، مجبور ہوگیا۔ غیر باغ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔ لاعاد نہ زیادتی کا ارادہ ہو۔ لاتقولوا تم نہ کہو۔ تصف بنا لی ہے۔ قصصنا ہم نے بتایا، بیان کیا۔ یظلمون وہ ظلم کرتے ہیں۔ بجھالۃ نادانی۔ تابو توبہ کرلی۔ اصلحوا اصلاح کرلی۔
تشریح : آیت نمبر 114 تا 119
جس شخص کو بات بات پر اعتراض اور کج بخشی کرنے کی عادت پڑجاتی ہے اس کے سامنے کتنی ہی معقول سے معقول حقیقت کو پیش کردیا جائے تب بھی وہ اس میں کوئی نہ…
Read the full tafseer →مومن بندوں کی شکر گزاری
اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہے کہ کافروں کو تو ہم نے قحط میں مبتلا کیا اور پھر اپنے رسول کا دست نگر بنایا۔ اب تمہارے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں کہ تم کو رزق پاکیزہ اور حلال عنایت فرماتے ہیں۔ تم کو چاہیے کہ خوب مزے سے کھاؤ اور تم اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اس کے خالص بندے ہو اور اس کی عبادت کرتے ہو اس کے سوا دوسرے کو نہیں پوجتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
[66] اللہ تعالیٰ نے جس بستی کی مثال بیان فرمائی ہے اس کے نام کی صراحت نہیں فرمائی لیکن خود مکہ اس کا
مصداق معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی اہل مکہ امن و اطمینان سے رہتے تھے۔ تمام عرب میں لوٹ مار مچی رہتی تھی مگر خانہ کعبہ کی حرمت کی وجہ سے کوئی اہل مکہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا تھا اور باوجودیکہ سرزمین مکہ ریگستان ہے اور اس میں کھیتی باڑی کی صلاحیت نہیں تاہم اطراف و جوانب کی پیداوار بافراط مکہ کو کھنچی چلی آتی تھی۔ یہ امن و اطمینان اور روزی کا سامان اہل مکہ کے حق میں بڑا احسان الٰہی تھا مگر وہ حقیقی منعم اور محسن یعنی اللہ کو بھول کر بت پرستی کرنے لگے تو اللہ نے ان کی ہدایت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
(ف 1) غرض یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت اور اس کی سپاس گزاری بہترین نعمتوں کی کفیل ہے ، جو خدا کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے وہ تمام تکلیفوں کو دعوت دیتا ہے ۔ وہ بھوکا رہ کر بھی افلاس کو یاد کرتا ہے ۔ اور خوف وحزن کو اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے ۔
” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین ‘ ثم امین ‘۔
Read the full tafseer →114 ۔ کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنا یہ کفرکا شیوہ ہے لہٰذا جو اللہ تعالیٰ نے تم کو حلال اور پاکیزہ روزی دی ہے اس میں سے کھائو ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو اور اس کا احسان مانو اگر تم اسی کے عبادت گزار ہو اور اسی کی پرستش کرتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے تم اگر پرستار ہو تو اس کی ناسپاسی نہ کرو اور جن لذیز اور مرغوب الطبع چیزوں کو اس نے حلا ل کیا ہے انہی کو کھائو اور خدا کا شکر بجا لائو ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایمان لائو اور حلال کو حرام مت کرو اپنی عقل سے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–118
ف 4۔ یعنی خدا کے ساتھ کفران کیا۔
Read the full tafseer →مخالفین کے قلع قمع کے بعد اب مسلمانوں کو ہدایت جاری کی جارہی ہے :
128۔ مشرکوں کے خاتمہ کے ساتھ ہی ایک طرح سے شرک کی بھی بیخ کنی ہوگئی اور شرک کی جگہ اب توحید کا درس دیا جانے لگا اس لئے توحید پر ستوں ہدایت جاری کی جارہی ہے کہ ” اللہ نے جو رزق تم کو دیا ہے اسے شوق سے کھاؤ پیو کیونکہ وہ سب حلال وطیب چیزیں ہیں ۔ “ اور اس بات کی تشریح آپ قبل ازیں ایک سے زیادہ بار پڑھ چکے ہیں کہ ہر وہ چیز جو طیب ہے وہ یقینا حلال ہے اگرچہ ہر حلال چیز طبیب نہیں ہے اس لئے مسلمانوں کو خصوصا حکم دیا جا رہا ہے کہ ہر وہ چیز کھاؤ جو حلال ہونے کے ساتھ طیب بھی ہے یہی تمہارے شایان شان ہے ” اور چاہئے کہ اللہ کی نعمت کا شکر بھی…
Read the full tafseer →Sequence and Explanation in Gist
Mentioned in the previous verses was that disbelievers will be punished for their ungratefulness to Allah whose blessings they had been enjoying. In the cited verses, Muslims have been instructed to stay away from ungratefulness, rather be grateful for Halal things Allah has given to them. After that, they were told how the disbelievers and polytheists had become ungrateful by declaring what Allah had made Halal for them as Haram and what Allah had called Haram as Halal. Muslims were warned that they should never do that. Making things Halal and Haram is the…
Read the full tafseer →113. This shows that the above mentioned famine had come to an end at the time of the revelation of this Surah.
114. Here the observation of the lawful and the unlawful has been made the test of worship of Allah. Those who claim to be the servants of Allah will eat what is lawful and pure and show gratitude to Him and will scrupulously refrain from what is forbidden and impure.
Read the full tafseer →