Explained with ayahs 112–113
اللہ کی عظیم نعمت بعثت نبوی ہے
اس سے مراد اہل مکہ میں یہ امن و اطمینان میں تھے۔ آس پاس لڑائیاں ہوتیں، یہاں کوئی آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتا جو یہاں آجاتا، امن میں سمجھا جاتا۔ جیسے قرآن نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے انہیں امن وامان کا حرم نہیں دے رکھا ؟ جہاں ہماری روزیاں قسم قسم کے پھولوں کی شکل میں ان کے پاس چاروں طرف سے کھینچی چلی آتی ہیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ عمدہ اور گزارے لائق روزی اس شہر کے لوگوں کے پاس ہر طرف سے آرہی تھی لیکن پھر بھی یہ اللہ کی نعمتوں کے منکر رہے جن میں سب سے اعلیٰ نعمت آنحضرت ﷺ کی بعثت تھی جیسے…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 112
یہاں جس بستی کی مثال پیش کی گئی ہے اس کی کوئی نشان دہی نہیں کی گئی۔ نہ مفسرین یہ تعین کرسکے ہیں کہ یہ کونسی بستی ہے۔ بظاہر ابن عباس ؓ ہی کا یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خود مکہ کا نام لیے بغیر مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس صورت میں خوف اور بھوک کی جس مصیبت کے چھا جانے کا یہاں ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ قحط ہوگا جو نبی ﷺ کی بعثت کے بعد ایک مدت تک اہل مکہ پر مسلط رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
آخری آیت میں بھوک اور خوف کا مزہ چکھانے کے لئے لفظ لباس استعمال فرمایا کہ لباس بھوک اور خوف کا ان کو چکھایا گیا حالانکہ لباس چھکنے کی چیز نہیں مگر یہاں لباس کا لفظ محیط اور ہمہ گیر ہونے کے لئے تشبیہا استعمال ہوا ہے کہ یہ بھوک اور خوف ان سب کے سب پر ایسا چھا گیا کہ جس طرح لباس بدن کے ساتھ لازم ملزوم ہوجاتا ہے یہ بھوک اور خوف بھی ان پر اسی طرح مسلط کر دئیے گئے۔
یہ مثال جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے بعض ائمہ تفسیر کے نزدیک تو عام مثال ہے کسی خاص بستی سے اس کا تعلق نہیں اور اکثر حضرات نے اس کو مکہ مکرمہ کا واقعہ قرار دیا کہ وہ سات سال تک شدید قحط میں مبتلا رہے کہ مردار جانور اور کتے اور غلاظتیں…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ
یعنی ان میں انہیں میں سے ایک رسول ان کو متنبہ کرنے کے لے آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب نے ان کو آدبوچا اور یہ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اس لیے اپنی ناشکری سے اس کے اسباب انہوں نے خود فراہم کیے۔
Read the full tafseer →113۔ 1 اس عذاب سے مراد وہی عذاب خوف وبھوک ہے جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہے، یا اس سے مراد کافروں کا وہ قتل ہے جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
48: یہ اللہ تعالیٰ نے ایک عام مثال دی ہے کہ جو بستیاں خوشحال تھیں، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی پر کمر باندھ لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ کی بستی ہے جس میں سب لوگ خوشحالی اور امن کے ساتھ رہ رہے تھے، لیکن جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو جھٹلایا تو ان پر سخت قسم کا قحط مسلط کردیا گیا جس کے نتیجے میں لوگ چمڑا تک کھانے پر مجبور ہوئے۔ بعد میں انہوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قحط دور ہونے کی دعا فرمائیں۔ چنانچہ وہ آپ کی دعا سے دور ہوا۔ اس واقعے کا ذکر سورة دخان میں بھی آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
یہ مثال مکہ پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ اللہ نے اس بستی میں بیت اللہ بنایا۔ پھر اس کو حرکت دیتے ہوئے بلد حرام قرار دیا۔ جو شخص اس میں داخل ہوجائے وہ آمن اور مامون ہوگا۔ کسی کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھائے اگرچہ وہ قاتل ہو۔ جب تک وہ بیت اللہ میں ہے کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ جزیرۃ العرب کی حالت یہ ہوتی تھی کہ مکہ کے ارد گرد کے تمام علاقوں میں امن وامان نہ تھا اور لوگوں کو اچک لیا جاتا تھا۔ لیکن اہل مکہ ہر وقت امن وامان میں رہتے تھے اور نہایت ہی اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ نیز ان کا سامان زیست بھی ہر طرف سے چلا آرہا تھا ، حاجیوں کے ساتھ اور پر امن…
Read the full tafseer →9 ظاہری نعمتوں کے علاوہ جو اوپر مذکور ہوئیں ایک بڑی بھاری باطنی نعمت بھی ان کو دی گئی تھی، یعنی انہی کی قوم و نسب میں سے ایک رسول بھیجا گیا۔ جس کا اتباع کر کے وہ خدا کی خوشنودی کے بڑے اونچے مقامات حاصل کرسکتے تھے انہوں نے اتباع و تصدیق کی جگہ اس کی تکذیب و مخالفت پر کمر باندھ لی اور اس طرح پستی میں گرتے چلے گئے۔ آخر قدیم سنت اللہ کے موافق ظالموں اور گنہگاروں کو عذاب نے آپکڑا پھر کسی کی کوئی تدبیر پیش نہ گئی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیات میں کسی معین بستی کا تذکرہ نہیں۔ محض بطور تمثیل کسی تباہ شدہ بستی کا لاعلی التعیین حوالہ دے کر یا ایک ایسی بستی کا وجود فرض کر کے کفار مکہ کو آگاہ کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ
اس تمثیل کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ ایک عام تمثیل ہے اور کسی خاص بستی سے متعلق نہیں۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ قوم سبا کی مثال ہے جس کے بارے میں تفصیل آگے چل کر سورة سبا میں آئے گی۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ اس مثال کے آئینے میں مکہ اور اہل مکہ کا ذکر ہے کہ یہ شہر ہمیشہ سے امن و سکون کا گہوارہ چلا آ رہا تھا اور یہاں اہل مکہ کی تجارتی سرگرمیوں اور حج وعمرہ کے اجتماعات کے باعث خوشحالی اور فارغ البالی بھی تھی۔ دنیا بھر سے انواع وا قسام کا رزق فراوانی سے ان کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
116 مکہ میں بھوک کا عذاب :۔ اس آیت میں اگرچہ اس بستی کا نام نہیں لیا گیا تاہم انداز بیان سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ روئے سخن مکہ ہی کی طرف ہے۔ مکہ کے لوگ اس وقت بھی امن و چین کی زندگی گزار رہے تھے جبکہ عرب بھر میں ہر طرف لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا تھا۔ بیت اللہ شریف کی تولیت کی وجہ سے لوگ قریش مکہ کا ادب و احترام کرتے تھے۔ ان کے تجارتی قافلے پر کسی کو حملہ آور ہونے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ بلکہ جس تجارتی قافلے کو یہ قریش مکہ پروانہ راہداری دے دیتے۔ وہ بھی امن و عافیت کے ساتھ سفر کرسکتے تھے۔ پھر سیدنا ابراہیم کی دعا کی وجہ سے اطراف عالم سے اشیاء خوردنی اور پھل وغیرہ بھی مکہ پہنچ جاتے…
Read the full tafseer →175۔ (سوائے اہل مکہ ڈرو، کہ کہیں تمہارا بھی یہی حال نہ ہوجائے) تاریخ کا بیان ہے کہ یہ انجام واقع ہو کررہا۔ (آیت) ” فاذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف “۔ کی بات اہل مکہ کے حق میں ان کے انکار رسول ﷺ کے پاداش میں، پوری ہو کر رہی۔ (آیت) ” لباس الجوع “۔ مکہ میں قحط شدید پڑا جانور مرنے لگے، آدمی جان سے گزرنے لگے۔ (آیت) ” والخوف “۔ مکہ بالآخر مسلمانوں ہی کے ہاتھ پر فتح ہوا۔ قریش کے بڑے بڑے سرداروں کا سرنگوں ہوا۔ (آیت) ” وھم ظلمون “۔ عذاب الہی نے انکی گرفت عین اس حال میں کی، کہ وہ ارتکاب کفر وتکذیب میں مبتلا تھے۔ اے حال التباسھم بالظلم وھو الکفران والتکذیب (روح) (آیت) ” منھم “۔ یعنی خود انہی کی جنس وقوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
آیت نمبر 111 تا 119
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی…
Read the full tafseer →ولقد جاء ھم رسول منھم فکذبوہ فاخذھم العذاب وھم ظلمون اور ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول (ا اللہ کی طرف سے) آیا ‘ سو اس رسول کو انہوں نے جھوٹا بتایا۔ آخر اللہ کے عذاب نے ان کو آپکڑا جبکہ وہ بالکل ہی ظلم پر کمرباندھنے لگے۔
ا اللہ نے قریہ کے ذکر کے بعد اہل مکہ کے ذکر کی طرف کلام کا رخ پھیر دیا۔ ھُمْ ضمیر اہل مکہ کی طرف راجع ہے اور رسول اللہ سے مراد محمد ﷺ ہیں اور عذاب سے مراد ہے : سخت کال یا بدر کا واقعہ۔
یہ آیت خود دلالت کر رہی ہے کہ اس کا نزول ہجرت کے بعد ہوا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وَھُمْ ظٰلِمُوْنَ ‘ کَفَرَتْ کی ضمیر سے حال ہو اور رَسُوْلٌ مِّنْھُمْ سے وہ پیغمبر مراد ہو جو اہل قریہ کی ہدایت…
Read the full tafseer →(113) اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک عربی رسول یعنی محمد ﷺ آئے تو جو احکامات آپ ان کے پاس لے کر آئے تھے، ان کو اس قوم نے جھٹلا دیا تب ان پر بھوک، قتل اور قید کا عذاب اللہ کی طرف سے نازل ہوا، جب کہ وہ کفر پر بالکل ہی کمر بستہ ہوگئے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ۔۔ : یہ ان احسانات میں سے ایک بہت بڑا احسان تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انھی میں سے ایک رسول ان کی طرف بھیجا۔ غالباً اسی لفظ کو بنیاد بنا کر اکثر مفسرین نے اس بستی سے مراد مکہ معظمہ لیا ہے، ورنہ اس کی تعیین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ پہلے رسولوں کی کوئی بستی بھی مراد ہوسکتی ہے اور ان کی طرف آنے والا رسول بھی۔ البتہ اس سے مکہ بالاولیٰ مراد ہے۔ یہاں جس بھوک اور خوف کا لباس چکھانے کا ذکر ہے اس کی تفصیل عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمائی ہے کہ نبی ﷺ نے جب لوگوں (کے ایمان لانے) سے گریز کو دیکھا تو آپ نے عرض کیا : (اَللّٰہُمَّ سَبْعًا کَسَبْعِ یُوْسُفَ)”اے اللہ !…
Read the full tafseer →آیت نمبر 113
قولہ تعالیٰ : ولقد جآءھم رسول منھم فکذبوہ یہ ارشاد اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ بستی مکہ مکرمہ ہے۔ اور یہی قول حضرت
ابن عباس، مجاہد اور قتادہ ؓ کا ہے۔ فاخذھم العذاب عذاب سے مراد وہ قحط ہے جو مکہ مکرمہ میں واقع ہوا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہاں کی سختیاں اور قحط سالی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
1:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ مطمئنۃ “ سے مراد ہے مکہ مکرمہ۔
اہل مکہ نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی :
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا (آیت) ” ولقد جاء ہم رسول منہم فکذبوہ “۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، عبد ابن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قریۃ کانت امنۃ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو نہیں دیکھا (آیت) ” ولقد جآء ھم رسول منہم فکذبوہ فاخذھم العذاب “ فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →[وَ : حالانکہ ] [ لَقَدْ جَاۗءَ : آچکا تھا ] [ هُمْ : ان کے پاس ] [ رَسُوْلٌ: ایک رسول ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [ فَكَذَّبُوْهُ : پھر انھوں نے جھٹلایا اس کو ] [ فَاَخَذَهُمُ : تو پکڑا ان کو ] [ الْعَذَابُ : عذاب نے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ ظٰلِمُوْنَ : ظلم کرنے والے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
ایک ایسی بستی کا تذکرہ جسے اللہ تعالیٰ نے خوب نعمتیں دیں پھر ناشکری کی وجہ سے ان کی نعمتیں چھین لی گئیں
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیت بالا میں کسی خاص بستی کا ذکر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عمومی مثال بیان فرمائی ہے، اور اس سے اہل مکہ کو متنبہ کرنا اور ڈرانا مقصود ہے اور مطلب یہ ہے کہ بہت سی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو امن اور اطمینان سے رہتی تھیں اس کے رہنے والوں کی زندگی خوب اچھے طریقے پر گزرتی تھی ہر جگہ سے ان کے پاس رزق پہنچتا تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی۔ نعمتوں کی ناشکری کی کفر پر جمے رہے۔ ان کے پاس جو رسول آیا اس کو جھٹلا دیا ان کی ان سب حرکتوں کی وجہ سے انہیں عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–119
تہدید بآفات ونیویہ برمعصیت و کفران نعمت
قال اللہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفر اور معصیت پر عذاب اخروی کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ بعض مرتبہ دنیا میں بھی کفر اور معصیت اور کفران نعمت پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط سالی اور عام بیماری اور بسا اوقات کفر اور کفران نعمت دنیا ہی میں زوال نعمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے لوگ سات سال تک شدید قحط میں رہے یہاں تک کہ مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں کھانے لگے اور ضعف اور ناطاقتی سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا بالآخر مجبور ہو کر سرداران قریش نے آنحضرت ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
92:۔ قرآن مجید میں لفظ مِثْل چار معنوں میں آیا ہے۔ کہانی، صفت، شیء عجیب اور عبرت یہاں آخری معنی مراد ہے۔ لغت میں صرف پہلے دو معنوں میں مستعمل ہے۔ ” ضرب “ بمعنی جعل، قریۃ مع صفت جعل کا مفعول اول مؤخر۔ مثلًا مفعول ثانی مقدم یعنی کردیا اللہ نے مکہ کو جائے عبرت جس کے اہل بڑے مالدار اور خوشحال تھے پھر شرک کی وجہ سے ان پر قحط کا عذاب پڑا اور رزق تنگ ہوگیا۔ یہاں سے ” وھم ظلمون “ تک سورت کی ابتداء یعنی ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ سے متعلق ہے ابتدائے سورت میں مشرکینِ مکہ سے فرمایا جلدی نہ کرو پس میرا عذاب آیا ہی سمجھو یہاں فرمایا ہم نے مکہ والوں پر عذاب ڈال دیا۔ قریۃ سے مکہ مکرمہ مراد ہے پہلے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
ربط آیات :
پہلے قرآن حکیم کی صداقت وحقانیت کا بیان ہوا ، فرمایا قرآن پاک کی خود ساختہ یا کسی عجمی شخص کا سکھلایا ہوا کہنے والے جھوٹے ہیں ، نیز یہ کہ جس نے اپنے اختیار اور ارادے سے اپنی زبان سے کفر کی بات نکالی وہ خدا کے غضب اور لعنت کانشانہ بنے گا ، ہاں ! اضطراری حالت میں جب کہ جان جانے یا کسی عضو کے کٹ جانے کا خطرہ ہو ، تو جان بچانے کے لیے کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ دل مطمئن ہو ، اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ، اس لیے وہ کفر کی بات زبان پر لاتے ہیں ایسے لوگوں کو محاسبہ اعمال کی کچھ فکر نہیں ، یہ عنادی لوگ ہیں جن…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظٰلِمُوْنَ 113
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
ضرب اللہ یہاں سے مکہ کے بدمست مشرکوں کو جو کعبہ کے طفیل امن سے تھے اور ہر طرف سے ان کے لیے رزق آتا تھا ایک مثال سے سمجھایا جاتا ہے جو ہر ایک ایسی صفت کی بستی پر صادق آتی ہے جہاں کے لوگ خدا کی نعمت کی ناشکری کریں اور جو رسول سمجھانے آئے تو اسے بھی نہ مانیں اسی بدکاری کی حالت میں عذاب الٰہی آپڑے۔ نعمتوں کے بدلے بھوک اور پیاس اور امن کے بدلے خوف و ہراس ان پر ایسا طاری ہو کہ لباس کی طرح ہر طرف سے گھیر لے۔ پھر بتاؤ ان کا کیا حال ہوگا مکہ کے مشرکوں کی امن اور نعمت پا کر رسول کی تکذیب و مقابلہ کرنے میں وہی حالت تھی اب صرف ان پر عذاب الٰہی آنے کی دیر تھی جو بعد میں آیا۔ بدر میں بڑے بڑے سردار مارے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ جَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْھُمْ فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَھُمُ الْعَذَابُ وَھُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 113)
(اور ان ہی میں سے ایک رسول ( علیہ السلام) ان کے پاس آیا، پس انھوں نے اسے جھٹلایا، تو انھیں عذاب نے پکڑ لیا اور وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔ )
سابقہ مضمون کی تائید
یہ آیت بجائے خود اس بات کی تصدیق کر رہی ہے کہ یہ بستی مکہ مکرمہ تھی اور ان پر عذاب نبی کریم ﷺ کی تکذیب کے نتیجہ میں آیا تھا اور عذاب وہ نہیں تھا جس سے بستیاں تباہ کردی جاتی ہیں بلکہ عذاب آزمائش بن کر آیا تھا اور اس لیے آیا تھا کہ عذاب کے مصائب کی وجہ سے اشرافِ قریش کی گردنیں جھک جائیں۔ عام لوگوں کے دلوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزا یا سزا دی جائے گی۔ بسا اوقات کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی ان کے اعمال کی سزا دی جاتی ہے۔ جس کی ایک مثال پیش کی جارہی ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جس میں ہر طرح کا امن وامان اور اسے ہر جانب سے کشادہ رزق فراہم کیا جارہا تھا۔ لیکن اس بستی والوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے کفر اور ناشکری کا رویہ اختیار کیے رکھا۔ جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا تاکہ ان کے کردار کی انہیں سزا دی جائے۔ یہ سزا اس لیے بھی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک رسول مبعوث…
Read the full tafseer →113: وَلَقَدْ جَآ ئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْھُمْ (تحقیق ان کے پاس انہی میں سے ایک عظیم الشان رسول آئے) اس رسول سے یہاں حضرت محمد ﷺ مراد ہیں۔ فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَ ھُمُ الْعَذَابُ وَھُمْ ظٰلِمُوْنَ (پس انہوں نے اس کو جھٹلایا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا۔ اس حال میں کہ وہ ظالم تھے) اس حالت میں کہ وہ اپنے کو ظلم سے ملوث کرنے والے تھے۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن قتل بالسیف سے جو عذاب دیا گیا وہ مراد ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر :” ولقد جاء ھم الرسول منھم “ اس سے حضرت محمد ﷺ مراد ہیں ۔ ” فکذبوہ فا خذھم العذاب وھم ظالمون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
112۔ 113۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس بستی کی مثال بیان فرمائی جہاں کے رہنے والے لوگ ہر طرح کے راحت و آرام میں اپنی زندگی بسر کرتے تھے کھانے پینے کا انہیں آرام تھا طرح طرح کی روزی اور معاش بےخوف و خطر اور بےمشقت انہیں مل جاتی تھی اپنے ملک میں کسی دشمن کا ڈر نہیں رکھتے تھے مگر انہوں نے بیٹھے بٹھائے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت کو بدل ڈالا نہ تو وہ امن وامان قائم رہا اور نہ وہ کھانے پینے کا آرام رہا بھوکے مرنے لگے اور چاروں طرف سے خوف و خطر نے ان کو آگھیرا بڑی ناشکری ان لوگوں کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جب اپنا پیغمبر ان کی ہدایت کو بھیجا تو انہوں نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
آیت : (112-113)
اس بستی سے مراد مکہ مرکمہ ہے ‘ جو امن کا گہوارہ اور اطمینان کی جگہ تھی ‘ اس بستی میں کسی کو پریشان نہیں کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے جہلا بھی اس کا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ اس بستی میں کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھتا تو اس کا جذبہ انتقام جوش نہیں مارتا تھا ‘ حالانکہ ان میں عربی جمیت وتکبر بہت زیادہ تھا۔ مگر مکہ مکرمہ میں کامل امن تھا جو کسی اور شہر میں نہ تھا۔ اسی طرح اس کو کشادہ رزق سے بھی نوازا گیا تھ۔ مکہ مکرمہ ایسا شہر تھا جہاں کھیتیاں تھیں نہ باغات بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رزق کو آسان کردیا تھا ‘ ہر سمت سے ان کو رزق پہنچتا تھا۔ پس ان کے پاس انہی میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →244۔ بعثت رسول کی نعمت عظمی اور اس کا تقاضا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور بلاشبہ آچکے ان کے پاس ایک عظیم الشان رسول خود انہی میں سے “ ایسے عظیم الشان کہ ان کی عظمتوں جیسی عظمتیں خداوند قدوس کی ساری مخلوق میں اور کسی کو نہ کبھی ملی اور نہ قیامت تک کبھی ملنا ممکن ہیں۔ صلوات اللہ وسلامہ وعلیہ وعلی الہ وصحبہ وجمعین ومن اھتدی بھدیہ ودعا بدعوتہ الی یوم الدین۔ اور مزید کرم یہ کہ وہ رسول خود انہی میں سے ہیں۔ یعنی قریش مکی ہاشمی اور بشروانسان۔ تاکہ ان کو ان کی اپنی زبان میں اور ان کی ضروریات و طبائع کے مطابق پیغام حق سمجھا سکیں اور زندگی کے ہر دائرے میں ان کی صحیح راہنمائی کرسکیں۔ اس حقیقت کی تاکید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
کفار کے کرتوت اور ان کا انجام
تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔
سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
(رکوع نمبر 15)
اسرارومعارف
قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں…
Read the full tafseer →ف 9 غالباً اس آیت کو بنیاد بنا کر اکثر مفسرین نے اس بستی سے مراد مکہ معظمہ لیا ہے ورنہ اس کی تعیین کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اگر یہ صحیحی ہے تو جس عذاب یا بھوک اور خوف کے لباس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد وہ قحط ہے جس میں مکہ والے کئی برس تک مبتلا رہے ہیاں تک کہ وہ جلی ہوی ہڈیاں اور مردار جانور تک کھا گئے اور یہ قحط اس سے لئے واقع ہو کہ آنحضرت نے بد دعا فرمائی تھی کہ ا اے اللہ ان لوگوں پر اپنی سختی نازل فرما اور ان پر قحط اور خشک سالی کی صورت میں ایسا ہی عذاب بھیج جیسا یوسف کے زمانہ میں آیا تھا بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیات میں کسی متعین بستی کا تذکرہ نہیں ہعے۔ محض ایک تباہ شدہ بستی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
(16:113) وہم ظلمون حال ہے فاخذہم العذاب سے۔ یعنی پس ان کو عذاب نے آلیا درآں حالیکہ وہ (اپنے ہی حق میں) ظلم کر رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
لغات القرآن آیت نمبر 111 تا 113
تاتی آئے گا۔ تجادل جھگڑتا ہے۔ توفی پورا دیا جائے گا۔ عملت عمل کیا۔ لایظلمون زیادتی نہ کیا جائے گا۔ ضرب اللہ اللہ نے بیان کیا۔ قریۃ بستی، شہر۔ کانت امنۃ مطمئن تھی۔ رغد سہولت سے، بافراغت۔ انعم اللہ اللہ کی نعمتیں۔ اذاق چکھایا۔ لباس الجوع بھوک کا لباس (بھوک مسلط ہوگئی) آ یصنعون وہ بناتے ہیں۔ کذبوا انہوں نے جھٹلایا۔ اخذ پکڑ لیا۔
تشریح : آیت نمبر 111 تا 113
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت کے ہولناک دن کے متعلق بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا ہے کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ ہر ایک طرح طرح کے عذر و معذرت پیش کر کے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اس دن ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
نافرمان بستی کی حالت : اللہ پاک نے اس آیت میں اس بستی کی مثال بیان فرمائی جہاں کے رہنے والے لوگ ہر طرح کی راحت و آرام میں اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔ کھانے پینے کا انہیں آرام تھا۔ طرح طرح کی روزی اور معاش بےخوف وخطر اور بےمشقت انہیں مل جاتی تھی۔ اپنے ملک میں کسی دشمن کا ڈر نہیں رکھتے تھے، مگر انہوں نے بیٹھے بٹھائے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت کو بدل ڈالا نہ تو وہ امن وامان قائم رہا اور نہ وہ کھانے پینے کا آرام رہا، بھوکے مرنے لگے اور چاروں طرف سے بےخوف وخطر نے ان کو آگھیرا۔ بڑی ناشکری ان لوگوں کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جب اپنا پیغمبر ان کی ہدایت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
[66] اللہ تعالیٰ نے جس بستی کی مثال بیان فرمائی ہے اس کے نام کی صراحت نہیں فرمائی لیکن خود مکہ اس کا
مصداق معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی اہل مکہ امن و اطمینان سے رہتے تھے۔ تمام عرب میں لوٹ مار مچی رہتی تھی مگر خانہ کعبہ کی حرمت کی وجہ سے کوئی اہل مکہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا تھا اور باوجودیکہ سرزمین مکہ ریگستان ہے اور اس میں کھیتی باڑی کی صلاحیت نہیں تاہم اطراف و جوانب کی پیداوار بافراط مکہ کو کھنچی چلی آتی تھی۔ یہ امن و اطمینان اور روزی کا سامان اہل مکہ کے حق میں بڑا احسان الٰہی تھا مگر وہ حقیقی منعم اور محسن یعنی اللہ کو بھول کر بت پرستی کرنے لگے تو اللہ نے ان کی ہدایت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
(ف 1) غرض یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت اور اس کی سپاس گزاری بہترین نعمتوں کی کفیل ہے ، جو خدا کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے وہ تمام تکلیفوں کو دعوت دیتا ہے ۔ وہ بھوکا رہ کر بھی افلاس کو یاد کرتا ہے ۔ اور خوف وحزن کو اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے ۔
” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین ‘ ثم امین ‘۔
Read the full tafseer →113 ۔ اور بلا شبہ ان لوگوں کے پاس ایک رسول بھی ان ہی میں سے آیا پر ان بستی والوں نے اس رسول کو جھوٹا بتایا اور اس کی تکذیب کی اس پر ان کو عذاب نے آپکڑا اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ ظلم کے عادی ہوچکے تھے۔ یعنی رسول بھی ہدایت کو آیا لیکن جب نہ مانے تو بالآخر عذاب نے آلیا اور وہ تھے بھی ظالم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–118
ف 4۔ یعنی خدا کے ساتھ کفران کیا۔
Read the full tafseer →جب ان کے پاس اللہ کا رسول آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا :
127۔ اس آیت نے گزشہ مضمون کی مزید تشریح کردی اور بات واضح ہوگئی کہ پچھلی آیت میں جس بستی کا ذکر کیا گیا وہ ” مکہ مکرمہ “ ہی تھی اور زیر نظر آیت میں (رسول) سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں اور آپ ﷺ کے حسب ونسب کا تعلق بھی مکہ والوں ہی کے ساتھ تھا اور مکہ والوں ہی نے سب سے پہل آپ ﷺ کی تکذیب کی اور مسلسل تیرہ سال تک کرتے رہے اور انجام کار آپ ﷺ کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑی لیکن آپ ﷺ کو ہجرت کئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مکہ والوں کو قحط سالی میں مبتلا کردیا گیا اور علاوہ ازیں ان کو ہر سال میدان جنگ میں ایک سے زیادہ بار آزمایا جانے لگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
Commentary
According to leading Tafsir authorities, the similitude mentioned in verse 112 is general and universal. It does not relate to a particular habitation. However, there are others who connect it to what had happened in Makkah al-Mukarramah where people suffered from an acute famine for seven years so much so that they were compelled to eat animal carcass, dead dogs and filth. They were virtually gripped with the awe of Muslims. Then, the chiefs of Makkah came to the Holy Prophet ﷺ with the plea that those who had committed disbelief and disobedience against his call were all grown-up…
Read the full tafseer →112. That habitation has not been specified here nor have the commentators definitely pointed out which that habitation was. However, there is a saying of Ibn Abbas (which seems to be correct) that the place referred to is Makkah itself. In that case, hunger and fear will mean the famine which prevailed over the people of Makkah for several years during the Prophethood of Muhammad (peace be upon him).
Read the full tafseer →