Explained with ayahs 112–113
اللہ کی عظیم نعمت بعثت نبوی ہے
اس سے مراد اہل مکہ میں یہ امن و اطمینان میں تھے۔ آس پاس لڑائیاں ہوتیں، یہاں کوئی آنکھ بھر کر بھی نہ دیکھتا جو یہاں آجاتا، امن میں سمجھا جاتا۔ جیسے قرآن نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم ہدایت کی پیروی کریں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے انہیں امن وامان کا حرم نہیں دے رکھا ؟ جہاں ہماری روزیاں قسم قسم کے پھولوں کی شکل میں ان کے پاس چاروں طرف سے کھینچی چلی آتی ہیں۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ عمدہ اور گزارے لائق روزی اس شہر کے لوگوں کے پاس ہر طرف سے آرہی تھی لیکن پھر بھی یہ اللہ کی نعمتوں کے منکر رہے جن میں سب سے اعلیٰ نعمت آنحضرت ﷺ کی بعثت تھی جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
سورة النَّحْل 111
اشارہ ہے مہاجرین حبشہ کی طرف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
آخری آیت میں بھوک اور خوف کا مزہ چکھانے کے لئے لفظ لباس استعمال فرمایا کہ لباس بھوک اور خوف کا ان کو چکھایا گیا حالانکہ لباس چھکنے کی چیز نہیں مگر یہاں لباس کا لفظ محیط اور ہمہ گیر ہونے کے لئے تشبیہا استعمال ہوا ہے کہ یہ بھوک اور خوف ان سب کے سب پر ایسا چھا گیا کہ جس طرح لباس بدن کے ساتھ لازم ملزوم ہوجاتا ہے یہ بھوک اور خوف بھی ان پر اسی طرح مسلط کر دئیے گئے۔
یہ مثال جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے بعض ائمہ تفسیر کے نزدیک تو عام مثال ہے کسی خاص بستی سے اس کا تعلق نہیں اور اکثر حضرات نے اس کو مکہ مکرمہ کا واقعہ قرار دیا کہ وہ سات سال تک شدید قحط میں مبتلا رہے کہ مردار جانور اور کتے اور غلاظتیں…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 112 تا 124۔ قریش کے لیے ایک بستی کی مثال : آگے قریش کی تنبیہ کے لیے ایک بستی کو بطور مثال پیش کیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو ان کا بھی وہی انجام ہوسکتا ہے جو اس بستی والوں کا ہوا۔ نیز ان کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ اپنے جی سے حرام و حلال نہ ٹھہراؤ اللہ نے جن چیزوں کو حلال ٹھہرایا ہے ان کو کھاؤ بترو، اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت ان کو حرام نہ ٹھہراؤ۔ اسی ذیل میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ یہود پر بھی وہی چیزیں حرام کی گئی تھیں جو اس ملت میں حرام ہیں لیکن انہوں نے اپنی سرکشی کے سبب سے بعض چیزیں از خود اپنے اوپر حرام کرلیں اور ان کی حرمت کو وہ اب ملت…
Read the full tafseer →122۔ 1 اکثر مفسرین نے اس قریہ (بستی) سے مراد مکہ لیا ہے۔ یعنی اس میں مکہ اور اہل مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ اس وقت ہوا جب اللہ کے رسول نے ان کے لئے بد دعا فرمائی ' اے اللہ مضر (قبیلے) پر اپنی سخت گرفت فرما اور ان پر اس طرح قحط سالی مسلط کر دے، جس طرح حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں ہوئی ' چناچہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے امن کو خوف سے اور خوشحالی کو بھوک سے بدل دیا۔ حتیٰ کہ ان کا یہ حال ہوگیا کہ ہڈیاں اور درختوں کے پتے کھا کر انھیں گزارہ کرنا پڑا۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ غیر معین بستی ہے اور تمثیل کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے۔ کہ کفران نعمت کرنے والے لوگوں کا یہ حال ہوگا، وہ جہاں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
48: یہ اللہ تعالیٰ نے ایک عام مثال دی ہے کہ جو بستیاں خوشحال تھیں، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی پر کمر باندھ لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ کی بستی ہے جس میں سب لوگ خوشحالی اور امن کے ساتھ رہ رہے تھے، لیکن جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو جھٹلایا تو ان پر سخت قسم کا قحط مسلط کردیا گیا جس کے نتیجے میں لوگ چمڑا تک کھانے پر مجبور ہوئے۔ بعد میں انہوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قحط دور ہونے کی دعا فرمائیں۔ چنانچہ وہ آپ کی دعا سے دور ہوا۔ اس واقعے کا ذکر سورة دخان میں بھی آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
یہ مثال مکہ پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ اللہ نے اس بستی میں بیت اللہ بنایا۔ پھر اس کو حرکت دیتے ہوئے بلد حرام قرار دیا۔ جو شخص اس میں داخل ہوجائے وہ آمن اور مامون ہوگا۔ کسی کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھائے اگرچہ وہ قاتل ہو۔ جب تک وہ بیت اللہ میں ہے کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ جزیرۃ العرب کی حالت یہ ہوتی تھی کہ مکہ کے ارد گرد کے تمام علاقوں میں امن وامان نہ تھا اور لوگوں کو اچک لیا جاتا تھا۔ لیکن اہل مکہ ہر وقت امن وامان میں رہتے تھے اور نہایت ہی اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ نیز ان کا سامان زیست بھی ہر طرف سے چلا آرہا تھا ، حاجیوں کے ساتھ اور پر امن…
Read the full tafseer →6 یعنی نہ باہر سے دشمن کا کھٹکا نہ اندر سے کسی طرح کی فکر و تشویش۔ خوب امن چین سے زندگی گزرتی تھی۔
7 یعنی کھانے کے لیے غلے اور پھل وغیرہ کھنچے چلے آتے تھے ہر چیز کی افراط تھی، گھر بیٹھے دنیا کی نعمتیں ملتی تھیں۔
8 اس بستی کے رہنے والوں نے خدا کے انعامات کی قدر نہ پہچانی، دنیا کے مزوں میں پڑ کر ایسے غافل اور بدمست ہوئے کہ منعم حقیقی کا دھیان بھی نہ آیا۔ بلکہ اس کے مقابلہ میں بغاوت کی ٹھان لی۔ آخر خدا تعالیٰ نے ان کی ناشکری اور کفران نعمت کا مزہ چکھایا۔ یعنی امن چین کی جگہ خوف و ہراس نے اور فراخ روزی کی جگہ بھوک اور قحط کی مصیبت نے ان کو اس طرح گھیر لیا جیسے کپڑا پہننے والے کے بدن کو گھیر لیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ
اس تمثیل کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ ایک عام تمثیل ہے اور کسی خاص بستی سے متعلق نہیں۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ قوم سبا کی مثال ہے جس کے بارے میں تفصیل آگے چل کر سورة سبا میں آئے گی۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ اس مثال کے آئینے میں مکہ اور اہل مکہ کا ذکر ہے کہ یہ شہر ہمیشہ سے امن و سکون کا گہوارہ چلا آ رہا تھا اور یہاں اہل مکہ کی تجارتی سرگرمیوں اور حج وعمرہ کے اجتماعات کے باعث خوشحالی اور فارغ البالی بھی تھی۔ دنیا بھر سے انواع وا قسام کا رزق فراوانی سے ان کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
116 مکہ میں بھوک کا عذاب :۔ اس آیت میں اگرچہ اس بستی کا نام نہیں لیا گیا تاہم انداز بیان سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ روئے سخن مکہ ہی کی طرف ہے۔ مکہ کے لوگ اس وقت بھی امن و چین کی زندگی گزار رہے تھے جبکہ عرب بھر میں ہر طرف لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتا تھا۔ بیت اللہ شریف کی تولیت کی وجہ سے لوگ قریش مکہ کا ادب و احترام کرتے تھے۔ ان کے تجارتی قافلے پر کسی کو حملہ آور ہونے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ بلکہ جس تجارتی قافلے کو یہ قریش مکہ پروانہ راہداری دے دیتے۔ وہ بھی امن و عافیت کے ساتھ سفر کرسکتے تھے۔ پھر سیدنا ابراہیم کی دعا کی وجہ سے اطراف عالم سے اشیاء خوردنی اور پھل وغیرہ بھی مکہ پہنچ جاتے…
Read the full tafseer →174۔ مثال سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ کفر و انکار کے نتائج اس دنیا میں بھی کیسے سخت اور ہولناک ہوسکتے ہیں۔ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا “۔ مثال سے مقصود نتائج کفر پر متنبہ کرنا ہے۔ (آیت) ” امنۃ۔۔ بانعم اللہ “۔ آیت سے ظاہر ہوگیا کہ دنیا میں امن و فراغت سے رہنا سہنا اور کافی سامان معیشت بہم پہنچتے رہنا حق تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ہے، تحقیر کے نہیں شکریہ کے قابل۔ (آیت) ” فاذاقھا۔۔ یصنعون “۔ آیت سے ظاہر ہورہا ہے کہ دنیوی نعمتوں کی ناشکری بھی عذاب کا مستحق بنادیتی ہے۔ (آیت) ” فکفرت بانعم اللہ “۔ یہ ناشکری انہوں نے عقاید کفر وشرک کو اختیار کر کرکے کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
آیت نمبر 111 تا 119
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی…
Read the full tafseer →وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ مطمئنۃ یاتیھا رزقھا رغدا من کل مکان فکفرت بانعم اللہ اور اللہ ایک بستی والوں کی حالت عجیب بیان فرماتا ہے کہ وہ بڑے امن اور اطمینان سے رہتے تھے ‘ ان کے کھانے کی چیزیں بڑی فراغت سے ہر طرف سے ان کے پاس پہنچا کرتی تھیں ‘ پس انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کی۔ یعنی اللہ نے ایک بستی کو جس کے اوصاف مندرجۂ آیات تھے۔ ہر اس قوم کی مثال کے طور پر بیان فرمایا جس کو اللہ نے اپنی نعمتوں سے نوازا ‘ پھر بجائے شکر کرنے کے وہ مغرور ہوگئے اور کفر کرنے لگے۔ آخر اللہ نے ان کو عذاب میں گرفتار کردیا۔ قَرْیَۃ سے مراد ایک مفروضہ بستی ہے جس کو بطور مثال ذکر کیا ہے اور ممکن ہے کوئی ایسی…
Read the full tafseer →(112) اللہ تعالیٰ مکہ والوں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی ایک کیفیت بیان فرماتا ہے کہ وہ دشمن قتل، بھوک اور قید وغیرہ تمام چیزوں سے بڑے امن اور اطمینان کے ساتھ رہتے تھے اور ان کے کھانے لیے پھل ان کے پاس ہر طرف سے بڑی فراغت اور وسعت کے ساتھ پہنچا کرتے تھے، چناچہ وہاں کے رہنے والوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ کفر کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو سات سالہ قحط اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے لڑائی کا مزہ چکھایا ان کی نا غلط حرکات کی وجہ سے جو کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے آخرت کے عذاب کا ذکر فرمایا، اس کے بعد دنیا میں بھی کفران نعمت کی سزا خوف اور بھوک کا ذکر کیا، اس لیے آیت کی ابتدا میں واؤ عطف آئی ہے۔ (قاسمی)
كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً۔۔ : یعنی اس بستی کو نہ باہر سے دشمن کا کھٹکا تھا، نہ اندر سے کسی طرح کی فکر و تشویش۔ اس سے مراد کوئی بھی ایسی بستی ہوسکتی ہے، جیسے عاد وثمود اور فرعون کی قوم کی بستیاں، مگر مکہ معظمہ میں یہ اوصاف سب سے زیادہ موجود تھے۔ پورے عرب میں کسی کو امن میسر نہ تھا، کسی بھی وقت کسی بھی قبیلے پر حملہ ہوسکتا تھا۔ مرد قتل، عورتیں اور بچے لونڈی و غلام اور مال مویشی غنیمت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 112
قولہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ یہ مشرکین کے ذکر کے ساتھ متصل ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے مشرکین قریش کے خلاف دعا کی اور عرض کی : ” مضر پر اپنی گرفت اور پکڑ سخت کر دے۔ اور ان پر قحط مسلط کر دے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قحط کی طرح “۔ پس وہ قحط میں مبتلا کر دئیے گئے یہاں تک کہ وہ ہڈیاں کھانے لگے، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف اناج بھیجا اور وہ ان میں تقسیم کیا گیا۔ کا نت امنۃ اس کے رہنے والوں کو کوئی اضطراب اور پریشانی نہ تھی۔ یاتیھا رزقھا رغدا من کل مکان یعنی بحر و بر کے راستے سے اس کا رزق اس کے پاس آتا تھا ؛ اس کی نظیر یہ آیت ہے : یجی الیہ ثمرات کل شیء الآیہ (القصص : 57) (کھچے چلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
1:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ مطمئنۃ “ سے مراد ہے مکہ مکرمہ۔
اہل مکہ نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی :
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا (آیت) ” ولقد جاء ہم رسول منہم فکذبوہ “۔
3:۔ ابن ابی شیبہ، عبد ابن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قریۃ کانت امنۃ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو نہیں دیکھا (آیت) ” ولقد جآء ھم رسول منہم فکذبوہ فاخذھم العذاب “ فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →وَضَرَبَ : اور بیان کی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ مَثَلًا : ایک مثال ] [ قَرْيَةً : ایک بستی کی ] [ كَانتْ : وہ تھی ] [ اٰمِنَةً : امن میں ] [ مُّطْمَىِٕنَّةً : مطمئن ] [ يَاْتِيْهَا : پہنچتا تھا اس کو ] [ رِزْقُهَا : اس کا رزق ] [ رَغَدًا : بافراغت ] [ مِّنْ كُلِ مَكَان : ہر ایک جگہ سے ] [ فَكَفَرَتْ : اس نے پھر ناشکری کی ] [ بِانعُمِ اللّٰهِ : اللہ کی نعمتوں کی ] [ فَاَذَاقَهَا : تو چکھایا اس کو ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ لباس الْجوعِ وَالْخَوْفِ : خوف اور بھوک کے لباس کا مزہ ] [ بِمَا؛بسبب اس کے جو ] [ كَانوْا يَصْنَعُوْنَ : وہ لوگ کاریگری کرتے تھے ]
(آیت۔ 112) ۔ ضَرَبَ کا مفعول ہونے کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
ایک ایسی بستی کا تذکرہ جسے اللہ تعالیٰ نے خوب نعمتیں دیں پھر ناشکری کی وجہ سے ان کی نعمتیں چھین لی گئیں
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیت بالا میں کسی خاص بستی کا ذکر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عمومی مثال بیان فرمائی ہے، اور اس سے اہل مکہ کو متنبہ کرنا اور ڈرانا مقصود ہے اور مطلب یہ ہے کہ بہت سی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو امن اور اطمینان سے رہتی تھیں اس کے رہنے والوں کی زندگی خوب اچھے طریقے پر گزرتی تھی ہر جگہ سے ان کے پاس رزق پہنچتا تھا۔ لیکن انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی۔ نعمتوں کی ناشکری کی کفر پر جمے رہے۔ ان کے پاس جو رسول آیا اس کو جھٹلا دیا ان کی ان سب حرکتوں کی وجہ سے انہیں عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–119
تہدید بآفات ونیویہ برمعصیت و کفران نعمت
قال اللہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفر اور معصیت پر عذاب اخروی کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ بعض مرتبہ دنیا میں بھی کفر اور معصیت اور کفران نعمت پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط سالی اور عام بیماری اور بسا اوقات کفر اور کفران نعمت دنیا ہی میں زوال نعمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے لوگ سات سال تک شدید قحط میں رہے یہاں تک کہ مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں کھانے لگے اور ضعف اور ناطاقتی سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا بالآخر مجبور ہو کر سرداران قریش نے آنحضرت ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
92:۔ قرآن مجید میں لفظ مِثْل چار معنوں میں آیا ہے۔ کہانی، صفت، شیء عجیب اور عبرت یہاں آخری معنی مراد ہے۔ لغت میں صرف پہلے دو معنوں میں مستعمل ہے۔ ” ضرب “ بمعنی جعل، قریۃ مع صفت جعل کا مفعول اول مؤخر۔ مثلًا مفعول ثانی مقدم یعنی کردیا اللہ نے مکہ کو جائے عبرت جس کے اہل بڑے مالدار اور خوشحال تھے پھر شرک کی وجہ سے ان پر قحط کا عذاب پڑا اور رزق تنگ ہوگیا۔ یہاں سے ” وھم ظلمون “ تک سورت کی ابتداء یعنی ” اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ “ سے متعلق ہے ابتدائے سورت میں مشرکینِ مکہ سے فرمایا جلدی نہ کرو پس میرا عذاب آیا ہی سمجھو یہاں فرمایا ہم نے مکہ والوں پر عذاب ڈال دیا۔ قریۃ سے مکہ مکرمہ مراد ہے پہلے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
ربط آیات :
پہلے قرآن حکیم کی صداقت وحقانیت کا بیان ہوا ، فرمایا قرآن پاک کی خود ساختہ یا کسی عجمی شخص کا سکھلایا ہوا کہنے والے جھوٹے ہیں ، نیز یہ کہ جس نے اپنے اختیار اور ارادے سے اپنی زبان سے کفر کی بات نکالی وہ خدا کے غضب اور لعنت کانشانہ بنے گا ، ہاں ! اضطراری حالت میں جب کہ جان جانے یا کسی عضو کے کٹ جانے کا خطرہ ہو ، تو جان بچانے کے لیے کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ دل مطمئن ہو ، اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ، اس لیے وہ کفر کی بات زبان پر لاتے ہیں ایسے لوگوں کو محاسبہ اعمال کی کچھ فکر نہیں ، یہ عنادی لوگ ہیں جن…
Read the full tafseer →وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 112
ضَرْبُ المَثلِ
هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ
[ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ،
ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
ضرب اللہ یہاں سے مکہ کے بدمست مشرکوں کو جو کعبہ کے طفیل امن سے تھے اور ہر طرف سے ان کے لیے رزق آتا تھا ایک مثال سے سمجھایا جاتا ہے جو ہر ایک ایسی صفت کی بستی پر صادق آتی ہے جہاں کے لوگ خدا کی نعمت کی ناشکری کریں اور جو رسول سمجھانے آئے تو اسے بھی نہ مانیں اسی بدکاری کی حالت میں عذاب الٰہی آپڑے۔ نعمتوں کے بدلے بھوک اور پیاس اور امن کے بدلے خوف و ہراس ان پر ایسا طاری ہو کہ لباس کی طرح ہر طرف سے گھیر لے۔ پھر بتاؤ ان کا کیا حال ہوگا مکہ کے مشرکوں کی امن اور نعمت پا کر رسول کی تکذیب و مقابلہ کرنے میں وہی حالت تھی اب صرف ان پر عذاب الٰہی آنے کی دیر تھی جو بعد میں آیا۔ بدر میں بڑے بڑے سردار مارے…
Read the full tafseer →وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَّاْ تِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَھَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ۔
(سورۃ النحل : 112)
(اور اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کی مثال بیان کی ہے جو امن والی تھی اور اطمینان کی حالت میں تھی، اس بستی میں اس کا رزق فراغت کے ساتھ ہر طرف سے آتا تھا، لیکن انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو بھوک کا مزا چکھایا اور خوف کا لباس پہنا دیا۔ )
قریہ سے مراد ؟ اس میں تین آرا
قریشِ مکہ کو سمجھانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزا یا سزا دی جائے گی۔ بسا اوقات کچھ لوگوں کو دنیا میں بھی ان کے اعمال کی سزا دی جاتی ہے۔ جس کی ایک مثال پیش کی جارہی ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جس میں ہر طرح کا امن وامان اور اسے ہر جانب سے کشادہ رزق فراہم کیا جارہا تھا۔ لیکن اس بستی والوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بجائے کفر اور ناشکری کا رویہ اختیار کیے رکھا۔ جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا تاکہ ان کے کردار کی انہیں سزا دی جائے۔ یہ سزا اس لیے بھی دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک رسول مبعوث…
Read the full tafseer →نعمتیں اور اہل مکہ کی ناشکری :
112: وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً قَرْیَۃً (اللہ تعالیٰ نے ایک بستی کی مثال بیان کی) اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو ان تمام لوگوں کیلئے مثال بنادیا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہو۔ اور نعمتوں نے ان کو مغرور کردیا جس سے وہ کفر میں مبتلا ہوگئے۔ اور اللہ تعالیٰ سے منہ پھیرلیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل کردیا۔ نمبر 2۔ یہ بھی درست ہے کہ اس صفت و حالت والی کوئی بستی و شہر مراد لیاجائے۔ نمبر 3۔ پہلے زمانہ کی کوئی بستی ہو جس کا یہ حال ہو۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کیلئے بطور مثال بیان کردیا ہو تاکہ یہ اس سے عبرت حاصل کریں۔ کَانَتْ اٰمِنَۃً (وہ…
Read the full tafseer →” وضرب اللہ مثلاً قریۃ کانت آمنۃ “ قریۃ سے مراد مکہ ہی ہے نہ اس میں رہنے والے کسی چیز کے محتاج ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کو ڈاکوئوں وغیرہکا خطرہ ہوتا ہے ۔ ” مطمئنۃ “ اپنی جگہ برقرار رہنے والے ، دوسری جگہ منتقل ہونے کے محتاج نہیں ، جیسے دوسری بستیوں کو ڈاکوئوں وغیرہ کا خطرہ ہوتا ہے تو وہ اپنی جگہ بدل دیتے ہیں ایسے یہاں بھی ہے ۔ ” یا تیھا رزقھا رغدا من کل مکان “ اس کی طرف بھیجا جاتا ہے خشکی کے راستے سے بھی اور سمندر کے ذریعہ سے بھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان
” تجئی الیہ ثمرات کل شئی “…” فکفرت بانعم اللہ “ جمع ہے نعمۃ کی اور بعض نے کہا کہ نعماء کی جمع ہے ۔ جیسے ” با ساء وابوس “ …” فا ذاقھا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
112۔ 113۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس بستی کی مثال بیان فرمائی جہاں کے رہنے والے لوگ ہر طرح کے راحت و آرام میں اپنی زندگی بسر کرتے تھے کھانے پینے کا انہیں آرام تھا طرح طرح کی روزی اور معاش بےخوف و خطر اور بےمشقت انہیں مل جاتی تھی اپنے ملک میں کسی دشمن کا ڈر نہیں رکھتے تھے مگر انہوں نے بیٹھے بٹھائے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت کو بدل ڈالا نہ تو وہ امن وامان قائم رہا اور نہ وہ کھانے پینے کا آرام رہا بھوکے مرنے لگے اور چاروں طرف سے خوف و خطر نے ان کو آگھیرا بڑی ناشکری ان لوگوں کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جب اپنا پیغمبر ان کی ہدایت کو بھیجا تو انہوں نے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
آیت : (112-113)
اس بستی سے مراد مکہ مرکمہ ہے ‘ جو امن کا گہوارہ اور اطمینان کی جگہ تھی ‘ اس بستی میں کسی کو پریشان نہیں کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے جہلا بھی اس کا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ اس بستی میں کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھتا تو اس کا جذبہ انتقام جوش نہیں مارتا تھا ‘ حالانکہ ان میں عربی جمیت وتکبر بہت زیادہ تھا۔ مگر مکہ مکرمہ میں کامل امن تھا جو کسی اور شہر میں نہ تھا۔ اسی طرح اس کو کشادہ رزق سے بھی نوازا گیا تھ۔ مکہ مکرمہ ایسا شہر تھا جہاں کھیتیاں تھیں نہ باغات بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رزق کو آسان کردیا تھا ‘ ہر سمت سے ان کو رزق پہنچتا تھا۔ پس ان کے پاس انہی میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
237۔ روز قیامت کی ہولناکی کی تذکیر و یاددہانی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” جس دن کہ ہر شخص اپنے ہی لیے جھگڑتا ہوا آئے گا “ کہ اس روز ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آسکے گا کہ وہ بڑا ہی ہولناک دن ہوگا۔ ایسا ہولناک کہ کسی کو دوسروں کا، یہاں تک کہ اپنے کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار کا بھی کوئی ہوش نہیں رہے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (لکل امریء منہم یؤمئذ شان یغنیہ) (عبس : 37) اور یہ ہوشربا پریشانی ایسی اور اس حد تک ہوگی کہ انسان اپنے بہن بھائیوں اپنے ماں باپ اور اپنے بیوی بچوں تک سے دور بھاگے گا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں صاف اور صریح طور پر فرما دیا گیا (یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
کفار کے کرتوت اور ان کا انجام
تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔
سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
(رکوع نمبر 15)
اسرارومعارف
قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں…
Read the full tafseer →ف 6 نہ باہر سے دشمن کا کھٹکا تھا اور نہ اندر سے کس طرح کی فکر و تشویش
7 روزی کمانے کے لئے کوئی مشقت برداشت کرنا نہ پڑتی تھی گویا ہر طرف سے غلے اور پھل خودبخود چلے آتے تھے کھانے پینے کو کسی چیز کی کمی نہ تھی۔
8 یعنی امن و اطمینان کی جگہ خوف و ہراس اور فراخی رزق کو جگہ بھوک اور قحط نے انہیں اس طرح گھیر لیا جیسے کپڑا اپنے پہننے والے کے بات کو گھیر لیتا ہے۔
Read the full tafseer →(16:112) مثلا۔ تشبیہی قصّہ۔ تمثیل۔ نصب بوجہ ضرب کے مفعول ہونے کے ہے۔
قریۃ۔ اصل میں ضرب اللہ مثلا مثل قریۃ تھا۔ مثل قریۃ مضاف مضاف الیہ ہے۔ مضاف کو حذف کیا گیا اور مضاف الیہ کو قائم رکھا گیا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مثلا کا بدل ہے۔ مبدل منہ کی رعائت سے قریۃ منصوب ہوا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ضرب بمعنی جعل ہے اور قریۃ اس کا مفعول اول ہے اور مثلاً مفعول ثانی ہے۔ قریۃ کو بعد میں اس لئے لایا گیا ہے کہ اس کے اور اس کی صفات مذکورہ (کانت امنۃ۔۔ ) کے درمیان فصل واقع نہ ہو۔
امنۃ۔ پرامن۔ دل جمعی والی۔ چین والی۔ اور مطمئنۃ اسم فاعل واحد مؤنث ۔ مگن۔ چین والی۔ ہر دو بوجہ کان کی خبر ہونے کے منصوب ہیں۔ یاتیھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
لغات القرآن آیت نمبر 111 تا 113
تاتی آئے گا۔ تجادل جھگڑتا ہے۔ توفی پورا دیا جائے گا۔ عملت عمل کیا۔ لایظلمون زیادتی نہ کیا جائے گا۔ ضرب اللہ اللہ نے بیان کیا۔ قریۃ بستی، شہر۔ کانت امنۃ مطمئن تھی۔ رغد سہولت سے، بافراغت۔ انعم اللہ اللہ کی نعمتیں۔ اذاق چکھایا۔ لباس الجوع بھوک کا لباس (بھوک مسلط ہوگئی) آ یصنعون وہ بناتے ہیں۔ کذبوا انہوں نے جھٹلایا۔ اخذ پکڑ لیا۔
تشریح : آیت نمبر 111 تا 113
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت کے ہولناک دن کے متعلق بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا ہے کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ ہر ایک طرح طرح کے عذر و معذرت پیش کر کے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اس دن ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
نافرمان بستی کی حالت : اللہ پاک نے اس آیت میں اس بستی کی مثال بیان فرمائی جہاں کے رہنے والے لوگ ہر طرح کی راحت و آرام میں اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔ کھانے پینے کا انہیں آرام تھا۔ طرح طرح کی روزی اور معاش بےخوف وخطر اور بےمشقت انہیں مل جاتی تھی۔ اپنے ملک میں کسی دشمن کا ڈر نہیں رکھتے تھے، مگر انہوں نے بیٹھے بٹھائے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت کو بدل ڈالا نہ تو وہ امن وامان قائم رہا اور نہ وہ کھانے پینے کا آرام رہا، بھوکے مرنے لگے اور چاروں طرف سے بےخوف وخطر نے ان کو آگھیرا۔ بڑی ناشکری ان لوگوں کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جب اپنا پیغمبر ان کی ہدایت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–112
[65] یہاں کسی خاص شخص کا نام مذکور نہیں صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے، مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے قرآن کو اس کے نام سے بحث نہیں صرف اعتراض سے بحث ہے اور اسی کا جواب اس نے دیا ہے مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ سے قرآن کے معانی اور حقائق تک تو پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور قرآن کے کلام میں زمین و آسمان کا فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
اسلام جرات آموز ہے !
(ف 1) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہ میں مصیبتوں کو برداشت کیا ، جنہوں نے گھر اور وطن کی آسائشوں کو چھوڑا جنہوں نے مسافرت اور ہجرت اختیار کی جنہوں نے نفس اور باطل قوتوں کے خلاف جہاد کیا ، ان کے لئے اللہ کی بخششیں اور عنائتیں ہیں وہی اس کی مغفرت اور رحمت کے مستحق ہیں ۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بحالات مجبوری شر سے محفوظ رہنے کے لئے کفر کا اظہار جائز ہے ، بہتر نہیں ، یعنی اللہ ایسے اہل کفر پر مواخذہ نہیں کرے گا ، مگر اس کے یہ معنی نہیں ، کہ یہ فضیلت کی چیز ہے ، اس جواز کو جو مخصوص حالات میں قابل استفادہ ہے عام کردینا ، اور اسے فضیلت دینا دین فطرت کی توہین کرنا…
Read the full tafseer →112 ۔ نا سپاسی اور کفر کے انجام کی آگے مثال بیان فرمائی، چناچہ ارشاد ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایک بستی کی حالت عجیب بیان کرتا ہے اور وہاں کے رہنے والوں کی مثال بیان فرماتا ہے کہ اس بستی کے لو گ بڑے امن اور اطمینان کے ساتھ رہتے تھے ان کو ہر طرف سے با فراغت روزی پہنچتی تھی اور انکے پاس ہرچہار طرف سے روزی پہنچا کرتی تھی پھر اس بستی نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بےقدری اور نا سپاسی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس نا شکری کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے ان کو بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا ۔ یہ بستی کی صف فرمائی ۔ لیکن مراد اس سے بستی کے رہنے والے ہیں جیسا کہ ہم نے ترجمہ اور تیسیر میں اشارہ کیا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–118
ف 4۔ یعنی خدا کے ساتھ کفران کیا۔
Read the full tafseer →اس بستی کی مثال جس کو اللہ نے بافراغت رزق اور امن وامان دیا تھا :
126۔ اس بستی سے کون سی بستی مراد ہے ؟ قرآن کریم نے اگرچہ اس کو واضح نہیں کیا لیکن تاہم دوسری جگہ ایسے اشارات پائے جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بستی مکہ ہی کی بستی ہوگی ۔ بلاشبہ یہ بستی اس وقت کی بستیوں میں سب سے زیادہ محفوظ اور مطمئن تھی اور یہاں کے باشندے بھی دوسری قوموں میں اچھی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اگرچہ وہ آپس میں جو کچھ بھی تھے کیونکہ کعبہ مقدسہ کی وجہ سے مکہ کو جو عزت وشرف حاصل تھا وہ محتاج بیان نہیں ۔ اس جگہ ہر طرح کا امن وامان تھا کوئی حملہ آور اس پر کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا ، اس کے باشندے جہاں جاتے لوگ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
Commentary
According to leading Tafsir authorities, the similitude mentioned in verse 112 is general and universal. It does not relate to a particular habitation. However, there are others who connect it to what had happened in Makkah al-Mukarramah where people suffered from an acute famine for seven years so much so that they were compelled to eat animal carcass, dead dogs and filth. They were virtually gripped with the awe of Muslims. Then, the chiefs of Makkah came to the Holy Prophet ﷺ with the plea that those who had committed disbelief and disobedience against his call were all grown-up…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
111. They were those believers who migrated to Habashah.
Read the full tafseer →