Explained with ayahs 110–111
صبر و استقامت
یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لئے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہوگا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
سورة النَّحْل 111
اشارہ ہے مہاجرین حبشہ کی طرف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
خلاصہ تفسیر
پچھلی آیت میں کفر پر وعید کا ذکر تھا خواہ کفر اصلی ہو یا ارتداد کا کفر اس کے بعد کی مذکورہ تین آیتوں میں سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ایمان ایسی دولت ہے کہ جو کافر یا مرتد سچا ایمان لے آئے اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
دوسری آیت میں قیامت کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ جزا و سزا سب قیامت کے دن ہی ہونے والی ہے۔
تیسری آیت میں یہ بتلایا گیا کہ کفر و معاصی کی اصلی سزا تو قیامت کے بعد ہی ملے گی مگر بعض گناہوں کی سزا دنیا میں بھی کچھ مل جاتی ہے، تینوں آیتوں کی مختصر تفسیر یہ ہے، پھر (اگر کفر کے بعد یہ لوگ ایمان لے آویں تو) بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے کہ جنہوں نے مبتلاء…
Read the full tafseer →آخرت کی یاد دہانی : يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَتُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۔ یہ اس دن کی یقین دہانی ہے جس دن اللہ تعالیٰ کے حضور سب لوگوں کی پیشی ہوگی اور وہ کامل انصاف کے ساتھ سب کے معاملات کا فیصلہ فرمائے گا فرمایا کہ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا، اس دن ہر جان پر نفسی نفسی کی حالت طاری ہوگی، نہ کوئی کسی کی وکالت کرسکے گا اور نہ کوئی کسی کا سفارشی بن کر کھڑا ہوگا، جس نے جو کچھ کیا ہوگا اس کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آجائے گا، ہر ایک کے ساتھ کامل عدل کا معاملہ ہوگا کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی جائے گی۔
Read the full tafseer →111۔ 1 یعنی کوئی اور کسی حمایت میں آگے نہیں آئے گا نہ باپ، نہ بھائی، نہ بیٹا نہ بیوی نہ کوئی اور۔ بلکہ ایک دوسرے سے بھاگیں گے۔ بھائی بھائی سے، بیٹے ماں باپ سے، خاوند بیوی سے بھاگے گا۔ ہر شخص کو صرف اپنی فکر ہوگی جو اسے دوسرے سے بےپروا کر دے گی۔ " لکل امرء منھم یومئذ شأن یغنیہ " ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسا مشغلہ ہوگا جو اسے مشغول رکھنے کیلیے کافی ہوگا۔
111۔ 2 یعنی نیکی کے ثواب میں کمی کردی جائے اور برائی کے بدلے میں زیادتی کردی جائے۔ ایسا نہیں ہوگا کسی پر ادنیٰ سا ظلم بھی نہیں ہوگا۔ برائی کا اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا کسی برائی کا ہوگا۔ البتہ نیکی کی جزا اللہ تعالیٰ خوب بڑھا چڑھا کر دے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
47: اس آیت میں فتنے میں مبتلا ہونے سے ان صحابہ کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے جو مکہ مکرمہ میں کافروں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ پہلے چونکہ کافروں کے برے انجام کا ذکر تھا تو اس آیت میں نیک مسلمانوں کا اجر بھی بیان فرما دیا گیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے یہاں فتنے میں مبتلا ہونے کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ پہلے کفر میں مبتلا ہوگئے بعد میں توبہ کی۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ پہلے سے جن مرتد لوگوں کا ذکر چلا آرہا ہے۔ انہی کے بارے میں اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اب بھی اگر وہ توبہ کر کے ہجرت کریں اور جہاد کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے پچھلے گناہ معاف فرما دیں۔
Read the full tafseer →یوم تاتی کل نفس تحادل عن نفسھا (61 : 111) ” ہر متنفس اپنے ہی بچائو کی فکر میں لگا ہوا ہوگا “۔ انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن ہر شخص سخت ہولناک حالت میں ہوگا ، ہر شخص اپنے ہی بارے میں فکر کر رہا ہوگا ، اپنا ہی کیس لڑ رہا ہوگا۔ لیکن کسی کا جھگڑا اسے کچھ فائدے نہ دے گا۔ وہاں تو ہر کسی کو اپنی ہی کمائی ملے گی۔
وھم لا یظلمون (61 : 111) ” کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا “۔
درس نمبر 421 ایک نظر میں
اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ نے اس سورة میں دو مثالوں کے ذریعے اسلامی عقیدہ توحید کو سمجھایا ہے۔ یہاں اباہل مکہ اور مشرکین قریش اور مکہ کے حالات پر ایک مثال دی جاتی ہے۔ اہل مکہ پر اللہ نے اپنے…
Read the full tafseer →4 یعنی ایک کی طرف سے دوسرا نہ بول سکے گا۔ ماں، باپ، بہن، بھائی، بیوی، اولاد، احباب و اقارب کوئی کام نہ دے گا۔ ہر شخص اپنی فکر میں پڑا ہوگا کہ کس طرح خدا کے عذاب سے مخلصی حاصل کرے۔ طرح طرح کے جھوٹے سچے عذر برأت کے لیے تراشے گا جواب وسوال کر کے چاہے گا رستگاری حاصل کرے۔
5 یعنی نیکی کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا استحقاق سے زائد نہ دی جائے گی۔
Read the full tafseer →آیت 111 يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا
روز قیامت ہر شخص چاہے گا کہ کسی نہ کسی طرح جہنم کی سزا سے اس کی جان چھوٹ جائے۔ لہٰذا اس کے لیے وہ مختلف عذر پیش کرے گا۔
Read the full tafseer →115 قیامت کے دن صرف اپنی اپنی جان کی فکر ہوگی :۔ ان مہاجرین و مجاہدین کی لغزشیں اس دن معاف کردی جائیں گی جس دن ہر شخص کو صرف اپنی ہی فکر پڑی ہوگی۔ ماں، باپ، بھائی، بہن، بیوی، اولاد کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا حتیٰ کہ اس سے بولنا بھی پسند نہ کرے گا بلکہ ان سے بچتا پھرے گا۔ ہر ایک کو یہ فکر ہوگی کہ وہ عذاب الٰہی سے کیسے نجات حاصل کرسکتا ہے اس غرض کے لیے وہ کچھ جھوٹے سچے عذر بھی تراشے گا اور سوال و جواب کرکے چاہے گا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکے۔
Read the full tafseer →173۔ وہ وقت انصاف کامل کا ہوگا۔ دنیا کی طرح وہاں خیروشر کو مخلوط اور حق و باطل کو باہم ملتبس رکھنے کی قطعا حاجت نہ ہوگی۔ (آیت) ” یوم۔۔ نفسھا “۔ وہ گھڑی ایسی نفسی نفسی کی ہوگی کہ کسی کو کسی دوسری طرف توجہ کرنے کی مہلت ہی کب ہوگی، (آیت) ’ ’ وھم لایظلمون “۔ یعنی نیکی کے بدلہ میں کمی نہ ہوگی، گوزیادتی ہوجائے اور بدی کے بدلہ میں زیادتی نہ ہوگی، گوکمی ہوجائے۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” عن نفسھا “۔ اس دوسرے نفس کے معنی عین یا ذات کے ہیں، اور پہلا نفس شخص کے مرادف ہے۔ یقال لعین الشیء وذاتہ نفسہ (کشاف) والنفس الجملۃ کماھی فالنفس الاولیھی الجملۃ والثانیۃ عینھا وذا تھا (کشاف) (آیت) ” تجادل “۔ مجادلہ یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
آیت نمبر 111 تا 119
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی…
Read the full tafseer →یوم تانی کل نفس تجادل عن نفسھا وتوفی کل نفس مما عملت وھم یظلمون جس روز ہر شخص اپنی ہی طرفداری میں بات کرے گا اور ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
یَوْمَ کا تعلق رحیمٌ سے ہے ‘ یعنی اس روز اللہ تم پر مہربان ہوگا جس روز ‘ یا اُذْکُرْ محذوف سے تعلق ہے ‘ یعنی یاد کرو اس دن کو جس دن .....
تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِھَا یعنی ہر شخص کو اپنی ہی پڑی ہوگی ‘ ہر شخص کو اپنے ہی بچاؤ کی فکر اور کوشش ہوگی ‘ دوسرے کا خیال بھی نہ ہوگا۔ کافر کہے گا : اے ہمارے مالک ! انہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ‘ اے ہمارے مالک ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا کہا مانا۔ ہم اپنے رب کی…
Read the full tafseer →(111) یعنی قیامت کے دن ہر ایک نیک وبد اپنی ہی طرفداری میں اور اپنے شیطان یا اپنی روح کے ساتھ گفتگو کرے گا اور ہر ایک نیک وبد کو اس کے اعمال کا خواہ نیک ہوں یا بدپورا بدلہ ملے گا، یعنی نیکی کے بدلہ میں کمی نہ ہوگی اور بدی کے بدلہ میں زیادتی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ : یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے غفور و رحیم ہے اس دن جب۔۔
تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَتُوَفّٰى۔۔ : یعنی اس دن ہر مرد و عورت صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوگا، نہ اسے کسی کی فکر ہوگی نہ کسی کو اس کی۔ ہر ایک بس اپنی ذات کے دفاع کے لیے بحث اور عذر بہانے کر رہا ہوگا، پھر ہر ایک نے جو کیا اسے اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا، کسی پر ظلم نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 111
قولہ تعالیٰ : یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا یعنی اس بارے میں بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے یا ذکرھم یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا یعنی انہیں یاد دلاؤ اس دن کی جب ہر نفس صرف اپنے متعلق جھگڑا کرتے ہوئے آئے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ ہر کوئی قیامت کے دن کہے گا : فنسی نفسی (ہائے میری جان، ہائے میری جان) اور یہ قیامت کے دن کی ہولناکی کی شدت کی وجہ سے ہوگا، سوائے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے کیونکہ آپ تو اپنی امت کے بارے التجا کر رہے ہوں گے۔ اور حضرت عمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت کعب الاحبار ؓ کو فرمایا : اے کعب ! ہمیں ڈرائیے، ہمیں جوش دلائیے، ہمیں کچھ بیان کیجئے، ہمیں متنبہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن مبارک، ابن ابی شیبہ، احمد نے زہد میں عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا انہوں نے فرمایا ہمارے اندر خوف پیدا کرو میں نے عرض کیا اے امیر المومنین کیا تمہارے درمیان اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی حکمت نہیں ہے ؟ فرمایا کیوں نہیں لیکن ہم کو ڈراؤ میں عرض کیا اے امیر المومنین اگر ستر انبیاء کے برابر عمل کرکے آپ قیامت کے دن آئیں گے پھر بھی اپنے عمل کو کم سمجھے گا فرمایا ہمارے لئے اور زیادہ (بیان) کیجئے میں نے عرض کیا اے امیر المومنین اگر بیل کے ناک کے نتھنے کے برابر جن ہم میں سے کھول دیا جائے مشرق کی طرف سے اور ایک آدمی ہو…
Read the full tafseer →[يَوْمَ : جس دن ] [ تَاْتِيْ : آئے گی ] [ كُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان ] [ تُجَادِلُ : بحث کرتی ہوئی ] [ عَنْ نَّفْسِهَا؛اپنی جان کی طرف سے ] [ وَتُوَفّٰى: اور پورا پورا دیا جائے گا ] [ كُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان کو ] [ مَا : وہ جو ] [ عَمِلَتْ : اس نے عمل کیا ] [ وَهُمْ : اور ان لوگوں پر ] [ لَا يُظْلَمُوْنَ : ظلم نہیں کیا جائے گا ]
ترکیب : (آیت۔ 111) وَفّٰچی کے دو مفعول آتے ہیں۔ کس کو دیا اور کیا چیز دی۔ تُوَفّٰی فعل مجہول ہے۔ اس کا پہلا مفعول کُلُّ نَفْسٍ ہے اور نائب فاعل ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔ اس کا مفعول ثانی مَا ہے اور محلاً حالت نصب میں ہے۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں قیامت کا منظر بیان فرمایا کہ اس دن ہر شخص اپنے نفس کی جانب سے جدال کرے گا یعنی دفاع کرے گا جواب دہی کی کوشش کرے گا مجرمین انکاری ہوں گے، کبھی اقراری ہوں گے وہاں اعمال کا ذرہ ذرہ موجود پائیں گے۔ خیر اور شر جو بھی کوئی عمل کیا تھا سب سامنے ہوگا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ذکر جزائے آخرت
قال اللہ تعالیٰ : یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا .... الیٰ .... وھم لا یظلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان کے لیے وعدہ اور اہل کفر کے لیے وعید کا ذکر تھا اب اس آیت میں اس وعدہ اور وعید کے ظہور کا وقت بیان کرتے ہیں اصل عذاب اور ثواب تو مرنے کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے مگر اس کا پورا ظہور قیامت کے دن ہوگا یعنی جس دن کہ کوئی کسی کے کام نہ آئے گا اور ہر ایک اپنی اپنی فکر میں ہوگا اور ہر نفس اپنی طرف سے مجادلہ کرے گا اور خویش و اقارب کو بھی بھول جائے گا۔ اور اپنی رہانی کے جھوٹے سچے عذر کرے گا لیکن اس کی حجت اور ساری عذر معذرت بےسود ہوگی۔ اور ہر جان کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا…
Read the full tafseer →91:۔ یہ ظرف ” غفور رحیم “ سے متعلق ہے۔ نصب علی الظرفیۃ برحیم (روح ج 14 ص 240) ۔ اور یوم سے قیامت کا دن مراد ہے یعنی قیامت کے دن جب کہ ہر شخص اپنی نجات کے لیے کوشش کر رہا ہوگا اور اپنے دفاع میں مصروف ہوگا اور جس دن ہر ایک کو اس کے اعمال کی پوری پوری جزاء و سزاء دی جائے گی اور کسی پر بھی ظلم نہیں ہوگا اس دن اللہ تعالیٰ مہاجرین و مجاہدین فی سبیل اللہ پر نہایت مہربان ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–114
ربط آیات :
پہلے قرآن حکیم کی صداقت وحقانیت کا بیان ہوا ، فرمایا قرآن پاک کی خود ساختہ یا کسی عجمی شخص کا سکھلایا ہوا کہنے والے جھوٹے ہیں ، نیز یہ کہ جس نے اپنے اختیار اور ارادے سے اپنی زبان سے کفر کی بات نکالی وہ خدا کے غضب اور لعنت کانشانہ بنے گا ، ہاں ! اضطراری حالت میں جب کہ جان جانے یا کسی عضو کے کٹ جانے کا خطرہ ہو ، تو جان بچانے کے لیے کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ دل مطمئن ہو ، اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ، اس لیے وہ کفر کی بات زبان پر لاتے ہیں ایسے لوگوں کو محاسبہ اعمال کی کچھ فکر نہیں ، یہ عنادی لوگ ہیں جن…
Read the full tafseer →يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَتُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 111
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
نفس
الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ،
( نس ) النفس
کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے
جدل
الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ترکیب : ان ربک کی خبر لغفور رحیم اور ان دوسرا اور اس کا اسم تاکیداً مکرر آیا اور ممکن ہے کہ ان اولی کی خبر محذوف ہو کیونکہ ان ثانیہ کی خبر اس پر دال ہے فتنوا مجہول کا صیغہ یعنی لوگوں نے ان کو فتنہ میں ڈالا ‘ مار پیٹ کر کلمہ کفر منہ سے نکلوایا۔ صیغہ معروف بھی آیا ہے یعنی انہوں نے ایسا کیا تھا اوروں کے ساتھ۔
تفسیر : عہد الٰہی توڑنے والوں کی سزا اور انجام کار بیان فرما کر ان کے مقابلہ میں ان لوگوں کی جزا بیان فرماتا ہے جو ایمان پر ثابت قدم رہے کفار کی ایذائوں کو برداشت کیا آخرالامر حضرت ﷺ کے ساتھ جا ملے اور وہاں بھی جا کر جان توڑ اسلام میں کوششیں کیں اور اطمینان دلایا کہ جو کچھ قصور ادائے اطاعت…
Read the full tafseer →یَوْمَ تَاْتِیْ کُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِھَا وَتُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 111)
(جس دن آئے گی ہر جان اپنی ہی مدافعت کرتی ہوئی اور ہر جان کو وہی پورا پورا بدلہ میں ملے گا جو اس نے کیا ہوگا اور ان کے ساتھ ذرا بھی ناانصافی نہیں کی جائے گی۔ )
آخرت کی یاددہانی
سابقہ آیات کریمہ میں دو طرح کے لوگوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے، ایک تو وہ لوگ ہیں جنھیں حُبِ دنیا نے اندھا کردیا ہے، ان کے یہاں آخرت کا تصور ایک بہلاوے کے سوا کچھ نہیں۔ وہ دنیا ہی کو اپنے ارمانوں کا مرکز سمجھتے ہیں اور یہیں کی خوشیاں اور غم ان کے لیے فیصلہ کن ہیں۔ اس بنا پر ان کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : صبر و استقامت کے ساتھ دین پر قائم رہنے والے لوگوں کو شفقت و مہربانی اور بخشش کی نوید سنانے کے بعد ظالموں اور دین کے منکرین کو ان کے انجام سے آگاہ کیا جارہا ہے۔
قرآن مجید کا یہ مؤثر اور دل ہلا دینے والا اسلوب ہے کہ وہ اکثر مقامات پر اس بات کا التزام کرتا ہے کہ نیکی اور بدی کا فرق سمجھاتے ہوئے برے لوگوں کو ان کا بدترین انجام اور دین کی خاطر قربانی دینے والوں کا بہترین انجام بیک وقت ذکر کیا جائے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر پہلے برے لوگوں کے کردار اور ان کا انجام ذکر کیا ہے۔ ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کی ایمان پر استقامت، ان کا حسن کردار اور ان کے بہترین انجام کا ذکر کیا جاتا…
Read the full tafseer →قیامت میں ہر ایک اپنی طرفداری کرے گا :
111: یَوْ مَ تَاْ تِیْ (جس دن آئے گا) ۔ : یہ رحیم کی وجہ سے منصوب ہے نمبر 2۔ اذکر محذوف کی وجہ سیکُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِھَا (ہر شخص وہ اپنی طرفداری میں بات کرے گا) یہاں نفس کی اضافت نفس کی طرف کی گئی ہے کیونکہ عین شئی کو ذاتہٖ ونفسہٖ کہہ دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں فی نقیضہٖ وغیرہ بولتے ہیں۔ والنفسؔ وہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے پورا اور کامل ہے۔ پس پہلا نفسؔ وہ بھی کامل اور دوسرا اس کا عین اور ذات۔ گویا اس طرح فرمایا۔ یوم تاتی کل انسان یجادل عن ذاتہٖ لایھمہ شان غیرہ کل یقول نفسی نفسی ہر انسان اپنے نفس کی طرفداری کریگا۔ دوسرے کی حالت کو کوئی اہمیت نہ…
Read the full tafseer →” یوم تاتی کل نفس تجادل “ جھگڑا کرے گا اور محتاج ہوگا۔ ” عن نفسھا “ جو اس نے اپنے لئے آگے بھیجا ہوگا اس کے لئے وہ فکرمند ہوگا۔ اس کو کسی دوسرے کی فکر نہیں ہوگی ۔ ” و توف ی کل نفس ما عملت وھم لا یظلمون “
حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کعب احبار سے فرمایا ہمارے اندر خوف پیدا کرو ۔ کعب احبار نے عرض کیا امیر المؤمنین اگر ستر پیغمبروں کے برابر عمل کر کے آپ قیامت کا دن پائیں گے تب بھی قیامت آپ پر بار بار ایسے حالات لائے گی کہ اس وقت آپ کو اپنی جان کے علاوہ کسی دوسرے کا خیال ہی نہیں رہے گا ۔ جہنم ایک ایسا دم کھینچے گی کہ ہر مقرب فرشتہ اور ہر بر گزیدہ نبی دوزا نو بیٹھ جائے گا یہاں تک کہ حضرت ابراہیم بھی کہہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
110۔ 111۔ جو لوگ دل کھول کر اسلام سے پھرگئے اوپر ان کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو کمزور تھے اور اپنی قوم میں خوار و ذلیل ہو رہے تھے اور کفار مکہ کے فتنے میں پڑگئے تھے اور پھر قابو و موقع پاکر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور خدا کی رضا مندی کے لئے اپنے سارے کنبے اور رشتے کے لوگوں کو چھوڑ کر ہجرت کی اور پھر جب کفار اور مسلمانوں میں جنگ کا سامان ہوا تو خوب لڑے اللہ پاک نے ان کی شان میں فرمایا کہ جب اتنے کام ان سے دیکھ لئے تو ان پر خدا کی بخشش ہوئی کیوں کہ اللہ جل شانہ غفور و رحیم ہے ان پر اس روز رحم فرمائے گا جس روز نہ باپ بیٹے کو اور نہ بیٹا باپ کو پوچھے گا بھائی کو بھائی کی پروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
آیت : (110-111)
یعنی بلا شبہ آُ کا رب جس نے اپنے مخلص بندوں کی ‘ اپنے لطف و احسان کے ذریعے سے تربیت کی اس شخص کے لئے بہت غفور و رحیم ہے جو اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنا گھر بار اور مال اسباب سب چھوڑ دیتا ہے ‘ دین کی وجہ سے اسے ستایا جاتا ہے تاکہ وہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹ آئے ‘ مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنے یقین کو بچا لیتا ہے ‘ پھر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے تاکہ ان کو اللہ کے دین میں داخل کرے اور وہ ان عبادات پر صبر کرتا ہے جو اکر لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہیں۔ یہ سب سے بڑے اسباب ہیں جن کے ذریعے سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
237۔ روز قیامت کی ہولناکی کی تذکیر و یاددہانی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” جس دن کہ ہر شخص اپنے ہی لیے جھگڑتا ہوا آئے گا “ کہ اس روز ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ کوئی کسی کے کچھ کام نہیں آسکے گا کہ وہ بڑا ہی ہولناک دن ہوگا۔ ایسا ہولناک کہ کسی کو دوسروں کا، یہاں تک کہ اپنے کسی قریبی سے قریبی رشتہ دار کا بھی کوئی ہوش نہیں رہے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (لکل امریء منہم یؤمئذ شان یغنیہ) (عبس : 37) اور یہ ہوشربا پریشانی ایسی اور اس حد تک ہوگی کہ انسان اپنے بہن بھائیوں اپنے ماں باپ اور اپنے بیوی بچوں تک سے دور بھاگے گا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں صاف اور صریح طور پر فرما دیا گیا (یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
کفار کے کرتوت اور ان کا انجام
تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔
سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
(رکوع نمبر 15)
اسرارومعارف
قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی یہ بخشش اور رحمت اس دن ہوگی جب ……
5 یعنی قیامت کے دن کسی کی طرف سے کوئی نہ بول سکے گا اور نہ اس دن ظلم چل سکے گا۔
Read the full tafseer →(16:111) یوم۔ منصوب بوجہ رحیم کا ظرف زمان ہونے کے ہے یعنی اس کی یہ مغفرت ورحمت اس روز ہوگی جس روز۔۔ یا یہ اذکر (محدوذف) کا مفعول بہٖ ہے لیکن اول الذکر زیادہ راجح ہے۔ کیونکہ خسرون کے وقت سزا کے لئے فی الاخرۃ آیا ہے۔ (فی الاخرۃ ہم الخسرون) اور یہہاں بھی یوم سے مراد یوم قیامت ہی ہے۔
تاتی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ آئے گی۔ اتیان سے ضمیر فاعل کل نفس کے لئے ہے۔ کل نفس۔ ہر جان۔
تجادل۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ مجادلۃ (مفاعلۃ) سے وہ جھگڑا کرے گی وہ جھگڑا کرتی ہے، وہ جھگڑتی ہے۔ مجادلۃ باہم جھگڑنا۔ یہاں مجادلہ عذر۔ معذرت۔ اور صفائی پیش کرنے کے معنی میں ہے۔
عن نفسھا۔ اپنی ذات کے متعلق۔ پہلا نفس (کل نفس)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
لغات القرآن آیت نمبر 111 تا 113
تاتی آئے گا۔ تجادل جھگڑتا ہے۔ توفی پورا دیا جائے گا۔ عملت عمل کیا۔ لایظلمون زیادتی نہ کیا جائے گا۔ ضرب اللہ اللہ نے بیان کیا۔ قریۃ بستی، شہر۔ کانت امنۃ مطمئن تھی۔ رغد سہولت سے، بافراغت۔ انعم اللہ اللہ کی نعمتیں۔ اذاق چکھایا۔ لباس الجوع بھوک کا لباس (بھوک مسلط ہوگئی) آ یصنعون وہ بناتے ہیں۔ کذبوا انہوں نے جھٹلایا۔ اخذ پکڑ لیا۔
تشریح : آیت نمبر 111 تا 113
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت کے ہولناک دن کے متعلق بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا ہے کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ ہر ایک طرح طرح کے عذر و معذرت پیش کر کے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اس دن ہر…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روز قیامت اییسا ہے کہ اس دن ہر ایک نفس کے کردار کا بدلہ بھر پور دیا جائے گا۔ جس نے جیسا کیا ہوگا اس جو ویسی جزا ملے گی ان پر کسی قسم کا ظلم نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–112
[65] یہاں کسی خاص شخص کا نام مذکور نہیں صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے، مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے قرآن کو اس کے نام سے بحث نہیں صرف اعتراض سے بحث ہے اور اسی کا جواب اس نے دیا ہے مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ سے قرآن کے معانی اور حقائق تک تو پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور قرآن کے کلام میں زمین و آسمان کا فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
اسلام جرات آموز ہے !
(ف 1) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہ میں مصیبتوں کو برداشت کیا ، جنہوں نے گھر اور وطن کی آسائشوں کو چھوڑا جنہوں نے مسافرت اور ہجرت اختیار کی جنہوں نے نفس اور باطل قوتوں کے خلاف جہاد کیا ، ان کے لئے اللہ کی بخششیں اور عنائتیں ہیں وہی اس کی مغفرت اور رحمت کے مستحق ہیں ۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بحالات مجبوری شر سے محفوظ رہنے کے لئے کفر کا اظہار جائز ہے ، بہتر نہیں ، یعنی اللہ ایسے اہل کفر پر مواخذہ نہیں کرے گا ، مگر اس کے یہ معنی نہیں ، کہ یہ فضیلت کی چیز ہے ، اس جواز کو جو مخصوص حالات میں قابل استفادہ ہے عام کردینا ، اور اسے فضیلت دینا دین فطرت کی توہین کرنا…
Read the full tafseer →1 1 1 ۔ اور اے مخاطب اس دن کو یاد کر جس دن ہر شخص اپنی طرف داری اور اپنی ہی جماعت میں سوال و جواب اور جھگڑتا ہوا آئے گا اور ہر شخص کو جو اس نے کیا ہے اسکے کئے کا پورا پورا بدلہ ملے گا اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب عام ہو جیسا کہ ہم نے اختیار کیا یا نبی کریم ﷺ کی ذات مخاطب ہو مطلب یہ ہے کہ اس دن یعنی قیامت کے دن ہر شخص کو اپنی اپنی پڑی ہوگی کسی دوسرے کی جانب توجہ ہی نہ ہوگی اپنے ہی متعلق جواب وسوال کرتا ہوا اور اپنی ہی فکر میں مبتلاہو گا۔
لکل امری منھم یو مئذ شان بغنیہ
ظلم کی نفی فرمائی، نیکی کے بدلے میں کمی نہ ہوگی اور برائی کے بدلے میں زیادتی نہ ہوگی ۔…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی نیکی کے بدلہ میں کمی نہ ہوگی گوزیادتی ہوجائے اور بدی کے بدلہ میں زیادتی نہ ہوگی گوکمی ہوجائے۔
3۔ اور اس سے شفاعت کی نفی کا شبہ نہ ہو کیونکہ وہ اپنی رائے سے نہ ہوگی بلکہ بالاذان ہے پس گویا وہ شافع کی طرف منسوب ہی نہیں اور یہاں اس گفتگو کا ذکر ہے جو اپنی رائے سے ہو۔
Read the full tafseer →قیامت کیا ہے ؟ وہی دن جس دن ہر جان کو اپنی اپنی پڑی ہوگی :
125۔ وہ دن اور وقت انصاف کامل کا ہوگا ‘ دنیا کی طرح وہاں خیر وشر کو مخلوط اور حق و باطل کو باہم ملبوس کرنے کی قطعا حاجت نہ ہوگی اور وہ گھڑی ایسی نفسا نفسی کی ہوگی کہ کسی کو کسی دوسری توجہ کرنے کی مہلت ہی کب ہوگی ؟ بلکہ ہر شخص کو اپنی اپنی فکر دامن گیر ہوگی ۔ عذاب الہی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے وہ سارے جتن کرے گا اگر انکار جرم میں اپنی سلامتی محسوس کرے گا تو بلاجھجھک مکر جائے گا اور کہے گا میں نے تو قطعا کوئی جرم کیا ہی نہیں تھا ، میری ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں بسر ہوئی لیکن جب فرشتے اس کی زندگی کا مکمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
Sequence of Verses
Warnings of punishment against disbelief (kufr) - whether original or apostacy (irtidad) - appeared in previous verses. After that, in the first (106) of the initial three verses cited above, it has been pointed clearly that 'Iman or the declaration of faith is a wealth that could work wonders for a kafir (disbeliever) or murtadd (apostate) who - if he were to come up with an honest and true 'Iman - all his past sins would stand forgiven.
In the second verse (107), the last day of Qiyamah was mentioned for the reason that all this phenomena of reward and punishment has to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
111. They were those believers who migrated to Habashah.
Read the full tafseer →