Explained with ayahs 110–111
صبر و استقامت
یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو بوجہ اپنی کمزوری اور مسکینی کے مشرکین کے ظلم کے شکار تھے اور ہر وقت ستائے جاتے تھے آخر انہوں نے ہجرت کی۔ مال، اولاد، ملک، وطن چھوڑ کر اللہ کی راہ میں چل کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کی جماعت میں مل کر پھر جہاد کے لئے نکل پڑے اور صبر و استقامت سے اللہ کے کلمے کی بلندی میں مشغول ہوگئے، انہیں اللہ تعالیٰ ان کاموں یعنی قبولیت فتنہ کے بعد بھی بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔ روز قیامت ہر شخص اپنی نجات کی فکر میں لگا ہوگا، کوئی نہ ہوگا جو اپنی ماں یا باپ یا بھائی یا بیوی کی طرف سے کچھ کہہ سن سکے اس دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
سورة النَّحْل 111
اشارہ ہے مہاجرین حبشہ کی طرف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
خلاصہ تفسیر
پچھلی آیت میں کفر پر وعید کا ذکر تھا خواہ کفر اصلی ہو یا ارتداد کا کفر اس کے بعد کی مذکورہ تین آیتوں میں سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ایمان ایسی دولت ہے کہ جو کافر یا مرتد سچا ایمان لے آئے اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
دوسری آیت میں قیامت کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ جزا و سزا سب قیامت کے دن ہی ہونے والی ہے۔
تیسری آیت میں یہ بتلایا گیا کہ کفر و معاصی کی اصلی سزا تو قیامت کے بعد ہی ملے گی مگر بعض گناہوں کی سزا دنیا میں بھی کچھ مل جاتی ہے، تینوں آیتوں کی مختصر تفسیر یہ ہے، پھر (اگر کفر کے بعد یہ لوگ ایمان لے آویں تو) بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے کہ جنہوں نے مبتلاء…
Read the full tafseer →ہجرت حشبہ کے جانبازوں کے لیے بشارت : ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَصَبَرُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ بزدلوں اور پست ہمتوں کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہ ان جانبازوں اور سرفروشوں کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے دین کی خاطر کفار کے ہاتھوں ہر قسم کے مصایب جھیلے لیکن وہ اس سے دست بردار ہونے پر تیار نہ ہوئے۔ ہجرت سے یہاں اشارہ ہجرت حبشہ کی طرف ہے اور جہاد و صبر سے یہاں ان کی وہ جاں بازیاں مراد ہیں جو دین پر استقامت کے معاملے میں انہوں نے دکھائیں۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے ان جاں گسل مصائب کا مقابل کرکے اپنے ایمان کی…
Read the full tafseer →110۔ 1 یہ مکہ کے ان مسلمانوں کا تذکرہ ہے جو کمزور تھے اور قبول اسلام کی وجہ سے کفار کے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے۔ بالآخر انھیں ہجرت کا حکم دیا گیا تو اپنے خویش و اقارب، وطن مالوف اور مال جائداد سب کچھ چھوڑ کر حبشہ یا مدینہ چلے گئے، پھر جب کفار کے ساتھ معرکہ آرائی کا مرحلہ آیا تو مردانہ وار لڑے اور جہاد میں بھرپور حصہ لیا اور پھر اس کی راہ کی شدتوں اور الم ناکیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ ان تمام باتوں کے بعد یقیناً تیرا رب ان کے لئے غفور ورحیم ہے یعنی رب کی مغفرت و رحمت کے حصول کے لئے
ایمان اور اعمال صالح کی ضرورت ہے، جیسا کہ مذکورہ مہاجرین نے ایمان وعمل کا عمدہ نمونہ پیش کیا تو رب کی رحمت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
47: اس آیت میں فتنے میں مبتلا ہونے سے ان صحابہ کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے جو مکہ مکرمہ میں کافروں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ پہلے چونکہ کافروں کے برے انجام کا ذکر تھا تو اس آیت میں نیک مسلمانوں کا اجر بھی بیان فرما دیا گیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے یہاں فتنے میں مبتلا ہونے کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ پہلے کفر میں مبتلا ہوگئے بعد میں توبہ کی۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ پہلے سے جن مرتد لوگوں کا ذکر چلا آرہا ہے۔ انہی کے بارے میں اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اب بھی اگر وہ توبہ کر کے ہجرت کریں اور جہاد کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے پچھلے گناہ معاف فرما دیں۔
Read the full tafseer →یہ لوگ عربوں میں ضعفاء میں سے تھے اور سرکش مشرکین نے ان کو ان کے دین اور نظریہ کی وجہ سے تکالیف دیں۔ لیکن جونہی ان کو مواقعہ ملا انہوں نے ہجرت کی۔ اسلام پختگی حاصل کی۔ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور دعوت اسلامی کی خاطر تکالیف اٹھاتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کو مغفرت کی بشارت دیتے ہیں ۔
ان ربک من بعدھا لغفور رحیم (61 : 011) ” ان کے لئے یقینا تیرا رب غفور ورحیم ہے “۔
یہ وہ دن ہے جس میں ہر نفس اپنے معاملات میں گھرا ہوگا۔ کوئی کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →3 مکہ میں بعضے لوگ کافروں کے ظلم سے بچل گئے تھے۔ یا صرف زبانی لفظ کفر کہہ لیا تھا۔ اس کے بعد جب ہجرت کی، جہاد کیا، اور بڑے استقلال و پامردی سے اسلام پر قائم رہے، اتنے کام ایمان کے کیے، وہ تقصیر بخشی گئی اور خدا کی مہربانی مبذول ہوئی ایک بزرگ تھے ' عمار " ان کے باپ تھے " یاسر " اور ماں " سمیہ " دونوں ظلم اٹھاتے مرگئے، پر لفظ کفر نہ کہا۔ یہ مسلمانوں کا پہلا خون تھا جو خدا کی راہ میں گرا۔ بیٹے (عمار) نے خوف جان سے لفظ کہہ دیا ' پھر روتے ہوئے حضرت کے پاس آئے۔ تب یہ آیتیں اتریں۔ ؓ اجمعین۔
Read the full tafseer →آیت 110 ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَصَبَرُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
جن مؤمنین پر مکہ میں مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ان حالات میں انہوں نے ہجرت کی پھر وہ جہاد بھی کرتے رہے اس طرح راہ حق میں آنے والی آزمائشوں کے تمام مراحل انہوں نے کمال صبر سے طے کیے اللہ تعالیٰ انہیں ان کی ان قربانیوں اور سرفروشیوں کا ضرور اجر دے گا۔ انہیں بخشش عطا فرمائے گا اور ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا۔
Read the full tafseer →114 ہجرت حبشہ :۔ اس آیت میں ان مظلوم مسلمانوں کا ذکر ہے جن پر قریش مکہ نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ اور جو با لآخر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ ہجرت 4 یا 5 نبوی میں ہوئی تھی۔ اور تقریباً اسی (80) صحابہ اپنا گھر بار، رشتہ دار، اموال و جائداد اور اپنا وطن مالوف چھوڑ کر مکہ سے حبشہ کی طرف چلے گئے تھے۔ پھر انھیں لوگوں نے دوبارہ حبشہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ پھر آپ کے ہمراہ غزوات میں بھی شریک ہوتے رہے اور ہر طرح کے مصائب خوشدلی سے برداشت کرتے رہے۔ ایسے لوگوں کی چھوٹی موٹی لغزشیں اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔
Read the full tafseer →172۔ (جو مغفرت و رحمت تو نفس ایمان ہی پر مرتب کردیتا ہے، پھر ان اعمال شاقہ کے امتحان سے گزرنے پر مغفرت و رحمت کے درجات عالیہ وکاملہ کیوں نہ عنایت کردے گا) (آیت) ” للذین ھاجروا “۔ ہجرت سے مراد مدینہ تو ظاہرہی ہے۔ لیکن ہجرت حبشہ بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ (آیت) ” بعد مافتنوا “ آزمائشوں سے کھلا ہوا اشارہ آغاز ظہور اسلام کے شداید شاقہ کی جانب ہے، نفس ابتلاء کفر بھی مراد ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” جھدوا “۔ جہاد اپنے لغوی معنی میں ہر جہاد نفس پر شامل ہے۔ قتال اصطلاحی ہی کامرادف نہیں۔ (آیت) ” من بعدھا “۔ ضمیر اعمال سابقہ مذکورہ یعنی آزمائش میں پڑنے اور ہجرت اور جہاد اور ثابت قدمی کی طرف ہے۔ اے المذکورات من الفتنۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
آیت نمبر 101 تا 110
ترجمہ : اور جب ہم کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسری آیت بندوں کی مصلحت کیلئے نازل کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نازل کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے تو کفار نبی ﷺ سے کہتے ہیں تم تو افترا پر داز ہو جھوٹے ہو، قرآن اپنی طرف سے گھڑ کو لاتے ہو، (ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ قرآن کی حقیقت اور نسخ کے فائدہ سے واقف نہیں ہیں آپ ان کو بتادیجئے کہ اس کو جبرئیل آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں (بالحق) نَزَّلَ کے متعلق ہے کہ اہل ایمان کو اس کے ذریعہ ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہے اور وہ ایک نصرانی لوہار ہے، نبی ﷺ اس کے پاس جایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاھدوا وصبروا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم پھر بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کیلئے جنہوں نے مبتلائے کفر ہونے کے بعد (ایمان لا کر) ہجرت کی ‘ پھر جہاد
کیا اور (ایمان پر) قائم رہے تو آپ کا رب ان اعمال کے بعد ان کی بڑی مغفرت کرنے والا اور (ان پر) بڑی رحمت کرنے والا ہے۔
چونکہ مسلمانوں کے اور کفر پر قائم رہنے والوں کے حالات میں بڑا بعد تھا ‘ اسلئے لفظ ثُمَّ استعمال کیا۔ فُتِنُوْا یعنی ان کو اسلام سے روکا گیا اور بڑے بڑے دکھ دئیے گئے۔ ابن سعد نے طبقات کبریٰ میں عمر بن حاکم کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر کو ایسے سخت دکھ دئیے جاتے تھے کہ وہ بالکل بدحواس…
Read the full tafseer →(110) اے محمد ﷺ بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جیسا کہ حضرت عمار بن یاسر اور اس کے ساتھی جنہوں نے اہل مکہ کی تکالیف اٹھا کر پھر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی پھر دشمنوں سے جہاد فی سبیل اللہ کیا اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ تکالیف پر ثابت قدم رہے تو آپ کا رب ہجرت کے بعد بعد ایسے لوگوں کی بڑی بخشش کرنے والا اور ان پر بڑی رحمت فرمانے والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ان ربک للذین ھاجروا“۔ (الخ)
حضرت بلال ؓ حضرت عامر بن فہیرہ ؓ اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو تکالیف دی جاتی تھیں انھی حضرات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، یعنی آپ کے رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر میں مبتلا ہونے کے بعد ایمان لا کر ہجرت کی…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا۔۔ : مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے، یا بعض ناجائز الفاظ منہ سے کہنے پر مجبور ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے، مگر اس کے بعد انھوں نے ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کیے، یعنی ہجرت کی، جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 110
قولہ تعالیٰ : ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا ثم جھدوا وصبروا یہ سب حضرت عمار ؓ کے بارے میں ہے۔ اور اس کا معنی ہے انہوں نے جہاد پر صبر کیا ؛ اسے نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : یہ آیت اس قوم کے بارے میں نازل ہوئی جو ہجرت کرتے ہوئے مدینہ طیبہ کی طرف نکلے اس کے بعد کہ مشرکوں نے انہیں طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا کیا اور انہیں اذیتیں دیں، ان کا ذکر اس سورت میں پہلے گزر چکا ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ مرتد ہوگیا تھا اور مشرکین سے جا ملا تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن اسے قتل کرنے کا حکم دیا، تو اس نے حضرت عثمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ترجمہ : 1:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو اپنے اصحاب ؓ سے فرمایا مجھ سے جدا ہوجاؤ جس کے پاس طاقت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ رات کے آخری حصہ تک تاخیر کرے (اپنے چلنے کو) اور جس کے پاس طاقت نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ اول رات میں روانہ ہوجائے جب تم میرے بارے میں سنو کہ میں (مدینہ منور کی) سرزمین میں امن کے ساتھ پہنچ گیا تو میرے ساتھ آملنا حضرت بلال موذن رسول ﷺ خباب عمار ؓ اور قریش میں سے ایک باندی جو مسلمان ہوچکی تھی اور صبح سویرے مکہ سے چل دیئے تو مشرکین ابو جہل نے انکو پکڑ لیا بلال ؓ کے پاس آئے…
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر (بھی) ] [ ان : بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [ هَاجَرُوْا : ہجرت کی ] [ مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ فُتِنُوْا : انھیں آزمائش میں ڈالا گیا ] [ ثُمَّ : پھر ] [ جٰهَدُوْا : انھوں نے جہاد کیا ] [ وَصَبَرُوْٓا ۙ: اور ڈٹے رہے ] [ ان : (تو) بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ مِنْۢ بَعْدِهَا : اس کے بعد ] [ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ]
Read the full tafseer →ہجرت کرکے ثابت قدم رہنے والوں کا اجر وثواب، قیامت کے دن کی پیشی کا ایک منظر
یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت کے بارے میں علامہ بغوی معالم التنزیل (ص 87 ج 3) میں لکھتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ اور ابی جندب اور ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عبد اللہ بن ابی اسید کے بارے میں نازل ہوئی ان حضرات کو مشرکین نے اسلام قبول کرنے پر تکلیفیں دیں تو انہوں نے ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے بعض ایسے کلمات کہہ دئیے جو مشرکین کی خواہش کے مطابق تھے پھر ان حضرات نے ہجرت کی اور جہادوں میں حصہ لیا اور استقامت کے ساتھ ایمان پر جمے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
حکم مرتد
قال اللہ تعالیٰ : من کفر باللہ من بعد ایمانہ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ان مجرمین کا ذکر تھا جو شواہد نبوت اور دلائل رسالت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر مجرم وہ لوگ ہیں کہ جو ایمان لانے اور تسلیم کرنے کے بعد شیطانی شبہات اور نفسانی وساوس سے متاثر ہو کر حق سے منحرف اور برگشتہ ہوجائیں۔ یعنی ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائیں۔ ان آیات میں مرتد کے عزاب اور اس کی سزا کا بیان ہے مگر اس عذاب سے وہ شخص مستثنیٰ ہے کہ جو بحالت مجبور ہی اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ کفر محض زبان سے بول دے اور دل اس کا ایمان پر قائم اور مستحکم ہو تو ایسا…
Read the full tafseer →90:۔ ” ثُمَّ “ تعقیب ذکری کے لیے ہے اور یہ مہاجرین اور مجاہدین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ یعنی اس کے بعد یہ بھی سن لوں کہ جن لوگوں نے محض دین حق کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں اور وطن سے بےوطن ہوئے، اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور ہر آزمائش میں ثابت قدم رہے اللہ تعالیٰ ان کے حق میں بڑا ہی مہربان اور معاف کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں رسالت کے علاوہ قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا ، یہ اللہ کا کلام ہے ، جسے جبرائیل امین نے اللہ کی جانب سے پیغمبر ﷺ پر نازل فرمایا مشرکین بہتان لگاتے تھے کہ قرآن پاک منجانب اللہ نہیں بلکہ ایک عجمی شخص سے سیکھ کر آپ اسے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، اللہ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن حکیم تو فصیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بھلا ایک عجمی آدمی یہ کیونکر پیش کرسکتا ہے حالانکہ وہ تو اپنا مافی الضمیر بھی عربی زبان میں پوری طرح بیان نہیں کرسکتا ، اللہ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ایسا افتراء وہی لوگ باندھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ۔
اب آج کی آیات میں اللہ…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَصَبَرُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 110ۧ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
ترکیب : ان ربک کی خبر لغفور رحیم اور ان دوسرا اور اس کا اسم تاکیداً مکرر آیا اور ممکن ہے کہ ان اولی کی خبر محذوف ہو کیونکہ ان ثانیہ کی خبر اس پر دال ہے فتنوا مجہول کا صیغہ یعنی لوگوں نے ان کو فتنہ میں ڈالا ‘ مار پیٹ کر کلمہ کفر منہ سے نکلوایا۔ صیغہ معروف بھی آیا ہے یعنی انہوں نے ایسا کیا تھا اوروں کے ساتھ۔
تفسیر : عہد الٰہی توڑنے والوں کی سزا اور انجام کار بیان فرما کر ان کے مقابلہ میں ان لوگوں کی جزا بیان فرماتا ہے جو ایمان پر ثابت قدم رہے کفار کی ایذائوں کو برداشت کیا آخرالامر حضرت ﷺ کے ساتھ جا ملے اور وہاں بھی جا کر جان توڑ اسلام میں کوششیں کیں اور اطمینان دلایا کہ جو کچھ قصور ادائے اطاعت…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْ م بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰھَدُوْا وَصَبَرُوْٓا لا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ م بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 110)
(پھر یقینا آپ کا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے آزمائشوں میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی، پھر جہاد کیا اور ثابت قدمی دکھائی تو ان باتوں کے بعد بیشک آپ ﷺ کا رب بڑا ہی بخشنے والا اور رحمت والا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کی تصویر
سابقہ آیات کریمہ میں ان لوگوں کا انجام بیان ہوا جنھوں نے حیات دنیا کو حیات آخرت پر ترجیح دی۔ وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ دنیا کی زندگی ان کا مقصود بن کر رہ گئی۔ دنیا کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے آیت 106 میں بےحد مجبور شخص کو جان بچانے کی اجازت دی تھی اب مظلوم لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ ممکن طور پر دین اور جان بچاکر انہیں ہجرت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
جن لوگوں کو ناقابل برداشت اذیتوں کا نشانہ بنایا جائے اس حالت میں کہ انہیں جان اور دین بچانا مشکل ہوجائے تو انھیں ہجرت کرنے کی اجازت ہے تاکہ دین کی سربلندی کے لیے کوششیں جاری رکھیں اس راستہ میں انہیں جو بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر مصائب سے واسطہ پڑے تو انہیں صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھنا چاہیے۔ اس دوران بتقضائے بشریت غلطی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ انھیں معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
ہجرت :
اللہ…
Read the full tafseer →ایمان والوں کی سرخروئی :
110 : ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ (پھر آپکا رب) ثمؔ کو اس لئے لائے کہ ان کا حال ان کے حال سے بہت ہی دور ہے۔ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا (ان لوگوں کیلئے جنہوں نے ہجرت کی) مکہ مکرمہ سے یعنی ان کو اس میں فائدہ ہے نقصان نہیں کہ اللہ تعالیٰ انکا کارسازو مددگار ہے۔ ان کو رسوا کرنے والا اور انکا دشمن نہیں۔ جیسا کہ بادشاہ آدمی کیلئے محافظ و مفید ہوتا ہے۔ نقصان پہنچانے والا نہیں ہوتا۔ مِنْ 0 بَعْدِ مَا فُتِنُوْا (اس کے بعد کہ ان کو آزمایا گیا) عذاب اور اکراہ علی الکفر کے ذریعہ۔ قراءت : فَتَنُوْا شامی نے پڑھا ہے۔ اس کے بعد کہ انہوں نے مسلمانوں کو تکالیف پہنچائیں پھر وہ اسلام لے آئے۔ ثُمَّ…
Read the full tafseer →تفسیر :” ثم ان ربک للذین ھاجروامن بعد ما فتتوا “ ان کو تکالیف دی گئیں اور سلام سے ان کو روکا گیا اور مشرکوں نے ان کو آزمائش میں مبتلا کیا۔ ” ثم جاھدوا وصبر وا “ ایمان ، ہجرت اور جہاد پر صبر کرتے رہے ، ” ان ربک من بعدھا “ اس فتہ اور غفلت کے بعد ’ ’ لغفور رحیم “ اس آیت کا نزول عیاش بن ابی ربیعہ جو ابو جہل کے رضاعی بھائی اور ابو جندل بن سہیل بن عمرو اور ولید بن ولید بن مغیرہ ، سلمہ بن ہشام ، عبد اللہ بن ابی اسید ثقفی کے متعلق ہوا ۔ مشرکوں نے ان کو سخت اذیتیں دی تھیں ۔ انہوں نے مشرکوں کو ایذاء سیبچنے کے لئے کچھ ایسے الفاظ کہہ دیئے جو مشرک کہلوانا چاہتے تھے پھر مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے گئے۔
حسن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
110۔ 111۔ جو لوگ دل کھول کر اسلام سے پھرگئے اوپر ان کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو کمزور تھے اور اپنی قوم میں خوار و ذلیل ہو رہے تھے اور کفار مکہ کے فتنے میں پڑگئے تھے اور پھر قابو و موقع پاکر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور خدا کی رضا مندی کے لئے اپنے سارے کنبے اور رشتے کے لوگوں کو چھوڑ کر ہجرت کی اور پھر جب کفار اور مسلمانوں میں جنگ کا سامان ہوا تو خوب لڑے اللہ پاک نے ان کی شان میں فرمایا کہ جب اتنے کام ان سے دیکھ لئے تو ان پر خدا کی بخشش ہوئی کیوں کہ اللہ جل شانہ غفور و رحیم ہے ان پر اس روز رحم فرمائے گا جس روز نہ باپ بیٹے کو اور نہ بیٹا باپ کو پوچھے گا بھائی کو بھائی کی پروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
آیت : (110-111)
یعنی بلا شبہ آُ کا رب جس نے اپنے مخلص بندوں کی ‘ اپنے لطف و احسان کے ذریعے سے تربیت کی اس شخص کے لئے بہت غفور و رحیم ہے جو اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنا گھر بار اور مال اسباب سب چھوڑ دیتا ہے ‘ دین کی وجہ سے اسے ستایا جاتا ہے تاکہ وہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹ آئے ‘ مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنے یقین کو بچا لیتا ہے ‘ پھر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے تاکہ ان کو اللہ کے دین میں داخل کرے اور وہ ان عبادات پر صبر کرتا ہے جو اکر لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہیں۔ یہ سب سے بڑے اسباب ہیں جن کے ذریعے سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →234۔ اللہ تعالیٰ کی مغفرت و عنایت بےنہایت کا مژدہ جانفزا :۔
سو اللہ تعالیٰ کی مغفرت وبخشش بےنہایت اور اس کی رحمت و عنایت بےغایت کا مژدہ جانفزا سنانے کے لئے کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔ اتنا بخشنہار اور اس قدر مہربان کہ نہ اس کی مغفرت وبخشش کا کوئی کنارہ ہے اور نہ اس کی رحمت و عنایت کا کوئی ٹھکانہ۔ ایسا غفور و غفار کہ زندگی بھر کے گناہوں کے انباروں کو وہ سچی توبہ پر فورا معاف فرما دیتا ہے۔ اور ایسا معاف فرما دیتا ہے کہ ان کا نشان بھی مٹا دیتا ہے۔ اگرچہ گناہوں کے وہ انبار آسمان کی بلندیوں ہی کو کیوں نہ چھوتے ہوں۔ اور ایسا رحیم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
کفار کے کرتوت اور ان کا انجام
تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔
سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
(رکوع نمبر 14)
اسرارومعارف
شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
ف 2 یعنی ان مشرکوں کے مک میں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر درالسلام میں چلے گئے۔
3 مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے تھے۔ یا بعض الفاظ ناجائز منہ سے کر ڈالے مگر اس کے بعد ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کئے یعنی ہجرت کی جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(16:110) ثم ان ربک۔ یہ دلالت کرتا ہے اس امر پر کہ غافلون، خاسرون کا حال بلحاظ مرتبت ان اصحاب سے کتنا بعید ہے جن کا آیہ ہذا میں ذکر ہے۔ ان کے لئے غضب الٰہی و خسران اور ان کے لئے مغفرت ورحمت رب تعالیٰ ۔
ثم۔ پھر حرفِ عطف ہے۔ پہلی چیز سے دوسری کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ یہ تاخیر خواہ بااعتبار زمانہ ہو یا بااعتبار مرتبہ۔ یا بلحاظ وضع ونسبت ہو یا بااعتبار نظام صناعی جیسے الا ساس اولا ثم البناء یعنی پہلے اساس (بنیاد) رکھی جاتی ہے پھر اس پر عمارت کھڑی کی جاتی ہے۔ دوسری دفعہ جو ثم آیا ہے وہ بااعتبار زمانہ تاخیر پر دلالت کرتا ہے۔
من بعد ما قتنوا۔ آزمائش میں ڈالے جانے کے بعد (یعنی کفار کے ہاتھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
لغات القرآن آیت نمبر 106 تا 110
اکرہ مجبور کردیا گیا، زبردستی کی گئی۔ شرح کھل گیا۔ صدر دل ، سینہ۔ استحبو انہوں نے پسند کرلیا۔ طبع مہر لگا دی۔ الغفلون بیخبر رہنے والے۔ ھاجروا انہوں نے ہجرت کی۔ فتنوا آزمائش میں ڈالے گئے۔ جاھدو انہوں نے جہاد کیا۔
تشریح : آیت نمبر 106 تا 110
جب نبی کریم ﷺ نے کفار و مشرکین مکہ کے سامنے اللہ کے پیغام کو رکھا تو ابتداء میں آپ کی باتوں پر زیادہ غور نہیں کیا گیا
پھر مذاق اڑانا شروع کیا، اس کے بعد شدید مخالفت کا آغاز ہوا۔ نبی کریم کی تعلیمات کو جو بھی قبول کرتا اس پر انسانیت سوز ظلم و ستم کئے جاتے اور کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ حضرت عمار بن یاسر کی آنکھوں کے…
Read the full tafseer →توبہ کرنے کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو کمزور تھے اور اپنی قوم میں خوار و ذلیل ہو رہے تھے اور کفار مکہ کے فتنے میں پڑگئے تھے اور پھر قابو وموقع پاکر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور خدا کی رضامندی کے لئے اپنے سارے کنبے اور رشتے کے لوگوں کو چھوڑ کر ہجرت کی اور پھر جب کفار اور مسلمانوں میں جنگ کا سامان ہوا تو خوب لڑے۔ اللہ پاک نے ان کی شان میں فرمایا کہ جب اتنے کام ان سے دیکھ لئے تو ان پر خدا کی بخشش ہو یعنی توبہ منظور ہوگئی کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔ ان پر اس روز رحم فرمائے گا جب نہ بیٹا باپ کو پوچھے گا نہ بھائی کو بھائی کی پروا ہوگی۔ بی بی شوہر سے شوہر بی بی سے گھبرائیں گے۔ غرضیکہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–112
[65] یہاں کسی خاص شخص کا نام مذکور نہیں صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے، مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے قرآن کو اس کے نام سے بحث نہیں صرف اعتراض سے بحث ہے اور اسی کا جواب اس نے دیا ہے مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ سے قرآن کے معانی اور حقائق تک تو پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور قرآن کے کلام میں زمین و آسمان کا فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
اسلام جرات آموز ہے !
(ف 1) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہ میں مصیبتوں کو برداشت کیا ، جنہوں نے گھر اور وطن کی آسائشوں کو چھوڑا جنہوں نے مسافرت اور ہجرت اختیار کی جنہوں نے نفس اور باطل قوتوں کے خلاف جہاد کیا ، ان کے لئے اللہ کی بخششیں اور عنائتیں ہیں وہی اس کی مغفرت اور رحمت کے مستحق ہیں ۔
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بحالات مجبوری شر سے محفوظ رہنے کے لئے کفر کا اظہار جائز ہے ، بہتر نہیں ، یعنی اللہ ایسے اہل کفر پر مواخذہ نہیں کرے گا ، مگر اس کے یہ معنی نہیں ، کہ یہ فضیلت کی چیز ہے ، اس جواز کو جو مخصوص حالات میں قابل استفادہ ہے عام کردینا ، اور اسے فضیلت دینا دین فطرت کی توہین کرنا…
Read the full tafseer →110 ۔ پھر بلا شبہ آپ کا پروردگار ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر میں مبتلا ہوجانے کے بعد ہجرت کی اور اپنا وطن چھوڑا اور جہاد بھی کیا اور ثابت اور قائم رہے تو بیشک ان اعمال کے بعد آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی اوپر کی آیتوں میں کفر کے ارتکاب کا ذکر تھا خواہ وہ مجبورا ً ہو یا کشادہ دلی سے ہو ۔ اس آیت میں فرمایا اگر اس کے بعد جبر والے توبہ کرلیں اور کشادہ دلی والے توبہ کر کے ایمان لے آئیں اور جو کام اسلام کے ہیں۔ مثلا ً ہجرت و جہاد اور ایمان پر ثابت قدم تو بلا شبہ ان اعمال صالح کے بعد انکے ساتھ رحمت و مغفرت کا معاملہ کیا جائے گا اور ایمان و اعمال صالحہ کی برکت سے ان کے سب…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کی برکت سے ان کے سب گناہ گزشتہ کو کفروغیرہ معاف ہوجائیں گے اور رحمت الٰہیہ سے ان کو جنت اور اس کے بڑے بڑے درجے ملیں گے۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے آزمائشوں سے پاس ہو کر ہجرت اختیار کی وہ کامیاب ہوئے :
124۔ پھر جن لوگوں کا حال یہ ہوا کہ کفر و ایمان کی آزمائشوں میں پڑنے کے بعد ہجرت کی اور راہ حق میں جہاد کیا اور ہر طرح کی مصیبتوں میں صابر رہے تو بلاشبہ تمہارا پروردگار ان اعمال کے بعد ضرور بخشنے والا ‘ ضرور رحمت فرمانے والا ہے اور کیوں نہ ہو جب کہ انہوں نے پیغمبر اعظم وآخر ﷺ کی محبت میں کونسی مصیبت ہے جس کو قبول نہیں کیا اور وہ کونسا دکھ ہے جو انہوں نے اپنے سر نہیں اٹھایا ‘ وطن چھوڑا اور حق و باطل کی ہر جنگ میں حق کا پرچم بلند کیا اور سردھڑ کی بازی لگائی اور نہایت صبر و استقلال کے ساتھ اس وادی سے نکل گئے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
Sequence of Verses
Warnings of punishment against disbelief (kufr) - whether original or apostacy (irtidad) - appeared in previous verses. After that, in the first (106) of the initial three verses cited above, it has been pointed clearly that 'Iman or the declaration of faith is a wealth that could work wonders for a kafir (disbeliever) or murtadd (apostate) who - if he were to come up with an honest and true 'Iman - all his past sins would stand forgiven.
In the second verse (107), the last day of Qiyamah was mentioned for the reason that all this phenomena of reward and punishment has to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–112
111. They were those believers who migrated to Habashah.
Read the full tafseer →