Explained with ayahs 106–109
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ
اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہوجائیں پھر کفر پہ ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کرلیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بیکار ہوگئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 110
یہ فقرے ان لوگوں کے بارے میں فرمائے گئے ہیں جنہوں نے راہ حق کو کٹھن پا کر ایمان سے توبہ کرلی تھی اور پھر اپنی کافر و مشرک قوم میں جا ملے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
خلاصہ تفسیر
جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے (اس میں کفر بالرسول اور انکار قیامت وغیرہ سب داخل ہیں) مگر جس شخص پر (کافروں کی طرف سے) زبردستی کی جائے (کہ اگر تو کفر کا فلاں کلام یا فلاں قول نہیں کرے گا تو ہم تجھ کو قتل کردیں گے مثلا اور حالات سے اس کا اندازہ بھی ہو کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں) بشرطیکہ اس کا قلب ایمان پر مطمئن ہو (یعنی عقیدے میں کوئی فتور نہ آئے اور اس قول وفعل کو سخت گناہ اور برا سمجھتا ہو تو وہ اس حکم سے مستثنی ہے کہ اس کا ظاہری طور پر کلمہ کفر یا فعل کفر میں مبتلا ہوجانا ایک عذر کی بناء پر ہے۔ اس لئے جو وعید ارتداد کی آ رہی ہے وہ ایسے شخص کے لئے نہیں) لیکن ہاں جو جی…
Read the full tafseer →لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ لَا جَرَمَ کے معنی لابد اور لا محالہ کے ہیں۔ اصلاً تو یہ کسی بات کی تاکید کے لیے اتا ہے لیکن موقع مقتضی ہو تو اس کے اندر قسم کا زور بھی پیدا ہوجاتا ہے۔
اوپر جو کچھ بیان ہوا ہے یہ اس کا لازمی نتیجہ بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اپنی دنیا کی خاطر اس طرح آخرت سے بےپروا ہوجائیں گے آخرت میں سب سے زیادہ محروم و نامراد وہی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
18۔ 1 پس یہ وعظ و نصیحت کی باتیں سنتے ہیں نہ انھیں سمجھتے ہیں اور نہ وہ نشانیاں ہی دیکھتے ہیں جو انھیں حق کی طرف لے جانے والی ہیں۔ بلکہ یہ ایسی غفلت میں مبتلا ہیں جس نے ہدایت کے راستے ان کے لئے مسدود کردیئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
46: یعنی کسی شخص کو جان کا خوف ہو کہ اگر زبان سے کفر کا کلمہ نہیں کہے گا تو جان چلی جائے گی، تو ایسا شخص معذور ہے، جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، لیکن اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہوگا جو اپنے اختیار کی وجہ سے کفر کی باتیں کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔
یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے…
Read the full tafseer →2 یعنی جو لوگ اپنی بےاعتدالیوں اور غلط کاریوں سے خدا کی بخشی ہوئی قوتیں تباہ کر ڈالیں اور دنیا ہی کو قبلہ مقصود بنالیں، ان سے بڑھ کر خراب انجام کس کا ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 109 لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ
یہ وہ لوگ ہیں جو دنیوی زندگی کی محبت میں حق سے منہ موڑ کر غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اب ان کے اس طرز عمل کا منطقی نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت کی بھلائیوں میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
اگلی آیت میں پھر ہجرت کا ذکر آ رہا ہے جو اس سے پہلے آیت 41 میں بھی آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
113 مہر کن لوگوں کے دلوں پہ لگتی ہے ؟ یہ اس لیے کہ ایسے لوگوں نے اسلام کو حق سمجھ کر قبول تو کرلیا مگر اس کی حقانیت اور مصائب کے عوض اخروی اجر کی قدر و قیمت ان کی نگاہوں میں اتنی بھی نہ تھی کہ اپنے دنیوی مفادات کا وقتی طور پر کچھ نقصان برداشت کرلیتے۔ یہ دنیا طلبی اور ہوا پرستی کے نشہ میں ایسے مست ہوچکے ہیں کہ ان کے ہوش میں آنے کی کوئی امید نہیں۔ اور عقل و فکر کی جو قوتیں عطا کی گئی تھیں ان سب کو انہوں نے بیکار بنادیا۔ ایسے ہی لوگوں کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →171۔ جس نے بیج سرے سے ڈالا ہی نہیں، وہ کھیت کاٹے گا کیا ؟ آخرت تو صرف دارالجزاء کا نام ہے، جب دارالعمل میں کوئی عمل سرے سے ہوا ہی نہیں تو جزائے عمل کیسی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
آیت نمبر 101 تا 110
ترجمہ : اور جب ہم کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسری آیت بندوں کی مصلحت کیلئے نازل کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نازل کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے تو کفار نبی ﷺ سے کہتے ہیں تم تو افترا پر داز ہو جھوٹے ہو، قرآن اپنی طرف سے گھڑ کو لاتے ہو، (ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ قرآن کی حقیقت اور نسخ کے فائدہ سے واقف نہیں ہیں آپ ان کو بتادیجئے کہ اس کو جبرئیل آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں (بالحق) نَزَّلَ کے متعلق ہے کہ اہل ایمان کو اس کے ذریعہ ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہے اور وہ ایک نصرانی لوہار ہے، نبی ﷺ اس کے پاس جایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →لا جرم انھم فی الاخرۃ ھم الخٰسرون (اسلئے) لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہی لوگ گھاٹے میں رہیں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی زندگیاں بالکل بےکار کھو دیں۔ ایسے کاموں میں عمروں کو ضائع کیا جو دوامی عذاب میں ان کو لے جائیں گے اور کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو عذاب سے بچا سکے اور منزل کامیابی تک پہنچا سکے۔ برخلاف گناہگار مسلمانوں کے کہ یہ بھی اپنی زندگیوں کا بیشتر حصہ نفسانی خواہشات اور گناہوں میں برباد کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے چونکہ توحید کا دامن پکڑ لیا ہے ‘ اسلئے کبھی نہ کبھی عذاب الٰہی سے ان کو نجات مل جائے گی اور توحید کا عقیدہ ان کو جنت میں لے جائے گا۔
Read the full tafseer →(109) اے محمد ﷺ یہ یقینی بات ہے کہ آخرت میں یہ لوگ بالکل نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے یہ آیت مبارکہ مذاق اڑانے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ۔۔ : انسان دنیا میں آخرت کے حصول کی تجارت کے لیے آیا ہے، جب وہی حاصل نہ ہوئی تو اس کے خسارے میں کیا شک ہے۔ دیکھیے سورة عصر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
آیت نمبر 107 تا 109
قولہ تعالیٰ : ذلک یعنی اس غضب کی وجہ یہ ہے۔ بانھم استحبوا الحیواۃ الدنیا یعنی انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر پسند کرلیا۔ وان اللہ اس میں ان محل جر میں ہے اور اس کا عطف بانھم پر ہے۔ لا یھدی القوم الکفرین پھر ان کا وصف بیان کیا اور فرمایا : اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم یعنی نصیحتوں کو سمجھنے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ وسمعھم اور اللہ تعالیٰ کا کلام سننے سے ان کے کانوں پر وابصارھم اور آیات کو دیکھنے سے ان کی آنکھوں پر (مہر لگا دی ہے) ۔ واولئک ھم الغفلون اور یہی لوگ اس سے غافل ہیں جس کا ان کے بارے ارادہ کیا جا رہا ہے۔ لا جرم انھم فی الاخرۃ ھم الخسرون اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ترجمہ : 1:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو اپنے اصحاب ؓ سے فرمایا مجھ سے جدا ہوجاؤ جس کے پاس طاقت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ رات کے آخری حصہ تک تاخیر کرے (اپنے چلنے کو) اور جس کے پاس طاقت نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ اول رات میں روانہ ہوجائے جب تم میرے بارے میں سنو کہ میں (مدینہ منور کی) سرزمین میں امن کے ساتھ پہنچ گیا تو میرے ساتھ آملنا حضرت بلال موذن رسول ﷺ خباب عمار ؓ اور قریش میں سے ایک باندی جو مسلمان ہوچکی تھی اور صبح سویرے مکہ سے چل دیئے تو مشرکین ابو جہل نے انکو پکڑ لیا بلال ؓ کے پاس آئے…
Read the full tafseer →[لَا جَرَمَ : کوئی شک نہیں ] [ انهُمْ : کہ یہ لوگ ] [ فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں ] [ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : ہی خسارہ پانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →(جَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) (یہ بات لازمی ہے کہ یہ لوگ آخرت میں بالکل ہی تباہ ہوں گے) نہ صرف یہ کہ جنت سے محروم ہوں گے جس کا ایمان والوں سے وعدہ ہے بلکہ دوزخ کے دائمی عذاب میں داخل کردئیے جائیں گے ظاہر ہے کہ یہ سب سے بڑی تباہ کاری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
حکم مرتد
قال اللہ تعالیٰ : من کفر باللہ من بعد ایمانہ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ان مجرمین کا ذکر تھا جو شواہد نبوت اور دلائل رسالت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر مجرم وہ لوگ ہیں کہ جو ایمان لانے اور تسلیم کرنے کے بعد شیطانی شبہات اور نفسانی وساوس سے متاثر ہو کر حق سے منحرف اور برگشتہ ہوجائیں۔ یعنی ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائیں۔ ان آیات میں مرتد کے عزاب اور اس کی سزا کا بیان ہے مگر اس عذاب سے وہ شخص مستثنیٰ ہے کہ جو بحالت مجبور ہی اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ کفر محض زبان سے بول دے اور دل اس کا ایمان پر قائم اور مستحکم ہو تو ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
89:۔ شرح صدر کے ساتھ کفر کو قبول کرنے پر یہ سزا اس لیے دی جائے گی کہ انہوں نے ضد وعناد کی وجہ سے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اور بوجہ عناد انہیں ہدایت کی توفیق بھی نصیب نہ ہوگی۔ ” اولئک الزین الخ “ ان کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے کے لیے دل، سننے کے لیے کان، اور دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں مگر انہوں نے ان سے کام نہ لیا اور ضد پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کانوں اور آنکھوں پر مہر جباریت ثبت کردی اور ان سے ہدایت کی توفیق سلب کرلی۔ یہ لوگ وسائل علم کو استعمال نہ کرنے کی بنا پر حق سے بالکلیہ غافل ہیں اور آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں رسالت کے علاوہ قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا ، یہ اللہ کا کلام ہے ، جسے جبرائیل امین نے اللہ کی جانب سے پیغمبر ﷺ پر نازل فرمایا مشرکین بہتان لگاتے تھے کہ قرآن پاک منجانب اللہ نہیں بلکہ ایک عجمی شخص سے سیکھ کر آپ اسے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، اللہ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن حکیم تو فصیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بھلا ایک عجمی آدمی یہ کیونکر پیش کرسکتا ہے حالانکہ وہ تو اپنا مافی الضمیر بھی عربی زبان میں پوری طرح بیان نہیں کرسکتا ، اللہ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ایسا افتراء وہی لوگ باندھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ۔
اب آج کی آیات میں اللہ…
Read the full tafseer →لَا جَرَمَ اَنَّہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ 109
جرم ( لاجرم)
وقیل : جَرَمَ وجَرِمَ بمعنی، لکن خصّ بهذا الموضع «جرم» كما خصّ عمر بالقسم، وإن کان عمر وعمر «7» بمعنی، ومعناه : ليس بجرم أنّ لهم النار، تنبيها أنهم اکتسبوها بما ارتکبوه إشارة إلى قوله تعالی: وَمَنْ أَساءَ فَعَلَيْها [ الجاثية/ 15] .
وقد قيل في ذلك أقوال، أكثرها ليس بمرتضی عند التحقیق «1» .
وعلی ذلک قوله عزّ وجل : فَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ [ النحل/ 22] ، لا جَرَمَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يُسِرُّونَ وَما يُعْلِنُونَ [ النحل/ 23] ، وقال تعالی: لا جَرَمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
ترکیب : من کفر بدل ہے الکاذبون سے یا اولئک سے یا الذین لایؤمنون سے اور ممکن ہے کہ مبتدا ہو فعلیہم اس کی خبر۔ الامن استثنائِ مقدم فعلیھم بعض کہتے ہیں مقدم (نہیں بلکہ لبید کے اس شعر) کی طرح ہے۔ الاکل شیء ماخلا اللہ باطل۔ من شرطیہ جواب اس کا محذوف جس پر فعلیھم دال ہے۔ یہ استثنائِ متصل ہے۔
تفسیر : یہاں سے پھر اسی عہد پر جو آنحضرت ﷺ سے بوقت اسلام باندھا جاتا تھا اس لیے اور بھی زیادہ تر قائم رہنے کی تاکید و تہدید ہے کہ جہلائِ مکہ طرح طرح کے شبہات سے دلوں میں وسوسہ ڈالا کرتے تھے اس پر مارپیٹ بھی غریب ایمانداروں سے کیا کرتے تھے کہ جو کوئی اس عہد کو توڑ کر کافر ہوگا تو اس کو سخت سزا ہے مگر ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَسَمْعِہِمْ وَاَبْصَارِھِمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اَجَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 108۔ 109)
(یہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور کے سمع و بصر پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی اور یہی لوگ ہیں جو آخرت سے غافل ہیں۔ لازماً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں ناکام و نامراد ہوں گے۔ )
جو لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد ارتداد کا راستہ اختیار کرتے ہیں وہ درحقیقت روشنی کے بعد اندھیروں کے مسافر بنتے ہیں۔ ان کی آنکھوں نے حقائق کو دیکھا لیکن انھوں نے آنکھیں بند کرلیں۔ ان کے کانوں نے نغمہ ہائے سرمدی سنے لیکن انھوں نے اپنے کان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ دین کی مخالفت اور کفر کو اختیار کیے رکھنے کی بنیادی وجہ۔
دین میں داخل ہونے والا شخص سب سے پہلے اپنی ” انا “ اور نظریات کی قربانی کرتا ہے۔ بسا اوقات اسے دنیاوی مفاد، برادری اور اعزاء و اقارب یہاں تک کہ اسے سماجی اور معاشرتی سٹیٹس چھوڑنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے یہ قربانیاں وہی شخص دے سکتا ہے جو دنیا کے فوائد چھوڑ کر دین کی دعوت پر خوش اور مطمئن ہوجائے۔ یہ کام دنیا پرست شخص نہیں کرسکتا بیشک وہ اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے کتنا ہی اسلام کا پرچار کرنے والا ہو اس بات کو چند الفاظ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے ” جس نے کسی حوالے سے بھی دنیا کو آخرت پر مقدم جانا اور اسلام…
Read the full tafseer →کافر یقینا نقصان میں ہیں :
109 : لَا جَرَ مَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ (لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہ ہی لوگ گھاٹے میں رہیں گے)
Read the full tafseer →” لا جرم “ لازمی بات ہے ۔ ” انھم فی الا خرۃ ھم الخاسرون “ وہ آخرت میں گھاٹے میں ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
106۔ 109۔ اللہ پاک نے اس آیت میں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو ایمان لانے کے بعد پھر اسلام سے پھرجاتے ہیں اور ان کے دل میں کفر کی باتیں سما جاتی ہیں ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا کہ ان لوگوں پر خدا کا غضب ہے ان پر آخرت میں بہت بڑا عذاب ہوگا کیونکہ انہوں نے ایمان کو پہلے جان لیا تھا اور پھر کفر کیا ان لوگوں نے دنیا کی زندگی اور اس کے اسباب کو دوست رکھا اور آخرت کی کچھ پروا نہیں کہ وہاں کیا ہوگا ایسے لوگوں کو خدا کبھی ہدایت نہیں کرتا بلکہ ان کے دل اور کان اور آنکھ پر مہر لگا دیتا ہے کہ نہ تو کسی بات کو سمجھتے ہیں اور نہ حق بات کو سنتے ہیں اور نہ اچھے برے کے دیکھنے کی انہیں تمیز ہوتی ہے۔ یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
آیت : (106-109)
اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احولا بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ (من کفر باللہ من بعد ایمانہ) ” جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد “ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا ‘ راہ پالینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے بضا ورغبت ‘ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کرلیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہوجاتی ہے۔ (ولھم عذاب عظیم) ” اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے “ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہوگا۔
(ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →233۔ غفلت و لاپرواہی باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ۔
سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ آخرت سے غفلت برتنے والے سب سے بڑے خسارے میں پڑے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں سراسر خسارے میں ہوں گے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ انسان کی مثال اس دنیا میں دراصل اس تاجر کی سی ہے جو نفع کمانے کے لئے شہر اور بازار کا رخ کرتا ہے اور اپنا مال کاروبار میں لگاتا ہے۔ اگر صحیح تجارت کا موقع مل گیا اور صحیح طریقے سے کام کیا تو نفع کما لائے گا اور ایک کے بدلے میں کئی گنا حاصل کرے گا۔ ورنہ وہ خسارے سے دوچار ہوگا اور اپنا اصل سرمایہ بھی گنوا بیٹھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
کفار کے کرتوت اور ان کا انجام
تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔
سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
(رکوع نمبر 14)
اسرارومعارف
شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
ف 2 یعنی ان مشرکوں کے مک میں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر درالسلام میں چلے گئے۔
3 مکہ کے بعض مسلمان کافروں کے مظالم سے تنگ آ کر بظاہر کچھ لچک کھا گئے تھے۔ یا بعض الفاظ ناجائز منہ سے کر ڈالے مگر اس کے بعد ایمان کے تقاضے ممکن حد تک پورے کئے یعنی ہجرت کی جہاد میں حصہ لیا اور اپنے موقف پر خوب ڈٹے رہے۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ غلطی معاف فرما دی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
(16:107) طبع علی۔ مہر لگانا۔ طبع اللہ علی قلبہ اس کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی۔ یعنی وہ نیکی کی توفیق سے محروم ہوگیا۔
الغافلون۔ الکاملون فی الغفلۃ۔ نتائج و عواقب سے غفلت۔ غفلت کی انتہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
لغات القرآن آیت نمبر 106 تا 110
اکرہ مجبور کردیا گیا، زبردستی کی گئی۔ شرح کھل گیا۔ صدر دل ، سینہ۔ استحبو انہوں نے پسند کرلیا۔ طبع مہر لگا دی۔ الغفلون بیخبر رہنے والے۔ ھاجروا انہوں نے ہجرت کی۔ فتنوا آزمائش میں ڈالے گئے۔ جاھدو انہوں نے جہاد کیا۔
تشریح : آیت نمبر 106 تا 110
جب نبی کریم ﷺ نے کفار و مشرکین مکہ کے سامنے اللہ کے پیغام کو رکھا تو ابتداء میں آپ کی باتوں پر زیادہ غور نہیں کیا گیا
پھر مذاق اڑانا شروع کیا، اس کے بعد شدید مخالفت کا آغاز ہوا۔ نبی کریم کی تعلیمات کو جو بھی قبول کرتا اس پر انسانیت سوز ظلم و ستم کئے جاتے اور کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ حضرت عمار بن یاسر کی آنکھوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
اس آیت میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے دلوں پر مہر لگا دی ہے وہ حق بات کو نہیں سمجھ سکتے اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے وہ حق بات کو نہیں سن سکتے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے وہ قدرت حق کو نہیں دیکھ سکتے۔ آگے فرمایا کہ یہی لوگ حق سے غافل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ کفار قیامت میں خسارہ پائیں گے۔ کیونکہ عمر کا سرمایہ بازار دنیا میں انہوں نے ضائع کیا اور کچھ نہ خرید کیا اور ان مفلسوں کے پاس بازار قیامت میں ہاتھ خالی اور حسرت بھرے دل کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–112
[65] یہاں کسی خاص شخص کا نام مذکور نہیں صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے، مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے قرآن کو اس کے نام سے بحث نہیں صرف اعتراض سے بحث ہے اور اسی کا جواب اس نے دیا ہے مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ سے قرآن کے معانی اور حقائق تک تو پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور قرآن کے کلام میں زمین و آسمان کا فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
(ف 2) اس آیت میں واضح طور پر بیان فرمایا دیا ہے ، کہ کن لوگوں کے دل پر مہریں لگی ہیں کون محروم ہیں جن پر وعظ ونصیحت کا اثر نہیں ہوتا ۔ ارشاد ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے عمدا دنیا کو دین پر ترجیح دی ، جنہوں نے جان بوجھ کر کفر کو قبول کیا ، اور جو دین کے معارف سے آگاہ نہیں ، تفصیل کے لئے دیکھو پہلے پارہ کی ابتدائی آیات جن میں (آیت) ” ختم اللہ علی قلوبھم پر بحث کی گئی ہے ۔
حل لغات :
من شرح بالکفر صدرا : یعنی کشادہ دلی کے ساتھ اظہار کفر کرے ۔
قلوبھم وسمعہم وابصارھم : یعنی بدلنے والے دل میں تبدیلی کی استعداد نہین رہی دیکھنے والی آنکھ بصیرت ہے ۔
والی : یعنی جبرائیل (علیہ السلام) ، اعجب ۔
Read the full tafseer →109 ۔ اور جب ان کی حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے تو یہ لازمی امر ہے کہ یہ لوگ آخرت میں بھی بالکل گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے۔ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں سے کام نہ لیں اور اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی طاتوں کو ضائع کردیں تو ان سے بڑھ کر آخرت میں کون نقصان اٹھانے والا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
ف 9۔ مراد اس سے ایک عجمی رومی، نصرانی غلام یالوہار ہے جس کا نام بلعام یا مقیس تھا وہ رسول اللہ کی باتیں جی لگا کر سنتا تھا تو حضور ﷺ کبھی اس کے پاس جاکر بیٹھ جاتے اور وہ انجیل وغیرہ کچھ جانتا تھا تو کافروں نے ایک یہ بات نکالی کہ حضور کو یہ سکھلا دیتا ہے اللہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید تو مجموعہ لفظ ومعنی کا نام ہے سو اگر معنی کی جزالت خارقہ کے ادرات کی تم کو تمیز نہیں تو الفاظ بلاغت خارقہ کو تو سمجھ سکتے ہو پس اگر فرض کرلیا جائے کہ مضامین وہ شخص سکھلا دیتا ہے تو یہ تو سوچو کہ یہ الفاظ کہاں سے آگئے۔
Read the full tafseer →یہی لوگ ہیں جو آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں :
123۔ فرمایا ان لوگوں نے اسلام سے منہ موڑا تو کیوں ؟ اس لئے کہ انکی جان بچے لیکن کیا وہ اس طرح اپنی جانوں کو بچاسکے ؟ اگر جواب ہاں ہے تو وہ آج کہاں ہیں ؟ اگر وہ موجود نہیں تو یقینا وہ اپنی جانوں کو بچا نہ سکے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جس مقصد سے کنارہ کشی کی اس مقصد کو وہ حاصل نہ کرسکے اور اپنی آخرت کو مفت میں برباد کیا اور یہ ایسا گھاٹا تھا جس کے پورا ہونے کی کوئی صورت نہ تھی اور نہ ہی ہے اور نہ کبھی ہوگی اور اس طرح وہ دودھ پینے سے گئے اور یہ لید مفت میں اٹھانا پڑی اور جو حال ان کا ہوا وہی ان کے حواریوں کا ہوگا جو ان کی رعایت کے فتوی صادر کر رہے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
Commentary
From the first verse (106) comes the religious ruling about a person who has been compelled to utter a word of infidelity (kufr) under the threat that he would be killed if he did not do that. If he feels that, in all likelihood, the people threatening him have full capability of doing just that, then, this is a state of duress. If he were to utter some word of disbelief verbally - but, with a heart firm on Faith, a heart that shuns saying what is false and evil - then, there is no sin on him, nor will his wife become unlawful for him. (Qurtubi, Mazhari).
This verse was revealed…
Read the full tafseer →110. These words apply to those people who gave up their faith, when they felt that they could not bear hardships of the right way and so they again joined their unbelieving, mushrik people.
Read the full tafseer →