An-Nahl 16:108

An-Nahl · from ayah 108

16:108

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ ۚ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۟اُولٰۤئِكَ الَّذِيۡنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ وَسَمۡعِهِمۡ وَاَبۡصَارِهِمۡ‌ۚ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the ones over whose hearts and hearing and vision Allah has sealed, and it is those who are the heedless.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 14 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:108

یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے یہ غفلت میں ڈوب چکے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ وه لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور جن کے کانوں پر اور جن کی آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غافل ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے، اور یہی لوگ ہیں جو (اپنے انجام سے) بالکل غافل ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ہیں وه جن کے دل اور کان اور آنکھو ں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وہی غفلت مین پڑے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر مُہر لگا دی ہے اور یہی لوگ ہی (آخرت کے انجام سے) غافل ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے اور یہی لوگ ہیں جو بالکل غافل ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور جن کے سمع و بصر پر اللہ نے مہر کردی اور یہی لوگ ہیں جو آخر سے غافل ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی اللہ نے ان کے دلوں پر، (اور اس نے ڈاٹ رکھدئے) ان کے کانوں میں، اور (پردے ڈال دئے) ان کی آنکھوں پر، (ان کی اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی بنا پر) اور یہی لوگ ہیں بیخبر (و بےفکر اپنی آخرت اور انجام سے،)

— مولانا اسحاق مدنی

یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور جن کی سماعت پر اور ان کی بینائی پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ تو (اپنے انجام سے بالکل) غافل ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر کردی ہے اور یہی لوگ ہیں جو غافل ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They are the ones upon whose hearts and hearing and eyes Allah has set a seal. They are utterly steeped in heedlessness.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those are the ones Allah has set a seal on whose hearts, ears and eyes; and they are the heedless.

— Muhammad Taqi Usmani

Those are the ones Allah has set a seal on whose hearts, ears and eyes; and they are the heedless.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They are those upon whose hearts, hearing (ears) and sight (eyes) Allah has set a seal over. And they are the heedless!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Such are they whose hearts and ears and eyes Allah hath sealed. And such are the heedless.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the ones over whose hearts and hearing and vision Allah has sealed, and it is those who are the heedless.

— Saheeh International

God has sealed their hearts, ears and eyes and they are not aware of it.

— Muhammad Sarwar

These are they on whose hearts and their hearing and their eyes Allah has set a seal, and these are the heedless ones.

— Muhammad Habib Shakir

These are they upon whose hearts and hearing and sight Allah hath set a seal; and these! they are the negligent.

— Abdul Majid Daryabadi

Those are they whose hearts, ears, and eyes Allah has sealed up, and they take no heed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:108

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 106–109

ایمان کے بعد کفر پسند لوگ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہوجائیں پھر کفر پہ ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کرلیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بیکار ہوگئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 106–108

سورة النَّحْل 109 اس آیت میں ان مسلمانوں کے معاملے سے بحث کی گئی ہے جن پر اس وقت سخت مظالم توڑے جارہے تھے اور ناقابل برداشت اذیتیں دے دے کر کفر پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ ان کو بتایا گیا ہے کہ اگر تم کسی وقت ظلم سے مجبور ہو کر محض جان بچانے کے لیے کلمہ ٔ کفر زبان سے ادا کردو، اور دل تمہارا عقیدہ کفر سے محفوظ ہو، تو معاف کردیا جائے گا۔ لیکن اگر دل سے تم نے کفر قبول کرلیا تو دنیا میں چاہے جان بچا لو، خدا کے عذاب سے نہ بچ سکو گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جان بچانے کے لیے کلمہ کفر کہہ دینا چاہیے۔ بلکہ یہ صرف رخصت ہے۔ اگر ایمان دل میں رکھتے ہوئے آدمی مجبورا ایسا کہہ دے تو مواخذہ نہ ہوگا۔ ورنہ مقام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 106–109

خلاصہ تفسیر جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے (اس میں کفر بالرسول اور انکار قیامت وغیرہ سب داخل ہیں) مگر جس شخص پر (کافروں کی طرف سے) زبردستی کی جائے (کہ اگر تو کفر کا فلاں کلام یا فلاں قول نہیں کرے گا تو ہم تجھ کو قتل کردیں گے مثلا اور حالات سے اس کا اندازہ بھی ہو کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں) بشرطیکہ اس کا قلب ایمان پر مطمئن ہو (یعنی عقیدے میں کوئی فتور نہ آئے اور اس قول وفعل کو سخت گناہ اور برا سمجھتا ہو تو وہ اس حکم سے مستثنی ہے کہ اس کا ظاہری طور پر کلمہ کفر یا فعل کفر میں مبتلا ہوجانا ایک عذر کی بناء پر ہے۔ اس لئے جو وعید ارتداد کی آ رہی ہے وہ ایسے شخص کے لئے نہیں) لیکن ہاں جو جی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔ فرمایا کہ ایسے لوگ جو ایمان کی روشنی ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد، محض اپنے دنیوی مفادات کی خاطر اس سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں، ان کے کانوں، اور ان کی آنکھوں پر مہر کردیا کرتا ہے اور وہ ہدایت کی توفیق سے بالکل ہی محروم ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود اصل حقیقت پر غور کرتے، نہ کسی دوسرے معقول آدمی کی بات سنتے اور نہ بصیرت حاصل کرنے کے لیے اپنی آنکھیں کھولتے۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت بقرہ کی آیت 7 کے تحت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 108–109

18۔ 1 پس یہ وعظ و نصیحت کی باتیں سنتے ہیں نہ انھیں سمجھتے ہیں اور نہ وہ نشانیاں ہی دیکھتے ہیں جو انھیں حق کی طرف لے جانے والی ہیں۔ بلکہ یہ ایسی غفلت میں مبتلا ہیں جس نے ہدایت کے راستے ان کے لئے مسدود کردیئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 106–109

46: یعنی کسی شخص کو جان کا خوف ہو کہ اگر زبان سے کفر کا کلمہ نہیں کہے گا تو جان چلی جائے گی، تو ایسا شخص معذور ہے، جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، لیکن اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہوگا جو اپنے اختیار کی وجہ سے کفر کی باتیں کرے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 106–109

مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی دنیا طلبی اور ہوا پرستی کے نشہ میں ایسے مست و بیہوش ہیں جن کے ہوش میں آنے کی کوئی امید نہیں۔ خدا کی دی ہوئی قوتیں انہوں نے سب بیکار کردیں۔ آخر کانوں سے حق کی آواز سننے، آنکھوں سے حق کے نشان دیکھنے، اور دلوں سے حق بات سمجھنے اور سوچنے کی توفیق سلب ہوگئی۔ مہر کرنے کا مطلب پہلے سورة بقرہ وغیرہ میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 106–108

آیت 106 مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اس کا اطلاق ایمان کی دونوں کیفیتوں پر ہوگا۔ ایک یہ کہ دل میں ایمان آگیا بات پوری طرح دل میں بیٹھ گئی ‘ دل میں یقین کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ ہاں یہی حق ہے مگر زبان سے ابھی اقرار نہیں کیا۔ ایمان کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ دل بھی ایمان لے آیا اور زبان سے ایمان کا اقرار بھی کرلیا۔ چناچہ ان دونوں درجوں میں سے کسی بھی درجے میں اگر انسان نے حق کو حق جان لیا دل میں یقین پیدا ہوگیا مگر پھر کسی مصلحت کا شکار ہوگیا اور حق کا ساتھ دینے سے کنی کترا گیا تو اس پر اس حکم کا اطلاق ہوگا۔ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ کسی کی جان پر بنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 107–109

113 مہر کن لوگوں کے دلوں پہ لگتی ہے ؟ یہ اس لیے کہ ایسے لوگوں نے اسلام کو حق سمجھ کر قبول تو کرلیا مگر اس کی حقانیت اور مصائب کے عوض اخروی اجر کی قدر و قیمت ان کی نگاہوں میں اتنی بھی نہ تھی کہ اپنے دنیوی مفادات کا وقتی طور پر کچھ نقصان برداشت کرلیتے۔ یہ دنیا طلبی اور ہوا پرستی کے نشہ میں ایسے مست ہوچکے ہیں کہ ان کے ہوش میں آنے کی کوئی امید نہیں۔ اور عقل و فکر کی جو قوتیں عطا کی گئی تھیں ان سب کو انہوں نے بیکار بنادیا۔ ایسے ہی لوگوں کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

170۔ اپنے اختیاری حب دنیا اور آخرت فراموشی کی بنا پر) (آیت) ” طبع۔۔۔ ابصارھم “۔ دل اور کان اور آنکھ پر مہر لگنے پر حاشیہ سورة بقرہ (پارۂ اول) کے پہلے رکوع کے خاتمہ پر آچکا ہے۔ یہ مہر لگنے کا عمل حق تعالیٰ کی طرف سے بہ طور تکوینی علت العلل کے ہوتا ہے، بندہ کے اختیاری کفر کے نتیجہ کے طور پر۔ (آیت) ” اولئک ھم الغفلون “۔ یعنی پلے سرے کے غافل، غفلت میں حد سے گزر جانے والے۔ اے الکاملون فی الغفلۃ الذین لااغفل منھم (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–110

آیت نمبر 101 تا 110 ترجمہ : اور جب ہم کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسری آیت بندوں کی مصلحت کیلئے نازل کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نازل کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے تو کفار نبی ﷺ سے کہتے ہیں تم تو افترا پر داز ہو جھوٹے ہو، قرآن اپنی طرف سے گھڑ کو لاتے ہو، (ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ قرآن کی حقیقت اور نسخ کے فائدہ سے واقف نہیں ہیں آپ ان کو بتادیجئے کہ اس کو جبرئیل آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں (بالحق) نَزَّلَ کے متعلق ہے کہ اہل ایمان کو اس کے ذریعہ ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہے اور وہ ایک نصرانی لوہار ہے، نبی ﷺ اس کے پاس جایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک الذیہ طبع اللہ علی قلوبھم وسمعھم وابصارھم واولئک ھم الغفلون یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ (انجام سے) بالکل غافل ہیں۔ دلوں پر مہر لگنے کی وجہ سے حق کو نہیں جانتے اور کانوں پر مہر لگنے کی وجہ سے حق کو گوش قبول نہیں سنتے اور آنکھوں پر مہر لگنے کی وجہ سے چشم عبرت اندوز سے آیات خداوندی کو نہیں دیکھتے ‘ پس یہ بالکل غافل ہیں کہ صانع عالم کی طرف سے غافل ہیں باوجودیکہ جانور اور بےعقل پتھر بھی اپنے بنانے والے سے بیخبر نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(108) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور یہ لوگ آخرت کے کام سے بالکل غافل ہیں اور اس کو انھوں نے پس پشت ڈال رکھا ہے اور توحید سے غافل اور اس کے منکر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ۔۔ : دیکھنے اور سننے سے حق دکھائی اور سنائی دیتا ہے اور سوچنے سے سمجھ میں آتا ہے، مگر ان کے عناد اور ضد کی وجہ سے ان تینوں چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی، سو وہ حق کی طلب میں انھیں استعمال ہی نہیں کرتے، بلکہ آخرت سے بالکل بیخبر اور بےفکر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 107–109

آیت نمبر 107 تا 109 قولہ تعالیٰ : ذلک یعنی اس غضب کی وجہ یہ ہے۔ بانھم استحبوا الحیواۃ الدنیا یعنی انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر پسند کرلیا۔ وان اللہ اس میں ان محل جر میں ہے اور اس کا عطف بانھم پر ہے۔ لا یھدی القوم الکفرین پھر ان کا وصف بیان کیا اور فرمایا : اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم یعنی نصیحتوں کو سمجھنے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ وسمعھم اور اللہ تعالیٰ کا کلام سننے سے ان کے کانوں پر وابصارھم اور آیات کو دیکھنے سے ان کی آنکھوں پر (مہر لگا دی ہے) ۔ واولئک ھم الغفلون اور یہی لوگ اس سے غافل ہیں جس کا ان کے بارے ارادہ کیا جا رہا ہے۔ لا جرم انھم فی الاخرۃ ھم الخسرون اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 106–110

ترجمہ : 1:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو اپنے اصحاب ؓ سے فرمایا مجھ سے جدا ہوجاؤ جس کے پاس طاقت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ رات کے آخری حصہ تک تاخیر کرے (اپنے چلنے کو) اور جس کے پاس طاقت نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ اول رات میں روانہ ہوجائے جب تم میرے بارے میں سنو کہ میں (مدینہ منور کی) سرزمین میں امن کے ساتھ پہنچ گیا تو میرے ساتھ آملنا حضرت بلال موذن رسول ﷺ خباب عمار ؓ اور قریش میں سے ایک باندی جو مسلمان ہوچکی تھی اور صبح سویرے مکہ سے چل دیئے تو مشرکین ابو جہل نے انکو پکڑ لیا بلال ؓ کے پاس آئے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اُولٰۗىِٕكَ : یہ ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ ہیں ] [ طَبَعَ : چھاپ لگا دی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : جن کے دلوں پر ] [ وَسَمْعِهِمْ : اور جن کی سماعت پر ] [ وَاَبْصَارِهِمْ ۚ : اور جن کی بصارتوں پر ] [ وَاُولٰۗىِٕكَ : اور یہ لوگ ] [ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ : ہی غافل ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ سَمْعِھِمْ وَ اَبْصَارِھِمْ ) (یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی) کفر پر اصرار کرتے رہے ہدایت سے دور ہوتے چلے گئے تو ان کے دلوں کانوں اور آنکھوں پر مہر لگ گئی۔ (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ ) (اور یہ وہ لوگ ہیں جو بالکل ہی غافل ہیں) ان کی غفلت نے ان کو ڈبو دیا دنیا میں ایمان سے اور آخرت میں ابدی نعمتوں سے محروم ہوئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 106–110

حکم مرتد قال اللہ تعالیٰ : من کفر باللہ من بعد ایمانہ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں ان مجرمین کا ذکر تھا جو شواہد نبوت اور دلائل رسالت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر مجرم وہ لوگ ہیں کہ جو ایمان لانے اور تسلیم کرنے کے بعد شیطانی شبہات اور نفسانی وساوس سے متاثر ہو کر حق سے منحرف اور برگشتہ ہوجائیں۔ یعنی ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائیں۔ ان آیات میں مرتد کے عزاب اور اس کی سزا کا بیان ہے مگر اس عذاب سے وہ شخص مستثنیٰ ہے کہ جو بحالت مجبور ہی اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ کفر محض زبان سے بول دے اور دل اس کا ایمان پر قائم اور مستحکم ہو تو ایسا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 107–109

89:۔ شرح صدر کے ساتھ کفر کو قبول کرنے پر یہ سزا اس لیے دی جائے گی کہ انہوں نے ضد وعناد کی وجہ سے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اور بوجہ عناد انہیں ہدایت کی توفیق بھی نصیب نہ ہوگی۔ ” اولئک الزین الخ “ ان کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے کے لیے دل، سننے کے لیے کان، اور دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں مگر انہوں نے ان سے کام نہ لیا اور ضد پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کانوں اور آنکھوں پر مہر جباریت ثبت کردی اور ان سے ہدایت کی توفیق سلب کرلی۔ یہ لوگ وسائل علم کو استعمال نہ کرنے کی بنا پر حق سے بالکلیہ غافل ہیں اور آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 106–110

ربط آیات : گذشتہ آیات میں رسالت کے علاوہ قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا ، یہ اللہ کا کلام ہے ، جسے جبرائیل امین نے اللہ کی جانب سے پیغمبر ﷺ پر نازل فرمایا مشرکین بہتان لگاتے تھے کہ قرآن پاک منجانب اللہ نہیں بلکہ ایک عجمی شخص سے سیکھ کر آپ اسے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، اللہ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن حکیم تو فصیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بھلا ایک عجمی آدمی یہ کیونکر پیش کرسکتا ہے حالانکہ وہ تو اپنا مافی الضمیر بھی عربی زبان میں پوری طرح بیان نہیں کرسکتا ، اللہ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ایسا افتراء وہی لوگ باندھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ۔ اب آج کی آیات میں اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ 108؁ طبع الطَّبْعُ : أن تصوّر الشیء بصورة مّا، كَطَبْعِ السّكّةِ ، وطَبْعِ الدّراهمِ ، وهو أعمّ من الختم وأخصّ من النّقش، والطَّابَعُ والخاتم : ما يُطْبَعُ ويختم . والطَّابِعُ : فاعل ذلك، وقیل للطَّابَعِ طَابِعٌ ، وذلک کتسمية الفعل إلى الآلة، نحو : سيف قاطع . قال تعالی: فَطُبِعَ عَلى قُلُوبِهِمْ [ المنافقون/ 3] ، ( ط ب ع ) الطبع کے اصل معنی کسی چیز کو ( ڈھال کر) کوئی شکل دینا کے ہیں مثلا طبع السکۃ اوطبع الدراھم یعنی سکہ یا دراہم کو ڈھالنا یہ ختم سے زیادہ عام اور نقش سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 106–109

ترکیب : من کفر بدل ہے الکاذبون سے یا اولئک سے یا الذین لایؤمنون سے اور ممکن ہے کہ مبتدا ہو فعلیہم اس کی خبر۔ الامن استثنائِ مقدم فعلیھم بعض کہتے ہیں مقدم (نہیں بلکہ لبید کے اس شعر) کی طرح ہے۔ الاکل شیء ماخلا اللہ باطل۔ من شرطیہ جواب اس کا محذوف جس پر فعلیھم دال ہے۔ یہ استثنائِ متصل ہے۔ تفسیر : یہاں سے پھر اسی عہد پر جو آنحضرت ﷺ سے بوقت اسلام باندھا جاتا تھا اس لیے اور بھی زیادہ تر قائم رہنے کی تاکید و تہدید ہے کہ جہلائِ مکہ طرح طرح کے شبہات سے دلوں میں وسوسہ ڈالا کرتے تھے اس پر مارپیٹ بھی غریب ایمانداروں سے کیا کرتے تھے کہ جو کوئی اس عہد کو توڑ کر کافر ہوگا تو اس کو سخت سزا ہے مگر ان میں سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 108–109

اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَسَمْعِہِمْ وَاَبْصَارِھِمْ ج وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اَجَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 108۔ 109) (یہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور کے سمع و بصر پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی اور یہی لوگ ہیں جو آخرت سے غافل ہیں۔ لازماً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں ناکام و نامراد ہوں گے۔ ) جو لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد ارتداد کا راستہ اختیار کرتے ہیں وہ درحقیقت روشنی کے بعد اندھیروں کے مسافر بنتے ہیں۔ ان کی آنکھوں نے حقائق کو دیکھا لیکن انھوں نے آنکھیں بند کرلیں۔ ان کے کانوں نے نغمہ ہائے سرمدی سنے لیکن انھوں نے اپنے کان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 107–109

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ دین کی مخالفت اور کفر کو اختیار کیے رکھنے کی بنیادی وجہ۔ دین میں داخل ہونے والا شخص سب سے پہلے اپنی ” انا “ اور نظریات کی قربانی کرتا ہے۔ بسا اوقات اسے دنیاوی مفاد، برادری اور اعزاء و اقارب یہاں تک کہ اسے سماجی اور معاشرتی سٹیٹس چھوڑنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے یہ قربانیاں وہی شخص دے سکتا ہے جو دنیا کے فوائد چھوڑ کر دین کی دعوت پر خوش اور مطمئن ہوجائے۔ یہ کام دنیا پرست شخص نہیں کرسکتا بیشک وہ اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے کتنا ہی اسلام کا پرچار کرنے والا ہو اس بات کو چند الفاظ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے ” جس نے کسی حوالے سے بھی دنیا کو آخرت پر مقدم جانا اور اسلام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

108: اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَسَمْعِھِمْ وَاَبْصَارِھِمْ (یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی) پس وہ نہ تو غور و فکر کرتے ہیں۔ اور نہ ہی موا عظ کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ ہدایت کے راستہ کو دیکھتے ہیں۔ وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ (اور وہ ہی غافل ہیں) غفلت میں کمال کو پہنچے ہوئے ہیں کیونکہ جب انجام پر غور کرنے سے غفلت برتی جائے تو یہ غفلت کا آخری درجہ ہے اور اس کی غایت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 106–109

106۔ 109۔ اللہ پاک نے اس آیت میں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو ایمان لانے کے بعد پھر اسلام سے پھرجاتے ہیں اور ان کے دل میں کفر کی باتیں سما جاتی ہیں ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا کہ ان لوگوں پر خدا کا غضب ہے ان پر آخرت میں بہت بڑا عذاب ہوگا کیونکہ انہوں نے ایمان کو پہلے جان لیا تھا اور پھر کفر کیا ان لوگوں نے دنیا کی زندگی اور اس کے اسباب کو دوست رکھا اور آخرت کی کچھ پروا نہیں کہ وہاں کیا ہوگا ایسے لوگوں کو خدا کبھی ہدایت نہیں کرتا بلکہ ان کے دل اور کان اور آنکھ پر مہر لگا دیتا ہے کہ نہ تو کسی بات کو سمجھتے ہیں اور نہ حق بات کو سنتے ہیں اور نہ اچھے برے کے دیکھنے کی انہیں تمیز ہوتی ہے۔ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 106–109

آیت : (106-109) اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احولا بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ (من کفر باللہ من بعد ایمانہ) ” جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد “ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا ‘ راہ پالینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے بضا ورغبت ‘ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کرلیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہوجاتی ہے۔ (ولھم عذاب عظیم) ” اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے “ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہوگا۔ (ذلک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 106–125

جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

231۔ ہٹ دھرمی باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ :۔ سو اس طرح ہٹ دھرموں کے دل ودماغ پر قدرت کی مہر جباریت لگ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ جس سے ان کے دل ودماغ ماؤف اور ان کے کان وآنکھ وغیرہ بند ہوگئے۔ پس نہ یہ حق بات سن سکتے ہیں نہ حق کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی حق بات ان کو سمجھ آسکتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح یہ لوگ محرومی در محرومی کا شکار اور خسارے پر خسارے میں مبتلا ہیں۔ مگر یہ بدبخت ہیں کہ ان کو اس کا احساس تک نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے لوگ جو ایمان کی روشنی دیکھ لینے کے بعد محض دینوی مفادات کی خاطر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 105–114

کفار کے کرتوت اور ان کا انجام تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–110

(رکوع نمبر 14) اسرارومعارف شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 107–108

ف 1 نہ وہ حق بات کو سمجھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ ان نشانیوں کو دیکھتے ہیں جو حق کی طرف رہنمائی کرنے والی ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 107–109

(16:107) طبع علی۔ مہر لگانا۔ طبع اللہ علی قلبہ اس کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی۔ یعنی وہ نیکی کی توفیق سے محروم ہوگیا۔ الغافلون۔ الکاملون فی الغفلۃ۔ نتائج و عواقب سے غفلت۔ غفلت کی انتہا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 106–110

لغات القرآن آیت نمبر 106 تا 110 اکرہ مجبور کردیا گیا، زبردستی کی گئی۔ شرح کھل گیا۔ صدر دل ، سینہ۔ استحبو انہوں نے پسند کرلیا۔ طبع مہر لگا دی۔ الغفلون بیخبر رہنے والے۔ ھاجروا انہوں نے ہجرت کی۔ فتنوا آزمائش میں ڈالے گئے۔ جاھدو انہوں نے جہاد کیا۔ تشریح : آیت نمبر 106 تا 110 جب نبی کریم ﷺ نے کفار و مشرکین مکہ کے سامنے اللہ کے پیغام کو رکھا تو ابتداء میں آپ کی باتوں پر زیادہ غور نہیں کیا گیا پھر مذاق اڑانا شروع کیا، اس کے بعد شدید مخالفت کا آغاز ہوا۔ نبی کریم کی تعلیمات کو جو بھی قبول کرتا اس پر انسانیت سوز ظلم و ستم کئے جاتے اور کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ حضرت عمار بن یاسر کی آنکھوں کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 108–109

اس آیت میں اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے دلوں پر مہر لگا دی ہے وہ حق بات کو نہیں سمجھ سکتے اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے وہ حق بات کو نہیں سن سکتے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے وہ قدرت حق کو نہیں دیکھ سکتے۔ آگے فرمایا کہ یہی لوگ حق سے غافل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ کفار قیامت میں خسارہ پائیں گے۔ کیونکہ عمر کا سرمایہ بازار دنیا میں انہوں نے ضائع کیا اور کچھ نہ خرید کیا اور ان مفلسوں کے پاس بازار قیامت میں ہاتھ خالی اور حسرت بھرے دل کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 103–112

[65] یہاں کسی خاص شخص کا نام مذکور نہیں صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے، مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے قرآن کو اس کے نام سے بحث نہیں صرف اعتراض سے بحث ہے اور اسی کا جواب اس نے دیا ہے مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ سے قرآن کے معانی اور حقائق تک تو پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور قرآن کے کلام میں زمین و آسمان کا فرق…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–109

(ف 2) اس آیت میں واضح طور پر بیان فرمایا دیا ہے ، کہ کن لوگوں کے دل پر مہریں لگی ہیں کون محروم ہیں جن پر وعظ ونصیحت کا اثر نہیں ہوتا ۔ ارشاد ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے عمدا دنیا کو دین پر ترجیح دی ، جنہوں نے جان بوجھ کر کفر کو قبول کیا ، اور جو دین کے معارف سے آگاہ نہیں ، تفصیل کے لئے دیکھو پہلے پارہ کی ابتدائی آیات جن میں (آیت) ” ختم اللہ علی قلوبھم پر بحث کی گئی ہے ۔ حل لغات : من شرح بالکفر صدرا : یعنی کشادہ دلی کے ساتھ اظہار کفر کرے ۔ قلوبھم وسمعہم وابصارھم : یعنی بدلنے والے دل میں تبدیلی کی استعداد نہین رہی دیکھنے والی آنکھ بصیرت ہے ۔ والی : یعنی جبرائیل (علیہ السلام) ، اعجب ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

108 ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور جن کے کانوں پر اور جن کی آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے انجام سے بالکل غافل ہیں ۔ یعنی اصرار علی الکفر کی یہ حالت ہے کہ اسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دل ، کان اور آنکھوں کی مہر کردی ہے نہ حق میں اتر تا ہے نہ کان حق کو سننا گوارہ کرتے ہیں اور نہ آنکھیں حق کو دیکھتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت میں جو ان کا انجام ہونے والا ہے اس سے بالکل غافل ہیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–109

ف 9۔ مراد اس سے ایک عجمی رومی، نصرانی غلام یالوہار ہے جس کا نام بلعام یا مقیس تھا وہ رسول اللہ کی باتیں جی لگا کر سنتا تھا تو حضور ﷺ کبھی اس کے پاس جاکر بیٹھ جاتے اور وہ انجیل وغیرہ کچھ جانتا تھا تو کافروں نے ایک یہ بات نکالی کہ حضور کو یہ سکھلا دیتا ہے اللہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید تو مجموعہ لفظ ومعنی کا نام ہے سو اگر معنی کی جزالت خارقہ کے ادرات کی تم کو تمیز نہیں تو الفاظ بلاغت خارقہ کو تو سمجھ سکتے ہو پس اگر فرض کرلیا جائے کہ مضامین وہ شخص سکھلا دیتا ہے تو یہ تو سوچو کہ یہ الفاظ کہاں سے آگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں ‘ کانوں اور آنکھوں پر مہریں لگائی گئی ہیں : 122۔ یہ کون ہیں جن کے گلے میں اسلام کا خشک لقمہ پھنس گیا اور انہوں نے اسے اگل کر اپنی جان بچائی ؟ یہ وہی ہیں جنہوں نے اسلام سے رشتہ جوڑ کر توڑ لیا جنہوں نے دنیوی زندگی کی آسائش اور آرام پر دار آخرت کو قربان کردیا ایے لوگوں کو ہدایت جیسی نایاب اور بیش قیمت نعمت سے نوازا نہیں جاتا بلکہ ان سے تو فہم وخرد کی قوت سلب کرلی جاتی ہے اور وہ دیدہ حق بیں سے بےنور ہوجاتے ہیں اور ان کے کان صدائے حق سننے سے بہرے ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق اور سچ ان کے دلوں میں نہیں جمتا اور ان کے کان صدائے حق سننے سے بہرے اور ان کی آنکھیں خیرہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–109

Commentary From the first verse (106) comes the religious ruling about a person who has been compelled to utter a word of infidelity (kufr) under the threat that he would be killed if he did not do that. If he feels that, in all likelihood, the people threatening him have full capability of doing just that, then, this is a state of duress. If he were to utter some word of disbelief verbally - but, with a heart firm on Faith, a heart that shuns saying what is false and evil - then, there is no sin on him, nor will his wife become unlawful for him. (Qurtubi, Mazhari). This verse was revealed…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–108

109. This verse deals with the case of those Muslims who were being persecuted with cruelty and were being subjected to unbearable torments to force them to give up their faith. They are being told that if at any time they are forced to utter words of disbelief to save their lives, when in fact in their hearts they are secure against disbelief, they will be pardoned. On the other hand, if they accepted unbelief from the core of their hearts, they shall not escape the torment of Allah even if they succeed in saving their lives. It does not, however, mean that one should utter words of…

Read the full tafseer →