Explained with ayahs 106–109
ایمان کے بعد کفر پسند لوگ
اللہ سبحانہ و تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کے بعد کفر کریں دیکھ کر اندھے ہوجائیں پھر کفر پہ ان کا سینہ کھل جائے، اس پر اطمینان کرلیں۔ یہ اللہ کی غضب میں گرفتار ہوتے ہیں کہ ایمان کا علم حاصل کر کے پھر اس سے پھر گئے اور انہیں آخرت میں بڑا سخت عذاب ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے آخرت بگاڑ کر دنیا کی محبت کی اور صرف دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام پر مرتد ہونے کو ترجیح دی چونکہ ان کے دل ہدایت حق سے خالی تھے، اللہ کی طرف سے ثابت قدمی انہیں نہ ملی۔ دلوں پر مہریں لگ گئیں، نفع کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کان اور آنکھیں بھی بیکار ہوگئیں نہ حق سن سکیں نہ دیکھ سکیں۔ پس کسی چیز نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
سورة النَّحْل 109
اس آیت میں ان مسلمانوں کے معاملے سے بحث کی گئی ہے جن پر اس وقت سخت مظالم توڑے جارہے تھے اور ناقابل برداشت اذیتیں دے دے کر کفر پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ ان کو بتایا گیا ہے کہ اگر تم کسی وقت ظلم سے مجبور ہو کر محض جان بچانے کے لیے کلمہ ٔ کفر زبان سے ادا کردو، اور دل تمہارا عقیدہ کفر سے محفوظ ہو، تو معاف کردیا جائے گا۔ لیکن اگر دل سے تم نے کفر قبول کرلیا تو دنیا میں چاہے جان بچا لو، خدا کے عذاب سے نہ بچ سکو گے۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جان بچانے کے لیے کلمہ کفر کہہ دینا چاہیے۔ بلکہ یہ صرف رخصت ہے۔ اگر ایمان دل میں رکھتے ہوئے آدمی مجبورا ایسا کہہ دے تو مواخذہ نہ ہوگا۔ ورنہ مقام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
خلاصہ تفسیر
جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے (اس میں کفر بالرسول اور انکار قیامت وغیرہ سب داخل ہیں) مگر جس شخص پر (کافروں کی طرف سے) زبردستی کی جائے (کہ اگر تو کفر کا فلاں کلام یا فلاں قول نہیں کرے گا تو ہم تجھ کو قتل کردیں گے مثلا اور حالات سے اس کا اندازہ بھی ہو کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں) بشرطیکہ اس کا قلب ایمان پر مطمئن ہو (یعنی عقیدے میں کوئی فتور نہ آئے اور اس قول وفعل کو سخت گناہ اور برا سمجھتا ہو تو وہ اس حکم سے مستثنی ہے کہ اس کا ظاہری طور پر کلمہ کفر یا فعل کفر میں مبتلا ہوجانا ایک عذر کی بناء پر ہے۔ اس لئے جو وعید ارتداد کی آ رہی ہے وہ ایسے شخص کے لئے نہیں) لیکن ہاں جو جی…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۔ یہ وجہ بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے۔ فرمایا کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اپنی دنیا کی زندگی کو آخر پر ترجیح دی ہے۔ اور خدا کی پکڑ سے بےپروا ہو کر اپنے آپ کو کفر کے حوالے کردیا۔ اللہ ان لوگوں کے لیے تو اپنی ہدایت کی راہ کھولتا ہے جو ہر حال میں اس کی ہدایت ہی کو اپنا نصب العین بناتے ہیں لیکن ان لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا جو مشکلات سے گھبرا کر کفر ہی کو اپنا ملجا و ماوی بنا لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →17۔ 1 یہ ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے (مرتد ہوجانے) کی علت ہے کہ انھیں ایک تو دنیا محبوب ہے۔ دوسرے اللہ کے ہاں یہ ہدایت کے قابل ہی نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
46: یعنی کسی شخص کو جان کا خوف ہو کہ اگر زبان سے کفر کا کلمہ نہیں کہے گا تو جان چلی جائے گی، تو ایسا شخص معذور ہے، جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، لیکن اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہوگا جو اپنے اختیار کی وجہ سے کفر کی باتیں کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔
یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے…
Read the full tafseer →8 یعنی ایسے منکروں کو جو حیات دنیا ہی کو کعبہ مقصود ٹھہرا لیں، کامیابی کا راستہ کہاں ملتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جو کوئی ایمان سے پھرا ہے تو دنیا کی غرض کو، جان کے ڈر سے یا برادری کی خاطر سے یا زر کے لالچ سے جس نے دنیا عزیز رکھی اس کو آخرت کہاں ؟ اگر جان کے ڈر سے لفظ کہے تو چاہیے جب ڈر کا وقت جا چکے پھر توبہ و استغفار کر کے ثابت ہوجائے۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
آیت 106 مَنْ كَفَرَ باللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ
اس کا اطلاق ایمان کی دونوں کیفیتوں پر ہوگا۔ ایک یہ کہ دل میں ایمان آگیا بات پوری طرح دل میں بیٹھ گئی ‘ دل میں یقین کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ ہاں یہی حق ہے مگر زبان سے ابھی اقرار نہیں کیا۔ ایمان کی دوسری کیفیت یہ ہے کہ دل بھی ایمان لے آیا اور زبان سے ایمان کا اقرار بھی کرلیا۔ چناچہ ان دونوں درجوں میں سے کسی بھی درجے میں اگر انسان نے حق کو حق جان لیا دل میں یقین پیدا ہوگیا مگر پھر کسی مصلحت کا شکار ہوگیا اور حق کا ساتھ دینے سے کنی کترا گیا تو اس پر اس حکم کا اطلاق ہوگا۔
اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ
کسی کی جان پر بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
113 مہر کن لوگوں کے دلوں پہ لگتی ہے ؟ یہ اس لیے کہ ایسے لوگوں نے اسلام کو حق سمجھ کر قبول تو کرلیا مگر اس کی حقانیت اور مصائب کے عوض اخروی اجر کی قدر و قیمت ان کی نگاہوں میں اتنی بھی نہ تھی کہ اپنے دنیوی مفادات کا وقتی طور پر کچھ نقصان برداشت کرلیتے۔ یہ دنیا طلبی اور ہوا پرستی کے نشہ میں ایسے مست ہوچکے ہیں کہ ان کے ہوش میں آنے کی کوئی امید نہیں۔ اور عقل و فکر کی جو قوتیں عطا کی گئی تھیں ان سب کو انہوں نے بیکار بنادیا۔ ایسے ہی لوگوں کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →169۔ یعنی اللہ کفر اختیار کرنے والوں پر زبردستی توفیق ہدایت نہیں چپیک دیا کرتا (آیت) ” ذلک۔ یعنی یہی اللہ کا غضب و عذاب۔ (آیت) ” استحبوا الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ۔ استحبوا “۔ کے لفظ میں عزم وقصد شامل ہے۔ بس اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیا کو عمدا وشعورا آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دنیا کی جس قدر محبت درجہ طبیعی میں ہے، اور عین مقتضائے بشریت ہے، وہ اس حکم میں شامل نہیں، یہ بھی فرمایا کہ آیت حب دنیا کے مذموم ہونے کے باب میں نص صریح ہے، جس طرح کہ اس باب میں کہ یہ حب دنیا مذموم وہ ہے جس میں دنیا کو آخرت پر ترجیح دی گئی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
آیت نمبر 101 تا 110
ترجمہ : اور جب ہم کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسری آیت بندوں کی مصلحت کیلئے نازل کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نازل کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے تو کفار نبی ﷺ سے کہتے ہیں تم تو افترا پر داز ہو جھوٹے ہو، قرآن اپنی طرف سے گھڑ کو لاتے ہو، (ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ قرآن کی حقیقت اور نسخ کے فائدہ سے واقف نہیں ہیں آپ ان کو بتادیجئے کہ اس کو جبرئیل آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں (بالحق) نَزَّلَ کے متعلق ہے کہ اہل ایمان کو اس کے ذریعہ ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہے اور وہ ایک نصرانی لوہار ہے، نبی ﷺ اس کے پاس جایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ذلک بانھم استحبوا الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ وان اللہ لا یھدی القوم الکفرین یہ (ایمان کے بعد کفر یا وعید) اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو اخروی زندگی پر ترجیح دے رکھی ہے اور یہ (سبب بھی ہے) کہ اللہ ان لوگوں کو راہ پر نہیں لاتا جو (اس کے علم میں) کافر ہیں۔ یعنی ایسا راستہ نہیں بتاتا کہ وہ ایمان پر جم جائیں اور نہ ان کو کج روی سے بچاتا ہے۔ اللہ نے اس آیت میں کافروں کے کفر کے دو سبب بیان فرمائے ہیں : ایک ظاہری ‘ دوسرا حقیقی۔ ظاہری سبب تو یہ تھا کہ انہوں نے خود کفر کو پسند کر رکھا تھا اور آیات الٰہی میں غور نہیں کرتے تھے اور حقیقی سبب یہ تھا کہ اللہ ان کو ہدایت یاب کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →(107) اور یہ عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں عزیز رکھا اور کفر کو ایمان پر ترجیح دی، اور اللہ تعالیٰ جو اس کے دین کا اہل نہ ہو اسے اپنے دین کی طرف ہدایت دیتا ہے اور نہ اس کو اپنے عذاب سے نجات دیتا ہے۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا۔۔ : عذاب عظیم کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور کفر اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ کی طرف سے توفیق ہدایت سے بھی محروم ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
آیت نمبر 107 تا 109
قولہ تعالیٰ : ذلک یعنی اس غضب کی وجہ یہ ہے۔ بانھم استحبوا الحیواۃ الدنیا یعنی انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت پر پسند کرلیا۔ وان اللہ اس میں ان محل جر میں ہے اور اس کا عطف بانھم پر ہے۔ لا یھدی القوم الکفرین پھر ان کا وصف بیان کیا اور فرمایا : اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم یعنی نصیحتوں کو سمجھنے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ وسمعھم اور اللہ تعالیٰ کا کلام سننے سے ان کے کانوں پر وابصارھم اور آیات کو دیکھنے سے ان کی آنکھوں پر (مہر لگا دی ہے) ۔ واولئک ھم الغفلون اور یہی لوگ اس سے غافل ہیں جس کا ان کے بارے ارادہ کیا جا رہا ہے۔ لا جرم انھم فی الاخرۃ ھم الخسرون اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ترجمہ : 1:۔ ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو اپنے اصحاب ؓ سے فرمایا مجھ سے جدا ہوجاؤ جس کے پاس طاقت ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ رات کے آخری حصہ تک تاخیر کرے (اپنے چلنے کو) اور جس کے پاس طاقت نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ اول رات میں روانہ ہوجائے جب تم میرے بارے میں سنو کہ میں (مدینہ منور کی) سرزمین میں امن کے ساتھ پہنچ گیا تو میرے ساتھ آملنا حضرت بلال موذن رسول ﷺ خباب عمار ؓ اور قریش میں سے ایک باندی جو مسلمان ہوچکی تھی اور صبح سویرے مکہ سے چل دیئے تو مشرکین ابو جہل نے انکو پکڑ لیا بلال ؓ کے پاس آئے…
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ : یہ ] [ بِانهُمُ : اس سبب سے کہ انھوں نے ] [ اسْتَحَبُّوا : ترجیح دی ] [ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا : نزدیکی زندگی کو ] [ عَلَي الْاٰخِرَةِ ۙ: آخری (زندگی) پر ] [ وَان : اور یہ کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَا يَهْدِي : ہدایت نہیں دیتا ] [ الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والے لوگوں کو ]
Read the full tafseer →(ذٰلِکَ بِاَنَّھُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ ) (اللہ تعالیٰ کا یہ غصہ اس لیے ہے کہ انہوں نے دنیا والی زندگی کو آخرت والی زندگی پر ترجیح دی) اصل بات یہ ہے کہ اسلام کو سچا جاننے کے باوجود اسلام قبول نہ کرنا یا اسلام قبول کرکے دوبارہ کفر میں چلا جانا یہ دنیا کی محبت ہی کی وجہ سے ہوتا ہے، عہد اول کے مسلمانوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا تو ہمارے مال چھن جائیں گے یا عہدے جاتے رہیں گے یا زمین و جائیداد سے ہاتھ دھونا پڑے گا یا عزیز و اقارب چھوٹ جائیں گے یا ہم پر مار پڑے گی یا قتل کردئیے جائیں گے، جب ان پر حق واضح ہوگیا تو دنیا اور دنیا کی زندگی اور اہل دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
حکم مرتد
قال اللہ تعالیٰ : من کفر باللہ من بعد ایمانہ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں ان مجرمین کا ذکر تھا جو شواہد نبوت اور دلائل رسالت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر مجرم وہ لوگ ہیں کہ جو ایمان لانے اور تسلیم کرنے کے بعد شیطانی شبہات اور نفسانی وساوس سے متاثر ہو کر حق سے منحرف اور برگشتہ ہوجائیں۔ یعنی ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائیں۔ ان آیات میں مرتد کے عزاب اور اس کی سزا کا بیان ہے مگر اس عذاب سے وہ شخص مستثنیٰ ہے کہ جو بحالت مجبور ہی اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ کفر محض زبان سے بول دے اور دل اس کا ایمان پر قائم اور مستحکم ہو تو ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
89:۔ شرح صدر کے ساتھ کفر کو قبول کرنے پر یہ سزا اس لیے دی جائے گی کہ انہوں نے ضد وعناد کی وجہ سے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اور بوجہ عناد انہیں ہدایت کی توفیق بھی نصیب نہ ہوگی۔ ” اولئک الزین الخ “ ان کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے کے لیے دل، سننے کے لیے کان، اور دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں مگر انہوں نے ان سے کام نہ لیا اور ضد پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کانوں اور آنکھوں پر مہر جباریت ثبت کردی اور ان سے ہدایت کی توفیق سلب کرلی۔ یہ لوگ وسائل علم کو استعمال نہ کرنے کی بنا پر حق سے بالکلیہ غافل ہیں اور آخرت میں ان کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں رسالت کے علاوہ قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا ، یہ اللہ کا کلام ہے ، جسے جبرائیل امین نے اللہ کی جانب سے پیغمبر ﷺ پر نازل فرمایا مشرکین بہتان لگاتے تھے کہ قرآن پاک منجانب اللہ نہیں بلکہ ایک عجمی شخص سے سیکھ کر آپ اسے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، اللہ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن حکیم تو فصیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بھلا ایک عجمی آدمی یہ کیونکر پیش کرسکتا ہے حالانکہ وہ تو اپنا مافی الضمیر بھی عربی زبان میں پوری طرح بیان نہیں کرسکتا ، اللہ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ایسا افتراء وہی لوگ باندھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ۔
اب آج کی آیات میں اللہ…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 107
استحباب
وحقیقة الاستحباب : أن يتحرّى الإنسان في الشیء أن يحبّه، واقتضی تعدیته ب ( علی) معنی الإيثار، وعلی هذا قوله تعالی: وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْناهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمى عَلَى الْهُدى [ فصلت/ 17]
میں ایسا معنی تلاش کرنے کے ہیں جس کی بناء پر اس سے محبت کی جائے مگر یہ ان علی ( صلہ ) کی وجہ سے اس میں ایثار اور ترجیح کے معنی پیدا ہوگئے ہیں اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْناهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمى عَلَى الْهُدى [ فصلت/ 17] کے معنی بھی یہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
ترکیب : من کفر بدل ہے الکاذبون سے یا اولئک سے یا الذین لایؤمنون سے اور ممکن ہے کہ مبتدا ہو فعلیہم اس کی خبر۔ الامن استثنائِ مقدم فعلیھم بعض کہتے ہیں مقدم (نہیں بلکہ لبید کے اس شعر) کی طرح ہے۔ الاکل شیء ماخلا اللہ باطل۔ من شرطیہ جواب اس کا محذوف جس پر فعلیھم دال ہے۔ یہ استثنائِ متصل ہے۔
تفسیر : یہاں سے پھر اسی عہد پر جو آنحضرت ﷺ سے بوقت اسلام باندھا جاتا تھا اس لیے اور بھی زیادہ تر قائم رہنے کی تاکید و تہدید ہے کہ جہلائِ مکہ طرح طرح کے شبہات سے دلوں میں وسوسہ ڈالا کرتے تھے اس پر مارپیٹ بھی غریب ایمانداروں سے کیا کرتے تھے کہ جو کوئی اس عہد کو توڑ کر کافر ہوگا تو اس کو سخت سزا ہے مگر ان میں سے…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنَّہُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ لا وَاَنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 107)
(یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اللہ تعالیٰ کفر اختیار کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ )
ارتداد کا سبب اور اس کا انجام
گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ جس نے ایمان لانے کے بعد ارتداد کا راستہ اختیار کیا اور پھر کفر کے لیے اس نے پوری طرح اپنا سینہ کھول دیا اور اس طرح سے اس نے مکمل طور پر اپنے آپ کو کفر کے حوالے کرکے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے خود کو محروم کرلیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ دین کی مخالفت اور کفر کو اختیار کیے رکھنے کی بنیادی وجہ۔
دین میں داخل ہونے والا شخص سب سے پہلے اپنی ” انا “ اور نظریات کی قربانی کرتا ہے۔ بسا اوقات اسے دنیاوی مفاد، برادری اور اعزاء و اقارب یہاں تک کہ اسے سماجی اور معاشرتی سٹیٹس چھوڑنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے یہ قربانیاں وہی شخص دے سکتا ہے جو دنیا کے فوائد چھوڑ کر دین کی دعوت پر خوش اور مطمئن ہوجائے۔ یہ کام دنیا پرست شخص نہیں کرسکتا بیشک وہ اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے کتنا ہی اسلام کا پرچار کرنے والا ہو اس بات کو چند الفاظ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے ” جس نے کسی حوالے سے بھی دنیا کو آخرت پر مقدم جانا اور اسلام…
Read the full tafseer →107: ذٰلِکَ (یہ) اس میں وعید کی طرف اشارہ ہے اور غضب الہٰی کے اترنے اور عذاب عظیم کے نازل ہونے کی اس میں وعید سنائی گئی ہے۔ بِاَنَّھُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عََلَی الْاٰخِرَۃِ (اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو پسند کیا آخرت پر) انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی۔ باء سببیہ ہے دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے کے سبب۔ وَاَنَّ اللّٰہَ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ (اور بیشک اللہ تعالیٰ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتے) جب تک کہ وہ کفر کو پسند کرتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →” ذلک بانھم اتحبوا “ انہوں نے اس کو ترجیح دی۔
” الحیؤ ۃ الدنیا علی الا خرۃ وان اللہ لا یھدی القوم الکافرین “ ان کو ہدایت نہیں دیتا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
106۔ 109۔ اللہ پاک نے اس آیت میں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو ایمان لانے کے بعد پھر اسلام سے پھرجاتے ہیں اور ان کے دل میں کفر کی باتیں سما جاتی ہیں ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا کہ ان لوگوں پر خدا کا غضب ہے ان پر آخرت میں بہت بڑا عذاب ہوگا کیونکہ انہوں نے ایمان کو پہلے جان لیا تھا اور پھر کفر کیا ان لوگوں نے دنیا کی زندگی اور اس کے اسباب کو دوست رکھا اور آخرت کی کچھ پروا نہیں کہ وہاں کیا ہوگا ایسے لوگوں کو خدا کبھی ہدایت نہیں کرتا بلکہ ان کے دل اور کان اور آنکھ پر مہر لگا دیتا ہے کہ نہ تو کسی بات کو سمجھتے ہیں اور نہ حق بات کو سنتے ہیں اور نہ اچھے برے کے دیکھنے کی انہیں تمیز ہوتی ہے۔ یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
آیت : (106-109)
اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احولا بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ (من کفر باللہ من بعد ایمانہ) ” جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد “ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا ‘ راہ پالینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے بضا ورغبت ‘ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کرلیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہوجاتی ہے۔ (ولھم عذاب عظیم) ” اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے “ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہوگا۔
(ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
226۔ جھوٹ گھڑنا بےایمانوں کا کام۔ والعیاذ باللہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ” انما “ کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ جھوٹ تو وہی لوگ گھڑتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے اللہ کی آیتوں پر کہ ان کو نہ خدا کا خوف ہے نہ آخرت کا ڈر۔ پس ایسے بےایمانوں کا اصل کام جھوٹ بولنا ہے۔ اور سچ اگر یہ لوگ بولیں گے بھی تو وہ عارضی اور وقتی فوائد کے اعتبار سے اور کسی دنیوی مفاد و مصلحت کے پیش نظر کہ ان کے نزدیک اصل چیز متاع دنیا اور اس کا حطام فانی وزائل ہی ہے۔ جس کو دوسرے مقام پر (یستحبوں الحیوۃ الدنیا علی الآخرۃ) کے ارشاد سے بیان فرمایا گیا ہے۔ سوابنائے دنیا کا حال کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ متاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–114
کفار کے کرتوت اور ان کا انجام
تشریح : ان آیات میں پچھلی آیات کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا گیا کہ یہ چند غلاموں سے پوچھ کر قرآن بنا لائے ہیں تو یہ ہر صورت بہتان ہے کیونکہ ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ تو ہمیشہ سے پاکباز اور سچے اور امین مشہور ہیں وہ ہرگز کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی سچائی بیشمار طریقوں سے ثابت ہوچکی ہے۔
سیدنا عمار بن یاسر ؓ کے سامنے ان کے والد یاسر اور ان کی والدہ سمیہ کو شہید کیا گیا (چونکہ عمار اور ان کے والدین ابو جہل کے غلام تھے) چناچہ عمار ؓ نے وہ کچھ کہہ دیا جو کفار آپ سے کہلوانا چاہتے تھے، پھر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
(رکوع نمبر 14)
اسرارومعارف
شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
ف 1 نہ وہ حق بات کو سمجھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ ان نشانیوں کو دیکھتے ہیں جو حق کی طرف رہنمائی کرنے والی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
(16:107) طبع علی۔ مہر لگانا۔ طبع اللہ علی قلبہ اس کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی۔ یعنی وہ نیکی کی توفیق سے محروم ہوگیا۔
الغافلون۔ الکاملون فی الغفلۃ۔ نتائج و عواقب سے غفلت۔ غفلت کی انتہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
لغات القرآن آیت نمبر 106 تا 110
اکرہ مجبور کردیا گیا، زبردستی کی گئی۔ شرح کھل گیا۔ صدر دل ، سینہ۔ استحبو انہوں نے پسند کرلیا۔ طبع مہر لگا دی۔ الغفلون بیخبر رہنے والے۔ ھاجروا انہوں نے ہجرت کی۔ فتنوا آزمائش میں ڈالے گئے۔ جاھدو انہوں نے جہاد کیا۔
تشریح : آیت نمبر 106 تا 110
جب نبی کریم ﷺ نے کفار و مشرکین مکہ کے سامنے اللہ کے پیغام کو رکھا تو ابتداء میں آپ کی باتوں پر زیادہ غور نہیں کیا گیا
پھر مذاق اڑانا شروع کیا، اس کے بعد شدید مخالفت کا آغاز ہوا۔ نبی کریم کی تعلیمات کو جو بھی قبول کرتا اس پر انسانیت سوز ظلم و ستم کئے جاتے اور کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ حضرت عمار بن یاسر کی آنکھوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
کلمہ کفر زبردستی کا گناہ نہیں
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بعد ایمان کے کافر ہوجائے بشرطیکہ وہ کلمہ کفر فقط زبردستی کی وجہ سے ہو، اگر دل میں ایمان کی تصدیق ہوگی اور فقط زبردستی سے کلمہ کفر زنان پر جائے تو اس کا کچھ گناہ نہیں۔ گناہ اس کا ہے جو بغیر کسی کی زبردستی کے اپنی خوشی سے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ کے حق میں نازل ہوئی کہ انہیں اور ان کے والد اور ان کی والدہ اور بلال اور خباب اور سالم ؓ کو کفار نے پکڑ کر سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پھرجائیں۔ لیکن یہ حضرات نہ پھرے تو کفار نے حضرت عمار کے والدین کو بہت بےرحمیوں سے قتل کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–112
[65] یہاں کسی خاص شخص کا نام مذکور نہیں صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے، مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے قرآن کو اس کے نام سے بحث نہیں صرف اعتراض سے بحث ہے اور اسی کا جواب اس نے دیا ہے مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ سے قرآن کے معانی اور حقائق تک تو پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور قرآن کے کلام میں زمین و آسمان کا فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
(ف 1) (آیت) ” الا من اکرہ “۔ الا یہ یہ جملہ معترضہ ہے غرض یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور ارتداد اختیار کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں ، اور عذاب کے مستحق ہیں الا یہ کہ وہ مجبور ہوں مخلصی کے لئے اور کفر کا اظہار کردیں ، مگر دل میں ایمان کا دریا موجزن ہو یہ لوگ اس علم سے مستثنی ہیں ۔
یہ پوزیشن مجبوری کے وقت جائز تو ہے مگر بہتر نہیں ، اس لیے اس کا ذکر بطور استثناء کے کیا ہے ۔
Read the full tafseer →107 ۔ اس عذاب اور غضب الٰہی کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کو عزیز رکھا اور دنیا کی زندگی کو آرت کے مقابلے میں ترجیح دی اور نیز اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ ایسے کافر لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا ۔ یعنی جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں اور کفر پر اصرار کریں اور ایمان لانے کے بعد پھر شرح صدر کے ساتھ مرتدہو جائیں ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور جو کوئی ایمان سے پھرا ہے تو دنیا کی غرض کی جان سے ڈر کر یا برادری کی خاطر سے یا زر کے لالچ سے جس نے دنیا عزیز رکھی اس کو آخرت کہاں اگر جان کے ڈر سے لفظ کہے تو چاہئے جب ڈرکا وقت جا چکے پھر توبہ استغفارکر کہ ثابت ہوجاوے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–109
ف 9۔ مراد اس سے ایک عجمی رومی، نصرانی غلام یالوہار ہے جس کا نام بلعام یا مقیس تھا وہ رسول اللہ کی باتیں جی لگا کر سنتا تھا تو حضور ﷺ کبھی اس کے پاس جاکر بیٹھ جاتے اور وہ انجیل وغیرہ کچھ جانتا تھا تو کافروں نے ایک یہ بات نکالی کہ حضور کو یہ سکھلا دیتا ہے اللہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید تو مجموعہ لفظ ومعنی کا نام ہے سو اگر معنی کی جزالت خارقہ کے ادرات کی تم کو تمیز نہیں تو الفاظ بلاغت خارقہ کو تو سمجھ سکتے ہو پس اگر فرض کرلیا جائے کہ مضامین وہ شخص سکھلا دیتا ہے تو یہ تو سوچو کہ یہ الفاظ کہاں سے آگئے۔
Read the full tafseer →انہوں نے آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی سے محبت کی :
121۔ گزشتہ آیت میں عذاب عظیم کی خبر کن کو سنائی گئی تھی ؟ ان ہی لوگوں کو جنہوں نے ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف مراجعت کی اور پھر واپس لوٹ آنے کی ہمت ان کو نہ ہوئی اور ایسے گھبرائے کہ دوبارہ انہوں نے اسلام کا نام سننا پسند ہی نہ کیا یا ان لوگوں کو جنہوں نے جان بچانا فرض قرار دیا اور لوگوں کے لئے مشکل اوقات کا آسان حل تجویز کردیا ۔ اور ان کو یہ نسخہ دے کر نسخہ لکھنے کی اجرت نقد وصول کرلی اور اپنی پگڑی اور داڑی کے بال میں کمزور دل کے لوگوں کو چھپا لینے کی پوری کوشش کی ‘ فرمایا انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟ اور پھر خود ہی اس کا جواب بھی سنا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–109
Commentary
From the first verse (106) comes the religious ruling about a person who has been compelled to utter a word of infidelity (kufr) under the threat that he would be killed if he did not do that. If he feels that, in all likelihood, the people threatening him have full capability of doing just that, then, this is a state of duress. If he were to utter some word of disbelief verbally - but, with a heart firm on Faith, a heart that shuns saying what is false and evil - then, there is no sin on him, nor will his wife become unlawful for him. (Qurtubi, Mazhari).
This verse was revealed…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
109. This verse deals with the case of those Muslims who were being persecuted with cruelty and were being subjected to unbearable torments to force them to give up their faith. They are being told that if at any time they are forced to utter words of disbelief to save their lives, when in fact in their hearts they are secure against disbelief, they will be pardoned. On the other hand, if they accepted unbelief from the core of their hearts, they shall not escape the torment of Allah even if they succeed in saving their lives.
It does not, however, mean that one should utter words of…
Read the full tafseer →