Explained with ayahs 118–119
دوسروں سے منسوب ہر چیز حرام ہے
اوپر بیان گزرا کہ اس امت پر مردار، خون، لحم، خنزیر اور اللہ کے سوا دوسروں کے نام سے منسوب کردہ چیزیں حرام ہیں۔ پھر جو رخصت اس بارے میں تھی اسے ظاہر فرما کر جو آسانی اس امت پر کی گئی ہے اسے بیان فرمایا۔ یہودیوں پر ان کی شریعت میں جو حرام تھا اور جو تنگ اور حرج ان پر تھا اسے بیان فرما رہا ہے کہ ہم نے ان کی حرمت کی چیزوں کو پہلے ہی سے تجھے بتادیا ہے۔ سورة انعام کی آیت (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ01108) 16۔ النحل :118) میں ان حرام چیزوں کا ذکر ہوچکا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
سورة النَّحْل 118
اشارہ ہے سورة انعام کی آیت وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْ ا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرِ ، الاٰ یَۃ (آیت نمبر 146) کی طرف، جس میں بتایا گیا ہے کہ یہودیوں پر ان کی نافرمانیوں کے باعث خصوصیت کے ساتھ کون کون سی چیزیں حرام کی گئی تھیں۔
اس جگہ ایک اشکال پیش آتا ہے۔ سورة نحل کی اس آیت میں سورة انعام کی ایک آیت کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة انعام اس سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ لیکن ایک مقام پر سورة انعام میں ارشاد ہوا ہے کہ وَمَالَکُمْ اَلَّا تَاْ کُلُوْ ا مِمَّا ذَکِرَ الْمُ اللہِ عَلَیْہ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّ مَ عَلَیْکُمْ (آیت نمبر 119)۔ اس میں سورة نحل کی…
Read the full tafseer →توبہ سے گناہ کی معافی عام ہے خواہ بےسمجھی سے کرے یا جان بوجھ کر
آیت ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ میں لفظ جہل نہیں بلکہ جہالت استعمال فرمایا ہے جہل تو علم کے بالمقابل آتا ہے اور بےعلمی بےسمجھی کے معنی میں ہے اور جہالت کا لفظ جاہلانہ حرکت کے لئے بولا جاتا ہے اگرچہ جان بوجھ کر کرے اس سے معلوم ہوگیا کہ توبہ سے گناہ کی معافی بےسمجھی یا بےاختیاری کے ساتھ مقید نہیں۔
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
یہ اوپر کی تنبیہات کے بعد ایک بشارت ہے پیغمبر کو خطاب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ خدا کی واضح ہدایات کے باوجود اب تک غلطیوں، جہالتوں اور تعصبات میں گرفتار رہے ہیں ان کے لیے اب بھی نجات کی راہ کھلی ہوئی ہے تمہارا رب ان لوگوں کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ جنہوں نے جہالت کے سبب سے برائیاں کیں پھر اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلی مطلب یہ ہے کہ تمہاری بعثت سے قبل جو تاریکی کا دورگزرا ہے اس میں لوگوں نے جو خدا کی نافرمانیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
118۔ 1 دیکھئے سورة الا نعام، (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَآ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَآ اَوِ الْحَوَايَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۭذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ ڮ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ) 6۔ الانعام :146) کا حاشیہ، نیز سورة نساء۔ (فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا) 4۔ النساء :160) میں بھی اس کا ذکر ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
51: بتلانا یہ مقصود ہے کہ کفار مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم ؑ کے دین کا پیرو کہتے تھے، حالانکہ جن حلال چیزوں کو ان مشرکین نے حرام کر رکھا تھا۔ وہ حضرت ابراہیم ؑ کے وقت ہی سے حلال چلی آتی تھیں۔ البتہ ان میں سے صرف چند چیزوں کو یہودیوں پر بطور سزا حرام کردیا گیا تھا۔ جیسا کہ سورة نساء آیت 16 میں گذر چکا ہے۔ باقی سب چیزیں اس وقت سے آج تک حلال ہی چلی آتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
بنی اسرائیل پر یہ چیزین اس لئے حرام کی گئی تھیں کہ وہ مسلسل نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرتے تھے اور یہ ان کی جانب سے خود پنے آپ پر ظلم تھا۔ اب اگر کسی نے برے کام پر اصرار نہ کیا اور جہالت سے سچے دل سے تائب ہوگیا تو اللہ غفور الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ آیت عام ہے یہودیوں کے لئے بھی تھی اور ان کے بعد آج مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ نیز آج یہودی اور غیر یہودی کافر اگر تائب ہوجائیں تو ان کے بھی تمام گناہ بخشے جائیں گے۔
اس مناسبت سے کہ بعض چیزیں یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں اور یہ کہ اہل مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور جن چیزوں کو انہوں نے اپنے الہوں کے نام پر حرام…
Read the full tafseer →5 مثلاً حرام کو حلال یا حلال کو حرام بنایا۔ " نادانی سے " اس لیے فرمایا کہ خدا کی جو نافرمانی اور گناہ آدمی کرتا ہے خواہ جان بوجھ کر کرے، وہ فی الحقیقت نادان اور بےعقل بن کر کرتا ہے۔ اگر ذرا عقل سے کام لے اور گناہ کے بد نتائج کا تصور کرے تو ہرگز معصیت پر اقدام نہیں کرسکتا۔ (اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَي اللّٰهِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰۗىِٕكَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَيْھِمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا) 4 ۔ النسآء :17) کے تحت میں جو اس کے متعلق لکھا گیا ہے اسے بھی ایک مرتبہ ملاحظہ کرلیا جائے۔
6 یعنی کفریات سے توبہ کر کے مسلمان…
Read the full tafseer →آیت 119 ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
جو لوگ جذبات کی رو میں بہہ کر یا نادانی میں کوئی گناہ کر بیٹھیں ‘ پھر توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں اور غلط روش سے باز آجائیں تو ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ ضرور غفورو رحیم ہے۔
Read the full tafseer →122 توبہ کے قبول ہونے کی شرائط :۔ توبہ کی قبولیت کی شرائط کا ذکر پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر 160 اور سورة انعام کی آیت نمبر 54 کے تحت گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ کہ انسان نے جو گناہ کیا ہو وہ بھول کر یا لاعلمی کی بنا پر کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ جب اسے گناہ کا احساس ہو تو فوراً اللہ کے حضور توبہ کرے پھر اس گناہ کے آئندہ کبھی نہ کرنے کا عہد کرے پھر اگر اس جرم میں کسی کا حق غصب کیا ہو تو اس سے معاف کرائے یا اسے کسی نہ کسی طریقہ سے ادائیگی کرے تو امید ہے کہ اللہ اس کا گناہ معاف کر دے گا اور اگر گناہ ہی دیدہ دانستہ یا بددیانتی کی بنا پر کرے کہ بعد میں توبہ تائب کرلیں گے یا گناہ سے توبہ کے بعد پھر اسی گناہ کا…
Read the full tafseer →181۔ (چنانچہ ان نادانوں نافرمانوں کے بھی قصوروں سے درگزر کردے گا) (آیت) ” ثم تابوا من بعد ذلک اصلحوا “۔ یعنی حسب احکام وقواعد شرعی، ماضی سے متعلق توبہ اور حال سے متعلق اصلاح کرلے۔ (آیت) ” للذین عملوا۔۔۔۔ واصلحوا “۔ ملاحظہ ہوں سورة النساء رکوع 3 کے حاشیے۔ (آیت) ” السوٓء “۔ اس کے تحت میں چھوٹی بڑی ہر قسم کی برائی، معصیت آگئی، یہاں تک کہ کفر وشرک بھی، ھو مایسئی صاحبہ من کفر او معصیۃ ویدخل فیہ الافتراء علی اللہ وعن ابن عباس انہ الشرک والتعمیم اولی (روح) (آیت) ” من بعدھا “۔ ضمیر توبہ واصلاح کی جانب ہے، اے التوبۃ کما قال غیر واحد ولعل الاصلاح مندرج فی التوبۃ (روح) (آیت) ” ثم تابوا “۔ میں ثم تاکید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
آیت نمبر 111 تا 119
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنے ہی لئے دلیل و حجت کرتا ہوا آئیگا، اسے کسی دوسرے کا کچھ غم نہ ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہوگا، اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائیگا اور ان پر مطلقًا ظلم نہ کیا جائیگا اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں قریۃً ، مثلاً سے بدل ہے (اور) وہ بستی مکہ ہے اور مراد مکہ کے رہنے والے ہیں، کہ وہ تاخت و تاراج سے مامون و مطمئن تھے کسی تنگی یا خوف کی وجہ سے ان کو وہاں سے منتقل ہونے کی ضرورت نہیں تھی اس بستی والوں کا رزق با فراغت ہر جگہ سے چلا آرہا تھا پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کرکے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی…
Read the full tafseer →ثم ان ربک للذین عملوا السوء بجھالۃ ثم تابو من بعد ذلک واصلحوا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم پھر آپ کا رب ایسے لوگوں کیلئے جنہوں نے نادانی کے سبب گناہ کرلیا ہو ‘ پھر اس کے بعد توبہ کر کے اعمال درست کر لئے ہوں ‘ بلاشبہ توبہ کے بعد آپ کا رب (ان کو) معاف کردینے والا ‘ بڑا مہربان ہے۔
عَمِلُوا السُّوْٓءَبدی کفر ہو یا گناہ۔ بِجَھَالَۃٍ نہ جاننے کے سبب یا جہالت کی حالت میں ‘ یعنی اللہ کو اور اس کے عذاب کو نہ جاننے کی حالت میں اور نتیجہ پر غور نہ کرنے کے سبب محض خواہش نفس کے زیر اثر کوئی گناہ کرلیا ہو۔ لْغَفُوْر اس گناہ کو معاف کردینے والا ہے۔ رَحِیْم بڑا مہربان ہے ‘ توبہ کرنے اور اللہ کی طرف رجوع ہوجانے…
Read the full tafseer →(119) پھر محمد ﷺ آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے جہالت سے جان بوجھ کر یا اس سے ناواقف ہو کر کوئی برا کام کرلیا ہو اور اس کے بعد توبہ کرلی اور نیک اعمال پرکار بند ہوگئے تو آپ کا رب اس توبہ کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا اور ان پر بڑی رحمت کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام گناہ گاروں کو، وہ یہودی ہوں یا عیسائی یا مشرک یا مسلمان، سب کو توبہ اور اصلاح کے بعد بےانتہا مغفرت اور رحمت کی نوید سنائی ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جہالت کا معنی لاعلمی نہیں بلکہ بےوقوفی اور اکھڑ پن ہے، جو آدمی سے بےعقلی کے کاموں کا ارتکاب کرواتا ہے، جیسا کہ گھر سے نکلنے کی لمبی دعا میں ہے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ۔۔ أَجْھَلَ أَوْ یُجْھَلَ عَلَيَّ) ”اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ۔۔ میں کسی پر جہالت کروں یا کوئی مجھ پر جہالت کرے۔“ [ أبوداوٗد، الأدب، باب ما یقول إذا خرج…
Read the full tafseer →آیت نمبر 119
قولہ تعالیٰ : ثم ان ربک للذین عملوا السوٓء اس میں سوء سے مراد شرک ہے ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور یہ بحث سورة النساء میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سورة انعام ہیں ہے۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قبل “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیان فرمایا اس کا ذکر سورة انعام میں ہے جیسے کہ فرماتے ہیں (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمناکل ذی ظفر “ سے لے کر ” وانا لصدقون “ تک۔
Read the full tafseer →[ثُمَّ : پھر (بھی)] [ ان : بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [ عَمِلُوا : عمل کیا ] [ السُّوْۗءَ : بُرا ] [ بِجَــهَالَةٍ : نادانی کے سبب سے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ تَابُوْا : انھوں نے توبہ کی ] [ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [ وَاَصْلَحُوْٓا ۙ: اور انھوں نے (اپنی) اصلاح کی ] [ ان : (تو) بیشک ] [ رَبَّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [ مِنْۢ بَعْدِهَا : اس کے بعد ] [ لَغَفُوْرٌ: یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →اللہ توبہ قبول فرماتا ہے اور مغفرت فرماتا ہے
گزشتہ چند رکوع میں متعدد احکام مذکور ہیں اور احکام کی خلاف ورزیوں پر آخرت کے عذاب کی وعید اور توبہ کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت کا وعدہ بھی مذکور ہے۔ اس رکوع کے ختم پر بھی ان لوگوں کے لیے مغفرت اور رحمت کا وعدہ فرمایا جنہوں نے جہالت یعنی حماقت سے گناہ کرلیے پھر توبہ کرلی۔ اور احوال و اعمال درست کرلیے اگر کوئی کافر و مشرک بھی توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اس کا بھی سب کچھ معاف کردیا جاتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی شان غفاریت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–119
تہدید بآفات ونیویہ برمعصیت و کفران نعمت
قال اللہ تعالیٰ : وضرب اللہ مثلا قریۃ کانت امنۃ .... الیٰ .... لغفور رحیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفر اور معصیت پر عذاب اخروی کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ بعض مرتبہ دنیا میں بھی کفر اور معصیت اور کفران نعمت پر طرح طرح کی آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط سالی اور عام بیماری اور بسا اوقات کفر اور کفران نعمت دنیا ہی میں زوال نعمت کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ مکہ کے لوگ سات سال تک شدید قحط میں رہے یہاں تک کہ مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں کھانے لگے اور ضعف اور ناطاقتی سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا بالآخر مجبور ہو کر سرداران قریش نے آنحضرت ﷺ سے…
Read the full tafseer →98:۔ ” ثم “ تعقیب زکری کے لیے ہے یعنی پھر یہ بات بھی سن لو اور یہ بھی ” ضرب اللہ مثلا “ سے متعلق ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان تھا کہ اس نے مشرکین مکہ کو عذاب سے بالکلیہ ہلاک نہیں کردیا بلکہ انہیں سوچنے، سمجھنے اور عبرت پکڑنے کے لیے مزید مہلت دی اس لیے جو لوگ نادانی اور بےسمجھی سے کفر و شرک کرتے رہے ہیں اگر وہ اب بھی یعنی عذاب قحط اٹھ جانے کے بعد بھی صدق دل سے توبہ کر کے دین اسلام قبول کرلیں، کفر و شرک سے باز آجائیں اور اعمال صالحہ کو بجا لائیں تو اللہ تعالیٰ ایسا مہربان ہے کہ ان کے تمام سابقہ گناہ معاف کردے گا۔ ” السوء “ سے مراد شرک ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے۔ السوء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–119
(چاروں چیزیں)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوچکا ہے کہ حلال اور طیب چیزیں کھاؤ ، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے چار قطعی حرام چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، حلت و حرمت کا یہ قانون اس سے پہلے سورة بقرہ سورة مائدہ اور سورة انعام میں بھی بیان ہوچکا ہے ، یہ بڑا اہم مسئلہ ہے جس کی پابندی اہل ایمان کے لیے نہایت ضروری ہے ان محرمات میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ماکولات میں شمار ہیں اور لوگوں کا اکثر وبیشتر ان اشیاء سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ، یہ مسئلہ بیان کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر مشرک مذکورہ محرمات کو برا…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْٓا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 119ۧ
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–122
ترکیب : علٰی حرمنا سے متعلق ہے من قبل قصصنا سے۔ انفسہم یظلمون کا مفعول بجہالہ عملوا سے متعلق۔ کان جملہ ان کی خبر۔ امۃ اماماً کان کی خبر اول قانتا خبر ثانی اسی طرح حنیفًا بھی خبر ہے ولم یک جملہ معطوف ہے کان پر اسی طرح شاکرًا بھی خبر کان۔
تفسیر : یہاں سے وہ تحریم بیان کی جاتی ہے جو اگلے لوگوں پر ان کی سرکشی سے واقع ہوئی تھی فرماتا ہے وعلٰی الذین ھادوا حرمنا یعنی یہود پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا ذکر اے نبی ! ہم نے پہلے آپ سے سورة انعام وغیرہ میں کیا ہے جیسا کہ فرمایا تھا حرمنا علیہم کل ذی ظفر و من البقرو الغنم حرمنا علیہم شحومہما کہ ہم نے یہودیوں پر کھروالا جانور حرام کردیا تھا ‘ گائے…
Read the full tafseer →ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓئَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْٓا لا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ م بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (سورۃ النحل : 119)
(پھر بیشک آپ ﷺ کا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نادانی سے برائی کا ارتکاب کیا پھر اس کے بعد انھوں نے توبہ کرلی اور اپنے آپ کو سنوار لیا، بیشک آپ ﷺ کا پروردگار اس کے بعد بہت بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے)
رحمت کا دریچہ
گزشتہ آیات کریمہ میں پروردگار نے مشرکینِ مکہ کے مختلف اعتراضات کا جواب دیا اور ان کے مشرکانہ رویئے پر تنقید بھی کی اور انھیں ان کے انجام سے بھی ڈرایا۔ اب اس آیت کریمہ میں اچانک ایک بشارت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ظلم کرنے کے باوجود جن لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے۔
بنیادی طور پر انسان خطا کا پتلا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک معاف کرتا رہتا ہے۔ جب تک انسان اس کے حضور معافی کا خواستگار رہتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہوئے اس کا جواز پیش کرے تو پھر اسے توبہ کی توفیق نہیں ملتی۔ جس کے بارے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ جس نے بھی برے کام کیے پھر اس کے گناہوں نے اسے گھیر لیا ایسے لوگ اہل جہنم ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (البقرۃ : 81)
البتہ جنہوں نے جہالت کی بناء پر گناہ کیے اور پھر توبہ کی یقیناً اللہ انہیں معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے یہاں توبہ کی قبولیت کے لیے ایک شرط…
Read the full tafseer →نادانی اور کفارہ بشرط اصلاح معاف ہے :
119: ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْئَ بِجَھَالَۃٍ (پھر آپکارب ایسے لوگوں کیلئے جنہوں نے نادانی کے سبب گناہ کرلیا)
نحو : یہ حال ہے ای عَمِلُوا السُّوْئَ جَاہِلِیْنَ ۔ انہوں نے برا کام کیا اس حال میں کہ جہالت اختیار کرنے والے تھے۔ انجام کو سوچنے والے نہ تھے۔ اور وہ گناہ غلبہ شہوت سے کیا۔ انکا مقصود خواہش کی لذت تھی مولیٰ کی نافرمانی مقصود نہ تھی۔ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ 0 بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا اِنَّ رَبَّکَ مِنْ 0 بَعْدِھَا (پھر انہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح و درستی کرلی۔ بیشک آپکا رب اس کے بعد) یعنی تو بہ کے بعد لَغَفُوْرٌ…
Read the full tafseer →(119)” ثم ان ربکم للذین عملوالسوء بجھالۃ ثم تابوامن بعد ذلکم واصلحوا “ اپنی توجہ پر استقامات ہونے کے باوجود کوئی گناہ سرزد ہوگیا ۔ ’ ’ ان ربکم من یعلھا “ ان کی جہالت کی وجہ سے یا خواہش نفس کی وجہ سے اور گناہ کے نتیجہ پر غور نہ کرنے پر ” لغفور رحیم “ تو اس گناہ کو معاف فرمادیں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
118۔ 119۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہود کے حال کا بیان فرمایا کہ ان پر جو جو چیزیں حرام اور جو جو چیزیں حلال کی گئیں تھیں ان کا ذکر پہلے سورت انعام کی آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر و الفنم حرمنا علیھم شحومہما الا ماحملت ظھورھما (6: 46) میں گزر چکا ہے پھر فرمایا کہ یہ بات اللہ کی طرف سے بطور ظلم کے نہیں تھی بلکہ ان ہی یہود کی بغاوت اور ظلم کا نتیجہ تھا کہ بطور عذاب کے بہت سی چیزیں ان پر حرام کردی گئیں تھیں کیونکہ خدا ظالم نہیں ہے جو ناحق کسی پر حلال شئے کو حرام کرتا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے یہ…
Read the full tafseer →آیت : (119)
اگر کوئی شخص گناہ کے انجام سے لا علمی کی بنا پر گناہ کر بیٹھتا ہے ‘ خواہ وہ گناہ عمداً ہی کیوں کہ کیا ہو تو گناہ کے ارتکاب کے وقت اس کے قلب میں لازمی طور پر علم کم ہوجاتا ہے۔ جب وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیتا ہے ‘ یعنی ترک گناہ کے بعد گناہ پر نادم ہوتا ہے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے ‘ اس پر رحم کرتا ہے ‘ اس کی توبہ قبول کر کے اس کو اس کی پہلی حالت کی طرف لوٹا دیتا ہے یا پہلے سے بھی بلند تر مقام عطا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–125
جبر و اکراہ کی صورت میں کلمہ کفر کہنا جائز ہے
قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے (وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تب توخیر) معمر نے عبدالکریم سے، انہوں نے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے اس آیت کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ مشرکین نے حضرت عمار اور ان کے ساتھ مسلمانوں کے ایک گروہ کو پکڑ لیا اور پھر انہیں سخت اذیتیں پہنچانی شروع کردیں یہاں تک کہ مشرکین ان مسلمانوں سے انکار اسلام اور اظہار شرک کا مقصد حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرکین مکہ غریب اور بےآسرا مسلمانوں کو طرح طرح کی…
Read the full tafseer →256۔ سچی توبہ باعث سرفرازی۔ وباللہ التوفیق :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور انہوں نے صحیح معنوں میں توبہ کرلی “ کہ انہوں نے اپنے جرم و گناہ کی روش کو ترک کردیا اور آئندہ کبھی ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرلیا۔ دل میں اپنے کئے پر نادم و پشیمان بھی ہوئے۔ اور جو کوئی حقوق ذمے تھے انکو بھی انہوں نے ادا کردیا۔ تو ایسے شخص کی توبہ سچی توبہ ہوگی اور ایسے لوگوں کی توبہ صحیح معنوں میں توبہ قرار پائے گی۔ اور ایسے ہی لوگ سچی توبہ کے فوائد وثمرات سے متمتع و مستفید ہوں گے۔ سو اوپر کی تنبیہات کے بعد اب پیغمبر کو خطاب کرکے ایسے غلط کار لوگوں کے بارے میں ایک بشارت سے نوازا گیا ہے کہ جو لوگ آپ کی بعثت سے قبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–119
حرام چیزیں اور اللہ کے احکامات
تشریح : حرام حلال کو بڑی وضاحت سے سورة بقرہ، المائدہ اور سورة الانعام میں بیان کیا جا چکا ہے۔ خاص نکات دہرا دیے جاتے ہیں۔
(1) مجبوری میں معافی مل سکتی ہے۔
(2) اللہ کے بنائے ہوئے احکامات میں دخل اندازی کی سخت ممانعت ہے۔
(3) اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھنا بڑے سخت عذاب کا سبب بنے گا۔
(4) یہودیوں پر بہت سی چیزیں صرف اس لیے حرام کردی گئی تھیں کیونکہ انہوں نے اللہ کے احکامات کے بارے میں بڑے سوال کیے، لہٰذا اللہ کے احکامات کے بارے میں زیادہ سوال کرنا خود اپنے اوپر ظلم کرنے کے برابر ہے۔
(5) سچی توبہ پوری شرائط کے ساتھ قبول ہوسکتی ہے۔ کیونکہ بخش دینا اور رحم کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–119
(رکوع نمبر 15)
اسرارومعارف
قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
ف 1 انہوں نے خود دعا کی تھی۔ والحقی بالصالحین یعنی مجھے نیک بندوں سے ملا دے (سعراء 83) سو اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی (شوکانی)
Read the full tafseer →(16:119) من بعدھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع توبہ ہے (جیسا کہ ثم تابوا من بعد ذلک سے ظاہر ہے) یا اس کا مرجع الاصلاح ہے جو کہ توبہ میں مندرج ہے اور توبہ کی تکمیل کے لئے شرط ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–119
لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 119
کلوا کھاؤ۔ رزق اس نے رزق دیا۔ ایاہ اس کی۔ تعبدون تم عبادت کرتے ہو۔ حرم حرام کردیا، روک دیا۔ المیتۃ مردار۔ الدم خون۔ الحم الخنزیر خنزیر کا گوشت۔ اھل پکارا گیا۔ اضطر مجبور کردیا گیا، مجبور ہوگیا۔ غیر باغ بغاوت کا ارادہ نہ ہو۔ لاعاد نہ زیادتی کا ارادہ ہو۔ لاتقولوا تم نہ کہو۔ تصف بنا لی ہے۔ قصصنا ہم نے بتایا، بیان کیا۔ یظلمون وہ ظلم کرتے ہیں۔ بجھالۃ نادانی۔ تابو توبہ کرلی۔ اصلحوا اصلاح کرلی۔
تشریح : آیت نمبر 114 تا 119
جس شخص کو بات بات پر اعتراض اور کج بخشی کرنے کی عادت پڑجاتی ہے اس کے سامنے کتنی ہی معقول سے معقول حقیقت کو پیش کردیا جائے تب بھی وہ اس میں کوئی نہ…
Read the full tafseer →پھر فرمایا کہ تیرا رب ایسا رحیم اور کریم ہے کہ جو لوگ ناعاقبت اندیشی سے برے کام کرتے ہیں، پھر اس کے بعد گناہوں سے پشیمان ہو کر نادم ہوتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں اور اچھے کام کرنے لگتے ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھی رحمت سے پیش آتا ہے۔ ان کے گناہ معاف کر کے ان پر مہربانی فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
[69] اشارہ ہے سورة انعام کی آیت 146 کی طرف۔ یہاں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو مشرکین مکہ نے مذکورہ بالا حکم پر کیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ بنی اسرائیل کی شریعت میں جو چیزیں حرام تھیں تم نے انھیں حلال کر رکھا ہے۔ اگر ان کی شریعت اللہ کی طرف سے تھی اور تمہاری شریعت بھی اللہ کی طرف سے ہے تو پھر دونوں شریعتوں میں اختلاف کیسا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–123
کون کون سی چیزیں حرام ہیں ؟ :
(ف 1) قرآن حکیم ایک مکمل شریعت ہے اس میں توحید و تفرید کے معارف بھی ہیں ، اور ضروری آداب وعوائد بھی ،
کامل نظام مذہب کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس میں ضروریات انسانی کی ہر چیز موجود ہو ، چناچہ قرآن سب باتوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتا ہے ۔
کھانا پینا بھی چونکہ تہذیب انسانی کا ایک ضروری جزو ہے اس لئے قرآن اس کے متعلق بھی ضروری ہدایات سے مشرف کرتا ہے ،
قرآن کہتا ہے پاکیزہ چیزیں بلا تکلف کھاؤ جن میں مضرت نہ ہو ، جو ناپاک نہ ہوں ، جن کو ذوق سلیم گوارا کرلے ، جن کے کھانے سے اخلاقی ومذہبی مضرتیں نہ پیدا ہوں ، اور جو چیزیں ان صفات سے عاری ہوں ، وہ غذا کے قابل نہیں وہ حرام…
Read the full tafseer →119 ۔ پھر بیشک آپ کا پروردگار ان لوگوں کے لئے جنہوں نے جہالت اور نا دانی سے کوئی برا کام کرلیا پھر اس برائی کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور انہوں نے اپنی اصلاح کرلی تو بیشک آپ کا پروردگار اس توبہ کے بعد بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ برے اعمال سے مراد ہر قسم کی برائی ہے یا حلال کو حرام کرلینا ۔
جہالت کا مطلب یہ ہے کہ نا دانی سے کوئی برا عمل کرلیا یا جو شخص گناہ کرتا ہے تو وہ بےعقل ہوتا ہے اگر عقل سے کام لے اور تھوڑی سی توجہ اور سمجھ سے کام لے تو گناہ سے بچ سکتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں جو برا کام کرلے وہ جاہل ہے ۔ بہرحال برے کام کرنے والے اپنے کفریات اور اپنے افتراء سے توبہ کرلیں…
Read the full tafseer →ف 1۔ اوپر شرک کفر کے اصول و فروع یعنی انکار توحید و انکار رسالت وتحریم کا ابطال اور رد کیا گیا ہے چونکہ مشرکین مکہ جن سے ان مضامین کا اول خطاب ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں تھے اور اپنے کو ان کے طریقے پر بتلاتے تھے اس لیے آگے مضامین مذکورہ کی تقویت کے لیے کان امة میں ابراہیم کے مقتدائے خلق ہونا جس کا حاصل نبوت و رسالت ہے اور لیک من المشرکین میں مع سیاق وسباق ان کا مشرک نہ ہونا کہ توحید ہے اور انما جعل السبت میں اشارة طیبة کا ان کے یہاں حرام نہ ہونا اور قانتا کے عموم سے تحلیل حرام وتحریم حلال بالہوی دونوں کانہ ہونا اور اجتبہ وھداہ واٰتنیہ میں اس طریقہ کی اور حاصب طریقہ کی فضیلت…
Read the full tafseer →جو لوگ جہالت کے باعث کسی فعل کے مرتکب ہوں اور پھر توبہ کرلیں تو اللہ رحیم وکریم ہے :
133۔ کسی غلطی کا ارتکاب کسی انسان سے کوئی بعید از قیاس بات نہیں ۔ غلطی ہوتی آئی ہے ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی ، ہاں ! جو لوگ جہالت کے باعث کسی غلطی میں مبتلا ہوگئے اور پھر آگاہ ہو کر فورا تائب بھی ہوگئے تو یہ بات ان کے اچھے مقدر کی نشانی ہوئی اور اب جب کہ وہ اپنی اصلاح کرلیں گے تو ایسے ہی ٹھہریں گے کہ گویا انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی سزا تو ساری کی ساری ان ہی لوگوں کے حصے میں آئی ہے جو اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں اور حق واضح ہوجانے کے بعد بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں وہ لوگ جو نادان ونافرمان ہیں ان کے قصوروں…
Read the full tafseer →Repentance from Sin brings Forgiveness: Is it Open or Restricted?
In the last verse (119): ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ (Then your Lord – for those who did evil through ignorance ...), it will be noticed that the sense of ignorance has been conveyed by the use of the word: جَهَالَةٍ (jahalah), not: جَھل (jahl). As for the word: جَھل (jahl), it is employed as an antonym of: عِلَم (` ilm: knowledge) and releases the sense of a lack of knowledge or understanding while the word: جَهَالَةٍ (jahalah) denotes acting ignorantly - even if done knowingly. This tells us…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
118. This refers to:“And We prohibited all animals with claws to those people who had adopted Judaism.”(Surah Al-Anaam, Ayat 146). In this (verse 118) Allah has stated that certain things were made unlawful because of the disobedience of the Jews.
Here a question arises. Which of the two Surahs, Al-Anaam or An-Nahl, was first revealed? This is because in (verse 118), a reference has been made to (verse 146 of Al-Anaam). Also in (verse 119 of Al-Anaam):“And why should you not eat that thing over which Allah’s name has been mentioned, when He has already given you a detail of those things that…
Read the full tafseer →