Explained with ayahs 101–102
ازلی بدنصیب لوگ
مشرکوں کی عقلی، بےثباتی اور بےیقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو ؟ یہ تو ازلی بدنصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔ جیسے آیت (مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ01006) 2۔ البقرة :106) میں فرمایا ہے۔ پاک روح یعنی حضرت جبرائیل ؑ اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 103
”روح القدس“ کا لفظی ترجمہ ہے ”پاک روح“ یا ”پاکیزگی“۔ اور اصطلاحا یہ لقب حضرت جبریل ؑ کو دیا گیا ہے۔ یہاں وحی لانے والے فرشتے کا نام لینے کے بجائے اس کا لقب استعمال کرنے سے مقصود سامعین کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ اس کلام کو ایک ایسی روح لے کر آرہی ہے جو بشری کمزوریوں اور نقائص سے پاک ہے۔ وہ نہ خائن ہے کہ اللہ کچھ بھیجے اور وہ اپنی طرف سے کمی بیشی کر کے کچھ اور بنا دے۔ نہ کذاب و مفتری ہے کہ خود کوئی بات گھڑ کے اللہ کے نام سے بیان کر دے۔ نہ بدنیت ہے کہ اپنی کسی نفسانی غرض کی بنا پر دھوکے اور فریب سے کام لے۔ وہ سراسر ایک مقدس و مطہر روح ہے جو اللہ کا کلام پوری امانت کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
خلاصہ تفسیر
ربط آیات اس سے پہلی آیت میں تلاوت قرآن کے وقت اعوذ باللہ پڑھنے کی ہدایت تھی جس میں اشارہ ہے کہ شیطان تلاوت کے وقت انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے مذکورہ آیات میں اسی طرح کے وساوس شیطانی کا جواب ہے ،
نبوت پر کفار کے شبہات کا جواب مع تہدید
اور جب ہم کسی آیت کو بجائے دوسری آیت کے بدلتے ہیں (یعنی ایک آیت کو لفظا یا معنی منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم بھیجدیتے ہیں) اور حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم (پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ) بھیجتا ہے (اس کی مصلحت و حکمت کو) وہی خوب جانتا ہے (کہ جن کو یہ حکم دیا گیا ہے ان کے حالات کے اعتبار سے ایک وقت میں مصلحت کچھ تھی پھر حالت بدل جانے سے مصلحت اور…
Read the full tafseer →قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔
روح القدس سے مراد جبرئیل امین ہیں، اور حق سے مراد وہ خالص اور بےآمیز دین ہے جو اللہ کی طرف سے یہود و نصاری اور مشرکین کی تمام ملاوٹوں سے پاک و صاف ہو کر اترا ہے۔
یہ پیغمبر ﷺ کو ہدایت ہوئی کہ جو لوگ تمہیں مفتری کہتے ہیں ان کو جواب دے دو کہ یہ جو میں پیش کررہا ہوں اس کو اپنے جی سے گھڑ کر خدا کی طرف منسوب نہیں کر رہا ہوں بلکہ یہ خدا کے مقرب فرشتے جبریل امین نے میرے رب کی جانب سے مجھ پر اتارا ہے اور یہ سراسر حق ہے۔ شیاطین و مفسدین کی ہر ملاوٹ سے بالکل پاک و صاف۔…
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی یہ قرآن محمد کا اپنا گھڑا ہوا نہیں بلکہ اسے حضرت جبرائیل ؑ جیسے پاکیزہ ہستی نے سچائی کے ساتھ رب کی طرف سے اتارا ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر ہے، (نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ 193ۙ عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ 194ۙ) 26۔ الشعراء :194-193) اسے الروح الامین (جبرائیل علیہ السلام) نے تیرے دل پر اتارا ہے '۔
12۔ 2 اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ منسوخ کرنے والا اور منسوخ دونوں رب کی طرف سے ہیں۔ علاوہ ازیں منسوخی کی مصلحتیں بھی جب ان کے سامنے آتی ہیں تو ان کے اندر مزید ثبات قدمی اور ایمان میں رسوخ پیدا ہوتا ہے۔
12۔ 3 اور یہ قرآن مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت کا ذریعہ ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
44: اللہ تعالیٰ مختلف حالات کے لحاظ سے اپنے احکام میں کبھی کبھی تبدیلی فرماتے تھے، جیسا کہ قبلے کے احکام کے متعلق سورة بقرہ میں تفصیل گزرچکی ہے، اس پر کفار اعتراض کرتے تھے کہ یہ احکام کیوں بدلے جاتے ہیں ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے یہ تبدیلیاں کررہے ہیں، اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس وقت کونسا حکم نازل کیا جائے۔
Read the full tafseer →قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق (61 : 201) ” کہہ دو اسے تو روح القدس مانے ٹھیک ٹھیک تیرے رب کی طرف سے بتدریج مجھ پر نازل کیا ہے “۔ لہٰذا اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ افتراء ہو۔ اسے روح القدس لے کر آئے ہیں ، اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور اس کی تعلیمات سچائی پر مشتمل ہیں۔ ان میں باطل کا شائبہ تک نہیں ہے اور یہ اس لئے آئی کہ یشت الذین امنوا (61 : 201) ” تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کریں “۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں اور وہ معلوم کرلیں کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ حق پر جم جائیں اور ان کی سچائی پر مطمئن ہوجائیں تاکہ وھدی و بشری للمسلمین (61 : 201) ” اور فرماں برداروں کو…
Read the full tafseer →1 یعنی میرا یا کسی بشر کا بنایا ہوا کلام نہیں۔ یہ تو وہ کلام ہے جو بلاشبہ میرے رب نے روح القدس (پاک فرشتہ جبرائیل امین) کے ذریعہ سے عین حکمت و مصلحت کے موافق مجھ پر نازل فرمایا گویا " مِنْ رَّبِّکَ " کہہ کر متنبہ فرما دیا کہ اس کی نازل کرنے والی وہ ہستی ہے جس نے خود محمد ﷺ کی اس قدر حیرت انگیز طریقہ سے ایسے اعلیٰ و اکمل اخلاق پر تربیت فرمائی جو تمہارے سامنے ہے۔ اور " روح القدس " کا واسطہ بیان فرما کر شاید اس طرف اشارہ کرنا ہو کہ جس کلام کا حامل " روح القدس " بنایا گیا، وہ روحانیت، پاکیزگی اور ملکوتی خصال کا پیکر ہونا چاہیے۔ چناچہ دیکھ لو ان اوصاف میں اس شان کا کیا کوئی دوسرا کلام آسمان کے…
Read the full tafseer →آیت 102 قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بالْحَقِّ
یہاں پر روح القدس کا لفظ حضرت جبرائیل کے لیے آیا ہے کہ ایک پاک فرشتہ اس کلام کو لے کر آیا ہے۔
لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
سورۃ الفرقان میں یہی مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے : کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا ”تاکہ ہم مضبوط کریں اس کے ساتھ آپ کے دل کو اور اسی لیے ہم نے پڑھ سنایا اسے ٹھہر ٹھہر کر۔“
وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ
جیسے جیسے حالات میں تبدیلی آرہی ہے ویسے ویسے اس قرآن کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ہدایت و راہنمائی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ مثلاً قصہ آدم و ابلیس جب پہلی دفعہ بیان کیا گیا…
Read the full tafseer →106 روح القدس سے مراد ؟ پاکیزہ روح یا پاکیزگی کی روح اور اس سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں جو ہر طرح کی بشری کمزوریوں سے پاک ہیں۔ وہ نہ خائن ہیں نہ کذاب ہیں اور نہ مفتری۔ نہ وہ اللہ کے نازل کردہ کلام میں سے کچھ حذف کرتے ہیں اور نہ اس میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ نہ ترمیم و تنسیخ کرسکتے ہیں بلکہ اللہ کا کلام جوں کا توں نبی کے دل پہ نازل کرتے ہیں۔
107 نزول قرآن میں تدریج کے فائدے :۔ قرآن اتارنے میں جو حالات کے تقاضوں کے تحت تدریج کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس کے دو بڑے فائدے ہیں ایک یہ کہ تکرار احکام سے ایمان میں بتدریج پختگی واقع ہوتی رہتی ہے اور ان میں ثبات و استقلال پیدا ہوتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ جو…
Read the full tafseer →163۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم مل رہا ہے کہ آپ حقیقت حال بیان کردیجئے کہ یہ کلام جسے تم میرا فرض کررہے ہو، حق تعالیٰ کا کلام ہے، جیسے فرشتہ مقرب جبریل امین (علیہ السلام) ، حکمت الہی کے مطابق میرے پاس لارہے ہیں، اور اس ترتیب و تدریج میں ایک مصلحت یہی ہے کہ اہل ایمان قدم توحید پر اور زیادہ جمتے رہیں، اور ان کی تربیت ایک خاص آئین حکمت کے مطابق ہوتی رہے۔ (آیت) ” روح القدس “۔ یعنی فرشتہ جبریل (علیہ السلام) ، حاشیہ گزر چکا۔ (آیت) ” بالحق “۔ یعنی آئین حکمت کے ماتحت ومطابق۔ اے ملتبسا بالحکمۃ (مدارک۔ بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
آیت نمبر 101 تا 110
ترجمہ : اور جب ہم کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسری آیت بندوں کی مصلحت کیلئے نازل کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نازل کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے تو کفار نبی ﷺ سے کہتے ہیں تم تو افترا پر داز ہو جھوٹے ہو، قرآن اپنی طرف سے گھڑ کو لاتے ہو، (ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ قرآن کی حقیقت اور نسخ کے فائدہ سے واقف نہیں ہیں آپ ان کو بتادیجئے کہ اس کو جبرئیل آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں (بالحق) نَزَّلَ کے متعلق ہے کہ اہل ایمان کو اس کے ذریعہ ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہے اور وہ ایک نصرانی لوہار ہے، نبی ﷺ اس کے پاس جایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق لیثبت الذین امنوا وھدی وبشری للمسلمین : آپ کہہ دیجئے کہ اس کو جبرئیل میرے رب کی طرف سے حکمت کے مطابق لے کر آئے ہیں تاکہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے اور ان مسلمانوں کیلئے ہدایت اور خوشخبری (کا ذریعہ) ہوجائے۔ رُوْحُ الْقُدُس سے مراد حضرت جبرئیل ہیں۔ قدس کا معنی ہے : پاکی ‘ یعنی پاکی والی روح۔ نَزَّلَہٗ تنزیل (مصدر) تنزیل کا معنی ہے : تدریجاً ‘ تھوڑا تھوڑا نازل کرنا۔ یہ لفظ تنبیہ کر رہا ہے کہ قرآن کا مصالح کے مطابق تدریجی نزول تبدیل کا مقتضی ہے (اگر بعض احکام کو بدلنا نہ ہوتا تو یکدم سب قرآن نازل کردیا جاتا) الْحَقِّ حکمت کاملہ۔ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا…
Read the full tafseer →(102) اے محمد ﷺ آپ سے کہہ دیجیے کہ اس قرآن کریم کو حضرت جبریل امین ؑ اپ کے رب کے طرف سے ناسخ ومنسوخ کی طرح لاتے رہتے ہیں۔
تنزل کے صیغہ کو تشدید کے ساتھ ذکر کیا ہے کیوں کہ تھوڑا تھوڑا حکمت کے مطابق قرآن حکیم نازل ہوا ہے تاکہ ایمان والوں کے دلوں کو ایمان پر ثابت قدم اور خوش رکھے اور مسلمانوں کے لیے گمراہی سے ہدایت اور جنت کی خوشخبری کا ذریعہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بالْحَقِّ : ”نَزَّلَ“ میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کرنے کا معنی پایا جاتا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 106) ”رُوْحُ الْقُدُسِ“ یعنی جبریل ؑ ، یہاں ”رُوْحُ“ (موصوف) ”الْقُدُسِ“ (صفت) کی طرف مضاف ہے جو مصدر ہے۔ اس کا معنی طہر اور پاکیزگی ہے، مگر یہاں مصدر بمعنی اسم مفعول ”مُقَدَّسٌ“ ہے، یعنی ”اَلرُّوْحُ الْمُقَدَّسُ“ مبالغے کے لیے اسم مفعول کی جگہ مصدر لائے ہیں، یعنی وہ روح جو سراپا پاکیزگی و طہارت ہے، جیسے ”رَجُلُ صِدْقٍ“ اور ”خَبَرُ سُوْءٍ“ ہے، جو اصل میں ”اَلرَّجُلُ الصَّادِقُ“ اور ”اَلْخَبَرُ السَّيِّءُ“ تھا۔ ”بِالْحَقِّ“ کا مطلب ہے کہ قرآن نازل کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
آیت نمبر 101 تا 102
قولہ تعالیٰ : واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ واللہ اعلم بما ینزل کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے جب ہم سابقہ شریعت کو نئی شریعت کے ساتھ بدلتے ہیں ؛ یہ ابن بحر نے کہا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یعنی جب ہم ایک آیت کو اٹھا لیتے ہیں اور اس کی جگہ دوسری رکھ دیتے ہیں۔ اور جمہور نے کہا ہے : جب ہم ایک آیت کو ایسی آیت کے ساتھ منسوخ کردیتے ہیں جو پہلی سے ان پر زیادہ شدید اور سخت ہوتی ہے۔ نسخ اور تبدیل کا معنی ہے ایک چیز کو اٹھا لینا اس طرح کہ اس کی جگہ دوسری شے رکھ دی جائے، اور نسخ کے بارے میں مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ قالوا مراد کفار قریش ہیں یعنی یہ کہتے ہیں : انما انت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
1:۔ ابوداود نے ناسخ میں ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ “ اور فرمایا (آیت) ” ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا “ سے مراد ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ؓ رسول اللہ ﷺ کا کاتب تھا ان کو شیطان نے پھسلا دیا اور وہ کافروں سے جا ملے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان کے قتل کا حکم فرمایا تو حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے انکے لئے پناہ مانگی تو آپ نے اس کو پناہ دے دی۔
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ “ کا قول اس قول (آیت) ” ماننسخ من ایۃ اوننسھا…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہئے ] [ نَزَّلَهٗ : اتارا اس کو ] [ رُوْحُ الْقُدُسِ : روح القدس یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے ] [ مِنْ رَّبِكَ : آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ لِيُثَبِتَ : تاکہ وہ جمادے ] [ الَّذِينَ : ان کو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَهُدًى: اور ہدایت ہوتے ہوئے ] [ وَّبُشْرٰى: اور بشارت ہوتے ہوئے ] [ لِلْمُسْلِمِيْنَ : فرمانبرداری کرنے والوں کے لئے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ ) (الآیۃ) اس میں ان لوگوں کی تردید ہے جنہوں نے یوں کہا کہ آپ اپنی طرف سے بات کہتے ہیں اور اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ کلام میرا بنایا ہوا نہیں اور احکام میں جو نسخ ہے وہ میری طرف سے نہیں۔ حضرت روح القدس یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اسے اللہ کی طرف سے نازل فرمایا ہے یہ بالکل حق ہے جیسے جیسے قرآن نازل ہوتا ہے اہل ایمان کے ایمان میں مضبوطی اور پختگی آتی ہے اور قرآن کے ذریعہ انہیں ہدایت بھی ملتی ہے اور قرآن پر عمل کرنے پر جو انعام ملیں گے ان کی خوشخبری بھی معلوم ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
منکرین نبوت کے چند شبہات اور ان کے جوابات
قال اللہ تعالیٰ : واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ .... الیٰ .... واولئک ہم الکذبون۔
(ربط) اب یہاں سے منکرین نبوت کے چند شبہات نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں۔ اصول دین میں پہلی اصل توحید ہے اور دوسری اصل نبوت ہے دلائل توحید کے بعد نبوت کے متعلق چند شبہات کا جواب دیتے ہیں۔ قرآن مجید کا جب کوئی حکم منسوخ ہوجاتا تو کفار کہتے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب سے مسخرہ پن کرتے ہیں کبھی ایک چیز کا حکم دیتے ہیں اور پھر اس سے منع کردیتے ہیں۔ واذا بدلنا ایۃ فکان ایۃ میں اس شبہ کا ذکر فرمایا اور بتلا دیا کہ نسخ احکام کے مصالح کو ہم خوب جانتے ہیں تم نہیں جانتے۔ اللہ کا ہر حکم مصلحت پر…
Read the full tafseer →85:۔ یہ جواب شکوی ہے اور شبہ اولیٰ کا رد ہے۔ یعنی یہ قرآن میرا افتراء نہیں بلکہ یہ روح القدس یعنی حضرت جبریل (علیہ السلام) نے اللہ کی جانب سے مجھ پر نازل کیا ہے تاکہ نسخ کے ذریعہ مومنوں کا امتحان کرے۔ چناچہ جب کوئی آیت منسوخ کی جاتی ہے تو مؤمنوں کا ایمان اور پختہ ہوجاتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اب منسوخ کے بجائے ناسخ ہمارے حق میں زیادہ مفید ہے اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ لیبلوھم بالنسخ حتی اذا قالوا فیہ ھو الحق من ربنا والحکمۃ لانہ حکیم لا یفعل الا ما ھو حکمۃ وصواب حکم لھم بثبات القدم و صحۃ الیقین و طمانیۃ القلب (مدارک ج 2 ص 231) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
ربط آیات
گذشتہ درس میں آداب تلاوت قرآن سکھائے گئے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ تلاوت کرتے وقت شیطان مردود سے اللہ کے ساتھ پناہ پکڑ لیں تاکہ آپ اس کے وسوسے سے بچ جائیں ، فرمایا شیطان کا تسلط ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے دوستانہ رکھتے ہیں اور پھر اسی کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے والے کامل الایمان لوگوں پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا ۔
اب آج کی آیات میں قرآن پاک ہی سے متعلق مشرکین کے بعد شکوک و شبہات کا دلائل کے ساتھ ازالہ کیا گیا ہے ، اس طرح گویا ان آیات کا گذشتہ مضمون کے ساتھ ربط ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے بغیر ایمانیات اور دین کے صحیح اصول…
Read the full tafseer →قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ 102
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
ترکیب : اذا شرطیہ واللہ اعلم بماینزل جملہ معترضہ شرط اور جزا ہیں۔ قالوا جملہ جواب شرط، مفتر صیغہ اسم فاعل افتریٰ یفتری سے ی گر گئی مفتری تھا وھدیً و بشرٰی دونوں محل نصب میں ہیں مفعول لہ ہونے کی وجہ سے ان کا لیثبت پر عطف ہے تقدیرہ لان یثبت۔ اعجمی لسان الذی کی خبر۔ لایہدیہم خبر ہے ان کی الذین یفتری کا فاعل۔ افترا کسی پر جھوٹ سے کوئی بات بنانا۔ العجمۃ الاحقاء وھی ضدالبیان والعرب یقال رجل اعجمی و امراء ۃ عجمیۃ ورجل اعجم وامرۃ عجماء اے لایفصحان۔ وقیل العجمی منسوب الی العجم والاعجمی من لایفصح سواء کان من العرب اوالعجم وقیل الاعجمی من لایفصح والاعجم الذی من العجم وقال الراغب الاصفہانی بالعکس یعنی…
Read the full tafseer →قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ ۔ (سورۃ النحل : 102)
(کہہ دیجیے کہ اس قرآن کریم کو روح القدس نے تمہارے رب کی جانب سے حق کے ساتھ اتارا ہے تاکہ ان لوگوں کو جمائے رکھے جو ایمان لائے ہیں، اور یہ ہدایت و بشارت ہو خدا کے فرمانبرداروں کے لیے۔ )
قرآن ایک ہی مرتبہ نازل کیوں نہیں ہوا ؟
مشرکینِ مکہ ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا تو اسے ایک ہی دفعہ نازل کردیا جاتاکیون کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کی احتیاج نہیں کہ وہ پہلے سوچ کر ایک مضمون تیار کرے، پھر اسے الفاظ کا جامہ پہنائے،…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قرآن کے ایک اور الزام کا جواب۔
کفار یہ کہہ کر قرآن مجید کا انکار کرتے تھے کہ اس نبی نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ جبکہ اہل کتاب کا یہ اعتراض تھا کہ اس رسول پر قرآن لانے والا جبرائیل (علیہ السلام) ہے جس کے ساتھ ہماری پرانی دشمنی ہے۔ یہودی یہاں تک ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ جبریل ظالم اور خائن فرشتہ ہے۔ اس نے ہماری کئی نسلوں کو تباہ کیا جو جبریل (علیہ السلام) کی ہم پر کھلی زیادتی ہے۔ سورة البقرہ آیت 97، 98 میں اس ہرزہ سرائی کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ ” اے اللہ کے رسول ! آپ فرمادیں جو جبریل کا دشمن ہو وہ اللہ، اس کے ملائکہ، اس کے رسولوں اور میکائیل کا دشمن ہے۔ “ جہاں تک…
Read the full tafseer →قرآن لانے والے جبرئیل ( علیہ السلام) ہیں :
102: قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ (آپ کہہ دیں اس کو روح القدس نے اتارا ہے) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے۔ جبرئیل کی نسبت القدس کی طرف کی گئی ہے۔ القدس پاکیزگی جیسا کہ کہتے ہیں۔ حاتم الجود۔ سخی حاتم۔ مراد مقدس روح۔ المقدس کا معنی گناہوں سے پاک مِنْ رَّبِّکَ (تیرے رب کی طرف سے) اس کے ہاں سے اور اس کے حکم سیبالْحَقِّ (حق کے ساتھ) یہ حال ہے۔ یعنی اس کو حکمت کے ساتھ ملبس اتارا ہے۔ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (تاکہ وہ ایمان والوں کو ثابت قدم رکھے) تاکہ منسوخ کر کے ان کی آزمائش کرے تاکہ وہ اس کے متعلق کہیں کہ وہ ہماری طرف سے برحق اور حکمت پر مبنی ہے۔…
Read the full tafseer →” قل نزلہ “ اس سے قرآن کریم مراد ہے ۔ ” روح القدس “ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں ۔ (رح) ” من ربک بالحق “ اس سے سچائی مراد ہے۔” لیثبت الذین امنوا “ تاکہ اس کے ذریعے مؤمنین کے دلوں کو ثابت قدم رکھے اور ان کے ایمان کو اور زیادہ پختہ کرے۔ ” وھدی وبشری للمؤمنین “ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
101۔ 102۔ جب اللہ پاک کسی آیت کو منسوخ فرما دیتا اور اس کی جگہ دوسری آیت نازل فرماتا تو مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنے جی سے بنا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ لوگ قرآن کے نازل ہونے کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں قرآن مجید کی ایک ایک آیت معجزہ ہے اللہ پاک ہی کو اس کا علم ہے وہی جانتا ہے کہ کون سے حکم اس وقت کیلئے مناسب ہے اور پھر دوسرے وقت کی مصلحت کے لحاظ سے کونسا حکم ہونا چاہیے پھر فرمایا کہ ان کافروں سے کہہ دو کہ ساری آیتیں قرآن پاک کی جبریل (علیہ السلام) اللہ جل شانہ کے پاس سے لاتے ہیں اس میں کوئی ناسخ ہو خواہ کوئی منسوخ سب اسی پاک پروردگار عالم کی طرف سے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
آیت : (101-102)
اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کی تکذٰب کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں ایسے امور کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کے لئے حجت ہوں حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ حاکم اور حکمت والا ہے ‘ جو احکام کو مشروع کرتا ہے اور اپنی حکمت اور رحمت کی بنا پر کسی حکم کو بدل کر اس کی جگہ کسی دوسرے حکم کو لے آتا ہے۔ پس جب وہ اس قسم کی تبدیلی دیکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم میں عیب چینی کرتے ہیں (قالوا انما انت مفتر) ” تو کہتے ہیں کہ تو افترا پرداز ہے “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (بل اکثرھم لا یعلمون) ” بلکہ ان میں سے اکثر نادان ہیں۔ “ پس وہ جاہل ہیں جنہیں اپنے رب کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–105
استعاذہ کا بیان
قرآن پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے
قول باری ہے (فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو) عمرو بن مرہ نے عباد بن عاصم سے، انہوں نے نافع بن جبیربن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو نماز شروع کرتے وقت یہ پڑھتے ہوئے سنا تھا (اللھم اعوذ بک من الشیطان من ھمزہ و نفخہ و نفشہ اے اللہ ! میں شیطان سے ، اس کے خطرات سے ، اس کی پھونک سے اور اس کے وسوسے سے تیری پناہ میں آتا ہوں) حضرت ابو سعید خدری نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نماز کے اندر قرأت سے پہلے تعوذ پڑھا کرتے…
Read the full tafseer →223۔ قرآن حکیم ثابت قدمی کا ذریعہ و وسیلہ :۔
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم اہل ایمان کیلئے ثابت قدمی اور پختگی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اپنی عظیم الشان برکات اور عقل وفکر کو جلا بخشنے والے ان دلائل وبراہین کے ذریعے جو وحی کی اس نور کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ اور خیروبرکت کے اس سامان کے باعث جو اس میں پایا جاتا ہے۔ سو اس سے اہل ایمان کے دلوں کو قوت ملتی ہے اور اس کتاب حکیم میں ذکر فرمائے گئے ادلہ قاطعہ اور براہین ساطعہ سے اہل ایمان کا ایمان اس کائنات کے خالق ومالک کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے بارے میں ایمان و یقین میں مزید قوت آتی اور پختگی نصیب ہوتی ہے۔ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
کفار کا اعتراض اور اللہ کا جواب
تشریح : کفار تو ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ کوئی بہانہ ملے تو قرآن اور نبی ﷺ کو جھٹلائیں ان پر الزامات لگائیں۔ اسی طرح جب بھی کبھی کوئی حکم کسی مصلحت کی وجہ سے پہلے سے ذرا مختلف ہوتا تو کفار کہنے لگتے کہ یہ کلام اللہ کا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تو حکیم وخبیر ہے اس کو احکامات بدل کردینے کی کیا ضرورت ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ ان کو بتا دیجیے کہ یہ کلام حضرت جبرائیل لے کر میرے پاس آتے ہیں اور یہ جو احکامات میں تھوڑی سے تبدیلی ہوتی ہے تو یہ بھی اللہ رب العزت کی مصلحت کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ لاعلمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثلاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
(رکوع نمبر 14)
اسرارومعارف
شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا…
Read the full tafseer →ف 3 اور وہ ناسخ و منسوخ دونوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھیں اور اس لئے کہ جب وہ اس حکمت کو سمجھیں گے جو بعض احکام کے ناسخ و منسوخ ہونے میں پائی جاتی ہے تو ایمان پر ان کے قدم جمیں گے اور ان کے عقائد پختہ ہوں گے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : قرآن پاک میں اکثر اللہ تعالیٰ نے نسخ فرمایا ہے اس پر کا فرشتہ کرتے ہیں۔ اس کا جواب سمجھا دیا۔ یعنی ہر وقت موافق اس حکم کے حکم بھیجے تو یقین والوں کا ایمان قوی ہو کہ ہمارا رب ہرحال سے خبر رکھتا ہے۔ (موضح)
4 یعنی ہرحال میں اس کے موافق راہ سمجھا دے اور ہر کام پر ایسی خوش خبری سنا دے۔ (موضح)
Read the full tafseer →(16:102) نزلہ میں ہٗ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع القران ہے۔
روح القدس۔ سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔
لیثبت۔ میں لام تعلیل کے لئے ہے تا کہ۔ یثبت مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب (باب تفعیل) تاکہ ثابت قدم رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 105
بدلنا ہم نے بدل دیا۔ ینزل وہ نازل کرتا ہے۔ مفتر گھڑنے والا۔ روح القدس پاکیزہ روح جبریل امین۔ لیثبت تاکہ وہ پکا کر دے۔ یعلم سکھاتا ہے۔ یلحدون (الحاد) اشارہ کرتے ہیں۔ عربی مبین واضح عربی، فصیح عربی زبان۔
تشریح : آیت نمبر 101 تا 105
حضرت عیسیٰ (جن کو اللہ نے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا ہے) ان کے ساڑھے پانچ سو سال کے بعد جزیرۃ العرب میں مذہبی، تمدنی ، عاشرتی، اخلاقی، تہذیبی اور رسم و رواج میں اتنی تبدیلیاں آ چکی تھیں کہ کفار مکہ زبان سے تو یہ کہہ کر فخر کرتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد یا ان کے ماننے والے ہیں لیکن اس نسبت کے باوجود وہ ہر طرح کی جہالت اور…
Read the full tafseer →اس آیت میں مشرکوں کا قول رد کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ان کفار سے کہہ دو کہ ساری آیتیں قرآن کی جبرائیل (علیہ السلام) تعالیٰ کے پاس سے لاتے ہیں، اس میں کوئی ناسخ ہو یا منسوخ، سب اسی پاک پروردگار عالم کی طرف سے ہیں۔ جو لوگ صاحب ایمان ہیں خدا اور رسول پر ان کا پکا عقیدہ ہے وہ ہر ایک آیت پر ثابت قدم ہیں اور جانتے ہیں کہ قرآن شریف اللہ کا کلام ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے سچے پیغبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جیسا پیغام آتا ہے یہ اس کو پہجچا دیتے ہیں اس ثابت قدمی کے سبب سے یہ صاحب ایمان لوگ روز بروز ہدایت پاتے رہتے ہیں اور نئی آیتوں سے نئی نئی بشارت ان کو آخرت کے واسطے پہنچتی رہتی ہے۔
Read the full tafseer →[64] روح القدس کے معنی ہیں پاک روح۔ اس سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے کلام کو ایک ایسی ہستی کے ذریعے سے نازل کیا ہے جو بشریٰ کمزوریوں اور نقائص سے پاک اور امانت دار ہے۔
Read the full tafseer →قرآن اختراع نہیں ہے :
(ف 1) بعض لوگ کہتے تھے کہ قرآن دماغی اختراع ہے حضور ﷺ نے خود اختراع کیا ہے ، اور اللہ کی جانب اسے منسوب کردیا ہے اس کا جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ اسے روح القدس لے کر آئے ہیں ، یہ حق وصداقت کا اعلان ہے ، تاکہ جو لوگ ذہنی وقلبی اضطراب میں مبتلا ہیں ان کی تسلی وتسکین ہو ، اس میں ہدایت ہی بشارت ہے ، مگر ایمان و تجربہ شرط ہے ۔
وہ کتاب جس نے قوم کے اخلاق کو بدل دیا ہو ، جس نے گمراہی وضلالت سے نکالا ہو ، رشد وہدایت کی طرف راہنمائی کی ہو ، اور قوم کو خوشخبریوں کا صبط بنایا ہو ، کیا وہ دماغی اختراع ہو سکتی ہے ۔ ؟
کیا یہ اختراع اور جھوٹ کا نتیجہ ہے کہ قوم ترقی کے فراز اعلی تک پہنچ…
Read the full tafseer →102 ۔ اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ اس قرآن کریم کی روح القدس یعنی جبرئیل (علیہ السلام) آپ کے پروردگار کی طرف سے حکمت کے موافق لایا ہے تا کہ اہل ایمان کو یہ کلام ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں اور فرمانبرداروں کے لئے ذریعہ ہدایت اور خوشخبری ہو ۔ یعنی جبرئیل امین (علیہ السلام) لاتے ہیں اور ضرورت کے موافق حکمت الٰہی کے ساتھ نازل ہوتا ہے تا کہ اہل ایمان کا ایمان مضبوط ہو اور اطاعت گزاروں کو ہدایت و بشارت میسرہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہر حال میں اس کے موافق راہ سمجھا دے اور ہر کام پردیسی خوشخبری پہنچادے۔
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی جبریل علیہ السلام۔
7۔ پس یہ اللہ کا کلام ہے اور تبدیل احکام بوجہ حکمت کے ہے
8۔ اس غایت کے بڑھانے سے تعریض ہوگئی کہ ایسی نافع چیز سے یہ مخالفین منتفع نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا وہ روح القدس نے نازل کیا ہے :
116۔ جو بات پیچھے ہم نے بیان کی اس کی مزید تشریح اس آیت میں آگئی اور اس سے ہمارے نظریہ کو تقویت حاصل ہوگئی کہ جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا وہ وہ آیت ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی اور جس کو وہ لوگ آیت کہہ رہے ہیں اس کا نزول اللہ کی طرف سے نہیں ہوا اور اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ لوگوں کی مصنوعی آیات کو مٹا کر اپنی طرف سے حقیقی آیات کو نازل فرمائے اور یہی کام اللہ تعالیٰ نے کیا کہ لوگوں کی اخترائی آیات و احکام کو مٹا کر محمد رسولہ اللہ ﷺ پر بذریعہ روح القدس اس آیات و احکام کو نازل کردیا جو صحیح معنوں میں آیات و احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
Sequence of Verses
In the previous verse (98), there was an instruction to say اَعُوذ بِاللہ 'a udhu bil-lah' (I seek protection with Allah) while reciting the Qur’ an which indicates that the Shaitan puts scruples in the heart when one recites the Qur'an. In the verses cited above, there is a refutation of such Satanic instigations.
Read the full tafseer →103. The Holy Spirit: Gibril. Instead of using the name of the angel who brought revelation, his title has been deliberately mentioned to warn the disbelievers that the Holy Spirit who brought revelation is free from human frailties. He is neither dishonest that he should add something to or take away something from the message he brought, nor is he a liar and forger that he should invent and state something in the name of Allah. Nor does he suffer from any human lust that he should practice a deceit. He is wholly pure and holy and conveys the Word of Allah intact.
104. That is, the fact that…
Read the full tafseer →