An-Nahl 16:101

An-Nahl · from ayah 101

16:101

وَاِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ ۙ— وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ ؕ— بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟وَاِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ‌ۙ وَّ اللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when We substitute a verse in place of a verse - and Allah is most knowing of what He sends down - they say, "You, [O Muhammad], are but an inventor [of lies]." But most of them do not know.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 14 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:101

جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خو د گھڑ تے ہو اصل بات یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اسے وه خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تو تو بہتان باز ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ہم ایک آیت کو دوسری آیت سے بدلتے ہیں۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے تو یہ (کافر) کہتے ہیں کہ : تم تو اللہ پر جھوٹ باندھنے والے ہو۔ حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت کا علم نہیں رکھتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے جو (کچھ) وہ نازل فرماتا ہے (تو) کفار کہتے ہیں کہ آپ تو بس اپنی طرف سے گھڑنے والے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (آیتوں کے اتارنے اور بدلنے کی حکمت) نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ہم کوئی آیت کسی دوسری آیت کی جگہ بدل کر لاتے ہیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ نازل کرتا ہے، تو وہ کہتے ہیں تو تو گھڑ کر لانے والا ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ہم ایک آیت کے بجائے دوسری آیت تبدیل کرکے نازل کرتے ہیں۔ اور اللہ جو کچھ نازل فرماتا ہے اس (کی مصلحت) کو خوب جانتا ہے، تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ : تم تو اپنے پاس سے بنا لائے ہو حالانکہ ان میں اکثر لوگ (حقیقت حال) کو نہیں جانتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بھیجتے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ اتارتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تم تو اپنے جی سے گھڑ لینے والے ہو۔ بلکہ ان میں کے اکثر عل نہیں رکھتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ہم کسی آیت کی جگہ اس کے بدلے میں کوئی دوسری آیت اتارتے ہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ کہ وہ اتارتا ہے، تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ سوائے اس کے نہیں کہ تم خود ہی گھڑ کرلے آتے ہو (نہیں) بلکہ (اصل حقیقت یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ہم کسی آیت کو دوسری آیت کی جگہ بھیج دیتے ہیں اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو کچھ وہ بھیجتا رہتا ہے تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ تم تو نرے گڑھ لینے والے ہو۔ نہیں بلکہ ان میں سے زیادہ تر بےعلم ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ نازل کرتا ہے یہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ آپ خود ہی (اسے) گھڑنے والے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر علم نہیں رکھتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور اللہ جسے نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو کافر کہتے ہیں کہ تم تو یونہی اپنے پاس سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Whenever We replace one verse by another verse - and Allah knows what He should reveal - they are wont to say: "You are nothing but a fabricator (who has invented the Qur'an)." The fact is that most of them are ignorant of the Truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whenever We replace a verse with another verse — and Allah knows well what He reveals – they say, :You are but a forger. The fact rather is that most of them are ignorant.

— Muhammad Taqi Usmani

Whenever We replace a verse with another verse — and Allah knows well what He reveals – they say, :You are but a forger. The fact rather is that most of them are ignorant.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when We change a verse in place of another - and Allah knows best what He reveals - they (the disbelievers) say: "You (O Muhammad) are but a forger." Rather, most of them know not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when We put a revelation in place of (another) revelation, - and Allah knoweth best what He revealeth - they say: Lo! thou art but inventing. Most of them know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when We substitute a verse in place of a verse - and Allah is most knowing of what He sends down - they say, "You, [O Muhammad], are but an inventor [of lies]." But most of them do not know.

— Saheeh International

When God replaces one revelation with another, He knows best what to reveal. But they say, "(Muhammad), you have falsely invented it." Most people are ignorant.

— Muhammad Sarwar

And when We change (one) communication for (another) communication, and Allah knows best what He reveals, they say: You are only a forger. Nay, most of them do not know.

— Muhammad Habib Shakir

And whenever We change a verse in place of anot her verse - -and Allah is the Best Knower of that wwhich He revealeth --they say: thou art but a fabricator, Aye! most of them know not.

— Abdul Majid Daryabadi

When We substitute one revelation for another,- and Allah knows best what He reveals (in stages),- they say, "Thou art but a forger": but most of them understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:101

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 101–102

ازلی بدنصیب لوگ مشرکوں کی عقلی، بےثباتی اور بےیقینی کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں ایمان کیسے نصیب ہو ؟ یہ تو ازلی بدنصیب ہیں، ناسخ منسوخ سے احکام کی تبدیلی دیکھ کر بکنے لگتے ہیں کہ لو صاحب ان کا بہتان کھل گیا، اتنا نہیں جانتے کہ قادر مطلق اللہ جو چاہے کرے جو ارادہ کرے، حکم دے، ایک حکم کو اٹھا دے دوسرے کو اس کی جگہ رکھ دے۔ جیسے آیت (مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۭ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ01006) 2۔ البقرة :106) میں فرمایا ہے۔ پاک روح یعنی حضرت جبرائیل ؑ اسے اللہ کی طرف سے حقانیت و صداقت کے عدل و انصاف کے ساتھ لے کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 102 ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرنے سے مراد ایک حکم کے بعد دوسرا حکم بھیجنا بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کے احکام بتدریج نازل ہوئے ہیں اور بارہا ایک ہی معاملہ میں چند سال کے وقفوں سے یکے بعد دیگرے دو دو، تین تین حکم بھیجے گئے ہیں۔ مثلا شراب کا معاملہ، یا زنا کی سزا کا معاملہ۔ لیکن ہم کو یہ معنی لینے میں اس بنا پر تامل ہے کہ سورة نحل کی یہ آیت مکی دور میں نازل ہوئی ہے، اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس دور میں تدریج فی الاحکام کی کوئی مثال پیش نہ آئی تھی۔ اس لیے ہم یہاں ”ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرنے“ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کے مختلف مقامات پر کبھی ایک مضمون کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–105

خلاصہ تفسیر ربط آیات اس سے پہلی آیت میں تلاوت قرآن کے وقت اعوذ باللہ پڑھنے کی ہدایت تھی جس میں اشارہ ہے کہ شیطان تلاوت کے وقت انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے مذکورہ آیات میں اسی طرح کے وساوس شیطانی کا جواب ہے ، نبوت پر کفار کے شبہات کا جواب مع تہدید اور جب ہم کسی آیت کو بجائے دوسری آیت کے بدلتے ہیں (یعنی ایک آیت کو لفظا یا معنی منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم بھیجدیتے ہیں) اور حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم (پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ) بھیجتا ہے (اس کی مصلحت و حکمت کو) وہی خوب جانتا ہے (کہ جن کو یہ حکم دیا گیا ہے ان کے حالات کے اعتبار سے ایک وقت میں مصلحت کچھ تھی پھر حالت بدل جانے سے مصلحت اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ ۙ وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۔ آیت سے مراد کوئی حکم شرعی ہے۔ یہ ایک مثال ہے ان اعتراضات کی جو یہود لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کے لیے قرآن کے خلاف اٹھاتے تھے۔ فرمایا کہ جب ہم ایک حکم کو دوسرے حکم سے بدلتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ تم تو نرے مفتری ہو۔ اپنے جی سے ایک بات گھڑتے ہو اور لوگوں پر دھونس جمانے کے لیے اس کو خدا کی طرف منسوب کردیتے ہو۔ ورنہ اس کے کیا معنی کہ خدا ایک مرتبہ ایک قانون بنائے اور پھر اس قانون کو خود ہی دوسرے قانون سے بدل دے۔ یہ اشارہ ہے تحریم و تحلیل اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 یعنی ایک حکم منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم نازل کرتے ہیں، جس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اس کے مطابق وہ احکام میں رد وبدل فرماتا ہے، تو کافر کہتے ہیں کہ یہ کلام اے محمد ! ﷺ تیرا اپنا گھڑا ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اس طرح نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اکثر لوگ بےعلم ہیں، اس لئے یہ منسوخی کی حکمتیں اور مصلحتیں کیا جانیں۔ مزید وضاحت کیلیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ آیت 16 کا حاشیہ

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 101–102

44: اللہ تعالیٰ مختلف حالات کے لحاظ سے اپنے احکام میں کبھی کبھی تبدیلی فرماتے تھے، جیسا کہ قبلے کے احکام کے متعلق سورة بقرہ میں تفصیل گزرچکی ہے، اس پر کفار اعتراض کرتے تھے کہ یہ احکام کیوں بدلے جاتے ہیں ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ (معاذ اللہ) آنحضرت ﷺ اپنی طرف سے یہ تبدیلیاں کررہے ہیں، اس آیت میں اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس وقت کونسا حکم نازل کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

مشرکین کو معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب کا فنکشن کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ یہ ایک عالمی سوسائٹی وجود میں لائے یعنی امت مسلمہ اور اس بات سے وہ بیخبر ہیں۔ یہ امت ایسی ہو جو پوری دنیا کی قیادت کرے اور یہ کہ یہ آخری امت ہے۔ آئندہ دنیا میں سب کچھ اس نے کرنا ہے ، آسمانوں سے اب کوئی نئی رسالت نہیں آتنی ہے۔ پھر یہ کہ اللہ جس نے انسان کو پیدا کیا وہی جانتا ہے کہ انسان کی مصلحت اور ضرورت کیا ہے۔ جب کسی حکم کا مقصد پورا ہوجائے اور اس وقتی حکم کی میعاد پوری ہوجائے تو اللہ ایک جدید حکم لے آتا ہے کیونکہ جدید حالات میں اس جدید حکم کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور وہ زیادہ مناسب بھی ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 پہلے حکم دیا تھا کہ قرآن پڑھتے وقت شیطان رجیم کے کید سے پناہ ڈھونڈو۔ کہیں وہ اس بہترین کام میں رکاوٹ اور خرابی نہ ڈالے۔ یہاں اس کی بعض رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہیں جو قرآن کے متعلق پیدا کرتا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ پورا قرآن ایک مرتبہ تو نازل ہوا نہیں، موقع بموقع آیات نازل ہوتی تھیں۔ ان میں بعض وقتی احکام بھی آتے تھے۔ پھر دوسرے وقت حالات کے تبدیل ہونے پر دوسرا حکم آجاتا تھا مثلاً ابتداء میں قتال سے ممانعت اور ہاتھ روکے رکھنے کا حکم تھا۔ ایک زمانہ کے بعد اجازت دی گئی۔ یا ابتداء میں حکم تھا۔ (قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا ۝ ۙ نِّصْفَهٗٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا ۝ ۙ ) 73 ۔ المزمل :3-2) تھوڑی مدت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 101 وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ قبل ازیں یہ مضمون سورة البقرۃ میں بیان ہوچکا ہے : مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا آیت 106۔ چناچہ سورة البقرۃ کے مطالعے کے دوران اس آیت کے تحت اس مضمون کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔ وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے عین مطابق ہور ہا ہے۔ اگر کوئی مخصوص حکم کسی ایک دور کے لیے تھا اور پھر بدلے ہوئے حالات میں اس حکم میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو یہ سب کچھ اللہ کے علم کے مطابق ہے اور کسی خاص ضرورت اور حکمت کے تحت ہی کسی حکم میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ مگر ایسی تبدیلی کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

104 قیامت کب ؟ ایک سوال کے مختلف جوابات :۔ اس سے مراد کافروں کے کسی سوال یا اعتراض کے مختلف مواقع پر مختلف جواب بھی ہوسکتے ہیں مثلاً کافر اکثر یہ پوچھتے رہتے کہ جس قیامت کی تم بات کرتے رہتے ہو وہ آئے گی کب ؟ اس سوال کا ایک مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ وہ اس طرح دفعتاً آئے گی کہ تمہیں خبر تک نہ ہوسکے گی۔ دوسرے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ جب وہ آئے گی تو اس وقت تمہارا ایمان لانا بےسود ہوگا اور تیسرے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ جب وہ آجائے گی تو اس میں لمحہ بھر کے لیے بھی تقدیم و تاخیر نہ ہوسکے گی اور چوتھے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ انھیں کہہ دیجئے کہ اس کا علم صرف اللہ کو ہے اور میں تو فقط اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

161۔ (اے مدعی نبوت و رسالت) (آیت) ” واذا۔۔۔ ایۃ “۔ مثلا کسی آیت کے حکم کی تعمیم میں تخصیص پیدا کردیتے ہیں، یا اس کے برعکس تخصیص میں تعمیم، نسخ آیات پر مفصل حاشیہ سورة بقرہ (پ 1) میں (آیت) ” ماننسخ من ایۃ اوننسھا “ کے تحت میں گزر چکا (آیت) ” واللہ اعلم بما ینزل “۔ یعنی یہ تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ مکلفین ومخاطبین کے اعتبار سے، کون ساحکم، کس وقت مناسب وپر مصلحت ہے۔ (آیت) ” قالوا انما انت مفتر “۔ یہ بکواس معاندین رسول اللہ ﷺ کی ہوتی تھی، جب کبھی بھی وہ کوئی ایسا حکم سنتے جو ان کے خیال میں کسی سابق حکم کے معارض ہوتا، تو چٹ یہی کہنے لگتے، کہ یہ کیا ؟ یہ تو تم اپنے قصد و ارادہ سے، اور اپنی مصلحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–110

آیت نمبر 101 تا 110 ترجمہ : اور جب ہم کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسری آیت بندوں کی مصلحت کیلئے نازل کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نازل کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے تو کفار نبی ﷺ سے کہتے ہیں تم تو افترا پر داز ہو جھوٹے ہو، قرآن اپنی طرف سے گھڑ کو لاتے ہو، (ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ قرآن کی حقیقت اور نسخ کے فائدہ سے واقف نہیں ہیں آپ ان کو بتادیجئے کہ اس کو جبرئیل آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں (بالحق) نَزَّلَ کے متعلق ہے کہ اہل ایمان کو اس کے ذریعہ ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہے اور وہ ایک نصرانی لوہار ہے، نبی ﷺ اس کے پاس جایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ وا اللہ اعلم بما ینزل قالوا انما انت مفتر بل اکثر ھم لا یعلمون : اور جب ہم ایک آیت کو بدل کر دوسری آیت کو اس کی جگہ رکھ دیتے ہیں اور اللہ جو حکم بھیجتا ہے ‘ اس کو وہی خوب جانتا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ از خود تراش لیتے ہیں (ا اللہ پر دروغ بندی کرتے ہیں۔ آپ مفتری نہیں بلکہ ان میں سے اکثر جاہل ہیں۔ تبدیل آیت سے مراد کسی آیت کی تلاوت کو منسوخ کرنا ہے یا کسی حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم دینا۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ جو کچھ نازل کرتا ہے ‘ وہی خوب جانتا ہے کہ پہلی آیت اس سے قبل ضرور مبنی بر مصلحت تھی لیکن اس کا اب باقی رکھنا غلط…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(101) اور جب ہم ایک منسوخ کرے اس کے بدلہ بذریعہ جبریل دوسرا حکم ناسخ بھیجتے ہیں، حالانکہ بندوں کو کس چیز کا حکم دینا چاہیے اس کی مصلحت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں تو یہ کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ آپ اپنی جانب سے ایسا کہہ رہے ہیں۔ بلکہ ان ہی میں سے اکثر لوگ اس بات سے بیخبر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان ہی کاموں کا حکم دیتے ہیں جن میں ان کے لیے مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ : یعنی پہلی آیت کا حکم منسوخ کرکے نیا حکم نازل فرماتے ہیں۔ نسخ پر بحث کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (106) اب یہاں سے کفار کے شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (شوکانی) بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : یعنی ان کے اکثر لوگ نسخ کی وجہ سے آپ ﷺ کو مفتری اس لیے کہتے ہیں کہ انھیں پہلی شریعتوں کا علم نہیں، اگر ہوتا تو سمجھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے قاعدہ رہا ہے کہ وہ ایک حکم اتارتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے منسوخ کرکے دوسرا حکم دے دیتا ہے۔ ”اَكْثَرُهُمْ“ اس لیے فرمایا کہ کچھ لوگ سب کچھ جاننے کے باوجود ضد اور عناد کی وجہ سے آپ کو مفتری کہتے ہیں۔ اس آیت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 101–102

آیت نمبر 101 تا 102 قولہ تعالیٰ : واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ واللہ اعلم بما ینزل کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے جب ہم سابقہ شریعت کو نئی شریعت کے ساتھ بدلتے ہیں ؛ یہ ابن بحر نے کہا ہے۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : یعنی جب ہم ایک آیت کو اٹھا لیتے ہیں اور اس کی جگہ دوسری رکھ دیتے ہیں۔ اور جمہور نے کہا ہے : جب ہم ایک آیت کو ایسی آیت کے ساتھ منسوخ کردیتے ہیں جو پہلی سے ان پر زیادہ شدید اور سخت ہوتی ہے۔ نسخ اور تبدیل کا معنی ہے ایک چیز کو اٹھا لینا اس طرح کہ اس کی جگہ دوسری شے رکھ دی جائے، اور نسخ کے بارے میں مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ قالوا مراد کفار قریش ہیں یعنی یہ کہتے ہیں : انما انت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 101–102

1:۔ ابوداود نے ناسخ میں ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ “ اور فرمایا (آیت) ” ان ربک للذین ھاجروا من بعد ما فتنوا “ سے مراد ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ؓ رسول اللہ ﷺ کا کاتب تھا ان کو شیطان نے پھسلا دیا اور وہ کافروں سے جا ملے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان کے قتل کا حکم فرمایا تو حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے انکے لئے پناہ مانگی تو آپ نے اس کو پناہ دے دی۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ “ کا قول اس قول (آیت) ” ماننسخ من ایۃ اوننسھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا : اور جب کبھی ] [ بَدَّلْنَآ : ہم تبدیل کرتے ہیں ] [ اٰيَةً : کسی آیت کو ] [ مَّكَان اٰيَةٍ ۙ: کسی آیت کی جگہ ] [ وَّاللّٰهُ؛اور اللہ ] [ اَعْلَمُ : سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [ بِمَا : اس کو جو ] [ يُنَزِّلُ : وہ نازل کرتا ہے ] [ قَالُوْٓا؛تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ انتَ : آپ ﷺ ] [ مُفْتَرٍ ۭ: گھڑنے والے ہیں ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَكْثَرُهُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ؛علم نہیں رکھتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرآن مجید کی بعض آیات منسوخ ہونے پر معاندین کا اعتراض اور اس کا جواب رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں احکام میں نسخ ہوتا رہتا تھا اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک حکم دیا پھر اس سے منع فرما دیا اور اس کے خلاف حکم دیدیا اس کو دیکھ کر مشرکین نے اعتراض کیا کہ محمد ﷺ آج ایک بات کہتے ہیں اور کل کو اس سے رجوع کرلیتے ہیں اگر واقعی یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں نسخ کیوں ہوتا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ محمد اپنے پاس سے بدل دیتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہیں، سورة بقرہ میں (مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْنُنْسِھَا) کے ذیل میں ان لوگوں کا اعتراض اور اس کا جواب مذکور ہوچکا ہے یہاں (وَ اِذَا بَدَّلْنَآ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–105

منکرین نبوت کے چند شبہات اور ان کے جوابات قال اللہ تعالیٰ : واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ .... الیٰ .... واولئک ہم الکذبون۔ (ربط) اب یہاں سے منکرین نبوت کے چند شبہات نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں۔ اصول دین میں پہلی اصل توحید ہے اور دوسری اصل نبوت ہے دلائل توحید کے بعد نبوت کے متعلق چند شبہات کا جواب دیتے ہیں۔ قرآن مجید کا جب کوئی حکم منسوخ ہوجاتا تو کفار کہتے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب سے مسخرہ پن کرتے ہیں کبھی ایک چیز کا حکم دیتے ہیں اور پھر اس سے منع کردیتے ہیں۔ واذا بدلنا ایۃ فکان ایۃ میں اس شبہ کا ذکر فرمایا اور بتلا دیا کہ نسخ احکام کے مصالح کو ہم خوب جانتے ہیں تم نہیں جانتے۔ اللہ کا ہر حکم مصلحت پر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

83:۔ یہ مشرکین پر شکوی ہے جو قرآن مجید پر شیطانی وسوں سے بےجا شبہات وارد کرتے تھے یہ ان کا پہلا شبہ ہے جو دلیل وحی سے متعلق ہے قرآن مجدی میں جو احکام ابتداء میں وقتی مصالح کی بنا پر نازل کیے گئے تھے جب ان کی ضرورت باقی نہ رہی تو انہیں منسوخ کردیا گیا اس پر مشرکین طعن کرنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بات کہے پھر اسے واپس لے لے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ (عیاذا باللہ) یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ یہ محمد کا کلام ہے جسے وہ غلط طور سے اللہ کی طرف منسوب کردیتا ہے۔ مشرکین ظالم و ایسے بیباک تھے کہحضور ﷺ کو مخاطب کر کے پورے وثوق سے کہنے لگے ” انما انت مفتر “ اے محمد بات صرف یہی ہے کہ تو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–105

ربط آیات گذشتہ درس میں آداب تلاوت قرآن سکھائے گئے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ تلاوت کرتے وقت شیطان مردود سے اللہ کے ساتھ پناہ پکڑ لیں تاکہ آپ اس کے وسوسے سے بچ جائیں ، فرمایا شیطان کا تسلط ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے دوستانہ رکھتے ہیں اور پھر اسی کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے والے کامل الایمان لوگوں پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا ۔ اب آج کی آیات میں قرآن پاک ہی سے متعلق مشرکین کے بعد شکوک و شبہات کا دلائل کے ساتھ ازالہ کیا گیا ہے ، اس طرح گویا ان آیات کا گذشتہ مضمون کے ساتھ ربط ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے بغیر ایمانیات اور دین کے صحیح اصول…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ ۙ وَّاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 101؁ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 101–105

ترکیب : اذا شرطیہ واللہ اعلم بماینزل جملہ معترضہ شرط اور جزا ہیں۔ قالوا جملہ جواب شرط، مفتر صیغہ اسم فاعل افتریٰ یفتری سے ی گر گئی مفتری تھا وھدیً و بشرٰی دونوں محل نصب میں ہیں مفعول لہ ہونے کی وجہ سے ان کا لیثبت پر عطف ہے تقدیرہ لان یثبت۔ اعجمی لسان الذی کی خبر۔ لایہدیہم خبر ہے ان کی الذین یفتری کا فاعل۔ افترا کسی پر جھوٹ سے کوئی بات بنانا۔ العجمۃ الاحقاء وھی ضدالبیان والعرب یقال رجل اعجمی و امراء ۃ عجمیۃ ورجل اعجم وامرۃ عجماء اے لایفصحان۔ وقیل العجمی منسوب الی العجم والاعجمی من لایفصح سواء کان من العرب اوالعجم وقیل الاعجمی من لایفصح والاعجم الذی من العجم وقال الراغب الاصفہانی بالعکس یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ لا وَّاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 101) (اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ اتارتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تم تو اپنے جی سے گھڑ لینے والے ہو بلکہ ان میں کے اکثر علم نہیں رکھتے۔ ) ایک اعتراض اور اس کا جواب مشرکینِ مکہ قرآن کریم کے حوالے سے نبی کریم ﷺ پر جو اعتراضات کرتے تھے ان میں سے ایک اعتراض کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ مشرکینِ مکہ کا بنیادی طور پر اعتراض یہ تھا کہ اگر یہ کلام اللہ تعالیٰ کا ہے اور ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں ایک وضاحت اور اس حوالے سے نبی ﷺ پر لگائے جانے والے الزام کی تردید۔ کفار اور اہل کتاب کو قرآن مجید پر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اس کی بعض آیات اور احکام میں ردوبدل کیوں پایا جاتا ہے۔ اس اعتراض کا یہاں اس طرح جواب دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی آیات اور احکام میں جو ردوبدل فرماتا ہے اس کی حکمت کما حقہ وہی جانتا ہے۔ البتہ اس کے پیچھے لوگوں کی خیر خواہی مقصود ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے حالات کے مطابق اپنے احکام میں ردّوبدل نہ فرمائے تو اس سے لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سورة البقرۃ آیت 106، میں اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے یوں ارشاد…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نسخ ہماری حکمت سے ہے : 101: وَاِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ (جب ہم ایک آیت دوسری آیت کی جگہ رکھ دیتے ہیں) تبدیل آیت کو دوسری آیت سے بدلنے کو نسخ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرائع و احکام کو حکمت کی وجہ سے منسوخ فرماتے ہیں اور اس آیت کا یہی معنی ہے۔ وَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ (اللہ تعالیٰ جو حکم بھیجتا ہے اس کو جانتا ہے) قراءت : مکی اور ابو عمرو نے تخفیف سے یُنْزِلُ پڑھا ہے۔ قَالُوْا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ (وہ کہتے ہیں تم خود تراشتے اور گھڑتے ہو) یہ اذا کا جواب ہے۔ اور واللّٰہ اعلم بما ینزل جملہ معترضہ ہے کفار کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ اپنے صحابہ سے تمسخر کرتے ہیں آج ان کو کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

” واذا بدلنا آیۃ مکان آیۃ “ یعنی جب ہم ایک حکم کو بدل کر اس کی جگہ دوسرے حکم کو لے آتے ہیں ۔ ” واللہ اعلم ما بنزل “ وہی زیادہ جانتا ہے کہ میری مخلوق کے زیادہ مناسب کیا ہے کس احکام کو تبدیل یابدلنا ہے ۔ ” قالو انما انت “ یعنی اے محمد ! (ﷺ )” مفقر “ مشرکین نے کہا کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں سے مذاق کرتے ہیں ۔ آج ایک حکم دیتے ہیں اور کل اس کی ممانعت کردیتے ہیں یہ از خود تراش کر اللہ پر درو وغ بندی کرتے ہیں ۔ ” بل اکثرھم لا یعلمون “ قرآن کی حقیقت کو اکثر نہیں جانتے اور ناسخ منسوخ کے بیان کو بھی نہیں جانتے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 101–102

101۔ 102۔ جب اللہ پاک کسی آیت کو منسوخ فرما دیتا اور اس کی جگہ دوسری آیت نازل فرماتا تو مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنے جی سے بنا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ لوگ قرآن کے نازل ہونے کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں قرآن مجید کی ایک ایک آیت معجزہ ہے اللہ پاک ہی کو اس کا علم ہے وہی جانتا ہے کہ کون سے حکم اس وقت کیلئے مناسب ہے اور پھر دوسرے وقت کی مصلحت کے لحاظ سے کونسا حکم ہونا چاہیے پھر فرمایا کہ ان کافروں سے کہہ دو کہ ساری آیتیں قرآن پاک کی جبریل (علیہ السلام) اللہ جل شانہ کے پاس سے لاتے ہیں اس میں کوئی ناسخ ہو خواہ کوئی منسوخ سب اسی پاک پروردگار عالم کی طرف سے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–102

آیت : (101-102) اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کی تکذٰب کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں ایسے امور کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کے لئے حجت ہوں حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ حاکم اور حکمت والا ہے ‘ جو احکام کو مشروع کرتا ہے اور اپنی حکمت اور رحمت کی بنا پر کسی حکم کو بدل کر اس کی جگہ کسی دوسرے حکم کو لے آتا ہے۔ پس جب وہ اس قسم کی تبدیلی دیکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم میں عیب چینی کرتے ہیں (قالوا انما انت مفتر) ” تو کہتے ہیں کہ تو افترا پرداز ہے “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (بل اکثرھم لا یعلمون) ” بلکہ ان میں سے اکثر نادان ہیں۔ “ پس وہ جاہل ہیں جنہیں اپنے رب کے بارے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 98–105

استعاذہ کا بیان قرآن پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے قول باری ہے (فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو) عمرو بن مرہ نے عباد بن عاصم سے، انہوں نے نافع بن جبیربن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو نماز شروع کرتے وقت یہ پڑھتے ہوئے سنا تھا (اللھم اعوذ بک من الشیطان من ھمزہ و نفخہ و نفشہ اے اللہ ! میں شیطان سے ، اس کے خطرات سے ، اس کی پھونک سے اور اس کے وسوسے سے تیری پناہ میں آتا ہوں) حضرت ابو سعید خدری نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نماز کے اندر قرأت سے پہلے تعوذ پڑھا کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

220۔ احکام شریعت کی تبدیلی پر دشمنوں کے اعتراض کا ذکر :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور جب ہم کسی آیت کے بدلے میں کوئی دوسری آیت لے آتے ہیں “ کہ حکمت کا تقاضا یہی ہوتا ہے اور مکلفین کی بہتری اسی میں مضمر ہوتی ہے۔ جیسے ایک ڈاکٹر مریض کی حالت میں تبدیلی کے مطابق اس کی دوا تبدیل کرتا ہے کہ وہ مریض کی حالت کو اس سے بہتر جانتا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر اور مریض دونوں انسان اور مخلوق ہونے میں ایک برابر ہیں تو پھر کیا کہنے حضرت خالق۔ جل مجدہ۔ کی عنایت اور اس کے علم اور اس کی حکمت کے۔ جو کہ سب کا خالق ومالک اور دائرہ مخلوق سے ورا الوراء اور مخلوق کی مشابہت اور اس کے ہر شائبے سے پاک اور اعلی وبالا ہے۔ سبحانہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 101–102

کفار کا اعتراض اور اللہ کا جواب تشریح : کفار تو ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ کوئی بہانہ ملے تو قرآن اور نبی ﷺ کو جھٹلائیں ان پر الزامات لگائیں۔ اسی طرح جب بھی کبھی کوئی حکم کسی مصلحت کی وجہ سے پہلے سے ذرا مختلف ہوتا تو کفار کہنے لگتے کہ یہ کلام اللہ کا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ تو حکیم وخبیر ہے اس کو احکامات بدل کردینے کی کیا ضرورت ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ ان کو بتا دیجیے کہ یہ کلام حضرت جبرائیل لے کر میرے پاس آتے ہیں اور یہ جو احکامات میں تھوڑی سے تبدیلی ہوتی ہے تو یہ بھی اللہ رب العزت کی مصلحت کی وجہ سے ہوتی ہے نہ کہ لاعلمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثلاً…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–110

(رکوع نمبر 14) اسرارومعارف شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 99–101

ف 1 اور پہلی آیت کا حکم منسوخ کردیتے ہیں۔ نسخ پر بحث کے لئے دیکھئے۔ ( سورة بقرہ آیت 106) اب یہاں سے کفار کے شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (شوکانی) 2 انہیں پہلی شریعتوں کا علم نہیں۔ اگر ہوتا تو سمجھ لیتے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ قاعدہ رہا ہے کہ وہ ایک حکم اتارتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے مسنوخ کر کے دوسرا حکم دے دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 100–101

(16:101) اعلم۔ علم سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ ینزل۔ نزل ینزل تنزیل (تفعیل) سے مضارع واحد مذکر غائب وہ اتارتا ہے۔ وہ نازل کرتا ہے۔ مفتر۔ افتراء (افتعال) سے اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ اپنی طرف سے گھڑ کر بات بنانے والا۔ اصل میں مفتری تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا۔ اس کو ساکن کیا۔ اب یساکن اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوگئے۔ یاجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی مفتر بن گیا۔ اس کا مادہ فری ہے الفری کے معنی چمڑے کو سینے اور مرمت کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں اور افرائ (افعال) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں۔ افتراء (افتعال) اصلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے لیکن اس کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–105

لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 105 بدلنا ہم نے بدل دیا۔ ینزل وہ نازل کرتا ہے۔ مفتر گھڑنے والا۔ روح القدس پاکیزہ روح جبریل امین۔ لیثبت تاکہ وہ پکا کر دے۔ یعلم سکھاتا ہے۔ یلحدون (الحاد) اشارہ کرتے ہیں۔ عربی مبین واضح عربی، فصیح عربی زبان۔ تشریح : آیت نمبر 101 تا 105 حضرت عیسیٰ (جن کو اللہ نے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا ہے) ان کے ساڑھے پانچ سو سال کے بعد جزیرۃ العرب میں مذہبی، تمدنی ، عاشرتی، اخلاقی، تہذیبی اور رسم و رواج میں اتنی تبدیلیاں آ چکی تھیں کہ کفار مکہ زبان سے تو یہ کہہ کر فخر کرتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد یا ان کے ماننے والے ہیں لیکن اس نسبت کے باوجود وہ ہر طرح کی جہالت اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ناسخ منسوخ کا ذکر شان نزول : جب اللہ پاک قرآن مجید کی کسی آیت کو منسوخ فرما دیتا اور اس کی جگہ دوسری آیت نازل فرماتا تو مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنے جی سے بنایا ہے۔ آج ایک کام کا حکم فرماتا ہے کل اس سے منع کرتا ہے۔ ہمارے خیال سے وہ اپنی طرف سے گھڑ گھڑ کر کہتا ہے۔ ان کے قول کو رد کرنے کو خدا تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کے ناز ہونے کی حقیقت سے بلکل ناواقف ہیں قرآن ایک معجزہ ہے۔ اللہ ہی کو اس کا علم ہے وہی جانتا ہے کہ کون سا حکم اس وقت کے لئے مناسب ہے۔ پھر دوسرے وقت کی مصلحت کے لحاظ سے کون سا حکم ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 98–101

[63] یعنی دل سے تو ضرور اور بہتر یہ ہے کہ زبان سے بھی اعوذباللہ من الشیطٰن الرجیم کہا جائے۔ یہاں یہ آیت جس غرض کے لئے آئی ہے وہ یہ ہے کہ آگے چل کر ان اعتراضات کا جواب دیا جا رہا ہے جو مشرکین قرآن پر کیا کرتے تھے۔ اس لئے تمہید کے طور پر فرمایا گیا کہ قرآن کو اس کی اصلی روشنی میں صرف وہی شخص دیکھ سکتا ہے جو شیطان سے چوکنا ہو اور اس کی وسوسہ اندازیوں سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ سے پناہ مانگے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 98–101

(ف 2) قرآن اللہ کی کتاب ہے اس کے نزدیک نقطہ نگاہ کی تقدیس ضروری ہے ، ذہن و خیال کی پاکیزگی لازم ہے ، تاکہ اس مقدس کلام کی پہنائیوں تک رسائی ہو سکے ، وہ شخص جو نفس کا ناپاک ہے ، جس کے قلب میں خباثت ہے ، جس کا باطن درست نہیں وہ اس کے فیوض وبرکات سے استفادہ نہیں کرسکتا اسی لئے ارشاد ہے کہ جب قرآن پڑھو تو شیطانی وساوس کو دور کرلو ، دل کا پاک اور یکسو کرلو ، اعوذ پڑھ لو ، اور غرض یہ ہے کہ پوری پاکیزگی کے ساتھ اس پاک کتاب کا مطالعہ کیا جائے ۔ حل لغات : فاستعذ باللہ : خدا کی پناہ میں آ یعنی حصار توحید میں جگہ حاصل کر ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

101 ۔ اور ہم جب کسی آیت کی بجائے دوسری آیت کو بدلتے ہیں اور ایک آیت کے حکم کی جگہ دوسری آیت کا حکم لے آتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم نازل کرتا ہے اور جو حکم بھیجتا ہے اس کی حکمت اور مصلحت کو وہ خوب جانتا ہے تو یہ دین حق کے منکر اس تبدیلی پر کہتے ہیں کہ بس تو ہی افتراء کرنیوالا ہے اور تو اپنے دل سے خود گھڑنے والا اور بنانے والا ہے یہ بات نہیں ہے بلکہ ان میں کے اکثر لوگ جاہل اور ناسمجھ ہیں ۔ یعنی جب کوئی آیت لفظا یامعنا ً منسوخ ہوجاتی ہے اور اس آیت کے حکم کی بجائے ہم دوسرا حکم بھیجتے ہیں تو مخالف کہتے ہیں کہ یہ سب تیری من گھڑت ہے اور اگر یہ کلام اللہ تعالیٰ کا ہوتا تو اس میں نسخ نہ ہوتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یعنی ایک آیت کو لفظا یا معنی منسود کرکے اس کی جگہ دوسراحکم بھیج دیتے یہں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کسی آیت کے ساتھ آپ کے بدلنے کا مفہوم کیا ہے ؟ 115۔ ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرنے کا مطلب کیا ہے ؟ زیر نظر آیت سے مفسرین نے ناسخ ومنسوخ کا مسئلہ نکالا ہے حالانکہ اس آیت کا مفہوم مطلق ایسا نہیں ہے ، قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ کوئی دوسری آیت کے لانے کا تصور تو ممکن ہی نہیں اور نہ ہی کوئی آیت اس طرح منسوخ کی گئی تاہم اس جگہ اس بحث کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ناسخ ومنسوخ کے متعلق ہم مکمل بحث سورة البقرہ کی آیت 106 میں کرچکے ہیں ۔ دراصل یہود ونصاری اور مشرکین مکہ یہ تینوں گروہ قرآن کریم کے نزول کے وقت مخاطبین اول تھے اور تینوں ہی کو دعوی تھا کہ وہ اپنے پاس ایک ہدایت رکھتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–105

Sequence of Verses In the previous verse (98), there was an instruction to say اَعُوذ بِاللہ 'a udhu bil-lah' (I seek protection with Allah) while reciting the Qur’ an which indicates that the Shaitan puts scruples in the heart when one recites the Qur'an. In the verses cited above, there is a refutation of such Satanic instigations.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

102. This may also mean: To send down one commandment to elaborate upon the other, for the commandments were sent down piecemeal in the Quran. For instance, the commandments about prohibition and fornication were sent down gradually one after the other during several years. But We hesitate to accept this interpretation because An-Nahl is a Makki Surah and to the best of our information there is no instance to show that commandments were sent down piecemeal at Makkah. Therefore, we prefer the other interpretation. The Quran has added details of one theme and explained the same with different…

Read the full tafseer →