An-Nahl 16:103

An-Nahl · from ayah 103

16:103

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ ؕ— لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ ۟وَلَـقَدۡ نَـعۡلَمُ اَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ‌ؕ لِسَانُ الَّذِىۡ يُلۡحِدُوۡنَ اِلَيۡهِ اَعۡجَمِىٌّ وَّهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّ مُّبِيۡنٌ

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We certainly know that they say, "It is only a human being who teaches the Prophet." The tongue of the one they refer to is foreign, and this Qur'an is [in] a clear Arabic language.

— Saheeh International

Juz 14 · Ruku 14 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nahl

All translations of 16:103

ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے۔

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ (تمہارے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ : ان کو تو ایک انسان سکھاتا پڑھاتا ہے۔ (حالانکہ) جس شخص کا یہ حوالہ دے رہے ہیں اس کی زبان عجمی ہے۔ اور یہ (قرآن کی زبان) صاف عربی زبان ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں، یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے، جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (کفار و مشرکین) کہتے ہیں کہ انہیں یہ (قرآن) محض کوئی آدمی ہی سکھاتا ہے، جس شخص کی طرف وہ بات کو حق سے ہٹاتے ہوئے منسوب کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قرآن واضح و روشن عربی زبان (میں) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ بیشک وہ کہتے ہیں اسے تو ایک آدمی ہی سکھاتا ہے، اس شخص کی زبان، جس کی طرف وہ غلط نسبت کر رہے ہیں، عجمی ہے اور یہ واضح عربی زبان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم خوب جانتے ہیں کہ کافر یہ کہتے ہیں کہ : کوئی انسان ہے جو اس (نبی) کو (یہ قرآن) سکھا جاتا ہے حالانکہ جس شخص کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں وہ عجمی ہے اور یہ (قرآن) سلیس عربی زبان ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو تو ایک انسان سکھاتا ہے۔ اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں عجمی ہے اور یہ فصیح عربی زبان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ (آپ کے بارے میں) کہتے ہیں کہ سوائے اس کے نہیں کہ اس شخص کو سکھاتا ہے ایک انسان، حالانکہ جس شخص کی طرف یہ لوگ اس بات کی نسبت کرتے ہیں اس کی زبان (ہی عربی نہیں، بلکہ) عجمی ہے، جبکہ یہ (قرآن حکیم) کھلی عربی زبان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ انہیں تو ایک آدمی سکھلا جاتا ہے۔ (حالانکہ) جس شخص کی جانب اس کی ناحق نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ (کلام) تو فصیح عربی زبان (میں) ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو ایک انسان سکھاتا ہے یہ لوگ جس کی طرف غلط طور پر منسوب کر رہے ہیں اس کی زبان تو (ان کے بقول) عجمی ہے اور یہ (قرآن) فصیح عربی زبان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر کو ایک شخص سکھا جاتا ہے مگر اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ اشارہ کرتے ہیں غیر عربی ہے اور یہ صاف عربی زبان میں ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We know well that they say about you: "It is only a human being who teaches him," (notwithstanding) that he whom they maliciously hint at is of foreign tongue, while this (Qur'an) is plain Arabic speech.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We know well that they say, :There is a man who teaches him. The language of the one they refer to is non-Arabic while this is clear Arabic language.

— Muhammad Taqi Usmani

We know well that they say, :There is a man who teaches him. The language of the one they refer to is non-Arabic while this is clear Arabic language.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We know that they (polytheists and pagans) say: "It is only a human being who teaches him." The tongue of the man they refer to is foreign, while this (the Qur'an) is (in) a clear Arabic tongue.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We know well that they say: Only a man teacheth him. The speech of him at whom they falsely hint is outlandish, and this is clear Arabic speech.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We certainly know that they say, "It is only a human being who teaches the Prophet." The tongue of the one they refer to is foreign, and this Qur'an is [in] a clear Arabic language.

— Saheeh International

We know that they say a mere mortal has taught it (the Quran) to him (Muhammad). The language of the person whom they think has taught it to him is not Arabic. This (the Quran) is in illustrious Arabic.

— Muhammad Sarwar

And certainly We know that they say: Only a mortal teaches him. The tongue of him whom they reproach is barbarous, and this is clear Arabic tongue.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We know that they say: it is only a human being who teachech him. The speech of him unto whom they incline is foreign while this is Arabic speech plain.

— Abdul Majid Daryabadi

We know indeed that they say, "It is a man that teaches him." The tongue of him they wickedly point to is notably foreign, while this is Arabic, pure and clear.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 16:103

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

سب سے زیادہ منزلت و رفعت والا کلام کافروں کی ایک بہتان بازی بیان ہو رہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے یہ قرآن ایک انسان سکھاتا ہے۔ قریش کے کسی قبیلے کا ایک عجمی غلام تھا، صفا پہاڑی کے پاس خریدو فروخت کیا کرتا تھا، حضور ﷺ کبھی کبھی اس کے پاس بیٹھ جایا کرتے تھے اور کچھ باتیں کرلیا کرتے تھے، یہ شخص صحیح عربی زبان بولنے پر بھی قادر نہ تھا۔ ٹوٹی پھوٹی زبان میں بمشکل اپنا مطلب ادا کرلیا کرتا تھا۔ اس افترا کا جواب جناب باری دیتا ہے کہ وہ کیا سکھائے گا جو خود بولنا نہیں جانتا، عجمی زبان کا آدمی ہے اور یہ قرآن تو عربی زبان میں ہے، پھر فصاحت و بلاغت والا، کمال و سلاست والا، عمدہ اور اعلیٰ پاکیزہ اور بالا۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّحْل 107 روایات میں مختلف اشخاص کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ ان میں سے کسی پر یہ گمان کرتے تھے۔ ایک روایت میں اس کا نام جبر بیان کیا گیا ہے جو عامر بن الحضرمی کا ایک رومی غلام تھا۔ دوسری روایت میں حُوَیطِب بن عبد العُزّیٰ کے ایک غلام کا نام لیا گیا ہے جسے عائش یا یعیش کہتے تھے۔ ایک اور روایت میں یسار کا نام لیا گیا ہے جس کی کنیت ابو فکَیہَہ تھی اور جو مکہ کی ایک عورت کا یہودی غلام تھا۔ ایک اور روایت بلعان یا بلعام نامی ایک رومی غلام سے متعلق ہے۔ بہرحال ان میں سے جو بھی ہو، کفار مکہ نے محض یہ دیکھ کر کہ ایک شخص تورات و انجیل پڑھتا ہے اور محمد ﷺ کی اس سے ملاقات ہے، بےتکلف یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–105

خلاصہ تفسیر ربط آیات اس سے پہلی آیت میں تلاوت قرآن کے وقت اعوذ باللہ پڑھنے کی ہدایت تھی جس میں اشارہ ہے کہ شیطان تلاوت کے وقت انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے مذکورہ آیات میں اسی طرح کے وساوس شیطانی کا جواب ہے ، نبوت پر کفار کے شبہات کا جواب مع تہدید اور جب ہم کسی آیت کو بجائے دوسری آیت کے بدلتے ہیں (یعنی ایک آیت کو لفظا یا معنی منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم بھیجدیتے ہیں) اور حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم (پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ) بھیجتا ہے (اس کی مصلحت و حکمت کو) وہی خوب جانتا ہے (کہ جن کو یہ حکم دیا گیا ہے ان کے حالات کے اعتبار سے ایک وقت میں مصلحت کچھ تھی پھر حالت بدل جانے سے مصلحت اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ ۭ لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ۔ مخالفین کے ایک اور فتنہ کا رد : وَلَقَدْ نَعْلَمُ در اصل وَلَقَدْ کنا نَعْلَمُ ہے یعنی بعض اوقات مضارع سے پہلے افعال ناقصہ کو حذف کردیتے ہیں۔ اس اسلوب پر پیچھے سورة بقرہ وغیرہ میں تفصیل سے بحث ہوچکی ہے۔ یہ مخالفین کے ایک دوسرے فتنے کا حوالہ دیا ہے جو وہ لوگوں کو قرآن سے بدگمان کرنے کے لیے اٹھائے ہوئے تھے وہ کہتے تھے کہ اس کلام کو وحی الٰہی اور فرشتہ کا لایا ہوا کہنا تو محض ایک دھونس ہے۔ یہ تو فلاں شخص ان کو سکھاتا ہے اور یہ حضرت اس کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 103–104

13۔ 1 یعنی بعض غلام تھے جو تورات و انجیل سے واقف تھے، پہلے وہ عیسائی یا یہودی تھے، پھر مسلمان ہوگئے ان کی زبان میں بھی روانی نہ تھی۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ فلاں غلام، محمد کو قرآن سکھاتا ہے۔ 13۔ 2 اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ یہ جس آدمی، یا آدمیوں کا نام لیتے ہیں وہ تو عربی زبان بھی روانی کے ساتھ نہیں بول سکتے، جب کہ قرآن تو ایسی صاف عربی زبان میں ہے جو فصاحت و بلاغت اور اعجاز بیان میں بےنظیر ہے اور چلینج کے باوجود اس کی مثل ایک سورت بھی بنا کر پیش نہیں کی جاسکتی، دنیا بھر کے عالم فاضل اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ عربی اس شخص کو عجمی (گونگا) کہتے تھے جو فصیح وبلیغ زبان بولنے سے قاصر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 103–105

45: مکہ مکرمہ میں ایک لوہار تھا جو آنحضرت ﷺ کی باتیں دل لگا کر سنا کرتا تھا، اس لئے آپ ﷺ کبھی کبھی اس کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے اور وہ کبھی کبھی آپ کو انجیل کی کوئی بات بھی سنادیا کرتا تھا، مکہ مکرمہ کے بعض کافروں نے اس کو بنیاد بناکر یہ کہنا شروع کردیا کہ آنحضرت ﷺ یہ قرآن اس لوہار سے سیکھتے ہیں، یہ آیت کریمہ اس اعتراض کی لغویت کو بیان کررہی ہے کہ وہ بیچارہ لوہار تو عرب نہیں ہے، عجمی ہے، وہ عربی زبان کے اس فصیح وبلیغ کلام کا مصنف کیسے ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا لسان عربی مبین (61 : 3019 ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔ ان کی طرف سے دوسرا افتراء یہ تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو کوئی آدمی یہ قرآن مجید سکھاتا ہے۔ انہوں نے اس کا نام بھی لیا تھا۔ البتہ اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ وہ ایک عجمی غلام کی طرف اشارہ کرتے تھے جو دراصل بعض قبائل قریش کا غلام تھا اور یہ حلفاء کے قریب تجارت کرتا تھا۔ اس کے پاس حضور اکرم ﷺ بیٹھا کرتے تھے۔ یہ شخص عجمی تھا اور عربی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 مشرکین کا اعترض یہ تھا کہ قرآن شریف نہ خدا کا کلام ہے، ورنہ نسخ اس میں نہ ہوتا اور نہ یہ آپ کا کلام ہوسکتا ہے۔ کیونکہ آپ کا امی ہونا سب کو معلوم و مسلم تھا۔ ایک امی جس نے نہ کبھی کوئی کتاب چھوئی ہو نہ قلم ہاتھ میں پکڑا ہو، بلکہ باوجود اعلیٰ درجہ کے قریشی ہونے کے چالیس برس تک ایک شعر بھی زبان سے نہ کہا ہو، جس میں عرب کی چھوکریاں تک فطری سلیقہ اور ملکہ رکھتی تھیں۔ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ بدون تعلیم و تعلم کے دفعتاً ایسی کتاب بنا لائے جو اس قدر عجیب و غریب، علوم و حکم، موثر ہدایات اور کایا پلٹ کردینے والے قوانین و احکام پر مشتمل ہو۔ ناگزیر کہنا پڑے گا کہ کوئی دوسرا شخص انھیں یہ باتیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 103 وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ مشرکین رسول اللہ پر ایک الزام یہ لگا رہے تھے کہ آپ نے کسی عجمی غلام کو یا اہل کتاب میں سے کسی آدمی کو اپنے گھر میں چھپا رکھا ہے جو تورات کا عالم ہے۔ اس سے آپ یہ ساری باتیں سیکھتے ہیں اور پھر وحی کے نام پر ہمیں سناتے ہیں اور ہم پر دھونس جماتے ہیں۔ لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ چنانچہ یہ الزام لگاتے ہوئے ان کو خود سوچنا چاہیے کہ کوئی عجمی ایسی فصیح وبلیغ عربی زبان کیسے بول سکتا ہے !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

108 کسی عجمی سے قرآن سیکھنے کا جواب :۔ اس سلسلے میں کفار مکہ متعدد عجمی غلاموں کے نام لیتے تھے جو تورات اور انجیل کی تعلیم سے واقف تھے۔ جب کبھی کافروں نے دیکھا کہ آپ دعوت اسلام کے لیے ان کے پاس گئے یا وہ غلام آپ کے پاس آیا تو کافروں نے مشہور کردیا کہ یہ نبی تو فلاں آدمی سے سابقہ امتوں کے قصے اور کہانیاں سنتا ہے۔ پھر ہمیں سنا دیتا ہے۔ حالانکہ وہ عجمی غلام اپنی زبان میں تو بات کرسکتے تھے۔ عربی ٹھیک طرح بول بھی نہ سکتے تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا یہ جواب دیا کہ قرآن کی زبان تو اس قدر فصیح وبلیغ ہے کہ اس کی نظیر لانے سے تم عربی لوگ اپنی فصاحت و بلاغت پر فخر کرنے کے باوجود قاصر ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

164۔ یہ ایک نومسل رومی نصرانی غلام تھا، انجیل (علیہ السلام) وغیرہ سے واقف۔ رسول اللہ ﷺ کی باتوں کو شروع ہی سے توجہ ودلچپسی کے ساتھ سنتا تھا، تو آپ ﷺ بھی کبھی کبھی اس کے پاس جابیٹھتے تھے، تو بس اتنی سی بات پر عقل کے دشمنوں کو ایک شگوفہ ہاتھ آگیا، بعض روایتوں میں آتا ہے کہ یہ دو غلام تھے، جو مکہ میں شمشیر سازی کا کام کرتے تھے اور توریت انجیل بھی پڑھا کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ ادھر سے گزرتے، تو وہاں رک جاتے، بعض نافہموں نے ایک دن خود انہی سے پوچھ دیا کہ ” کیا تمہی انہیں قرآن سکھاتے ہو “ ؟ ” وہ بولے “ ہم بھلا انہیں سکھا سکتے ہیں، ہم تو خود ہی ان سے سیکھتے ہیں “۔ (آیت) ” یقولون انما یعلمہ بشر “۔ عجب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–110

آیت نمبر 101 تا 110 ترجمہ : اور جب ہم کوئی آیت منسوخ کرکے اس کی جگہ دوسری آیت بندوں کی مصلحت کیلئے نازل کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نازل کرتا ہے وہ خوب جانتا ہے تو کفار نبی ﷺ سے کہتے ہیں تم تو افترا پر داز ہو جھوٹے ہو، قرآن اپنی طرف سے گھڑ کو لاتے ہو، (ایسا نہیں ہے) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ قرآن کی حقیقت اور نسخ کے فائدہ سے واقف نہیں ہیں آپ ان کو بتادیجئے کہ اس کو جبرئیل آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں (بالحق) نَزَّلَ کے متعلق ہے کہ اہل ایمان کو اس کے ذریعہ ایمان پر ثابت رکھے اور مسلمانوں کے لئے ہے اور وہ ایک نصرانی لوہار ہے، نبی ﷺ اس کے پاس جایا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر اور ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو یہ کلام آدمی سکھا جاتا ہے ‘ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : جس شخص کے متعلق وہ قرآن سکھا جانے کی جھوٹی نسبت کرتے تھے ‘ وہ کون آدمی تھا ؟ اس کی تعیین میں علماء کا اختلاف ہے۔ ابن جریر نے مسند میں ضعیف سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ مکہ میں ایک عیسائی عجمی غلام تھا جو لوہار تھا ‘ اس کا نام بلعام تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آتے جاتے تھے۔ مشرکوں نے آپ کو بلعام کے پاس آتا جاتا دیکھ کر کہا : ان کو بلعام سکھا دیتا ہے۔ عکرمہ نے کہا : بنی مغیرہ کا ایک غلام تھا جس کا نام یعیش تھا۔ وہ کتابیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(103) اور اے محمد ﷺ یہ کفار مکہ دوسری بات یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو یہ قرآن کریم تو جبیر و یساریہ دو آدمی آکر سکھا جاتے ہیں جس شخص کی طرف اس کو منسوب کرتے ہیں، اس کی زبان تو (عجمی) عبرانی ہے اور یہ قرآن کریم تو صاف عربی زبان میں ہے۔ جس کو یہ جانتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولقد نعلم انہم یقولون“۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں بلعام نامی ایک لوہار تھا اور رسول اکرم ﷺ اس کو جانتے تھے اور آپ اس لوہار کے پاس آتے جاتے رہتے تھے اور مشرکین آپ کی آمد و رفت کو دیکھتے تھے، اور اس لوہار کی زبان عجمی تھی تو یہ دیکھ کر مشرکین کہنے لگے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ۔۔ : یہ قرآن پر ان کا دوسرا طعن تھا۔ اس شخص کی تعیین میں کئی روایات ہیں، بعض میں اس کا نام بلعام بتایا گیا ہے، بعض میں مقیس، بعض میں ابن الحضرمی کا ایک غلام۔ مگر ان میں سے صحیح روایت وہ ہے جو عبداللہ بن مسلم الحضرمی نے بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے دو عیسائی غلام تھے جو ”عین التمر“ کے باشندے تھے۔ ایک کا نام یسار تھا، دوسرے کا جبر، وہ دونوں اپنی کوئی کتاب پڑھا کرتے تھے، بعض اوقات رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرتے تو ٹھہر جاتے۔ مشرکین کہنے لگے، محمد ﷺ ان دونوں سے سیکھتا ہے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (طبری : 22073) ”الاستیعاب فی بیان الاسباب“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 103 قولہ تعالیٰ : ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر اس کے نام میں اختلاف ہے جس کے بارے انہوں نے کہا کہ وہ آپ کو قرآن سکھاتا ہے۔ پس کہا گیا ہے : وہ الفا کہ بن مغیرہ کا غلام تھا اور اس کا نام جبر ہے، وہ نصرانی تھا پھر اسلام لے آیا اور جب وہ (کفار مکہ) حضور نبی کریم ﷺ سے وہ آیات سنتے تھے جو گزر چکی ہیں اور جو آنے والی ہیں اس کے باوجود کہ آپ امی ہیں اور آپ نے کچھ نہیں پڑھا تو وہ کہتے : بیشک انہیں جبر سکھاتا ہے حالانکہ وہ عجمی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی وھذا لسان عربی مبین یعنی جبر آپ کو کیسے سکھا سکتا ہے حالانکہ وہ عجمی ہے اور یہ وہ کلام ہے کہ جن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 103–105

1:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ایک غلام کو تعلیم دیتے تھے اس کا نام بلعام تھا وہ عجمی زبان والا تھا مشرکوں نے آپ کو بلعام کے پاس آتا جاتا دیکھ کر کہا کہ ان کو بلعام سکھاتا ہے تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ولقد نعلم انہم یقولون انما یعلمہ بشر “ (الآیہ ) ۔ 2:۔ حاکم اور بیہقی نے شعب میں حاکم نے صحیح بھی کہا ہے۔ ابن عباس ؓ سے (آیت) ” انما یعلمہ بشر “ کے بارے میں روایت کیا کہ مشرکین نے کہا کہ محمد ﷺ کو عبدۃ بن حضرمی سکھاتا ہے اور وہ صاحب کتاب ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَقَدْ نَعْلَمُ : اور بیشک ہم نے جان لیا ہے ] [ انهُمْ : کہ یہ لوگ ] [ يَقُوْلُوْنَ : کہتے ہیں ] [ انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يُعَلِمُهٗ : سکھاتا ہے ان ﷺ کو ] [ بَشَرٌ ۭ: ایک بشر ] [ لِسَان الَّذِي : اسی کی زبان ] [ يُلْحِدُوْنَ : یہ لوگ مائل (یعنی اشارہ) کرتے ہیں ] [ اِلَيْهِ : جس کی طرف ] [ اَعْجَمِيٌّ: غیر عربی ہے ] [ وَّھٰذَا : اور یہ ] [ لِسَان : زبان ہے ] [ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ: واضح عربی ] ع ج م [عُجْمَۃً : (ک) لکنت کا ہونا۔ ہکلانا۔] [ اَعْجَمُ اَفْعَلُ الوان و عیوب کے وزن پر صفت ہے لیکن اس کی جمع اَفْعَلُ التفضیل کے اوزان پر آتی ہے۔ یعنی اَعْجَمُوْنَ اور اَعَاجِمُ (1) صاف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین کے اس قول کی تردید کہ آپ کو کوئی شخص سکھاتا ہے (وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ ) (الآیۃ) اس آیت میں مشرکین مکہ کے ایک بہتان کا تذکرہ ہے اور ساتھ ہی اس بہتان کا رد بھی مذکور ہے، جب کوئی شخص مخالفت پر ہی کمر باندھ لے تو اسے یہ ہوش ہی نہیں رہتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، رسول اللہ ﷺ جو قرآن مجید سناتے تھے تو مشرکین کبھی تو یوں کہہ دیتے تھے کہ یہ (اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) یعنی پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں اور کبھی کہتے تھے کہ یہ باتیں انہیں فلاں شخص سکھاتا ہے فلاں شخص سے کون مراد ہے اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ان میں ایک قول یہ ہے کہ ایک شخص پہلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–105

منکرین نبوت کے چند شبہات اور ان کے جوابات قال اللہ تعالیٰ : واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ .... الیٰ .... واولئک ہم الکذبون۔ (ربط) اب یہاں سے منکرین نبوت کے چند شبہات نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں۔ اصول دین میں پہلی اصل توحید ہے اور دوسری اصل نبوت ہے دلائل توحید کے بعد نبوت کے متعلق چند شبہات کا جواب دیتے ہیں۔ قرآن مجید کا جب کوئی حکم منسوخ ہوجاتا تو کفار کہتے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب سے مسخرہ پن کرتے ہیں کبھی ایک چیز کا حکم دیتے ہیں اور پھر اس سے منع کردیتے ہیں۔ واذا بدلنا ایۃ فکان ایۃ میں اس شبہ کا ذکر فرمایا اور بتلا دیا کہ نسخ احکام کے مصالح کو ہم خوب جانتے ہیں تم نہیں جانتے۔ اللہ کا ہر حکم مصلحت پر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

86:۔ یہ مشرکین کا دوسرا طعن ہے مکہ مکرمہ میں ایک رومی غلام بلعام نامی رہتا تھا یہ اسلام لا چکا تھاحضور ﷺ اسے اسلام احکام کی تعلیم فرمایا کرتے تھے لیکن مشرکین نے مشہود کردیا کہ وہ رومی غلام محمد ﷺ کو یہ قرآن سکھاتا ہے۔ ” لسان الذی یلحدون الیہ الخ “ یہ اس طعن کا جواب ہے۔ مشرکین اپنے خبچ باطن سے تعلیم قرآن کی نسبت جس شخص کی طرف کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف، شستہ اور سلیس عربی زبان میں ہے اس لیے یہ اس عجمی کا کلام کس طرح ہوسکتا ہے۔ مشرکین کا یہ طعن کسی دلیل پر مبنی نہیں تا محض ازراہ ِ عناد تھا۔ مگر جواب نہایت معقول دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–105

ربط آیات گذشتہ درس میں آداب تلاوت قرآن سکھائے گئے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ تلاوت کرتے وقت شیطان مردود سے اللہ کے ساتھ پناہ پکڑ لیں تاکہ آپ اس کے وسوسے سے بچ جائیں ، فرمایا شیطان کا تسلط ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے دوستانہ رکھتے ہیں اور پھر اسی کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے والے کامل الایمان لوگوں پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا ۔ اب آج کی آیات میں قرآن پاک ہی سے متعلق مشرکین کے بعد شکوک و شبہات کا دلائل کے ساتھ ازالہ کیا گیا ہے ، اس طرح گویا ان آیات کا گذشتہ مضمون کے ساتھ ربط ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے بغیر ایمانیات اور دین کے صحیح اصول…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ ۭ لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ 103؁ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا اور راک کرنا علم ( تعلیم) اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، فمن التَّعْلِيمُ قوله : الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 101–105

ترکیب : اذا شرطیہ واللہ اعلم بماینزل جملہ معترضہ شرط اور جزا ہیں۔ قالوا جملہ جواب شرط، مفتر صیغہ اسم فاعل افتریٰ یفتری سے ی گر گئی مفتری تھا وھدیً و بشرٰی دونوں محل نصب میں ہیں مفعول لہ ہونے کی وجہ سے ان کا لیثبت پر عطف ہے تقدیرہ لان یثبت۔ اعجمی لسان الذی کی خبر۔ لایہدیہم خبر ہے ان کی الذین یفتری کا فاعل۔ افترا کسی پر جھوٹ سے کوئی بات بنانا۔ العجمۃ الاحقاء وھی ضدالبیان والعرب یقال رجل اعجمی و امراء ۃ عجمیۃ ورجل اعجم وامرۃ عجماء اے لایفصحان۔ وقیل العجمی منسوب الی العجم والاعجمی من لایفصح سواء کان من العرب اوالعجم وقیل الاعجمی من لایفصح والاعجم الذی من العجم وقال الراغب الاصفہانی بالعکس یعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ط لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ۔ (سورۃ النحل : 103) (ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کو تو ایک انسان سکھاتا ہے اس آدمی کی زبان جس کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں، عجمی ہے، اور یہ فصیح عربی زبان ہے۔ ) آنحضرت ﷺ پر الزام کا جواب دشمنی میں لوگ کیسے کیسے اعتراض اٹھاتے اور کیسی کیسی یا وہ گوئی کرتے ہیں، یہ اس کی ایک بدترین مثال ہے۔ قریش مکہ نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں اور عام انسانوں کو اس سے بدگمان کرنے کے لیے یہ کہا گیا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 103–105

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قرآن کے تیسرے اعتراض کا جواب : حقیقت کا باربار انکار کرنے کی وجہ سے اکثر اوقات آدمی بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسے اس بات کی خبر نہیں رہتی کہ میں نے اس حقیقت کا انکار کرتے ہوئے پہلے کونسی بات کی اور حقیقت پیش کرنے والے پر کونسا الزام لگایا تھا یہی حالت مکہ کے کفار کی تھی۔ کبھی یہ الزام لگاتے کہ یہ نبی اپنی طرف سے قرآن گھڑ لیتا ہے اور کبھی یہ کہتے کہ روم کے فلاں شخص سے بالواسطہ سیکھ کر ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کا کئی پہلووں سے جواب دیا ہے جن میں سے ایک جواب یہ ہے کہ جس شخص یا جن افراد کو تم محمد عربی ﷺ کا استاد کہتے ہو وہ سب کے سب عجمی ہیں یعنی وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کا الزام اور اس کا جواب : 103: وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ( اور ہم کو معلوم ہے کہ وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو یہ کلام آدمی سکھاتا ہے) اس سے ان کی مراد حو یطب کا ایک غلام تھا جو مسلمان ہوا۔ اور ثابت قدم رہا اس کا نام ” عائش “ تھا یا ” یعیش “ اور وہ کتابیں رکھتا تھا۔ نمبر 2۔ اس سے عامر بن حضرمی کا غلام جبررومی مراد ہے۔ نمبر 3۔ جبر اور یسار مراد ہیں یہ دونوں غلام تو رات و انجیل پڑھتے تھے۔ اور جو پڑھتے کبھی کبھی اس کو سنتے۔ نمبر 4۔ سلمان فارسی مراد ہے۔ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیٌّ (وہ زبان جس کی طرف نسبت کرتے ہیں عجمی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : ولقد نعم انھم یقولون انما یعلمو بشر “ ان کو یہ کلام آدمی سکھلا جاتا ہے یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے ۔ انما یعلمہ بشر کی تعیین میں مفسرین کے اقوال : اس بشر کی تعیین میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ مکہ میں ایک عیسائی عجمی غلام تھا جو لوہار تھا۔ اس کا نام بلعام تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آتے جاتے تھے ۔ مشرکوں نے آپ کو بلعام کے پاس آتا جاتا دیکھ کر کہا کہ اس کو بلعام سکھا دیتا ہے ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ بنی مغیرہ کا ایک غلام تھا جس کا نام یعیش تھا وہ کتابیں پڑھتا تھا، رسول اللہ ﷺ اس کو قرآن سکھاتے تھے۔ قریش کہنے لگے ان کو یعیش سکھا دیتا ہے ۔ قراء کا قول ہے کہ جو یطب بن عبد العزی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

103۔ یہاں مشرکین مکہ کا دوسرا اعتراض قرآن کی نسبت اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کچھ اللہ کا کلام نہیں بلکہ ایک آدمی محمد کو یہ قرآن سکھا جاتا ہے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس آدمی کا نام عبد بن حضرمی ہے 1 ؎۔ یہ شخص تورات اور انجیل جانتا تھا اور اس کی زبان رومی تھی۔ بعضے مفسروں نے یہاں سلمان فارسی کا نام ذکر کیا ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور سلمان فارسی مدینہ میں اسلام لائے ہیں۔ غرض کہ اللہ پاک نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ ان کافروں کی غفلتیں کہاں گئیں جس شخص کی زبان عربی نہیں ہے اس شخص کو اللہ کے رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–105

آیت : (103-105) اللہ تبارک و تعالیٰ پانے رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ (انھم یقولون انما یعلمہ) ” وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو سکھلاتا ہے “ یعنی یہ قرآن جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں (بشر) ” ایک آدمی “ اور وہ شخص جس کی طرف یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں عجمی زبان رکھتا ہے (وھذا) اور یہ قرآن (لسان عربی مبین) ” زبان عرنی سے صاف “ کیا یہ بات ممکن ہے ؟ کیا اس بات کا ذرا بھی احتمال ہوسکتا ہے ؟ مگر جھوٹا شخص جھوٹ بولتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اس کا جھوٹ اسی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اس کی بات ایسے تناقض اور فسا د کی حامل ہوگی جو محض تصور ہی سے اس بات کی تردید کا موجب ہوگا۔ (ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 98–105

استعاذہ کا بیان قرآن پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا ضروری ہے قول باری ہے (فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو) عمرو بن مرہ نے عباد بن عاصم سے، انہوں نے نافع بن جبیربن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو نماز شروع کرتے وقت یہ پڑھتے ہوئے سنا تھا (اللھم اعوذ بک من الشیطان من ھمزہ و نفخہ و نفشہ اے اللہ ! میں شیطان سے ، اس کے خطرات سے ، اس کی پھونک سے اور اس کے وسوسے سے تیری پناہ میں آتا ہوں) حضرت ابو سعید خدری نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نماز کے اندر قرأت سے پہلے تعوذ پڑھا کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

224۔ منکرین کے ایک اور اعتراض کا جواب :۔ سو اس سے قرآن حکیم کے بارے میں منکرین و معاندین کے ایک بیہودہ اعتراض کا رد فرمایا گیا کہ اس کتاب حکیم کو اس عربی مبین میں اتارا گیا جس کے مقابلے میں تم سب لوگ اپنی ضرب المثل فصاحت و بلاغت کے باوجود عاجز ہو۔ تو پھر یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جس کی زبان ہی سرے سے عربی نہ ہو وہ ایک ایسا کلام معجز نظام بنا کر لائے جس کے مقابلے سے تم لوگ اپنی تمام ترفصاحت و بلاغت کے باوجود عاجز ہو۔ اور تم سب ملکر بھی اور اس کے صاف وصریح اور نہایت زور دار چیلنج کے ہوتے ہوئے بھی اس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت کی بھی کوئی نظیر و مثال نہیں لاسکتے۔ پھر یہ کیسے ممکن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–104

اللہ کی ہدایات تشریح : ان آیات میں اللہ کی طرف سے اس بات کا جواب دیا گیا ہے جو کفار نبی اکرم ﷺ کے لیے کہتے تھے۔ کفار نے کہنا شروع کیا کہ ان کو تو وہ غیر مسلم غلام سکھاتے ہیں۔ جو تورات انجیل پڑھتے تھے اور نبی اکرم ﷺ کے پاس اکثر و بیشتر آتے رہتے تھے پھر بعد میں وہ مسلمان ہوگئے تھے۔ تو ان غلاموں کے بارے میں رب العلمین فرماتے ہیں کہ وہ تو عربی زبان ٹوٹی پھوٹی جانتے ہیں وہ بھلا اس قدر فصیح وبلیغ اور جامع آیات کیسے بنا سکتے ہیں جب کہ قرآن کی آیات جیسی آیات عرب کے بڑے بڑے دانش ور اور علماء اور شعراء بھی نہیں بنا سکتے اور پھر اس میں تو اس قدر حکمت کی اور راز کی باتیں ہیں کہ کوئی ان کو جانتا تک نہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–110

(رکوع نمبر 14) اسرارومعارف شیطانی وساوس میں گرفتار کفار کو اس بات پہ بھی اعتراض ہے کہ قرآن پاک کی آیات منسوخ یا تبدیل کیوں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ کا کلام ہوتا تو بھلا اللہ کو کیا پہلے معلوم نہ تھا کہ ایک حکم دیا پھر اسے بدل کر دوسرا دے دیا ، ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ ﷺ اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ، کلام خود بناتے ہیں اور کہتے ہیں اللہ جل جلالہ کا ہے ، یہ ان کی جہالت کے باعث ہے ، ورنہ اللہ جل جلالہ تو انسانوں کی سہولت اور بہتری کے لیے منسوخ فرماتے ہیں جبکہ ایک حال میں ایک حکم بہتر تھا ، وہ ارشاد فرمایا جب حالت بدل گئی تو حکم تبدیل کردیا گیا کہئے کہ یہ احکام تو رب جلیل کا پاک فرشتہ لاتا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یہ قرآن پر ان کا دوسرا طعن تھا اس شخص کی تعیین کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے ابن مغیرہ کے رومی غلام جبر کا نام ذکر کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا نام یلیش تھا۔ جو بنی الحضرمی کا غلام تھا اور عجمی کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ بہرحال ان میں سے جو بھی ہو کفار مکہ نے محض یہ دیکھ کر کر کہ وہ شخص توراۃ انجیل پڑھنا جانتا ہے اور محمد ﷺ پر جو قرآن نازل ہوتا ہے اس میں بھی پیچھے انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے ہیں بےتکلف یہ الزام تراش ڈالا کہ یہی وہ شخص ہے جو محمد ﷺ کو قرآن کی آیات تصنیف کر کے دے رہا ہے۔ العیاذ باللہ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 103–104

(16:103) انما یعلمہ بشر۔ میں ہٗ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں اس میں دوسرا مفعول یعنی القرآن محذوف ہے۔ ای انما یعلمہ القران بشر۔ اس کو (یعنی آنحضرت ﷺ کو) یہ قرآن ایک آدمی سکھ لاتا ہے۔ اس کا اشارہ ایک نو مسلم رومی نصرانی غلام کی طرف ہے جو انجیل وغیرہ سے واقف تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ کی باتیں خوب توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنا کرتا تھا۔ تو آپ بھی کبھی اس کے پاس جا بیٹھتے تھے۔ یلحدون۔ الحد یلحد الحاد (افعال) سے جمع مذکر غائب مضارع معروف۔ اللحد اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں جو قبر کی ایک جانب میں بنایا جاتا ہے۔ پھر اصل سے ہٹ کر ایک طرف پھرنے کو بھی الحاد کہتے ہیں۔ چناچہ کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–105

لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 105 بدلنا ہم نے بدل دیا۔ ینزل وہ نازل کرتا ہے۔ مفتر گھڑنے والا۔ روح القدس پاکیزہ روح جبریل امین۔ لیثبت تاکہ وہ پکا کر دے۔ یعلم سکھاتا ہے۔ یلحدون (الحاد) اشارہ کرتے ہیں۔ عربی مبین واضح عربی، فصیح عربی زبان۔ تشریح : آیت نمبر 101 تا 105 حضرت عیسیٰ (جن کو اللہ نے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا ہے) ان کے ساڑھے پانچ سو سال کے بعد جزیرۃ العرب میں مذہبی، تمدنی ، عاشرتی، اخلاقی، تہذیبی اور رسم و رواج میں اتنی تبدیلیاں آ چکی تھیں کہ کفار مکہ زبان سے تو یہ کہہ کر فخر کرتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد یا ان کے ماننے والے ہیں لیکن اس نسبت کے باوجود وہ ہر طرح کی جہالت اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

مشرکین مکہ کے اعتراض کا جواب شان نزول : یہاں مشرکین مکہ کا دوسرا اعتراض قرآن کی نسبت اللہ پاک نے بیان فرمایا کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کو یہ کہتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ ایک آدمی محمد ﷺ کو یہ قرآن سکھاتا ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ایک رومی غلام مسلمان ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اکثر رہا کرتا اور قرآن مجید سیکھا کرتا تھا۔ مشرک کہا کرتے تھے کہ اے محمد ﷺ اس سے سیکھ کر ہم سے بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ افترا اس آیت کو نازل کر کے باطل کردیا کہ جس شخص کی زبان عربی نہیں ہے اس شخص کو اللہ کے رسول کا استاد قرار دیتے ہیں۔ یہ تو ظاہر بات ہے کہ قرآن مجید فصیح وبلیغ زبان عربی میں نازل ہوا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 103–112

[65] یہاں کسی خاص شخص کا نام مذکور نہیں صرف اس کے عجمی ہونے کی تصریح ہے، مفسرین نے یہاں ایک سے زیادہ ناموں کا ذکر کیا ہے قرآن کو اس کے نام سے بحث نہیں صرف اعتراض سے بحث ہے اور اسی کا جواب اس نے دیا ہے مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ سے قرآن کے معانی اور حقائق تک تو پہنچنے کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی لیکن ان کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز ہے تو کم از کم اس کی زبان کی بےمثال فصاحت پر ہی غور کرتے تو ان پر اپنے اعتراض کی لغویت واضح ہوجاتی کہ عجمی تو درکنار خود ان کے کسی شاعر یا خطیب کے بس میں بھی یہ نہیں کہ اس طرح کا کلام پیش کرسکے۔ یہاں تک کہ خود پیغمبر کے اپنے کلام اور قرآن کے کلام میں زمین و آسمان کا فرق…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 103–105

(ف 2) مخالفین کا خیال تھا کہ حضور ﷺ نے قرآنی معارف کو کسی شخص سے سیکھ لیا ہے ، اور ان کے اپنے علم وبصیرت کا یہ نتیجہ وثمرہ نہیں ہے ، اور وہ آدمی جس سے حضور ﷺ نے سیکھا ہے عجمی ہے ، اس لئے نام میں اختلاف ہے کوئی کہتا ہے یعیش ہے ، کیس کے خیال میں عداس ہے کسی کی رائے میں ابو مسیرہ ہے ، بہرحال وہ کوئی عجمی ہے ۔ قرآن کہتا ہے اگر حضور ﷺ نے عجمی سے سیکھا ہے تو قرآن میں یہ فصاحت وبلاغت کیوں ہے ؟ کیوں عجمی اثرات اس میں نمایاں نہیں ۔ بات یہ ہے کہ اصل میں اس نوع کے اعتراض محض حاسدانہ ہے ورنہ حضور ﷺ کی ساری زندگی مخالفین کے سامنے ہے آپ نے اپنی ساری زندگی میں کہیں تعلیم حاصل نہیں کی ایک وہ دو صحبتوں میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

103 ۔ اور بیشک ہم اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کے منکریوں کہتے یں کہ بس محمد ﷺ کو قرآن کریم تو ایک آدمی سکھاتا ہے اور اس قرآن کریم کی تعلیم تو محمد ؐ کو ایک شخص دیا کرتا ہے حالانکہ جس شخص کی طرف یہ منکر تعلیم قرآن کریم کی نسبت کرتے ہیں وہ تو ایک عجمی شخص ہے اور یہ قرآن کریم نہایت سلیس اور فصیح عربی زبان میں ہے۔ کوئی نصرانی غلام تھا روی صیقل گرلوہار وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا اور قرآن کریم سنا کرتا تھا حضور ﷺ بھی جب کبھی بازار میں جاتے تو اس کی دکان پر ٹھہر جاتے اس کی طرف نسبت کردی کہ ہو محمد ﷺ کو قرآن سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب فرمایا کہ وہ تو غیر ملکی ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–109

ف 9۔ مراد اس سے ایک عجمی رومی، نصرانی غلام یالوہار ہے جس کا نام بلعام یا مقیس تھا وہ رسول اللہ کی باتیں جی لگا کر سنتا تھا تو حضور ﷺ کبھی اس کے پاس جاکر بیٹھ جاتے اور وہ انجیل وغیرہ کچھ جانتا تھا تو کافروں نے ایک یہ بات نکالی کہ حضور کو یہ سکھلا دیتا ہے اللہ جواب دیتے ہیں کہ قرآن مجید تو مجموعہ لفظ ومعنی کا نام ہے سو اگر معنی کی جزالت خارقہ کے ادرات کی تم کو تمیز نہیں تو الفاظ بلاغت خارقہ کو تو سمجھ سکتے ہو پس اگر فرض کرلیا جائے کہ مضامین وہ شخص سکھلا دیتا ہے تو یہ تو سوچو کہ یہ الفاظ کہاں سے آگئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تفسیر : وہ جو بات کہتے ہیں کہ اس کو ایک انسان نے سکھایا ہے ہم اس بات کو جانتے ہیں : 117۔ نزول قرآن کے وقت کے سارے مخاطبین کو یہ اعتراض تھا کہ جو کچھ محمد رسول اللہ ﷺ بیان کرتے ہیں وہ ان کو ایک انسان کی طرف سے سکھایا گیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جب انسان بوکھلا جاتا ہے تو معقولیت کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے ، جب قرآن کریم کے متعلق ان کے تمام شبہات کا جواب دے دیا گیا اور ان کو اس جیسی کتاب نہیں تو اس کی ایک چھوٹی سی سورت کی مانند سورت کے بنانے کے چیلنج نے جب ان کے لبوں پر مہر خاموشی ثبت کردی تو کہنے لگے کہ ان کو کوئی سکھاتا ہے اور یہ سیکھ کر بیان کرتے ہیں ، رہی یہ بات کہ سیکھتے ہیں تو کس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–105

Sequence of Verses In the previous verse (98), there was an instruction to say اَعُوذ بِاللہ 'a udhu bil-lah' (I seek protection with Allah) while reciting the Qur’ an which indicates that the Shaitan puts scruples in the heart when one recites the Qur'an. In the verses cited above, there is a refutation of such Satanic instigations.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 103–104

107. In this connection, traditions mention the names of several persons, one of whom is Jabar. According to the disbelievers of Makkah he taught the Prophet (peace be upon him). However, one thing particularly noteworthy about all these persons is that they were non Arab slaves. Whosoever he might be, the fact that he used to recite the Torah and the Gospel and had an acquaintance with the Prophet (peace be upon him). This gave an opportunity to the disbelievers for spreading this false report that it was the particular slave who was the real author of the Holy Quran, but Muhammad (peace be…

Read the full tafseer →