Ar-Ra'd 13:9

Ar-Ra'd · from ayah 9

13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ ۟عٰلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡكَبِيۡرُ الۡمُتَعَالِ‏

وہ دانائے نہاں وآشکار ہے سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[He is] Knower of the unseen and the witnessed, the Grand, the Exalted.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:9

وہ پوشیدہ اور ظاہر، ہر چیز کا عالم ہے وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالا تر رہنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ دانائے نہاں وآشکار ہے سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ﻇاہر وپوشیده کا وه عالم ہے (سب سے) بڑا اور (سب سے) بلند وباﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ غائب و حاضر تمام باتوں کا جاننے والا ہے، اس کی ذات بہت بڑی ہے، اس کی شان بہت اونچی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا سب سے بڑا بلندی والا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ ہر نہاں اور عیاں کو جاننے والا ہے سب سے برتر (اور) اعلیٰ رتبہ والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا، بہت بڑا، نہایت بلند ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ چھپی اور ظاہر ہر طرح کی باتوں کو جاننے والا ہے سب سے بڑا ہے عالی شان والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ غائب و حاضر سب کا جاننے والا، عظیم اور عالی شان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہی ہے (ایک برابر) جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کو، سب سے بڑا نہایت ہی عالی شان،

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ) پوشیدہ اور کھلی چیزوں (سب) کا جاننے والا ہے عالی شان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا (وہ) بہت بڑا بہت بلندی والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والاسب سے برتر ہے غالب ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He knows both what is hidden and what is manifest. He is the Supreme One, the Most High.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the Knower of the hidden and the manifest. He is the Great, the High.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the Knower of the hidden and the manifest. He is the Great, the High.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

All-Knower of the unseen and the seen, the Most Great, the Most High.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He is the Knower of the Invisible and the Visible, the Great, the High Exalted.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[He is] Knower of the unseen and the witnessed, the Grand, the Exalted.

— Saheeh International

He knows all the unseen and seen. He is the most Great and High.

— Muhammad Sarwar

The knower of the unseen and the seen, the Great, the Most High.

— Muhammad Habib Shakir

Knower of the hidden and the manifest! the Great! the Exalted.

— Abdul Majid Daryabadi

He knoweth the unseen and that which is open: He is the Great, the Most High.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–9

علم الہٰی اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ تمام جاندار مادہ حیوان ہوں یا انسان، ان کے پیٹ کے بچوں کا، ان کے حمل کا، اللہ کو علم ہے کہ پیٹ میں کیا ہے ؟ اسے اللہ بخوبی جانتا ہے یعنی مرد ہے یا عورت ؟ اچھا ہے یا برا ؟ نیک ہے یا بد ؟ عمر والا ہے یا بےعمر کا ؟ چناچہ ارشاد ہے آیت (ھو اعلم بکم) الخ وہ بخوبی جانتا ہے جب کہ تمہیں زمین سے پیدا کرتا ہے اور جب کہ تم ماں کے پیٹ میں چھپے ہوئے ہوتے ہو، الخ اور فرمان ہے آیت (يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰث) 39۔ الزمر :6) وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ایک کے بعد دوسری پیدائش میں تین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–10

سورة الرَّعْد 17 اس سے مراد یہ ہے کہ ماؤں کے رحم میں بچے کے اعضاء اس کی قوتوں اور قابلیتوں، اور اس کی صلاحیتوں اور استعدادوں میں جو کچھ کمی یا زیادتی ہوتی ہے، اللہ براہ راست نگرانی میں ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر وہ تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے سب سے بڑا (اور) عالی شان ہے تم میں سے جو شخص کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے اور جو دن میں چلے پھرے یہ سب (خدا کے علم میں) برابر ہیں (یعنی سب کو یکساں جانتا ہے اور جیسا تم میں سے ہر شخص کو جانتا ہے اسی طرح ہر ایک کی حفاظت بھی کرتا ہے چناچہ تم میں سے) ہر شخص (کی حفاظت) کے لئے فرشتے (مقرر) ہیں جن کی بدلی ہوتی رہتی ہے کچھ اس کے آگے اور کچھ اس کے پیچھے کہ وہ بحکم خدا (بہت بلاؤں سے) اس کی حفاظت کرتے ہیں (اور اس سے کوئی یوں نہ سمجھ جائے کہ جب فرشتے ہمارے محافظ ہیں پھر جو چاہو کرو معصیت خواہ کفر کسی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِ۔ یہ اوپر والے مضمون کی مزید توضیح و تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی باتوں، اس کے علم اور اس کے منصوبوں کو اپنے حدود علم سے ناپنے کی کوشش نہ کرو۔ اس کا علم تمام غائب و حاضر کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ بڑی ہی عظیم ہستی اور اس کی بارگاہ بہت بلند ہے۔ وہ اپنے ارادوں اور اپنی سکیموں کے بھیدوں کو خود ہی جانتا ہے، دوسرے اس میں سے اتنا ہی جانتا ہے، دوسرے اس میں سے اتنا ہی جان سکتے ہیں، جتنا وہ ظاہر کردے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–11

11۔ 1 معقبات، ، معقبۃ۔ کی جمع ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے، مراد فرشتے ہیں جو باری باری ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں۔ دن کے فرشتے جاتے ہیں تو شام کے آجاتے ہیں شام کے جاتے ہیں تو دن کے آجاتے ہیں۔ 11۔ 2 اس کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة انفال آیت 53 کا حاشیہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–10

14: یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کس ماں کے پیٹ میں کیسا بچہ ہے۔ اور رحم میں رہتے ہوئے حمل بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–11

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔ آیت نمبر 8 تا 11 جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یہ علم الٰہی کی لا محدود وسعت و احاطہ کا بیان ہوا۔ یعنی دنیا کی کوئی کھلی چھپی چیز اس سے پوشیدہ نہیں اور تمام عالم اس کے زیر تصرف ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–10

آیت 10 سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ غیاب کی صورت ہو یا ظہور کا عالم ‘ اللہ کے علم کے سامنے سب برابر ہے۔ ہرچیز اور اس کی ہر کیفیت ہر آن اس کے سامنے حاضر و موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 علم غیب اور شہادت کی صورتیں :۔ یعنی ماضی، حال اور مستقبل اللہ کی نگاہوں میں یکساں حیثیت رکھتے ہیں، وہ پیش آنے والے حالات کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح گزرے ہوئے واقعات اور موجودہ حالات کو جانتا ہے یا وہ ان قوانین فطرت کو بھی اسی طرح جانتا ہے جنہیں ابھی تک انسان دریافت نہیں کرسکا یا وہ اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ جس طرح ان قوانین کو جانتا ہے جنہیں انسان دریافت کرچکا ہے یا کر رہا ہے۔ غرض غیب اور شہادت اتنے وسیع المفہوم الفاظ ہیں کہ ان میں بہت سے معانی کی گنجائش موجود ہے اور اس کے علم کی یہ لامحدود وسعت ہی اس کے سب سے بڑا اور عالی شان ہونے کی دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ اسی کی قدرت سب پر بالا اور سب پر حاکم کوئی اس کا بالا دست نہیں، اور اس کا علم محیط وکامل۔ وہی ہمہ دان، ہمی بین، اور وہی ہمہ تواں، مذاہب شرکیہ اور ادیان جاہلی کو سب سے زیادہ ٹھوکر حق تعالیٰ کی صفات علم وقدرت ہی کے سمجھنے میں لگی ہے اسی لئے قرآن مجید ان عقاید کو بار بار صاف کرتا جاتا ہے اور ان کی غلطیوں کی بار بار اصلاح کرتا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–18

آیت نمبر 8 تا 18 ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

علم الغیب والشھادۃ الکبیر المتعال وہ تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کو جاننے والا ہے (سب سے) بڑا اور عالیشان ہے۔ غیب اور شہادت کی تفسیر سورة جن میں ذکر کردی گئی ہے۔ الْکَبِیْر سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز اس سے پست اور کم درجہ ہے۔ اور الْمُتَعِالِ کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی قدرت سے ہر چیز پر غالب ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ مخلوق کی تعریف و توصیف سے بالاتر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(9) اور وہ تمام ان باتوں کو جو بندوں سے پوشیدہ ہیں اور جو انکو معلوم ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جاننے والا ہے اور کہا گیا ہے کہ غیب سے رماد وہ چیزیں ہیں جو ہونے والی ہیں اور شہادۃ سے مراد وہ ہیں جو ہو چکیں اور کہا گیا ہے کہ غیب سے مراد مادر میں لڑکے وغیرہ کا وجود اور شہادۃ سے اس کا خروج مراد ہے، وہ سب سے بڑا ہے اس سے بڑی اور بلند اور کوئی چیز نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ۔۔ :”الْكَبِيْرُ“ میں بھی مبالغہ ہے اور ”الْمُتَعَالِ“ (جو اصل میں ”عَلَا یَعْلُوْ“ کے باب تفاعل سے ”مُتَعَالِوٌ“ تھا) میں حروف زیادہ ہونے سے معنی میں مبالغہ مراد ہے۔ ”مُتَعَالِوٌ“ کی ”واؤ“ کو ”یاء“ سے بدلا تو ”مُتَعَالِیٌ“ ہوا، پھر ”یاء“ کو آیات کے آخری الفاظ (جنھیں اصطلاح میں فاصلہ، فواصل کہتے ہیں) کی موافقت اور تخفیف کے لیے حذف کردیا گیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور اس کی کبریائی اور بلندی کا بیحد و حساب ہونا بیان ہوا ہے، جو درحقیقت پچھلی بات ہی کی تاکید ہے۔ ”الْغَيْبِ“ مصدر ہے، بمعنی اسم فاعل، یعنی غائب جو حواس اور بدیہ عقل سے غائب ہو۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–9

آیت نمبر 8 تا 9 اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی یعنی بچہ، بچی، عمدہ، قبیح، نیک اور نافرمان میں سے اور سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ علم غیب میں منفرد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور ہم نے وہاں امام بخاری کی حضرت ابن عمر ؓ سے حدیث بھی ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” غیب کی چابیاں پانچ ہیں “۔ الحدیث اور اس میں یہ بھی ہے کہ ” جو رحم کم کرتے ہیں اسے سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا “۔ وما تغیض الارحام وما تزداد کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا : یعنی یہ ہے کہ جو نو ماہ سے پہلے بچہ گرا دیتی ہیں اور جو نو ماہ سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “ سے مراد ہے کہ چھپے ہوئے اور علانیہ۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وبوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” سوآء منکم من اسر القول ومن جھر بہ “ یعنی بلند آواز سے بات کرنے والا اور آہستہ بات کرنے والا ان کے نزدیک برابر ہے۔ (آیت) ” ومن ھو مستخف بالیل “ رات کو چھپ کر گناہ کرنے والا (آیت) ” وسارب بالنھار “ دن کو ظاہر میں گناہ کرنے کے برابر ہیں۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” سوآء منکم من اسر القول ومن جھر بہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ : (وہ) ظاہر اور پوشیدہ کا جاننے والا ہے ] [الْكَبِيْرُ : جو سب سے بڑا ہے ] [ الْمُتَعَالِ : جو سب سے بلند ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالَ ) اللہ پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کو اور تمام امور کو جانتا ہے وہ بڑا ہے (اور) برتر ہے۔ پھر معلومات الٰہیہ کی مزید جزئیات ذکر فرمائیں اور فرمایا (سَوَاءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَبِہٖ ) (الایۃ) کہ تم میں جو شخص آہستہ سے بات کرے اور جو زور سے بولے اور جو شخص رات میں کہیں چھپا ہوا ہو یا دن میں کہیں چل پھر رہا ہو اللہ تعالیٰ ان سب کو یکساں جانتا ہے کوئی شخص کسی حال میں اللہ سے پوشیدہ نہیں اور وہ ہر ایک کی ہر بات کو جانتا ہے ‘ پھر اپنی ایک نعمت کو بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–16

رجوع برائے مضمون توحید قال اللہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی .... الیٰ .... وھو الواحد القھار۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت اور منکرین بعث بعد الموت کے شبہات کا جواب تھا اور اس سے قبل توحید کا مضمون تھا اب پھر توحید ہی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اس ذیل میں اول حق تعالیٰ نے اپنا عالم بجمیع معلومات ہونا بیان کیا چناچہ اللہ یعلم الخ سے اپنا وسیع العلم ہونا بیان کیا کہ اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بعد اذاں اپنا حافظ خلق اور رقیب ہونا بیان کیا چناچہ لہ معقبات سے یہ بتلا دیا کہ وہی تمام مخلوق کا محافظ اور نگہبان ہے بعد ازاں ھو الذی یریکم البرق الخ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

11:۔ جو چیزیں انسانوں پر طاہر ہیں اور جو ان سے پوشیدہ ہیں اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہیں۔ اَلْکَبِیْرُ ایسا عطیم الشان کہ تمام صفات کمال اس میں موجود ہیں۔ ” اَلْمُتَعَالِ “ ہر چیز سے برتر اور صفات مخلوقات سے مبرا اور پاک۔ ” سَوَاءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ “ جو شخص آہستہ باتیں کرتا ہے اور جو شخص بلند آواز سے گویا ہوتا ہے یا جو شخص رات کی تاریکی میں چھپا بیٹھا ہے اور جو شخص دن کو راستہ میں چل رہا ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک یکساں ہیں اور وہ یکساں طور پر سب کو جانتا ہے۔ اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–11

(ربط آیات) جیسا کہ سورة ہذا کے تعارف میں بیان ہوچکا ہے ، اس میں بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، اللہ نے ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان کرنے کے بعد توحید کے دلائل ذکر کیے ، ان دلائل میں سے بعض کا تعلق عالم بالا سے اور بعض کا عالم زیریں سے ہے ، اس کے ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا گیا ہے اور درمیان میں حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی حقانیت کا ذکر بھی آگیا ہے اب آج کے درس میں بھی توحید ہی کے دلائل بیان کیے گئے ہیں جن پر غور کر کے انسان مسئلہ توحید کو پہچان سکتا ہے اور اپنے ایمان کو درست کرسکتا ہے ۔ (شکم مادر میں بچے کی کیفیت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِ ۝ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے علا العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعَليُّ : هو الرّفيع القدر من :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–11

1 ؎ جس کے وہ طالب تھے ورنہ بہت سی نشانیاں اتری تھیں یا وہ نشانیاں ان کو نشانیاں ہی نہ معلوم ہوتی تھیں بات کو معمولی سمجھ کر ٹھٹھوں میں ٹال دیتے تھے۔ یہ پورا اندھا پن ہے جس کی طرف بہت جگہ قرآن میں اشارہ ہوا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ الْکَبِیْرُالْمُتَعَالِ ۔ (سورۃ الرعد : 9) (وہ جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر چیز کو، عظیم اور عالی شان ہے۔ ) سابقہ مضمون کی مزید تاکید یہ سابقہ مضمون کی مزید توضیح و تاکید ہے کہ یہ مت سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ظاہری ضرورتوں کو جانتا ہے اور تمہاری ظاہری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے بلکہ وہ جس طرح ظاہر کو جانتا ہے اسی طرح وہ غیب کو بھی جانتا ہے۔ تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا کیا چیزیں ہیں جنھیں تم دیکھ نہیں سکتے لیکن وہ تمہاری منفعت کا سامان ہیں۔ اسی طرح وہ کیا قوتیں ہیں جن سے تمہیں نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن قدرت تمہیں ان سے بچائے ہوئے ہے۔ تمہارے علم کی بساط صرف سامنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–10

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیت میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ہادی ہیں لہٰذا لوگوں کو سمجھاتے جائیں۔ جہاں تک ان کے مال اور اعمال کا تعلق اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کی پیدائش کے وقت سے جاتا اور اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس عقیدہ کا تقاضا ہے کہ آدمی آخرت پر ایمان لائے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ اے انسان ! تجھے کسی وقت بھی یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ میں تیری حرکات و سکنات سے بیخبر ہوں بلکہ میں تجھے اس وقت سے جان رہا ہوں جب تیرا تخم ماں کے رحم میں داخل ہوا تھا۔ پرانی طب اور جدید میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہیں کہ جب میاں بیوی کا آپس میں ملاپ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9: عٰلِمُ الْغَیْبِ (وہ غیب کا جاننے والا ہے) غیب سے مراد جو مخلوق سے پوشیدہ ہے وَالشَّھَادَۃِ (اور سامنے والی چیز کو) جسکا وہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ الْکَبِیْرُ (عظمت والی) بڑی شان والی جس سے ہر چیز کم ہے۔ الْمُتَعَالِ (عالی شان ذات ہے) ہر شئی سے اپنی قدرت کے ساتھ بلند وبالا۔ نمبر 2۔ مخلوقات کی تعریف سے بلندو بالا اور عالی شان ہے۔ دونوں حالتوں میں مکی یاؔ سے پڑھتے ہیں یعنی وصل و وقف کی حالت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9۔” عالم الغیب والشھادۃ الکبیر “ ہر چیز اس سے پست اور کم درجہ ہے۔ ” المتعال “ کہ وہ اپنی قدرت سے ہر چیز پر غالب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

9۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے علم کا حال بیان فرمایا ہے کہ لوگ جس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس کو بھی خدا جانتا ہے اور جو چیزیں ان سے غائب ہیں ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہیں ان کو بھی خدا جانتا ہے اس پر ظاہر اور پوشیدہ سب یکساں ہے اس کا عمل ہر شے کو چھوٹی ہو یا بڑی نظر سے غائب ہو یا سامنے سب کو گھیرے ہوئے ہے اور اس کی ذات ہر ایک شئی سے بڑی اور ہر چیز پر غالب ہے اوپر ذکر تھا کہ بچہ کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی عمر اس کا رزق اس کی نیکی بدی یہ سب ناموجود باتیں اللہ کا فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے لکھ لیتا ہے اس آیت میں اس کی یہ تفصیل فرمائی کہ ناموجود اور موجود سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(علم الغیب والشھادۃ الکبیر) ” وہ نہاں اور آشکار کا جاٹنے والا اور بڑا ہے “ یعنی وہ عالم غیب اور عالم ظاہر کا علم رکھتا ہے وہ اپنی ذات اور اپنے اسماء وصفات میں بڑا ہے۔ (المتعال) ” عالی رتبہ ہے۔ “ یعنی وہ اپنی ذات، قدرت اور غلبہ کے اعتبار سے تمام مخلوق پر بلند ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا حوالہ وذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے ایک برابر جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کو، سب سے بڑا نہایت ہی عالی شان "۔ اور اتنا عالی شان کے اس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ اور اتنا کہ عظمت وکبریائی سزا وار ہی اس کو ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ اور وہ پاک ومنزہ ہے ہر اس چیز سے جو اس کی شان اقدس کے لائق نہیں۔ (محاسن التاویل) سو وہ قادر مطلق انسان کو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے اور پیدا کرے گا۔ مگر اپنے وقت مقررہ پر۔ اور وہی قیامت کو لاسکتا ہے اور اپنے وقت پر ضرور لائے گا کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو بڑی غلطی اور گمراہی پر ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک کی باتوں،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–11

اللہ علیم وخبیر ہے تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر بڑے موثر انداز میں کیا گیا ہے۔ جب انسان ایک قطرہ پانی کی صورت میں ماں کے رحم میں تین پردوں کے اندر نشوونما پانا شروع کرتا ہے جب سے وہ اللہ علیم وخبیر کی حفاظت، نگہبانی اور علم میں ہوتا ہے۔ اس قطرہ آب کی تمام حرکات و سکنات اللہ کی تدبیر کے ریکارڈ میں موجود ہوتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا مگر اللہ جانتا ہے۔ اس کی جنس، رنگ، اخلاق و کردار، عمر اور موت اور زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ، رہنے، عمر گزارنے اور مرنے کے مقامات غرض ایک معمولی پانی کے اس قطرے کے بارے میں اللہ کو اتنا کچھ معلوم ہوتا ہے پہلے سے ہی یہ سب اللہ کے بلندو عظیم، برتر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–18

رکوع نمبر 2 : اسرارومعارف : اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(12:9) المتعال۔ اسم فاعل واحد مذکر تعالیٰ مصدر۔ (باب تفاعل) اصل میں المتعالی تھا۔ علو مادہ۔ متعالی عالی سے زیادہ مبالغہ پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی عالی کا معنی بزرگ ۔ عالی مرتبہ۔ برتر۔ غالب۔ وغیرہ۔ اور متعالی کا معنی بہت بزرگ ۔ بہت غالب۔ بہت برتر وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 11 یعلم وہ جانتا ہے تحمل اٹھاتی ہے انثی مادہ، عورت تغیض کمی ہوتی ہے تزداد اضافہ ہوتا ہے کل شیء ہر چیز بمقدار اندازے سے الکبیر بڑا بزرگ المتعال برتر۔ زیادہ اونچا سواء یکساں اسر جس نے چھپایا جھر جس نے کھل کر کیا۔ زور سے کیا مستخف اسم فاعل سارب چلنے والا معقبت (مقبت) ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا۔ پہرے دار یحفظون حفاظت کرتے ہیں لایغیر وہ تبدیل نہیں کرتا حتی یغیروا جب تک وہ نہ بدلیں لامرد نہیں ہٹانے والا۔ نہیں ٹلانے والا وال حمایتی۔ مددگار تشریح : آیت نمبر 8 تا 11 اللہ تعالیٰ کا علم کتنا وسیع ہے ؟ اس کا انتظام کتنا حسین ہے ؟ اس کی قدرت کائنات کی ہر چیز پر کس طرح محیط ہے ؟…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حشر کا نمونہ، ایک گنہگار شخص کی وصیت کہ مرنے کے بعد خاک رواں دواں کردینا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور بڑا عالی مرتبہ ہے کوئی اس کی مثل نہیں۔ منکرین حشر یہ جو کہتے تھے کہ مرنے کے بعد ان کی خاک رواں دواں ہوجاوے گی، پھر وہ خاک کیونکر جمع ہوگی اور اس کا پتلا کیونکر بنے گا۔ آیت کے اس ٹکڑے میں ان لوگوں کو یہ تنبیہ فرمائی ہے وہ خاک رواں دواں ہوکر انسان کے علم سے باہر ہوجاتی ہے، مگر اللہ کے علم سے باہر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے وقت مقررہ پر وہ خاک جمع کی جاوے گی اور اس کا پتلا بنے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ایک گنہگار شخص نے اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–11

[9] یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ اللہ ہر شخص کو ہر حال میں براہ راست خود دیکھ رہا ہے بلکہ مزید برآں اللہ کے مقرر کئے ہوئے فرشتے بھی ہر شخص کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور اس کے پورے کارنامہ زندگی کا ریکارڈ محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ لہذا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کے سامنے اپنے اعمال کے لئے جواب دہ نہیں دراصل اپنی شامت آپ بلاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–10

(ف 1) فرض کرو کہ اللہ تمہارے مطالب کو ضرور پورا کرے گا اور کوئی نشان نازل کرے گا جب بھی کون جانتا ہے یہ کب ہوگا غیب کی باتیں تو وہی جانتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

9 ۔ وہ ہر چھپی کھلی اور پوشیدہ و ظاہر ہر چیز کو جاننے والا سب سے بڑا اور عالی مرتبت ہے۔ یعنی سب سے واقف اور سب زیر نگیں اس کی لا محدود طاقت اور لا محدود علم سے کوئی چیز خارج نہیں ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–11

ف 4۔ یعنی وہ واقع ہو ہی جاتی ہے۔ 5۔ حتی کہ فرشتے بھی ان کی حفاظت نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہی ہے جو غیب و شہادت کا جاننے والا ہے اور مرتبہ میں بھی سب سے بلند 18 ؎ ” غیب “ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے جو غیر اللہ میں ممکن نہیں اور مراد اس سے وہ چیز ہے جو انسانی حواس سے غائب ہو یعنی نہ آنکھ سے اس کو دیکھا جاسکے ‘ نہ کانوں سے سنا جاسکے ‘ نہ ناک سے سونگھا جاسکے ‘ نہ زبان سے چکھا جاسکے ‘ نہ ہاتھ سے چھو کر معلوم کیا جاسکے۔ گویا انسانی حواس خمسہ سے بالاتر اور شہادت اس کے بالمقابل وہ چیزیں جو انسانی حواس خمسہ کے ذریعہ معلوم کی جاسکیں مطلب یہ ہے کہ وہ ہر غیب کو اس طرح جانتا ہے جس طرح حاضر کو یعنی اس کے ہاں غیب و حاضر میں کوئی فرق نہیں پڑتا غیر اللہ کیلئے ہے خواہ وہ کوئی ہو ؟ ”…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The theme of the exclusive attributes of the perfection of Allah Ta` ala continues. Starting earlier than the verses cited above, this theme is actually an array of proofs concerning the Oneness of Allah. Onwards from the previous verse (9), it was said in the first verse (1o) here: عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ‌ الْمُتَعَالِ (- the Knower of the hidden and the manifest, the Great, the High). The word: اَلغَیب (al-ghayb : the hidden, the unseen) means that which is absent from the reach of human senses, that is, which cannot be seen with eyes, nor heard with ears, nor…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

17. When amplified the verse will mean: Allah remains fully aware of all the developments that take place in the child while in its mother’s womb, and He watches over the decrease or increase in each of its limbs, and its potentialities, capabilities and powers.

Read the full tafseer →