Ar-Ra'd 13:8

Ar-Ra'd · from ayah 8

13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُ وَمَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ؕ— وَكُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ ۟اَللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ اُنۡثٰى وَمَا تَغِيۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَمَا تَزۡدَادُ ‌ؕ وَكُلُّ شَىۡءٍ عِنۡدَهٗ بِمِقۡدَارٍ‏

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے)۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah knows what every female carries and what the wombs lose [prematurely] or exceed. And everything with Him is by due measure.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:8

اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے ہر چیز کے لیے اُس کے ہاں ایک مقدار مقر رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے)۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ماده اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس کسی مادہ کو جو حمل ہوتا ہے، اللہ اس کو بھی جانتا ہے، اور ماؤں کے رحم میں جو کوئی کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی، اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کے پیٹ میں ہے اور پیٹ جو کچھ گھٹتے بڑھتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ جانتا ہے جو کچھ ہر مادہ اپنے پیٹ میں اٹھاتی ہے اور رحم جس قدر سکڑتے اور جس قدر بڑھتے ہیں، اور ہر چیز اس کے ہاں مقرر حد کے ساتھ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور جو کچھ رحم کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازے سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تو وہ ہے کہ ہر ایک مادہ جو کچھ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہے اسے جانتا ہے اور جو کچھ ان کے پیٹوں میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور اس کے ہاں ہر چیز کی ایک مقدار مقرر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی جانتا ہے ہر مادہ کے حمل کو اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے اس کو بھی اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازہ کے مطابق ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ خوب جانتا ہے اس حمل کو جو کہ ہر مادہ کو رہتا ہے، اور وہی پوری طرح باخبر ہے اس کمی بیشی سے جو کہ رحموں کے اندر ہوتی رہتی ہے، اور ہر چیز اس کے یہاں ایک خاص اندازہ پر ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کو علم رہتا ہے اس کا جو کچھ کسی عورت کے حمل میں ہوتا ہے اور جو کچھ (عورتوں کے) رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور ہر شے اس کے نزدیک ایک متعین اندازہ ہی سے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ خوب جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا اٹھائے ہوئے ہے اور (وہ جانتا ہے) جس قدر رحم سکڑتے ہیں یا بڑھتے ہیں اور ہرچیز اس کے ہاں اندازے کے مطابق ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ ہی اس بچہ سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی واقف ہے۔ اور ہر چیز کا اس کے پاس ایک اندازہ مقرر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah knows what every female bears; and what the wombs fall short of (in gestation), and what they may add. With Him everything is in a fixed measure.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah knows what every female carries and what the wombs decrease or increase. Everything has measure with Him

— Muhammad Taqi Usmani

Allah knows what every female carries and what the wombs decrease or increase. Everything has measure with Him

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah knows what every female bears, and by how much the wombs fall short (of their time or number) or exceed. Everything with Him is in (due) proportion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah knoweth that which every female beareth and that which the wombs absorb and that which they grow. And everything with Him is measured.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah knows what every female carries and what the wombs lose [prematurely] or exceed. And everything with Him is by due measure.

— Saheeh International

God knows well what every female conceives. He knows what the wombs spoil and dispose of. In His plans everything has been designed proportionately.

— Muhammad Sarwar

Allah knows what every female bears, and that of which the wombs fall short of completion and that in which they increase; and there is a measure with Him of everything.

— Muhammad Habib Shakir

Allah knoweth that which each female beareth and that which the wombs want and that which they exceed, and with Him everything is in due measure:

— Abdul Majid Daryabadi

Allah doth know what every female (womb) doth bear, by how much the wombs fall short (of their time or number) or do exceed. Every single thing is before His sight, in (due) proportion.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–9

علم الہٰی اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ تمام جاندار مادہ حیوان ہوں یا انسان، ان کے پیٹ کے بچوں کا، ان کے حمل کا، اللہ کو علم ہے کہ پیٹ میں کیا ہے ؟ اسے اللہ بخوبی جانتا ہے یعنی مرد ہے یا عورت ؟ اچھا ہے یا برا ؟ نیک ہے یا بد ؟ عمر والا ہے یا بےعمر کا ؟ چناچہ ارشاد ہے آیت (ھو اعلم بکم) الخ وہ بخوبی جانتا ہے جب کہ تمہیں زمین سے پیدا کرتا ہے اور جب کہ تم ماں کے پیٹ میں چھپے ہوئے ہوتے ہو، الخ اور فرمان ہے آیت (يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰث) 39۔ الزمر :6) وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ایک کے بعد دوسری پیدائش میں تین…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–10

سورة الرَّعْد 17 اس سے مراد یہ ہے کہ ماؤں کے رحم میں بچے کے اعضاء اس کی قوتوں اور قابلیتوں، اور اس کی صلاحیتوں اور استعدادوں میں جو کچھ کمی یا زیادتی ہوتی ہے، اللہ براہ راست نگرانی میں ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ارشاد ہے (آیت) اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۭ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ یعنی اللہ تعالیٰ کو سب خبر رہتی ہے جو کچھ کسی عورت کو حمل رہتا ہے لڑکا ہے یا لڑکی حسین ہے یا بد شکل نیک ہے یا بد اور جو کچھ ان عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی ہے کہ کبھی ایک بچہ پیدا ہوتا ہے کبھی زیادہ اور کبھی جلدی پیدا ہوتا ہے کبھی دیر میں۔ اس آیت میں حق تعالیٰ کی ایک مخصوص صفت کا بیان ہے کہ وہ عالم الغیب ہیں تمام کائنات و مخلوقات کے ذرہ ذرہ سے واقف اور ہر ذرہ کے بدلتے ہوئے حالات سے باخبر ہیں اس کے ساتھ ہی تخلیق انسانی کے ہر دور اور ہر تغیر اور ہر صفت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۭ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ۔ یعنی ایک بات جو ایک امر واقعی اور شدنی ہے اس میں اس بنیاد پر کوئی شبہ قائم کرنا کہ تم اس کا وقت معین طور پر نہیں بتا سکتے یا ان کے مطالبے پر اس کو دکھا نہیں سکتے، کوئی معقول بات نہیں ہے۔ ایک عورت حاملہ ہوتی ہے، اس کے رحم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، اس میں درپردہ جو کمی بیشی واقع ہوتی ہے اس کو بھی اللہ ہی جانتا ہے، اس کے وضع کا ٹھیک ٹھیک وقت بھی اللہ ہی کے علم میں ہوتا ہے۔ ان باتوں کے نہ جاننے سے نہ تو نفس حمل کی نفی ہوتی اور نہ کوئی عاقل اس بنیاد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 رحم مادر میں کیا ہے، نر یا مادہ، خوبصورت یا بد صورت، نیک ہے یا بد، طویل العمر ہے یا قصیر العمر ؟ یہ سب باتیں صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ 8۔ 2 اس سے مراد حمل مدت ہے جو عام طور پر 9 مہینے ہوتی ہے لیکن گھٹتی بڑھتی بھی ہے، کسی وقت یہ مدت 10 مہینے اور کسی وقت 7، 8 مہینے ہوجاتی ہے، اس کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ 8۔ 3 یعنی کسی کی زندگی کتنی ہے ؟ اسے رزق سے کتنا حصہ ملے گا ؟ اس کا پورا اندازہ اللہ کو ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–10

14: یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کس ماں کے پیٹ میں کیسا بچہ ہے۔ اور رحم میں رہتے ہوئے حمل بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–11

یہ تھی ایک اچٹتی سی نظر آفاق کائنات پر۔ اس پر تبصرے تھے ، اب کائنات کی بعض مخصوص وادیوں میں آپ کو لے جایا جائے گا۔ مثلاً نفس انسانی ، انسانی شعور و ادراک اور اس کرۂ ارض پر حیات انسانی اور دوسری زندہ اشیاء پر غور۔ آیت نمبر 8 تا 11 جب حیات انسانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ مناظر پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی حس اور شعور ششدرزہ جاتا ہے۔ خصوصاً قرآن کے اس ترنم آمیز انداز بیان پر۔ اللہ کے علم اور اللہ کی حکمتوں کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ علوم جو جنین کے بارے میں انسان پر ظاہر ہوچکے ہیں ، پھر وہ راز جو ہر انسان نے اپنے سینے میں چھپا رکھے ہیں ، راتوں میں انسان کی حرکات اور دوڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 کہ مذکر ہے یا مونث، پورا ہے یا ادھورا، اچھا ہے یا برا، وغیر ذلک من الاحوال۔ 5 یعنی حاملہ کے پیٹ میں ایک بچہ ہے یا زیادہ، پورا بن چکا ہے یا ناتمام ہے تھوڑی مدت میں پیدا ہوگا یا زیادہ میں۔ غرض پیٹ کے گھٹنے بڑھنے کے تمام اسرار و اسباب اور اوقات و احوال کو پوری طرح جانتا ہے۔ اور اپنے علم محیط کے موافق ہر چیز کو ہر حالت میں اس کے اندازہ اور استعداد کے موافق رکھتا ہے۔ اسی طرح اس نے جو آیات انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کے لیے اتاری ہیں ان میں خاص اندازہ اور مصالح و حکم ملحوظ رہی ہیں۔ جس وقت جس قدر بنی آدم کی استعداد و صلاحیت کے مطابق نشانات کا ظاہر کرنا مصلحت تھا اس میں کمی نہیں ہوئی۔ باقی قبول…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى ہر مادہ چاہے وہ انسان ہے یا حیوان ‘ اس کے رحم میں جو کچھ ہے اللہ کے علم میں ہے۔ وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ جب حمل ٹھہر جاتا ہے تو رحم سکڑتا ہے اور جب بچہ بڑھتا ہے تو اس کے بڑھنے سے رحم پھیلتا ہے۔ ایک ایک مادہ کے اندر ہونے والی اس طرح کی ایک ایک تبدیلی کو اللہ خوب جانتا ہے۔ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ اس کائنات کا پورا نظام ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت چل رہا ہے جہاں ہرچیز کی مقدار اور ہر کام کے لیے قاعدہ اور قانون مقرر ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 اللہ کے علم کی وسعت :۔ یعنی ان لوگوں کی سرشت کو خوب جانتا ہے اور اس وقت سے جانتا ہے جب یہ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں تھے۔ اس کے علم کی وسعت کا یہ حال ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ ہر مادہ کے پیٹ میں نطفہ پر کیا کچھ تغیرات واقع ہوتے ہیں۔ اس سے شکل و صورت کیونکر بنتی ہے۔ نیز یہ کہ پیٹ میں ایک بچہ ہے یا زیادہ ہیں بچہ تندرست پیدا ہوگا یا وہ اندھا یا لنگڑا اور اپاہج پیدا ہوگا۔ لمبے قد کا ہوگا یا پست قد ناقص العقل ہوگا یا ذہین و نیک بخت ہوگا یا بدبخت، ضدی اور سرکش ہوگا یا حق کو قبول کرنے والا ہوگا۔ اس کی استعداد کار کتنی ہوگی۔ کیونکہ ہر چیز کے لیے اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ یعنی قدرت کے سارے انتظامات ایک خاص نظام کے ماتحت ہی انجام پاتے ہیں، اٹکل پچو نہیں، اور نہ اس میں کسی سہویا غلطی کا امکان ہے۔ (آیت) ” اللہ۔۔۔ تزداد “۔ خدائے اسلام کا علم کامل بھی ہے اور محیط بھی، ہر ہر جزئیہ اور سارے مخفیات ومغیبات پر شامل۔ یہ جاہلی مذہبوں پر ضرب کاری ہے جن میں خدا کا علم ناقص یا صرف کلیاب کا مانا گیا ہے۔ (آیت) ” ماتحمل کل انثی “۔ مثلا یہی کہ حمل میں لڑکی ہے یا لڑکا۔ (آیت) ” ماتغیض الارحام وما تزداد “۔ مثلا یہ کہ کسی کی مدت حمل بڑھ گئی اور کسی کی گھٹ گئی، یا یہ کہ کسی کے حمل میں ایک بچہ ہے، اور کسی کے زاید۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–18

آیت نمبر 8 تا 18 ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ یعلم ما تحمل کل انثی وما تغیض الارحام وما تزداد اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کو حمل رہتا ہے اور جو کچھ رحم میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ مَا تحَْمِلُ (میں مَا مصدری ہے یعنی) حاملہ ہونے کو اللہ جانتا ہے یا (مَا موصولہ ہے یعنی) جس چیز کو مادہ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوتی ہے۔ نر یا مادہ ‘ ایک یا متعدد ‘ پورے سالم اعضاء والا بچہ یا ناقص اور اس کی ہر موجودہ اور آئندہ حالت کو اللہ جانتا ہے۔ تَغِیْض غَاض کا مضارع ہے اور غاض لازم بھی ہے ‘ بمعنی انغاض (باب انفعال) کے اور متعددی بھی ہے ‘ بمعنی اَغَاضَ (باب افعال) کے۔ قاموس میں ہے : غَاضَ الْمَاء پانی کم ہوگیا ‘ گھٹ گیا۔ غَاضَ ثَمَنُ السلعۃِ سامان کی قیمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(8) اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہوتی ہے جو کچھ کسی عورت کو حمل رہتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی اور جو کچھ حمل میں نوماہ کے اندر کمی ہوتی ہے اور جو کچھ نوماہ سے زیادہ زیادتی ہوتی ہے۔ اور یہ مدت میں زیادتی وکمی اور رحم مادر میں بچہ کا ٹھہرانا اور اس کا نکلنا سب ایک خاص اندازہ سے مقرر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى۔۔ : ”تَغِيْضُ“ ”غَاضَ یَغِیْضُ“ سے ہے اور یہ ”نَقَصَ یَنْقُصُ“ کا ہم معنی ہے۔ لازم اور متعدی دونوں معنوں میں آتا ہے، یعنی کم ہونا، کم کرنا۔ اسی طرح ”تَزْدَادُ“ باب افتعال ”زَادَ یَزِیْدُ“ کی طرح ہے، معنی ہے زیادہ ہونا اور زیادہ کرنا۔ یعنی حمل قرار پانے سے لے کر بچہ پیدا ہونے تک ہر چیز کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور ارحام (بچہ دانیوں) کا یہ علم اللہ تعالیٰ کی خاص صفات میں سے ہے، یعنی اس بات کا علم کہ مذکر ہے یا مؤنث، خوب صورت ہے یا بد صورت، بدبخت ہے یا نیک بخت، لمبی عمر والا ہے یا کم عمر۔ مزید دیکھیے سورة نجم (32) ، زمر (6) اور مومنون (12 تا 14)۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–9

آیت نمبر 8 تا 9 اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی یعنی بچہ، بچی، عمدہ، قبیح، نیک اور نافرمان میں سے اور سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ علم غیب میں منفرد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور ہم نے وہاں امام بخاری کی حضرت ابن عمر ؓ سے حدیث بھی ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” غیب کی چابیاں پانچ ہیں “۔ الحدیث اور اس میں یہ بھی ہے کہ ” جو رحم کم کرتے ہیں اسے سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا “۔ وما تغیض الارحام وما تزداد کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا : یعنی یہ ہے کہ جو نو ماہ سے پہلے بچہ گرا دیتی ہیں اور جو نو ماہ سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ یعنی وہ جانتا ہے (ماں کے پیٹ میں) لڑکا یا لڑکی ہے۔ (آیت) ” وما تغیض الارحام “ یعنی وہ عورت جو خون کی دیکھتی ہے اپنے حمل میں۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغیض الارحام “ یعنی خون کا نکلنا (آیت) ” وما تزداد “ یعنی اس کا روکنا۔ ماں کے پیٹ میں بچے کے احوال سے اللہ واقف ہیں : 3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغیض الارحام “ یعنی عورت کا حمل کے دوران خون دیکھنا (آیت ) ” وما تزداد “ یعنی نوماہ میں۔ 4:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اللّٰهُ : اللہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ تَحْمِلُ : اٹھاتی ہے ] [ كُلُّ انثٰى: ہر مؤنث ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ تَغِيْضُ : سکیڑتی ہیں ] [ الْاَرْحَامُ : بچہ دانیاں ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ تَزْدَادُ : وہ بڑھاتی ہیں ] [ وَكُلُّ شَيْءٍ : اور ہر چیز ] [ عِنْدَهٗ : اس کے پاس ] [بِمِقْدَارٍ : ایک مقدار سے ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ عورتوں کے رحم میں کیا ہے ‘ وہ علانیہ اور پوشیدہ سب چیزوں کو جانتا ہے ‘ ہر اونچی اور آہستہ آواز اس کے نزدیک برابر ہے ‘ رات میں چھپا ہوا اور دن میں چلنے والا ہر ایک اس کے علم میں ہے۔ ان آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنی صفات جلیلہ میں سے صفت علم کو بیان فرمایا ہے کہ عورتوں کو جو حمل رہ جاتا ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ پوری طرح جانتا ہے کب استقرار ہوا اور کب وضع حمل ہوگا اور لڑکا وجود میں آئے گا یا لڑکی ‘ ادھورا بچہ پیدا کرے گا یا پورا بچہ پیدا ہوگا اور اس کا رنگ وروپ کیسا ہوگا اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ رحم میں بچہ ہے یا یوں ہی ہوا کی وجہ سے پھولا ہوا ہے ‘ رحموں میں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–16

رجوع برائے مضمون توحید قال اللہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی .... الیٰ .... وھو الواحد القھار۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت اور منکرین بعث بعد الموت کے شبہات کا جواب تھا اور اس سے قبل توحید کا مضمون تھا اب پھر توحید ہی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اس ذیل میں اول حق تعالیٰ نے اپنا عالم بجمیع معلومات ہونا بیان کیا چناچہ اللہ یعلم الخ سے اپنا وسیع العلم ہونا بیان کیا کہ اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بعد اذاں اپنا حافظ خلق اور رقیب ہونا بیان کیا چناچہ لہ معقبات سے یہ بتلا دیا کہ وہی تمام مخلوق کا محافظ اور نگہبان ہے بعد ازاں ھو الذی یریکم البرق الخ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اور دوسرے دعوے کو ثابت کر رہی ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی اسرار و خفیات کا عالم ہے، اسے معلوم ہے کہ مادہ کے پیٹ میں کیا ہے، نر یا مادہ، کالا یا گورا، کامل یا ناقص، سعید یا شقی وغیرہ وغیرہ۔ ” مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ و َمَا تَزْدَادُ “ غاض اور ازداد، دونوں لازم بھی ہیں اور متعدی بھی یہاں دونوں بن سکتے ہیں۔ اگر دونوں لازم ہوں تو ما لامحالۃ مصدریہ ہے اور اگر متعدی ہوں تو ما مصدریہ ہوگا یا موصولہ یا موصوفہ (روح) رحموں کے گھٹانے اور بڑھانے سے یا تو بچوں کی تعداد میں کمی بیشی مراد ہے یا مدت حمل میں کمی بیشی۔ المراد عدد الولد فانھا تشتمل علی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–11

(ربط آیات) جیسا کہ سورة ہذا کے تعارف میں بیان ہوچکا ہے ، اس میں بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، اللہ نے ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان کرنے کے بعد توحید کے دلائل ذکر کیے ، ان دلائل میں سے بعض کا تعلق عالم بالا سے اور بعض کا عالم زیریں سے ہے ، اس کے ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا گیا ہے اور درمیان میں حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی حقانیت کا ذکر بھی آگیا ہے اب آج کے درس میں بھی توحید ہی کے دلائل بیان کیے گئے ہیں جن پر غور کر کے انسان مسئلہ توحید کو پہچان سکتا ہے اور اپنے ایمان کو درست کرسکتا ہے ۔ (شکم مادر میں بچے کی کیفیت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۭ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ ۝ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–11

1 ؎ جس کے وہ طالب تھے ورنہ بہت سی نشانیاں اتری تھیں یا وہ نشانیاں ان کو نشانیاں ہی نہ معلوم ہوتی تھیں بات کو معمولی سمجھ کر ٹھٹھوں میں ٹال دیتے تھے۔ یہ پورا اندھا پن ہے جس کی طرف بہت جگہ قرآن میں اشارہ ہوا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنْثٰی وَمَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ط وَکُلُّ شَیْ ئٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ ۔ (سورۃ الرعد : 8) (اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو (شکم میں) اٹھائے ہوئے ہوتی ہے کوئی مادہ اور وہ جانتا ہے جو کم کرتے ہیں رحم اور جو زیادہ کرتے ہیں اور ہر چیز اس کے نزدیک ایک اندازہ سے ہے۔ ) اللہ تعالیٰ کی صفت علم کا اظہار نوعِ انسانی میں تمام بگڑے ہوئے لوگوں کی عموماً اور مشرکینِ عرب کی خصوصاً عقیدہ کی خرابیوں کا سبب بنیادی طور پر یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم بہت حد تک گم کرچکے تھے۔ جن صفات کو تسلیم کرتے تھے ان میں بھی مخلوق کی نارسائیوں اور کوتاہیوں کی آمیزش…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–10

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیت میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ہادی ہیں لہٰذا لوگوں کو سمجھاتے جائیں۔ جہاں تک ان کے مال اور اعمال کا تعلق اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کی پیدائش کے وقت سے جاتا اور اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اس عقیدہ کا تقاضا ہے کہ آدمی آخرت پر ایمان لائے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ باور کرواتا ہے کہ اے انسان ! تجھے کسی وقت بھی یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ میں تیری حرکات و سکنات سے بیخبر ہوں بلکہ میں تجھے اس وقت سے جان رہا ہوں جب تیرا تخم ماں کے رحم میں داخل ہوا تھا۔ پرانی طب اور جدید میڈیکل سائنس اس بات پر متفق ہیں کہ جب میاں بیوی کا آپس میں ملاپ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

علم الٰہی بےپایاں ہے : 8: اَللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتَحْمِلُ کُلُّ اُنْثٰی وَمَاتَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ (اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو کچھ کسی مادہ کو حمل رہتا ہے اور جو کچھ رحم میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے) ان تین مقامات میں ما ؔ موصولہ ہے تو مطلب یہ ہوگا جس چیز کو مادہ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہوتی ہے نر یا مادہ ایک یا متعدد۔ سالم الاعضاء بچہ یا ناقص، خوبصورت، بد صورت، لمبا، چھوٹا وغیر ذلک اور جسکو رحم گھٹاتے ہیں یعنی وہ جانتا ہے جسکو وہ کم کرتا ہے۔ تغیضؔ کا معنی کم کرنا کہتے ہیں غاض الماء و غضتہ انا۔ پانی گھٹ گیا اور میں نے اسکو کم کیا ماتزدادُ جو وہ بڑھتے ہیں یا بڑھاتے ہیں مراد نمبر 1۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 8۔” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ مذکر ہو یا مؤنث جو وہ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہے برابر ہے کہ وہ تمام الخلقت ہے یا نا قص الخلقت ہے ، ایک ہے یا دو یا اس سے زائد۔ وما تغیض الارحام و ما تزداد کی تفسیر ” وما تغیض الارحام “ اور جو رحموں میں کم بیشی ہوتی ہے۔” وما تزداد “ بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ تغیض الارحام سے مراد حالت حمل میں حیض کا آنا ۔ جب حاملہ عورت کو حیض آنے لگ جائے تو بچے کے لیے نقصان ہوتا ہے کیونکہ رحم میں حیض کا خون بچے کے لیے غذا کا سبب ہوتا ہے۔ جب حیض جاری ہوگیا تو اس کی غذا منقطع ہوگئی ، اس سے بچے کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور اگر خون جاری نہ ہو تو یہ بچے کی غذائیت میں فائدہ مند…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

8۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے جو روایت ہے اس میں اس آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے کہ عورت کے رحم میں جب نطفہ ٹھہرتا ہے تو ایک چلہ تک اپنی اصلی حالت پر رہتا ہے پھر جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے پھر پتلا بن جاتا ہے اور اس میں روح پھونکی جاتی ہے اور اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ آتا ہے اور عمر رزق جس طرح کے عمل یہ پتلا پیدا ہونے کے بعد کرے گا یہ سب کچھ وہ فرشتہ لکھ لیتا ہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ مدت حمل سے کم میں بچہ کا پیدا ہوجانا یہ رحم کے گھٹاؤ کی حالت ہے اور مدت حمل میں زیادتی کا ہوجانا یہ رحم کے بڑھاؤ کی حالت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ یہ فرماتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کا علم سب کو شامل، اس کی اطلاع بہت وسیع اور اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، چناچہ فرماتا ہے : (اللہ یعلم ماتحمل کل انثی) ” اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ “ یعنی انسان اور جانوروں میں سے (وما تغیض الارحام) ” اور جو کم کرتے ہیں پیٹ “ یعنی رحم میں موجود حمل میں جو کمی ہوتی ہے، یا وہ ہلاک ہوجاتے ہیں، یا وہ سکڑ کر مضمحل ہوجاتے ہیں، (وما تزداد) ” اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں “ اور ان میں موجود بچے بڑے ہوجاتے ہیں۔ (وکل شی عندہ بمقدار) ” اور ہر چیز کا اس کے ہاں اندازہ ہے۔ “ کوئی چیز اس مقدار سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ اس مقدار سے زیادہ ہوسکی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

26۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا ایک مظہر : سوارشاد فرمایا گیا کہ اللہ خوب جانتا ہے اس حمل کو جو ہر مادہ کو رہتا ہے۔ کہ وہ نر ہے یا مادہ۔ ناقص ہے یا کامل۔ سعید ہے یا شقی۔ کالا ہے یا گورا وغیرہ وغیرہ۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) کہ وہی وحدہ لاشریک جو اپنی مخلوق کی ہر حالت اور اس کی ہر سٹیج کو جانتا اور پوری طرح جانتا ہے۔ اور اس کے آغاز سے لیکر انجام اور ابتداء سے لیکر انتہاء تک کوئی بھی حالت ایسی نہیں جو اس خالق ومالک سے مخفی ہو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (ھواعلم بکم اذانشأکم من الارض واذا انتم اجنۃ فی بطون امھاتکم) (النجم : 32) یعنی وہ تم لوگوں کو اس وقت بھی پوری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 8–11

اللہ علیم وخبیر ہے تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر بڑے موثر انداز میں کیا گیا ہے۔ جب انسان ایک قطرہ پانی کی صورت میں ماں کے رحم میں تین پردوں کے اندر نشوونما پانا شروع کرتا ہے جب سے وہ اللہ علیم وخبیر کی حفاظت، نگہبانی اور علم میں ہوتا ہے۔ اس قطرہ آب کی تمام حرکات و سکنات اللہ کی تدبیر کے ریکارڈ میں موجود ہوتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا مگر اللہ جانتا ہے۔ اس کی جنس، رنگ، اخلاق و کردار، عمر اور موت اور زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ، رہنے، عمر گزارنے اور مرنے کے مقامات غرض ایک معمولی پانی کے اس قطرے کے بارے میں اللہ کو اتنا کچھ معلوم ہوتا ہے پہلے سے ہی یہ سب اللہ کے بلندو عظیم، برتر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–18

رکوع نمبر 2 : اسرارومعارف : اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 ۔ یعنی حمل قرار پانے سے لے کر زمانہ ولادت تک کا خدا کو علم ہے اور یہ علم ” مافی الارھام “ خاص طور پر صفاتِ الیہ میں سے ہے۔ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : گیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہ کسی کو علم نہیں ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے اور رحم (پیٹ) یا کم کرتے ہیں اور کیا زیادہ۔ بارش کب ہوگی۔ انسان کہاں مرے گا اور یہ کہ قیامت کب آئے گی۔ (بخاری) ۔ 10 ۔ یعنی وہی جانتا ہے کہ کون سی چیز کیسی اور کتنی ہوگی اس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(13:8) انثی۔ عورت۔ مادہ۔ تغیض ۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ غیض ومغاض پانی کا کم ہونا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے و غیض المائ۔ (11:44) اور پانی خشک ہوگیا۔ غاض یغیض (باب ضرب) نقض کی طرح لازم اور متعدی دونوں طرح آتا ہے۔ آیت ِ بالا (11:44) فعل لازم استعمال ہوا ہے۔ اور آیۃ ہذا میں متعدی استعمال ہوا ہے لہٰذا اس کے معنی کم کرنے یا کم ہونے۔ ہر دو ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح تزداد بھی لازم ومتعدی مستعمل ہے۔ وما تغیض الارحام وما تزداد۔ اور جوار حام کم کرتے ہیں اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں۔ اس کم کرنے اور زیادہ کرنے کی یہ صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) بچہ کا نامکمل ہونا (کمی) اور اس کا مکمل ہونا۔ (2) بچہ کی رحم مادر میں مدت۔ عام…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–11

لغات القرآن : آیت نمبر 8 تا 11 یعلم وہ جانتا ہے تحمل اٹھاتی ہے انثی مادہ، عورت تغیض کمی ہوتی ہے تزداد اضافہ ہوتا ہے کل شیء ہر چیز بمقدار اندازے سے الکبیر بڑا بزرگ المتعال برتر۔ زیادہ اونچا سواء یکساں اسر جس نے چھپایا جھر جس نے کھل کر کیا۔ زور سے کیا مستخف اسم فاعل سارب چلنے والا معقبت (مقبت) ایک کے پیچھے دوسرے کا آنا۔ پہرے دار یحفظون حفاظت کرتے ہیں لایغیر وہ تبدیل نہیں کرتا حتی یغیروا جب تک وہ نہ بدلیں لامرد نہیں ہٹانے والا۔ نہیں ٹلانے والا وال حمایتی۔ مددگار تشریح : آیت نمبر 8 تا 11 اللہ تعالیٰ کا علم کتنا وسیع ہے ؟ اس کا انتظام کتنا حسین ہے ؟ اس کی قدرت کائنات کی ہر چیز پر کس طرح محیط ہے ؟…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ماں کے پیٹ میں بچہ کی کیفیت اس آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے کہ عورت کے رحم میں جب نطفہ ٹھہرتا ہے تو ایک چلہ (چالیس روز) تک اپنی اصلی حالت میں رہتا ہے پھر جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے پھر پتلا بن جاتا ہے اور اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اور اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ آتا ہے اور عمر رزق جس طرح کے عمل یہ پتلا پیدا ہونے کے بعد کرے گا یہ سب کچھ وہ فرشتہ لکھ لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[8] بچے میں یا مدت میں۔ مثلاً کبھی ایک بچہ پیدا ہوتا ہے کبھی ایک سے زیادہ۔ کبھی جلدی ہوتا ہے کبھی دیر میں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 7–8

(ف 2) یعنی معجزہ طلبی کی عادت اچھی نہیں ہے غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ کیا حضور ان تمام صفات حسنہ سے متصف ہیں ، ادیان مذاہب کے لئے ضروری ہیں ، اور کیا صحیح معنوں میں آپ قوم کے قائد ونذیر قرار دیئے جاسکے ہیں ؟ معجزات کا اظہار یقینا نبوت کے علائم ظاہری میں سے ہے ، مگر یہ کیا کم معجزہ ہے کہ دلوں کو بدل دیا جائے اور ان میں نور وعرفان بھر دیا جائے ، رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ یہی دلوں کو تبدیلی ہے ۔ حل لغات : الاغلال : طوق ہائےْ

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

8 ۔ رسالت کا ذکر فرمایا پھر دلائل توحید اور باری تعالیٰ کے وسعت علم اور قدرت کا اظہار فرماتے ہیں ہر مادہ جو پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہے اسے اللہ خوب جانتا ہے اور رحم میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اور پیٹ جو سکڑتے بڑھتے ہیں اس کو بھی وہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ یعنی مادہ کے پیٹ میں جو بچہ ہوتا ہے اس کا لڑکا ہونا یا لڑکی ہونا ناقص ہونا یا پورا ہونا اچھا ہونا یا برا ہونا طویل یا قصیر ہونا سعید یا شقی ہونا سخی با بخیل ہونا ، عالم یا جاہل ہونا ۔ غرض ! اس حمل کی پوری حالت کو جانتا ہے رحم کی کمبی بیشی جلدی ہونا یا دیر سے ہونا ایک بچہ یا دو یا دو سے زائد ہونا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 5–8

ف 2۔ یعنی لڑکا ہے یا لڑکی ہے۔ 3۔ بچہ میں یامدت میں مثلا کبھی ایک بچہ ہوتا ہے کبھی زیادہ کبھی جلدی ہوتا ہے کبھی دیر میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر مادہ کے پیٹ میں کیا ہے اور رحم میں کیا کمی یا بیشی ہو سکتی ہے 17 ؎ اللہ ! بس اللہ ہی ہے کہ وہ واجب الوجود ہے لیکن جسم کی کیفیت سے پاک ہے۔ نہ اسکا اول نہ آخر ‘ نہ ظاہر نہ باطن ‘ وہ دیکھتا ہے پر آنکھ نہیں رکھتا ‘ وہ سنتا ہے پر کان نہیں رکھتا ‘ وہ جانتا ہے پر دماغ کا محتاج نہیں۔ وہ نہ ولد ہے اور نہ والد۔ اس کی کوئی احتیاج نہیں پر اس کی سب کو احتیاج ہے اور کوئی نہیں جس کو اس کی احتیاج نہ ہو۔ اس کو ہرچیز کا علم ہے لیکن کسی کے بتانے اور سکھانے سے نہیں اس لئے وہ ” عالم الغیب “ کا لقب پاتا اور اس کے سوا کوئی نہیں جس کو یہ لقب دیا جاسکے۔ اس کے علم سے کوئی بات اور کوئی حالت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Here, it was said: اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْ‌حَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۖ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ‌ ٍ. It means that Allah Ta ala knows everything about what every woman carries in her womb - a boy or girl, beautiful or otherwise, good or evil - and about why wombs of women decrease or increase, that is, about the time of delivery, whether early, in due time, or late. Stated in this verse is a particular attribute of Allah Ta’ ala: That He is the Knower of the Unseen (` Alim al-Ghayb). He is aware of the minutest of this entire universe and that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

17. When amplified the verse will mean: Allah remains fully aware of all the developments that take place in the child while in its mother’s womb, and He watches over the decrease or increase in each of its limbs, and its potentialities, capabilities and powers.

Read the full tafseer →