Ayah 13:1ا آآرٰ تلک آیت الکتب یہ قرآن کی (یا کامل سورت کی) آیات ہیں۔ الْکِتَاب سے مراد ہے : قرآن مجید یا پوری سورت اور تِلْکَ سے آیات کی طرف اشارہ ہے اور آیات الکتاب میں اضافت بتقریر مِن ہے ‘ یعنی یہ آیات قرآن یا سورت کا ایک حصہ ہیں۔
والذی انزل الیک من ربک الحق ولکن اکثر الناس لا یومنون اور جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے ‘ وہ بالکل سچ ہے لیکن بہت سے آدمی ایمان نہیں لاتے۔ (یہ ترجمہ اس صورت میں ہوگا کہ واؤ کو استنافیہ قرار دے کر الَّذِی کو مبتداء اور الْحَقُّ کو خبر مان کر جملہ کو بالکل علیحدہ مستقل تسلیم کیا جائے ‘ لیکن حضرت مفسر نے لکھا ہے کہ) اگر الکتاب سے مراد سورت ہو تو الَّذِی سے مراد قرآن ہوگا اور اس کا الکتاب پر عطف بحالت جر ایسا ہی ہوگا جیسا عام کا عطف خاص پر ہوتا ہے ‘ یعنی یہ آیات سورة کی اور قرآن کی آیات ہیں اور اگر الکتاب سے مراد قرآن ہو اور الَّذِی سے مراد بھی قرآن ہی ہے تو ایک صفت کا دوسری صفت پر عطف ہوگا اور الْحَقُّ خبر ہے جس کا مبتداء محذوف ہے ‘ یعنی وہی حق ہے۔
ایک شبہ : الْحَقُّ پر الف لام لانا بتارہا ہے کہ قرآن ہی حق ہے تو کیا حدیث رسول اللہ اور اجماع اور قیاس حق نہیں ہے۔
جواب : مَا اُنْزِلَسے مراد عام ہے : جو کچھ نازل کیا گیا خواہ صریحاً یا ضمناً قیاس ‘ اجماع اور حدیث کے اتباع کرنے کا حکم۔ چونکہ قرآن میں صریحاً ہے ‘ اسلئے یہ ارکان ثلثہ بھی ضمناً حق ہیں۔
وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِالخ یعنی اکثر لوگ چونکہ غور و نظر کی غلطی ور فکر و نظر کے اختلال میں مبتلا ہیں ‘ اسلئے وہ قرآن کی حقانیت سے واقف نہیں۔ مقاتل نے کہا : اس آیت کا نزول مشرکین مکہ کے حق میں ہوا تھا ‘ مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺ نے قرآن خود بنا لیا ہے۔ اللہ نے اس قول کی تردید فرما دی اور اگلی آیات میں اپنی توحید کی دلائل بیان فرمائیں۔
Ayah 13:2اللہ الذي رفع السموت بغیر عمد ترونھا ثم استوی علی العرش وسخر الشمس والقمر کل یجری لاجل مسمے یدبر الامر یفصل الایت لعلکم بلقاء ربکم توقنون اللہ ایسا (قادر) ہے جس نے بغیر ستونوں کے آسمانوں کو اونچا کھڑا کردیا جو تم کو نظر آ رہے ہیں ‘ پھر وہ عرش پر قائم ہوگیا اور سورج و چاند کو کام پر لگا دیا ‘ ہر ایک ایک وقت معین میں چلتا رہتا ہے۔ وہی ہر کام کی تدبیر کرتا ہے (وہی) صاف صاف طریقے سے دلائل بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی پیشی کا یقین کرلو۔
عَمَدٌ ستون۔ یہ عماد یا عمود کی جمع ہے ‘ جیسے اَہَب اہاب کی اور اَدَم ادیم کی جمع ہے۔ تَرَوْنَھَا جملہ علیحدہ ہے (اسی کے مطابق ہم نے ترجمہ کیا ہے ‘ یا عَمََد کی صفت ہے یعنی اللہ نے بغیر محسوس اور مرئی ستونوں کے اونچا آسمان قائم کیا ہے۔ اس میں صانع حکیم کی ہستی کی دلیل ہے۔ تمام اجسام جسمانیت میں برابر ہیں (صورت جسمیہ طبیعت نوعیہ ہے جس کا تحقق تمام اجسام علویہ و سفلیہ میں برابر ہے۔ شیخ بو علی ابن سینا کا بھی یہی قول ہے۔ مترجم) پھر خصوصیات میں اختلاف (کہ کسی کو پست رکھا ‘ کسی کو بلند کیا اور دوسرے نوعی خواص کا تفاوت) چاہتا ہے کہ مختلف خواص عطا کرنے والا کوئی پس پردہ ہے جو نہ جسم ہے نہ جسمانی۔ اسی نے بعض ممکنات کو بعض خواص میں دوسرے ممکنات پر اپنے ارادہ و اختیار سے ترجیح دی ہے۔ دوسری دلائل توحید و وجود جو ذیل میں بیان کی گئی ہیں ‘ ان سے بھی اللہ کی ہستی اور اس کی توحید پر اسی طرح استدلال کیا جاسکتا ہے۔
اَسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کی پوری تحقیق سورة یونس میں ذکر کردی گئی ہے۔ تسخیر شمس و قمر سے مراد ہے : ان کو کام پر لگا دینا کہ ایک مخصوص مقدار و اندازہ کے مطابق یہ رواں دواں ہیں جس سے حوادث یومیہ پیدا ہوتے ہیں۔
کُلٌّ یَّجْرِیْ یعنی ان میں سے ہر ایک دنیوی آسمان میں چلتا ہے۔
لِاَجَلٍ مُسَّمًّی ط یعنی معین وقت میں جس میں وہ اپنا دورہ پورا کرلیتے ہیں ‘ یا ایک وقت معین تک چلتے رہیں گے یعنی دنیا کے فنا ہونے تک۔
یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یعنی ہست و نیست کرنا اور زندگی و موت دینا اور پورے امور حکومت کا انتظام کرنا اسی کا کام ہے۔
یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وہی دلائل اتارتا یا کھول کھول کر علیحدہ علیحدہ بیان کرتا ہے ‘ یا ایک کے بعد ایک دلیل پیدا کرتا رہتا ہے۔
لَعَلَّکُمْالخ تاکہ تم ان پر غور کرو اور اللہ کے کمال قدرت کو جان لو اور سمجھ لو کہ جو اللہ ان چیزوں کو پیدا کرسکتا ہے اور ان کا انتظام رکھ سکتا ہے ‘ وہ ان کو فنا کر کے دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے اور تم کو سزا و جزا بھی دے سکتا ہے۔
Ayah 13:3وھو الذی مد الارض اور وہی تو ہے جس نے زمین کو بچھایا تاکہ اس پر قدم جم سکیں اور جاندار چل پھر سکیں۔
وجعل فیھا رواسی اور زمین میں پہاڑ بنائے۔ رَوَاسِیَ سے مراد پہاڑ ہیں۔ رسی الشَّیْء وہ چیز جم گئی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کوہ ابو قبیس زمین پر سب سے پہلے قائم کیا گیا۔
وانھرا اور دریا بنائے۔ پہاڑوں سے دریا نکلتے ہیں ‘ اسلئے ایک ہی فعل (جَعَلَ ) کے تحت دونوں کو ذکر کیا۔
ومن کل الثمرات جعل فیھا زوجین اثنین اور زمین میں ہر طرح کے پھلوں کی دو دو قسمیں پیدا کیں عمدہ اور ردّی (اچھے برے) یا یہ مراد ہے کہ طرح طرح کے پھل پیدا کئے جن کی مختلف قسمیں ہیں اور کم سے کم دو قسمیں تو ضرور ہی ہیں (ممکن ہے کہ زَوْجِیْنِ اثْنَیْن سے نر و مادہ مراد ہوں۔ وا اللہ اعلم بمرادہ۔ مترجم)
یغشی اللیل والنھار چھا دیتا ہے رات کو دن پر۔ یعنی رات کی تاریکی سے د ن کی روشنی کو چھپا دیتا ہے جس کی وجہ سے روشن فضا تاریک ہوجاتی ہے اور جو چیز تاریک تھی ‘ وہ روشن ہوجاتی ہے (شاید حضرت مفسر کی اس سے مراد یہ ہے کہ طرفین سے چھا جانا مراد ہے۔ رات دن پر چھا جاتی اور دن کی روشنی رات کی تاریکی کو چھپا لیتی ہے۔ مترجم)
ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون بیشک ان امور میں سوچنے والوں کیلئے (توحید اور قدرت و حکمت کے) دلائل موجود ہیں۔ ان کی رنگینی اور خواص کا تنوع بتارہا ہے کہ اس کا صانع کوئی یکتا مدبر حکیم ہے جو ان کا انتظام کر رہا ہے اور تمام اسباب کو فراہم کر رہا ہے۔
Ayah 13:4وفی الارض قطع متجورات اور زمین میں پاس پاس ملے ہوئے (مختلف) قطعات ہیں۔ کوئی عمدہ (اور پیداواری) ہے اور کوئی شوریلا نمکین ‘ کوئی نرم ‘ کوئی سخت ‘ کوئی کھیتی کرنے کے قابل ہے مگر درخت بونے کے قابل نہیں اور کوئی درختوں کی سرزمین ہے ‘ کھیتی کے ناقابل۔ کسی میں سبزہ کم ہے (یا بنجر ہے) اور کوئی سبزہ زار ہے۔ اگر یہ فعل قادر مختار اور صانع حکیم کا نہیں تو پھر یہ اختلاف کیوں ہے اور کیوں خواص میں تفاوت ہے ؟ زمین کی طبیعت ایک ہی ہے ‘ لوازم طبیعت بھی یکساں ہیں ‘ سماوی اسباب کی تاثیر بھی ایک ہی جیسی ہے ‘ وضع اور نسبت میں بھی کوئی فرق نہیں ‘ پھر سوائے اس کے کہ ایک قادر مختار کی مشیّت کی کارفرمائی قرار دی جائے ‘ اور کیا سبب اختلاف بتایا جاسکتا ہے۔
وجنت من اعناب وزرع ونخیل صنوان وغیر صنوان یسقی بماء واحد ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں ‘ کچھ تو ایک تنا سے
اوپر دو شاخہ ہوگئے ہیں اور کچھ دو تنے نہیں ہوئے۔ ان میں سے ہر ایک کو ایک ہی طرح کے پانی سے سینچا جاتا ہے اور ہم ایک کو دوسرے پر پھلوں میں فوقیت دیتے ہیں۔
زَرْعٌ اصل میں مصدر ہے ‘ اسلئے اس کو جمع لانے کی ضرورت نہیں۔
صِنْوَانٍ ‘ صنو کی جمع ہے ‘ جیسے قنوان (خوشے) قنو کی جمع ہے۔ اس کے تثنیہ کا نون مکسور ہوتا ہے اور بغیر تنوین کے ہوتا ہے اور جمع کے نون پر ہر حرکت مع تنوین کے آتی ہے۔ ایک جڑ سے دو تنے برآمد ہوں تو ان کو صنو کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباس کے متعلق فرمایا : آدمی کا چچا اس کے باپ کا صنو ہوتا ہے۔
غَیْرُ صِنْوَانٍ یعنی الگ الگ ہوتے ہیں ‘ جڑیں جدا جدا ہوتی ہیں۔
الْاُکُل پھل۔ یعنی مقدار میں ‘ مزہ میں ‘ رنگ میں ‘ خوشبو میں اللہ نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے۔ ترمذی نے بروایت حسن اور حاکم نے بسند صحیح حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دقل اور فارسی اور میٹھا اور کھٹا۔
ان سب میں بھی صانع حکیم کی قدرت کی جھلک ہے اصول کے ایک اسباب ایک جیسے پھر ان کا باہمی اختلاف کسی قادر مختار کی خصوصی عطا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باپ سے سب آدمی پیدا ہوئے لیکن کوئی اچھا ہے ‘ کوئی برا۔ حسن نے اس کی تشبیہ انسانوں کے دلوں سے دی ہے۔ زمین کا ایک خمیر تھا ‘ اللہ نے اپنے دست قدرت سے اس کو پھیلایا ‘ بچھایا اور پاس پاس اس کے جدا جدا ٹکڑے کر دئیے ‘ پھر اس پر آسمان سے پانی برسایا جس کی وجہ سے ایک ٹکڑے سے پھل پھول اور کھیتیاں درخت پیدا کئے اور دوسرے کو شوریلا ‘ نمکین ‘ کلر اور بنجر کردیا ‘ باوجودیکہ سب پر ایک ہی طرح کا پانی برسایا۔ آدمیوں کی حالت بھی اسی طرح ہے ‘ سب کو آدم سے پیدا کیا اور سب کیلئے ہدایت نامہ (کا پانی) آسمان سے اتارا۔ کچھ دل تو اس کی وجہ سے نرم پڑگئے اور ان کے اندر خشوع پیدا ہوگیا اور کچھ سخت ہوگئے اور غافل بن گئے۔
حسن نے کہا : خدا کی قسم ! جو شخص بھی قرآن کا جلیس (ہم نشین) ہوا تو اٹھنے کے وقت کچھ زیادتی لے کر اٹھا یا کمی لے کر (فائدہ لے کر یا نقصان لے کر) اللہ نے فرمایا ہے : وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآءٌ وَّرَحْمَۃ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ یَرِیْدُ الظَّلِمِیْنَ اِلّاَخْسَارًا۔
ان في ذلک لایت لقوم یعقلون ان امور میں بھی سمجھ داروں کیلئے (توحید کے) دلائل موجود ہیں۔ جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اور غور کرتے ہیں ‘ ان کو ان امور کے اندر اللہ کی توحید نظر آتی ہے۔
Ayah 13:5وان تعجب فعجب قولھم ءاذا کنا تراباء انا لفي خلق جدیدہ اور (اے محمد ﷺ اگر آپ کو تعجب ہو تو (واقعی) ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم خاک ہوگئے تو کیا ازسرنو پھر (قیامت کے دن) پیدا ہوں گے۔
جملۂ استفہامیہ قولھم کا بدل ہے یا مقولہ (یعنی مفعول) ہے ‘ یعنی ان کا یہ قول حشر کا انکار کر رہا ہے۔ وہ اس بات کا تو اقرار کرتے ہیں کہ اوّل تخلیق اللہ نے کی لیکن دوبارہ پیدا کئے جانے کے منکر ہیں حالانکہ یہ بات ہر شخص مانتا ہے کہ کسی کام کی ابتداء سے دوبارہ اس کو کرنا آسان ہوتا ہے (بشرطیکہ ابتداء ارادہ و اختیار کے ساتھ ‘ علم اور اندازہ کے تحت کی گئی ہو ‘ بےاختیار ‘ بلا ارادہ ‘ بغیر جانے بوجھے نہ ہوگی ہو اور مشرکوں کو اللہ کی بااختیار خلاقیت اور علم و ارادہ کے ساتھ موجد ہونے کا تو اقرار تھا۔ وہ فلاسفہ کی طرح اللہ کو غیر مختار نہیں جانتے تھے ‘ پھر تخلیق جدید کا انکار بےعقلی کی بات تھی۔ مترجم)
یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ مشرک جو آپ کے دعوٰئے رسالت کی تکذیب کر رہے ہیں باوجودیکہ کھلے ہوئے معجزات دیکھ رہے ہیں اور واضح دلائل بھی ان کے سامنے ہیں ‘ پھر بھی ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جن میں نفع نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں اور آپ کو ان کی اس حرکت پر تعجب ہو رہا ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب کے لائق ہے کہ ہم خاک ہوجانے کے بعد کیا دوبارہ ازسرنو پیدا کئے جائیں گے۔ حالانکہ اللہ ہی نے تمام وہ چیزیں جن کی تفصیل ذکر کردی گئی ہے ‘ نیست سے ہست کی ہیں ‘ پھر ان کے مرنے کے بعد دوبارہ ان کو پیدا کرنا تو آسان ہے۔
آیات مذکورہ اور دلائل واضحہ چاہتی ہیں کہ ان کا ایک (بااختیار) فاعل ہو ‘ اسی طرح دوبارہ پیدا ہونے کے امکان پر بھی ان سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ ان سے اللہ کا قادر مطلق ہونا اور مختلف قابلیت کی چیزوں میں مختلف تصرفات کرنا ثابت ہو رہا ہے۔
اولئک الذین کفروا بربھم یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے۔ یعنی قیامت کا انکار کرنے والے اپنے رب کے منکر ہیں کیونکہ اس کی قدرت کا انکار کرتے ہیں اور جو قادر نہ ہو ‘ عاجز ہو ‘ وہ رب ہونے کے قابل نہیں ہوسکتا۔
واولئک الا غلل في اعناقھم اور یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں (گمراہی کے) طوق ہیں (جن سے خلاصی کی کوئی امید نہیں یا) دوزخ کے اندر ان کے گلے میں آگ کے طوق ہوں گے۔ قیامت کے دن ان کو طوق پہنائے جائیں گے۔
واولئک اصحب النار اور یہی (قیامت کے دن) دوزخی ہوں گے۔
ھم فیھا خلدون جس کے اندر وہ ہمیشہ رہیں گے ‘ کبھی نہیں نکالے جائیں گے۔ ضمیر فصل (یعنی ھُم) کا درمیان میں لانا بتارہا ہے کہ کفار ہی ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ خلود فی النّار کافروں کیلئے مخصوص ہے۔ اہلسنّت کا یہی قول ہے۔ معتزلہ کا قول اس کے خلاف ہے (وہ مؤمن فاسق کو دوامی دوزخی کہتے ہیں کیونکہ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو وہ ایمان سے خارج جانتے ہیں اگرچہ کافر نہیں کہتے۔ مترجم)
Ayah 13:6ویستعجلونک بالسیءۃ قبل الحسنۃ وقد خلت من قبلھم المثلت اور یہ لوگ بھلائی (عافیت کی میعاد ختم ہونے) سے پہلے آپ سے برائی (یعنی مصیبت کے نزول) کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (اور کفار پر) واقعات عقوبت گذر چکے ہیں۔
استعجال ‘ وقت مقرر سے پہلے کسی چیز کی طلب کرنا (عجلت طلبی) سیۂ سے مراد ہے : عذاب اور سزا اور حسنہ سے مراد ہے : نعمت و عافیت۔ مشرکین مکہ عافیت کی جگہ عذاب (خداوندی) کے طالب تھے اور استہزاء کے طور پر کہتے تھے : اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی اور دردناک عذاب بھیج دے۔
الْمَثُلٰتُ ان جیسے دوسرے کافروں پر نازل ہونے والی سزائیں ‘ یعنی سابق کافروں پر نازل ہونے والی عقوبتوں سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے اور کیوں ان کو اپنے اوپر ویسے ہی عذاب نازل ہونے سے ڈر نہیں لگتا۔ مَثُلَۃٌ جیسے صَدُقَۃٌ اور صَدَقَۃٌ ہر سزا کو کہتے ہیں کیونکہ سزا جرم کی مثل ہوتی ہے۔ قصاص کو بھی مثال اسی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ اَمْثَلْتُ الرَّجُلَ میں نے اس کا قصاص لے لیا۔
وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمھم اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کا رب لوگوں کی خطائیں باوجود ان کی بےجا حرکتوں کے معاف کردیتا ہے۔
عَلٰی ظُلْمِھِمْ یعنی باوجودیکہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ آیت منکرین قیامت کے متعلق ہے (اور منکرین قیامت کی مغفرت اللہ کبھی نہیں کرے گا) تو مغفرت سے مراد ہے : ڈھیل دینا ‘ فوراً پکڑ نہ کرنا۔ یعنی اللہ حلیم ہے ‘ کافروں کو بھی باوجود ان کی بےجا حرکتوں کے ڈھیل دیتا رہتا ہے اور ان کو فی الفور عذاب نہیں دیتا۔ حالانکہ وہ عذاب آنے میں عجلت کے طلب گار ہوتے ہیں۔
وان ربک لشدید العقاب اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کا رب سخت عذاب دیتا ہے۔ جب اللہ کی طرف سے عذاب آجاتا ہے تو کوئی اس کو دفع نہیں کرسکتا۔ سدی نے کہا کہ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِھِمْ مؤمنوں کیلئے خصوصیت کے ساتھ نازل ہوئی۔ قرآن مجید میں جتنی آیات گناہگار مؤمنوں کو امید مغفرت دلا رہی ہیں ‘ ان سب سے بڑھ کر امیدگاہ مغفرت یہ آیت ہے۔ اس آیت میں عَلٰی ظُلْمِھِمْ کا لفظ امید دلا رہا ہے کہ بغیر توبہ کے بھی مغفرت ہوسکتی ہے کیونکہ توبہ کرنے والا ظلم پر نہیں رہتا۔ گناہ سے توبہ کرنے ولا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے۔ یہ حدیث حضرت ابن مسعود کی روایت سے ابن ماجہ نے مرفوعاً نقل کی ہے۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ آیت وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ اور آیت وَاِنَّ رَبَکَ لَشَدِیْدُ الْعِقَاب دونوں کا تعلق مؤمنوں سے ہے مگر دونوں مشروط بہ مشیّت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآء جس کو چاہے گا معاف کر دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔
ابن ابی حاتم اور بیہقی اور واحدی نے سعید بن مسیب کی روایت سے مرسلاً بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ کی طرف سے معافی اور درگذر نہ ہوتی تو یہاں کوئی زندہ نہ رہتا اور اگر اس کی طرف سے عذاب کی دھمکی نہ ہوتی تو ہر ایک (اس کی رحمت پر) بھروسہ کر بیٹھتا۔
Ayah 13:7ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ اور یہ کفار کہتے ہیں : ان پر کوئی (خاص) معجزہ) جو ہم چاہتے ہیں) کیوں ان کے رب کی طرف سے نہیں نازل کیا گیا ؟ اٰیَۃٌ یعنی کوئی خاص نشانی اور معجزہ جو ان کی نبوت کو ثابت کر رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر جو معجزات نازل کئے گئے ‘ کافروں کے نزدیک درخور اعتناء نہیں تھے اور عناد و ضد کی وجہ سے (خودپسند) معجزات کے طلب گار تھے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا :
انما انت منذر ولکل قوم ھاد آپ صرف (مخالفت کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والے (نبی) ہیں اور ہر قوم کیلئے راہنما ہوتے چلے آئے ہیں۔ یعنی آپ کے ذمے صرف احکام الٰہی پہنچا دینا اور (نہ ماننے والوں کو عذاب کا) خوف دلانا ہے۔ مطلوبہ معجزات کو پیش کرنا اور جبراً ہدایت یافتہ بنا دینا آپ کا کام نہیں ‘ راہ حق کی طرف بلانا آپ کا کام ہے اور ہر قوم کی ہدایت کیلئے کوئی نہ کوئی پیغمبر آتا رہا ہے جو خداداد معجزات پیش کرتا رہا ہے۔ مطلوبہ فرمائشی معجزات کسی نے پیش نہیں کئے۔
سعید بن جبیر کے نزدیک ہادی سے مراد اللہ ہے۔ یعنی ہر قوم کو ہدایت یاب بنانا اور ہدایت پر قدرت دنیا تو اللہ کا کام ہے ‘ وہی ہدایت پر قادر ہے۔ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ عکرمہ نے کہا : ہادی سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ ۔ یعنی آپ تو صرف ڈرانے والے اور ہر قوم کو راستہ دکھانے والے ہیں۔
رافضی کہتے ہیں : اصل آیت میں وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ عَلِيٌّ ہر قوم کے ہادی علی ہیں ‘ تھا۔ عثمان نے حسد کی وجہ سے علی کا لفظ ساقط کردیا۔ ان کو اللہ سزا دے ‘ ان کو نہیں معلوم کہ اللہ نے قرآن کے متعلق وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ فرما دیا ہے ‘ ہم ہی قرآن کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اگر بفرض محال ان کے قول کو مان بھی لیا جائے تو پھر اصل آیت کی رو سے رسول اللہ ﷺ پر بھی حضرت علی کی فضلیت لازم آتی ہے کیونکہ آیت کا مفہوم اس وقت یہ ہوگا کہ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے ہادی تو علی ہیں (یعنی آپ ہدایت کے درجہ پر فائز نہیں ‘ یہ کام تو علی کا ہے) ۔
ا اللہ کا علم کامل ہے ‘ قدرت تام ہے ‘ قضاء و قدر کے دائرہ سے کوئی چیز باہر نہیں۔ وہ ہر فرمائشی معجزہ کو پیدا کرسکتا ہے اور قادر مطلق ہے ‘ ان کافروں کو ہدایت بھی کرسکتا ہے مگر مطلوبہ معجزات کی درخواست سے طلب ہدایت مقصود نہیں بلکہ محض عناد کے زیر اثر ایسی فرمائشیں کی جاتی ہیں ‘ اسلئے ان فرمائشوں کو پورا نہیں کرتا اور چونکہ ان کے کافر رہنے کا ازلی فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے ‘ اسلئے ہدایت یاب ہونے کی ان کو توفیق بھی نہیں دیتا۔ ان تمام مضامین پر آیات ذیل دلالت کر رہی ہیں۔
Ayah 13:8اللہ یعلم ما تحمل کل انثی وما تغیض الارحام وما تزداد اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ کسی مادہ کو حمل رہتا ہے اور جو کچھ رحم میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
مَا تحَْمِلُ (میں مَا مصدری ہے یعنی) حاملہ ہونے کو اللہ جانتا ہے یا (مَا موصولہ ہے یعنی) جس چیز کو مادہ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوتی ہے۔ نر یا مادہ ‘ ایک یا متعدد ‘ پورے سالم اعضاء والا بچہ یا ناقص اور اس کی ہر موجودہ اور آئندہ حالت کو اللہ جانتا ہے۔ تَغِیْض غَاض کا مضارع ہے اور غاض لازم بھی ہے ‘ بمعنی انغاض (باب انفعال) کے اور متعددی بھی ہے ‘ بمعنی اَغَاضَ (باب افعال) کے۔ قاموس میں ہے : غَاضَ الْمَاء پانی کم ہوگیا ‘ گھٹ گیا۔ غَاضَ ثَمَنُ السلعۃِ سامان کی قیمت گھٹ گئی۔ غَاضَ الْمَاءَ وَثَمَنُ السلعۃِ اس نے پانی تھوڑا کردیا ‘ کم کردیا اور سامان کی قیمت گھٹا دی۔
تَزْدَادُط ازداد سے مضارع ہے۔ ازدیاد (افتعال) لازم بھی آتا ہے ‘ جیسے ازداد القَوْم عَلٰی عشرۃ قوم دس افراد سے زیادہ ہوگئی اور متعدی بھی آتا ہے ‘ جیسے ونزداد کیل بعیر ہم ایک بار شتر بڑھا دیں گے۔ اگر دونوں فعلوں کو لازم کہا جائے تو مامصدری ہوگا یعنی ارحام کے گھٹنے اور بڑھنے کو اللہ جانتا ہے۔ رحم کے گھٹنے بڑھنے سے مراد ہے : رحم کے اندر والی چیز کے جثہ ‘ مدت اور تعداد کا گھٹنا بڑھنا اور اگر دونوں فعل متعدی مانے جائیں تو مَا موصولہ بھی ہوسکتا ہے اور مصدریہ بھی۔
مسئلہ : باتفاق علماء حمل کی مدت کم سے کم چھ ماہ ہے۔ ایک شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا ‘ چھ مہینے میں عورت کے بچہ پیدا ہوگیا۔ حضرت عثمان نے عورت کو سنگسار کردینے کا حکم دے دیا۔ حضرت ابن عباس (مانع ہوئے اور) فرمایا : کتاب اللہ کی روشنی میں اگر میں تم سے اس مسئلہ میں مناظرہ کروں تو تمہارے پاس جواب نہ ہوگا۔ اللہ نے فرمایا : وَحَمْلُہٗ وَفِصَالُہٗ ثلٰثُوْنَ شَھْرًا اس کا حالت حمل میں رہنا اور دودھ پینا تیس ماہ ہے۔ دوسری آیت میں آیا ہے : وَفِصَالُہٗ فِی عَامِیْن اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوتا ہے۔ دونوں آیتوں کے ملانے سے مدت حمل ( کم سے کم) چھ ماہ رہتی ہے۔ حضرت عثمان نے یہ سن کر تعزیری سزا منسوخ کردی۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان نے سزا ساقط کردی اور کسی نے مخالفت نہیں کی تو یہ اجماع (سکوتی) ہوگیا (کہ حمل کی مدت کم سے کم چھ ماہ ہے) کبھی چھ ماہہ بچہ پیدا ہوتا اور زندہ بھی رہتا ہے۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک زیادہ سے زیادہ مدت حمل دو سال ہے۔
دارقطنی اور بیہقی نے سنن میں ابن المبارک کے طریق سے از داؤد بن عبدالرحمن از ابن جریج از جمیلہ بنت سعد ایک حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : تکلے کے سایہ کی بقدر بھی کوئی عورت حمل میں دو سال سے آگے نہیں بڑھتی۔ دوسری روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے : حمل دو سال سے زیادہ نہیں ہوتا خواہ زیادتی تکلے کے سایہ کے برابر ہو۔
ایک قول میں امام شافعی و امام مالک کے نزدیک زیادہ سے زیادہ مدت حمل چار سال ہے۔ دوسری روایت میں امام مالک کا قول آیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مدت حمل پانچ برس ہے۔ حماد بن سلمہ نے کہا : ہرم بن سنان کو ہرم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ماں کے پیٹ میں چار برس رہا تھا (ہرم بہت زیادہ بوڑھے آدمی کو کہتے ہیں) ۔
بیہقی کا بیان ہے کہ ولید بن مسلم نے امام مالک بن انس سے کہا : مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : عورت کے حمل کی مدت میں دو سال سے تکلے کے سایہ کے بقدر بھی اضافہ نہیں ہوتا۔ امام مالک نے فرمایا : سبحان اللہ ‘ یہ کون کہتا ہے ؟ میری یہ ہمسائی محمد بن عجلان کی بیوی بہت سچی عورت ہے اور اس کا شوہر بھی بڑا سچا آدمی ہے۔ اس عورت کے تین بطن بارہ سال میں پیدا ہوئے ‘ ہر بطن چار سال میں۔
ابن ہمام نے کہا : ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ کی حدیث میں جو مدت آئی ہے ‘ وہ (حضرت عائشہ کا قیاس نہیں ہے ‘ ایسے مسائل میں قیاس کو دخل نہیں) صرف سماعی ہے (رسول اللہ ﷺ سے آپ نے ایسا ہی سنا ہوگا) لہٰذا مرفوع کے حکم میں ہے (یعنی حضرت عائشہ کا قول نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کا قول ہے) اور حدیث مرفوع بہرحال محمد بن عجلان کی بیوی کے قول سے زیادہ قابل اعتماد ہے۔ اگر حدیث کی نسبت شارع کی طرف صحیح ثابت ہوجائے تو پھر حدیث میں غلطی کا کوئی احتمال نہیں ہوسکتا اور ولید بن مسلم کی روایت اگر صحیح بھی ہو اور امام مالک نے ایسا ہی فرمایا ہو اور عورت نے بھی ایسا ہی بیان کیا ہو تب بھی اس میں غلطی کا احتمال ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ چار برس تک (حیض کا) خون نہیں آیا اور چار سال کے بعد بچہ پیدا ہوا تو اس سے یہ یقین کیسے کیا جاسکتا ہے کہ وہ عورت پورے چار برس حاملہ رہی ؟ ہوسکتا ہے کہ اس کی پاکی کی مدت دو سال یا اس سے زیادہ رہی ہو ‘ پھر دو سال یا اس سے کم مدت حمل والی ہوئی ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ پیٹ کے اندر حرکت ہوتی ہوئی چار سال تک محسوس ہوتی رہی (لامحالہ بچہ ہی حرکت کرتا ہوگا) تو حرکت سے بچہ کے وجود پر بھی استدلال قطعی نہیں ‘ بغیر بچہ کے (صرف ریاح منجمد کی) حرکت بھی ممکن ہے۔ ہم سے بیان کیا گیا تھا کہ ایک عورت نے نو ماہ تک پیٹ میں کسی چیز کی حرکت محسوس کی ‘ اس عرصہ میں خون بھی بند رہا اور پیٹ بھی بڑا ہوگیا۔ جب وضع حمل کا وقت آیا اور دایہ جا کر بیٹھی اور درد ہوئے تو پانی چھوٹ گیا اور رفتہ رفتہ پیٹ لگ گیا اور کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا ‘ آخر دایہ اٹھ گئی ___ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک عورت کا شوہر چند سال گھر سے غائب رہا ‘ جب واپس آیا تو بیوی کو حاملہ پایا۔ حضرت عمر نے اس عورت کو سنگسار کرا دینے کا ارادہ کیا۔ حضرت معاذ نے فرمایا : امیر المؤمنین ! اگر اس عورت پر آپ کو (شرعی) دسترس ہو بھی تب بھی اس کے پیٹ کے بچہ پر آپ کو کوئی دسترس نہیں ہوسکتی (یعنی اس کو آپ قتل نہیں کرسکتے ‘ جب بچہ پیدا ہوجائے تو عورت کو سنگسار کرا سکتے ہیں) غرض بچہ پیدا ہوا اور ایسا ہوا کہ اس کے دو اگلے دانت بھی نکل آئے تھے۔ اس شخص نے بچہ کو دیکھا تو بولا : قسم ہے رب کعبہ کی ! یہ میرا بچہ ہے (حضرت عمر نے عورت کی سزا منسوخ کردی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دو سال سے زائد مدت حمل حضرت عمر نے تسلیم کرلی) ۔
جواب : یہ سزا کی منسوخی تو اس وجہ سے ہوئی کہ مرد نے اس بچہ کو اپنا بیٹا ہونا تسلیم کرلیا اور دعویٰ کیا کہ وہ اسی کا بیٹا ہے اور جس کا فراش ہوتا ہے ‘ بچہ اسی کا (شرعاً ) مانا جاتا ہے (خواہ وہ بچہ زناء کا ہی ہو مگر مانا جائے گا شوہر ہی کا) اسی لئے حضرت عمر نے سزا موقوف کردی۔
مسئلہ : ایک بطن میں (ایک جھلی کے اندر) زیادہ سے زیادہ کتنے بچے ہوتے ہیں ‘ اس کی کوئی حد نہیں۔ بعض نے کہا کہ چار بچوں کا ہونا تو معلوم ہوا ہے۔ امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : یمن میں مجھ سے ایک شیخ نے بیان کیا تھا کہ اس کی بیوی کے پانچ بطن ہوئے اور ہر بطن میں پانچ پانچ بچے ہوئے۔ میں کہتا ہوں : ہندوستان میں ایک خبر مشہور ہوئی تھی کہ پورب کی طرف قاضی قدوہ کی بیوی کے ایک بطن میں ایک جھلی میں سو بچے ہوئے اور سب زندہ رہے۔
بغوی نے لکھا ہے : اہل تفسیر کہتے ہیں کہ غیض الارحام حیض ہے جو بچہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر حاملہ کو حیض آنے لگے تو بچہ میں نقصان آجاتا ہے۔ رحم کے اندر حیض کا خون بچہ کی غذا ہے ‘ جب خون آجاتا ہے تو بچہ کی غذا گھٹ جاتی ہے اور بچہ میں نقصان آجاتا ہے اور حمل کی حالت میں حیض بند رہے تو بچہ بڑھتا رہتا ہے اور پورا ہوجاتا ہے۔ پس نقصان سے مراد ہے : بچے کی جسمانی بناوٹ کا نقصان جو خون کے نکلنے سے ہوجاتا ہے اور زیادتی سے مراد ہے : بچہ کی تخلیقی بناوٹ کا پورا ہوجانا جو خون بند رہنے سے ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حاملہ کو حیض ہوجائے تو بچہ کی غذا کم ہوجاتی ہے اور مدت حمل بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ پاکی کے نو ماہ پورے ہوجائیں (تب بچہ پورا پیدا ہوتا ہے) اگر حمل کی حالت میں پانچ دن خون آگیا تو نو ماہ پانچ روز میں بچہ پیدا ہوگا۔ پس غذا کی کمی بیشی سے مدت حمل میں کمی بیشی ہوجاتی ہے۔ حسن بصری نے فرمایا : غیض الارحام سے مراد ہے (حمل کی مدت) نو ماہ سے کم ہونا اور زیادۃ سے مراد ہے نو ماہ سے مدت حمل کا زیادہ ہوجانا۔
بعض نے کہا : نقصان سے مراد ہے : بچہ کا ساقط ہونا اور زیادت کا معنی ہے : بناوٹ کا پورا ہونا۔
وکل شیء عندہ بمقدار اور ہر چیز اللہ کے نزدیک ایک خاص انداز سے (مقرر) ہے۔ یعنی ہر چیز کی اللہ کے علم میں ایک حد معین ہے۔ حد مقرر سے کوئی چیز نہ بڑھ سکتی ہے نہ گھٹ سکتی ہے۔
Ayah 13:9علم الغیب والشھادۃ الکبیر المتعال وہ تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کو جاننے والا ہے (سب سے) بڑا اور عالیشان ہے۔
غیب اور شہادت کی تفسیر سورة جن میں ذکر کردی گئی ہے۔ الْکَبِیْر سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز اس سے پست اور کم درجہ ہے۔ اور الْمُتَعِالِ کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی قدرت سے ہر چیز پر غالب ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ مخلوق کی تعریف و توصیف سے بالاتر ہے۔
Ayah 13:10سوآء منکم من اسر القول ومن جھربہ ومن ھو مستخف بالیل وسارب بالنھار جو شخص تم سے کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے اور جو دن میں چلے پھرے ‘ یہ سب (ا اللہ کے علم میں) برابر ہیں۔
مَنْ اَسَرَّ جو دل میں بات چھپائے رکھے۔ وَمَنْ جَھَرَبِہٖ اور جو دوسروں سے اپنی بات کہہ دے۔ مَنْ ھُوَ مُسْتَخُفٍ م جو اپنے کو دوسروں سے چھپائے رکھنا چاہے۔ سَارِبٌم بالنَّھَارِ جو دن میں باہر نکلے کہ اس کو ہر شخص دیکھے۔ سَارِبٌ‘ سَرَبَ ‘ سُرُوبًا سے مشتق ہے۔ سَرَبَ کا معنی ہے : برآمد ہونا ‘ باہر نکلنا۔ بعض نے کہا : سَرَبٌ کا معنی ہے : راستہ۔ پس سارِبٌ کا معنی ہے : راستہ میں چلتے پھرتے رہنے والا۔ قتیبی نے کہا : سَارِبٌ بالنَّھَار یعنی دن میں اپنے کاروبار میں مشغول ہونے والا۔
حضرت ابن عباس نے اس آیت میں فرمایا کہ مُسْتَخُفٍ سے مراد ہے : رات کو چھپ کر زنا کرنے والا اور سارِبٌ بالنَّھَارِ کا یہ مطلب ہے کہ دن میں باہر نکل کر وہ لوگوں کو دکھاتا ہے کہ میں جرم سے پاک ہوں۔
Ayah 13:11لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ ہر شخص (کی حفاظت یا اعمال کے لکھنے) کیلئے کچھ (فرشتے) مقرر ہیں جن کی بدلی ہوتی رہتی ہے ‘ کچھ اس کے آگے اور کچھ اس کے پیچھے کہ وہ بحکم خدا اس کی حفاظت یا نگرانی رکھتے ہیں۔
مُعَقِّبَاتٌ، مُعَقِّبَۃٌ کی جمع ہے۔ یہ لفظ عَقَّبَسے بنا ہے (اور متعدی نہیں ہے بلکہ) مبالغہ کیلئے عَقَّبَہٗ اس کے پیچھے آگیا۔ یا اعتقب سے بنا ہے۔ اس صورت میں مُعَقِّبَۃٌ کی اصل مُعْتَقِبَۃٌ ہوگی۔ تا کو قاف میں ادغام کردیا گیا۔ باب افتعال کی تا مبالغہ کیلئے ہے۔
بغوی نے لکھا : مُعَقَّبٌ واحد کا صیغہ ہے ‘ اس کی جمع مُعَقَّبَۃٌ ہے اور مُعَقَّبَۃٌ کی جمع مُعْقِّبَاتٌ ہے ‘ جیسے انثاوات سعدٍ (سعد کی عورتیں) اور رجالات بکرٍ (قبیلۂ بکر کے مرد) کہا جاتا ہے (انثاوات ‘ اناث کی اور رجالات ‘ رجال کی جمع ہے اور اناث کا واحد انثٰی ہے اور رجال کا مفرد رجل۔ بہرحال اس سے مراد فرشتے ہیں جو رات دن باری باری سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں تو ان کے پیچھے دن کے فرشتے آجاتے ہیں اور دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں تو ان کے بعد رات کے فرشتے آجاتے ہیں اور بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اور آفات سے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ (1) [ ازالۃ الخفاء میں کنانہ عدوی کی روایت سے آیا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے بتائیے کہ بندے کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں ؟ فرمایا : ایک فرشتہ تیرے دائیں ہاتھ کی طرف ہے جو تیری نیکیوں پر مامور ہے اور وہ بائیں ہاتھ والے فرشتے کا سردار ہے۔ جب تو کوئی ایک نیکی کرتا ہے تو وہ دس نیکیاں لکھتا ہے اور جب تو کوئی ایک بدی کرتا ہے تو بائیں ہاتھ والا فرشتہ کہتا ہے : میں اس کو لکھ لوں تو دائیں ہاتھ والا کہتا ہے (ابھی ٹھہرو) شاید یہ توبہ و استغفار کرلے۔ جب تین بار ایسا کہہ چکتا ہے تو دائیں ہاتھ والا فرشتہ کہتا ہے : اچھا ‘ اب لکھ لو۔ اللہ اس سے ہم کو بچائے ‘ یہ برا ساتھی ہے۔ نہ اس کو اللہ کا پاس ولحاظ ہے نہ اللہ سے شرم۔ اللہ فرماتا ہے : ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتیدٌ بندہ کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالتا مگر ایک محافظ تیار اس کے پاس (لکھنے کیلئے) موجود رہتا ہے (جو لکھ لیتا ہے) اور دو فرشتے تیرے آگے پیچھے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے : لَہٗ مُعْقِّبٰتٌ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اور ایک فرشتہ تیری پیشانی پر مسلط ہے ‘ جب تو اللہ کیلئے اس کو نیچے رکھتا ہے تو وہ تجھے سربلند کرتا ہے اور اگر تو غرور کرتا ہے تو وہ تجھے شکستہ کردیتا ہے (ذلیل کردیتا ہے) اور دو فرشتے تیرے لبوں پر مامور ہیں۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ تو نبی پر جو درود پڑھے ‘ اس کی نگہداشت کریں اور ایک فرشتہ تیرے منہ کا محافظ ہے کہ سانپ (وغیرہ) کو منہ میں داخل ہونے نہیں دیتا اور دو فرشتے تیری دونوں آنکھوں پر مامور ہیں۔ یہ ہر آدمی کے دس فرشتے ہوئے۔ رات کے فرشتے دن کے فرشتوں پر اترتے ہیں کیونکہ رات کے فرشتے دن کے فرشتوں سے الگ ہیں۔ پس ہر آدمی کیلئے بیس فرشتے ہیں اور ابلیس دن میں ہے اور اس کی اولاد رات کو آتی ہے (از مفسر قدس سرہٗ )]
بغوی نے صحیح سند سے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے جاتے رہتے ہیں۔ فجر اور عصر کی نماز میں دونوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ رات بھر جو فرشتے تم میں رہتے ہیں (فجر کو) جب وہ چڑھ جاتے ہیں تو ان کا رب باوجودیکہ بخوبی واقف ہوتا ہے ‘ پھر بھی فرشتوں سے پوچھتا ہے : تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : ان کو ہم نے نماز پڑھتے چھوڑا اور جب ہم پہنچے تھے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ یعنی چھپنے والے اور ظاہر ہونے والوں میں سے ہر ایک کے آگے۔
وَمِنْ خَلْفِہٖ یعنی اس کے (باقی) اطراف میں (حضرت مفسر کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ خَلْف سے مراد صرف پیچھے کا رخ کا نہیں بلکہ دایاں بایاں رخ بھی اس میں شامل ہے کیونکہ دائیں بائیں رخ سے حفاظت کرنے پر بھی تو فرشتے مقرر ہیں) ۔
یَحْفَظُوْنَہٗ یعنی اگر تقدیری وقت اور حکم نہیں آیا ہے تو حفاظت کرتے ہیں اور تقدیر کا لکھا آچکا ہے تو بندے کو چھوڑ کر الگ ہوجاتے ہیں۔
مجاہد نے کہا : ہر بندے پر ایک فرشتہ موکل (مقرر) ہے جو سوتے جاگتے اس کی حفاظت کرتا ہے اور ہر جن و انس اور کیڑے مکوڑے سے اس کی نگہداشت کرتا ہے۔ جو (ضرر رساں) چیز بھی بندے پر آنا چاہتی ہے ‘ فرشتہ اس سے کہتا ہے : ہٹ ‘ پرے جا۔ ہاں اللہ ہی کا حکم کسی چیز کے آ پہنچنے کو ہوتا ہے تو وہ چیز پہنچ جاتی ہے۔ کعب احبار نے کہا : اگر اللہ فرشتوں کو تم پر مامور نہ کردیتا جو کھانے پینے اور برہنگی کے وقت تمہارے قریب رہتے ہیں تو جنات تم کو جھپٹ لیتے۔ یا یَحْفَظُوْنَہٗ سے مراد ہے کہ آدمی کے اعمال کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس مطلب پر معقبات سے مراد ہوں گے وہ دو فرشتے جو دائیں بائیں ہاتھ پر بیٹھے نیکیاں اور بدیاں لکھتے رہتے ہیں (اور چونکہ یہ فرشتے چار ہیں ‘ دو دن کے اور دو رات کے ‘ اسلئے معقبات بصیغۂ جمع فرمایا۔ مترجم)
ا اللہ نے فرمایا ہے : اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ۔ ابن جریج نے کہا : یعنی آدمی پر اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں۔
مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ کے دونوں ترجمے ہوسکتے ہیں : وہ فرشتے آگے پیچھے آتے جاتے رہتے ہیں اللہ کے حکم سے۔ یا بندہ کی حفاظت کرتے ہیں اللہ کے حکم کی وجہ سے۔ اوّل مطلب پر معقبات کی صفت ہوگی اور دوسرے مطلب پر یحفظون سے اس کا تعلق ہوگا۔ یا اَمْرِ اللّٰہِ سے مراد ہے : اللہ کا عذاب ‘ یعنی اللہ کے عذاب سے بندے کو بچاتے ہیں ‘ اس کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں ‘ مہلت طلب کرتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا : مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ میں مِنْ بمعنی باء ہے ‘ یعنی اللہ کے حکم کے سبب اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
بعض کے نزدیک معقبات سے مراد وہ آدمی ہے جو بادشاہ کے گرداگرد اس کی حفاظت کیلئے مقرر ہوتے ہیں اور بادشاہ اپنی خام خیالی کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ اللہ کے جاری کردہ فیصلہ سے وہ مجھے بچا لیں گے۔
بغوی نے لکھا ہے : یہ بھی کہا گیا ہے کہ لَہٗ معقبات میں لَہٗ کی ضمیر محمد ﷺ کی طرف راجع ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کیلئے اللہ کی طرف سے کچھ فرشتے مقرر ہیں جو آپ کے آگے پیچھے رہتے ہیں اور شیاطین ‘ جن و انس کے شر اور حوادث لیل و نہار سے آپ کی حفاظت کرتے ہیں۔
عبدالرحمن بن زید نے کہا : اس آیت کا نزول عامر بن طفیل اور اربد بن ربیعہ کے سلسلہ میں ہوا۔ کلبی نے بروایت ابوصالح حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ عامر بن طفیل عامری اور اربد بن ربیعہ عامری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادے سے چلے۔ رسول اللہ ﷺ مسجد کے اندر صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے۔ دونوں مسجد میں داخل ہوئے۔ عامر بن طفیل کانا تھا مگر تھا بہت ہی حسین۔ خوبصورتی کی وجہ سے لوگ نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔ ایک شخص نے عرض کیا : یہ عامر بن طفیل آپ کی طرف آ رہا ہے۔ فرمایا : آنے دو ‘ اگر اللہ کو اس کی بھلائی منظور ہوگی تو اس کو ہدایت کر دے گا۔ عامر آکر کھڑا ہوگیا اور بولا : محمد ﷺ اگر میں مسلمان ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ فرمایا : جو دوسرے مسلمانوں کے حقوق و فرائض ہوں گے ‘ وہی تمہارے ہوں گے (یعنی نفع و نقصان میں تم مسلمانوں کے برابر کے شریک ہوجاؤ گے) کہنے لگا : اپنے بعد یہ حکومت میرے سپرد (کرنے کا وعدہ) کرو (تو میں مسلمان ہوجاؤں) حضور ﷺ نے فرمایا : اس کا اختیار مجھے نہیں ‘ یہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جس طرح چاہے کرے۔ کہنے لگا : تو آپ صحرائیوں (بدویوں اور خانہ بدوشوں) پر مجھے حاکم بنا دیں اور شہریوں (گھروں میں رہنے والوں) پر آپ حاکم رہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ بھی نہیں ہوسکتا۔ بولا : پھر آپ مجھے کیا دیں گے ؟ فرمایا : میں گھوڑوں کی لگامیں تم کو سپرد کر دوں گا جن پر سوار ہو کر تم جہاد کرو گے۔ بولا : کیا آج تک میرے پاس یہ نہیں ہیں (یعنی گھوڑے تو میرے پاس موجود ہیں جن پر سوار ہو کر میں جنگ کرتا ہوں) اچھا ‘ آپ میرے ساتھ اٹھ کر آئیں ‘ میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ اٹھ کر اس کے ساتھ ہو لئے۔ عامر نے اربد سے کہہ دیا تھا کہ جب تو مجھے محمد ﷺ کے ساتھ باتوں میں مشغول دیکھے تو ان کے پیچھے سے آکر تلوار سے حملہ کردینا۔ چناچہ عامر جب رسول اللہ ﷺ سے کچھ جھگڑا اور گفتگو میں لوٹ پلٹ کرنے لگا تو اربد حملہ کرنے کے ارادے سے گھوم کر حضور ﷺ کے پیچھے آگیا اور ایک بالشت تلوار نیام سے کھینچ بھی لی لیکن اللہ نے اس کو روک دیا اور وہ پوری تلوار نہ کھینچ سکا ‘ عامر اس کی طرف اشارے بھی کرتا رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے جو منہ پھیر کر اربد کو دیکھا اور تلوار نکالنے (کی کوشش) میں مشغول پایا تو دعا کی : اے اللہ ! جس طرح تو چاہے میری طرف سے ان کا کام تمام کر دے (یعنی مجھے ان کا تدارک نہ کرنا پڑے ‘ تو غیب سے ان کو ختم کر دے) اس روز ابر نام کو نہ تھا ‘ دن سخت گرمی کا تھا اور فضا صاف تھی لیکن یکدم اربد پر بجلی ٹوٹ پڑی اور اس کو سوختہ کردیا۔ عامر پیٹھ پھیر کر بھاگا اور کہنے لگا : محمد ﷺ تو نے اپنے رب سے دعا کی ‘ اس نے اربد کو مار ڈالا۔ خدا کی قسم ! میں تیرے اوپر اتنے کم مو گھوڑے اور نوجوان (سوار) چڑھا کر لاؤں گا کہ اس سارے میدان کو (فوج سے) بھر دوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تجھے ایسا کرنے ہی نہ دے گا اور قبیلہ کی دو شاخیں یعنی قبائل اوس و خزرج بھی تجھے ایسا نہ کرنے دیں گے (ان کی موجودگی میں تو کچھ نہیں کرسکتا) ۔ غرض عامر جا کر ایک سلولیہ عورت کے گھر جا کر اترا اور صبح کو اٹھ کر ہتھیار باندھے ‘ چہرہ کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ گھوڑے پر سوار ہو کر گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور دوڑتا ہوا صحرا میں پہنچا اور غرور سے کہنے لگا : اے موت کے فرشتے ! میرے سامنے نکل کر آ۔ پھر کچھ شعر پڑھنے لگا اور بولا : قسم ہے لات و عزٰی کی ! اگر دوپہر تک میں محمد ﷺ اور اس کے ساتھی یعنی ملک الموت تک پہنچ گیا تو اپنا یہ برچھا دونوں کے آرپار کر دوں گا۔ اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا جس نے اپنے پَر کی ایک جھپٹ اس کے منہ پر رسید کی اور عامر چکرا کر زمین پر گرپڑا اور اسی وقت اس کے زانو پر ایک بڑی گلٹی نکل آئی۔ مجبوراً سلولیہ عورت کے گھر لوٹ آیا اور کہنے لگا : اونٹ کی گلٹی کی طرح گلٹی اور سلولیہ عورت کے گھر میں موت۔ پھر گھوڑا منگوا کر سوار ہوا اور دوڑاتا ہوا چل دیا ‘ آخر گھوڑے کی پشت پر ہی مرگیا۔ اس طرح اللہ نے رسول ﷺ کی دعا قبول فرمائی۔
عامر طاعون سے مرا اور اربدبجلی سے ہلاک ہوا اور اسی واقعہ کے سلسلہ میں اللہ نے نازل فرمایا : سَوَاءٌ مِّنْکُمْ مَنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَھَرَبِہٖ وَمَنْ ھُوَ مُسْتَخُفٍ م باللَّیْلِ سَارِبٌم بالنَّھَارِ لَہٗ مُعَقِّبَاتٌ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ یعنی اللہ کے حکم سے رسول اللہ ﷺ کی حفاظت وہ فرشتے کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے آگے پیچھے ہیں۔ جیسا کہ ثعلبی نے روایت کیا۔
طبرانی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ اربد بن قیس اور عامر بن طفیل مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عامر نے کہا : محمد ﷺ اگر میں مسلمان ہوجاؤں تو آپ مجھے کیا دیں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : جو مسلمانوں کا فائدہ ہوگا ‘ وہ تمہارا بھی ہوگا اور جو مسلمانوں پر فرض ہوگا ‘ وہ تم پر بھی ہوگا۔ عامر نے کہا : کیا اپنے بعد آپ میرے لئے یہ حکومت مقرر کردیں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : یہ نہ تم کو ملے گی نہ تمہاری قوم کو۔ یہ سن کر عامر نے اربد سے (چپکے سے) کہا : میں محمد ﷺ کو باتوں میں لگا لوں گا ‘ تم تلوار سے ان پر حملہ کردینا۔ غرض اس کے بعد دونوں لوٹ گئے (چلتے وقت) عامر نے کہا : محمد ﷺ ذرا میرے ساتھ اٹھ کر چلو۔ حضور ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور کھڑے اس سے باتیں کرنے لگے۔ اربد نے تلوار سونت لی اور قبضہ پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ ہاتھ سوکھ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے گردن پھیر کر اس کو دیکھ لیا پھر دونوں کو چھوڑ کر آپ واپس چلے آئے۔ دونوں چلے گئے ‘ جب مقام رقم میں پہنچے تو بحکم خدا اربد پر بجلی ٹوٹ پڑی اور بجلی نے اس کو ہلاک کردیا۔ اس پر اللہ نے آیات اللہ یعلم ما تحمل کل اُنْثٰی ......... شدید المحال تک نازل فرمائیں (ثعلبی اور طبرانی کی روایات میں فرق یہ ہے کہ ثعلبی کی روایت میں اربد بن ربیعہ آیا ہے اور طبرانی کی روایت میں اربد بن قیس۔ ثعلبی کی روایت میں عامر کا طاعون سے ہلاک ہونا مذکور ہے اور طبرانی کی روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ ثعلبی کی روایت میں بہت زیادہ تفصیل ہے اور طبرانی کی روایت مختصر ہے وغیرہ۔ مترجم)
ان اللہ لا یغیر ما یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم واذا اراد اللہ بقوم سوء فلا مردلہ وما لھم من دونہ من وال حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کی (اچھی) حالت کو (بری حالت سے) نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی (اچھی) حالت کو نہیں بدلتے اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت ڈالنا چاہتا ہے تو پھر اس کے ہٹنے کی کوئی صورت نہیں اور کوئی اللہ کے سوا ان کا مددگار نہیں رہتا۔
مَا بِقَوْمٍ یعنی کسی قوم کی عافیت اور نعمت کو نہیں بدلتا۔ مَا بِاَنْفُسِھِمْ یہاں تک کہ وہ اپنے اچھے احوال کی جگہ برے احوال اختیار نہ کرلیں۔
وَاِذَآ اَرَاد اللّٰہُ بِقَوْمٍ یعنی اپنے اچھے احوال کو خود اپنے ہاتھوں بگاڑ دینے کے بعد جب اللہ ان پر مصیبت ڈالنا چاہتا ہے ‘ عذاب دینا اور تباہ کرنا چاہتا ہے۔ فَلاَ مَرَدَّ لَہٗ تو اس کو کوئی لوٹانے والا نہیں۔ مَرَدٌّ مصدر ہے بمعنی اسم فاعل مِنْ وَّالٍ کارساز ‘ مددگار کہ مصیبت کو دفع کرسکے۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ ارادۂ خداوندی کے خلاف ہونا محال ہے (یہی مسلک اہلسنّت کا ہے۔ معتزلہ قائل ہیں کہ جس طرح حکم خداوندی کی خلاف ورزی ممکن بلکہ واقع ہے ‘ اسی طرح اللہ کے ارادہ و مشیّت کی خلاف ورزی بھی ہوسکتی ہے۔ مترجم)
Ayah 13:12ھو الذی یریکم البرق خوفا وطمعا وینشیء السحاب الثقال وہ ہی تو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کیلئے بجلی دکھاتا ہے اور بھاری بھاری (پانی سے بھرے ہوئے) بادل اٹھاتا ہے۔ یعنی کڑک کا خوف ‘ سفر میں بارش کے ضرر کا خوف۔ بعض وقت کھیتی تباہ ہونے کا خوف اور بعض مکانوں کے گر جانے کا خوف اور گرمی کو دور کرنے اور کھیتی اور پھلوں اور درختوں کو فائدہ پہنچنے کی امید۔ سحاب ‘ سحابۃٌ کی جمع ہے ‘ بادل (سَحْبٌ کھینچنا ‘ اِلسِّحَابٌ کھچنا) ہوا کے ساتھ فضا میں بادل کھچ کر آتے ہیں ‘ اسی لئے ان کو سحاب کہا جاتا ہے۔ کذا فی القاموس۔ بیضاوی نے سحاب کو اسم جمع کہا ہے۔
ثقال، ثقلیۃ کی جمع ہے (بھاری) یعنی بارش سے بھرے ہوئے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : بادل پانی کی چھلنی ہے۔
Ayah 13:13ویسبح الرعد بحمدہ والملائکۃ من خفیفتہ اور اس کے خوف سے رعد اور دوسرے فرشتے اس کی پاکی اس کی تعریف کے ساتھ ساتھ بیان کرتے ہیں۔ یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتے ہیں۔ ترمذی اور نسائی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا اور ترمذی نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے رعد کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا : وہ ایک فرشتہ ہے جو بادل پر مامور ہے۔ اس کے پاس آگ کے کوڑے ہوتے ہیں جن سے بادلوں کو ہنکاتا ہے۔ (1) [ ترمذی ‘ احمد اور نسائی نے بیان کیا اور ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہودیوں نے حاضرہو کر رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا : بتائیے رعد کیا ہے ؟ فرمایا : بادل کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے۔ جس طرف اللہ حکم دیتا ہے ‘ وہ بادل کو ہنکاتا ہے۔ بولے : یہ آواز کیسی ہوتی ہے جو ہم کو سنائی دیتی ہے ؟ فرمایا : یہ اس کی آواز ہوتی ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک فرشتہ ابر پر مامور ہے جو نافرمان بادلوں کو جمع کرتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں کوڑا ہے۔ جب وہ کوڑا اٹھاتا ہے تو چمک پیدا ہوجاتی ہے ‘ جب ڈانٹتا ہے تو گرج پیدا ہوتی ہے اور جب مارتا ہے تو بجلی گرتی ہے (از مفسر قدس سرہٗ )]
مِنْ خِیْفَتِہٖ اللہ کے خوف سے۔ خِیْفَتِہٖ کی ضمیر اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ بعض نے کہا : الملائکہ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو رعد کے مددگار اور اس کے زیر حکم ہیں۔ اس صورت میں مِنْ خِیْفَتِہٖ کی ضمیر رعد کی طرف لوٹائی جاسکتی ہے ‘ یعنی رعد کے خوف سے اس کے مددگار تسبیح کرتے ہیں۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : جو شخص رعد کی آواز سن کر سُبْحَانَ الَّذِیْ یُسَبِّح الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلاآءِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ پڑھے اور (بالفرض) اس پر بجلی گرپڑے تو وہ اپنے دین (اسلام) پر مرے گا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رعد کی آواز سن کر باتیں کرنا چھوڑ دیتے تھے اور کہتے تھے : سُبْحَانَ مَنْ یُسَبِّح الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلاآءِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ اور فرماتے تھے : یہ زمین والوں کیلئے سخت دھمکی ہے۔
جویبر نے ضحاک کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : رعد (فرشتہ) بادلوں پر مامور ہے۔ جہاں حکم ہوتا ہے ‘ بادلوں کو چلاتا ہے اور پانی کے سمندر اس کے انگوٹھے کے گڑھے میں (بھرے ہوئے) ہیں اور وہ اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے اور جب وہ پاکی بیان کرتا ہے تو آسمان کا کوئی فرشتہ ایسا باقی نہیں رہتا جو اس کی تسبیح کے ساتھ خود بھی بلند آواز سے تسبیح نہ کرے۔ اس وقت بارش اترتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے رب نے فرمایا : اگر میرے بندے میرے حکم پر چلتے تو میں رات میں ان کو بارش سے سیراب کرتا اور دن میں ان پر دھوپ نکال دیتا (تاکہ ان کے کاروبار کا نقصان نہ ہو۔ مترجم) اور ان کو رعد کی آواز بھی نہ سناتا (کہ وہ خوف زدہ ہوجائیں) رواہ احمد بسند صحیح والحاکم۔ بیضاوی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا کہ اس کو سننے والے تسبیح اور تحمید کرتے ہیں اور پکار کر کہتے ہیں : سُبْحَان اللّٰہُ وَالْحَمْدُللّٰہِ ۔ یا یہ مطلب ہے کہ رعد تسبیح کرتا ہے ‘ یعنی بادل کی گرج اللہ کی وحدانیت اور کمال قدرت پر دلالت کرتی ہے اور اس کے فضل و نزول رحمت کا بھی اظہار کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ مطلب اس وقت ہوگا جب رعد کا فرشتہ ہونا ثابت نہ ہو۔
ویرسل الصوا عق فیصیب بھا من یشاء اور وہ بجلیاں بھیجتا اور جس پر چاہتا ہے ‘ ان کو گراتا ہے۔ صواعق صاعقہ کی جمع ہے۔ صاعقہ ہلاک کرنے والی بجلی۔ یہاں مراد ہے : ٹوٹ کر گرنے والی بجلی کہ جس پر گرتی ہے ‘ اس کو سوختہ کردیتی ہے۔
وھم یجادلون فی اللہ اور وہ اللہ کے بارے میں (ا اللہ کے رسول ﷺ سے) جھگڑتے ہیں۔ یعنی اللہ کی توحید ‘ اللہ کی قدرت کاملہ ‘ اللہ کے علم محیط اور لوگوں کے دوبارہ پیدا ہونے اور سزا و جزا دئیے جانے کے متعلق اللہ کے رسول سے جھگڑتے ہیں۔ جدال جھگڑے میں سختی کرنا۔ یہ لفظ جدل سے بنا ہے ‘ جدل کا معنی ہے : قتل کردینا۔ یعنی اللہ کی صفات کمالیہ کی تو یہ نشانیاں ہیں جو اوپر ذکر کردی گئیں اور اس حالت میں بھی یہ لوگ جھگڑتے ہیں اور اس کے وجود و کمال قدرت کا انکار کرتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت محمد بن علی باقر نے فرمایا : بجلی مسلم وغیر مسلم سب پر گرتی ہے مگر ذکر کرنے والے مسلم پر نہیں گرتی۔
نسائی اور بزار نے حضرت انس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو دور جاہلیت کے کسی بڑے آدمی کے پاس دعوت ایمان دینے کیلئے بھیجا۔ اس شخص نے کہا : جس رب کی طرف تو مجھے بلا رہا ہے ‘ وہ کس چیز کا ہے : لوہے کا ہے ‘ تانبے کا ہے ‘ چاندی کا ہے ‘ سونے کا ہے ؟ صحابی نے واپس آکر رسول اللہ ﷺ کو جواب سنا دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے دوسری بار اور تیسری بار بھیجا (اور اس شخص نے وہی جواب دیا) اس کے بعد اللہ نے اس پر ایک بجلی گرا دی جس سے وہ سوختہ ہو کر رہ گیا اور یہ آیت نازل ہوئی : وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآء الخ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول اربد بن ربیعہ کے حق میں ہوا تھا۔ اربد نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا : تمہارا رب کس چیز کا ہے : موتی کا ہے ‘ یاقوت کا ہے یا سونے کا ہے ؟ اس پر آسمان سے ایک بجلی گری جس نے اربد کو جلا دیا۔
حسن بصری سے جب آیت وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَالخ کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا : عرب کے شیطانوں (بڑے مشرکوں) میں سے ایک شخص تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اللہ اور رسول کی طرف بلانے کیلئے چند آدمیوں کو بھیجا۔ وہ بولا : محمد ﷺ کا رب جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ‘ بتاؤ کس چیز کا بنا ہوا ہے : سونے کا ہے ‘ چاندی کا ہے ‘ لوہے کا ہے ‘ تانبے کا ہے ؟ ان لوگوں نے اس کے قول کو بڑی گستاخی سمجھا اور واپس آکر خدمت گرامی میں عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے ہم کو ایسے آدمی کے پاس بھیجا کہ اس سے بڑھ کر کافر دل اور اللہ کا سرکش اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کے پاس پھر جاؤ۔ حسب الحکم صحابہ دوبارہ گئے۔ اس شخص نے پہلی مرتبہ سے بھی زیادہ گستاخانہ کلام کیا اور بولا : محمد ﷺ کے کہنے سے میں ایسے رب کو مان لوں جو نہ مجھے دکھائی دیتا ہے نہ میں اس کو پہچانتا ہوں ؟ صحابہ لوٹ آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس نے تو پہلی بات سے بھی زیادہ بری بات کہی۔ فرمایا : پھر لوٹ کر جاؤ۔ صحابہ پھر لوٹ کر گئے۔ اس سے گفتگو کر ہی رہے تھے اور وہ اپنی سابقہ بات کہہ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک بدلی اٹھی اور سب کے سروں پر آگئی اور اس میں گرج اور چمک پیدا ہوئی اور ایک کڑک اس شخص پر گر پڑی اور سب کے سامنے وہ سوختہ ہوگیا۔ صحابہ دوڑتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دینے آئے۔ راستے میں صحابہ کی ایک جماعت اور مل گئی اور انہوں نے کہا : وہ آدمی جل گیا ؟ لوٹ کر آنے والوں نے دریافت کیا : تم کو کیسے معلوم ہوا ؟ جماعت صحابہ نے کہا : اللہ نے اپنے رسول کے پاس وحی بھیجی اور یہ آیت نازل فرمائی : وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآءُ وَھُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰہِ ۔
وھو شدید المحال حالانکہ وہ بڑی سخت قوت والا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : حسن بصری نے اس کا ترجمہ کیا : سخت کینہ والا اور مجاہد نے کہا : سخت قوت والا اور ابوعبیدہ نے کہا : سخت سزا دینے والا۔ بعض نے کہا : سخت تدبیر اور مقابلہ کرنے والا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : محال بروزن کتاب : مکر ‘ خفیہ تدبیر سے کسی کام کو کرنے کا ارادہ ‘ تدبیر ‘ قدرت ‘ جھگڑا ‘ عذاب ‘ سزا ‘ دشمنی ‘ قوت ‘ شدت ‘ ہلاک ہونا ‘ ہلاک کرنا ‘ ان معانی میں سے اکثر اس جگہ مراد لئے جاسکتے ہیں۔ محال کا وزن فعال ہے (میم اصلی ہے) مَحْل سے مشتق ہے۔ بعض نے کہا : محال کا وزن مفعل ہے (میم اصلی نہیں) اس وقت حول یا حیلہ یا حیلولۃ سے برخلاف قیاس مشتق ہوگا۔ اسی بناء پر حضرت ابن عباس نے اس کا ترجمہ کیا : شدید الحول اور حضرت علی نے فرمایا : سخت پکڑ والا۔