Ayah 13:15 یعنی جو کچھ اس سورت میں پڑھا جانے والا ہے وہ عظیم الشان کتاب کی آیتیں ہیں۔ یہ کتاب جو آپ پر پروردگار کی طرف سے اتاری گئی۔ یقینا حق و صواب ہے لیکن جائے تعجب ہے کہ ایسی صاف اور واضح حقیقت کے ماننے سے بھی بہت لوگ انکار کرتے ہیں۔
Ayah 13:26 یعنی اس دنیا کی ایسی عظیم الشان، بلند اور مضبوط چھت خدا نے بنائی جسے تم دیکھتے ہو۔ اور لطف یہ ہے کہ کوئی ستون یا کھمبہ یا گرڈر دکھائی نہیں دیتا۔ جس پر اتنی بڑی ڈاٹ کھڑی کی گئی بجز اس کے کیا کہا جائے کہ محض قدرت کے غیر مرئی ستون کے سہارے اس کا قیام ہے۔ ( وَيُمْسِكُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ) 22 ۔ الحج :65) کشش اجسام کا نظریہ اگر صحیح ہو تو وہ اس آیت کے منافی نہیں۔ کیونکہ کشش کو عرفاً عمد نہیں کہتے اور اگر عمد کہا جائے تو مرئی نہیں ہے۔ " رُوِیَ عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ وَمُجَاہِدٍ وَالْحَسَنِ وَقَتَادَۃَ وَغَیْرِ وَاحِدٍ اَنَّہُمْ قَالُوْا لَہَا عُمُدٌ وَلٰکِنْ لَا نَرٰی۔ " (ابن کثیر) یعنی ان بزرگوں نے فرمایا کہ آسمانوں کے ستون ہیں جو ہم کو نظر نہیں آتے۔ واللہ اعلم۔
7 استویٰ علی العرش، کے متعلق " سورة اعراف " آٹھویں پارہ کے آخر میں کلام کیا گیا ہے۔ وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
1 یعنی سورج اپنا دورہ ایک سال میں اور چاند ایک ماہ میں پورا کرتا ہے۔ یا " لِاَجَلٍ مُّسَمًّی " کے معنی وقت مقرر تک کے لیے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ چاند سورج اسی طرح چلتے رہیں گے قیامت تک۔
2 یعنی جس نے ایسی عظیم مخلوقات کو پیدا کیا اسے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ نیز ایک باخبر، مدبر، بیدار مغز اور طاقتور گورنمنٹ باغیوں اور مجرموں کو ہمیشہ کے لیے یوں ہی آزاد نہیں چھوڑے رکھتی۔ نہ وفادار امن پسند رعایا کی راحت رسانی سے اغماض کرسکتی ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ خداوند قدوس جو زمین و آسمان کے تخت کا تنہا مالک اور اپنی تدبیر و حکمت سے تمام مخلوقات علوی و سفلی کا انتظام باحسن اسلوب قائم رکھنے والا ہے مطیع و عاصی کو یوں ہی مہمل چھوڑے رکھے۔ ضرور ہے کہ ایک دن وفاداروں کو وفاداری کا صلہ ملے اور مجرم اپنی سزا کو پہنچیں۔ پھر جب اس زندگی میں مطیع و عاصی کے درمیان ہم ایسی صاف تفریق نہیں دیکھتے تو یقینا ماننا پڑے گا کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے جس میں سب کو آسمانی عدالت کے سامنے حاضر ہو کر عمر بھر کے اعمال کا پھل چکھنا ہوگا۔
Ayah 13:33 یعنی پہاڑ جو ایک جگہ کھڑے ہیں اور دریا جو ہر وقت چلتے رہتے ہیں۔
4 یعنی چھوٹا، بڑا، کھٹا، میٹھا، سیاہ وسفید، گرم سرد اور جدید تحقیق کے موافق ہر ایک میں نرو مادہ بھی پائے جاتے ہیں۔
5 اس کے معنی سورة اعراف میں آٹھویں پارے کے خاتمہ پر بیان ہوچکے وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 13:46 بلند آسمانوں کے مقابل پست زمین کا ذکر کیا۔ آسمان کے ساتھ چاند سورج کا بیان ہوا تھا کہ ہر ایک کی رفتار الگ ہے اور ہر ایک کا کام جداگانہ ہے۔ ایک کی گرم و تیز شعاعیں جو کام کرتی ہیں دوسرے کی ٹھنڈی اور دھیمی چاندنی سے وہ بن نہیں پڑتا۔ اسی طرح یہاں زمین کے مختلف احوال اور اس سے تعلق رکھنے والی مختلف چیزوں کا ذکر فرمایا۔ کہیں پہاڑ کھڑے ہیں کہیں دریا رواں ہیں، جو میوے اور پھل پیدا ہوتے ہیں ان میں بھی شکل، صورت، رنگ، مزہ، چھوٹے بڑے بلکہ نر و مادہ کا اختلاف ہے۔ کبھی زمین دن کے اجالے سے روشن ہوجاتی ہے کبھی رات کی سیاہ نقاب منہ پر ڈال لیتی ہے پھر طرفہ تماشا یہ ہے کہ چند قطعات زمین جو ایک دوسرے سے متصل ہیں، ایک پانی سے سیراب ہوتے ہیں، ایک سورج کی شعاعیں سب کو پہنچتی ہیں ایک ہی ہوا سب پر چلتی ہے اس کے باوجود اس قدر مختلف پھول پھل لاتے ہیں اور باہم پیداوار کی کمی زیادتی کا اتنا فرق ہوتا ہے جو دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کردیتا ہے۔ غور و فکر کرنے والے ان نشانوں کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ ایک ہی ابر رحمت کی آبیاری یا ایک ہی آفتاب ہدایت کی موجودگی میں انسانوں کے مادی و روحانی احوال کا اختلاف بھی کچھ مستبعد و مستنکر نہیں ہے۔ اور یہ کہ لا محدود قدرت کا کوئی زبردست ہاتھ آسمان سے زمین تک تمام مخلوق کے نظام ترکیبی کو اپنے قبضہ میں لیے ہوئے ہے۔ جس نے ہر چیز کی استعداد کے موافق اس کے دائرہ عمل و اثر کی بہت مضبوط حد بندی کر رکھی ہے۔ پھر ایسے لا متناہی قدرت و اختیار رکھنے والے خدا کو کیا مشکل ہے کہ ہم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دے اور اس عالم کے مخلوط عناصر کی کیمیاوی تحلیل کر کے ہر خیرو شر کو اس کے مستقر میں پہنچا دے۔
Ayah 13:57 یعنی اس سے زیادہ عجیب بات کیا ہوگی کہ جس نے اول ایک چیز بنائی وہ دوبارہ بنانے پر قادر نہ ہو ؟ (العیاذ باللہ)
8 گویا یہ لوگ " بعث بعد الموت " کا انکار کر کے خداوند قدوس کی شہنشاہی سے منکر ہیں۔ تو ایسے باغیوں کا انجام یہ ہی ہونا ہے کہ گلے میں طوق اور ہاتھ پاؤں میں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر ابدی جیل خانہ میں ڈال دیے جائیں جو حقیقت میں ایسے مجرموں کے لیے بنایا گیا ہے۔
Ayah 13:69 یعنی حق کو قبول نہیں کرتے جس سے دنیا و آخرت کی بھلائی ملے کفر اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں عذاب لے آؤ۔
1 یعنی پہلے بہتیری قوموں پر عذاب آچکے ہیں۔ تم پر لے آنا کیا مشکل تھا، بات صرف اتنی ہے کہ تیرا پروردگار اپنی شان حلم و عفو سے ہر چھوٹے بڑے جرم پر فورًا گرفت نہیں کرتا۔ وہ لوگوں کے ظلم و ستم دیکھتا اور درگزر کرتا رہتا ہے حتی کہ جب مظالم اور شرارتوں کا سلسلہ حد سے گزر جاتا ہے اس وقت اس کے تباہ کن عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہتی۔
Ayah 13:72 یعنی جو نشانی ہم مانگتے ہیں وہ کیوں نہیں اتری جسے دیکھ کر ہم ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے۔
3 یعنی آیات کا اتارنا آپ کے قبضہ میں نہیں، یہ تو خدا کا کام ہے جو آیت پیغمبر کی تصدیق کے لیے مناسب ہو دکھلائے۔ آپ کا فرض اسی قدر ہے کہ خیر خواہی کی بات سنا دیں اور برائی کے مہلک انجام سے لوگوں کو آگاہ کردیں۔ پہلے بھی ہر قوم کی طرف ہادی " راہ بتانے والا " اور نذیر ڈرانے والے آتے رہے ہیں۔ ان میں سے کسی کا یہ دعویٰ نہیں ہوا کہ جو نشان معاندین طلب کریں گے ضرور دکھلا کر رہیں گے ہاں خدا کی راہ دکھانا ان کا کام تھا وہ ہی آپ ﷺ کا ہے۔ البتہ وہ خاص خاص قوم کے لیے ہادی تھے آپ ﷺ دنیا کی ہر قوم کے لیے ہیں۔
Ayah 13:84 کہ مذکر ہے یا مونث، پورا ہے یا ادھورا، اچھا ہے یا برا، وغیر ذلک من الاحوال۔
5 یعنی حاملہ کے پیٹ میں ایک بچہ ہے یا زیادہ، پورا بن چکا ہے یا ناتمام ہے تھوڑی مدت میں پیدا ہوگا یا زیادہ میں۔ غرض پیٹ کے گھٹنے بڑھنے کے تمام اسرار و اسباب اور اوقات و احوال کو پوری طرح جانتا ہے۔ اور اپنے علم محیط کے موافق ہر چیز کو ہر حالت میں اس کے اندازہ اور استعداد کے موافق رکھتا ہے۔ اسی طرح اس نے جو آیات انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کے لیے اتاری ہیں ان میں خاص اندازہ اور مصالح و حکم ملحوظ رہی ہیں۔ جس وقت جس قدر بنی آدم کی استعداد و صلاحیت کے مطابق نشانات کا ظاہر کرنا مصلحت تھا اس میں کمی نہیں ہوئی۔ باقی قبول کرنے اور منتفع ہونے کے لحاظ سے لوگوں کا اختلاف ایسا ہی ہے جیسے حوامل کے پیٹ سے پیدا ہونے والوں کے احوال تفاوت استعداد و تربیت کی بناء پر مختلف ہوتے ہیں۔
Ayah 13:96 یہ علم الٰہی کی لا محدود وسعت و احاطہ کا بیان ہوا۔ یعنی دنیا کی کوئی کھلی چھپی چیز اس سے پوشیدہ نہیں اور تمام عالم اس کے زیر تصرف ہے۔
Ayah 13:107 علم الٰہی کا عموم بیان کر کے بلحاظ مناسبت مقام خاص احوال مکلفین کی نسبت بتلاتے ہیں کہ تمہارے ہر قول و فعل کو ہمارا علم محیط ہے۔ جو بات تم دل میں چھپاؤ یا آہستہ کہو اور جو اعلانیہ پکار کر کہو، نیز جو کام رات کی اندھیری میں پوشیدہ ہو کر کرو اور جو دن دہاڑے برسر بازار کرو، دونوں کی حیثیت علم الٰہی کے اعتبار سے یکساں ہے۔ بعض مفسرین نے آیت کو تین قسم کے آدمیوں پر مشتمل بتلایا ہے۔ " مَنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ " (جو بات کو چھپائے) " مَنْ جَہَرَبِہٖ " (جو ظاہر کرے) (وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ) 13 ۔ الرعد :10) (جو اپنا کام رات کو چھپائے مثلاً شب کو چوری کرنا اور دن کو ظاہر کرے مثلاً دن میں نمازیں پڑھنا) اللہ تعالیٰ کو سب یکساں طور پر معلوم ہیں۔
Ayah 13:118 یعنی ہر بندہ کے ساتھ خدا کے فرشتے مامور ہیں جن میں بعض اس کے سب اگلے پچھلے اعمال لکھتے ہیں اور بعضے خدا کے حکم کے موافق ان بلاؤں کے دفع کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جن سے حق تعالیٰ بندہ کو بچانا چاہتا ہے جس طرح اس عالم میں خدا کی عام عادت ہے کہ جو چیز پیدا کرنا چاہے اس کے ظاہری اسباب مہیا کردیتا ہے ایسے ہی اس نے کچھ باطنی اسباب و ذرائع پیدا کیے ہیں جن کو ہماری آنکھیں نہیں دیکھتیں لیکن مشیت الٰہی کی تنفیذ ان کے واسطہ سے ہوتی ہے۔
9 یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نگہبانی اور مہربانی سے جو ہمیشہ اس کی طرف سے ہوتی رہتی ہے کسی قوم کو محروم نہیں کرتا۔ جب تک وہ اپنی روش اللہ کے ساتھ نہ بدلے۔ جب بدلتی ہے تو آفت آتی ہے پھر کسی کے ٹالے نہیں ٹلتی۔ نہ کسی کی مدد اس وقت کام دیتی ہے (تنبیہ) یہاں قوموں کے عروج وزوال کا قانون بنایا ہے، اشخاص و افراد کا نہیں۔ قوم کی اچھی بری حالت متعین کرنے میں اکثریت اور غلبہ کا لحاظ ہوتا ہے۔
Ayah 13:1210 پہلے بندوں کی حفاظت کا ذکر تھا، پھر بد اعمالیوں سے جو آفت و مصیبت آتی ہے اس کا ذکر ہوا، معلوم ہوا کہ خدا کی ذات شان انعام و انتقام دونوں کی جامع ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں بعض ایسے نشانہائے قدرت کی طرف توجہ دلائی جن میں بیک وقت امید و خوف کی دو متضاد کیفیتیں پیدا کرنے کی صلاحیت ہے یعنی جب بجلی چمکتی ہے تو امید بندھتی ہے کہ بارش آئے گی۔ اور ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں گر کر ہلاکت کا سبب نہ بن جائے۔ بھاری بادل پانی کے بھرے ہوئے آتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے کہ باران رحمت کا نزول ہوگا، ساتھ ہی فکر رہتی ہے کہ پانی کا طوفان نہ آجائے، ٹھیک اسی طرح انسان کو چاہیے کہ رحمت الٰہی کا امیدوار رہے مگر اللہ سے مامون اور بےفکر نہ ہو۔
Ayah 13:131 یعنی گرجنے والا بادل یا فرشتہ زبان " حال " یا " قال " سے حق تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتا ہے (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ) 17 ۔ الاسراء :44) اور تمام فرشتے ہیبت و خوف کے ساتھ اس کی حمد و ثنا اور تسبیح و تمجید میں مشغول رہتے ہیں۔ (تنبیہ) " رعد " و برق " وغیرہ کے متعلق آجکل کی تحقیق یہ ہے کہ بادلوں میں " قوت کہربائیہ موجبہ " پائی جاتی ہے اور زمین میں کہربائیہ سالب۔ " جو بادل زمین سے زیادہ نزدیک ہو اس میں گاہ بگاہ زمین کی سالب کہربائیہ سرایت کر جاتی ہے۔ پھر اس بادل کے اوپر بسا اوقات وہ بادل گزرتے ہیں جن میں " کہربائیہ موجبہ " موجود ہے۔ اور یہ قاعدہ تجربہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ مختلف قسم کے " کہربائیہ " رکھنے والے دو جسم جب محاذی ہوں تو ہر ایک اپنے اندر دوسرے کی " کہربائیہ " کو جذب کرتا ہے تاکہ دونوں کی کہربائیہ متحد ہوجائے۔ اسی قاعدہ سے اوپر نیچے والے بادل جب ایک دوسرے کی قوت کہربائیہ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں تو دونوں کے مل جانے سے شدید حرارت پیدا ہوجاتی ہے۔ اور اس حرارت شدیدہ سے دونوں بادلوں کے حجم کے مناسب ایک آتشیں شعلہ اٹھتا ہے جو " صاعقہ " کہلاتا ہے اسی صاعقہ کی چمک اور روشنی " برق " کہلاتی ہے اور ہوا میں اس کے سرایت کرنے سے جو آواز نکلتی ہے وہ " رعد " ہے۔ " کہربا " کا یہ ہی آتشیں شرارہ کبھی بادلوں اور ہواؤں کو پھاڑ کر نیچے گرتا ہے جس کے نہایت عجیب و غریب افعال و آثار مشاہدہ کیے گئے ہیں، علاوہ اس کے کہ وہ مکانوں کو گراتا پہاڑوں کو شق کرتا اور جانداروں کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ اس نے نہایت احتیاط سے ایک آدمی کے بدن سے کپڑے اتار کر کسی درخت کی شاخ پر رکھ دیے ہیں مگر پہننے والے جسم کو کچھ صدمہ نہیں پہنچا۔ (دائرۃ المعارف فرید و جدی) جسے دیکھ کر خیال گزرتا ہے کہ بجلی کی اس آتشیں شعلہ میں کوئی ذی شعور اور ذی اختیار قوت غیر مرئی طریقہ سے کام کر رہی ہے۔ ہم کو ضرورت نہیں کہ اوپر بیان کیے ہوئے نظریہ کا انکار کریں۔ لیکن یہ بیان کرنے والے خود اقرار کرتے ہیں کہ " روح " کی طرح " قوت کہربائیہ " کی اصل حقیقت پر بھی اس وقت تک پردہ پڑا ہوا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) اور دوسرے ارباب کشف و شہود کا بیان یہ ہی ہے کہ تمام نظام عالم میں ظاہری اسباب کے علاوہ باطنی اسباب کا ایک عظیم الشان سلسلہ کار فرما ہے جو کچھ ہم یہاں دیکھتے ہیں وہ صرف صورت ہے لیکن اس صورت میں جو غیر مرئی حقیقت پوشیدہ ہے اس کے ادراک تک عام لوگوں کی رسائی نہیں۔ صرف باطنی آنکھ رکھنے والے اسے دیکھتے ہیں۔ آخر تم جو نظریات بیان کرتے ہو (مثلاً یہ ہی قوت کہربائیہ کا موجبہ سالبہ ہونا وغیرہ) اس کا علم بھی حکمائے طبیعیین کے سوا بلا واسطہ کس کو ہوتا ہے۔ کم ازکم اتنا وثوق انبیاء کے مشاہدات و تجربات پر کرلیا جائے تو بہت سے اختلافات مٹ سکتے ہیں۔ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ دوسرے نوامیس طبیعیہ کی طرح بادلوں اور بارشوں کے انتظامات پر بھی فرشتوں کی جماعتیں تعینات ہیں جو بادلوں کو مناسب مواقع پر پہنچانے اور ان سے حسب ضرورت و مصلحت کام لینے کی تدبیر کرتی ہیں۔ اگر تمہارے بیان کے موافق بادل اور زمین وغیرہ کی " کہربائیہ " کا مدبر کوئی غیر مرئی فرشتہ ہو تو انکار کی کون سی وجہ ہے ؟ جس کو تم " شرارہ کہربائیہ " کہتے ہو چونکہ وہ فرشتہ کے خاص تصرف سے پیدا ہوتا ہے لہذا اسے وحی کی زبان میں " مخاریق من نار " (فرشتہ کا آتشیں کوڑا) کہہ دیا گیا تو کیا قیامت ہوگئی۔ اس کی شدت اور سخت اشتعال سے جو گرج اور کڑک پیدا ہوئی اگر حقیقت کا لحاظ کرتے ہوئے اسے فرشتہ کی ڈانٹ سے تعبیر فرمایا تو یہ نہایت ہی موزوں تعبیر ہے۔ بہرحال " سائنس " نے جس چیز کی محض صورت کو سمجھا۔ " وحی " نے اس کی روح اور حقیقت پر مطلع کردیا۔ کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ دونوں کو ایک دوسرے کا حریف مقابل قرار دے لیا جائے۔ علامہ محمود آلوسی نے " بقرہ " کے شروع میں اس پر معقول بحث کی ہے۔ فلیراجع۔
2 ان جھگڑنے والوں پر عذاب کی بجلی نہ گرا دے۔ حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے عرب کے ایک متکبر رئیس کے پاس آدمی بھیجا کہ اسے بلا لاؤ۔ قاصد نے اس کو کہا کہ رسول اللہ ﷺ تجھے بلاتے ہیں کہنے لگا رسول اللہ کون ہے ؟ اور اللہ کیا چیز ہے ؟ سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا ؟ (العیاذ باللہ) تین مرتبہ یہ ہی گفتگو کی۔ تیسری مرتبہ جب وہ یہ گستاخانہ کلمات بک رہا تھا، ایک بادل اٹھا فوراً بجلی گری اور اس کی کھوپڑی سر سے جدا کردی۔ بعض روایات میں ہے کہ عامر بن طفیل اور اربد بن ربیعہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ ہم اسلام لاتے ہیں بشرطیکہ آپ کے بعد خلافت ہم کو ملے آپ نے انکار فرما دیا۔ دونوں یہ کہہ کر اٹھے کہ ہم " مدینہ " کی وادی کو آپ کے مقابلہ میں پیدل اور سواروں سے بھر دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اس کو روک دے گا اور " انصار مدینہ " روکیں گے۔ وہ دونوں چلے، راستہ میں اربد پر بجلی گری اور عامر طاعون کی گلٹی سے ہلاک ہوا۔ (فائدہ) رعد کی آواز سن کر کہنا چاہیے " سُبْحَانَ مَنْ یُّسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلَائِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہِ اَللّٰہُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِک وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِک وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِک "
Ayah 13:143 یعنی پکارنا اسی کو چاہیے جو ہر قسم کے نفع و ضرر کا مالک ہے عاجز کو پکارنے سے کیا حاصل ؟ اللہ کے سوا کون ہے جس کے قبضہ میں اپنا یا دوسروں کا نفع و ضرر ہے ؟ غیر اللہ کو اپنی مدد کے لیے بلانا ایسا ہے جیسے کوئی پیاسا کنوئیں کی من پر کھڑا ہو کر پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے اور خوشامد کرے کہ میرے منہ میں پہنچ جا۔ ظاہر ہے قیامت تک پانی اس کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں۔ بلکہ اگر پانی اس کی مٹھی میں ہو تب بھی خود چل کر منہ تک نہیں جاسکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ کافر جن کو پکارتے ہیں بعضے محض خیالات و اوہام ہیں، بعضے جن اور شیاطین ہیں، اور بعضی چیزیں ہیں کہ ان میں کچھ خواص ہیں۔ لیکن اپنے خواص کی مالک نہیں۔ پھر ان کے پکارنے سے کیا حاصل ؟ جیسے آگ یا پانی اور شاید ستارے بھی اسی قسم میں ہوں۔
Ayah 13:154 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جو اللہ پر یقین لایا خوشی سے سر رکھتا ہے اس کے حکم پر اور جو نہ یقین لایا آخر اس پر بھی بےاختیار اسی کا حکم جاری ہے اور پرچھائیاں صبح اور شام زمین پر پسر جاتی ہیں یہی ہے ان کا سجدہ۔ " مطلب یہ ہے کہ جواہر ہوں یا اعراض کوئی چیز اللہ کے حکم تکوینی سے باہر نہیں ہوسکتی۔ اس کے نفوذ و اقتدار کے سامنے سب منقاد اور سر بسجود ہیں۔ سایہ کا گھٹنا بڑھنا دائیں بائیں مائل ہونا سب اسی کے ارادہ اور مشیت سے ہے۔ صبح شام کا ذکر شاید اس لیے کیا کہ ان وقتوں میں زمین پر سایہ کا پھیلاؤ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
Ayah 13:165 یعنی جب ربوبیت کا اقرار صرف خدا کے لیے کرتے ہو پھر مدد کے لیے دوسرے حمایتی کہاں سے تجویز کرلیے۔ حالانکہ وہ ذرہ برابر نفع نقصان کا مستقل اختیار نہیں رکھتے۔
6 یعنی موحد و مشرک میں ایسا فرق ہے جیسے بینا اور نابینا میں اور توحید و شرک کا مقابلہ ایسا سمجھو جیسے نور کا ظلمت سے۔ تو کیا ایک اندھا مشرک جو شرک کی اندھیریوں میں پڑا ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہو اس مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں ایک موحد کو پہنچنا ہے جو فہم و بصیرت اور ایمان و عرفان کی روشنی میں فطرت انسانی کے صاف راستہ پر چل رہا ہے ؟ ہرگز دونوں ایک نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔
7 یعنی جیسی مخلوقات خدا تعالیٰ نے پیدا کی، کیا تمہارے دیوتاؤں نے ایسی کوئی چیز پیدا کی ہے جسے دیکھ کر ان پر خدائی کا شبہ ہونے لگا۔ وہ تو ایک مکھی کا پر اور ایک مچھر کی ٹانگ بھی نہیں بنا سکتے بلکہ تمام چیزوں کی طرح خود بھی اس اکیلے زبردست خدا کی مخلوق ہیں۔ پھر ایسی عاجز و مجبور چیزوں کو خدائی کے تخت پر بٹھا دینا کس قدر گستاخی اور شوخ چشمی ہے۔
Ayah 13:171 آسمان کی طرف سے بارش اتری جس سے ندی نالے بہہ پڑے۔ ہر نالے میں اس کے ظرف اور گنجائش کے موافق جتنا خدا نے چاہا پانی جاری کردیا چھوٹے میں کم بڑے میں زیادہ۔ پانی جب زمین پر رواں ہوا تو مٹی اور کوڑا کرکٹ ملنے سے گدلا ہوگیا۔ پھر میل کچیل اور جھاگ پھول کر اوپر آیا۔ جیسے تیز آگ میں چاندی تانبا، لوہا، اور دوسری معدنیات پگھلاتے ہیں تاکہ زیور، برتن اور ہتھیار وغیرہ تیار کریں اس میں بھی اسی طرح جھاگ اٹھتا ہے مگر تھوڑی دیر بعد خشک یا منتشر ہو کر جھاگ جاتا رہتا ہے اور جو اصلی کارآمد چیز تھی (یعنی پانی یا پگھلی ہوئی معدنیات) وہ ہی زمین میں یا زمین والوں کے ہاتھ میں باقی رہ جاتی ہے۔ جس سے مختلف طور پر لوگ منتفع ہوتے ہیں۔ یہ ہی مثال حق و باطل کی سمجھ لو۔ جب وحی آسمانی دین حق کو لے کر اترتی ہے تو قلوب بنی آدم اپنے اپنے ظرف اور استعداد کے موافق فیض حاصل کرتے ہیں۔ پھر حق اور باطل باہم بھڑ جاتے ہیں تو میل ابھر آتا ہے۔ بظاہر باطل جھاگ کی طرح حق کو دبا لیتا ہے لیکن اس کا یہ ابال عارضی اور بےبنیاد ہے۔ تھوڑی دیر بعد اس کے جوش و خروش کا پتہ نہیں رہتا۔ خدا جانے کدھر گیا۔ جو اصلی اور کارآمد چیز جھاگ کے نیچے دبی ہوئی تھی (یعنی حق و صداقت) بس وہ ہی رہ گئی دیکھو ! خدا کی بیان کردہ مثالیں کیسی عجیب ہوتی ہیں۔ کیسے موثر طرز میں سمجھایا کہ دنیا میں جب حق و باطل بھڑتے ہیں یعنی دونوں کا جنگی مقابلہ ہوتا ہے تو گو برائے چندے باطل اونچا اور پھولا ہوا نظر آئے، لیکن آخرکار باطل کو منتشر کر کے حق ہی ظاہر و غالب ہو کر رہے گا۔ کسی مومن کو باطل کی عارضی نمائش سے دھوکا نہ کھانا چاہیے۔ اسی طرح کسی انسان کے دل میں جب حق اتر جائے کچھ دیر کے لیے اوہام و وساوس زور شور دکھلائیں تو گھبرانے کی بات نہیں تھوڑی دیر میں یہ ابال بیٹھ جائے گا اور خالص حق ثابت و مستقر رہے گا۔ گزشتہ آیات میں چونکہ توحید و شرک کا مقابلہ کیا گیا تھا اس مثال میں حق و باطل کے مقابلہ کی کیفیت بتلا دی آگے دونوں کا انجام بالکل کھول کر بیان کرتے ہیں۔
Ayah 13:182 یعنی ایمان و عمل صالح اختیار کیا ان کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی ہے، حقیقی خوشی اور قلبی طمانیت و سکون ان کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔
3 یعنی یہاں تو خیر جس طرح گزرے لیکن آخرت میں ان کی حالت ایسی پریشانی اور گھبراہٹ کی ہوگی کہ اگر تمام دنیا کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہوں بلکہ اسی قدر اور بھی تو تمنا کریں گے کہ ہم یہ سب فدیہ میں دے کر اس پریشانی سے چھوٹ جائیں۔ وَاَنَّی لَہُمْ ذٰلِکَ ۔
4 یعنی حساب میں کسی قسم کی رعایت اور درگزر نہ ہوگی ایک ایک بات پر پوری طرح پکڑے جائیں گے۔
Ayah 13:195 مومن و کافر دونوں کا الگ الگ انجام ذکر فرمانے کے بعد متنبہ کرتے ہیں کہ ایسا ہونا عین عقل و حکمت کے موافق ہے۔ کوئی عقل مند یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایک نپٹ اندھا جسے کچھ نظر نہ آئے یوں ہی اناپ شناپ اندھیرے میں پڑا ٹھوکریں کھا رہا ہو، اس شخص کی برابری کرسکتا ہے جس کے دل کی آنکھیں کھلی ہیں اور پوری بصیرت کے ساتھ حق کی روشنی سے مستفید ہو رہا ہے۔
Ayah 13:206 یعنی اللہ سے جو عہد ازل میں ہوچکا ہے (عہد الست) جس پر انسان کی فطرت خود گواہ ہے اور جو انبیاء کی زبانی عہد لیے گئے ان سب کو پورا کرتے ہیں۔ کسی کو توڑتے نہیں۔ نیز بذات خود کسی معاملہ میں خدا سے یا بندوں سے جو عہد و پیمان باندھتے ہیں (بشرطیکہ معصیت نہ ہو) اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔
Ayah 13:217 یعنی صلہ رحم کرتے ہیں۔ یا ایمان کو عمل کے ساتھ یا حقوق العباد کو حقوق اللہ کے ساتھ ملاتے ہیں، یا اسلامی اخوت کو قائم رکھتے ہیں۔ یا انبیاء (علیہم السلام) میں تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں۔
8 یعنی حق تعالیٰ کی عظمت و جلال کا تصور کر کے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ دیکھئے وہاں جب ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا، کیا صورت پیش آئے گی۔
Ayah 13:221 یعنی مصائب و شدائد اور دنیا کی مکروہات پر صبر کیا۔ کسی سختی سے گھبرا کر طاعت کے راستہ سے قدم نہیں ہٹایا نہ معصیت کی طرف جھکے اور صبر و استقلال محض حق تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دکھلایا، اس لیے نہیں کہ دنیا انھیں بہت صابر اور مستقل مزاج کہے۔ نہ اس لیے کہ بجز صبر کے چارہ نہ رہا تھا مجبور ہوگئے تو صبر کر کے بیٹھ رہے۔
2 پوشیدہ کو شاید اس لیے مقدم رکھا کہ پوشیدہ خیرات کرنا افضل ہے۔ اِلاّ یہ کہ کہیں مصلحت شرعی اعلانیہ دینے میں ہو۔
3 یعنی برائی کا جواب بھلائی سے دیتے تھے۔ سختی کے مقابلہ میں نرمی برتتے ہیں۔ کوئی ظلم کرتا ہے یہ معاف کرتے ہیں (بشرطیکہ معافی سے برائی کے ترقی کرنے کا اندیشہ نہ ہو) ، بدی سے بچ کر نیکی اختیار کرتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی برا کام ہوجاتا ہے تو اس کے مقابلہ میں بھلا کام (یعنی توبہ اور اس گناہ کی تلافی) کرتے ہیں۔
Ayah 13:234 یعنی جن میں ہمیشہ رہیں گے۔
5 " آباء " کا لفظ تغلیباً کہا ہے جس میں امہات (مائیں) بھی شامل ہیں۔ یہ جنت کی بشارت کے ساتھ مزید خوشخبری سنائی کہ ایسے کاملین کو جن کی خصال اوپر بیان ہوئیں جنت میں ایک نعمت و مسرت یہ حاصل ہوگی کہ وہ اور ان کے ماں باپ، اولاد، بیویاں، جو اپنی نیکی کی بدولت دخول جنت کے لائق ہوں سب اکٹھے رہیں گے۔ حتٰی کہ ان متعلقین میں سے اگر کوئی کم رتبہ ہوگا تو حق تعالیٰ اپنی نوازش و مہربانی سے درجہ بڑھا کر اس مرد کامل سے نزدیک کر دے گا۔ (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ) 52 ۔ الطور :21) اس سے معلوم ہوا کہ بدون ایمان و عمل صالح کے محض کاملین کی قرابت کافی نہیں ہاں ایمان و عمل صالح موجود ہو تو تعلق قرابت سے کچھ ترقی درجات ممکن ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 13:246 صحیح حدیث میں جنت کے آٹھ دروازے بیان ہوئے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کاملین کی تعظیم و تکریم کے لیے خدا کے پاک فرشتے ہر طرف سے تحائف و ہدایا لے کر حاضر ہوں گے۔ احادیث میں ہے کہ خلق اللہ میں سے اول وہ فقراء مہاجرین جنت میں داخل ہوں گے جو سختیوں اور لڑائیوں میں سینہ سپر ہوتے اور رخنہ بندی کے وقت کام آتے تھے۔ جو حکم ان کو ملتا ان کی تعمیل کے لیے ہمیشہ مستعد رہتے۔ دنیا کی حاجتیں اور دل کے ارمان دل ہی میں لے کر یہاں سے رخصت ہوگئے۔ قیامت کے دن حق تعالیٰ فرمائے گا میرے وہ بندے کہاں ہیں (حاضر ہوں) جو میرے راستہ میں لڑے، میرے لیے تکلیفیں اٹھائیں اور جہاد کیا۔ جاؤ جنت میں بےکھٹکے داخل ہوجاؤ۔ پھر ملائکہ کو حکم ہوگا کہ میرے ان بندوں کے پاس حاضر ہو کر سلام کرو۔ وہ عرض کریں گے خداوندا ! ہم تیری بہترین مخلوق ہیں کیا ہم بارگاہ قرب کے رہنے والوں کو حکم دیتے ہیں کہ ان زمینی باشندوں کے پاس حاضر ہو کر سلام کریں۔ ارشاد ہوگا، ہاں یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے توحید پر جان دی، دنیا کے سب ارمان اپنے سینوں میں لے کر چلے آئے، میرے راستہ میں جہاد کیا اور ہر تکلیف کو خوشی سے برداشت کرتے رہے۔ یہ سن کر فرشتے ہر طرف سے ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور کہیں گے (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ) 13 ۔ الرعد :24) حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر سال آغاز میں قبور شہداء پر تشریف لے جاتے اور فرماتے (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ ) 13 ۔ الرعد :24) یہ ہی طرز عمل ابو بکر، عمر، اور عثمان ؓ کا رہا۔
Ayah 13:257 سعداء کے مقابل یہاں اشقیاء کی عادت و خصال اور آخری انجام بتلایا ہے۔ ان کا کام یہ ہے کہ حق تعالیٰ سے بد عہدی کریں، جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم تھا، انھیں توڑیں، ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائیں دوسروں پر اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے نہ رکیں۔ یہ ہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمت سے دور پھینک دیے گئے اور سب سے زیادہ برے مقام پر پہنچے والے ہیں۔
Ayah 13:268 یعنی دنیا کے عیش و فراخی کو دیکھ کر سعادت و شقاوت کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ نہ یہ ضروری ہے کہ جس کو دنیا میں خدا نے رزق اور پیسہ زیادہ دیا ہے وہ اس کی بارگاہ میں مقبول ہو۔ بہت سے مقبول بندے بطور آزمائش و امتحان یہاں عسرت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور مردود مجرموں کو ڈھیل دی جاتی ہے وہ مزے اڑاتے ہیں۔ یہ ہی دلیل اس کی ہے کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے جہاں ہر شخص کو اس کے نیک و بداعمال کا پورا پھل مل کر رہے گا۔ بہرحال دنیا کی تنگی و فراخی مقبول و مردود ہونے کا معیار نہیں بن سکتا۔
9 یعنی اسی کو مقصود سمجھ کر اتراتے اور اکڑتے ہیں۔ حالانکہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی محض ہیچ ہے جیسے ایک شخص اپنی انگلی سے سمندر کو چھوئے تو وہ تری جو انگلی کو پہنچی ہے سمندر کے سامنے کیا حقیقت رکھتی ہے۔ دنیا کی آخرت کے مقابل اتنی بھی حقیقت نہیں۔ لہٰذا
عقل مند کو چاہیے کہ فانی پر باقی کو مقدم رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے بذات خود مقصود نہیں۔ یہاں کے سامانوں سے اس طرح تمتع کرو جو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنے جیسے صحابہ ؓ نے کیا۔
Ayah 13:2710 سینکڑوں نشان دیکھتے تھے مگر وہ ہی مرغے کی ایک ٹانگ پکڑی ہوئی تھی کہ جو ہم کہتے جائیں وہ نشان دکھاؤ۔ مثلاً مکہ کے پہاڑوں کو ذرا اپنی جگہ سے سرکا کر کھیتی باڑی کے لیے زمین وسیع کردو۔ یا زمین کو پھاڑ کر چشمے اور نہریں نکال دو یا ہمارے پرانے بزرگوں کو دوبارہ زندہ کر کے ہم سے بات چیت کرا دو ۔ غرض کوئی نشان ایسا دکھلاؤ جو ہم کو ایمان لانے پر مجبور کر دے۔ اس کا جواب دیا کہ بیشک خدا ایسے نشان دکھلانے پر قدرت رکھتا ہے لیکن اس کی حکمت و عادت مقتضی نہیں کہ تمہاری فرمائشیں پوری کیا کرے ' پیغمبروں کی تصدیق کے لیے جس قدر ضرورت ہے اس سے زائد نشانات دکھلا چکا اور دکھارہا ہے۔ دوسرے سینکڑوں معجزات سے قطع نظر کر کے اکیلا قرآن ہی کیسا عظیم الشان نشان پیغمبر کی صداقت کا ہے۔ جب تم ان نشانوں کو دیکھ کر راہ راست پر نہ آئے اور حق کی طرف رجوع نہ ہوئے تو معلوم ہوا کہ قدیم قانون کے موافق خدا کی مشیت یہ ہی ہے کہ تم کو تمہاری پسند کردہ گمراہی میں چھوڑے رکھے۔ بلاشبہ اگر تم اتنے بڑے نشان دیکھ کر اس کی طرف رجوع ہوتے تو وہ اپنی عادت کے موافق تم کو آگے بڑھاتا اور حقیقی کامیابی تک پہنچنے کی راہیں دکھاتا۔ جب تم نے خود یہ نہ چاہا تو اس کی حکمت بھی اسی کو مقتضی ہے کہ تمہیں مجبور نہ کرے۔ پھر فرمائشی نشان دکھلانے کی کیا ضرورت رہی بلکہ نہ دکھلانے میں تمہارا فائدہ ہے کیونکہ سنت اللہ یہ ہے کہ فرمائشی نشان اسی وقت دکھلائے جاتے ہیں جب کسی قوم کا تباہ کرنا مقصود ہو۔ حدیث میں ہے کہ حق تعالیٰ نے فرمایا، اے محمد ﷺ ! اگر تم چاہو تو ہم ان کو فرمائشی نشان دکھلا دیں، اس پر بھی نہ مانیں تو ایسا عذاب بھیجا جائے گا جو دنیا میں کسی پر نہ آیا ہو۔ اور اگر تم چاہو تو رحمت و توبہ کا دروازہ کھلا رکھیں۔ آپ ﷺ نے دوسری شق کو اختیار فرمایا چناچہ یہ ہی معاندانہ فرمائشیں کرنے والے بہت سے بعد کو مسلمان ہوگئے۔
Ayah 13:281 یہ خدا کی طرف رجوع کرنے والوں کا بیان ہوا۔ یعنی ان کو دولت ایمان نصیب ہوتی ہے اور ذکر اللہ (خدا کی یاد) سے چین اور اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ سب سے بڑا ذکر تو قرآن ہے۔ (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ) 15 ۔ الحجر :9) جسے پڑھ کر ان کے دلوں میں یقین کی کیفیت پیدا ہوتی ہے شبہات اور وساوس شیطانیہ دور ہو کر سکون و اطمینان میسر آتا ہے۔ ایک طرف اگر حق تعالیٰ کی عظمت و مہابت دلوں میں خوف و خشیت پیدا کرتی ہے تو دوسری طرف لا محدود رحمت و مغفرت کا ذکر قلبی سکون و راحت کے سامان بہم پہنچاتا ہے۔ غرض ان کا دل ہر طرف سے لوٹ کر ایک خدا کی طرف جم جاتا ہے اور ذکر اللہ کا نور ان کے قلوب سے ہر طرح کی دنیاوی وحشت اور گھبراہٹ کو دور کردیتا ہے۔
2 یعنی دولت، حکومت، منصب، جاگیر یا فرمائشی نشانات کا دیکھ لینا، کوئی چیز انسان کو حقیقی سکون و اطمینان سے ہم آغوش نہیں کرسکتی۔ صرف یاد الٰہی سے جو تعلق مع اللہ حاصل ہوتا ہے وہ ہی ہے جو دلوں کے اضطراب و وحشت کو دور کرسکتا ہے۔
Ayah 13:293 مترجم محقق نے " طوبیٰ " کے لغوی معنی لیے ہیں اسی کے اندر جنت کا وہ درخت بھی آگیا جسے حدیث صحیح میں " طوبیٰ " کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔
Ayah 13:304 یعنی جس طرح ہم اپنی طرف رجوع ہونے والوں کو کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔ اسی طرح اس امت کی راہنمائی کے لیے ہم نے تجھے مبعوث کیا۔ تاکہ جو کتاب اپنی رحمت کاملہ سے تجھ پر اتاری ہے آپ ان کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کا پیغمبر بنا کر بھیجا جانا کوئی انوکھی بات نہیں پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے جا چکے ہیں جو اس وقت تکذیب کرنے والوں کا حشر ہوا ان لوگوں کو بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔
5 یعنی رحمان نے اپنی رحمت کاملہ سے قرآن اتارا " اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرآنَ " اور آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔ مگر انہوں نے سخت ناشکری اور کفران نعمت پر کمر باندھ لی۔ رحمان کا حق ماننے سے منکر ہوگئے بلکہ اس نام سے ہی وحشت کھانے لگے۔ اسی لیے " حدیبیہ " کے صلح نامہ میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے پر جھگڑا کیا (وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ ۚ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ) 25 ۔ الفرقان :60)
6 یعنی جس رحمان سے تم انکار کرتے ہو وہ ہی میرا رب ہے اور وہ ہی اللہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ (قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى) 17 ۔ الاسراء :110) میرا آغاز و انجام سب اسی کے ہاتھ میں ہے اسی پر توکل کرتا ہوں۔ نہ تمہارے انکار و تکذیب سے مجھے ضرر کا اندیشہ ہے نہ اس کی امداد و اعانت سے مایوس ہوں۔
Ayah 13:317 یہاں قرآن سے مراد عام کتاب ہے جیسا کہ ایک حدیث صحیح میں " زبور " پر لفظ قرآن کا اطلاق ہوا ہے یعنی اگر کوئی کتاب ایسی اتاری جاتی جس سے تمہارے یہ فرمائشی نشان پورے ہوجاتے تو وہ بجز اس قرآن کے اور کون سی ہوسکتی تھی۔ یہ ہی قرآن ہے جس نے روحانی طور پر پہاڑوں کی طرح جمے ہوئے لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دیا۔ قلوب بنی آدم کی زمینوں کو پھاڑ کر معرفت الٰہی کے چشمے جاری کردیے۔ وصول الی اللہ کے راستے برسوں کی جگہ منٹوں میں طے کرائے۔ مردہ قوموں اور دلوں میں ابدی زندگی کی روح پھونک دی۔ جب ایسے قرآن سے تم کو شفا و ہدایت نصیب نہ ہوئی تو فرض کرو تمہاری طلب کے موافق اگر یہ قرآن مادی اور حسی طور پر بھی وہ سب چیزیں دکھلا دیتا جن کی فرمائش کرتے ہو۔ تب ہی کیا امید تھی کہ تم ایمان لے آتے اور نئی حجتیں اور کج بحثیاں شروع نہ کرتے تم ایسے ضدی اور سرکش واقعہ ہوئے ہو کہ کسی نشان کو دیکھ کر ایمان لانے والے نہیں۔ اصل یہ ہے کہ سب کام (ہدایت واضلال) اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ جسے وہ نہ چاہے قیامت تک ہدایت نہیں ہوسکتی لیکن وہ اسی کو چاہتا ہے جو اپنی طرف سے قبول حق کی خواہش اور تڑپ رکھتا ہو۔
8 شاید بعض مسلمانوں کو خیال گزرا ہوگا کہ ایک مرتبہ ان کی فرمائش ہی پوری کردی جائے شاید ایمان لے آئیں ان کو سمجھایا کہ خاطر جمع رکھو اگر خدا چاہے تو بدون ایک نشان دکھلائے ہی سب کو راہ راست پر لے آئے۔ لیکن یہ اس کی عادت و حکمت کے خلاف ہے اس نے انسان کو ایک حد تک کسب و اختیار کی آزادی دے کر ہدایت کے کافی اسباب فراہم کردیے، جو چاہے ان سے منتفع ہو۔ کیا ضرورت ہے کہ ان کی فرمائشیں پوری کی جائیں باوجود کافی سامان ہدایت موجود ہونے کے اگر معاندین نہیں مانتے اور اپنے ایمان کو بیہودہ فرمائشوں پر معلق کرتے ہیں۔ تو ہم نے یہ ارادہ بھی نہیں کیا ساری دنیا کو ضرور منوا ہی دیا جائے آخر ( لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ) 11 ۔ ہود :119) والی بات بھی تو پوری ہو کر رہے گی۔
9 یعنی یہ کفار مکہ فرمائشی نشانوں سے ماننے والے نہیں۔ یہ تو اس طرح مانیں گے کہ برابر کوئی آفت و مصیبت خود ان پر یا ان کے آس پاس والوں پر پڑتی رہے گی۔ جسے دیکھ کر یہ عبرت حاصل کرلیں۔ مثلاً جہاد میں مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ قتل ہوں گے کچھ قید کیے جائیں گے کچھ دوسری طرح کے مصائب کا شکار ہوں گے، یہ ہی سلسلہ رہے گا۔ جب تک خدا کا وعدہ پورا ہو یعنی مکہ فتح ہو اور جزیرۃ العرب " شرک کی گندگی سے پاک و صاف ہوجائے بیشک خدا کا وعدہ اٹل ہے، پورا ہو کر رہے گا۔ بعض مفسرین نے اَوْتَحُلُّ قَرِیْباً مِنْ دَارِہِمْ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف خطاب مانا ہے یعنی آپ ان کی بستی کے قریب اتریں گے جیسا کہ حدیبیہ میں ہوا۔ اس وقت " قارعہ " سے وہ سرایا مراد ہوں گے جن میں آپ بہ نفس نفیس شریک نہ ہوتے تھے۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ آیت تمام کفار کے حق میں عام ہے مکہ والوں کی تخصیص نہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 13:321 یعنی سزا ملنے میں دیر ہو تو مت سمجھو کہ چھوٹ گئے، گزشتہ مجرموں کو بھی پہلے ڈھیل دی گئی، پھر جب پکڑا تو دیکھ لو کیا حشر ہوا۔ آج تک ان کی تباہی کی داستانیں زبانوں پر ہیں۔
Ayah 13:332 یعنی جو خدا ہر شخص کے ہر عمل کے ہر وقت نگرانی رکھتا ہے، ایک لمحہ کسی سے غافل نہیں۔ ذرا کوئی شرارت کرے اسی وقت تنبیہ کرسکتا اور سزا دے سکتا ہے کیا مجرم اس سے چھوٹ کر کہیں بھاگ سکتے ہیں ؟ یا اس کی مثل پتھر کی وہ مورتیاں ہوسکتی ہیں جو نہ دیکھتی ہیں نہ سنتی ہیں نہ اپنے یا دوسرے کے نفع و ضرر کا کچھ اختیار رکھتی ہیں۔ تعجب ہے کہ ایسے خدا کی موجودگی میں انسان ایسی عاجز و حقیر مخلوق کے آگے سر جھکائے اور اس کو خدائی کے اختیارات تفویض کر دے۔ اس ظلم کی بھی کوئی انتہا ہے کہ علیم الکل اور بہمہ صفت موصوف خدا کے شریک وہ ہوں جنہیں خود اپنے وجود کی خبر نہیں۔ خوب سمجھ لو کہ جو کچھ ہم خفیہ یا اعلانیہ کرتے ہیں سب خدا کی آنکھ کے سامنے ہے۔ لوگوں کی ان مشرکانہ گستاخیوں سے وہ بیخبر نہیں۔ جلد یا بدیر سزا مل کر رہے گی۔
3 یعنی ذرا آگے بڑھ کر ان شرکاء کے نام تو لو اور پتے تو بتاؤ، کیا خداوند قدوس کی یہ صفات سن کر جو اوپر بیان ہوئیں کوئی حیا دار ان پتھروں کا نام بھی لے سکتا ہے ؟ اور بےحیائی سے لات و عزیٰ کے نام لینے لگو تو کیا کوئی عاقل ادھر التفات کرسکتا ہے ؟
4 یعنی خدا کو تمام روئے زمین پر اپنی خدائی کا کوئی شریک (حصہ دار) معلوم نہیں (کیونکہ ہے ہی نہیں جو معلوم ہو) کیا تم اسے وہ چیز بتلاؤ گے جسے وہ نہیں جانتا ؟ (العیاذ باللہ) (تنبیہ) زمین کی قید اس لیے لگائی کہ بت پرستوں کے نزدیک شرکاء (اصنام) کی قیام گاہ یہ ہی زمین تھی۔ ابو حیان نے لایَعْلَمُ کی ضمیر " مَا " کی طرف لوٹائی ہے یعنی کیا خدا کو بتلاتے ہو کہ آپ کی خدائی کے حصہ دار وہ بت ہیں جو ادنیٰ سا علم بھی نہیں رکھتے۔
5 پہلے فرمایا تھا ان شرکاء کا ذرا نام لو، پھر متنبہ فرمایا کہ جس چیز کا واقعہ میں ثبوت ہی نہیں اس کا نام کیا لیا جاسکتا ہے ؟ اب بتلاتے ہیں کہ کسی چیز کو خدا کا شریک ٹھرانا خالی الفاظ اور صورت محض ہے جس کے نیچے کوئی حقیقت نہیں۔ مجرد ظن وتخمین اور باطل اوہام سے چند بےمعنی الفاظ بامعنی نہیں بن جاتے۔ شاید بِظَاہِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ میں ادھر بھی اشارہ ہو کہ جو مشرکانہ باتیں وہ کر رہے ہیں اگر کو رانہ تقلید و تعصب سے خالی ہو کر اپنے ضمیر کی طرف رجوع کریں تو خود ان کا ضمیر بھی ان لغویات سے انکار کرے گا۔ اس لیے کہنا چاہیے کہ یہ سب اوپر اوپر کی باتیں ہیں۔ جن کو انسانی ضمیر اور انسانی فطرت دونوں مردود ٹھہرا چکے ہیں۔
6 یعنی کچھ بھی نہیں۔ شرک کی حمایت میں ان کی یہ مستعدی اور توحید کے مقابلہ میں اس قدر جدوجہد خالی نفس کا دھوکہ اور شیطان کا فریب ہے۔ اسی نے ان کو راہ حق سے روک دیا ہے۔
7 یعنی جسے خدا ہدایت کی توفیق نہ دے اسے کون راہ پر لاسکتا ہے اور وہ اسی کو توفیق دیتا ہے جو باختیار خود ہدایت کے دروازے اپنے اوپر بند نہ کرلے۔
Ayah 13:348 مجاہدین کے ہاتھوں سے یا بلاواسطہ قدرت کی طرف سے۔
9 یعنی بےسزا دیئے چھوڑے گا نہیں۔ پھر وہاں کی سزا کا کیا پوچھنا۔
Ayah 13:3510 جس کی کوئی نوع کبھی ختم نہ ہوگی اور ہمیشہ وہ ہی ملے گا جسکی خواہش کریں گے۔ (لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّلَا مَمْنُوْعَةٍ ) 56 ۔ الواقعہ :33)
11 یعنی سایہ بھی ہمیشہ آرام دہ رہے گا۔ نہ کبھی دھوپ کی تپش ہوگی نہ سردی کی تکلیف (لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِيْرًا) 76 ۔ الدہر :13)
12 یعنی خدا سے ڈر کر شرک و کفر کو چھوڑے رکھا۔
13 اہل حق اور اہل باطل کا انجام ایک دوسرے کے بالمقابل بیان فرمایا۔ وَبِضِدِّہَا تَتَبَیَّنُ الْاَشْیَآئ
Ayah 13:3614 جن کو اب قرآن دیا ہے (یعنی مسلمان) اور جن کو پہلے " تورات ' و " انجیل " وغیرہ دی گئی یعنی (یہود و نصاریٰ ) اس چیز کو سن کر خوش ہوتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کی گئی مسلمانوں کا خوش ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ اس کتاب کو فلاح دارین کی کلید جانتے تھے، باقی یہود و نصاریٰ میں جو لوگ اہل علم و انصاف اور فی الجملہ حق پرست تھے ان کے لیے بھی ایک طرح مسرت کا موقع تھا کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ قرآن کریم کیسی فراخ دلی سے ان کی اصل کتابوں کی تصدیق اور ان کے انبیاء کی تعریف و تعظیم میں رطب اللسان ہے بلکہ سچے احبارو رہبان کے وجود کو بھی معرض مدح میں پیش کرتا ہے۔ (ۭذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا) 5 ۔ المائدہ :82) چناچہ اسی قسم کے منصف و حق پرست یہود و نصاریٰ آخرکار مشرف با اسلام ہوئے۔
15 یعنی یہود و نصاریٰ یا عرب کے جاہلوں میں وہ جماعتیں بھی ہیں جو قرآن سے اس لیے ناخوش ہیں کہ انھیں اس کی بعض چیزوں سے انکار ہے اور یہ وہی چیزیں ہیں جو ان کی تحریف و تبدیل یا آراء وا ہواء کے خلاف قرآن نے بیان کی ہیں۔
16 یعنی کوئی خوش ہو یا ناخوش، میں تو اسی خدائے وحدہ ' لاشریک لہ ' کی بندگی کرتا ہوں جس کو سب انبیاء اور ملل بالاتفاق مانتے چلے آئے۔ اسی کے احکام و مرضیات کی طرف ساری دنیا کو دعوت دیتا ہوں اور خوب جانتا ہوں کہ میرا انجام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، وہیں میرا ٹھکانہ ہے وہ ہی مجھ کو آخرکار غالب و منصور اور مخالفین کو مغلوب و رسوا کرے گا۔ لہذا کسی کے خلاف و انکار کی مجھے قطعاً پروا نہیں۔
Ayah 13:371 یعنی جیسے پیشتر دوسری کتابیں اتاری گئیں۔ اس وقت یہ قرآن اتارا جو عظیم الشان معارف و حکم پر مشتمل اور حق و باطل کا آخری فیصلہ کرنے والا ہے۔ پھر جس طرح ہر پیغمبر کو اسی زبان میں کتاب دی گئی جو اس کی قومی زبان تھی۔ ایسے ہی محمد عربی ﷺ کو عربی قرآن دیا گیا۔ بلاشبہ قرآن جیسی معجز و جامع کتاب ایسی ہی زبان میں نازل ہونی چاہیے تھی، جو نہایت بلیغ، وسیع، جامع، منضبط، واضح، پر مغز اور پرشوکت ہونے کی وجہ سے " ام الالسنہ " اور " ملکۃ اللغات " کہلانے کی مستحق ہے۔
2 یعنی کسی کے انکار و ناخوشی کی ذرہ بھر پروا نہ کرو۔ حق تعالیٰ نے جو علم عظیم تم کو دیا ہے اس کی پیروی کرتے رہو اگر بالفرض تم ان لوگوں کی خواہشات کی طرف جھک گئے تو اس کے وبال سے کون بچا سکتا ہے۔ یہ خطاب ہر طالب حق کو ہے اور اگر حضور ﷺ مخاطب ہیں تو آپ کو سامنے رکھ کر دوسروں کو سنانا مقصود ہے جیسا کہ پہلے متعدد مواضع میں اس کی نظائر گزر چکیں۔
Ayah 13:383 یعنی پیغمبر عربی ﷺ کو نئی کتاب اور نئے احکام دے کر بھیجنا کیا اچنبھے کی بات ہوگئی جو اتنی حجتیں نکالی جاتی ہیں۔ آخر ان سے پہلے بھی ہم نے جو پیغمبر بھیجے وہ آسمان کے فرشتے نہ تھے اسی دنیا کے رہنے والے آدمی تھے۔ جو کھانا کھاتے، اپنی ضروریات اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے اور بیوی بچے رکھتے تھے۔ ان میں کسی کو یہ قدرت نہ تھی کہ لوگ جو نشانی مانگتے ضرور دکھلا دیتا۔ بلکہ موجودہ پیغمبر کی طرح ہر چیز میں خدائی اذن کے منتظر رہتے تھے۔ وہ ہی نشان دکھاتے اور وہ ہی احکام سناتے تھے جس کا اذن خدا کے یہاں سے ہوتا۔ خدائی اذن کا حال یہ ہے کہ اس کے یہاں ہر زمانہ اور ہر قرن کے مناسب جداگانہ حکم لکھا ہوا ہے۔ اور ایک وعدہ ٹھہرا ہوا ہے جس کو نہ کوئی نبی بدل سکتا ہے نہ فرشتہ۔ پھر جب ہر ایک پیغمبر اپنے زمانہ کے مناسب احکام لائے۔ اور اپنی صداقت کے نشان دکھانے میں پبلک کی خواہشات کے پابند نہیں رہے۔ نہ اپنے کو حوائج بشریہ اور تعلقات معاشرت سے پاک اور برتر ظاہر کیا تو ان ہی چیزوں کا محمد رسول ﷺ میں پایا جانا انکار نبوت کی دلیل کیسے بن سکتی ہے ؟
Ayah 13:394 یعنی اپنی حکمت کے موافق جس حکم کو چاہے منسوخ کرے، جسے چاہے باقی رکھے۔ جس قوم کو چاہے مٹائے جسے چاہے اس کی جگہ جما دے۔ جن اسباب کی تاثیر چاہے بدل ڈالے جن کی چاہے نہ بدلے۔ جو وعدہ چاہے شرائط کی موجودگی میں ظاہر کرے جو چاہے شرائط کے نہ پائے جانے کی بنا پر موقوف کر دے۔ غرض ہر قسم کی تبدیل و تغییر، محو واثبات، نسخ و احکام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ قضاو قدر کے تمام دفاتر اسی کے قبضہ میں ہیں اور سب تفصیلات و دفاتر کی جڑ جسے " اُم الکتاب " کہنا چاہیے اسی کے پاس ہے یعنی " علم ازلی محیط " جو ہر قسم کے تبدل و تغیر سے قطعاً منزّہ و مبرّیٰ اور لوح محفوظ کا ماخذ ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کہ دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے بعضے اسباب ظاہر ہیں بعضے چھپے ہیں۔ اسباب کی تاثیر کا ایک طبعی اندازہ ہے، جب اللہ چاہے اس کی تاثیر اندازہ سے کم یا زیادہ کر دے جب چاہے ویسی ہی رکھے۔ آدمی کبھی کنکر سے مرتا ہے اور کبھی گولی سے بچتا ہے اور ایک اندازہ ہر چیز کا اللہ کے علم میں ہے جو ہرگز نہیں بدلتا۔ اندازے کو تقدیر کہتے ہیں۔ یہ دو تقدیریں ہوئیں ایک بدلتی ہے اور ایک نہیں بدلتی۔ جو تقدیر بدلتی ہے اس کو معلق اور جو نہیں بدلتی اس کو مبرم کہتے ہیں "۔ جن احادیث و آثار سے بعض افاضل کو قضائے مبرم کے بدلنے کا شبہ ہوا ہے ان کے متعلق یہاں تفصیل کا موقع نہیں۔ انشاء اللہ مستقل تفسیر میں لکھا جائے گا۔ اگر خدا نے توفیق دی۔ و ہوالموفق والمستعان۔
Ayah 13:405 یعنی جو وعدے ان سے کیے گئے ہیں، ہم کو اختیار ہے کہ ان میں سے بعض آپ کے سامنے پورے کردیں۔ یا آپ کی وفات کے بعد ظاہر کریں، نہ آپ کو ان کے ظہور کی فکر میں پڑنا چاہیے اور نہ تاخیر و امہال دیکھ کر ان لوگوں کو بےفکر ہونا چاہیے۔ خدا کے علم میں ہر چیز کا ایک وقت مناسب ہے جس کے پہنچنے پر وہ ضرور ظاہر ہو کر رہے گی۔ آپ اپنا فرض (تبلیغ) ادا کیے جائیں۔ تکذیب کرنے والوں کا حساب ہم خود بیباق کردیں گے۔