13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsانوار البیان

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر (اے محمد ﷺ یہ کتاب (الہٰی) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

(13:1) تلک۔ کا اشارہ۔ سورة ہذا کی آیات کی طرف ہے۔ ای تلک الایات۔ اٰیات الکتب۔ یہ آیتیں الکتاب کی آیات ہیں۔ اور الکتاب سے مراد سورة ہذا بھی ہوسکتی ہے اور القرآن بھی۔ مؤخر الذکر کی صورت میں معنی ہوں گے ایات ہذہ السورۃ ایات القران الذی ہو الکتاب اس سورة کی آیات الکتاب (القرآن) کی ہیں۔ الذی اسم موصول انزل الیک من ربک صلہ۔ اور تمام کا تمام قرآن جو تیرے رب کی جانب سے تجھ پر نازل کیا گیا الحق بالکل سچ ہے۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

خدا وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے) اونچے بنائے۔ پھر عرش پر جا ٹھہرا اور سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک میعاد معین تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے۔ (اس طرح) وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو جانے کا یقین کرو۔

(13:2) عمد۔ ستون۔ اس کی جمع عمود وعمار ہے۔ ترونہا۔ میں ہا ضمیر کا مرجع السموت بھی ہوسکتا ہے اور اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اللہ وہ (صاحب قدرت و حکمت ) ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں بلند کیا۔ جیسا کہ تم انہیں (سماوات کو) دیکھ رہے ہو۔ یا اس ضمیر کا مرجع عمد ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ایسے ستونوں کے بلند کیا جن کو تم دیکھ سکو۔ (یعنی ستون ہیں تو سہی لیکن تم ان کو دیکھ نہیں سکتے۔ (اس صورت میں کشش ثقل ۔ قدرت ِ الٰہی ۔ امرِ ربی وغیرہ کو غیر مرئی ستون کا نام دیا جاسکتا ہے) ۔ استوی علی العرش ط۔ پھر وہ عرش پر قائم ہوا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 2: 29 ۔ 7:54 ۔ 10:3) کل۔ ای کل واحد منہما۔ دونوں میں سے ہر ایک۔ یعنی سورج اور چاند ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے۔ کہ شمس اور قمر کے الفاظ بطور جنس استعمال ہوئے ہوں۔ اور شمس سے مراد کائنات میں لاتعداد ستارے ہوں جن کے گرد کئی سیارے گھومتے ہیں اور قمر سے مراد وہ تمام سیّارے ہوں جو اپنے نظام میں ستاروں کے گرد گھومتے ہیں۔ اور اس صورت میں کل سے ہر ایک ستارہ اور ہر ایک سیّارہ مراد ہوگا۔ لاجل مسمی۔ ایک مقررہ میعاد تک۔ یدبر۔ ای اللہ یدبر ۔ اللہ تعالیٰ تدبیر فرماتا ہے انتظام فرماتا ہے۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے۔ اور ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن لباس پہناتا ہے غور کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

(13:3) مـد ۔ ماضی واحد مذکر غائب (نصر) پھیلایا۔ المد کے اصل معنی لمبائی میں کھینچنے اور بڑھانے کے ہیں۔ اسی لئے عرصہ دراز کو مدۃ کہتے ہیں۔ مد الارض۔ اس نے زمین کو بچھایا۔ (زمین اگرچہ گول ہے لیکن یہ کر ّہ اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اس کو اس کی اصلی شکل میں مکمل طور پر دیکھنے سے قاصر ہیں۔ اور ہماری محدود وسعت نظر کے لحاظ سے ہمیں یہ چپٹی نظر آتی ہے۔ رازی) ۔ رواسی۔ مادہ۔ رسو۔ رسی۔ رسا الشیٔ۔ (نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے وقدور رسیت (34:13) اور بڑی بڑی بھاری دیگیں جو ایک جگہ پر جمی رہیں۔ رواسی بمعنی پہاڑ بھی بوجہ ان کے اثبات اور استواری کے مستعمل ہے اس کی واحد راسیۃ ہے۔ یغشی الیل النھار۔ یغشی (افعال) فعل متعدی بدو مفعول ۔ اغشاء مصدر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے۔ (نیز ملاحظہ ہو : 12:107)
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور انگور کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت۔ بعض کی بہت سی شاخیں ہوتی ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں (باوجودیہ کہ) پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے اور ہم بعض میووں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں۔ اس میں سمجھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

(13:4) قطع۔ قطعۃ۔ کی جمع۔ ٹکڑے۔ متجورت۔ اسم فاعل جمع مؤنث ۔ متجاورۃ واحد۔ تج اور (تفاعل) مصدر ۔ برابر۔ برابر باہم ملے ہوئے۔ اس کا مادہ جور ہے لیکن مختلف ابواب سے مختلف ابواب سے مختلف صلہ کے سبب ہر جگہ معنی میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ مثلاً جار ہمسایہ۔ مددگار۔ شریک تجارت۔ پناہ دینے والا۔ پناہ پانے والا۔ پناہ چاہنے والا۔ جوار۔ ہمسائیگی۔ پناہ ۔ مکان کے آس پاس کا صحن۔ جور۔ راستی سے پھرجانا۔ راستہ سے مڑجانا۔ بشرطیکہ اس کے بعد عن آئے۔ اگر علی مذکور ہوگا جیسے جار علیہ تو ظلم کرنے کے معنی میں ہوگا۔ مجاورۃ۔ (مفاعلۃ) ہمسایہ ہونا۔ کسی کی پناہ میں ہوجانا۔ جوار۔ پناہ۔ امان۔ کسی کو پناہ دینا۔ قطع متجورت مختلف قسم کے ٹکڑہ ہائے اراضی جو قریب واقع ہوں۔ زرع۔ زرع اصل میں مصدر ہے اور اس سے مزروع (اسم مفعول) یعنی کھیتی مراد ہوتی ہے۔ جیسے فرمایا فنخرج بہ زرعا (32:27) پھر ہم اس (پانی ) کے ذریعے کھیتی اگاتے ہیں۔ زرع واحد ہے یہاں بمعنی جمع آیا ہے۔ اس کی جمع زروع ہے جیسا کہ قرآن حکیم میں وزروع ومقام کریم (44:26) اور کتنی ہی کھیتیاں اور کتنے ہی عمدہ عمدہ مکانا۔ اس سے مزرع بمعنی زراع بمعنی کسان ہے۔ یہاں زرع مختلف النوع کھیتیاں مراد ہیں۔ نخیل۔ کھجوریں یا کھجور کے درخت۔ نخل اور نخیل اسم جنس ہے۔ کھجور کے درخت نخل ونخیل کھجوروں کو بھی کہتے ہیں۔ صنوان ۔ جمع ہے اس کی واحد صنو ہے اس کا معنی مثل ہے۔ جیسے حدیث شریف میں ہے عم الرجل صنو ابیہ۔ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے۔ صنوان۔ کھجوروں کے ان متعدد درختوں کو کہتے ہیں جو ایک ہی جڑ سے ہوئے ہوں۔ غیر صنوان کھجوروں کے وہ درخت جو مختلف جڑوں سے ہوئے ہوں۔ کھجوروں کے الگ الگ درخت ۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا ہونگے ؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہونگے۔ اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔

(13:5) تعجب۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان ۔ واحد مذکر حاضر۔ (اگر) تو تعجب کرتا ہے۔ حیران ہے (باب سمع) تعجب اس حالت کا نام ہے جو انسان کو کسی شے کا سبب معلوم نہ ہونے پر پیش آتی ہے۔ ان تعجب۔ ای ان تعجب من قولہم فی انکار البعث۔ یعنی ان کی انکار آخرت کے متعلق باتیں اگر آپ کو تعجب خیز لگتی ہیں (تو حیرت انگیز ان کا یہ قول بھی ہےء اذا کنا ۔۔ خلق جدید) ۔ الاغلال۔ طوق۔ ہتھکڑیاں۔ غل کی جمع ہے۔ الغلل۔ کے اصل معنی کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان چلے جانے کے ہیں۔ اسی لئے غلل اس پانی کو کہتے ہیں جو درختوں کے درمیان سے بہہ رہا ہو۔ اور انغل کے معنی درختوں کے درمیان میں داخل ہونے کے ہیں۔ لہٰذا غل (طوق) خاص کر اس چیز کو کہاجاتا ہے جس سے کسی اعضاء کو جکڑ کر اس کے وسط میں باندھ دیا جاتا ہے۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار (یعنی طالب عذاب ہیں) حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں۔ اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود انکی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے اور بیشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے۔

(13:6) یستعجلونک ۔ یستعجلون مضارع جمع مذکر غائب استعجال (استفعال ) مصدر وہ جلدی مانگتے ہیں۔ تعجیل چاہتے ہیں۔ نیکی (یعنی بخشش سے) پہلے۔ یعنی اللہ کی طرف سے ان کو جو سنبھلنے کی مہلت دی جا رہی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس مہلت کو جلدی ختم کردیا جائے اور ان کی باغیانہ روش پر فوراً گرفت کر ڈالی جائے۔ نادان نہیں جانتے کہ اگر ان کے اعمال بد کے نتیجہ میں عذاب آگیا اور وہ برباد ہوگئے تو ان کو پھر کیا فائدہ پہنچے گا۔ المثلت۔ جمع مؤنث اس کی واحد المثلۃ ہے۔ مثلۃ وہ سزا۔ جس سے دوسرے عبرت حاصل کر کے ارتکاب جرم سے رک جائیں۔ یہی معنی نکال کے ہیں۔ المثلت۔ عبرت ناک سزائیں۔ عبرت ناک عذاب۔ عبرت ناک نظریں۔ عبرت ناک عذاب کے نزول کے واقعات۔ خلت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ گذر گئی۔ وہ گذر چکی۔ خلو سے (باب نصر ) ۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر ﷺ پر اس کے پروردگار کیطرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ سو (اے محمد ﷺ تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کیلئے رہنما ہوا کرتا ہے۔

(12:7) لولا ۔ کیوں نہیں۔ ایۃ۔ سے مراد یہاں معجزہ ہے (یعنی معجزے تو ان کو بار ہا دکھائے گئے لیکن ہر دفعہ کسی نئے معجزہ کا وہ مطالبہ کرتے رہے) ۔ منذر۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ انذار (افعال) مصدر۔ ڈرانے والا۔ ھاد۔ اصل میں ھادی تھا۔ اسم فاعل واحد مذکر ھدایۃ مصدر (باب ضرب) راستہ بتانے والا۔ ہدایت کرنے والا۔ ولکل قوم ھاد۔ اور ہر قوم کے لئے آپ ہادی ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوا ہے جیسے پہلے انبیاء (علیہم السلام) اپنی اپنی قوموں کی طرف ہدایت کے لئے بھیجے گئے۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

(13:8) انثی۔ عورت۔ مادہ۔ تغیض ۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ غیض ومغاض پانی کا کم ہونا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے و غیض المائ۔ (11:44) اور پانی خشک ہوگیا۔ غاض یغیض (باب ضرب) نقض کی طرح لازم اور متعدی دونوں طرح آتا ہے۔ آیت ِ بالا (11:44) فعل لازم استعمال ہوا ہے۔ اور آیۃ ہذا میں متعدی استعمال ہوا ہے لہٰذا اس کے معنی کم کرنے یا کم ہونے۔ ہر دو ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح تزداد بھی لازم ومتعدی مستعمل ہے۔ وما تغیض الارحام وما تزداد۔ اور جوار حام کم کرتے ہیں اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں۔ اس کم کرنے اور زیادہ کرنے کی یہ صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) بچہ کا نامکمل ہونا (کمی) اور اس کا مکمل ہونا۔ (2) بچہ کی رحم مادر میں مدت۔ عام مدت سے کم کا جَنْ دینا یا گرادینا۔ خواہ وہ مکمل شکل بننے سے قبل ہو یا بعد میں اور عام مدت سے زیادہ وقت رحم مادر میں رہنا جس کی مدت دو سال تک ہوسکتی ہے (ابو حنیفہ (رح) ) چار سال ہوسکتی ہے (امام شافعی) پانچ سال ہوسکتی ہے۔ (امام مالک (رح)) ۔ (3) حیض میں کمی کہ ایام حمل میں اکثر حیض بند ہوجاتا ہے ۔ اور یہ بچہ کی خوراک بنتا ہے یا حیض کا پھر جاری ہوجانا ۔ بہرکیف اس جملہ سے مراد یہ ہے کہ رحم ِ مادر میں حمل کی بابت جو تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں خواہ وہ شاذ ہوں یا عام سب اس کے احاطۂ علم میں ہیں۔
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ دانائے نہاں و آشکار ہے۔ سب سے بزرگ (اور) عالی رتبہ ہے۔

(12:9) المتعال۔ اسم فاعل واحد مذکر تعالیٰ مصدر۔ (باب تفاعل) اصل میں المتعالی تھا۔ علو مادہ۔ متعالی عالی سے زیادہ مبالغہ پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی عالی کا معنی بزرگ ۔ عالی مرتبہ۔ برتر۔ غالب۔ وغیرہ۔ اور متعالی کا معنی بہت بزرگ ۔ بہت غالب۔ بہت برتر وغیرہ۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں۔ چھپ جائے یا دن (کی روشنی) میں کھلم کھلا چل پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے۔

(13:10) مستخف۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ استخفاء (استفعال) مصدر۔ چھپنے والا۔ چھپنے کی خواہش کرنے والا۔ یہ لفظ اصل میں مستخفی تھا۔ خفی مادہ اخفاء (افعال) چھپانا۔ مستخف بالیل جو چھپا رہتا ہے رات کے وقت۔ یعنی وہ جو رات کی تاریکی کے پردے میں دکھائی نہیں دیتا اور پوشیدہ ہوتا ہے۔ سارب۔ گلیوں میں پھرنے والا۔ راہ چلنے والا۔ سروب مصدر۔ اپنے رخ پر چلنا۔ اس کی جمع سرب ہے جیسے راکب کی جمع رکب ہے۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اسکے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار رہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔

(13:11) لہ میں ضمیرہُ واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ ای من اسر القول۔ من جھر بہ ۔ من ھو مستخف باللیل۔ من ھو سارب بالنھار۔ معقبت۔ اسم فاعل۔ مؤنث ۔ جمع الجمع معقب واحد۔ معقبۃ جمع۔ تعقیب (تفعیل) مصدر۔ عقب مادہ۔ روزوشب میں باری باری آنے والے ملائکہ۔ ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے معقبت اصل میں معتقبت تھا۔ ت کو ق میں مدغم کردیا گیا۔ جس طرح وجاء المعذرون من الاعراب (9:90) میں معذرون اصل میں معتذرون تھا۔ بین یدیہ۔ اس کے سامنے۔ یحفظونہ۔ مضارع جمع مذکر غائب ہٗ ضمیرمفعول واحد مذکر غائب۔ وہ اس کی حفاظت کرتے ہیں اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ لا یغیر۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ تغییر (تفعیل) مصدر۔ وہ نہیں بدلتا ہے۔ ما بقوم۔ سے مراد کسی قوم کی اچھی حالت ہے۔ حتی یغیروا ما بانفسہم۔ جب تک کہ وہ خود اپنی خوشحالی کو (اپنے سوء اعمال سے ) نہیں بدل لیتے۔ اس تغییر کی نسبت فاعلی قوم کی طرف کر کے اس کا اظہار کردیا ہے کہ یہ تبدیلیاں قوم کے اپنے قصد۔ عمرواختیار سے ہوتی ہیں۔ باقی اگر کوئی تبدیلی کسی قوم میں کسی مجبوری یا اضطراب یا لاعلمی کے نتیجہ کے طور پر ہوجائے تو اس پر یہ گرفت نہیں اور یہ تبدیلی منجانب اللہ بوجوہ عمل میں آتی ہے۔ مرد۔ مصدر میمی ہے۔ فلا مرد لہ۔ تو اس کا کوئی رد نہیں۔ کوئی توڑ نہیں۔ اس کو کوئی موڑ نہیں سکتا۔ کوئی رد نہیں کرسکتا۔ کوئی روک نہیں۔ رد یرد مرد و مردود۔ پھرنا۔ واپس کرنا۔ مرد۔ ظرف زمان یا مکان بھی ہے۔ من دونہ۔ اللہ کے سوا۔ وال ۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ اصل میں والی تھا۔ ولایۃ مصدر (باب ضرب) مددگار حامی۔ مدد پر قادر۔
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔

(13:12) یریکم۔ وہ تم کو دکھاتا ہے۔ اری یری (افعال ) اراء ۃ سے مضارع ۔ واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ خوفا وطمعا۔ ہر دو منصوب بوجہ حال ہونے کے ہیں۔ یہ برق کا بھی حال ہوسکتا ہے اور مخاطبین کا بھی۔ پہلی صورت میں برق ذا خوف وذا طمع یعنی برق جس میں خوف اور طمع ہو۔ دوسری صورت میں کہ تم اس سے خائف اور طامع ہو۔ خوف کی حالت اس طرح کہ کہیں بجلی گر کر نقصان کا باعث نہ بن جائے اور طمع کی حالت کہ بارش ہوگی اور کھیتیاں سیراب ہوں گی۔ ینشیئ۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ انشأ ینشیء انشاء (افعال) نشأ مادہ۔ ینشیء السحاب۔ وہ بادل کو اٹھاتا ہے۔ وینشیء اللہ الشیء ۔ اللہ پیدا کرتا ہے انشأ الحدیث والکلام۔ وضع کرنا۔ ابتدء کرنا۔ ونشأ زید۔ عمدہ شعر کہنا۔ ونشأ ۔ پیدا ہونا زندہ ہونا۔ نشأۃ الثانیۃ۔ دوسری دفعہ پیدا ہونا۔ دوبارہ زندہ ہونا۔ السحاب الثقال۔ موصوف وصفت۔ بھاری بادل۔ بوجھل بادل۔ (پانی سے بھرے ہوئے) السحاب اسم جنس ہے۔ مذکر۔ مؤنث واحد۔ جمع۔ سب پر استعمال ہوتا ہے۔ الثقال ثقیل کی جمع ہے۔ ثقل بوجھ۔ ثقیل۔ بوجھل ۔ بھاری۔ گراں بار۔
Ayah 13:13

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور رعد اور فرشتے سب اسکے خوف سے اس کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔ اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے۔ پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے۔

(13:13) یسبح۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ وہ تسبیح کرتا ہے۔ وہ سبحان اللہ پڑھتا ہے۔ تسبیح۔ پاکی بیان کرنا۔ سبح سے السبح کے اصل معنی پانی یا ہوا میں تیز رفتاری سے گذر جانے کے ہیں۔ سبح (فتح) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا۔ پھر استعارۃً یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے۔ جیسے کل فی فلک یسبحون ۔ ۔ (21:33) سب اپنے اپنے فلک یعنی مدار میں تیزی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ التسبیح کے معنی خدا کی پاکیزگی اور اس کی تنزیہہ بیان کرنے کے ہیں۔ اصل میں اس کے معنی عبادت الہٰی میں تیزی کرنا کے ہیں۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا۔ پس تسبیح کا لفظ قولی۔ فعلی۔ قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے۔ الرعد۔ اس کڑک کو کہتے ہیں جو بجلی سے چارج شدہ بادلوں کے آپس میں رگڑ سے پیدا ہوتی ہے۔ الرعد۔ اس فرشتہ کا نام بھی ہے جس کے ذمہ بادلوں کی تدبیر اور انتظام ہے۔ الرعد ملک انہ مؤکل بالسحاب یصفرہ حیث یؤمر۔ رعد ایک فرشتہ ہے جو بادلوں پر مقرر ہے اور جیسا کہ اس کو حکم ہوتا ہے ان کو ادھر ادھر کرتا ہے۔ والملئکۃ من خیفتہ۔ ای ویسبح الملئکۃ من ھیبتہ واجلا لہ اور فرشتے بھی اس کے جاہ و جلال اور رعب ودبدبہ کے خوف سے اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ الصواعق۔ الصاعقۃ کی جمع ہے۔ کڑک۔ بجلیاں۔ مفردات میں ہے الصاعقۃ ہولناک دھماکہ کو کہتے ہیں۔ اور اس کا استعمال اجسام علوی کے بارہ میں ہوتا ہے اور اس کی تین قسمیں ہیں اول بمعنی موت و ہلاکت جیسے فصعق من فی السموت ومن فی الارض (39:68) جو لوگ آسمان میں ہیں اور زمین میں ہیں سب کے سب مرجائیں گے۔ دوم بمعنی عذاب۔ جیسے فرمایا فقل انذرتکم صاعقۃ مثل صاعقۃ عاد وثمود۔ (41:13) میں تم کو مہلک عذاب سے ڈراتا ہوں اس جیسا مہلک عذاب جو عادوثمود پر آیا تھا۔ سوم بمعنی آگ اور بجلی کی کڑک۔ جیسا آیۃ ہذا میں۔ وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گر ابھی دیتا ہے۔ لیکن یہ تینوں چیزیں دراصل صاعقہ کے آثار ہیں کیونکہ اس کے اصل معنی تو فضاء میں سخت آواز کے ہیں پھر کبھی تو اس آواز سے صرف آگ ہی پیدا ہوتی ہے اور کبھی وہ آواز عذاب اور کبھی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ فیصیب بھا۔ پھر ڈالتا ہے اسے۔ پھر گراتا ہے اسے ۔ اصاب یصیب اصابۃ (افعال) سے مضارع واحد مذکر غائب۔ المحال۔ مضاف الیہ ۔ سخت گرفت کرنے والا۔ سزا میں پکڑنے والا۔ سخت قوت والا۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے۔ اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے۔ مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دو رہی سے) اس کے منہ تک آپہنچے۔ حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا۔ اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے۔

(13:14) لہ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کے لئے ہے۔ دعوۃ الحق۔ دعوۃ۔ دعا۔ پکار۔ پکارنا۔ دعا یدعوا کا مصدر ہے۔ الحق ۔ سچ۔ صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ : الحق کا کلمہ یا تو سچ جو باطل کی نقیض ہے کے معنی میں ہوگا۔ یا اللہ تعالیٰ کا اسم ہوگا تو پھر یہ دعوۃ کی صفت ہوگی۔ لیکن مرکب توصیفی کی جگہ مرکب اضافی ذکر ہوا ہے۔ اور لغت عرب میں موصوف کو صفت کی طرف مضاف کردیا جاتا ہے جیسے کلمۃ الحق یا مسجد الجامع۔ یا مکۃ المکرمۃ۔ دعوۃ الحق۔ یعنی وہ دعا جو سچی اور درست ہے اور جو قبول ہوتی ہے وہ وہی دعا ہے جو اللہ تعالیٰ کی پاک ذات سے کی جاوے۔ اور اگر الحق۔ اسماء الٰہی میں سے ہے تو اس وقت معنی ہوگا۔ دعوۃ المدعو الحق الذی یسمع فیجیب۔ (علامہ ابو حیان نے بحر محیط میں پہلی ترکیب کو صحیح قرار دیا ہے اور وہی واضح بھی ہے) ۔ لا یستجیبون۔ وہ جواب نہیں دیں گے۔ وہ قبول نہیں کریں گے۔ وہ جواب نہیں دے سکتے مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ ضمیر کا مرجع ہے والذین یدعون من دونہ۔ وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں۔ باسط کفیہ۔ باسط۔ پھیلانے والا۔ کھولنے والا۔ دراز کرنے والا۔ بسط سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ بسط الشیئ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو پھیلانا اور توسیع کرنا۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی مقصود ہوتا ہے۔ چناچہ بسط الثوب۔ اس نے کپڑا پھیلایا اور اسی سے البساط ہے جو ہر پھیلائی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے۔ کبھی یہ مقابلہ قبض کے آتا ہے۔ جیسے واللہ یقبض ویبسط (2:245) اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا ہے اور وہی اسے کشادہ کرتا ہے۔ جب اس کا ہاتھوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس صورت میں اس کے مختلف مفہوم ہوتے ہیں۔ مثلاً کسی چیز پر ہاتھ ڈالنے یعنی پکڑنے اور گرفت کرنے کے معنی میں جیسے ولو تری اذ الظلمون فی غمرات الموت والملئکۃ باسطوا ایدیھم۔ (6:93) کاش تو دیکھے جس وقت ظالم موت کی بےہوشی میں ہوں گے اور فرشتے (ان کی جان نکالنے کے لئے یا عذاب کے لئے ) اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے۔ کبھی دست درازی یعنی حملہ کرنے اور مارنے کے معنی ہوتے ہیں۔ جیسے لئن بسطت الی یدک لتقتلنی ما انا بباسط یدی الیک لاقتلک۔ (5:28) تو اگر قتل کرنے کے لئے مجھ پر ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھ پر مارنے کو ہاتھ نہیں اٹھائوں گا۔ اور کبھی ہاتھوں کے کھلنے سے مراد عطأو بخشش ہوتی ہے جیسے بل یداہ مبسوطتان (5:64) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ (بخشش کیلئے) کشادہ ہیں۔ آیۃ ہذا میں ہاتھ پھیلانے سے مراد مانگنا اور طلب کرنا ہے۔ کباسط کفیہ الی الماء لیبلغ فاہ۔ پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والے کی طرح کہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جاوے۔ فاہ ۔ فا مضاف ہُ ضمیر مضاف الیہ۔ اس کے منہ کو۔ اس کے منہ تک۔ بالغہ۔ بالغ پہنچنے والا۔ ہٖ ضمیر واحد مذکر غائب منہ کے لئے ہے۔ ضلال۔ گمراہی۔ بھٹکنا۔ راہ سے دور جا پڑنا۔ کھو جانا۔ یہاں بمعنی عبث۔ بےاثر۔ بھٹکنے والی۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے۔ اور ان کے سامنے بھی صبح وشام (سجدے کرتے) ہیں۔

(13:15) طوعا۔ فرمانبرداری۔ مصدر ہے یہ کرہ کی ضد ہے۔ الطوع کے معنی ہیں بطیب خاطر تابعدار ہوجانا۔ کرھا۔ مصدر۔ اسم مصدر ۔ ناگوار ہونا۔ ناخوشی ۔ مجبوری۔ زبردستی ۔ خوف کے جذبہ کے تحت ناگواری اور دل کی کراہت سے کسی کام کو سر انجام دینا۔ وظللھم معطوف ہے من پر ای یسجد ظللھم اور ان کے سائے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ بالغدو۔ الغدوۃ والغداۃ کے معنی دن کے ابتدائی حصہ کے ہیں۔ اس آیہ میں غدو۔ (غدوۃ کی جمع) اصال کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے جس کے معنی عصر اور مغرب کا وقت جسے عرف عام میں شام کہتے ہیں۔ اور اصال اور اصل جمع اصیل کی۔ بالغدو والاصال۔ صبح اور شام کے وقت۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ (تم ہی انکی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع و نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتے ؟ (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں ؟ یا اندھیرا اور اجالا برابر ہوسکتا ہے ؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنیوالا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے۔

(13:16) افا تخذتم۔ میں ہمزہ استفہامیہ ہے۔استبعاد کے لئے ہے۔ ای بعد ان علمتموہ رب السموت والارض اتخذتم من دونہ اولیائ۔ کیا یہ جاننے کے بعد بھی کہ وہ (اللہ تعالیٰ ) ارض وسماوات کا پروردگار ہے تم اس کے سوا دوسروں کو کارساز یا حمایتی قرار دیتے ہو۔ ھل یستوی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ استواء (افتعال) مصدر۔ استوی یستوی برابر ہونا ھل یستوی۔ استفہام انکاری ہے۔ برابر نہیں ہے۔ کیا برابر ہے (یعنی برابر نہیں ہے) ھل تستوی۔ کیا وہ برابر ہوسکتی ہے۔ برابر نہیں ہوسکتی۔ مضارع واحد مؤنث غائب ۔ یہ بھی استفہام انکاری ہے۔ یعنی تاریکی اور روشنی برابر نہیں ہے۔ فتشابہ الخلق علیہم۔ اور نتیجۃًان پر (اللہ کی مخلوق اور ان کے اولیائے باطل کی مخلوق) باہم مشتبہ ہوگئی۔ گڈ مڈ۔ القھار۔ صیغہ مبالغہ۔ ایسا زبردست غالب کہ جس کے مقابلہ میں سب ذلیل ہوں۔ قھر یقھر (فتح) قھر وقھر۔ مصدر۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہ نکلے۔ پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لئے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہوجاتا ہے اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح (خدا) صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)

(13:17) فسالت۔سببیہ ہے۔ سالت۔ ماضی واحد مؤنث غائب (باب ضرب) وہ بہی۔ وہ بہنے لگی۔ وہ جاری ہوئی۔ یہاں بمعنی جمع آیا ہے وہ (وادیاں ) بہنے لگیں بسبب آبِ سماوی کے السیل۔ بہائو۔ سیلاب۔ اودیۃ۔ نالے ۔ وادیاں۔ الوادی۔ اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو۔ اسی سے دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ زمین کو وادی کہا جاتا ہے۔ واد کی جمع اودیۃ جیسے ناد کی جمع اندیۃ اور ناج کی جمع انجیۃ ہے۔ بقدرہا۔ میں ھا ضمیر کا مرجع اودیۃ ہے بقدرہا۔ اپنے اپنے ظرف کے مطابق۔ اپنی اپنی مقدار کے مطابق۔ احتمل۔ اس نے اٹھایا۔ احتمال سے جس کے معنی برداشت کرنے اور اٹھانے کے ہیں حمل سے باب افتعال۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ السیل۔ سیلاب ۔ بہائو۔ اوپر ملاظہ ہو۔ فسالت۔ زبدا۔ جھاگ۔ اسم ہے۔ رابیا۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ چڑھنے والا۔ پھولنے والا۔ بلند ۔ ربو سے۔ جس کے معنی پھولنے کے ہیں۔ ربوۃ۔ بلند جگہ یا ٹیلہ کو کہتے ہیں۔ ربا یربوا۔ (نصر) اونچی جگہ پر جانا۔ فاحتمل السیل زبدا رابیا۔ پھر سیلاب نے پھولا ہوا جھاگ اوپر اٹھا لیا۔ یعنی جھاگ اس کے اوپر آئی۔ مما۔ من ما۔ ما یوقدوں علیہ۔ جن چیزوں پر آگ جلاتے ہیں۔ اوقد یوقد ایقاد (افعال) آگ جلانا فی النار۔ آگ میں۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔ یعنی جن چیزوں کو آگ میں تپا کر پگھلاتے ہیں (مثلاً لوہا۔ تانبا۔ چاندی۔ سونا ۔ وغیرہ ان میں سے بھی اسی قسم کا جھاگ اوپر اٹھتا ہے) یعنی پگھلی ہوئی دھات کے اوپر آجاتا ہے۔ ابتغاء حلیۃ۔ مجاف مضاف الیہ۔ زیور کی تلاش میں۔ زیور کی خواہش میں۔ ابتغاء مصدر ہے اور حال مستعمل ہوا ہے یعنی زیور یا سامان کی خواہش کرتے ہوئے ان (دھاتوں) کو آگ میں پگھلاتے ہیں (تو اس صورت میں بھی پگھلی ہوئی دھات پر جھاگ آجاتی ہے) کذلک یضرب اللہ الحق والباطل۔ یوں اللہ تعالیٰ مثال دیتا ہے حق اور باطل کی۔ جفائ۔ اس کی مجرد باب ضرب سے اور مزید باب افعال سے ہے مگر معنی دونوں کا ایک ہے ناکارہ۔ ناچیز۔ وہ جھاگ اور کوڑا جو نالہ کے بہائو میں دونوں کناروں پر آکر جم جاتا ہے۔ یا دیگچی کے اوپھان کے ساتھ اوپر آکر ادھر ادھر گرجاتا ہے یا کناروں پر جم جاتا ہے۔ اسم ہے۔ یمکث۔ مضارع واحد مذکر غائب مکث مصدر۔ (باب نصر) وہ باقی رہ جاتا ہے۔ المکث کسی چیز کے انتظار میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے قال لاھلہ امکثوا (28:29) تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ تم یہاں ٹھہرو اور انکم ماکثون (43:77) تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے۔ کذلک یضرب اللہ الامثال۔ یوں اللہ تعالیٰ مثالیں بیان فرماتا ہے۔ صاحب تفہیم القرآن فرماتے ہیں۔ اس تمثیل میں اس علم کو جو نبی کریم ﷺ پر وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا تھا آسمانی بارش کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ اور ایمان لانے والے لوگوں کو ان ندی نالوں کی مانند ٹھہرایا گیا ہے جو اپنے ظرف کے مطابق بارانِ رحمت سے بھر پور ہو کر رواں دواں ہوجاتے ہیں۔ اور اس ہنگامہ اور شورش کو جو تحریک اسلامی کے خلاف منکرین و مخالفین ِحق نے برپا کر رکھی تھی اس جھاگ اور خس و خاشاک سے تشبیہ دی ہے جو ہمیشہ سیلاب کے اٹھتے ہی سطح پر اپنی اچھل کود دکھانی شروع کردیتا ہے۔ جھاگ خواہ سیلابی پانی کی سطح پر ہو یا پگھلانے کے وقت مائع دھات پر۔ وہ علی الترتیب کوڑا کرکٹ اور میل کچیل پر مشتمل ہوتی ہے ناکارہ اور بےفائدہ ہوتی ہے۔ ایسی جھاگ ندی کے کنارے لگ کر وہیں سوکھ جاتی ہے اور کوئی اسے پوچھتا بھی نہیں اور دھاتوں کی صورت میں کھوٹ اور فضول سمجھ کر پھینک دی جاتی ہے۔ ان کے نیچے جو رہ جاتا ہے وہ کارائد اور مفید ہے۔ وادی کی صورت میں پانی رہ جاتا ہے جو زمین کو سیراب کرتا ہے اور دھاتوں کی صورت میں اصل دھات رہ جاتی ہے جو زیورات بنانے اور دوسرا سامان بنانے کے کام آتی ہے۔ اسی طرح مخالفین حق کی شرانگیزیاں تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہیں اور تعلیمات اسلام کو دوام نصیب ہوتا ہے افادیت دوام پذیر ہوتی ہے۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ ہی اتنے اور (نجات کے) بدلے میں صرف کر ڈالیں (مگر نجات کہاں ؟ ) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

(13:18) استجابوا۔ ماضی جمع مذکر غائب استجابۃ (استفعال) انہوں نے قبول کیا۔ انہوں نے مانا۔ ای اجابوا الی ما دعا اللہ الیہ۔ جس امر کی طرف خدا نے انہیں بلایا انہوں نے قبول کیا۔ الحسنی۔ حسن سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث بروزن فعلی ۔ اچھی ۔ عمدہ۔ بھلائی۔ نیکی ۔ نیک (بدلہ) یعنی جنت۔ الحسنی استجابوا کے مصدر کی صفت بھی ہوسکتا ہے۔ ای استجابوا الا ستجابۃ الحسنی۔ یعنی انہوں نے بطریق احسن (دعوت حق) قبول کرلی۔ اور الحسنی مبتدا بھی ہوسکتا ہے جبکہ للذین استجابوا اس کی خبر ہے اس صورت میں معنی ہوں گے۔ جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا کہنا مان لیا ان کے لئے نیک بدلہ (یعنی جنت) ہے۔ لا فتدوا بہ۔ لام تاکید کے لئے ہے افتدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ افتداء (افتعال) انہوں نے اپنے چھڑانے کا فدیہ دیا۔ لافتدوا بہ وہ اسے بطور فدیہ دے ڈالیں۔ اصل میں والذین لم یستجیبوا لہ۔ اولئک لہم سوء الحساب ہے۔ لو ان لہم ما فی الارض جمیعاو مثلہ معہ لافتدوا بہ جملہ معترضہ ہے۔ یعنی جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا کہنا نہیں مانا ان لوگوں کا سخت حساب ہوگا۔ خواہ ان کے پاس دنیا بھر کی دولت ہو اور اتنی ہی اور بھی ہو اور وہ یہ سب دولت اپنے بچائو کے لئے خرچ کر ڈالیں (یہ ان کے کسی کام نہ آئے گی) ۔ المھاد۔ اسم ۔ بچھونا۔ مراد ٹھکانہ۔ قرارگاہ۔ گہوارہ۔ بستر۔ ہموارزمین ۔ بئس المھاد۔ بری ہے۔ قرارگاہ۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔

(13:19) یتذکر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تذکر یتذکر تذکر (تفعل) نصیحت پکڑنا۔ یتذکر۔ وہ نصیحت پکڑتا ہے۔ (واحد بمعنی جمع آیا ہے۔ بیشک نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو صاحب ِ فہم ہوں۔
Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے۔

(13:20) یؤفون۔ پورا کرتے ہیں۔ وفا کرتے ہیں۔ (اللہ کے ساتھ کئے گئے وعدہ کو) پورا کرتے ہیں۔ المیثاق۔ پختہ عہد۔ پیمان ۔ وعدہ۔
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کا جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

(13:21) یصلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وصل سے۔ وہ جوڑتے ہیں۔ وصل وصلۃ۔ مصدر ۔ (باب ضرب) جوڑنا۔ پہنچنا۔ جڑنا۔ (باب افعال) سے پہنچانا ۔ جوڑ دینا۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی کو دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

(13:22) ابتغائ۔ (باب افتعال) بغی سے۔ البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ۔ بغی دوقسم پر ہے۔ (1) محمود یعنی حد اعتدال سے تجاوز کر کے مرتبہ احسان حاصل کرنا۔ اور فرض سے تجاوز کر کے تطوع بجالانا۔ (2) مذموم ۔ حق سے تجاوز کر کے باطل یا شبہات میں واقع ہونا۔ ابتغائ۔ خاص کر کوشش کر کے کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش محمود ہوگی۔ مثلاً آیۃ ہذا۔ ابتغاء وجہ ربہم۔ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اور ابتغاء رحمۃ من ربک۔ (17:28) اپنے پروردگار کی رحمت حاصل کرنے کے لئے۔ یدرء ون۔ مضارع جمع مذکر غائب درء مصدر باب فتح ، دور کرتے ہیں دفع کرتے ہیں (نیکی کے ذریعے برائیوں کا مقابلہ کرتے ہیں ) الدرء (فتح) کے معنی (نیزہ وغیرہ کے) ایک طرف مائل ہوجانے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے۔ قومت درء ۃ۔ میں نے اس کی کجی کو درست کردیا۔ اور درءت عنہ میں نے اس سے دفع کیا (دور کیا ہٹایا) عقبی۔ عاقبت، انجام، بدلہ۔ بھلائی۔ جزاء عمل ۔ کیونکہ یہ بھی فعل کی انجام دہی کے بعد ہی ملتی ہے قاضی ثناء اللہ پانی پتی صاحب تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں۔ عقبی وعاقبۃ۔ کا استعمال ثواب اور نیکی کی بہتر جزاء کے لئے مخصوص ہے۔ جس طرح کہ عقوبۃ ومعاقبۃ اور عقاب کا استعمال عذاب اور برائی کی سخت سزا کے ساتھ خاص ہے۔ جیسے ھنالک الولایۃ للہ الحق ھو خیر ثوابا وخیر عقبا۔ (18:44) ایسے موقعہ پر کارسازی اللہ برحق ہی کا کام ہے ثواب کے لحاظ سے بھی اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر۔ اور والعاقبۃ للمتقین۔ (28: 83) اور نیک انجام تو متقیوں کے لئے ہے۔ اور عقاب کے بارے میں ارشاد ہے ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب۔ (38:14) ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ سو میرا عذاب (ان پر) واقع ہوگیا۔ لیکن اضافت کے ساتھ عاقبت کا استعمال عقوبۃ کے معنی میں ہوتا ہے۔ مثلاً ثم کان عاقبۃ الذین اساء وا السوای (30:10) پھر برا کام کرنے والوں کا انجام برا ہی ہوا۔ علاوہ ازیں ذیل کی آیت میں عقبی کا استعمال ثواب اور عذاب دونوں کے لئے ہوا ہے۔ تلک عقبنی الذین اتقوا وعقبی الکفرین النار۔ (13:35) یہ انجام ہوگا اہل تقویٰ کا اور کافروں کا انجام آتش (دوزخ) ہے۔ عقبی الدار یہاں مضاف مضاف الیہ استعمال ہوا ہے۔ عقبی سے مراد نیک انجام اور الدار سے مراد دنیا ہے۔ لھم عقبی الدار ان کے لئے دنیا (کے نیک کاموں کا) نیک انجام ہوگا۔ صاحب کشاف لکھتے ہیں عقبی الدار ای عاقبۃ الدنیا وھی الجنۃ۔ دنیا میں نیک کام کرنے کا نیک انجام یعنی جنت ۔
Ayahs 13:23–24

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

(یعنی) جو ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہونگے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے انکے پاس آئینگے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے۔

(13:23) جنت عدن مضاف مضاف الیہ اور عقبی الدار (آیۃ سابقہ ) کا بدل ہے۔ عدن کے باغات ۔ عدن کے معنی رہنا۔ بسنا۔ کسی جگہ مقیم ہونا۔ مصدر ہے اور باب نصروضرب سے آتا ہے۔ جنت عدن کے معنی رہنے بسنے کے باغات۔ جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں کہ جنتوں میں سے ایک خاص جنت کا نام ہے اور اس کی دلیل میں یہ آیت لاتے ہیں جنت عدن ن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب ۔ (19:61) وہ عن کے باغات جن کا وعدہ غائبانہ خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے کر رکھا ہے۔ کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے۔ اور جو حضرات عدن کو علم نہیں بلکہ جنت کی صفت بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عدن کے معنی اصل میں استقرار اور ثبات کے ہیں۔ محاورہ ہے عدن بالمکاف۔ یعنی اس نے اس جگہ قیام کیا اور عدن سے مراد اقامتہ علی وجہ الخلود ہے یعنی دائمی طور پر رہنا۔ بسنا۔ امام قرطبی (رح) نے لکھا ہے کہ جنتیں سات ہیں۔ (1) دارالخلد (2) دارالجلال (3) دارالسلام (4) جنت عدن (5) جنت الماویٰ ۔ (6) جنت النعیم۔ (7) جنت الفردوس۔ جنت عدن کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جنت میں ایک محل ہے جس کے 25 ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازہ پر حوریں بیٹھی ہیں۔ اس میں نبی صدیق اور شہید داخل ہوں گے۔ صلح۔ (باب نصر۔ فتح۔ کرم) صلاح۔ صلوح۔ سے جس کے معنی نیک ہونا اور نیکی کرنا کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ صاحب کشاف لکھتے ہیں کہ صلح بفتح اللام زیادہ فصیح ہے۔ یدخلونہا۔ میں یدخلون سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی صفۃ آیۃ سابقہ نمبر 22 میں کی گئی ہے اور ھا ضمیر کا مرجع جنت عدن ہے وائو حرف عطف اور من صلح من ابائہم وازواجہم و ذریتہم کا عطف ضمیر یدخلونہا پر ہے۔ یعنی ان جنت عدن میں وہ لوگ (جو آیۃ سابقہ میں بیان ہوئے ہیں) داخل ہوں گے۔ اور ان کے آبائو اجداد ان کے زوج اور ان کی اولاد میں سے وہ لوگ جو صاحب ایمان ہوں گے وہ بھی داخل ہوں گے (یعنی جنت میں داخلہ تو بشرط ایمان ہے لیکن اعلیٰ مراتب کی عطاء ودہش رب کریم اپنے ان بندوں کی نسبت سے فرمائیں گے جو اوپر مذکور ہوئے ہیں) ۔ والملئکۃ سے جملہ شروع ہوتا ہے۔
Ayah 13:25

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اسکو توڑ ڈالتے اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے۔ اور انکے لئے گھر بھی برا ہے

(13:25) سوء الدار۔ مضاف مضاف الیہ۔ سوء ۔ برائی۔ آفت۔ عیب۔ براکام گناہ۔ الدار۔ دنیا۔ چونکہ اسے عقبی الدار کے مقابلہ پر لایا گیا ہے اس لئے اس سے مراد سوء عاقبۃ الدنیا ہے (دنیا کے برے کاموں کا برا انجام) ۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ اور (کافر لوگ) دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں۔ اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے۔

(13:26) یبسط۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کشادہ کرتا ہے۔ وسیع کرتا ہے۔ فراخ کرتا ہے۔ بسط سے (باب نصر) ۔ یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب قدر مصدر (ضرب) وہ تنگ کرتا ہے یبسط کے مقابلہ میں آیا ہے لہٰذا فراخ کرتا ہے یا وسیع کرتا ہے کی ضدّ ہے ۔ یعنی کم کرتا ہے۔ تنگ کرتا ہے۔ اس کا مادّہ قدرۃ ہے جس کا معنی قدرت رکھنا۔ طاقت رکھنا۔ قابو پانا۔ غالب آنا۔ مقدار مقرر کرنا۔ اندازہ لگانا کے ہیں۔ فرحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب وہ خوش ہوئے وہ اترائے فرح سے (باب سمع) ۔ فرح کا استعمال پسندیدہ اچھی خوشی کے لئے بھی ہوتا ہے اور مذموم خوشی کے لئے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب خوش ہونا ہے اور دوسری صورت میں بدمست ہونا۔ اترانا۔ فی الاخرۃ۔ ای فی جنب الاخوۃ آخرت کے مقابلہ میں۔ متاع۔ اسم مفرد امتعۃ جمع۔ معین اور عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا۔ معاش۔ فائدہ۔ نفع وہ سامان جو کام آتا ہے۔ مال ومتاع جس سے کہ ہر قسم کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ متعۃ فائدہ اندوزی یہاں متاع بمعنی متعۃ لا تدوم۔ ایسا فائدہ جو دیرپا نہ ہو۔ متاع حقیر۔
Ayahs 13:27–29

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور جو (اسکی طرف) رجوع ہوتا ہے اسکو اپنی طرف کا راستہ دکھاتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یاد خدا سے آرام پاتے ہیں (انکو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔

(13:27) اناب۔ اناب ینیب انابۃ (باب افعال) بار بار لوٹ کر آنا۔ اناب ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ رجوع ہوا۔ انایۃ الی اللہ کے معنی اخلاص عمل اور دل سے اللہ کی طرف رجوع ہونا۔ اور توبہ کرنا۔ النوب۔ کسی چیز کا بار بار لوٹ کر آنا۔ نوب ونوبۃ (باب نصر) مصدر۔ (13:28) الذین امنوا۔ اناب کا بدل ہے۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے۔ وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ۔ اور جن کے دل ذکر الٰہی سے اطمینان حاصل کرتے ہیں ان کو خداوند تعالیٰ اپنی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔ (یھدی الیہ) ۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو ۔ اور یہ لوگ رحمن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

(13: 30) کذلک ارسلنک فی امم قد خلت من قبلھا امم۔ ای کما ارسلنک یا محمد الی ھذہ الامۃ کذلک ارسلنا انبیاء قبلک الی امم قد خلت ومضت۔ یعنی اے محمد ﷺ جس طرح ہم نے تجھے اس امت کی طرف بھیجا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے ہم نے نبیوں کو ان امتوں کی طرف بھیجا جو (پہلے) گذر چکی ہیں۔ لقتلوا (تاکہ) ۔ لام تعلیل کا ہے۔ (یعنی تمہیں بھیجنے کی علت وغایت کیا تھی) (تاکہ) تو تلاوت کرے تو پڑھے۔ مضارع واحد مذکر ۔ تلاوۃ مصدر تلا یتلو ۔ (باب نصر) تلو وتلاوۃ جس کے معنی پڑھنے کے ہیں۔ لیکن یہ لفظ آسمانی کتابون کے اتباع اور پیروی کے لئے مخصوص ہے تلاوت قرأت سے خاص ہے ہر تلاوت قرأت ہوسکتی ہے لیکن ہر قرات تلاوت نہیں۔ مثلاً تلوت القران وقعات القران (میں نے قرآن مجید پڑھا) درست ہے۔ لیکن تلوت رقعتک میں نے تیرے رقعہ کی تلاوت کی۔ درست نہیں ہے ۔ کیونکہ جب تلوت القران کہا جائے گا تو پڑھ کر اس کا اتباع واجب بھی ہے۔ لیکن رقعہ پڑھ کر اس کا اتباع ضروری نہیں ہے ۔ لہٰذا یہاں قرات رقعتک کہیں گے۔ آیت شریفہ واتبعوا ما تتلوا الشیاطین (2:102) (اور وہ پیچھے لگ لئے اس (علم) کے جو پڑھتے تھے شیاطین) میں جو شیطانوں کے پڑھنے کو تلاوت کہا گیا ہے وہ اس وجہ سے کہ ان کو یہ زعم تھا کہ وہ (شیاطین) کتب الہٰیہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ تلاوت کا فعل جب اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے معنی نازل کرنے کے ہوں گے جیسے ذلک نتلوہ علیک من الایت والذکر الحکیم ۔ (3: 58) اے محمد ﷺ ہم تم پر آیتیں اور حکمت والی نصیحت اتارتے ہیں۔ اور آیت شریفہ یتلونہ حق تلاوتہ (2:121) (وہ اس کو ایسا پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے) میں علم وعمل دونوں کا اتباع کامل مراد ہے لتتلوا علیہم ۔ تاکہ تو ان کو پڑھ کر سنائے۔ وہم یکفرون بالرحمن۔ حال یہ ہے کہ وہ رحمن کا انکار کر رہے ہیں یہ جملہ حال ہے ارسلنا کا یعنی آپ کی رسالت اور نزول ِ قرآن کی شکل میں ہم نے ان پر دینی اور دنیوی نعمتوں کی فراوانی کردی ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اس بلیغ الرحمۃ رحمن (اللہ تعالیٰ ) کا انکار کررہے ہیں۔ ھو ۔ ای الرحمن الذی کفرتم بہ۔ یعنی وہی رحمن جس کا تم انکار کر رہے ہو (میرا پروردگار ہے) متاب۔ اصل میں متابی تھا ۔ متاب مضاف یاء متکلم مضاف الیہ۔ یاء کو حذف کردیا گیا۔ میری واپسی ۔ میرا رجوع۔ متاب۔ تاب یتوب سے مصدر ہے (باب نصر) توبۃ۔ توب ۔ تابۃ۔ سب مصدر ہیں۔ لوٹنا۔ رجوع کرنا۔ یعنی اسی کی طرف مجھے واپس جانا ہے۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بیشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔

(13:31) سیرت۔ ماضی مجہول۔ واحد مؤنث وہ چلائی گئی۔ پہاڑوں کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی وہ چلائے گئے۔ یا وہ چلائے جائیں۔ تسییر (تفعیل) مصدر۔ سیر سے بمعنی چلنا۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہلا دیئے جائیں۔ قطعت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ تقطیع (تفعیل) مصدر۔ وہ پھاڑ دی گئی یا وہ پھاڑدی جاتی۔ ٹکڑے ٹکڑے کردی جاتی۔ القطع۔ کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق اجسام وغیرہ سے ہو جیسے لا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف۔ (7:124) میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کٹوا دوں گا۔ یا اس کا تعلق بصیرت سے ہو۔ جیسے معنوی چیزیں۔ مثلاً وتقطعوا ارحامکم۔ (47:22) اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو۔ قطع الارض۔ زمین کا ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا۔ یا بمعنی مسافت طے کرنا۔ یعنی ایسا قرآن جس سے زمین ٹکڑ ٹکڑے ہوجائے کہ اس میں سے چشمے پھوٹ پڑیں اور نہریں جاری ہوجائیں یا جس کے معجزہ سے طویل مسافتیں چشم زدن میں طے کی جاسکیں۔ کلم۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ یعنی جس سے مردے بلائے جاسکیں۔ جس کے اثر سے مردے کلام کرنے لگیں۔ ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال او قطعت بہ الارض او کلم بہ الموتی۔ اس میں جواب شرط محذوف ہے۔ سیاق وسباق کے مطابق اس کا جواب سامع پر چھوڑ دیا ہے۔ (1) بعض کے نزدیک اس کا جواب لکان ہذا القران ہے ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اگر کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دئیے جاتے یا اس کے ذریعہ سے زمین پھاڑ دی جاتی۔ یا اس کے ذریعہ سے مردے بولنے لگتے (تو وہ یہی قرآن ہے) اس کی تائید میں وہ یہ آیت لاتے ہیں۔ لم انزلنا ھذا القران علی جبل الرایتۃ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ (59:21) ۔ (2) بعض کے نزدیک جواب شرط ہے لما امنوا بہ۔ یہ پھر بھی ایمان نہ لاتے ۔ اس کے جواز میں وہ یہ آیت لاتے ہیں ولو اننا نزلنا الیہم الملئکۃ وکلمہم الموتی وحشرنا علیہم کل شیء قبلا ما کانوا لیؤمنوا۔ (6:111) ۔ (3) بعض کے نزدیک جواب شرط یہ ہے ما کان ذلک بعیدا من قدرتہ یہ اس کی قدرت سے بعید نہ تھا۔ (4) بعض کے نزدیک اس کا جواب پہلے آچکا ہے تقدیر کلام یہ ہے وہم یکفرون بالرحمن ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال او قطعت بہ الارض او کلم بہ الموتی۔ (اور ان کے درمیان کی عبارت جملہ معترضہ ہے) یعنی اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دئیے جاتے یا اس کے ذریعہ سے زمین پھٹ جاتی یا اس کے ذریعہ سے مردے بولنے لگتے تو یہ پھر بھی رحمن سے انکار (ہی) کرتے۔ بل لللہ الامر جمیعا بلکہ سارا اختیار اللہ ہی کا ہے یعنی یہ سب امور اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہیں اگر چاہیں تو آنِ واحد میں سب کچھ ظہور پذیر ہوجائے ۔ لیکن جب ایمان لانا ان کے مقدر میں ہی نہیں تو پھر ان کے مطالبات کو پورا کرنے کا فائدہ ؟ حرف بل خود اس طرح اشارہ کر رہا ہے کہ فقرۂ ما قبل میں جو چیزیں بیان ہوئی ہیں وہ مؤثر حقیقی نہیں ہیں۔ افلم یایئس۔ ہمزہ استفہامیّہ لم یایئس مضارع نفی حجد بلم واحد مذکر غائب۔ یاس مصدر (باب سمع) یئس ییئس۔ کیا وہ مایوس نہیں ہوئے۔ کیا وہ نہیں جانتے۔ عام علماء نے یایئس کا ترجمہ مایوس ہونا کیا ہے لیکن بعض کے نزدیک اس کا ترجمہ ۔ کیا انہوں نے نہیں جانا ہے۔ اس کے استشہاد میں رباح بن عدی کا یہ شعر بیان کرتے ہیں :۔ الم ییئس الاقوام انی انا ابنہ۔ وان کنت عن ارض العشیرۃ نائیا ترجمہ :۔ کیا وہ لوگ نہیں جانتے کہ میں اس کا بیٹا ہوں۔ اگرچہ میں قبیلہ کی سرزمین سے دور ہوں۔ حضرت ابن عباس ۔ مجاہد۔ حسن۔ فرّاء جوہری نے یہی مطلب لیا ہے۔ امام راغب اصفہانی (رح) المفردات میں رقمطراز ہیں :۔ کہ اس آیت کی تفسیر میں بعض نے لکھا ہے کہ یہاں اس کے معنی افلم یعلم کے ہیں۔ یعنی کیا انہوں نے اس بات نہیں جان لیا۔ مگر اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ اس کے حقیقی معنی ہیں بلکہ یہ اس کے لازم معنی ہیں کیونکہ کسی چیز کے انتقاء کا علم اس سے ناامید ہونے کو مستلزم ہے لہٰذا یہاں بھی (بلحاظ قرائن) یہ کہہ سکتے ہیں کہ ییئس بمعنی یعلم کے ہے۔ لا یزال۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب زوال مصدر۔ فعل ناقص ۔ ہمیشہ رہے گا۔ ولا یزال الذین کفروا۔ اور کافر لوگ ہمیشہ اس حالت میں رہیں گے۔ تصیبہم۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ ان کو پہنچتی رہے گی۔ ان پر پڑتی رہے گی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ قارعۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ قارعات وقوارع جمع۔ مصیبت ۔ بلا ۔ حادثہ ۔ اچانک آجانے والی مصیبت۔ قرع یقرع (فتح) کھٹکھٹانا۔ ( قرع الباب) اس نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ قیامت بھی اچانک آجانے والی مصیبت اور حادثہ عظیمہ ہے اس لئے اس کو القارعۃ کہا گیا ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ ولا یزال الذین کفروا تصیبہم قارعۃ بما صنعوا۔ اور کافروں پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی حادثہ ہمیشہ پڑتا رہے گا۔ تحل۔ ای لا یزال تحل ۔ ہمیشہ اترتی رہے گی۔ تحل مضارع واحد مؤنث غائب ۔ حلول اور حل سے (باب نصر) بمعنی اترنا۔ فروکش ہونا۔ اصل میں اترتے وقت جس رسی سے اسباب بندھا ہوتا ہے اس کی گرہ کھولنے کو حل کہتے ہیں۔ پھر محض اترنے کے لئے بھی اس کا استعمال ہونے لگا۔ تحل کا فاعل قارعۃ ہے (یہ مصیبتیں ان پر براہ راست آتی رہیں گی۔ یا ان کے گھروں کے اردگرد قرب و جوار میں نازل ہوتی رہیں گی) ۔ وعد سے مراد فتح مکہ ہے۔ (ابن عباس) یا قیامت کا دن (حسن بصری) ۔
Ayahs 13:32–34

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا ؟

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہبان) ہے (وہ بتوں کی طرح) بےعلم و بیخبر ہوسکتا ہے ؟ اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) انکے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا ؟ یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو ؟ ) اصل بات یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لئے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنیوالا نہیں۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت سی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں۔

(13:32) استھزیٔ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اس سے ٹھٹھا کیا گیا۔ استھزاء (استفعال) مصدر۔ املیت۔ ماضی واحد متکلم ۔ میں نے ڈھیل دی۔ املاء (افعال) الاملاء کے معنی ڈھیل دینے کے ہیں۔ اسی سے ملاوۃ من الدھر یا ملی من الدھر کا محاورہ ہے جس کے معنی عرصہ دراز کے ہیں قرآن پاک میں ہے واھجرنی ملیا (49:46) اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا۔ عقاب۔ ای عقابی ۔ میری سزا۔ میرا سزا دینا۔ مضاف۔ مضاف الیہ۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

(13:35) مثل۔ یہاں بمعنی صفت و کیفیت آیا ہے۔ یعنی جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ ہے۔۔ اکلھا۔ پھل۔ میوہ ۔ مضاف۔ ھا مضاف الیہ ۔ ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس جنت کا پھل یا میوہ۔ الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور جو چیز کھائی جائے اسے اکل واکل کہا جاتا ہے۔ اکلہا دائم۔ اس کا پھل ہمیشہ رہنے والا ہے۔ وظلہا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا سایہ۔ ای وظلھا دائم۔ عقبی۔ بمعنی ۔ انجام۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اسکے ساتھ (کسی کو) شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے۔

(13:36) الاحزاب۔ حزب کی جمع۔ گروہ۔ ٹولیاں۔ جماعتیں۔ الاحزاب۔ یعنی الجماعات الذین تحزبوا علی رسول اللہ ﷺ من الکفار والیہود والنصاریٰ ۔ کفار ۔ اہل یہود۔ اور اہل نصاریٰ میں سے وہ گروہ جہوں نے رسول خدا ﷺ کے خلاف گروہ بندی کی ہوئی تھی۔ اور آپ کی مخالفت پر تلے ہوئے تھے۔ ومن الاحزاب من ینکر بعضہ۔ یعنی کفار اہل یہود واہل نصاریٰ میں سے مخالف جماعتوں کے بعض لوگ جو قرآن کے کچھ حصوں کے انکاری ہیں (جو حصے کہ ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہیں) ۔ ادعوا۔ مضارع واحد متکلم دعوۃ سے۔ میں پکارتا ہوں۔ میں پکاروں گا۔ میں دعوت دیتا ہوں۔ میں دعوت دوں گا۔ ماب۔ میرا لوٹنا۔ میری واپسی۔ ماب ظرف مکان۔ لوٹنے کی جگہ ۔ نیز ملاحظہ ہو۔ 13:29 ۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مدرگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

(13:37) انزلنہ۔ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القران ہے۔ حکما۔ حکم کے طورپر۔ جس میں حلال و حرام ۔ نیکی وبدی ۔ ہدایت و گمراہی وغیرہ ہر قسم کے احکام موجود ہیں۔ وعربیا۔ واضح طورپر۔ عربی زبان میں۔ حکما اور عربیا دونوں بوجہ حال کے منصوب ہیں۔ اس کے معنی ” احکام کی کتاب عربی زبان میں “ یا ” واضح اور ظاہر احکام کی کتاب “ دونوں ہوسکتے ہیں۔ کذلک۔ یعنی جس طرح انبیائے سلف پر ان ہی کی زبان میں وحی الٰہی نازل کی گئی تھی اسی طرح قرآن حکیم بھی اہل مکہ کی اپنی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ یا جس طرح واضح احکام کی کتب الٰہیہ سابق انبیاء پر نازل ہوتی تھی اسی طرح یہ قرآن مجید بھی واضح احکام کا مجموعہ نازل کیا گیا ہے ۔ اھواء ہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اھوائ۔ ھوی کی جمع۔ ان کی خواہشیں۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی۔ اور کسی پیغمبر کے اخیتار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضاُ (کتاب میں) مرقوم ہے۔

(13: 38) یاتی بایۃ۔ لائے کوئی آیت۔ لائے کوئی نشانی ۔ پیش کرے کوئی معجزہ۔ اجل۔ مدرت مقررہ۔ وقت ِ مقررہ۔ کتب۔ ای حکم معین یکتب علی العباد حسبما تقتضیہ الحکمۃ ایک معین جو بہ تقاضائے حکمت بندوں کے لئے لکھا گیا ہو۔ لکل اجل کتب۔ تمام اوقات مقررہ پر جو کچھ ہونا ہے وہ پیشتر ہی تحریر شدہ ہے اور کوئی اس کو آگے پیچھے یا اس کے الٹ نہیں کرسکتا۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جسکو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے۔ اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔

(13:39) یثبت۔ ای یثبت ما یشائ۔ ام الکتب۔ لوح محفوظ ۔ جو تمام کتب کی اصل جڑ ہے۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی) تمہارے روبرو ان پر نازل کریں۔ یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔

(13: 40) ان ما نرینک۔ اصل میں ان نریک۔ ہے ما زائدہ ہے تاکید کے لئے آیا ہے اور نون ثقیلہ تاکید کے لئے۔ ان شرطیہ۔ اگر ہم تجھ کو کھلادیں۔ نعدہم۔ مضارع جمع متکلم وعد مصدر (باب ضرب) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں (یعنی جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ یا وعدہ کیا ہوا ہے۔ نتوفینک۔ نتوفین۔ مضارع بانون ثقیلہ برائے تاکید۔ جمع متکلم۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم تیری زندگی پوری کردیں۔ ہم تیری روح قبض کرلیں۔ مطلب کہ جس عذاب کا وعدہ ہم نے ان کافروں سے کیا ہوا ہے ان میں سے کوئی عذاب ہم آپ کی زندگی میں ان پر نازل کر کے آپ کو دکھا دیں یا عذاب آنے سے قبل ہم آپ کو اٹھا لیں (یہ ہماری مرضی ہے) کیونکہ آپ کے ذمہ تبلیغ ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔